Random Quotes from Fatawa Razaviah of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمۃ اللہ علیہ
فان سلب المفاسد اھم من جلب المصالح مفسدات کو ختم کرنا مصلحات کے حصول سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے
Source: Fatawa Razaviah Volume 7
About Alahazrat Network
Read & Search Holy Quran Online
Explore with our advanced Ayah-based search engine. Featuring the authentic Kanzul Iman (Urdu/English) and Tafseer Khazain ul Irfan. Database format for effortless learning—jump to any Surah or Ayah with Translation On/Off toggles.
🔊 Listen Audio Naats
🔔 Recently Uploaded
Stay updated with the latest books and scholarly articles added to our network.
Browse New UploadsFatawa Razaviah Volume 10 in Typed Format
Fatawa Razaviah Volume 9 in Typed Format
Fatawa Razaviah Volume 8 in Typed Format
Fatawa Razaviah Volume 7 in Typed Format
Fatawa Razaviah Volume 6 in Typed Format
Fatawa Razaviah Volume 5 in Typed Format
From the Books of Alahazrat Imam Ahmad Raza
سبحن السبوح عن عيب كذب مقبوح
رب سبوح کی پاکی، جھوٹ کے عیب کی برائی سے اس بات کا بیان کہ…
خالص الإعتقاد
Khālişu’l Iýtiqād Khalis ul Aitiqad اعتقاد خالص مسئلہ علم غیب کا مدلل بیان Big proofs…
تزک مرتضوی ۔ الرائحة العنبریة من المجمرة الحیدریة
تاجدارِ فکروفن، استاذِ ذمن، شہنشاہِ سخن، مولانا حسن رضا خان علیہ الرحمة الرحمن حیدری دھونی…
شمائم العنبر في أدب النداء أمام المنبر
Shamāyim al-Ánbar fi Adabi’n Nidā’a Amām al-Minbar Shamaim ul Anbar fi Adab al Nida Imam…
منبه المنية بوصول الحبيب إلى العرش والرؤية
محبوب خدا کی عرش تک رسائی اور دیدار الٰہی کے بارے میں مطلوب سے خبردار…
حسام الحرمين على منحر الكفر والمين
رد بدمذاہب پر علماء مکہ و مدینہ کی تقریظات اور فتاویٰ اعلیٰ حضرت کی تصدیقات…
منية اللبيب أن التشريع بيد الحبيب
اگر زکام کے سبب غسل میں سر نہ دھوئے تو کیا غسل اور نماز ہو جائے گی
جمل النور في نهي النساء عن زيارة القبور
البرھان القویم علی العرض و التقویم
وصاف الرجيح في بسملة التراويح
النهي الحاجز عن تكرار صلوة الجنائز
The Grand Encyclopedia: Fatawa Ridawiyyah
Fatawa Ridawiyyah Volume 18 فتاویٰ رضویہ جلد
العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ جلد 18 Al-Ataya An Nabaviyyah Fil Fatawa Al Ridawiyyah volume…
Fatawa Razaviah Volume 9 in Typed Format
الحمدﷲ اعلی حضرت امام المسلمین مولینا الشاہ احمدرضاخان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ وذخائر فقہیہ کو جدیدانداز میں عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق منظرعام پرلانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور “ رضا فاؤنڈیشن “ کے نام سے جو ادارہ چندسال قبل قائم ہوا تھا وہ انتہائی برق رفتاری کے ساتھ مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہاہے۔ کتاب الطہارۃ اور کتاب الصلوۃ چارچار خوبصورت مجلدات میں آپ تك پہنچ چکی ہیں اب بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایۃ رسولہ الکریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نویں جلد پیش کی جارہی ہے۔
جلد نہم
یہ جلد فتاوی رضویہ (قدیم) کی جلدچہارم کے شروع باب الجنائز سے کتاب الزکوۃ تك سوالوں کے جوابات پرمشتمل ہے۔ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کا ترجمہ فاضل جلیل محقق شہیر صاحب تصانیف کثیرہ ماہرعلوم قدیمہ وجدیدہ حضرت علامہ مولینا محمداحمدمصباحی دامت برکاتہم العالیہ شیخ الادب جامعہ اشرفیہ مبارکپور (بھارت) نے فرمایا۔ باب التیمم (جوجلدسوم وچہارم میں شائع ہوچکاہے) کا ترجمہ بھی انہی کے رشحات قلم کانتیجہ ہے۔ جلدچہارم قدیم میں باب الجنائز کی ترتیب چونکہ طبعی نہ تھی لہذا اس جلد کی کتابت سابق ترتیب سے ہٹ کر طبعی ترتیب کے مطابق کرائی گئی ہے۔
باب الجنائز کے مسائل کو سابقہ ترتیب غیرطبعی سے موجودہ ترتیب طبعی کی طرف منتقل کرنا بھی علامہ مصباحی صاحب کی محنت شاقہ کاثمرہے۔ علاوہ ازیں اس جلد میں شامل رسائل کی مفصل فہرست بھی افادہ قارئین کے لئے دے دی گئی ہے
() احکام واحوال قرب موت () احکام واحوال بعد موت () غسل میت
()کفن میت ()جنازہ لے کر جانا () نماز جنازہ
() امامت نماز جنازہ () نماز جنازہ کی ادائیگی () موضع نمازجنازہ
() تکرار نماز جنازہ () دفن میت () جائے دفن
() تعزیت وغیرہ () احکام قبورومقابر () زیارت قبور
() فاتحہ وایصال ثواب () دعوت میت
مندرجہ بالا عنوانات کے علاوہ انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل مندرجہ ذیل تیرہ رسائل بھی اس جلد میں شامل ہیں :
() الحرف الحسن فی الکتابۃ علی الکفن(ھ)
قبروں میں شجرہ رکھنے اور کفن پر کلمہ طیبہ اور عہدنامہ وغیرہ لکھنے کابیان
() المنۃ الممتازۃ فی دعوات الجنازۃ (ھ)
جنازہ کی دعائیں اور قبرپر تلقین کاطریقہ
() بذل الجوائز علی الدعاء بعد صلوۃ الجنائز (ھ)
نمازجنازہ کے بعد دعاکرنے کاثبوت اور منکرین کارد
() النھی الحاجز عن تکرار صلوۃ الجنائز(ھ)
نمازجنازہ کی تکرار ناجائز ہے
غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا جائزنہیں
() اھلاك الوھابیین علی توھین قبورالمسلمین (ھ)
احکام قبورمومنین
() بریق المنار بشموع المزار(ھ)
مزارات پرروشنی کرنے کاثبوت
() جمل النور فی نھی النساء عن زیارۃ القبور(ھ)
عورتوں کوقبر پرجاناجائزنہیں
() الحجۃ الفائحۃ لطیب التعیین والفاتحۃ (ھ)
مروجہ فاتحہ سوم چہلم برسی اور عرس وغیرہ کاثبوت
) اتیان الارواح لدیارھم بعدالرواح (ھ)
روحوں کااپنے گھروں پرآنا
() جلی الصوت لنھی الدعوۃ امام موت(ھ)
میت کے گھرکے کھانے کابیان
() حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات (۵ھ)
مردوں کے زائروں کودیکھنے اور ان کے کلام کو سننے کامدلل بیان
() الوفاق المتین بین سماع الدفین وجواب الیمین (ھ)
مسئلہ یمین سے سماع موتی کے خلاف پراستدلال کارد
/ شوال المکرم ھ حافظ محمدعبدالستارسعیدی
/ مارچ ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
محقق : علامہ کمال الدین ابن ہمام صاحب فتح القدیر
ح : علامہ محمدابراہیم بن محمد الحلبی صاحب غنیہ المستملی
ش : علامہ محمدامین ابن عابدین الشامی صاحب ردالمحتار
ط : علامہ سیداحمد الطحطاوی صاحب حاشیۃ الدرالمختار وحاشیہ مراقی الفلاح
الدر : الدرالمختار علامہ محمدعلاء الدین الحصکفی
الدرر : الدررشرح الغرر ملاخسروعلامہ محمدبن فراموز
بحر : البحرالرائق علامہ زین الدین ابن نجیم
ہندیہ : فتاوی عالمگیری جماعت علمائے احناف
نہر : النہرالفائق سراج الدین عمربن تمیم
فتح : فتح القدیر علامہ کمال الدین ابن ہمام
غنیہ : غنیہ المستملی علامہ محمدابراہیم بن محمدالحلبی
حلیہ : حلیۃ المحلی ابن امیرالحاج
باب الجنائز
مسئلہ نمبر۱ : از جس پور محلہ پہاڑ گنج چوکڑی توپ خانہ متصل سورج پول مرسلہ حکیم اﷲ بخش غنیہ رمضان ھ
() جس وقت آدمی علیل ناقابل صحت مثلا مدقوق ہوجائے امید زیست نہ رہے تو اس کو شرعا کیا کرنا چاہئے اورعزیز واقارب کو کیا کرنا چاہئے
() جنازے اٹھانے میں کس طرف سے سبقت کی جائے
الجواب :
(۱) آدمی ہر وقت موت کے قبضہ میں ہے مدقوق اچھا ہوجاتا ہے اور وہ جو اس کے تیمارمیں دوڑتا تھا اس سے پہلے چل دیتا ہے ہر قت وصیت تیار رہنی چاہئے جس میں اپنے پسماندوں کو توحیدالہی عزوجل رسالت پناہی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم واستقامت عقائد اہلسنت واتباع شریعت واصلاح ذات بین وحدت وقرب اولیاء ود وری وتنفراز کفاروضلال وفسق کی ہدایت ہواور بعد کو کچھ ترکہ چھوڑے تو اس کا شرعی کافی انتظام جس میں نزاع نہ رہے اور اپنی تجہیز وتکفین میں اتباع سنت کی ہدایت اوران پر لازم ہے کہ اس پر عمل کریں۔ اورسب سے پہلے خود اپنی اصلاح گناہوں سے توبہ اﷲ اور رسول کی طرف رجوع موت کا خوشی کے ساتھ انتظار کرنا کہ آتے وقت ناگواری نہ ہو اس وقت کی ناگواری معاذاﷲ بہت سخت ہے عیاذا باﷲ اس میں سوء خاتمہ کا
من احب لقاء اﷲ احب اﷲ لقاء ہ ومن کرہ لقاء اﷲ کرہ لقاء ہ ۔
جو اﷲ سے ملنا پسند کرے گا اﷲاس کا ملنا پسند فرمائےگا اورجواﷲ سے ملنے کو مکروہ رکھے گا اﷲ اسکا ملنا مکروہ رکھے گا۔
صحابہ کرام نے عرض کی : یارسول اﷲ! ہم میں کون ایسا ہے کہ موت کو مکروہ نہ رکھے۔ فرمایا : یہ مراد نہیں بلکہ جس وقت دم سینہ پر آئے اس وقت کا اعتبار ہے اس وقت جو اﷲ سے ملنے کو پسند رکھے گا اﷲ تعالی اس سے ملنے کو دوست رکھے گا۔ اور ناپسند تو ناپسند اپنے ذمہ نماز یا روزہ یا زکوۃ جوکچھ باقی ہو فورا بقدر قدرت اس کی ادا میں مشغول ہو حج نہ کیا ہو اور فرض تھا تو دیر نہ لگائے۔ بوجہ مرض طاقت نہ رہی توحج بدل کرادے اگر اخیر دم تك طاقت نہ پائے گا ادا ہوجائے گا ورنہ جب قوت پائے خود ادا کرے حقوق العباد جس قدر ہوں جو ادا کرنے کے ہیں ادا کرے جو معافی چاہنے کے ہیں معافی چاہے اوراس میں اصلا تاخیر کو کام میں نہ لائے کہ یہ شہادت سے بھی معاف نہیں ہوتے معافی چاہنے میں کتنی ہی تواضع کرنی پڑے اس میں اپنی کسر شان نہ سمجھے اس میں ذلت نہیں ذلت اس میں ہے کہ جس روز بارگاہ عزت میں حاضر ہو اس طور پر کہ اس کا حق د بایا ہے اسے برا کہا ہے اس کی غیبت کی ہے اسے مارا ہے اورغنیہ وہ حقدار اس سے لپٹیں اس کی نیکیاں ان کو دی جائیں ان کے گناہ اس پر رکھے جائیں اور جہنم میں پھینك دیا جائے والعیاذ باﷲتعالی جب تك زیست ہے آیات واحادیث خوف کے ترجمے اکثر سنا اور دیکھا کرے اور جب وقت برابر آجائے اسے آیات واحادیث رحمت مع ترجمہ سنائیں کہ جانے کہ کس کے پاس جارہاہوں تاکہ اپنے رب کے ساتھ نیك گمان کرتا اٹھے رزقنا اﷲ تعالی بجاہ حبیبہ الاکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(اﷲ تعالی اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے طفیل اسے نصیب کرے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۲) جنازہ کو یوں لے چلیں کہ سرہانہ آگے کی جانب ہو اور پہلے سرہانے کا داہنا پایہ اپنے داہنے شانے پر لے پھر پائینتی کادہنا پھر سرہانے کا بایاں پھر پائینتی کا بایاں اورہر بار کم از کم دس قدم چلے یہ ایك دور ہوا۔ اس پر چالیس گناہ کبیرہ معاف ہونے کی بشارت ہے حسب طاقت وحالت جتنے دورے ممکن ہو کرے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر : ازپٹنہ ڈاکخانہ گلزاری باغ محلہ ترپولیہ متصل ہسپتال زنانہ مرسلہ باقر علی حکاک۔ رجب ھ
مع فتوائےعبدالحکیم پٹنوی کہ وقت مرگ صرف لا الہ الااﷲ کہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے : مرنے والوں کو لا الہ الا اﷲ کی تلقین کرو محمد رسول اﷲ ملانے کو نہیں فرمایا اور فرمایا۔
اس کے رد میں مولنا عبدالواحد صاحب مجددی رام پوری کا رسالہ “ وثیقہ بہشت “ اس ساتھ تھا تحریر فقیر بر “ وثیقہ بہشت “ ۔
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم اللھم لك الحمد۔ اﷲ عزوجل خیر کے ساتھ شہادتین پر موت نصیب کرے۔ وقت مرگ بھی پورا کلمہ طیبہ پڑھنا چاہئے۔ جو اسے منع کرتا ہے مسلمان اس کے اغواواضلال پر کان نہ رکھیں کہ وہ شیطان کی اعانت چاہتا ہے۔ امام ابن الحاج مکی قدس سرہ الملکی مدخل میں فرماتے ہیں کہ دم نزع دو شیطان آدمی کے دونوں پہلو پر آکر بیٹھتے ہیں ایك اس کے باپ کی شکل بن کر دوسرا ماں کی۔ ایك کہتا ہے وہ شخص یہودی ہوکر مرا تو یہودی ہوجا کہ یہود وہاں بڑے چین سے ہیں۔ دوسرا کہتا ہے وہ شخص نصرانی گیا تو نصرانی ہوجا کہ نصاری وہاں بڑے آرام سے ہیں ۔ علمائے کرام فرماتے ہیں شیطان کے اغوا کے بچانے کے لئے محتضر کو تلقین کلمہ کا حکم ہوا۔ ظاہر ہے کہ صرف لا الہ الا اﷲ اس کے اغوا کا جواب نہیں لا الہ الا اﷲ تویہود و نصاری بھی مانتے ہیں ہاں وہ کہ جس سے اس ملعون کے فتنے مٹتے ہیں محمد رسول اﷲ کا ذکر کریم ہے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ یہی اس کے ذریات کے بھی دل میں چبھتا جگر میں زخم ڈالتا ہے مسلمان ہرگزہرگز اسے نہ چھوڑیں اور جو منع کرے اس سے اتنا کہہ دیں کہ “ گر بتوحرام است حرامت بادا “ (اگر یہ تجھ پر حرام ہے تو حرام رہے۔ ت)مجمع بحارالانوار میں ہے :
سبب التلقین انہ یحضرالشیطان لیفسد عقدہ والمراد بلاالہ الا اﷲ الشھادتان ۔
تلقین کا سبب یہ ہے کہ اس وقت شیطان آدمی کا ایمان بگاڑنے آتا ہے اور لا الہ الا اﷲ سے پورا کلمہ طیبہ مراد ہے۔
فتح القدیر میں ہے :
المقصودمنہ التذکیر فی وقت تعرض الشیطان ۔
تلقین سے مقصود تعرض شیطان کے وقت ایمان یاد دلانا ہے۔
مجمع بحارالانوار تحت لفظ '' لقن '' مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ٣ / ٢٦٢
فتح القدیر باب الجنائز مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٦٨
من کان اخر کلامہ لا الہ الااﷲ المراد مع قرینتہ فانہ بمنزلۃ علم لکلمۃ الایمان ۔
حدیث میں جو فرمایا کہ جس کا پچھلا کلام لا الہ الااﷲ ہو اس سے مراد پورا کلمہ طیبہ ہے کہ لا الہ الااﷲ گویا اس کلمہ ایمان کانام ہے۔
درر غرر میں ہے :
یلقن بذکر شہادتین عندہ لان الاولی لا تقبل بدون الثانیۃ ۔
کلمہ طیبہ کے دونوں جز میت کو تلقین کئے جائیں اس لئے کہ لا الہ الا اﷲ بے محمد رسول اﷲ کے مقبول نہیں۔
غنیہ ذوی الاحکام میں اس پر تقریر فرمائی تنویر الابصار میں ہے : یلقن بذکر الشہادتین دونوں شہادتیں تلقین کی جائیں۔ در مختار میں ہے : لان الاولی لاتقبل بدون الثانیۃ کہ پہلی بے دوسری کے مقبول نہیں۔ المختصر القدوری میں ہے : لقن الشھادتین پوراکلمہ سکھایا جائے۔ جوہرہ نیرہ میں ہے :
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لقنوا موتاکم شھادۃ ان لا الہ الااﷲ وھوصورۃ التلقین ان یقال عندہ فی حالۃ النزع جھراوھویسمع اشھدان لاالہ الااﷲ واشھدان محمدارسول اﷲ ۔
اس لئے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا اپنے اموات کو لا الہ الا اﷲ کی شہادت یاددلاؤ اور اس یاد دلانے کی صورت یہ ہے کہ اس نزع میں اس کے پاس ایسی آوازسے کہ وہ سنے اشھدان لاالہ الاﷲ واشھدان محمدارسول اﷲ پڑھیں۔
دررشرح غررملّاخسرو باب الجنائزغنیہ مطبوعہ مطبعۃ احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ا / ۱۶۰
تنویرالابصار متن الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٩
درمختار شرح تنویر الابصارغنیہ باب صلٰوۃ الجنائزغنیہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلیغنیہ ۱ / ١١٩
المختصر للقدوریغنیہ باب الجنائزغنیہ مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور بھارت ص٤٤
جوہرہ نیرہ باب الجنائز مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ١ / ١٢٣
(ویلقن الشھادۃ) فیجب علی اخوانہ واصدقائہ ان یقولواعندہ کلمتی الشھادۃ قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من کان اخر کلامہ لاالہ الا اﷲ دخل الجنۃ ۔
میت کو شہادت سکھائیں اس حکم سے اس کے عزیزوں دوستوں پر واجب (نہایت مؤکد) ہے کہ دونوں شہادتیں اس کے پاس پڑھیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں جس کا اخیر کلام لا الہ الااﷲ ہو وہ جنت میں جائے۔
بحرالرائق میں ہے :
(لقن شھادۃ ) بان یقال عندہ لا الہ الااﷲ محمدرسول اﷲ ۔
میت کو شہادت کی تلقین یوں کہ اس کے پاس لا الہ الااﷲ محمدرسول اﷲپڑھیں۔
شرح الکنز للملا مسکین میں ہے :
(لقن) المحتضر(الشہادۃ) وھی ان یقول اشھدان لاالہ الااﷲواشھدان محمدعبدہ ورسولہ ۔
دم نزع شہادت کی تلقین کریں اور شہادت یہ ہے کہ اشھد ان لاالہ الااﷲ واشھدان محمداعبدہ ورسولہ کہیں۔
کافی شرح وافی میں ہے :
لقن الشھادۃ ای قول اشھدان لاالہ الااﷲ واشھدان محمداعبدہ ورسولہ لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لقنواموتاکم شھادۃ ان لا الہ الااﷲ ۔
شہادت کی تلقین کریں اور شہادت یہ کہ اشھد ان لا الہ الااﷲ واشھدان محمداعبدہ ورسولہ اس لئے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے میت کو تلقین شہادت کا حکم فرمایا ہے۔
جامع الرموز میں ہے :
اشارفی الکافی والمضمرات الی ان المراد
غنیہ کافی ومضمرات میں اشارہ فرمایا کہ شہادت سے مراد
بحرالرائق کتاب الجنائز مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٧٠
شرح الکنز لملّا مسکین علی حاشیۃ فتح العینغنیہ باب الجنائز مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٣٤٢
کافی شرح وافی
پورا کلمہ شہادت ہے۔
حلیہ امام ابن امیرالحاج میں ہے :
ولقن شھادۃ ان لاالہ الااﷲ وان محمدارسول اﷲبان یقال عندہ وھویسمع ولایقال لہ قل واذاقالھما لایلح علیہ بتکریرھما اذالم یخض فی کلام اخر لمخافۃ تبرمہ ۔
میت کو لاالہ الااﷲ محمدرسول اﷲ کی تلقین کریں یوں کہ خود اس کے پاس پڑھیں کہ وہ سن کر پڑھے اوریوں نہ کہیں کہ کہہ اور جب دونوں جز کلمہ کے کہہ لے تو اس سے دوبارہ کہنے کا اصرار نہ کریں کہ کہیں اکتا نہ جائے ہاں کلمہ پڑھنے کے بعد کوئی اوربات اس نے کی تو پھر تلقین کریں کہ آخر کلام لا الہ الااﷲ محمدرسول اﷲ ہو۔
مستصفی میں ہے :
لقن الشہادتین لا الہ الااﷲ محمد رسول اﷲ ۔
دونوں شہادتیں تلقین کی جائیں لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
اشعۃ اللعمات شرح مشکوۃ میں ہے :
لقنواموتاکم لا الہ الااﷲ تلقین کنید مردہائے خودرایعنی آنہاکہ نزدیك بمردن رسیدہ اند کلمہ طیبہ را ۔
اپنے مردوں کو جو مرنے کے قریب پہنچ گئے انہیں کلمہ طیبہ یاد دلاؤ۔ (ت)
غرض نقل مستفیض سے ہے اورمسئلہ واضح اوراسلامی نگاہ میں شیطانی قول اپنے قائل کا فاضح ہاں بعض متاخرین شافعیہ نے یہ کہاکہ صرف لاالہ الااﷲ کہنے پر ثواب موعود مل جائے گا معاذاﷲ وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ مرتے وقت محمد رسول کہنا منع ہے یہ ممانعت محض مردودومطرودوخلاف اجماع ہے۔
فالعلامۃ الشرنبلالی من متاخری علمائنا مع تقریرہ الدررعلی ماقدمناہ اجاب عن تعلیلھا ان الاولی لاتقبل
ہمارے علمائے متاخرین میں سے علامہ شرانبلالی نے درر میں مذکورہ حکم -دونوں شہادتوں کی تلقین -کو تو برقرار رکھا مگر اس میں حکم کی جو علت ذکر
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ردالمحتار بحوالہ المستصفی باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦٢٧
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ باب ما یقال عند من حضرہ الموت مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۶۰)
اقول : الشھادۃ اسم جنس فیشمل الشھادتین الاتری الی الامام النسفی صاحب الکنز عبرفی اصلہ الوافی بماعبرفیہ ثم فسرہ فی شرحہ الکافی بالشھادتین وکذلك فی البحرالرائق و المضمرات وجامع الرموز ومجمع الانھر ولملا مسکین کماسمعت ومن الدلیل علیہ ان نقل فی البدایۃ نظم القدوری وقد ثنی فعلم ان المفرد فیہ کالمثنی۔
کی گئی ہے کہ “ لا الہ الااﷲ بے محمد رسول اﷲ کے مقبول نہیں “ اس کا شافعی متاخر عالم ابن حجرمکی کی تبعیت میں جواب دیاکہ “ کلام مسلمانوں کے بارے میں ہے۔ اقول : ہمیں تسلیم ہے کہ وہ مسلمان ہے اور اس سے مطالبہ نہیں کہ تیرے پاس ایمان نہ تھا تو ایمان لا بلکہ مقصود صرف یہ ہے کہ اس کے پاس جو ہے اسی کی یاددہانی کی جائے اور شیطان کے فساد کاری سے بچایا جائے اوردونوں شہادتوں کا تحفظ ضروری ہے اس لئے کہ پہلی دوسری کے بغیر مقبول نہیں۔ ابن حجر شافعی کہتے ہیں : میں کہتا ہوں بدایہ وقایہ نقایہ اور کنزالدقائق میں تلقین “ شہادت “ کے الفاظ ہیں “ شہادتین “ نہیں۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ایك ہی شہادت سے کام ہوجائے گا۔ غنیہ
اقول : لفظ شہادۃاسم جنس ہے اس لئے یہ شہادتین کو بھی شامل ہے۔ دیکھئےکنزالدقائق کے مصنف امام نسفی نے جس طرح کنز میں شھادۃبلفظ مفرد لکھا اسی طرح اس کی اصل “ وافی “ میں بھی لکھا مگر اس کی شرح “ کافی “ میں اس کی تفسیر “ شھادتین “ سے فرمائی۔ اسی طرح البحرالرائق مضمرات جامع الرموز مجمع الانہر اورشرح ملا مسکین میں بھی شہادت کی تفسیر میں پورا کلمہ ذکر ہو اجیسا کے ان سب کی عبارتیں گزریں - اس کی ایك دلیل یہ بھی ہے کہہدایہ میں قدوری ہی کی عبارت نقل ہوئی ہے قدوری میں “ شہادتین “ تھا۔ ہدایہ میں “ شہادۃ “ رکھنے سے یہ معلوم ہوا کہ اس میں مفرد بھی ثنیہ(دو۲) ہی کا معنی رکھتا ہے۔
اعلم انہ لابدبعد قول الذاکرلا الہ الااﷲ ان یقول محمدرسول اﷲ لاجل ان یحفظ بذلك مایحصل لہ من نورالتوحید وعبارۃالسنوسی من شرح الصغری مصرحۃ بذلك حیث قال ولما ابتھج قلبہ بنور الحقیقۃ وکان الانتقاع بھا موقوفاعلی القیام برسوم الشریعۃ وذلك لایکون الابالادمان علی ذکر صاحبھا المبلغ لھاعن اﷲ تعالی سیدنا محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احتاج الذاکر بعد کلمۃ التوحید الدالۃ علی الحقیقۃ باثبات رسالۃ سیدنا محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لیحفظ نور توحید ہ بادخالہ فی منیع حرزالشریعۃ فلھذایقول الذاکر لاالہ الااﷲ محمدرسول اﷲ وھکذاینبغی فی کل ذکر من اذکاراﷲ تعالی ان لا یغفل المؤمن فیہ عن ذکر سیدنا محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاما ان یصلی علیہ اثرہ اویقر برسالۃ مع الصلوۃ علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وتعظیمہ و
یہ ذہن نشین رہے کہ ذاکر جب لا الہ الااﷲ کہے تو اسے محمد رسول اﷲ کہنابھی ضروری ہے تاکہ اسے جو نور توحید حاصل ہوا وہ محفوظ ہوجائے۔ شرح صغری میں علامہ سنوسی کی عبارت اس سلسلے میں صاف اور صریح ہے ان کے الفاظ یہ ہیں : لاالہ الااﷲ کہنے سے ذاکر کے دل میں نور حقیقت کی بہجت تو آگئی مگر اس سے نفع یابی آداب شریعت کی بجاآوری پر موقوف ہے۔ اور اس ادب کی بجاآوری کی صورت یہی ہے کہ اس کلمہ والے آقا جو اسے خدائے برتر کے پاس لے کر تبلیغ فرمانے والے ہیں سیدنا محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کاذکر پاك جاری رکھے۔ اس لئے حقیقت پر دلالت کرنے والے کلمہ توحید کو کہہ لینے کے بعد ضرورت ہے کہ ذاکر ہمارے آقا محمد محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رسالت کا بھی اثبات کرے تاکہ شریعت کی مضبوط پناہ میں لاکر اپنے نور توحید کو محفوظ رکھ سکے ۔ اسی لئے ذاکر کہتا ہے لا الہ الااﷲ محمدرسول اﷲ ۔ اسی طرح اﷲ تعالی کے اذکار میں سے کسی بھی ذکر میں مومن کو سیدنا محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ذکر سے غافل نہیں ہونا چاہئے ۔ خدا کے ذکر کے بعد سرکار پر درود بھیجے یا ان کی رسالت کا اقرار کرے ساتھ ہی آقا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود کی ادائیگی تعظیم کی بجا آوری اور سرکار
اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دامن پاك سے وابستگی بھی رکھے اس لئے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خدائے برتر عظیم ترین باب اور زریعہ ہیں کہ دنیا وآخرت کی کوئی بھلائی ان سے وابستگی کے بغیر دستیاب نہ ہوگی۔ اس لئے جوسرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ذکر پاك اورحضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا دامن تھامنے سے غافل ہوا وہ نامراد رہا اوراسے دنیا وآخرت کی بھلائی سے محروم کرکے بے تعلقی کے قید خانے میں ڈال دیا گیا-ہمارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہی تو خدائے برتر کی جانب مخلوق کے رہبر ہیں جو اپنے رہبر ہی سے غافل ہو اسے خدا تعالی تك رسائی کیسے حاصل ہوگی! ایك ایسے شخص نے-جس کے دل پر خدا نے مہر کردی ہے جو تصوف کا شغل رکھتا ہے حالانکہ وہ اہل تصوف سے نہیں-کفر سے قریب یا بعینہ کفر کی بات کہی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا زیادہ ذکر کرنا خدائے تعالی سے حجاب بن جاتا ہے--اور ایك گمراہ نے اسی طرح کی بات تراشتے ہوئے کہا کہ صرف لا الہ الا اﷲ کہاجائے محمد رسول اﷲ نہ کہا جائے تو یہ معنی توحید کی تاثیر میں زیادہ بلیغ اور زیادہ تیز ہوتا ہے--وہ اپنی اسی گمراہی اورشیطان کی ملمع کاری پر یوں استدلال کرتا ہے کہ لا الہ الااﷲ کا معنی اور ہے اور محمدرسول اﷲ کامعنی اور۔ جب باطن پر مختلف معانی کا ورد ہوتا ہے توتاثیر کمزور ہوجاتی ہے اور ثمرہ
دور جانا پڑتا ہے--توحید واثبات رسالت دونوں کوملانے کی ضرورت صرف اس وقت ہے جب اسلام میں داخل ہورہا ہو۔ علم میں راسخ بعض ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کا فرمان ہے کہ خدا کی پناہ! یہ کلام ان فتنوں سے ہے جن کا ٹھکانہ صرف دوزخ ہے اور ان کا انجام صرف تباہی وبربادی ہے۔ یہ شریعت کو چھوڑنے اس کا قلادہ گردن سے باہر پھینکنے اور آداب شرع سے بے قیدی کی جانب شیطان کی مکاری اوراستدراج کے سوا کچھ بھی نہیں--اگراس گمراہ کو خبر ہوتی کہ کلمہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے تحت توحید کے اسرار اورالوہیت کے رموز حکمت کیا کیا ہیں تو وہ اس اندھے پن سے نکلتا اور گوہر مراد کا ہاتھ میں لیتا اھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر ۳ : () میت کے پاس زمین پر بیٹھنا افضل ہے چارپائی پر کیا منع ہے
() میت والے کے یہاں کیا روٹی پکانا منع ہے
الجواب :
() کوئی ممانعت نہیں واﷲ تعالی اعلم
() موت کی پریشانی کے سبب وہ لوگ پکاتے نہیں ہیں پکانا کوئی شرعا منع نہیں یہ سنت ہے کہ پہلے دن صرف گھر والوں کے لئے کھانا بھیجا جائے اور انہیں بااصرار کھلایا جائے نہ دوسرے دن بھیجیں نہ گھر سے زیادہ آدمیوں کے لئے بھیجیں واﷲ تعالی اعلم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میت کو نہلانے کے لئے جو تختے پر لٹائیں تو شرقا غربا لٹائیں کہ پاؤں قبلے کو ہوں یا جنوبا شمالہ کہ دہنی کروٹ قبلہ کو ہو۔ بینوا تو جروا۔
الجواب :
سب طرح درست ہے مذہب اصح میں اس باب میں کوئی تعیین وقید نہیں جو صورت میسر ہو اس پر عمل کریں۔
فی الھندیہ عن الظھیریۃ کیفیۃ الوضع عند بعض اصحابنا الوضع طولاکما فی حالۃ المرض اذا ارادالصلوۃ با یماء ومنھم من اختار الوضع کما یوضع فی القبر والاصح انما یوضع کماتیسر اھ
ہندیہ میں ظہیریہ سے منقول ہے : ہمارے بعض علماء کے نزدیك لٹانے کی صورت یہ ہے کہ طول میں لٹایا جائے جیسے بیماری کی حالت میں جب اشارے سے نماز پڑھنا چاہے تو یہی صورت ہے اور بعض حضرات نے عرض میں لٹانا پسند کیا ہے جیسے قبر میں لٹایا جاتا ہے اور اصح یہ ہے کہ جیسے میسر ہو لٹایا جائے اھ (ت)
اس طرح بحرالرائق و درمختار وغیرہما میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر۵ : صفر ھ
کاٹنا مرد کے بال مرنے کے بعد جائز ہے یا نہیں
الجواب :
ناجائز ہے
فی الدرلایسرح شعرہ ای یکرہ تحریما ولایقص ظفرہ الاالمکسور ولاشعرہ ولایختن وفی رد المحتار عن النھر
در مختار میں ہے : میت کے بالوں میں کنگھا نہ کیا جائے یعنی یہ مکروہ تحریمی ہے اور اس کے ناخن نہ تراشے جائیں مگر جو ٹوٹا ہوا ہے نہ ہی بال تراشے جائیں
درمختار باب صلٰوۃ الجنائزغنیہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٠
نہ ختنہ کیا جائے۔ ردالمحتار میں نہر سے اس میں قنیہ سے منقول ہے : اس کے مرنے کے بعد زینت کرنا کنگھا کرنا بال کاٹنا ناجائز ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر۶ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت مر جائے تو شوہر کواسے غسل دینا جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
ناجائز ہے
فی تنویر الابصار یمنع زوجھا من غسلھا اھ
تنویرا لابصار میں ہے : خاوندکو بیوی کے غسل سے منع کیا جائے گااھ(ت)
اور وہ جو منقول ہواکہ سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ نے حضرت بتول زہرا رضی اللہ تعالی عنہا کوغسل دیا
اولا اسکی ایسی صحت ولیاقت حجیت محل نظر ہے۔
ثانیادوسری روایت یوں ہے کہ اس جناب کو حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی دائی نے غسل دیا۔
ثالثابمعنی امر شائع
یقال قتل الامیر فلانا “ وقاتل الملك القوم الفلانی “ اذن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم “ ای امر بالتاذین۔
کہا جاتا ہے “ امیر نے فلاں کو قتل کیا-- “ بادشاہ نے فلاں قوم سے جنگ کی “ --حدیث میں ایا : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اذان دی “ یعنی اذان کا حکم دیا۔ (ت)
رابعااضافت فعل بسوئے مسبب غیر مستنکر اورحدیث علی ان وجوہ پر محمول کرنے سے تعارض مرتفع یعنی ام ایمن نے اپنے ہاتھوں سے نہلایا اورسیدنا علی کرم اﷲ وجہہ نے حکم دیایا اسباب غسل کو مہیافرمایا۔
تنویرالابصار متن الدرالمختارغنیہ باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٠
کما افادہ ملك العلماء فی البدائع والمحقق حیث الطلق فی الفتح وغیرھما فی غیرھما۔
جیسا کہ ملك العلماء نے بدائع میں محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اوردوسراے حضرات نے دوسری کتابوں میں افادہ فرمایا۔ (ت)
مگر نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا رشتہ ابدالآباد تك باقی ہے کبھی منقطع نہ ہوگا۔
فقدخرج الحاکم وصححہ والبیھقی عن امن عمر والطبرانی فی الکبیر عنہ وعن ابن عباس وعن المسودرضی اﷲ تعالی عنہم عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ قال کل سبب ونسب ومنقطع یوم القی مۃ الاسببی ونسبی واخرج البیھقی والدار قطنی بسند قال ابن حجر المکی رجالہ من اکابر اھل البیت فی حدیث طویل فیہ عن عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ انہ سمع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول کل صھرا وسبب اونسب ینقطع یوم القیمۃ الاصھری وسببی ونسبی وقد روی نحوہ من حدیث عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنھا قال ابن حجر قال الذھبی واسنادہ صالح اھ ونقل
حاکم بافادہ تصحیح اوربیہقی حضرت ابن عمر سے راوی ہیں--اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت ابن عمر حضرت ابن عباس اورحضرت مسور رضی اللہ تعالی عنہم سے وہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے راوی ہیں ۔ سرکار نے فرمایا : ہررشتہ اور ہر نسب قیامت کے دن ٹوٹ جائے گا مگر میرا رشتہ اور نسب باقی رہے گا۔ بیہقی اوردارقطنی ایك طقویل حدیث--جس کی سند سے متعلق امام ابن حجرمکی نے فرمایاکہ اس کے رجال اکابر اہل بیت سے ہیں--حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہر رشتہ نکاح یا قرابت یا نسب قیامت کے دن منقطع ہوجائے گا مگر میرارشتہئ نکاح وقرابت ونسب باقی رہے گا اسی کے ہم معنی حضرت عبداﷲ بن زبیر
درمنثور تحت فلا انساب بینھم مکتبۃآیۃ اﷲالعظمی قم ایران ۵ / ۱۵
درمنثور تحت فلا انساب بینھم مکتبۃآیۃ اﷲالعظمی قم ایران ۵ / ۱۵
رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے--ابن حجر لکھتے ہیں کہ ذہبی نے کہا : اس کی سند صالح ہے اھ اور مناوی ناقل ہے کہ ذھبی نے کہا : اس کی سند غیر منقطع ہے۔ میں کہتا ہوں اگر ہمارے نزدیك صحت ثابت ہو۔ ابن حجر نے حضرت عمر سے مروی حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ اقل صحت کیوں نہیں جبکہ اس کے طریق متعدد ہیں اور ایك جماعت صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے مروی ہے(ت)
اسی لئے منقول ہوا کہ سیدنا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ پر حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اس امر پر اعتراض کیا حضرت مرتضی نے جواب میں ارشاد فرمایا :
اما علمت ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ان فاطمۃ زوجتك فی الدنیا والاخرۃ ۔
کیا تمہیں خبر نہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ تیری بی بی ہے دنیا و آخرت میں۔
تو دیکھو اس خصوصیت کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ رشتہ منقطع نہیں۔ یہ جواب نہ فرمایا کہ شوہر کو اپنی عورت کو نہلانا رواہے۔ اس سے اور بھی ثابت ہوا کہ صحابہ کرام کے نزدیك صورت مذکورہ میں مذہب عدم جواز تھا۔ جب تو حضرت ابن مسعود نے انکار فرمایا اورحضرت مرتضی نے اسے تسلیم فرماکر اپنی خصوصیات سے جواب دیا۔
وھذا خلاصۃ مافی الدرالمختار وردالمحتار عن شرح المجمع مع زیادات النفائس۔ واﷲ تعالی اعلم۔
یہ اس کا خلاصہ ہے جودرمختار اور ردالمحتار میںشرح مجمع الانہر سے منقول ہے مزید برآں کچھ نفیس افادات بھی ہیں۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر : از شہر کہنہ بریلی ۲۲صفر ۱۳۱۷ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حالت زندگی میں خاوند اپنی بی بی کا ولی ہوتا ہے مانند ماں باپ کے یا نہیں جو ہوتا ہے تو بعد موت کے ولایت قائم رہتی ہے یا نہیں اگر رہتی ہے تو ہاتھ لگانا منہ دیکھنا اجازت نماز کی دینا جائز ہے یا نہیں اور نکاح رہتا ہے یا نہیں اور ایك صاحب فرماتے ہیں کہ بعد وفات فاطمہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے اپنے ہاتھ سے غسل دیا اگر یہ بات حق
الجواب :
شوہر ولی نہیں نہ حیات میں نہ بعد موت۔ نہ موت زوجہ سے نکاح قائم رہے۔ اور یہ کسی حدیث صحیح سے ثابت نہیں کہ مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے خود اپنے ہاتھ سے غسل دیا اور بالفرض ہو بھی تو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے علاقے موت سے قطع نہیں ہوتے اور سب کے علاقے قطع ہوجاتے ہیں یہ مضمون خود حدیث میں وارد ہے تو اوروں کو ان پر قیاس جائز نہیں مرد اپنی عورت کو غسل نہیں دے سکتا۔ کما فی الدر وعامۃ الاسفار (جیسا کہ درمختار اور عامہ کتب میں ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۸ : مرسلہ محمد اکرم حسین ازہردوئی بوساطت مولنا حامد حسین صاحب مدرس اول مدرسہ اہلسنت جمادی الاولی ۱۳۲۲ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك صاحب نے رو برو یہ مسئلہ بیان کیا کہ اگر کسی شخص کی عورت یا عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے تو شوہر عورت کو اور عورت شوہر کو غسل نہیں دے سکتی ہیں غسل کیا معنی بلکہ چھو نہیں سکتے ہیں خواہ غسل دینے والے موجود ہوں یا نہ ہوں کیونکہ نکاح دنیا تك ہے جب دو میں سے کسی کا انتقال ہوگیا نکاح فسخ ہوگیا۔ جب نکاح فسخ ہوگیا تو عورت مرد کو اور مرد عورت کو نہیں چھو سکتا ہے اس پر چھونا حرام ہوگیا آیا ایسا ہوسکتا ہےمکلف ہوں کہ بہت جلد جواب سے سرفراز فرمایا جاؤں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
یہ مسئلہ مرد کے بارہ میں صحیح ہے کہ وہ بعد وفات زن اسے غسل نہیں دے سکتا نہ اس کے بدن کو ہاتھ لگا سکتا ہے کہ موت سے عورت اصلا محل نکاح نہ رہی۔ چھونے کا جواز صرف بر بنائے نکاح تھا ورنہ زن وشوہر اصل میں اجنبی محض ہوتے ہیں اب کہ نکاح زائل ہوگیا چھونے کا جواز بھی جاتا رہا۔ اور عورت کے بارے میں بھی صحیح ہے اس حالت میں کہ وقت غسل عورت زوجیت زوج میں نہ ہو۔ مثلا مرد نے طلاق بائن دے دی تھی یا بعد وفات شوہر عدت گزر گئی مثلا عورت حاملہ تھی شوہر کے انتقال ہوتے ہی بچہ پیدا ہوگیا کہ اب عدت نہ رہی اور زوجیت سے یکسر نکل گئی اسی طرح عورت معاذاﷲ بعد وفات شوہر مرتدہ ہوگئی پھر اسلام لے آئی یا پسر شوہرکو شہوت کے ساتھ چھو لیا کہ ان سب صورتوں میں نکاح زائل ہوگیا بخلاف اس کے کہ شوہر مرگیا اور عورت عدت وفات میں ہے یا شوہر نے طلاق رجعی دی تھی اور ہنوز عدت باقی تھی کہ اس کا انتقال ہوا ان صورتوں میں عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہےکہ
فی الدرالمختار یمنع زوجھا من غسلہا ومسھا لامن النظر الیھا علی الاصح وھی لاتمنع من ذلك ولو ذمیۃ بشرط بقاء الزوجیۃ والمعتبر فی الزوجیۃ صلاحیتھا لغسلہ حالۃ الغسل لاحالۃ الموت فتمنع من غسلہ لوبانت قبل موتہ او ارتدت بعدہ ثم اسملت اومست ابنہ بشہوت لزوال النکاح وجازلھا غسلہ لو اسلم زوج المجوسیۃ فمات فاسلمت بعدہ فحل مسہا حینئذ اعتبارا بحالت الحیوۃ اھ مختصرا۔
درمختار میں ہے شوہر کے لئے عورت کو غسل دینا اور چھونا منع ہے دیکھنا منع نہیں۔ یہی اصح ہے اور عورت کے لئے یہ سب ممنوع نہیں اگرچہ ذمیہ ہو بشرطیکہ زوجیت باقی ہو۔ اور اعتبار اس کا ہے غسل دینے کے وقت اس قابل ہو مرنے کے وقت کا اعتبار نہیں۔ تو اسے شوہر کو غسل دینا منع ہوگا اگر اس کے مرنے سے پہلے بائن ہوگئی یا مرنے کے بعد مرتد ہوگئی پھر اسلام لائی یا اس کے بیٹے کو شہوت سے چھودیا کیونکہ ان صورتوں میں نکاح باقی نہ رہا۔ اور اگر مجوسیہ کا شوہر مسلمان ہوکر مر گیا اس کے بعد عورت مسلمان ہوئی تو شوہر کو غسل دینا جائز ہے اس وقت اس کو چھونے کا جواز حالت حیات کا اعتبار کرکے ہے اھ مختصرا (ت)
ردالمحتار میں ہے :
طلقہا رجعیاثم مات فی عدتھافانھاتغسلہ لانہ لایزل ملك النکاح بدائع ۔ واﷲ تعالی اعلم
عورت کو طلاق رجعی دی پھر عدت میں انتقال کرگیا تو عورت اسے غسل دے سکتی ہے اس لئے کہ اس سے ملك نکاح ختم نہیں ہوتی بدائع (ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۹ : از سرونج مسئولہ عبدالرشید خاں صاحب محرم الحرام ھ
مدرسہ دیوبند سے ایك رسالہ مشہور کیا گیا ہے جس میں یہ مسئلہ تحریر ہے مرد حالت جنابت میں یا عورت حیض کی حالت میں مر جائے توا س کے حلق سے کوئی کپڑا تر کرکے تین مرتبہ حلق صاف کیا جائے اور ناک
ردالمحتارغنیہ باب الصلوۃ الجنازہ ادارۃ العٰباعۃ المریۃ مصر ١ / ٥٧٦
الجواب :
یہ مسئلہ غلط و خلاف متون وشروح وفتاوی وعامہ کتب مذہب ہے۔ ناك میں پانی ڈالنا تو اس رسالہ والے کی اپنی گھڑت ہے اور تر کپڑا سے بھی صاف کرنا مذہب کے خلاف ہے۔ کنزالدقائق میں ہے : وضی بلا مضمضۃ واستنشاق (میت کو بےکلی کرائے اور ناك میں پانی ڈالے وضوکرائے ۔ ت)تبیین الحائق میں ہے :
لانہ لایمکن اخراج الماء منہ فیترکان ویخاف الجنب فیہماوفی غسل الید فان الجنب یبداء بغسل یدیہ والمیت یبداء بغسل وجہہ ۔
اس سے پانی باہر نہیں جاسکتا اس لئے یہ دونوں ترك کر دئے جائیں گے۔ غسل میت اور غسل جنب میں ایك فرق مضمضہ واستنشاق کا ہے دوسرے ہاتھ دھونے میں کیونکہ جنب پہلے اپنے ہاتھ دھوئےگا اور میت کا پہلے چہرہ دھویا جائے گا۔ (ت)
شرح الکنز للعلامۃ احمد الشلبی پھر فتح اﷲ المعین للسید ابی السعود الازہری پھر طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے :
فما ذکرہ الخلخالی ای فی شرح القدوری من ان الجنب یمضمض ویستنشق غریب مخالف لعامۃ الکتب ۔
خلخالی نے شرح قدوری میں جو ذکر کیا ہے کہ جنابت والے مردے کو کلی کرائی جائے گی اور ناك میں پانی ڈالا جائے گا یہ غریب اور عامہ کتب کے بر خلاف ہے۔ (ت)
دیوبند کے رسالہ میں بہت کثرت سے مسائل غلط ہیں اس پر عمل جائز نہیں بلکہ اسے دیکھنا اسے گھر میں رکھنا مسلمانوں کو نہ چاہئے بلکہ دیوبندیوں کی نسبت تمام علمائے کرامم کہ معظمہ ومدینہ منورہ فتوی تکفیر دے چکے ہیں اور یہ کہ من شاك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جو ان کے عقائد پر مطلع ہوکر ان کے عذاب و
تبیین الحقائق باب الجنائز مطبوعہ مطبعۃ کبرٰی مصریۃ مصرغنیہ ١ / ٢٣٦
فتح المعین بحوالہ الشبلی باب الجنائز مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۴ ، حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٣٦٦
درمختار باب المرتدغنیہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٣٥٥
مسئلہ نمبر ۱۰ : موضع سرنیا ضلع بریلی مرسلہ شیخ امیر علی قادری ۲۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ ھ
() کوئی سنی اگر ناپاکی کی حالت میں فوت ہوجائے اسے ایك غسل دیا جائے گا یا دو اورساری ناك میں پانی اور غرارہ کیونکر کیا جائے گا
() بعد نہلانے کے میت کے پانی یا دوا یا پاخانہ منہ یا پاخانہ کی جگہ سے نکلے تو غسل دوبارہ دیا جائے گا یا جگہ پاك کی جائے گی
(۳) میت نہلاتے وقت کس طرح سر پیر ہونا بہتر ہے
الجواب :
() غسل ایك دیا جائے گا اور میت کے ناك اور منہ میں پانی نہیں ڈالتے۔
() غسل دوبارہ دینے کی مطلقا کسی حال میں حاجت نہیں۔ اگر نجاست برآمد ہو دھودی جائے۔
(۳) جدھر ہو اس کے لئے شرع نے کوئی خاص صورت معین نہیں کی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۱۱ : از شہرعلی گڑھ محلہ مداردروازہ مسئولہ عمر احمد سوداگر پارچہ بنارسی ۴ ربیع الاول ۱۳۲۵ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گھڑے بدھنے میت کو غسل دینے کے بعد پھوڑ ڈالنا جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
گناہ ہے کہ بلا وجہ تضییع مال ہے کہ اگر وہ ناپاك بھی ہوجائیں تاہم پاك کرلینا ممکن۔ حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : ان اﷲ کرہ لکم ثلثااﷲ تعالی تین باتیں تمہارے لئے ناپسند رکھتا ہے قیل وقال وکثرۃ السؤال واضاعۃ المال فضول بك بك اور سوال کی کثرت اور مال کی اضاعت ۔ رواہ الشیخان وغیرھما۔
اور اگر یہ خیال کیا جائے کہ ان سے مردے کو نہلایا ہے تو ان میں نحوست آگئی تو یہ خیال اوہام کفار ہند سے بہت ملتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
اکثر دیہات میں میت نہلانے کے واسطے جو گھڑا باندھنا صرف میں لایا جاتا ہے اس کو قبر کے اوپر سرہانے یا پائنتی رکھ آتے ہیں اور بعض جگہ غسل میت وہ گھڑا بدھنا مسجد میں رکھ آتے ہیں اس خیال سے کہ نمازیوں کے وضو وغیرہ کے صرف میں آئے تو اچھا ہے امید ہے کہ اس کا جواب جو بہتر اورموافق شرع ہو اس سے مطلع کیا جائے۔
الجواب :
قبر کی پائنتی سرہانے رکھ آنے کے کوئی معنی نہیں اور مسجد میں دینا ثواب ہے جبکہ ان پر ناپاك پانی کی کوئی چھینٹ نہ پڑی ہو ورنہ پاك کرکے دئےے جائیں اور اپنے استعمال میں رکھے جب بھی جائز ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۱۳ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مردکو کفن کے(کتنے) پارچے کا دینا چاہئے اور عورت کو کے(کتنے) پارچے کا چاہئے اور میت نابالغ کو کتنا کفن دینا لازم ہے ۔ بینواتوجروا
الجواب :
سنت مرد کے لئے تین کپڑے ہیں ایك تہ بند کہ سر سے پاؤں تك ہو اور کفن گردن کی جڑ سے پاؤں تک اور چادر کہ اس کے قد سے سر اور پاؤں دونوں طرف اتنی زیادہ ہو جسے لپیٹ کر باندھ سکیں۔ پہلے چادر بچھائیں اس پر تہبند پھر میت مغسول کا بدن ایك کپڑے سے صاف کریں پھر اس پر رکھ کر کفنی پہنا کر تہبند لپیٹیں پہلے بائیں پھر دہنی طرف لپیٹیں تاکہ دہنا حصہ بائیں کے اوپر رہے۔ پھر اسی طرح چادر لپیٹ کر اوپر نیچے دونوں جانب باندھ دیں۔
اور عورت کے لئے پانچ کپڑے سنت ہیں تین یہی مگر مرد وعورت کے لئے کفنی اتنافرق ہے کہ مردکی قمیص عرض میں مونڈھوں کی طرف چپرنا چاہئے اورعورت کا طول میں سینے کی جانب۔ چوتھے اوڑھنی جس کا طول ڈیڑھ گز یعنی تین ہاتھ ہو۔ پانچواں سینہ بند کہ پستان سے ناف بلکہ افضل یہ ہے کہ رانوں تك ہو۔ پہلے چادر اور اس پر تہ بند بدستور بچھاکر کفنی پہنا کر تہ بند پر لٹائیں اوراس کے بال دو حصے کرکے بالائے سینہ کفنی کے اوپر لاکر رکھیں اس کے اوپر اوڑھنی سر سے اڑھا کر بغیر منہ لپٹے ڈال دیں پھر تہ بند اور اس پر چادر بدستور لپیٹیں اور چادر اسی طرح دونوں سمت باندھ دیں ان سب کے اوپر سینہ بند
یسن فی الکفن لہ ازار وقمیص ولفافۃ ولہا ورع ای قمیص وازاروخمار ولفافۃ وخرقۃ تربط بھا ثدیاھا وبطنھا وکفایۃ لہ ازار ولفافۃ فی الاصح ولھا ثوبان وخمار ویکرہ اقل من ذلك وکفن الضرورۃ لہما مایوجد واقلہ مایعم البدن تبسط اللفافۃ اولا ثم یبسط الازارعلیھا ویقمص ویوضع علی الازار ویلف یسارہ ثم یمینہ ثم اللفافۃ کذلك لیکون الایمن علی الایسروھی تلبس الدرع ویجعل شعرھا
کفن میں مرد کے لئے ازار (تہبند) قمیص اور لفافہ (چادر) مسنون ہے اورعورت کے لئے درع یعنی قمیص تہبند خمار(اوڑھنی ) چادر اور ایك کپڑا جو پستان اور شکم پر باندھا جائے--اورکفن کفایت مرد کے اصح قول پر تہبد اور چادر --عورت کے لئے دو کپڑے اوراوڑھنی--کفن کفایت سے کم دینا مکرہ ہے۔ اور کفن ضرورت مرد وعورت دونوں کےلئے وہ ہے جو مل جائے۔ کم سے کم اتنا کہ پورے بدن کو چھپالے پہلے چادر بچھائی جائے پھر اس پر تہبند بچھایا جائے اور قمیص پہنائی جائے اور تہبندپر
رکھا جائے پھر تہبند لپیٹا جائے پہلے بایاں پھر دایاں پھر اسی طرح چادر لپیٹی جائے تاکہ دایاں بائیں کے اوپر رہے--عورت کو قمیص پہنا کر اس کے بال دو حصہ کرکے سینے پر قمیص کے اوپر ڈال دئے جائیں اور اوڑھنی بال کے اوپر ہو پھر ویسے ہی کیا جائے جیسے مرد کے بارے میں بیان ہوا--اور اگر کفن منتشر ہونے کا اندیشہ ہوتواسے تہبند باندھ دیا جائے--مراھق(جوبلوغ کے قریب ہو)کا حکم بالغ کی طرح ہے جو مراہق نہیں اسے اگر ایك کفن دیا جائے تو جائز ہے۔ اور ناتمام بچے کس کپڑے میں لپیٹ دیا جائے کفن نہ دیا جائے اھ بہ تلخیص(ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ازار ھومن القرن الی القدم والقمیص من اصل العنق الی القدمین واللفافۃ تزید علی مافوق القرن والقدم لیلف فیہ المیت وتربط من الاعلی الاسفل امداد قولہ ای قمیص اشارالی ترادفھما کماقالو اوقدفرق بینہما بان شق الدرع الی الصدروالقمیص الی المنکب قھستانی قولہ وخماربکسر الخاء ماتغطی بہ المرأۃ رأسھا قال الشیخ اسمعیل مقدارحالت الموت ثلثۃ اذرع بذراع الکرباس یرسل علی وجھھماولایلف کذا فی الایضاح والعتابی قولہ وخرقۃ الاولی ان
قولہ ازار--یہ سر سے پاؤں تك ہوگا--اور قمیص گردن کی جڑ سے قدم تک--اور چادر سروقدم سے اس قد ر زائد ہوکہ میت کو پہنا کر اوپر اور نیچے سے باندھ دی جائے --امداد ۔ قولہ درع یعنی قمیص کا معنی ایك ہے جیسا کہ علماء نے فرمایا بعض نے دونوں میں یہ فرق بتایا ہے کہ درع کا چاك سینہ کی طرف ہوتا ہے اورقمیص کا شانہ کی طرف قہستانی ۔ قولہ خمار—خا پرزیر--جس سے عورت کا سر چھپایا جائے ۔ شیخ اسمعیل نے فرمایا : میت کے لئے اس کی مقدار کر باس کے گز سے تین ہاتھ ہے۔ اسے چہرے پر ڈالا جائےگا لپیٹا نہ جائے گا۔ ایسا ہی ایضاح اورعتابی میں ہے۔ قولہ وخرقہ(اور ایك کپڑا) بہتر ی ہے کہ
سینہ بند پستانوں سے رانوں تك ہو نہر ازخانیہ قولہ کفن کفایت--یہ کم سے کم اس قدر ہے جو بلا کراہت کافی ہو تو اس کا درجہ کفن سنت سے کم ہے۔ اور بحر میں ہے کہ علماء نے فرمایا جب مال کم ہو اور ورثہ زیادہ ہوں تو کفن کفایت بہتر ہے اور برعکس ہوتو کفن سنت بہتر ہے۔ قولہ عورت کے لئے دو کپڑے - - دو کون اس کی تعیین نہ فرمائی جیسے ہدایہ میں تعیین نہیں۔ فتح القدیر کے اندر اس کی تفسیر میں قمیص اور چادر کو بیان کیا--اورکنز الدقائق میں تہبند اور چادر معیین کیا--بحر میں کہا ظاہر عدم تعین ہے بلکہ قمیص اور تہبند ہو یا دو تہبند--اور ثانی بہتر ہے اس لئے کہ اس میں سر اور گردن چھپانے کے بقدر زیادہ ہوتا ہے۔ قولہ کفن کفایت سے کم مکروہ ہے --یعنی جب مجبوری نہ ہو ۔ قولہ قمیص پہنائی جائے یعنی میت کا بدن کسی کپڑے سے خشك کر لینے کے بعد قمیص پہنائی جائے۔ قولہ پھر ویسے ہی کیا جائے --یعنی یہ کہ قمیص اور اوڑھنی پہنانے کے بعد ازار پر رکھا جائے اور پہلے بایاں لپیٹا جائے الخ--فتح القدیر میں ہے خرقہ کی جگہ نہ بتائی۔ شرح کنز میں ہے کہ سینہ بند کفن کے اوپر ہوتا کہ کفن منتشر نہ ہو۔ اس کی چوڑائی پستان سے ناف تك اور کہا گیا کہ گھٹنے تك ہوگی تاکہ چلتے وقت رانوں سے کفن منتشر نہ ہو۔ تحفہ میں ہے : سینہ بند کفن کے اوپر سینہ کے پاس پستان کے اوپر باندھا جائے ۔ قولہ مراہق بالغوں کی طرح ہے--مذکر مذکر کی طرح اورمونث
مونث کی طرح۔ قولہ جومراہق نہیں بالخ--یہ حکم مذکر کا ہے۔ زیلعی نے فرمایا : چھوٹے بچے کو کم سے کم ایك اور بچی کو دو کپڑے دئیے جائیں گےاھ۔ بدائع میں ہے اگر ایسا بچہ ہے جو قریب البلوغ نہیں اسے اگر دو کپڑے--تہبند اور چادر--میں کفن دیا تو اچھا ہے اور اگر ایك تہبند میں کفن دیں تو جائز ہے مگر کمسن لڑکی کو دو کپڑے دئیے جائیں تو حرج نہیں اھ--میں کہتا ہوں بچے کو دو کپڑے دینے کو “ اچھا “ کہنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر اسے بالغ کا پورا کفن دے دیا تو “ زیادہ اچھا “ ہے کیونکہ حلیہ میں خانیہ اورخلاصہ سے نقل ہے جو بچہ حد شہوت کو نہ پہنچا ہو اسے بالغوں کا کفن دینا بہتر ہے اھ اس عبارت میں یہ اشارہ ہے کہ غیر مراہق سے مراد وہ ہے جو حد شہوت کو نہ پہنچا ہو۔ قولہ ناتمام بچہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی حکم اس کا بھی ہے جو مردہ پیداہوا۔ بدائع اھ (ت)
عالمگیری میں ہے :
اماالمراۃ فتسبط لھا اللفافۃ والازار علی نحو ما بینا للرجل ثم توضع علی الازار و تلبس الدرع ویجعل شعرھا ضفیرتین علی صدرھا فوق الدرع ثم یجعل الخمار فوق ذلك ثم یعطف الازار واللفافۃ کمابینا فی الرجل ثم الخرقۃ بعد ذلك تربط فوق الاکفان فوق الثدیین۔
عورت کے لئے چادر اور تہبند کو اسی طرح بچھایا جائے جیسے تم نے مرد کے لئے بتایا پھر ازار پر اسے رکھ کر قمیص پہنائی جائے اور بالوں کے دو جوڑے کرکے سینے پر لاکر قمیص کے اوپر ڈال دئے جائیں پھر اس کے اوپر اوڑھنی پہنائی جائے پھر ازاراور چادر کو اسی طرح لپیٹا جائے جیسے مرد کے بارے میں ہم نے بتایا ۔ پھر اس کے بعد کفنوں کے بعد پستانوں پر سینہ بند باندھا جائے۔
اسی طرح محیط میں ہے اھ۔ بندہ ضعیف --خدائے برتر اس کی مغفرت فرمائے--کہتا ہے : یہ عبارت اس بارے میں صریح ناقابل تاویل نص ہے کہ سینہ بند سارے کفن یہاں تك کہ چادر کے بھی اوپر ہوگا--یہی حکم ہم نےشامی از فتح ازتبیین وتحفہ سے پہلے نقل کیا تو اسی پر اعتماد ہونا چاہئے۔ اگر چہ جوہرہ میں کہا جبکہ ظاہر یہ ہے کہ سینہ بند چادر کے نیچے ہو اس کی وجہ یہ بتائی کہ علماء کا اسے کفنوں کے اوپر کہنا اسی معنی کا احتمال رکھتا ہے۔ مگر صاحب جوہرہ سے اس کا احتمال کے بارے میں اختلاف کیاجائے گا جیسا کہ ظاہر ہے--اس لئے کہ “ کفنوں “ کا لفظ چادر کو بھی قطعا شامل ہے کوئی دلیل تخصیص موجود نہیں اور اس کے “ ظاہر “ ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں-- رہی اختیار کی یہ عبارت پھر سینہ بند کو قمیص کے اوپر باندھا جائے گا اھ تو میں کہتا ہوں یہ اس بارے میں صریح نہیں کہ سینہ بندقمیص کے علاوہ سارے کفنوں کے نیچے ہوگا اس لئے کہ جو سارے کفنوں کے اوپر ہو اس کے حق بھی یہ کہنا صادق ہے کہ وہ قمیص کے اوپر ہے۔ اسی طرح یہ عبارت ہمارے پیش کردہ نص صریح کے معارض نہیں مزید یہ کہ جو ہم نے نقل کیا اس کی تصریح اکثر کتابوں میں موجود ہے اسی لئے ہم نے اس پر اعتماد کیا۔ اور خداہی کی جانب سے توفیق ہے(ت) واﷲ تعالی اعلم
الاختیار لتعلیل المختار فصل فی تکفین المیت مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ٩٣
یہاں میت ہوگئی تھی اس کے کفنانے کے بعد پھولوں کی چادر ڈالی گئی اس کو ایك پیش امام افغانی نے اتار ڈالا اور کہا یہ بدعت ہے ہم نہ ڈالنے دیں گے۔ دوسرے جو غلاف کا پارچہ سیاہ کعبہ شریف سے لاتے ہیں وہ ٹکڑا ڈالا ہواتھا اسے ہٹادیا اورکہایہ روافض کا رواج ہے ہم نہ ڈالیں گے اسے الگ ہٹاکے اس نے نماز جنازہ پڑھائی۔
الجواب :
پھولوں کی چادر بالائے کفن ڈالنے میں شرعا اصلا کوئی حرج نہیں بلکہ نیت حسن سے حسن ہے جیسے قبور پر پھول ڈالنا کہ وہ جب تك تر ہیں تسبیح کرتے ہیں اس سے میت کا دل بہلتا ہے اور رحمت اترتی ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے :
وضع الورد والریاحین علی القبورحسن ۔
قبروں پر گلاب اور پھولوں کا رکھنا اچھا ہے۔ (ت)
فتاوی امام قاضی خان و امداد الفتاح شرح المصنف لمراقی الفلاح و ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے :
انہ مادام رطبایسبح فیؤنس المیت وتنزل بذکرہ الرحمۃ ۔
پھول جب تك تر رہے تسبیح کرتا رہتا ہے جس سے میت کوانس حاصل ہوتا ہے اور اس کے ذکر سے رحمت نازل ہوتی ہے۔ (ت)
یونہی تبرك کے لئے غلاف کعبہ معظمہ کا قلیل ٹکڑا سینے یا چہرے پر رکھنا بلا شبہہ جائز ہے اوراسے رواج روافض بتانا محض جھوٹ ہے۔ اسدالغابہ وغیرہا میں ہے :
لما حضرہ الموت اوصی ان یکفن فی قمیص کان علیہ افضل الصلوۃ والسلام کساہ ایاہ وان جعل ممایلی جسدہ وکان عندہ قلامۃ اظفارہ علیہ افضل الصلوۃ والسلام فاوصی ان تسحق وتجعل فی عینیہ وفمہ وقال افعلوا ذلك وخلوبینی
جب حضرت امیر معاویہ کا آخری وقت آیا وصیت فرمائی کہ انہیں اس قمیص میں کفن دیا جائے جونبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں عطافرمائی تھی اوریہ ان کے جسم سے متصل رکھی جائے ان کے پاس حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ناخن پاك کے کچھ تراشے بھی تھے ان کے متعلق وصیت فرمائی کہ
ردالمحتار مطلب فی وضع الجدید ونحوالآس علی القبور مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر
باریك کرکے ان کی آنکھوں اور دہن پر رکھ دئے جائیں ۔ فرمایا یہ کام انجام دینا اور مجھے ارحم الراحمین کے سپرد کردینا(ت)۔
ان باتوں کو بدعت ممنوعہ ٹھہرانا اگر محض بربنائے جہل ہو تو جہالت ہی ہے اور اگر بربنائے وہابیت یعنی غیرمقلدی یا دیوبندیت ہو تو وہ نماز کہ اس نے پڑھائی باطل محض ہوئی مسلمان بغیر نماز کے دفن کیا گیا اور جو جو اس امام کی حالت سے آگاہ تھے سب ترك فرض نماز جنازہ کے مرتکب و مستحق عذاب رہے جبکہ خود وہابی یا وہابیہ کو صالح امام جاننے والے نہ ہوں ورنہ بالاتفاق علمائے حرمین شریفین کا فتوی ہوچکا ہے کہ من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جو وہابیہ کے کفر میں شك کرے خود کافر ہے۔ والعیاذباﷲ تعالی۔ واﷲ تعالی اعلم
___________________
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پارچہ کفن جو اماکن متبرکہ سے آئے اوراس پر آیات کلام اﷲ واحادیث وغیرہ لکھی ہوں وہ میت کو پہنانا کیسا ہے اور شجرہ قبر میں رکھنا کیسا ہےبینوا توجروا
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الذی سترنابذیل کرمہ فی حیاتنا وبعد الممات وفتح علینا فی التوسل بایاتہ وشعائرہ ابواب البرکات والسلام علی من تبرك باثارہ الکریمۃ الاحیاء والاموات وحی ویحیی بامطار فیوضہ العظیمۃ کل موات وعلی الہ وصحبہ واھلہ وحزبہ
سب خوبیاں اﷲ کے لئے جس نے اپنے دامن کرم سے ہمیں ہماری زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی چھپایا اور اپنی آیات وشعائر سے توسل میں ہمارے اوپر برکتوں کے دروازے کھولے—اور درود وسلام ہو ان پر جن کے آثار گرامی سے زندے اور مردے سبھی نے برکت حاصل کی اور جن کے عظیم فیوض کی بارشوں سے ہربےجان کو زندگی ملی اور ملتی ہے اور(درود وسلام ہو)ان کی آل اصحاب اہل اور جماعت پر
ہرگزشتہ کی تعداد کے برابر۔ (ت)
یہاں چار مقام ہیں :
اول : فقہ حنفی سے کفن پر لکھنے کا جزئیہ کہ بدرجہ اولی قبر میں شجرہ رکھنے کا جزئیہ ہوگا۔ اور اس کے مؤید احادیث و روایات۔
دوم : احادیث سے اس کاثبوت کہ معظمات دینیہ میں کفن دیا گیا یا بدن میت پر رکھی گئیں اور اسےمخل تعظیم نہ جانا۔
سوم : بعض متاخرین شافعیہ نے جو کفن پر لکھنے میں بے تعظیمی خیال اس کا جواب۔
چہارم : قبرمیں شجرہ رکھنے کا بیان۔ وباﷲ التوفیق
مقام اول : ہمارے علماء کرام نے فرمایا کہ میت کی پیشانی یا کفن پر عہد نامہ لکھنے سے اس کے لئے امید مغفرت ہے۔
() امام ابوالقاسم صفار شاگردامام نصیربن یحیی تلمیذ شیخ المذہب سیدنا امام ابویوسف ومحرر المذہب سید امام محمد رحمہم اللہ تعالی نے اس کی تصریح و روایت کی۔
(۲) امام نصیر نے فعل امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے اس کی تائید وتقویت کی۔
(۳) امام محمد بزازی نےوجیزکردری() علامہ مدقق علائی نے درمختار میں اس پر اعتمادفرمایا۔
(۵) امام فقیہ ابن عجیل وغیرہ کا بھی یہی معمول رہا۔
(۶) بلکہ امام اجل طاؤس تابعی شاگرد سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ انہوں نے اپنے کفن میں عہد نامہ لکھے جانے کی وصیت فرمائی اورحسب وصیت ان کے کفن میں لکھا گیا۔
(۷) بلکہ حضرت کثیر بن عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہم نے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے چچا کے بیٹے اور صحابی ہیں خود اپنے کفن پر کلمہ شہادت لکھا۔
() بلکہ امام ترمذی حکیم الہی سیدی محمد بن علی معاصرامام بخاری نے نوادرالاصول میں روایت کی کہ خود حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
من کتب ھذاالدعاء وجعلہ بین صدر المیت وکفنہ فی رقعۃ لم ینلہ عذاب القبر ولایری منکرا و نکیرا و ھوھذا لاالہ الااﷲ واﷲ اکبرلاالہ الااﷲ
جو یہ دعاکسی پرچہ پر لکھ کر میت کے سینہ پر کفن کے نیچے رکھ دے اسے عذاب قبر نہ ہو نہ منکر نکیر نظر آئیں اور وہ دعا یہ ہے : لا الہ الااﷲ واﷲ اکبرلاالہ الاﷲ وحدہ
لاشریك لہ لاالہ الااﷲلہ الملك ولہ الحمد لاالہ الااﷲ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲالعلی العظیم۔
نیز ترمذی میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جو ہر نماز میں سلام کے بعد یہ دعا پڑھے :
اللھم فاطرالسموت والارض عالم الغیب و الشھادۃ الرحمن الرحیم انی اعھد الیك فی ھذہ الحیاۃ الدنیابانك انت اﷲ الذی لا الہ الا انت وحدك لاشریك لك وان محمدا عبدك ورسولك فلاتکلنی الی نفسی فانك ان تکلنی الی نفسی تقربنی من الشر وتباعدنی من الخیر وانی لا اثق الا برحمتك فاجعل رحمتك لی عھدا عندك تؤدیہ الی یوم القیمۃ انك لاتخلف المیعاد ۔
فرشتہ اسے لکھ کر مہر لگا کر قیامت کے لئے اٹھارکھے جب اﷲ تعالی اس بندے کو قبر سے اٹھائے فرشتہ وہ نوشتہ ساتھ لائے اور ندا کی جائے عہد والے کہاں ہیں انہیں وہ عہد نامہ دیا جائے۔ امام نے اسے روایت کرکے فرمایا :
وعن طاؤس انہ امر بھذہ الکلمات فکتبت فی کفنہ ۔
امام طاؤس کی وصیت سے عہد نامہ ان کے کفن میں لکھا گیا۔
امام فقیہ ابن عجیل نے اسی دعائے عہدنامہ کی نسبت فرمایا :
اذاکتب ھذا الدعاء وجعل مع المیت فی قبرہ وقاہ اﷲ فتنۃ القبر وعذابہ ۔
جب یہ لکھ کر میت کے ساتھ قبر میں رکھ دیں تو اﷲ تعالی اسے سوال نکیرین وعذاب قبر سے امان دے۔
(۹) یہی امام فرماتے ہیں :
من کتب ھذاالدعاء فی کفن المیت رفع
جو یہ دعا میت کے کفن میں لکھے اﷲ تعالی قیامت تک
نوادرالاصول اصول الرابع والسبعون والمائۃ مطبوعہ دارصادر بیروت ص٢١٧
الدرالمنثورغنیہ بحوالہ حکیم الترمذی تحت الامن اتخذ عندالرحمٰن عھدا منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ قم ایرانغنیہ ٤ / ٢٨٦
فتاوٰی کبرٰی بحوالہ ابن عجیل باب الجنائز مطبوعہ رالکتب العلمیۃ بیروتغنیہ ٢ / ٦
اس سے عذاب اٹھالے اور وہ یہ ہے :
اللھم انی اسألك یاعالم السریا یاعظیم الخطر یاخالق البشر یاموقع الظفر یامعروف الاثر یا ذاالطول والمن یاکاشف الضروالمحن یاالہ الاولین و الاخرین فرج عنی ھمومی واکشف عنی غمومی وصل اللھم علی سیدنا محمد وسلم ۔
(۱۰) ابن حجر مکی نے اپنے فتاوی میں ایك تسبیح کی نسبت جسے کہا جاتا ہے کہ اس کا فضل اس کی برکت مشہور ومعروف ہیں بعض علمائے دین سے نقل کیا کہ :
من کتبہ وجعلہ بین صدر المیت وکفنہ لاینال عذاب القبر ولاینالہ منکر ونکیر ولہ شرح عظیم وھو دعاء الانس (وھو ھذا)
جو اسے لکھ کر میت کے سینہ اور کفن کے بیچ میں رکھ دے اسے عذاب قبر نہ ہو نہ منکر نکیر اس تك پہنچیں اور اس دعا کی شرح بہت عظمت والی ہے اور وہ چین و راحت کی دعا ہے ۔ (وہ دعا یہ ہے : )
سبحن من ھوبالجلال موحد بالتوحیدمعروف وبالمعارف موصوف وبالصفۃ علی لسان کل قائل رب بالربوبیۃ للعالم قاھر وبالقھر للعالم جبار وبالجبروت علیم حلیم وبالحلم والعلم رؤف رحیم سبحنہ کما یقولون وسبحنہ کما ھم یقولون تسبیحا تخشع لہ السموت والارض ومن علیھا ویحمدنی من حول عرشی اسمی اﷲ و انا اسرع الحاسبین ۔
مصنف عبدالرزاق اور ان کے طریق سے معجم طبرانی اور ان کے طریق سےحلیہ ابونعیم میں ہے :
اخبرنا معمر بن عبداﷲ بن محمد بن عقیل ان فاطمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا لما حضرتہا الوفاۃ امرت علیا فوضع لہا غسلا فاغتسلت وتطھرت ودعت بثیاب اکفانھا
معمر بن عبداﷲ بن محمد بن عقیل نے ہمیں خبر دی کہ حضرت بتول زہرا رضی اللہ تعالی عنہا نے انتقال کے قریب امیر المومنین علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ سے اپنے غسل کے لئے پانی رکھوادیا پھر نہائیں اور کفن منگا کر پہنا
فتاوٰی کبرٰی بحوالہ ابن عجیل باب الجنائز مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ٦
اور حنوط کی خوشبو لگائی پھر مولی علی کو وصیت فرمائی کہ میرے انتقال کے بعد کوئی مجھے نہ کھولے اور اسی کفن میں دفن فرما دی جائیں۔ میں نے پوچھا کسی اور نے بھی ایسا کیا کہا ہاں کثیر بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے اور انہوں نے اپنے کفن کے کناروں پر لکھا تھا : کثیر بن عباس گواہی دیتا ہے کہ لا الہ الااﷲ ۔
وجیز امام کردری کتاب الاستحان میں ہے :
ذکر الامام الصفار لوکتب علی جبھۃ المیت اوعلی عمامۃ اوکفنہ عھد نامہ یرجی ان یغفر اﷲتعالی للمیت ویجعلہ امنا من عذاب القبر ۔
امام صفار نے ذکر فرمایا کہ اگر میت کی پیشانی یا عمامہ یا کفن پر عہد نامہ لکھ دیا جائے تو امید ہے کہ اﷲ تعالی اسے بخش دے اور عذاب قبر سے مامون کرے۔
پھر فرمایا :
قال نصیر ھذہ روایۃ فی تجویز وضع عہدنامہ مع المیت وقدروی انہ کان مکتوبا علی افخاد افراس فی اصطبل الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ حبس فی سبیل اﷲ ۔
امام نصیر نے فرمایا : یہ میت کے عہد نامہ رکھنے کے جواز کی روایت ہے اور بیشك مروی ہوا کہ فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے اصطبل میں کچھ گھوڑوں کی رانوں پر لکھا تھا وقف فی سبیل اﷲ۔
() درمختار میں ہے :
کتب علی جبہۃ المیت وعمامۃ اوکفنہ عھدنامہ یرجی ان یغفراﷲ للمیت اوصی بعضہم ان یکتب فی جبھۃ وصدرہ بسم اﷲ
مردے کی پیشانی یا عمامہ یا کفن پر عہد نامہ لکھنے سے اس کے لئے بخشش کی امید ہے۔ کسی صاحب نے وصیت کی تھی کہ ان کی پیشانی اور سینے پر بسم اللہ الرحمن
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الاحسان مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۳۷۹
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الاحسان مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۳۷۹
الر حیم لکھ دیں لکھ دی گئی پھر خواب میں نظر آئے حال پوچھنے پر فرمایا جب میں قبر میں رکھا گیا عذاب کے فرشتے آئے میری پیشانی پر بسم اﷲ الرحمن الرحیم لکھی دیکھی کہا تجھے عذاب الہی سے امان ہے۔
() فتاوی کبری للمکی میں ہے :
بقل بعضھم عن نوادرالاصول للترمذی مایقتضی ان ھذاالدعاء لہ اصل وان الفقیہ ابن عجیل کان یأمربہ ثم افتی بجواز کتابتہ قیاسا علی کتابۃ ﷲ فی نعم الزکوۃ ۔
بعض علماء نے نوادرالاصول امام ترمذی سے وہ حدیث نقل کی جس کا مقتضی یہ ہے کہ یہ دعا اصل رکھتی ہے نیز ان بعض نے نقل کیا کہ امام فقیہ ابن عجیل اس کے لکھنے کا حکم فرمایا کرتے پھر خد انہوں نے اس کے جواز کتابت پر فتوی دیا اس قیاس پر کہ زکوۃ کے چوپایوں پر لکھا جاتا ہے ﷲ(یہ اﷲ کے لئے ہیں) ۔
() اسی میں ہے :
واقرہ بعضھم بانہ قیل یطلب فعلہ لغرض صحیح مقصود فابیح وان علم انہ یصیبہ نجاسۃ ۔
ھذا ما اثر ثم نظر و فیہ نظر کما سیأتی وباﷲ توفیق۔
اس فتوے کو بعض دیگر علماء نے برقرار رکھا
() اور اس کی تائید میں بعض اورعلماء سے نقل کیا کہ غرض صحیح کے لئے ایسا کرنا مطلوب ہوگا اگرچہ معلوم ہو کہ اسے نجاست پہنچے گی۔ یہ انہوں نے نقل کیا پھر اس پر کلام کی اور اس پر کلام ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ اور توفیق خداہی سے ہے۔ (ت)
مقام دوم : احادیث مؤیدہ
اقول : () حدیث صحیح میں ہے بعض اجلہ صحابہ نے کہ غالبا سیدنا عبدالرحمن بن عوف یا
فتاوٰی ابن حجر مکی باب الجنائز دارالکتب العلمیۃ بیروت ٢ / ١٢
فتاوٰی ابن حجر مکی باب الجنائز دارالکتب العلمیۃ بیروت ٢ / ١٢
باب من استعدالکفن فی زمن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلم ینکر علیہ حدثنا عبداﷲ بن مسلمۃ فذکر باسنادہ عن سہل رضی اﷲ تعالی عنہ ان امراۃ جاءت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ببردۃ منسوجۃ فیھا حاشیتھا اتدرون ما البردۃ قالوا الشملۃ قال نعم قالت نسجتھا بیدی فجئت لاکسوکہا فاخذھا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم محتاجا الیہا فخرج الینا وانھا ازارہ فحسنھا فلان فقال اکسنیھا ما احسنہا قال القوم ما احسنت لبسھا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم محتاجا الیھا ثم سألتہ وعلمت انہ لا یردقال انی واﷲ ماسألتہ وعلمت انہ لایردقال انی واﷲ ماسألتہ وعلمت انہ لایردقال انی واﷲ ماسألتہ لالبسھا وانما سألتہ لتکون کفنی قال سہل فکانت کفنہ ۔
باب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جس نے کفن تیار کیا اور آپ نے منع نہ فرمایا حضرت عبداﷲ بن سلمہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت سہل رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی ایك عورت حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں خوبصورت بنی ہوئی حاشیہ والی چادر لائی تمہیں معلوم ہے کہ کون سی چادر تھی انہوں نے جواب دیا وہ تہبند ہے کہا ہاں اس عورت نے عرض کیا کہ میں نے خود یہ چادر بنی ہے آپ کو پہننے کے لئے پیش کرتی ہوں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی خوشی سے قبول فرما ئی تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس کو تہبند کی صورت میں پہن کر باہر تشریف لائے تو فلاں صحابی نے اس تہبند کی تحسین کی اور عرض کیا یہ کتنی اچھی ہے مجھے عطا فرما دیجئے۔ اس پر حاضرین نے اسے کہاتو نے اچھا نہیں کیا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خود اپنے لئے پسند فرمائی تھی تونے یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کسی سائل کو مایوس نہیں فرماتے سوال کرلیا۔ اس نے جواب میں کہا کہ خدا کی قسم میں نے اسے پہننے کے لئے نہیں اپنے کفن کے لئے طلب کیا ہے۔ حضرت سہل رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ وہ چادر مبارك اس سائل صحابی کا کفن بنی۔ (ت)
قالت دخل علینا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ونحن نغسل ابنتہ فقال اغسلنھا ثلثا او خمسا او اکثر من ذلك ان رأیتن ذلك بماء وسدر واجعلن فی الاخرۃ کافورا اوشیئامن کافور فاذافرغتن فاذننی فلما فرغنا اذناہ فالقی الینا حقوہ فقال اشعر نھا ایاہ۔
فرماتی ہیں ہمارے پاس رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم تشریف لائے جب ہم ان کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں فرمایا اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینا تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ اور آخری بار کافور ملالینا فارغ ہونے کے بعد مجھے اطلاع دینا۔ ہم نے جب غسل دے لیا توحضور کو خبر دی۔ سرکار نے اپنا تہبند دیا اور فرمایا اسے اس کے بدن سے متصل رکھنا۔ (ت)
() علماء فرماتے ہیں یہ حدیث مریدوں کو پیروں کے لباس میں کفن دینے کی اصل ہے۔ لمعات میں ہے :
ھذا الحدیث اصل فی المتبرك باثارالصالحین ولباسھم کمایفعلہ بعض مریدی المشائخ من لبس اقمصتھم فی القبر ۔
یہ حدیث صالحین کے آثار اور ان کے لباس سے برکت حاصل کرنے کے سلسلے میں اصل ہے جیسا کہ مشائخ کے بعض ارادت مند ان کی قمیصوں کا کفن پہنتے ہیں۔ (ت)
() یونہی حضرت فاطمہ بنت اسد والدہ ماجدہ امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اپنی قمیص اطہر میں کفن دیا ۔
رواہ الطبرانی فی الکبیر والاوسط وابن حبان والحاکم وصححہ وابونعیم فی الحلیۃ عن انس۔
() وابوبکر بن ابی شیبۃ فی مصنفہ
اسےمعجم کبیر و معجم اوسط میں طبرانی نے اورابن حبان اور حاکم نے بافادہ صحیح اور ابو نعیم نے حلیہ میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں حضرت
لمعات التنقیح باب غسل میت فصل اول مطبوعہ المعارف العلمیہ لاہور ۴ / ۳۱۸
مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسطغنیہ باب مناقب فاطمہ بنتِ رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم غنیہ مطبوعہ دارالکتاب بیروتغنیہ ۹ / ۲۵۷
جابر سے (ت)
() وابن عساکر عن علی۔
ابن عساکر نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے(ت)
() والشیرازی فی الالقاب وابن عبدالبر وغیرھم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم ۔
القاب میں شیرازی نے ابن عبدالبر وغیرہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا۔ (ت)
() اور ارشاد فرمایا کہ میں نے انہیں اپنا قمیض مبارك اس لئے پہنایا کہ یہ جنت کے لباس پہنیں۔ ابونعیم نے معرفۃ الصحابہ اور دیلمی نے مسند الفردوس میں بسند حسن حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی :
قال لماماتت فاطمۃ ام علی رضی اﷲ تعالی عنھا خلع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قمیصہ والبسھاایاہ واضطجع فی قبرھا فلما سوی علیھاالتراب قال بعضھم یارسول اﷲ رأیناك صنعت شیئالم تصنعہ باحد فقال انی البستھا قمیصی لتلبس من ثیاب الجنۃ واضطجعت معھا فی قبرھا لاخفف عنھا من ضغطۃ القبر انھاکانت احسن خلق اﷲ نیعا الی بعد ابی طالب۔
فرمایاجب حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالی عنہا کا انتقال ہوا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنا کرتا اتار کر انہیں پہنایا اور ان کی قبر میں لیٹے جب قبر پر مٹی برابر کردی گئی تو کسی نے عرض کیایارسول اﷲ ! آج ہم نے آپ کو وہ عمل کرتے دیکھا جو حضور نے کسی کے ساتھ نہ کیا۔ فرمایا اسے میں نے اپنا کرتا اس لئے پہنایا کہ یہ جنت کے کپڑے پہنے اور اس کی قبر میں اس لئے لیٹا کہ قبر کے دبانے میں اس سے تخفیف کروں یہ ابوطالب کے بعد خلق خدا میں سب سے زیادہ میرے ساتھ نیك سلوك کرنے والی تھی۔ (ت)
(۲۳) بلکہ صحاح ستہ سے ثابت کہ جب عبداﷲ بن ابی منافق کہ سخت دشمن حضور سیدالمحبوبین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تھا جس نے وہ کلمہ ملعونہ لئن رجعنا الی المدینۃ(جب ہم مدینہ کو لوٹیں گے الخ۔ ت)کہا جہنم واصل ہوا حضور پر نور حلیم غیور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اسکے بیٹے حضرت عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ ابن عبداﷲ بن ابی کی درخواست سے کہ صحابی جلیل ومومن کامل تھے اس کے کفن کے واسطے اپنا قمیص مقدس عطافرمایا
یارسول اﷲ یاکریم یارؤف یارحیم اسألك الشفاعۃ عندالمولی العظیم والوقایۃ من نار الجحیم والامان من کل بلاء الیم لی ولکل من امن بك بکتابك الحکیم علیك من ولاك افضل الصلوۃ واکمل تسلیم ۔
اے اﷲ کے رسول اے کریم اے رؤف اے رحیم! آپ سے رب عظیم کے حضور شفاعت نار جہنم سے حفاظت اور ہردردناك بلا سے امان کا سوال کرتا ہوں اپنے لئے اور ہر اس شخص کے لئے جو آپ پر آپ کی حکمت والی کتاب پر ایمان لایا آپ پر اورآپ سے محبت رکھنے والوں پر بہتر درود اور کامل تر سلام ہو۔ (ت)
حضور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی یہ شان رحمت دیکھ کر کہ اپنے کتنے بڑے دشمن کو کیسا نوازا ہے ہزار آدمی قوم ابن ابی سے مشرف باسلام ہوئے کہ واقعی یہ حلم و رحمت وعفو و مغفرت نبی برحق کے سوا دوسرے سے متصور نہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ اجمعین وبارك وسلم صحیحین وغیرہما صحاح و سنن میں ہے :
عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہ ان عبداﷲ بن ابی لما توفی جاء ابنہ الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یارسول اﷲ اعطنی قمیصك اکفنہ فیہ وصل علیہ استغفرلہ فاعطاہ النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم قمیصہ الحدیث ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ جب عبداﷲ بن ابی فوت ہوا اس کے فرزند نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس حاضر ہوکر عرض کیا یارسول اﷲ! اپناکرتا عطافرمائیں میں اسے اس میں کفن دوں گا اور اسے اپنی صلوۃ واستغفار سے نوازیں تو حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں اپنا کرتا عطا کردیا۔ الحدیث (ت)
عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ قال اتی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عبداﷲ بن ابی بعد مادفن فنفث فیہ من ریقہ والبسہ قمیصہ
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عبداﷲ بن ابی کے پاس دفن کے بعد تشریف لائے اس کے منہ میں اپنا لعاب اقدس ڈالا اور اسے اپنا کرتاپہنایا۔ (ت)
(۲۵) امام ابو عمر یوسف بن عبدالبر کتاب الاستعیاب فی معرفۃ الاصحاب میں فرماتے ہیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے انتقال کے وقت وصیت میں فرمایا :
انی صحبت رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فخرج لحاجۃ فاتبعتہ باداوۃ فکسانی احد ثوبیہ الذی یلی جسدہ فخبأتہ لھذا الیوم واخذ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من اظفارہ وشعرہ ذات یوم فاخذتہ فخباتہ لہذا الیوم فاذا انامت فاجعل ذلك القمیص دون کفنی ممایلی جسدی وخذ ذلك الشعر والاظفار فاجعلہ فی فمی وعلی عینی ومواضع السجود منی ۔
یعنی میں صحبت حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے شرف یاب ہوا ایك دن حضور اقدس صلی ﷲ تعالی وسلامہ علیہ حاجت کے لئے تشریف فرما ہوئے ہیں۔ میں لوٹا لے کر ہمراہ رکاب سعادت مآب ہوا۔ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے جوڑے سے کرتا کہ بدن اقدس سے متصل تھا مجھے انعام فرمایا وہ کرتا میں نے آج کے لئے چھپا رکھا تھا۔ اور ایك روز حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ناخن و موئے مبارك تراشے وہ میں نے لے کر اس دن کے لئے اٹھا رکھے جب میں مرجاؤں تو قمیص سراپا تقدیس کو میرے کفن کے نیچے بدن کے متصل رکھنا وموئے مبارك وناخن ہائے مقدسہ کو میرے منہ اور آنکھوں اور پیشانی وغیرہ مواضع سجود پر رکھ دینا ۔
(۲۶) حاکم نے مستدرك میں بطریق حمید بن عبدالرحمن رواسی روایت کی :
قال حدثنا الحسن بن صالح عن ھارون بن سعید عن ابی وائل قال کان عند علی
(انہوں نے کہا ہم نےحسن بن صالح نے حدیث بیان کی وہ ہارون بن سعید سے وہ ابووائل سے راوی
کتاب الاستعیاب فی معرفۃ الاصحاب علی ہامش الاصابۃ ترجمہ معاویہ بن سفیان مطبوعہ دارصادر بیروت ٣ / ۳۹۹
ہیں انہوں نے کہا۔ ت) کہ مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کے پاس مشك تھا وصیت فرمائی کہ میرے حنوط میں یہ مشك استعمال کیا جائے اور فرمایاکہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حنوط کا بچا ہوا ہے۔ (اور اسے ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں روایت کیا کہا ہم سےحمید بن عبدالرحمن نے حدیث بیان کی آگے سند دی ہے اور اسےبیہقی نے سنن میں روایت کیا۔ امام نووی نے فرمایا اس کی سند حسن ہے۔ اسے نصب الرایہ کتاب الجنائز میں ذکر کیا۔ ت)
() ابن السکن نے بطریق صفوان بن ہبیرہ عن ابیہ روایت کی :
قال قال ثابت البنانی قال لی انس بن مالك رضی اﷲتعالی عنہ ھذہ شعرۃ من شعر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فضعھا تحت لسانی قال قوضعتھا تحت لسانہ فدفن وھی تحت لسانہ ذکرہ فی الاصابۃ۔
یعنی ثابت بنانی فرماتے ہیں مجھ سے انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : یہ موئے مبارك سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ہے اسے میری زبان کے نیچے رکھ دو میں نے رکھ دیا وہ یوں ہی دفن کئے گئے کہ موئے مبارك ان کی زبان کے نیچے تھا(اسے اصابہ میں ذکر کیا گیا۔ ت)
() دلائل النبوۃ بیہقی و ابن عساکر امام محمد بن سیرین سے راوی :
عن انس بن مالك انہ کان عندہ عصیۃ لرسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فمات فدفنت معہ بین جیبہ وبین قمیصہ ۔
انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ایك چھڑی تھی وہ ان کے ینہ پر قمیص کے نیچے ان کے ساتھ دفن کی گئی۔
ان کے سوا ہنگام تتبع اور نظائر ان وقائع کے کتب حدیث میں ملیں گے۔ ظاہر ہے کہ جیسے نقوش
نصب الرایۃ باب الجنائز فصل فی الغسل المکتبۃ الاسلامیۃ لصاجہ الریاض ٢ / ٢٥٩
اصابہ فی تمیز الصحابہ ترجمہ نمبر ٢٧٧ انس بن مالك رضی اﷲ عنہ مطبوعہ دارصادر بیروت ١ / ٧٢
مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر ترجمہ انس ابن مالك دارالفکر بیروت ٥ / ٧٥
مقام سوم : کفن پر آیات اسماء ادعیہ لکھنے میں جو شبہہ کیا جاسکتا تھا وہ یہی تھا کہ میت کا بدن شق ہونا اس سے ریم وغیرہ نکلنا ہے تو نجاست سے تلوث لازم آئے گا۔ اس کا نفیس ازالہ امام نفیس نے فرمادیا کہ اصطبل فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ میں گھوڑوں کی رانوں پر لکھا تھا : حبس فی سبیل اﷲ تعالی (وقف فی سبیل اﷲ تعالی ہے۔ ت)جو احتمال نجاست یہاں ہے وہاں بھی تھا تو معلوم ہوا کہ ایك امر غیر موجود کا احتمال نیت صالحہ وغرض صحیح موجود فی الحال سے مانع نہیں آتا۔ مگر ایك متاخر عالم شافعی المذہب امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس جواب میں کلام کیا ران اسپ پر لکھنا صرف پہچان کے لئے تھا اور کفن پر لکھنے سے تبرك مقصود ہوتا ہے تو یہاں کلمات معظمہ اپنے حال پر باقی ہیں انہیں معرض نجاست پر پیش کرنے کی اجازت نہ ہوگی ۔
ذکرہ فی فتاواہ الکبری واثرہ العلامۃ الشامی فتبعہ علی عادتہ فانی رأیتہ کثیرا مایتبع ھذاالفاضل الشافعی کمافعل ھھنا مع نص ائمۃ مذھبہ الامام نصیر والامام الصفار و تصریح البزازیۃ والدرالمختار وکذا فی
اسے امام ابن حجر مکی نے اپنے فتاوی کبری میں ذکر کیا اور علامہ شامی نے اسے نقل کرنے کے بعد اس کی پیروی کی جیسا کہ ان کی عادت ہے اس لئے کہ میں نے بہت جگہ دیکھا کہ وہ اس شافعی فاضل کی پیروی کرتے ہیں جیسے یہاں کی باوجودیکہ ان کے ائمہ مذہب امام نصیر امام صفار کی تصریح اوربزازیہ و درمختار کی عبارت سامنے ہے۔ اسی طرح خطبہ میں ذکر سلاطین
ردالمحتار علی الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ١ / ٦٠٧
کے وقت خطیب کے ایك سیڑھی نیچے اتر آنے کے مسئلے میں اور مسئلہ اذان قبر میں اور رطوبت رحم کی نجاست کے بارے میں کہا جبکہ صحیح یہ ہے کہ امام اعظم کے نزدیك رطوبت فرج کی طہارت فرج خارج رحم اور فرج داخل سبھی کو شامل ہے۔ جیسا کہ جدالممتار میں اسے میں نے بیان کیا ہے(ت)
اقول : قطع نظر اس سے کہ یہ فارق یہاں اصلا نافع نہیں کما بینۃ فیما علقت علی ردالمحتار (جیسا کہ میں نے اپنے حاشیہ ردالمحتار میں اسے بیان کیا ہے۔ ت) مقام ثانی میں جوا حادیث جلیلہ ہم نے ذکر کیں وہ توخاص تبرك ہی کے واسطے تھیں تو فرق ضائع اورامام نصیر کا استدلال صحیح وقاطع ہے۔
ثم اقول : بلکہ خود قرآن عظیم مثل سورہ فاتحہ و آیات شفاء وغیرہا بغرض شفاء لکھ کر دھوکر پینا سلفا خلفا بلا نکیر رائج ہے عــــہ ۔
عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے درد زہ کے لئے فرمایا :
تکتب لہا شیئ من القران وتسقی ۔
قرآن مجید میں سے کچھ لکھ کر عورت کو پلائیں۔
امام احمد بن حنبل اس کے لئے حدیث ابن عباس دعائے کرب اور دو آیتیں تحریر فرمایا کرتے : لا الہ الااﷲ الحلیم الکریم سبحن اﷲ رب العرش العظیم الحمدﷲ رب العلمین كانهم یوم یرونها لم یلبثوا الا عشیة او ضحىها(۴۶)
عــــہ : بلکہ دیلمی نے مسندالفردوس میں ان سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اذاعسرت علی المرأۃ ولادتھا خذ اناء نظیفا فاکتب علیہ قولہ تعالی كانهم یوم یرون ما یوعدون-لم یلبثوا الا ساعة من نهار-بلغ-فهل یهلك الا القوم الفسقون(۳۵) كانهم یوم یرونها لم یلبثوا الا عشیة او ضحىها(۴۶)
لقد كان فی قصصهم عبرة لاولی الالباب- ثم یغسل وتسقی منہ المرأۃ وینضح علی بطنھا وفرجہا۔ جس عورت کو جننے میں دشواری ہو پاکیزہ برتن پر آیتیں لکھ کر اسے پلائیں اور اس کے پیٹ اور فرج پر چھڑکیں۔ ذکرہ فی نزھۃ الاسرار معزی التفسیر بحرالعلوم۱۲
قول عبداﷲ ابن عباس
ان کے صاحبزادہ جلیل امام عبداﷲ بن احمد اسے زعفران سے لکھتے ۔ امام حافظ ثقہ احمد بن علی ابوبکر مروزی نے کہا : میں نے ان کو بارہا اسے لکھتے دیکھا رواہ الامام الثقۃ الحافظ ابوعلی الحسن بن علی الخلال المکی(اسے امام ثقہ حافظ ابوعلی حسن بن علی خلال مکی نے روایت کیا۔ ت) حالانکہ معلوم ہے کہ پانی جزو بدن نہیں ہوتا اور اسکا مثانہ سے گزر کر آلات بول سے نکلنا ضرور ہے بلکہ خود زمزم شریف کیا متبرك نہیں ولہذا اس سے استنجا کرنا منع ہے درمختار میں ہے :
یکرہ الاستنجاء بماء زمزم لا الا غتسال ۔
آب زم زم سے استنجاء مکروہ ہے غسل نہیں۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وکذا ازالۃ النجاسۃ الحقیقۃ من ثوبہ او بدنہ حتی ذکر بعض العلماء تحریم ذلک ۔
اسی طرح اپنے کپڑے یا بدن سے نجاست حقیقیہ آب زم زم سے زائل کرنا یہاں تك کہ بعض علماء نے اسے حرام بتایا ہے۔ (ت)
اور اس کا پینا اعلی درجہ کی سنت بلکہ کوکھ بھر کر پینا ایمان خالص کی علامت۔ تاریخ بخاری وسنن ابن ماجہ و صحیح مستدرك میں بسند حسن حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ایۃ ما بیننا وبین المنافقین انھم لایتضلعون من زمزم ۔
ہم میں اور منافقوں میں فرق کی نشانی یہ ہے کہ وہ کوکھ بھر کر آب زمزم نہیں پیتے۔
بلکہ بحمد اﷲ تعالی ہماری تقریر سے امام ابن حجر شافعی اوران کے متبع کا خلاف ہی اٹھ گیا اول نے اسے حدیث سے ثبوت پر موقوف رکھا تھا
مدارج النبوّۃ بحوالہ خلال مکی باب ششم معجزات آنحضرت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم (رقیہ عسرولادت) مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ۱ / ۲۳۵
درمختار باب الہدٰی مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ١٨٤
ردالمحتار باب الہدٰی مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ٢ / ٢٥٦
المستدرك علی الصحیحین کتاب المناسك مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۴۷۲
ان کا کلا م یہ ہے “ یہ کہنا کہ “ غرض صحیح کے لئے ایسا کرنا مطلوب ہوگا اگرچہ معلوم ہو کہ اسے نجاست پہنچے گی “ ناقابل قبول ہے کیونکہ اس طرح کی بات سے حجت قائم نہیں ہوتی اگر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اس کی طلب صحت کے ساتھ ثابت ہوتی تو حجت ظاہر ہوتی اور ایسا نہیں “ ۔ (ت)
دوم نے حدیث یا قول مجتہد پر
قال فالمنع ھنابالاولی مالم یثبت عن المجتھد اوینقل فیہ حدیث ثابت ۔
انہوں نے کہا : تو یہاں ممانعت بدرجہ اولی ہوگی جب تك کہ مجتہد سے اس کا ثبوت نہ ہو یا اس بارے میں کوئی حدیث منقول نہ ہو(ت)
ہم نے متعدد احادیث صحیحہ سے اسے ثابت کردیا اور امام نصیر و امام قاسم صفار نے خود ہمارے مذہب کے ائمہ مجتہدین سے ہیں بالجملہ حکم جواز ہے اور اگر بلحاظ زیادت احتیاط کفن پر لکھنے یا لکھا ہوا کفن دینے سے اجتناب کرے تو جادارد۔ اس بحث کی تکمیل وتفصیل فقیرنے تعلقیات ردالمحتار میں ذکر کی اس کا یہاں ذکر خالی از نفع نہیں امام حجر مکی نے بعد عبارت مذکورہ نمبر فرمایا تھا :
قیاسہ علی مافی نعم الصدقۃ ممنوع لان القصد ثم التمیز لاالتبرك وھنا القصد التبرك فالاسماء المعظمۃ باقیۃ علی حالھا فلا یجوز تعریضھا للنجاسۃ اھ و اقرہ ش
صدقہ کے جانوروں کے بارے میں جو آیا ہے اس پر اس کا قیاس ممنوع ہے اس لئے کہ وہاں امتیاز مقصود ہے تبرك نہیں اور یہاں برکت لینا مقصود ہے تو عظمت والے اسماء اپنے حال پر باقی رہیں گے انہیں معرض نجاست میں لانا جائز نہ ہوگا اھ علامہ شامی نے اسے برقرار رکھا۔ (ت)
فقیر نے اس پر تعلیق کی :
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱ / ۶۰۷
فتاوی ابن حجر مکی باب الجنائز دارالکتب العلمیۃ بیروت ٢ / ١٣
اقول : یہ تفریق بے سود ہے یہ کیسے تسلیم کیاجاسکتا ہے کہ امتیاز کا قصد ایسی چیز کی تعظیم ساقط کردے جس کی تعظیم شرعا واجب ہو--اگر یہ کہیں کہ اس قصد کی وجہ سے عظمت والے اسماء کی حقیقت ہی بدل جاتی ہے تو اس کا بطلان عیاں ہے اور یہ کہیں کہ ان سے ان کی معانی مراد نہیں ہوتے بلکہ یہ دوسرے معانی میں مستعمل الفاظ ہوجاتے ہیں یا معنی سے خالی ہوجاتے ہیں -- تو یہ قطعا باطل ہے کیونکہ کلمہ “ ﷲ “ (خدا کے لئے) یا “ حبیس فی سبیل اﷲ “ (اﷲ کی راہ میں وقف) امتیاز ونشان کا فائدہ بھی دیتا ہے اوراپنے وضعی معنی کے لحاظ سے مال صدقہ ہونے کو بھی بتاتا ہے کوئی اور معنی نہیں دیتا--اور اگر یہ کہیں کہ عظمت والے کلمات جب اپنے معانی میں مستعمل ہوں اور وہاں تبرك کے سوا کوئی اور بات سمجھانی بھی مقصود ہو تو وہ باعظمت نہیں رہ جاتے--تو اس پر کون سی دلیل شرعی ہے بلکہ دلائل بلکہ بداہت اس کے خلاف ناطق ہے تبرك جیسے امر کے سوا کسی اور غرض کا محض قصد ہوجانا اگر تعظیم کو ساقط کردیتا ہے تو چاہئے کہ قرآن عظیم کا تکیہ لگانا جائز ہو بلکہ بدرجہ اولی اس لئے کہ وہاں جو غرض ہے وہ اسم جلالت بحیثیت اسم جلالت کے بغیر پوری نہیں ہوتی-- اور یہاں تو تکیہ لگانے والے کی نظر اس کی قرآنیت بحیثیت قرآنیت کی جانب نہیں ہوتی بلکہ اس کے حجم اور جلد کی ضخامت کی جانب ہوتی ہے-- اور اس بنیاد پر جب وہ جائز ہوجائیگا۔
اقول : نازعہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ وخص الجواز بمالا یقع بہ التحدی ای مادون قدر ثلث ایات ولی فی ھذا ایضا کلام والحق عندی ان الجواز بنیۃ الدعاء والثناء ورد علی خلاف القیاس توسعۃ من اﷲتعالی بعبیدہ رحمۃ منہ و فضلا فلا یجوز القیاس علیہ علا ان منع الجنب لم یکن لنفس الالفاظ بل لکونھا قرانا ای کلام اﷲ عزوجل النازل علی نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المثبت بین الدفتین من حیث ھوکذلك حتی لو فرض ان تلك الالفاظ کانت حدیثالم یحرم علیہ قراءتہ فاذا قرأت علی جھۃ انشاء کلامن عند نفسہ
تو معاذاﷲ یہ بھی جائز ہوجائے گا کہ مصف شریف زمین پر رکھ کر اس پر بیٹھ رہے اس غرض سے کہ اس کے کپڑے مٹی سے محفوظ رہیں--کیونکہ یہ لید اور پیشاب وغیرہ پڑنے کی جگہ لانے سے بڑھ کر نہیں جسے کوئی جائز نہیں کہہ سکتا۔ ہوسکتا ہے کوئی یوں علت پیش کرے کہ جنب وحائض ونفساء کے لئے دعا وثنا کے ارادے سے سورہ فاتحہ وغیرہ پڑھنا جائز ہے اور بقصد تلاوت جائز نہیں۔
اقول : محقق حلبی نےحلیہ میں اس سے اختلاف کیا ہے اور جواز صرف اتنی مقدار سے خاص کیا ہے جس سے تحدی واقع نہیں ہوتی یعنی تین آیات سے کم ہی پڑھنے کا جواز ہے--مجھے اس میں بھی کلام ہے--میرے نزدیك حق یہ ہے کہ دعا یا ثنا کی نیت سے جواز کاحکم --اﷲتعالی کی جانب سے بطور رحمت و فضل بندوں پر وسعت دینے کے لئے--خلاف قیاس وارد ہے تو اس پر قیاس روا نہیں-- علاوہ ازیں جنب کے لئے ممانعت نفس الفاظ کے باعث نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ وہ قرآن ہیں یعنی اﷲ عز و جل کا وہ کلام جو اس کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر نازل ہے دو دفتیوں کے درمیان ثبت ہے اس لحاظ سے کہ وہ قرآن ہیں یہاں تك کہ اگر فرض کیا جائے کہ وہ الفاظ حدیث ہیں تو جنب کے لئے ان کی قرأت حرام نہ ہوگی--تو جب ان کی قرأت اس طور پر ہو کہ خود اپنی جانب سے
ثم اقول : علی التسلیم لامحیص عن کونہ اعنی ماکتب علی افخاذ الا بل حروفا و حروف الھجاء المعظمۃ بانفسھا لایجوز تعریضھا للنجاسۃ کیف وانھا علی ماذکرالزرقانی فی شرح المواہب قران انزل علی سیدناھودعلی نبینا الکریم و علیہ الصلوۃ والتسلیم وکذا نقلہ فی ردالمحتار عن بعض القراء وقدمہ عن سیدی عبدالغنی عن کتاب الاشارات فی علم القراءات للامام القسطلانی وقال اعنی الشامی فیہ ان الحروف فی ذاتھا لھا احترام اھ و
ایك کلام انشا کر رہا ہے تو جونسبت باعث ممانعت تھی وہ ملحوظ نہ رہ گئی-- لیکن یہاں تو تعظیم خود ان ہی الفاظ کے باعث ہے جو ان معانی عظمت کے لئے وضع ہوئے ہیں۔ اور کتابت میں یہ اپنے حال پر باقی ہیں ۔ تواسے سمجھو-- اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ علامہ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ نے صراحت فرمائی ہے کہ نیت منطوق کو بدلنے میں اثر انداز ہوتی ہے مکتوب میں نہیں--جیسا کہ علامہ شامی نے باب المیاہ سے ذرا قبل اس کو نقل کیا اور برقرار رکھا ہے۔
ثم اقول : برتقدیر تسلیم— او نٹوں کی ران پر جو لکھا جاتا اس کو حروف ماننے سے مفرنہیں— اور حروف تہجی خود باعظمت ہیں انہیں معرض نجاست میں لانا جائز نہیں— ایسا کیوں نہ ہو جب کہ یہ وہ قرآن ہے جو سیدنا ہود علی نبیناالکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم پر نازل ہوا جیسا کہ علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں ذکر کیا ہے— اسی طرح ردالمحتار میں اسے بعض قراء سے نقل کیا ہے اور اس سے پہلے امام قسطلانی کی کتاب “ الاشارات فی علم القراءات “ کے حوالے سے سیدعبدالغنی نابلسی سے نقل کیا -اوراسی میں علامہ شامی نے بھی یہ لکھا ہے خود یہ حروف محترم ہیں اھ –یہ بھی
ردالمحتار فصل الاستجاء مطبوعہ الطباعۃ المصریہ مصر ۱ / ۲۲۷
ردالمحتار فصل الاستنجاء مطبوعہ الطباعۃ المصریہ مصر ١ / ١١٩
لکھا ہے کہ علماء نے نقل فرمایا ہے کہ ہمارے نزدیك حروف کی عزت وحرمت ہے اگرچہ یہ الگ الگ ہوں اھ-ہندیہ میں ہے اگر حرف کو حرف سے جدا کردیا یا فرش یا جا نماز میں بعض حروف پر اس طرح سلائی کردی گئی کہ پورا لفظ مستعمل نہ رہا تو بھی کراہت ختم نہ ہوئی-- اسی طرح اگر اس پرصرف الملك ہو اسی طرح اگر صرف الف اور صرف لام ہو ایساہی کبری میں ہے--اگر نشانہ لگانے کی جگہ فرعون کا نام لکھ دیا گیا یا ابوجہل لکھا گیاتو اس پر تیر مارنا مکروہ ہے اس لئے کہ ان حروف ہی کی عزت و حرمت ہے ایسا ہی سراجیہ میں ہے اھبلکہ درمختار وغیرہ میں تصریح ہے کہ نئے قلم کا تراشا پھینکنا جائز ہے اور مستعمل قلم کا تراشہ پھینکنا جائز نہیں کیونکہ وہ محترم ہے جیسے مسجد کی گھاس اور کوڑا ایسی جگہ نہ ڈالا جائے جہاں بے حرمتی ہو اھ۔ ردالمحتار میں ہے : کتابت کے کاغذ کا احترام ہے اس لئے کہ وہ کتابت علم کا سامان ہے--اسی لئے تاتارخانیہ میں اس کی یہ علت بیان کی ہے کہ اس کی تعظیم دین کے آداب سے ہے اھ—تو جب یہ حکم قلم کے تراشے اور بغیر لکھے کاغذ کی بیاض کے بارے میں ہے تو حروف کے
فتاوٰی ہندیہ الباب الخامس فی آداب المسجد مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشار ۵ / ۳۲۳
درمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٣٤
ردالمحتار فصل فی الاستنجاء مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ١ / ٢٢٧
واقول : یظھر لی فی النظر الحاضر ان لیس الامتھان من لازم تلك الکتابۃ ولاھو موجود حین فعلت ولاھومقصود لمن فعل وانما اراد التمیز وانماالاعمال بالنیات وانمالکل امرء مانوی ۔
قال فی جواھر الاخلاطی ثم الفتاوی الھندیۃ لاباس بکتابۃ اسم اﷲتعالی علی الدراھم لان قصد صاحبہ العلامۃ لاالتھاون اھ وھذ الاشك انہ جارفیما نحن فیہ فلیس التجنیس من لازم الکتابۃ ولاھو موجود لامقصود وانما المراد التبرك الی اخر مامر فان قنع بھذا فذاك والا فایاما ابدیتم من الوجہ فی ذالك فانہ یجری فیما ھنالك ولایظھرفرق یغیر المسالک۔
بارے میں کیا ہوگا--اس سے ظاہر ہوا کہ صحت استناد میں کوئی شك نہیں—اور اونٹوں والی تحریروں کو بے حرمتی سے خارج ماننا ضروری ہے۔
واقول : (اور میں کہتا ہوں) بنظر حاضر مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ اہانت اس تحریر کو لازم نہیں نہ ہی بوقت تحریر اہانت کا وجود ہے نہ ہی یہ لکھنے والے کا مقصود ہے-- اس کا مقصد صرف امتیاز پیدا کرنا اور نشان لگانا ہے--اوراعمال کامدار نیتوں پر ہے اور ہرانسان کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی--
جواہر اخلاطی پھر فتاوی ہندیہ میں ہے : دراہم پراﷲ کا نام تحریر کرنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ تحریر کرنے والے کامقصود صرف نشان ہوتا ہے اہانت نہیں اھ--یہ بات بلاشبہہ تحریر کفن میں بھی جاری ہے اس لئے کہ نجاست آلود کرنااس تحریر کولازم نہیں نہ ہی بروقت اس کا وجود ہے نہ ہی مقصود ہے مقصود صرف برکت حاصل کرنا ہے --وہ ساری باتیں جو گزر چکیں۔ اگر مخالف اسے مان لے تو ٹھیك ہے ورنہ اس میں آپ جوبھی وجہ بتائیں وہ یہاں بھی جاری ہوگی اور کوئی ایسا فرق رونما نہ ہوگا جس سے راہیں مختلف ہوجاتیں۔
فتاوٰی ہندیہ الباب الخامس فی آداب المسجد مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٥ / ٣٢٣
اگر یہ کہیے کہ اونٹوں میں آلودگی نجاست کا یقین نہیں خواہ پالتو اونٹ کی ران کے پہلو پر لکھائی ہو کیونکہ اونٹ پیشاب کرتے وقت اپنی ٹانگوں کو کھول لیتا ہے تو کھلے جنگل میں رہنے والے جانوروں پرلکھائی میں کیسے یقین ہوسکتی ہے--میں کہوں گا کفن دینے میں بھی یہ یقینی نہیں اس لئےکہ ہر جسم بوسیدہ نہیں ہوتا اولیاء باعمل علماء شہداء طالب ثواب مؤذن باعمل حافظ قرآن سرحد کا پاسبان طاعون میں صبر کے ساتھ اور اجر چاہتے ہوئے مرنے والا کثرت سے اﷲ کا ذکر کرنے والا ان کے بدن بگڑتے نہیں اسےعلامہ زرقانی نےشرح مؤطا میں جامع الجنائز سے نقل کیا اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پھر صدیقین اورخدا کے محبین کو ذکر کرکے ان کی تعداد کامل دس کردی ہے--اور میں نے ان دونوں قسموں کو لفظ اولیاء میں شامل کردیا ۔ مؤذن کے ساتھ محتسب (طالب ثواب)کی قید بتصریح حدیث ثابت ہے۔ طبرانی نے عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کی ہے کہ سرکار نے فرمایا : موذن محتسب اپنے خون میں آلودہ شہید کی طرح ہے جب وہ مرتا ہے تو قبر کے
مجمع الزوائد بحوالہ طبرانی باب المؤذن المحتسب مطبوعہ دارالکتاب بیروت ٢ / ٣
اماحامل القران فحدیث ابن مندۃ عن جابربن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما انہ قال قال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم اذامات حامل القران اوحی اﷲالی الارض ان لاتاکلی لحمہ فتقول الارض ای رب کیف اکل لحمہ وکلامك فی جوفہ قال ابن مندۃ وفی الباب عن ابی ھریرۃ وابن مسعود۔ و زاد فیہ الشیخ قید العامل بہ اقول : بہ ولکن العامل بہ مرجولہ ذلك وان لم یکن حاملہ فقد اخرج المروزی عن قتادۃ قال بلغنی اناالارض لاتسلط علی جسد
اندر اس کے بدن میں کیڑے نہیں پڑتے--اور یہی حضرت مجاہد کے اس اثر کی بھی مراد ہے کہ اذان دینے والے روز قیامت سب لوگوں سے زیادہ گردن دراز ہوں گے اور قبروں کے اندر ان کے جسم میں کیڑے نہ پڑیں گے۔ اسے عبدالرزاق نے روایت کیا --اس کی (یہاں بھی محتسب کی قید ملحوظ ہونے کی) دلیل جزء اول اطول الناس (سب لوگوں سے زیادہ گردن دراز)الخ ہے۔
حافظ قرآن سے متعلق ابن مندہ کی حدیث ہے جو حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے “ جب حافظ قرآن مرتا ہے خدا زمین کو حکم فرماتا ہے اس کا گوشت نہ کھانا زمین عرض کرتی ہے : اے رب ! میں اس کا گوشت کیسے کھاؤں گی جب تیرا کلام اس کے سینے میں ہے “ ۔ ابن مندہ نے کہا اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی روایت ہے۔ شیخ نے اس پر “ قرآن پر عامل “ کی قید کا اضافہ کیا—
اقول : مگرعامل قرآن اگر حافظ قرآن نہ ہو تو بھی اس کے لئے یہ امید ہے--مروزی نے قتادہ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں مجھے خبر پہنچی ہے کہ زمین اس کے جسم پر مسلط نہیں
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ١١١٢ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١ / ٢٨٤
ھذا و اما ما ایدہ بہ المحشی مماقدم عن الفتح انہ تکرہ کتابۃ القران واسماء اﷲتعالی علی الدراھم والمحاریب والجدران ومایفرش اھ ما فی الفتح قال المحشی ما ذلك الا لاحترامہ و خشیئۃ وطئہ و نحوہ مما فیہ اھانۃ
کی جاتی جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ عامل قرآن کا وصف اس پر بھی صادق ہے جو خطاکار اور تائب ہو پھر وہ جس نے کوئی گناہ نہ کیا ایسا صالح ہوگا جو گناہ سے بالکل محفوظ رہا ہو--اور یہ وصف میرے خیال میں بچے کو شامل نہیں اور زیادہ علم خدائے برتر کو ہے--اب اسے ملا کر پورے دس ہوگئے۔ () نبی () ولی(۳) عالم ()شہید (۵) مرابط (سرحد کا پاسبان) () میت اعون محتسب (۷) مؤذن محتسب () بہت ذکر کرنے والا (۹) حافظ قرآن () وہ جس نے کوئی گناہ نہ کیا ۔ تو جسے ہم کفن دے رہے ہیں مذکورین میں سے کوئی ایك ہے تو حال واضح ہے-- ورنہ کیا معلوم کے یہ مسلمان اﷲ تعالی کے اولیاء سے نہیں یا اسے شہداء کا درجہ حاصل نہیں--بلکہ ا شرار میں بھی ایسے ہیں جن کا جسم اس لئے متغیر نہیں ہوتا کہ عذاب زیادہ سخت ہو-- پناہ خدائے قریب مجیب کی۔
اب رہا وہ کلام جو اس کی تائید میں علامہ شامی نے فتح القدیر کے حوالے سے پیش کیا کہ درہم محراب اور دیوار اور بچھائی جانے والی چیز پر قرآن اور اسماء الہی لکھنا مکروہ ہے(فتح کی عبارت ختم ہوئی)اس پر علامہ شامی لکھتے ہیں : اس کی وجہ یہی احترام اور پامالی وغیرہ سے اہانت کا اندیشہ ہے تو یہاں
ردالمحتار مطلب فیما یکتب علٰی کفن المیت مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٦٠٧
فاقول : اماالکتابۃ علی الفراش فامتھان حاضر اوقصدمالا ینفك عن التھاون فلیس ممانحن فیہ ولاکلام فی کراھتہ واما علی البواقی فالمسئلۃ مختلف فیھا وقداسمعناك انفاما فی جواہر الاخلاطی فی حق الدراھم وقال الامام الاجل قاضی خان فی فتاواہ لوکتب القران علی الحیطان والجد ران بعضھم قالوا یرجی ان یجوز وبعضھم کرھواذلك مخافۃ السقوط تحت اقدام الناس اھ فقد قدم رجاء الجواز وھو کما صرح بہ فی دیباجۃ فتاواہ لایقدم الا الاظھر الاشھر ویکون کما نص علیہ العلامۃ السید الطحطاوی ثم السید المحشی ھو المعتمد فاذن فلتکن الکتابۃ المعھودۃ علی افخاذ الابل من لدن سیدنا الفاروق الاعظم رضی اﷲ
ممانعت بدرجہ اولی ہوگی جب تك کہ مجتہد سے ثبوت نہ ہویا اس بارے میں کوئی حدیث ثابت منقول نہ ہو اھ – یہی وہ بات ہے جو ان کے لئے اپنے مذہب کے امام صفارحنفی کے قول سے عدول کرکے ایك شافعی متاخر امام ابن الصلاح کا قول لینے پر باعث ہوئی۔
فاقول : (تو میں کہتا ہوں) بچھونے پر لکھا تو بروقت اہانت ہے یا ایسے کام کا قصد ہے جو بے حرمتی سے جداہونے والا نہیں۔ یہ تو ہمارے مبحث سے خارج ہے اور اس کے مکروہ ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ رہا باقی چیزوں پر لکھنا توان کے بارے میں مسئلہ اختلافی ہے---دراہم سے متعلق توجواہر اخلاطی کی عبارت ابھی ہم پیش کر آئے (دیوار و محراب سے متعلق ملاحظہ ہو)امام اجل قاضی خاں اپنےفتاوی میں لکھتے ہیں : “ اگر دیواروں پر قرآن لکھا تو بعض نے کہا امید ہے کہ جائز ہوگا “ اور بعض نے لوگوں کے پاؤں تلے پڑنے کے اندیشے کی وجہ سے اس کو مکروہ کہا اھ --اس عبارت میں امید جواز کو انہوں نے مقدم رکھا ہے-- اور جیسا کہ اپنے فتاوی کے دیباچے میں وہ تصریح فرماچکے ہیں جسے وہ مقدم رکھتے ہیں وہی “ اظہر اشہر “ ہوتا ہے-- اور جیسا کہ علامہ سید طحطاوی پھر خود علامہ شامی نے تصریح فرمائی ہے وہی “ معتمد “ ہوتا ہے-- ایسی صورت میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے سے اونٹوں کی ران پر
فتاوٰی قاضی خان کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی التسبیح من الحظر مطبوعہ نولکشور لکھنؤ٤ / ٧٩٢
لکھی جانے والی تحریر معہود و معلوم سے قول جوازکو ترجیح ہونی چاہئے -- اگر دونوں تحریروں میں ہم مساوات مانیں-- ورنہ اسے ہم سرے سے نہیں مانتے اس لئے کہ محرابوں اور دیواروں پر لکھنے سے عموما زینت مقصود ہوتی ہے۔ یہ کوئی حاجت کی چیز ہی نہیں— تو اگر اس میں ممانعت ہے تو یہ اس کو مستلزم نہیں کہ وہاں بھی ممانعت ہو جہاں حاجت ہے جیسے امتیاز پیدا کرنا برکت حاصل کرنا باذن الہی نجات کا وسیلہ بنانا— تو اسے سمجھو-- اور خدائے پاك بزرگ و برتر خوب جاننے ولا ہے (ت)
مقام چہارم : جب خود کفن پر ادعیہ وغیرہ تبرکا لکھنے کا جواز فقہا و حدیثا ثابت ہے تو شجرہ شریف رکھنا بھی بداہۃ اسی باب سے بلکہ بالاولی اول تو اسمائے محبوبان خدا علیہم التحیۃ والثناء سے توسل و تبرك بلاشبہہ محمود ومندوب ہے۔ تفسیر طبری پھر شرح مواہب لدنیہ للعلامۃ الزرقانی میں ہے :
اذاکتب اسماء اھل الکھف فی شیئ والقی فی النار اطفئت ۔
جب اصحاب کہف کے نام لکھ کر آگ میں ڈالے جائیں توآگ بجھ جاتی ہے۔
تفسیر نیشاپوری علامہ حسن محمد بن حسین نظام الدین میں ہے :
عن ابن عباس ان اسماء اصحاب الکہف یصلح للطلب والھرب واطفاء الحریق تکتب فی خرقہ ویرمی بھافی وسط النار ولبکاء الطفل تکتب و توضع تحت راسہ فی المھد وللحرث تکتب علی القرطاس وترفع علی خشب منصوب فی وسط الزرع و للضربان وللحمی المثلثۃ والصداع
یعنی عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب کہف کے نام تحصیل نفع ودفع ضرراورآگ بجھانے کے واسطے ایك پرچی پر لکھ کر آگ میں ڈال دیں اور بچہ روتا ہو لکھ کر گہوارے میں اس کے سر کے نیچے رکھ دیں اورکھیتی کی حفاظت کے لئے کاغذ پر لکھ کر بیچ کھیت میں ایك لکڑی گاڑ کر اس پر باندہ دیں اور رگیں تپکنے اور باری والے بخار اور دردسر
اور حصول تونگری ووجاہت اور سلاطین کے پاس جانے کے لئے دہنی ران پر باندھیں اور دشواری ولادت کے لئے عورت کی بائیں ران پر نیز حفاظت مال اور دریا کی سواری اور قتل سے نجات کے لئے۔
امام ابن حجرمکی صواعق محرقہ میں نقل فرماتے ہیں : جب امام علی رضا رضی اللہ تعالی عنہ نیشاپور میں تشریف لائے چہرہ مبارك کے سامنے ایك پردہ تھا حافظان حدیث امام ابوذراعہ رازی و امام محمد بن اسلم طوسی اوران کے ساتھ بیشمار طالبان علم وحدیث حاضر خدمت انور ہوئے اور گڑگڑا کر عرض کیا اپنا اجمال مبارك ہمیں دکھائیےے اور اپنے آبائے کرام سے ایك حدیث ہمارے سامنے روایت فرمائیے امام نے سواری روکی اور غلاموں کو حکم فرمایا پردہ ہٹالیں خلق خدا کی آنکھیں جمال مبارك کے دیدار سے ٹھنڈی ہوئیں۔ د و گیسو شانہ مبارك پر لٹك رہے تھے۔ پردہ ہٹتے ہی خلق خدا کی وہ حالت ہوئی کہ کوئی چلاتاہے کوئی روتا ہے کوئی خاك پر لوٹتا ہے کوئی سواری مقدس کا سم چومتا ہے۔ اتنے میں علماء نے آواز دی : خاموش سب لوگ خاموش ہورہے۔ دونوں امام مذکور نے حضور سے کوئی حدیث روایت کرنے کو عرض کی حضور نے فرمایا :
حدثنی ابوموسی الکاظم عن ابیہ جعفر الصادق عن ابیہ محمدن الباقرعن ابیہ زین العابدین عن ابیہ الحسین عن ابیہ علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالی عنھم قال حدثنی حبیبی وقرۃ عینی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال حدثنی جبریل قال سمعت رب العزۃ یقول لا الہ الااﷲ حصنی فمن قال دخل حصنی امن من عذابی ۔
یعنی امام علی رضا امام موسی کاظم وہ امام جعفر صادق وہ امام محمدباقر وہ امام زین العابدین وہ امام حسین وہ علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت فرماتے ہیں کہ میرے پیارے میری آنکھوں کی ٹھنڈك رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مجھ سے حدیث بیان فرمائی کہ ان سےجبریل نے عرض کی کہ میں نے اﷲ عزوجل کو فرماتے سنا کہ لا الہ الااﷲ میراقلعہ ہے تو جس نے اسے کہا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوا میرے عذاب سے امان میں رہا۔
الصواعق المحرقہ الفصل الثالث مطبوعہ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص٢٠٥
لو قرأت ھذاالاسناد علی مجنون لبرئ من جننہ ۔
یہ مبارك سند اگر مجنون پر پڑھوں تو ضرور اسے جنون سے شفا ہو۔
اقول فی الواقع جب اسمائے اصحاب کہف قدست اسرارہم میں وہ برکات ہیں حالانکہ وہ اولیائے عیسویین میں سے ہیں تو اولیاء محمدیین صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین کا کیا کہنا ان کے اسمائے کرام کی برکت کیا شمار میں آسکے۔ اے شخص! تو نہیں جانتا کہ نام کیا ہے۔ مسمی کے انحائے وجود سے ایك نحو ہے۔ امام فخرالدین رازی وغیرہ علماء نے فرمایا کہ وجو دشیئ کی چار صورتیں ہیں : وجود ادعیان میں علم میں تلفظ میں کتابت میں توان دوشق اخیر وجود اسم ہی کو وجود مسمی قرار دیاہے بلکہ کتب عقائد میں لکھتے ہیں : الاسم عین المسمی نام عین مسمی ہے۔ امام رازی نے فرمایا : المشھور عن اصحابنا ان الاسم ھوالمسمی مقصود اتنا ہے کہ نام کا مسمی سے اختصاص کپڑوں کے اختصاص سے زائد ہے اور نام مسمی پر دلدلت تراشہ ناخن کی دلالت سے افزوں ہے تو خالی اسماء ہی ایك اعلی ذریعہ تبرك وتوسل ہوتے نہ کہ اسامی سلاسل علیہ کی اسناد اتصال بمحبوب ذوالجلال وبحضرت عزت وجلال ہیں جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور اﷲ ومحبوب واولیاء کے سلسلہ کرام وکرامت میں انسلاك کی سند تو شجرہ طیبہ سے بڑھ کر اور کیا ذریعہ توسل چاہئے : پھر کفن پر لکھنا کہ ہمارے ائمہ نےجسے جائز فرمایا اور امید گاہ مغفرت بنایا اور بعض شافعیہ کو اس میں خیال تجنیس آیا شجرہ طیبہ میں اس کا خیال بھی لزوم نہیں۔ کیا ضرور کہ کفن ہی میں رکھیں بلکہ قبر میں طاق بناکر خواہ سرہانے کہ نکیرین پائینتی کی طرف سے آتے ہیں ان سے پیش نظر ہو خواہ جانب قبلہ کہ میت کے پیش رو رہے اور اس کے سکون و اطمینان واعانت جواب کا باعث ہو باذنہ تعالی ولہ الحمد۔ شاہ عبدالعزیز صاحب نے بھی رسالہ “ فیض عام “ میں شجرہ قبر میں رکھنے کو معمول بزرگان دین بتاکر سرہانے طاق میں رکھنا پسند کیا۔ یہ امر واسع ہے بلکہ ہماری تحقیق سے واضح ہوا کہ کفن میں رکھنے میں جوکلام فقہاء بتایا گیا وہ متاخرین شافعیہ ہیں ہمارے ائمہ کے طور پریہ بھی رواہے ہاں خروج عن الخلاف کے لئے طاق میں رکھنا زیادہ مناسب و بجا ہے واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جنازہ لے کر چلیں تو سرہانہ آگے کریں یا پائینتی ایك شخص کہتا ہے کہ پائینتی آگے کرنے کاحکم ہے میں نے علمائے دین سے پوچھ لیا ہے۔ اور قبر پر اذان کہنے کو ایك شخص حرام وناجائز کہتا ہے اس میں کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
اس شخص نے محض غلط کہا جنازہ لے کر چلنے میں سرہانے آگے کرنے کا حکم ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے :
فی حالۃ المشی بالجنازۃ یقدم الراس کذافی المضمرات ۔
جنازہ لے کر چلنے میں سر آگے ہوگا ۔ ایسا ہی مضمرات میں ہے۔ (ت)
قبر پراذان دینے کو جس نے حرام کہا محض غلط کہا اگر سچا ہے تو بتائے کہ کس آیت یاحدیث میں اس کو حرام فرمایا ہے اگر نہ بتائے تو ہر گز نہ بتا سکے گاتو خدا اور رسول پر افتراء کرنے کا اقرار کرے۔ حرام وہ ہے جسے خدا اور رسول نے حرام فرمایا اورواجب وہ ہے جسے خدا اور رسول نے واجب کہا حکم دیا لیکن وہ چیزیں جن کا خدا اور رسول نے حکم دیا نہ منع کیا وہ سب جائز ہیں انہیں حرام کہنے والا خدا اوررسول پر افتراء کرتا ہے فقیر کاخاص اس باب میں رسالہ طبع ہوگیا ہے اسے دیکھ کر اس اذان کے فوائد معلوم کریں اس میں پندرہدلیلوں سے اس کی اصل جواز کا ثبوت دیا گیا ہے جومدعی حرمت کا ہے پہلے اس کے حرام ہونے کا آیت وحدیثوں سے ثبوت دے جب نہ دے سکے تو اپنے کذب کا اقرار اور اذان کے جائز ہونے کا اعتراف کرے اس کے بعد جوبیان ہوئے سب ہوجائے گا۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر : ازملك مالوا شہر اندور چھینپہ باکھل مرسلہ اسمعیل قادری احمد آباد والا
یہاں میت ہوگئی تھی اس کے کفنانے کے بعد پھولوں کی چادر ڈالی گئی اس کو ایك پیش امام افغانی نے اتار ڈالا اور کہا یہ بدعت ہے ہم نہ ڈالنے دیں گے دوسرے جوغلاف کا پارچہ سیاہ کعبہ شریف سے لاتے ہیں وہ ٹکڑا ڈالا ہواتھا اس ہٹادیا اور کہا یہ روافض کا رواج ہے ہم نہ ڈالیں گے اسے الگ ہٹا کے اس نے نماز جنازہ پڑھائی۔
الجواب :
پھولوں کی چادر بالائے کفن ڈالنے میں شرعا اصلا حرج نہیں بلکہ نیت حسن سے حسن ہے جیسے قبور پر
ضع الورد والریاحین علی القبورحسن ۔
قبروں پر گلاب اور پھولوں کا رکھنا اچھا ہے۔ (ت)
فتاوی امام قاضی خان و امداد الفتاح شرح المصنف لمراقی الفلاح و ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے :
انہ مادام رطبایسبح فیؤنس المیت وتنزل بذکرہ الرحمۃ ۔
پھول جب تك تر رہے تسبیح کرتا رہتا ہے جس سے میت کوانس حاصل ہوتا ہے اور اس کے ذکر سے رحمت نازل ہوتی ہے۔ (ت)
یونہی تبرك کے لئے غلاف کعبہ معظمہ کا قلیل ٹکڑا سینے یا چہرے پر رکھنا بلا شبہہ جائز ہے اوراسے رواج روافض بتانا محض جھوٹ ہے۔ اسدالغابہ وغیرہا میں ہے :
لما حضرہ الموت اوصی ان یکفن فی قمیص کان علیہ افضل الصلوۃ والسلام کساہ ایاہ وان جعل ممایلی جسدہ وکان عندہ قلامۃ اظفارہ علیہ افضل الصلوۃ والسلام فاوصی ان تسحق وتجعل فی عینیہ وفمہ وقال افعلوا ذلك وخلوبینی وبین ارحم الراحمین ۔
جب حضرت امیر معاویہ کا آخری وقت آیا وصیت فرمائی کہ انہیں اس قمیص میں کفن دیا جائے جونبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں عطافرمائی تھی اوریہ ان کے جسم سے متصل رکھی جائے ان کے پاس حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ناخن پاك کے کچھ تراشے بھی تھے ان کے متعلق وصیت فرمائی کہ باریك کرکے ان کی آنکھوں اوردہن پر رکھ دئے جائیں۔ فرمایا کہ یہ کام انجام دینا اور مجھے ارحم الراحمین کے سپرد کردینا(ت)۔
مسئلہ نمبر : از سورت اسٹیشن سائن موضع کٹھور مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب جمادی الاولی ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں یہاں رواج ہے کہ شخص میت کو بعد تغسیل وتکفین کے جنازے
ردالمحتار مطلب فی وضع الجدید ونحو الآس علی القبور مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ١ / ٦٠٦
اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ باب المیم ولعین مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الحاج ریاض الشیخ ٤ / ٣٨٧
الجواب
جنازہ زنان پر چھتری یا گہوارہ بنا کر غلاف وپردہ ڈالنا مستحب وماثور ہے ایسا ہی چاہئے اور جنازہ مرداں میں نہ اس کی حاجت نہ سلف سے عادت ۔ ہاں بارش یا دھوپ وغیرہ کی شدت سے بچانے کو بنائیں تو کچھ حرج نہیں فی کشف الغطاء (کشف الغطاء میں ہے) :
اولی آنست کہ پوشیدہ شود جنازہ زنان را ومستحسن داشتہ اند گرفتن صندوق رابرائے وے نہ بروئے مرد۔ مگر آن کہ ضرورتے داعی باشد چون خوف باران وبرف وشدت گرماونحوآن ۔
عورتوں کے جنازہ کو چھپادینا بہتر ہے اور اس کے لئے صندوق بنانا علماء نے مستحسن قرار دیا ہے مرد کے لئے نہیں مگر یہ کوئی ضرورت داعی ہو بارش اور برف کا اندیشہ ہو یا سخت گرمی وغیرہ ہو۔ (ت)
اور دوشالہ وغیرہ بیش بہا کپڑے ڈالنے سے اگر ریاء وتفاخر ہو تو وہ حرام ہے نہ کہ خاص معاملہ میت واولین منازل آخرت میں اوراگر زینت مراد ہو تو وہ بھی مکروہ۔
فی الشامیہ عن الطحطاویۃ ویکرہ فیہ کل ماکان للزینۃ ۔
شامی میں طحطاوی کے حوالے سے ہےـ : اس میں وہ سب مکروہ ہے جو زینت کے لئے ہو۔ (ت)
ہاں تصدق منظور ہو تو بے شك محمود۔ مگر تصدق کچھ اس طرح اس پر موقوف نہیں کہ جنازہ پر ڈال ہی کر دیں۔ یونہی پھولوں کی چادر بہ نیت زینت مکروہ اور اگر اس قصد سے ہو کہ وہ بحکم احادیث خفیف الحل وطیب الرائحہ ومسبح خداومونس میت ہے تو حرج نہیں۔
کما فی القبور ففی الھندیۃ وغیرھا وضع الورد والریاحین علی القبور حسن الخ واﷲتعالی اعلم۔
جیسے قبروں میں کہ ہندیہ وغیرہا میں ہے : قبروں پر گلاب وغیرہ کے پھول رکھنا اچھا ہے الخ واﷲ تعالی اعلم (ت)
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ١ / ٥٧٨
فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر زیارۃ القبور مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ٣٥١
تما م لوگ بوجہ رسم کے بالوجہ اس امر کے ملا صاحب فرماتے ہیں ہم نہیں آئیں گے ریشمی کپڑا یارنگ برنگ کی چادریں میت پر ڈالتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے تو کہتے ہیں تم لوگ ہم پر حسد کرتے ہو مجبورا ڈلوانا کہاں تك جائز ہے
الجواب :
جبر حرام ہے اور بخوشی بھی نہ ہو اگر ملا فقیر نہیں یعنی چھپن روپے کے مال کا مالك ہے جو قرض وغیرہ میں مشغول نہیں نیز ایك رسم بے ثبوت کا ایسا التزام نہ چاہئے جبر کرنے والا ملا نہیں گھٹیا ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر۲۰ : ازدلگیر گنج پرگنہ جہاں آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ خلیفہ الہی بخش رجب ھ
اگر عورت مر جائے تو شوہر اس کے جنازے کو ہاتھ لگائے یا نہیں
الجواب :
جنازے کو محض اجنبی ہاتھ لگاتے کندھوں پر اٹھاتے قبر تك لے جاتے ہیں شوہر نے کیا قصور کیا ہے۔ یہ مسئلہ جاہلوں میں محض غلط مشہور ہے۔ ہاں شوہر کو اپنی زن مردہ کا بدن چھونا جائز نہیں دیکھنے کی اجازت ہے کمانص علیہ فی التنویر والدروغیرھما(جیسا کہ تنویرا لابصار اور درمختار وغیرہما میں اسکی تصریح ہے۔ ت)اجنبی کو دیکھنے کی بھی اجازت نہیں۔ محارم کو پیٹ پیٹھ اور ناف سے زانوتك کے سوا چھونے کی بھی اجازت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر۲۱ : زوجہ کا جنازہ شوہر کو چھونا کیسا ہے چھونا چاہئے یا نہیں شوہر کا اپنی زوجہ کا منہ قبر میں رکھنے کے بعددیکھنا کیسا ہے چاہئے یا نہیں
الجواب :
شوہر کو بعد انتقال زوجہ قبر میں خواہ بیرون قبر اس کا منہ یا بدن دیکھنا جائز ہے قبر میں اتارنا جائز ہے اور جنازہ تو محض اجنبی تك اٹھاتے ہیں ہاں بغیر حائل کے اس کے بدن کو ہاتھ لگانا شوہر کو ناجائز ہوتا ہے۔ زوجہ کو جب تك عدت میں رہے شوہر مردہ کا بدن چھونا بلکہ اسے غسل دینا بھی جائز رہتا ہے۔ یہ مسئلہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۲۲ : ۶ ربیع الثانی ھ
ہندوستان کے لوگوں کا دستور ہے کہ جب عورت کی حالت نزع ہوتی ہے تب اس کے شوہر کو اس کے پاس نہیں جانے دیتے اور اس کا شوہر حالت نزع میں اس کے پاس نہیں جاتا اس عورت کی تکفین وتدفین
الجواب :
جب تك جسم زن میں روح باقی ہے اگرچہ حالت نزع ہو بلاشبہ اس کی زوجہ ہے اور اس وقت شوہر کو پاس نہ آنے دینا ظلم ہے اور اسی وقت سےرشتہ منقطع سمجھ لینا سخت جہل اور بعد موت زن بھی شوہر کو دیکھنے کی اجازت ہے البتہ ہاتھ لگانا منع ہے کمانص علیہ فی التنویر والدروغیرھما(جیساکہ تنویر الابصار اوردرمختار وغیرہما میں اس کی تصریح ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۲۳ : ازپنجاب ضلع جہلم ڈاکخانہ وریلوے اسٹیشن ترقی موضع غازی ناڑہ مرسلہ محمد مجید الحسن صاحب۔ ۵ ذی القعدہ ھ
مشہور خدمت جناب صاحب حجت قاہرہ مجدد ماتہ حاضرہ مولنا مولوی احمد رضاخان صاحب دام ظلکم علی راس المستر شدین بعد سلام سنتہ الاسلام عرض ہے کہ اس ملك میں جنازہ کے آگے مولود خوانی میں اختلاف اور جھگڑا ہے ایك طائفہ بحرالرائق ومراقی الفلاح و قاضی خان و عالمگیری وغیرہا کی عبارات سے مکروہ تحریمی کہتے ہیں اوردوسری جماعت جائز و مستحب کہتی ہے آپ کی تحریر پر جملہ مسلمانوں کا فیصلہ ہے کئی ماہ کے تنازع کا فیصلہ ہوگا۔ عبارات فریق قائل کراہت ۔ ردالمحتار :
قیل تحریما وقیل تنزیھا کمافی البحرعن الغایۃ وفیہ عنھا وینبغی لمن تبع الجنازۃ ان یطیل الصمت وفیہ عن الظھیریۃ فان ارادان یذکر اﷲتعالی یذکرفی نفسہ لقولہ تعالی انہ لایحب المعتدین ای الجاھرین بالدعاء قلت اذاکان ھذافی الدعاء والذکر فماظنك بالغناء الحادث فی ھذاالزمان ۔
کہا گیا کہ مکروہ تحریمی ہے اور کہاگیا کہ تنزیہی جیساکہ بحر میں غایہ سے منقول ہے اور اس میں اسی سے یہ بھی ہے : جنازہ کے پیچھے چلنے والے کو برابر سکوت رکھنا چاہئے اور اسی میں ظہیریہ سے ہے : اگر اﷲ تعالی کا ذکر کرنا چاہے تو دل میں کرے اس لئے کہ باری تعالی کا ارشاد ہے : وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا--یعنی دعامیں جہر کرنے والوں کو-- میں کہتاہوں یہ جب دعاوذکر کا حکم ہے تواس نغمہ اور گانے کا کیا حال ہوگا جواس زمانے
کی پیداوار ہے--البحرالرائق میں ہے جنازہ کے پیچھے چلنے والے کو طول سکوت اختیار کرنا چاہئے اور بلند آواز سے ذکر وتلاوت قرآن مکروہ ہے الخ(ت)
عبارت فریق قائل بحلت
عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہما لم یکن یسمع من رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم وھو یمشی خلف الجنازۃ الاقول لا الہ الااﷲ اخرجہ ابن عدی فی ترجمۃ ف براہیم بن ابی حمید وضعفہ تخریج احادیث الھدایۃ لابن حجر ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے : جب رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جنازہ کے پیچھے چلتے تو حضورسے کلمہ لا الہ الااﷲ کے سوا کچھ نہ سنا جاتا --ابن عدی نے ابراہیم بن ابی حمید کے حالات میں اس کی تخریج کی ہے اور اسے ضعیف کہا ہے ۔ تخریج احادیث ہدایہ ازعلامہ ابن حجر (ت)
یعنی اس سے ادنی جہر ثابت ہوتا ہے وغیرہ ۔ بینواتوجروا
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ہاں کتب حنفیہ میں جنازے کے ساتھ ذکر جہر کومکروہ لکھا ہے جس طرح خود نفس ذکر جہر کو بکثرت کتب حنفیہ میں مکروہ بتایا حالانکہ وہ اطلاعات قرآن عظیم واحادیث حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے اور عندالتحقیق کراہت کا عروض نظر بعوارض خارجہ غیر لازمہ ہے جیسا کہ علامہ خیرالدین رملی استاد صاحب درمختار وغیرہ محققین نے تحقیق فرمایا اور ہم نے اپنے فتوی میں اسے منقح کیا یہاں بھی اس کا منشاء عوارض ہی ہیں قلب ہمراہیاں کا مشوش ہونا یادموت سے دوسری طرف توجہ کرنا انصاف کیجئے تو یہ حکم اس زمان خیر کے لئے تھا جبکہ ہمراہیان جنازہ تصور موت میں ایسے غرق ہوتے تھے کہ گویا میت ان میں ہر ایك کا خاص اپنا کوئی جگر پارہ ہے بلکہ گویا خود ہی میت ہیں ہمیں کو جنازہ پر لئے جاتے ہیں اور اب
الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ ابراہیم بن احمد کے تحت مطبوعہ دارالفکر بیروت ١ / ٢٦٩ ، صحیح بخاری کتاب الحیض مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٤٤
ف : ھو ابراھیم بن احمد الحرانی الضریر ، انظر حاشیۃ نصب الرایۃ ۲ / ۲۹۲ ، ابراھیم الحرانی ھوابن ابی حمید متہم بوضع الحدیث ، انظر اللسان ١ / ٢٨ نذیر احمد سعیدی
کان رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم یذکراﷲتعالی علی کل احیانہ ۔ رواہ مسلم وابو داؤد والترمذی وابن ماجۃ وعلقہ البخاری۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہر وقت خدا کا ذکر کیا کرتے۔ اسےمسلم احمد ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ نے روایت کیا اور بخاری نے تعلیقا روایت کیا۔ (ت)
نہ کوئی چیز اس سے بہتر قال اﷲ عزوجل و لذكر الله اكبر- (اﷲ عزوجل نے فرمایا اور اﷲ کاذکر سب سے بڑا ۔ ت) اب کہ زمانہ منقلب ہوا لوگ جنازہ کے ساتھ اور دفن کے وقت اور قبروں پر بیٹھ کر لغویات وفضولیات اور دنیوی تذکروں بلکہ خندہ ولہو میں مشغول ہوتے ہیں توانہیں ذکرخدا و رسول جل وعلا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف مشغول کرنا عین صواب وکار ثواب ہے معہذا جنازہ کے ساتھ ذکر جہر کی کراہت میں اختلاف ہے کہ تحریمی ہے یا تنزیہی ہے اور ترجیح بھی مختلف آئی۔ قنیہ میں کراہت تنزیہ کو ترجیح دی اور اسی پر فتاوی تتمہ میں جزم فرمایا اور یہی تجرید و مجتبی و حاوی و بحرالرائق وغیرہا کے لفظ ینبغی کامفاد ہے اور ترك ادنی اصلا گناہ نہیں کما نصو اعلیہ وحققناہ فی جمل مجلیۃ (جیسا کہ علماء نے اس کی صراحت فرمائی اور ہم نے رسالے جمل مجلیۃ ان المکروہ تنزیھا لیس بمعصیۃ ھ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) اور عوام کواﷲ عزوجل کے ایسے ذکر سے منع کرنا جو شرعا گناہ نہ ہو محض بدخواہی عام مسلمین ہے اور اس کا مرتکب نہ ہوگا مگر متقشف کہ مقاصد شرع سے جاہل وناواقف ہو یا متصلف کہ مسلمانوں میں اختلاف ڈال کر اپنی رفعت وشہرت چاہتا ہو بلکہ ائمہ ناصحین تو یہاں تك فرماتے ہیں کہ منع کرنا اس منکر سے ضرور ہے جو بالاجماع حرام ہو بلکہ تصریحیں فرمائیں کہ عوام اگر کسی طرح یادخدا میں مشغول ہوں ہرگز منع نہ کئے جائیں اگرچہ وہ طریقہ اپنے مذہب میں حرام ہو مثلا سورج نکلتے وقت نماز حرام ہے اور عوام پڑھتے ہوں تو نہ روکے جائیں کہ کسی طرح وہ خدا کا نام تو لیں اسے سجدہ تو کریں اگر چہ کسی دوسرے مذہب پر اس کی صحت ہوسکے امام علامہ
القرآن ۲۹ / ۴۵
قال فی شرح الطحطاوی علی مشیع الجنازۃ الصمت وعبرفی المجتبی والتجدید والحاوی ینبغی ان یطیل الصمت وسنن المرسلین الصمت معھاکذافی منیۃ المفتی ویکرہ لھم رفع الصوت کراھۃ تحریم وقیل تنزیہ قنیۃ وھویکرہ علی معنی انہ تارك الاولی کماعزاہ فی التتمۃ الی والدہ وفی شرح شرعۃ الاسلام المسمی بجامع الشروح یستکثرمن التسبیح والتھلیل علی سبیل الاخفاء خلف الجنازۃ ولایتکلم بشیئ من امرالدنیا لکن بعض المشائخ جوزوا الذکر الجھری ورفع الصوت بالتعظیم بغیر التغییر بادخال حرف فی خلالہ قدام الجنازۃ وخلفھا لتلقین المیت والاموات والاحیاء وتنبیہ الغفلۃ والظلمۃ و ازالۃ صداء القلوب وقساوتھا یجب الدنیا وریاستھا وفی کتاب العھود المحمدیۃ للشیخ الشعرانی قدس اﷲ تعالی سرہ ینبغی لعالم الحارہ ان یعلم من یرید المشی مع الجنازۃ عدام اللغو فیھا وذکر من تولی وعزل عن
شرح طحطاوی میں ہے : جنازہ کے ساتھ چلنے والے پر خاموشی لازم ہے--مجتبی تجرید اور حاوی کے الفاظ یہ ہیں کہ : اسے طول سکونت اختیار کرنا چاہئے حضرت رسل علیہم السلام کی سنت یہی ہے کہ جنازہ کے ساتھ خاموش رہیں۔ اسی طرح منیۃ المفتی میں ہے--لوگوں کا آواز بلند کرنا مکروہ تحریمی ہے اور کہا گیا کہ تنزیہی ہے مبتغی--کراہت تنزیہ ہے اور کہا گیا کہ کراہت تحریم ہے قنیہ --آواز بلند کرنا مکروہ ہے یعنی ترك اولی ہے جیسا کہ تتمہ میں اسے اپنے والد کے حوالے سے ذکر کیا۔ اورشرعۃ الاسلام کی جامع الشروح نامی شرح میں یہ ہے کہ : جنازہ کے پیچھے سری طور پر زیادہ سے زیادہ تسبیح وتہلیل کرے کوئی دنیاوی بات نہ بولے لیکن بعض مشائخ نے جہری ذکر کو بھی جائز کہا ہے اس طرح کہ درمیان میں کوئی بات ڈالے بغیر جنازہ کے آگے اور پیچھے تعظیم کے ساتھ بآواز بلند ذکر کریں تاکہ میت اور دوسرے زنداں کو تلقین ہو غافلوں ظالموں کو تنبیہ ہو دنیا کی محبت وریاست سے دلوں میں جو زنگ اور درشتی ہے وہ دور ہو--علامہ شعرانی قدس سرہ کی کتاب العہود المحمدیہ میں ہے کہ عالم محلہ کو چاہئے کہ جولوگ جنازہ کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں انہیں تعلیم دے کر لغو سے پرہیز کریں اس طرح کی باتوں میں نہ پڑیں کہ فلاں حکمران بنا فلاں والی
معزول ہوا فلاں تاجر سفر میں گیا فلاں واپس آیا۔ سلف صالحین کی روش یہ تھی کہ جنازہ میں کچھ نہ بولتے مگر وہ جو حدیث میں وارد ہے۔ سارے حاضرین پر حزن وغم کا ایك ایساغلبہ رہتا کہ اجنبی اور پردیسی شخص کو جب تك بتایا نہ جائے یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ میت کا قریبی کون ہے--سیدی علی خواص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب جنازہ کے ساتھ چلنے والوں کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ لغو سے باز نہ آئیں گے اوردنیا کی باتوں میں مشغول رہیں گے تو انہیں لاالہ الااﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پڑھنے کا حکم دینا چاہئے کیونکہ ایسی حالت میں اسے پڑھنا نہ پڑھنے سے افضل ہے۔ اور کسی فقیہ کو بغیرنص اجماع کے اس سے انکار مناسب نہیں-- اس لئے کہ مسلمانوں کے لئے شارع کی جانب سے وہ جب بھی چاہیں لا الہ الااﷲ محمدرسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پڑھنے کو باطل کہہ کے حکام کے یہاں مال حاصل کرنا چاہتاہو دوسری طرف یہ حال ہوکہ بھنگ بکتی دیکھے تو بھنگ فروش سے یہ کہنے کی زحمت گوارا نہ ہو یہ تجھ پر حرام ہے-- بلکہ اس طبقے کے فقیہ کو میں نے دیکھا کہ وہ بھنگ فروش کے مال سے اپنی امامت کی تنخواہ وصول کرتا --تو خداہی سے عافیت کا
سوال ہے۔ علامہ شعرانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنی دینی کتاب عہود المشائخ میں فرمایاکہ اپنے ہم دوستوں میں سے کسی کو ایسے امر پر نکیر کی اجازت نہ دیں گے جسے مسلمانوں نے اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں تقرب کے طور پر ایجاد کیا ہو اور اسے اچھا جانتے ہوں۔ خصوصا ایساکام جسکا تعلق خداتعالی اور اسکے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جیسے جنازہ کے آگے لاالہ الااﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پڑھنا اورا س کے سامنے قرآن کی تلاوت کرنا یا ایسے دوسرے کام--جواسے حرام کہے وہ فہم شریعت سے قاصر ہے اس لئے کہ ہر وہ کام جو عہد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں نہ رہا ہو برا نہیں اگر یہ دروازہ کھولا جائے تو مجتہدین کرام کے وہ سارے اقوال مردود ٹھہریں جو انہوں نے اپنی پسند کردہ اچھی چیزں کے بارے میں فرمائے ہیں--اور اس کا کوئی قائل نہیں--خودرسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنی امت کے علماء کے لئے یہ دروازہ کھول رکھا ہے اور انہیں اجازت دی ہے کہ جو طریقہ بھی اچھا سمجھیں اسے جاری کریں اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شریعت میں شامل کریں یہ اجازت رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی سے ثابت ہے : جوشخص کوئی اچھا کام ایجاد کرے اسے اس ایجاد کا ثواب ملے گا اور اس طریقے پر ائندہ سارے عمل کرنے والوں کا بھی ثواب ملے گا--
کلمہ لاالہ الاﷲ محمدرسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تو سب سے بڑی نیکی ہے پھر اس سے کیوں کر روکا جائےگا-- اس زمانے میں جنازے کے اندر اکثر لوگوں کےاحوال پر نظر کرو دنیاکی باتوں میں مشغول ملیں گے جنہیں میت کےحال سے کوئی عبرت نہیں ان کا دل اس سارے واقعے سے غافل ہے بلکہ ان میں ہسنے والے بھی نظر آئیں گے--ذکر نہ کریں تو یہ حالت اور ذکر میں مشغول ہوں تو یہ اعتراض ہے کہ یہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں نہ تھا۔ ہمارے نزدیك جب ایسا تعارض درپیش ہے تو ہم اﷲ کے ذکر کو مقدم رکھیں گے--اب اگر سارے شرکاء جنازہ پکار کر لاالہ الاﷲ کہیں تو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس سے ممانعت میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا کوئی ارشاد وارد نہیں۔ اگر جنازے میں ذکر الہی ممنوع ہوتا تو کسی نہ کسی حدیث میں تو یہ حکم وارد ہوتا جیسے رکوع میں قرآن شریف پڑھنا ممنوع ہے تو اس بارے میں حدیث آئی ہے۔ تو جس چیز سے ابتدائے اسلام میں شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے سکونت فرمایا وہ ہمارے آخر زمانے میں ممنوع نہیں ہوسکتی اھ باختصار قلیل(ت)
اس کلام جمیل امام جلیل رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ کا خلاصہ ارشادات چند افادات :
(۱) سلف صالح کی حالت نماز جنازہ میں یہ ہوتی کہ ناواقف کو نہ معلوم ہوتا کہ ان میں اہل میت کون ہے۔ اور باقی ہمراہ کون سب ایك سے مغموم و محزون نظر آتے ہیں اور اب حال یہ ہے کہ جنازے میں دنیاوی باتوں
(۲) نیز اس میت کو تلقین ذکر کافائدہ ہے کہ وہ سن سن کر سوالات نکیرین کے جواب کے لئے تیار ہو۔
() سیدی علی خواص رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا شارع علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف مسلمانوں کو ذکر خدا ا ور رسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کااذن عام ہے تو جب تك کسی خاص صورت کی ممانعت میں کوئی نص یا اجماع نہ ہو انکار کیا مناسب ہے
(۴) نیز انہی امام عارف نے فرمایا : الہی جو اس سے منع کرے اس کا دل کس قدر دسخت اندھا ہے جنازے کے ساتھ ذکر خدا و رسول جل جلا لہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بندکرنے کی تو یہ کوشش اور بھنگ بکتی دیکھیں تو اس سے اتنا نہ کہیں کہ یہ تجھ پر حرام ہے فرماتے ہیں بلکہ میں نے انہی میں ایك کو دیکھا کہ اس سے تو منع کرتا اور خود اپنی پیش نمازی کی تنخواہ بھنگ فروش کے حرام مال سے لیتا۔
() امام عارف باﷲ سیدی شعرانی قدس سرہ الربانی فرماتے ہیں : اکابرکرام کے یہاں عہد ہے جو اچھی بات مسلمانوں نے نئی نکالی ہو اسے منع نہ کریں گے خصوصا جب وہ اﷲ و رسول عزجلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے تعلق رکھتی ہو جیسے جنازے کے ساتھ قرآن مجید یا کلمہ شریف یااور ذکر خداورسول جل وعلا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
(۶) نیز امام ممدوح فرماتے ہیں : جو اسے ناجائز کہے اسے شریعت کی سمجھ نہیں۔
() نیز فرماتے ہیں : ہر وہ بات کہ زمان برکت تو اماں حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں نہ تھی مذموم نہیں ہوتی ورنہ اس کا دروازہ کھلے تو ائمہ مجتہدین نے جتنی نیك باتیں نکالیں ان کے وہ سب اقوال مردود ہوجائیں۔
(۸) فرماتے ہیں : بلکہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے اس ارشاد سے کہ (جو شخص دین اسلام میں نیك بات نکالے اسے اس کا اجر ملے اور قیامت تك جتنے لوگ اس نیك بات کو بجا لائیں سب کا ثواب اس کی ایجاد کنندہ کے نامہ اعمال میں لکھا جائے) علمائے امت کے لئے اس کا دروازہ کھول دیا ہے کہ نیك طریقے ایجاد کریں اور انہیں شریعت محمدیہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ملحق کریں یعنی جب حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ عام اجازت فرمائی ہے جو نیك نئی بات نئی پیدا ہوگئی وہ نئی
() فرماتے ہیں کہ شرح مطہر میں اس سے ممانعت نہ آنا ہی اس کے جواز کی دلیل ہے۔ اگر جنازے کے ساتھ ذکر الہی منع ہوتا تو کم از کم ایك حدیث تو اس کی ممانعت میں آتی جیسے رکوع میں قرآن مجید پڑھنا منع ہے تو اسکی ممانعت کی حدیث موجود ہے تو جس چیز سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے سکوت فرمایا وہ کبھی ہمارے زمانے میں منع نہیں ہوسکتی۔
() نتیجہ یہ نکلا کہ اگر جنازے کے تمام ہمراہی بلند آواز سے کلمہ طیبہ وغیرہا ذکر خدا و رسول عزو علا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کرتے چلیں تو کچھ اعتراض نہیں بلکہ اس کا کرنا نہ کرنے سے افضل ہے۔ نیز امام نابلسی ممدوح کتاب مذکور میں فرماتے ہیں :
لاینبغی ان ینھی الواعظ عما قال بہ امام ائمۃ المسلمین بل ینبغی ان یقع النھی عمااجمع الائمۃ کلھم علی تحریم ۔
یہ نہ چایئے کہ واعظ ایسی چیز سے روکے جسے ائمہ مسلمین میں سے کسی امام نے جائز کہا ہو بلکہ ممانعت ایسے کام سے ہونا چاہئے جس کی حرمت پر سب ائمہ کا اجماع ہو۔ (ت)
درمختار میں ہے :
تحریما صلوۃ مع شروق الاالعوام فلا یمنعون من فعلھا لانہم یترکونھا والاداء الجائز عندالبعض اولی من الترك کما فی القنیۃ وغیرھا ۔ اھ
قلت ونقلہ سیدی عبدالغنی فی الحدیقۃ عن شرح الدرر لابیہ عن المصفی شرح النسفیۃ عن الشیخ الامام الاستاذ حمدالدین عن شیخہ الامام الاجل جمال الدین
سورج نکلتے وقت نماز مکروہ تحریمی ہے مگر عوام کوا س سے منع نہ کیا جائےگا اس لئے کہ وہ نماز ہی ترك کردیں گے--جبکہ ترك سے وہ ادائیگی بہتر ہے جو بعض کے نزدیك جائز ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہا میں ہے اھ۔
میں کہتا ہوں اسے سیدی عبدالغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ میں اپنے والد کی شرح درر سے نقل کیا ہے اس میں نسفیہ کی شرح مصفی سے۔ اس میں شیخ امام استاذ حمیدالدین نقل ہے۔ انہوں نے اپنے شیخ امام اجل جمال الدین محبوبی سے
دُرمختار کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٦١
وفی الحدیقۃ الندیۃ ومن ھذا القبیل نھی الناس عن صلوۃ الرغائب بالجماعۃ وصلوۃ لیلۃ القدر و نحو ذلك وان صرح العلماء بالکراھۃ بالجماعۃ فیہا فلا یفتی بذلك العوام لئلا تقل رغبتھم فی الخیرات واﷲ تعالی اعلم۔
نقل کیا ہے۔ اورشمس الائمہ حلوانی سے اور قنیہ سے اس میں نسفی وحلوانی سے بھی نقل کیا ہے--اورردالمحتار میں بحر سے اس میں مجتبی سے اس میں امام فقیہ ابوجعفر سے عشرہ ذی الحجہ میں بازاروں کے اندر تکبیر کہنے کے مسئلہ میں نقل ہے کہ میرے نزدیك یہ ہے کہ عوام کوا س سے نہ روکا جائے کہ اس کی وجہ سے نیکیوں میں ان کی رغبت کم ہو جائے گی اورہم اسی کو لیتے ہیں اھ --حدیقہ میں ہے : اسی قبیل سے جماعت کے ساتھ صلوۃ الرغائب اور نماز شب قدر اور اس جیسے افعال سے نہی کا معاملہ ہے کہ اگرچہ علماء نے جماعت کے ساتھ یہ نماز مکروہ ہونے کی صراحت فرمائی ہے مگر عوام کو اس کا فتوی نہ دیا جائے گا کہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہوجائے---اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ نمبر : ازاحمدا بادگجرات محلہ جمال پور مرسلہ مولوی حکیم عبدالرحیم ۲۵ رمضان المبارك ۱۳۳۹ ھ
ہمارے یہاں شہر احمد آباد میں جنازہ کے ہمراہ کلمہ طیب کا ذکر احباب اہلسنت درمیانی آواز سے کرتے ہیں اسے بعض مکرو تحریمی و تنزیہی کہتے ہیں ان کی تردید میں علمائے اہلسنت نے چار رسالے تصنیف کرکے شائع کئے ہیں اور وہ اہل حق کے پاس موجود ہیں الحمدﷲ علی ذلک اب ضرورت اس مسئلہ کی اہلسنت کو ہے حضرت خواجہ بہاءالدین نقشبند قدس سرہ العزیز نے اپنے جنازہ میں فارسی کے اشعار اور حضرت شاہ غلام علی صاحب دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنے جنازہ میں عربی اشعار پڑھنے کی مریدوں کو وصیت کی--- مقامات مظہریہ ص میں ہے :
می فرمودند کہ حضرت خواجہ بہاءالدین نقشبند رحمۃ اﷲ علیہ
فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ تعالی علیہ
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ الخلق الثامن والاربعون مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢ / ١٥٠
() مفلسا نیم آمدہ در کوئےتو
شیئاﷲ ازجمال روئے تو
(۲) دست بکشا جانب زنبیل ما
آفرین بردست و بر پہلوئے تو
من ہم میگویم پیش جنازہ من ہمیں اشعار بخدانند :
(۱) وقدت علی الکریم بغیر زاد
من حسنات والقلب السلیم
(۲) فحملی الزاداقبح کل شیئ
اذاکان الوفود علی الکریم
نے فرمایا : ہمارے جنازہ کےسامنے فاتحہ کلمہ طیب اورآیت شریفہ پڑھنا بے ادبی ہے یہ دو شعر پڑھنا :
(۱) ہم مفلس آپ کی گلی میں آئے ہیں خداکے لئے اپنے جمال رخ کا کچھ صدقہ عطا ہو۔
(۲) ہماری جھولی کی طرف ہاتھ بڑھائیں آپ کے ہاتھ اور آپ کے پہلو پر آفرین ہو۔
میں بھی کہتاہوں میرے جنازہ کے سامنے یہی اشعار پڑھنا :
() کریم کے دربار میں قلب سلیم اور نیکیوں کا کوئی توشہ لئے بغیر جارہا ہوں۔
() کہ جب کسی کریم کے دربار میں حاضری ہو تو توشہ لے کر جانا بہت بری بات ہے۔ (ت)
حضرت شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ العزیز مولانا خالد کردی کے مرشد برحق ہیں ضمیمہ مقامات مظہریہ کے ص میں مولانا خالد کردی اپنے قصیدہ میں فرماتے ہیں :
(۱) وانالنی اعلی المارب والمعنی اعنی لقاء المرشد المفضال
(۲) من نور الآفاق بعد ظلامھا وھدی جمیع الخلق بعدضلال
() اعنی غلام علی القرم الذی من لحظہ یحیی الرمیم البالی
(۱) مجھے سب سے بلند مقصد وآزرو عطافرمائی۔ یعنی بڑے فضل وکرم والے مرشد کی صحبت نصیب کی۔
(۲) وہ جس نے تاریك آفاق روشن کردئے اور ساری گمراہ مخلوق کو ہدایت فرمائی۔
() یعنی وہ سردار عظیم غلام علی جس کی نظر سے بوسیدہ ہڈیوں میں جان پڑجاتی ہے۔
اور یہ مولانا خالد کروی علامہ شامی کے مرشد ہیں اس کا ثبوت ردالمحتار جلد صفحہ کی اس عبارت سے ہے :
ضمیمہ مقاماتِ مظہریہ
اور ہم نے اپنے رسالہ “ سل الحسام الہندی لنصرۃ سیدنا خالد النقشبندی ــ “ میں تفصیل سے کلام کیا ہے۔ (ت)
علامہ شامی کے دادا مرشد کے جنازہ میں عربی اشعار اور حضرت خواجہ بہاءالدین نقشبند رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے جنازہ میں فارسی اشعار پڑھے گئے ان اشعار کا پڑھنا جائز ہے یا نہیں جائز ہے تو دلائل کیا ہیں جو مکروہ تحریمی کہتے ہیں وہ علامہ شامی کی ردالمحتار ج ص کے اس قول کو پیش کرتے ہیں :
(قولہ کماکرہ الخ) قیل تحریما وقیل تنزیھا کما فی البحرعن الغایۃ وفیہ عنہا و ینبغی لمن تبع الجنازۃ ان یطیل الصمت وفیہ عن الظہیریۃ فان ارادان یذکراﷲتعالی یذکرہ فی نفسہ لقولہ تعالی انہ لایحب المعتدین ای الجاھرین بالدعاء وعن ابراہیم انہ کان یکرہ اذیقول الرجل وھویمشی معھا استغفروالہ غفراﷲلکم اھ قلت واذاکان ھذافی الدعاء والذکر فماظنك بالغناء الحدث فی ھذا الزمان ۔
(جیسا کہ مکروہ ہے) کہا گیا تحریمی اور کہا گیا تنزیہی جیسا کہ بحر میں غایہ کے حوالے سے ہے اوراسی میں اس کے حوالے سے یہ بھی ہے : جنازہ کے ساتھ چلنے والے کو طول سکوت اختیار کرنا چاہئے اور اس میں ظہیریہ کے حوالے سے ہے۔ اگر اﷲ کا ذکر کرنا چاہے تو اہستہ کرے اس لئے کہ ارشاد باری ہے : بے شك وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ یعنی وہ جو بلند آواز سے دعا کرتے ہیں--حضرت ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ جب وہ جنازے کے ساتھ چلتے اور کوئی بولتا “ اس کےلئے استغفار کر و خداتمہاری مغفرت فرمائے “ توا نہیں ناگوار ہوتا اھ میں کہتاہوں جب دعا وذکر کا یہ حکم ہے تو اس نغمہ زنی کے بارے میں تمہارا کیاخیال ہے جو اس زمانے میں پیدا ہوگئی ہے۔ (ت)
اس عبارت سے حضرت شاہ غلام علی وخواجہ بہاءالدین قدس سرہما نے جو فارسی و عربی کے اشعار اپنے جنازوں میں پڑھوائے ان کی کراہت ثابت ہوتی ہے یا نہیں اور عدم کراہت و جواز ان اشعارکی کیا وجہ ہے اور غناء حادثات کی کراہت کی کیا وجہ ہے دونوں کا حکم بیان فرمائیں اور یہاں جنازہ کے ہمراہ یہ اشعار اردو کے بھی حضرات خوش الحانی سے پڑھتے ہیں اس اشعار کو
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ١ / ٥٩٨
یا پنجتن بچانا جب جان تن سے نکلے نکلے تو یامحمد کہہ کر بدن سے نکلے
آوے گا میرا پیارا باجےگی دھن کی مرلی جب وہ مرا سنوریاجوبن کے بن سے نکلے
میرے مریض دل کی امید ہے تویہ ہے زانو پہ اس کے سر ہو اور جان تن سے نکلے
نکلے جنازہ میرا اس یار کی گلی سے تو کلمہ شہادت سب کے دہن سے نکلے
کیا لایا تھا سکندر دنیا سے لے گیا کیا تھے دونوں ہاتھ خالی باہر کفن سے نکلے
الجواب :
اﷲ عزوجل کا ذکر اصل مقصود و اجل مقاصد و مغز جملہ عبادت ہے و اقم الصلوة لذكری(۱۴) (میرے ذکرکے لئے نماز قائم کرو۔ ت) وہ ہر حال میں مطلوب
یذكرون الله قیما و قعودا و على جنوبهم اھ کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یذکراﷲ فی کل احیانہ ۔
وہ کھڑے بیٹھے کروٹوں پر لیٹے اﷲ تعالی کا ذکر کرتے ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سبھی اوقات میں خدا کاذکر کیا کرتے۔ (ت)
بلا تقیید اس کی تکثیر کاحکم :
و اذكروا الله كثیرا لعلكم تفلحون(۴۵) ۔ اکثروا ذکراﷲ حتی یقولو انہ مجنون ۔ (الحدیث)
اﷲ کا ذکر زیادہ کرو تاکہ فلاح پاؤ(ت) خدا کاذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ کہیں کہ یہ مجنون ہے۔ (ت)
ذکر کے لئے انحاء کثیرہ ہیں قلبی ولسانی وخفی وجلی وتلاوت و ثناء ودرود ودعا وعبادات وطاعات۔ باوصف اطلاق بعض مقامات کو بعض انحاء سے خصوصیت ہوتی ہے۔ محل جنازہ مقام تفکر ہے ذکر قلبی ہے۔ تفکر ساعۃ خیر من عبادۃ الثقلین (گھڑی بھر کا تفکر انسانوں اور
القرآن ٣ / ١٩١
المستدرك علی الصحیحین کتاب الدعاء مطبوعہ دارالفکر بیروت ١ / ٤٩٩
القرآن ۸ / ۴۵
مسند احمد بن حنبل مروی از ابو سعید دارالفکر بیروت ۳ / ٦٨ و ٧١ ، تہذیب تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ دراج بن سمعان المصری داراحیاء التراث العرابی بیروت ۵ / ۲۲۴
اقول : اس میں حکمت یہ تھی فی نفسہ کوئی شہ مطلوب نہیں قول خیر عدم قول مطلق سے قطعا افضل ہے ولہذا ارشاد ہوا :
ان لا یزال لسانك رطبا من ذکر اﷲ ۔
ہمیشہ تمھاری زبان خدا کے ذکر سے تر رہے ۔ (ت)
اگر شرائع نے اسے صوم میں رکھا تھا۔ ہماری شریعت عزانے اسے منسوخ فرمادیا۔ محبوس کے یہاں وقت اکل صمت ہے۔ ہماری شریعت میں وہ مکروہ و لازم احتزاز ہے۔ یہاں ایك ذریعہ بعد معین مقصود ہوکر مطلوب ہوا تھا کہ عمل لسان وجہ انقسام توجہ نہ ہو۔ اب کہ دیکھنا زمانہ بدلا اب وہ معین ہونے کے عوض بہتوں کے لئے مخل مقصود ہونے لگا تحصیل اصل مقصود کے لئے ذکر لسانی بتایا اور خفی رکھا سب تو ایسے پریشان خیال نہیں جہر سے اہل تفکر کا ذہن نہ ہٹے۔ جب زمانہ اور بدلا اور عامہ ناس غالبا اسی قسم کے رہ گئے اور فقہ میں اکثر ہی کا اعتبار ہے۔
ان درمستثنی ولایفرد بحکم کما فی فتح القدیر وردالمحتار وغیرھما۔
نادر مستثنی ہے اور اس کا الگ حکم بیان نہیں ہوتا جیسا کہ فتح القدیر اورردالمحتار وغیرہما میں ہے(ت)
اطبائے روحانی نے جہر بالذکر کی اجازت دی کہ وہ اوقع فی النفوس وادفع للوساوس وانفع للناس ہے۔
ردالمحتار کتاب النکاح باب النفقہ مصطفی البابی مصر ٢ / ٧٣٠ ، منتقی شرح ملتقی علٰی ھامش مجمع الانہر کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ١ /
ینبغی لعالم الحارۃ او شیخ للفقراء فی الحارۃ ان یعلم من یرید المشی مع الجنازۃ اداب المشی معھا من عدم اللغو فیھا وذکر من تولی وعزل من الولاۃ اوسافر اورجع من التجارۃ و نحوذلك فان ذکر الدنیا فی ذلك المحل مالہ محل وکان سیدی علی الخواص رضی اﷲ تعالی عنہ یقول اذاعلم من الماشین مع الجنازۃ انھم لا یترکون اللغو فی الجنازۃ ویشتغلون باحوال الدنیا فینبغی ان یامرھم بقول لاالہ الااﷲ محمدرسو ل اﷲ فان ذلك افضل من ترکہ ولاینبغی لفقیہ ان ینکر ذلك لابنص اواجماع فان مع المسلمین الاذن العام من الشارع بقول لاالہ الااﷲمحمدرسول اﷲکل وقت شاءوا یااﷲ العجب من عمی قلب من ینکر مثل ھذاو ربما عزم عندالحکام الفلوسی حتی یبطل قول المومنین (کلمۃ طیبۃ) فی طریق الجنازۃ وھو یری الحشیش یباع فلایکلف خاطرہ ان یقول للحشاش حرام علیك بل رأیت فقیھا منھم یاخذ معلوم امامۃ من فلوس بائع الحشیش والبرش
عالم محلہ یا فقراے محلہ کے بزرگ کو چاہئے کہ جنازہ کے ساتھ چلنے والوں کو اس کے ساتھ چلنے کے آداب سکھائے کہ اس میں لغو باتیں نہ ہوں کون حاکم ہوا کون معزول ہوا کون تاجر سفر سے آیا کون گیا اس طرح کی باتیں نہ ہوں اس لئے کہ اس جگہ دنیاکی باتوں کا کوئی موقع نہیں--سیدی علی خواص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے کہ جب جنازہ کے ساتھ چلنے والوں کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ جنازہ میں لغو سے باز نہ آئیں گے اور دنیا کی باتوں میں مشغول رہیں گے تو انہیں حکم دینا چاہئے کہ کلمہ لاالہ الااﷲ محمدرسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پڑھیں کہ اسے پڑھنا اس کے ترك سے افضل ہے۔ اور کسی فقیہ کو بغیر نص یا اجماع کے اس سے منع نہ کرنا چاہئے اس لئے کہ مسلمانوں کو شارع کی جانب سے لا الہ الااﷲ محمدرسول اﷲ پڑھنے کا اذن عام ہے وہ جب چاہیں پڑھیں الہی اس دل کے اندھے پن سے تعجب ہے جواس طریقے کے عمل سے روکتا ہ شاید جنازہ کے راستے میں کلمہ طیبہ پڑھنے کو باطل قرار دے کر حکام سے مال دنیا کی طمع رکھتا ہے جبکہ وہ راستے
میں بھنگ بکتے دیکھے تو بھنگ فروش سے اتنا کہنے کی زحمت نہ اٹھائے کہ یہ کام حرام ہے بلکہ میں نے ان میں ایسے فقیہ کو بھی دیکھا ہے جو بھنگ فروش کے مال سے اپنی پیش نماز کی تنخواہ وصول کرتا ہے--تو خداہی سے عافیت کا سوال ہے---اور اﷲ جسے چاہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے(ت)
کتاب عہود المشائخ امام شعرانی پھرحدیقہ مبارکہ میں ہے :
ولانمکن احدامن اخواننا ینکر شیئا ابتدعہ المسلمون علی جھۃ القربۃ الی اﷲتعالی و رأوہ حسنا کما مر تقریرہ مرارا فی ھذہ العھود لاسیما ماکان متعلقا باﷲتعالی ورسولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کقول الناس امام الجنازۃ لاالہ الااﷲ محمد رسول اﷲ او قرائۃ احدالقران امامھا و نحو ذلك فمن حرم ذلك فھو قاصر عن فھم الشریعۃ لانہ ماکل مالم یکن علی عہد رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم یکون مذموما وقدرجح النوی رحمہ اﷲ تعالی ان الکلام خلاف اولی فقط ۔ واعلم انہ لوفتح ھذاالباب لردت اقوال المجتہدین فی جمیع ما استحنبوا من المحاسن ولاقائل بہ وقد فتح رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم العلماء امتہ ھذاالباب و اباح لھم ان یسنوا کل شی
ہم اپنے دوستوں کو کسی ایسی چیز سے روکنے کی اجازت نہ دیں گے جو مسلمانوں نے خدا کی بارگاہ میں تقرب کے طور پر ایجاد کی ہو اور اسے اچھا جانتے ہوں جیسا کہ بارہا اس کی تقریر اسی کتاب عہود میں گزر چکی ہے خصوصا وہ چیز جس کا تعلق رب تعالی اوراسکے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہو جیسے لوگوں کا جنازہ کے سامنے لاالہ الااﷲ محمد رسول اﷲ پڑھنا یا وہاں پر قرآن کی تلاوت کرنا اور اس طرح کی باتیں اسے جو حرام کہے وہ شریعت کے فہم سے قاصر ہے ۔ اس لئے کہ ہر وہ چیز جو عہد رسالت میں نہ رہی ہو بری نہیں۔ امام نووی رحمہ اﷲتعالی نے تواسے ترجیح دی ہے کہ کلام صرف خلاف اولی ہے۔ یہ جان لو اگر اس کا دروازہ کھولا جائے تو مجتہدین کرام کے وہ تمام اقوال مردود ہوجائیں جو انہوں نے اپنے پسند کردہ محاسن کے بارے میں استخراج فرمائے ہیں اور کوئی اس کا قائل کیوں ہوگا جبکہ خود رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنی امت کے علماء کے لئے یہ دروازہ کھلا رکھا ہے اور انہیں
اجازت دی ہے کے ایسے طریقے ایجاد کریں جن کو وہ اچھاجانیں اور ان کو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شریعت میں شامل کریں ۔ یہ اجازت اس ارشادرسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے جس نے کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کے لئے اس ایجاد کا ثواب اور آئیندہ اس پر تمام عمل کرنے والوں کا ثواب ہے۔ کلمہ لاالہ الااﷲ محمدرسول اﷲ تو سب سے بڑی نیکی ہے پھراس سے کیونکر روکا جائےگا اس وقت نماز جنازہ میں اکثر لوگوں کے حالات کا جائزہ لو انہیں دنیاوی باتوں میں مشغول پاؤ گے میت کے حال سے کوئی عبرت نہیں دل اس سارے واقعے سے جواسے درپیش ہے غافل ہے بلکہ ان میں ہنسی والے بھی نظر آئیں گے جب ایك طرف یہ حال ہو اوردوسری طرف یہ کہ اس وقت کلمہ پڑھنا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانے میں نہ تھا توعمل کیاہو ایسے وقت ہم اﷲ عزوجل کے ذکر کو مقدم رکھیں گے بلکہ ہر لغو بات جنازے کے اندر دنیا کی باتوں کی بہ نسبت اچھی ہے تو اگر جنازہ میں کوئی بلند آواز سے لاالہ الااﷲ پڑھے اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ ہمیں اس سے ممانعت میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی کوئی حدیث نہ ملی۔ اگر اﷲ کا ذکر ممنوع ہوتا تو کوئی نہ کوئی حدیث اس بارے میں آتی جیسے رکوع میں تلاوت قرآن ممنوع ہے تو حدیث میں وارد بھی ہے -- تواسے سمجھو -- وہ چیز جس سے شارع
علیہ السلام نے اسلام کے ابتدائی زمانے میں سکوت فرمایا ہے وہ آخر زمانے میں ممنوع نہیں ہوسکتی(ت)
بالجملہ بجائے صمت اقامت جہر بالذکر تحصیل مقصود کے لئے تبدیل ذریعہ بمصلحت حالیہ ہے نہ کہ تفویت مقصود جاہل وہ جو خاموشی کو مقصود جانے مطلوب ذکر ہے جب خاموشی میں اور جہر بالذکر میں خادم فقہ جانتا ہے تحصیل مقصود کے لئے بعض مکروہات سے کراہت زائل ہوجاتی ہے جیسے نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے اور خشوع یونہی ملتا ہے تو آنکھیں بند کرنا ہی اولی
کمافی الدرالمختارکرہ تغمیض عینیہ للنھی الاکمال الخشوع وفی ردالمحتاربان خاف فوت الخشوع بسبب رؤیۃ مایفرق الخاطر فلایکرہ بل قال بعض العلماء انہ الاولی ولیس ببعید حلیۃ وبحر اھ اقول : ولعل التحقیق ان بخشیۃ فوات شوع تزول الکراھۃ وبتحققہ یحصل الاستحباب واﷲتعالی اعلم ۔
جیسا کہ درمختار میں ہے : نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے کیونکہ اس بارے میں ممانعت آئی ہے لیکن اگر کمال خشوع کے لئے ہو تو مکروہ نہیں۔ ردالمحتار میں ہے : اس طرح طبیعت کو منتشر کرنے والی چیزیں دیکھنے کے سبب خشوع فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو مکروہ نہیں بلکہ بعض علماء نے فرمایا کہ اولی ہے اور یہ کوئی بعید نہیں--حلیہ وبحر --اھ—اقول : شاید تحقیق یہ ہے کہ خشوع فوت ہونے کے اندیشہ کی وجہ سے کراہت زائل ہوجاتی ہے اور آنکھ بند کرلینے پر خشوع متحقق ہوجانے سے استحباب حاصل ہوجاتا ہے اورخدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
تو یہاں یہ کہ ذکر اعظم مطلوبات سے تھا اور منع ایك وجہ بعید کے لئے کہ ذریعہ مقصود میں مخل نہ ہو اور اب وہ ذریعہ ہی نہ رہا بلکہ منعکس ہوگیا۔ تو وہ منع اگرچہ تنزیہی باقی رہناکس قدر فقاہت سے دور بلکہ عقل سے مہجور ہے۔ پھر ذکر کہ عرض عریض ہے۔ ذکر موت وذکر قبر وذکر آخرت وذکر انبیاء وذکر اولیاء علیہم افضل الصلوۃ والثناء سب ذکر الہی ہیں۔ ہم نے اپنی تعلقیات کتاب مستطاب اذاقۃ الاثام میں اس پربارہدلائل قائم کئے ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت سیدناحسان ابن ثابت انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے
درمختار باب مایفسدالصلٰوۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ / ٩٢
ردالمحتار باب مایفسدالصلٰوۃ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ۱ / ۴۳۴
فانمابنیت المساجدلذکراﷲ والصلوۃ ۔
کہ مسجدیں خدا کے ذکر اور نماز ہی کے لئے بنائی گئی ہیں۔ (ت)
اور جب یہ ذکر نہ ہوتا تواس کے لئے اہتمام فرمانا معاذاﷲ غفلت کے لئے اہتمام ہوتا۔ اوریہ محال ہے لاجرم اشعار حمد نعت وثناء ودعاء ووعظ وپندذکرالہی ہیں اورغناوہ کہ ان سے جداہوکہ غناکو آیہ کریمہ و من الناس من یشتری لهو الحدیث (لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو لہو کی بات خریدتا ہے۔ ت) میں داخل کرتے ہیں اور بداہۃ معلوم کہ حمد ونعت ودعا وعظ ہرگز لہوالحدیث نہیں ولہذا جوہرہ ودرمنتقی وردالمحتار میں ہے :
مانقل انہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم سمع الشعر لم یدل علی اباحۃ الغناء ویجوز حملہ علی الشعرالمباح المشتمل علی الحکمۃ والواعظ ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے شعر سننا جو منقول ہے اس سے غنا کی اباحت ثابت نہیں ہوتی اسے ایسے شعر پر محمول کیا جاسکتا ہے جو جائز اور حکمت ونصیحت پر مشتمل ہو۔ (ت)
تو ثابت ہواکہ قول علامہ شامی : فما ظنك بالغناء الحادث فی ھذاالزمان (اس زمانے میں پیدا شدہ نغمہ زنی کے بارے میں تمہاراکیاخیال ہے۔ ت)خود بشہادت علامہ شامی ان اشعار کے بارے میں ہے جو حکمت و وعظ پر مشتمل نہ ہوں جیسے میت کا مرثیہ یا اس کی تعریف مدح بافراط یااشعار مہیجہ مکروہ حزن مزیلہ صبر داعی نوحہ گریبان دری کہ یہ بلا شبہ حکمت ووعظ سے خالی بلکہ اس کے خلاف اور اپنے احوال پر حرام مکروہ وگزاف ہیں بخلاف ان اشعار فارسی و عربی مذکورہ سوال کا کہ ذکر الہی سے جدا نہیں البتہ اشعار اردو میں حاجت ترمیم وتبدیل ہے شعراول میں نام پاك لے کر ندا ہے اور صحیح یہ کہ جائز نہیں
القرآن ۳۱ / ۶
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۵ / ۲۲۲
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱ / ۵۹۸
مسئلہ نمبر ۲۵ : ازقادری گنج ضلع بیربھوم ملك بنگال مرسلہ سید ظہور الحسن صاحب قادری رزاقی مرشدی کرمانی ۲۲ جمادی الاولی ھ
جنازہ کے ہمراہ بلند آواز سے کلمہ طیبہ یا وظیفہ غوثیہ یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئاﷲ پڑھتے چلنا درست ہے یا نہیں
الجواب :
جنازہ کے ساتھ ذکر بالجہر میں حرج نہیں کما حققہ السید عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی فی الحدیقۃ الندیۃ (جیساکہ سید عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی نے حدیقہ ندیہ میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۲۶ : بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ جنازہ کے ساتھ غزلیں نعتیہ پڑھتے جاتی ہیں اس کی نسبت کیا حکم ہے
الجواب :
جائز ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۲۷ : از موضع شرشدی جونیر مدرسہ ڈاکخانہ فیسنی ضلع نواکھالی مرسلہ مولوی عبدالکریم جمادی الاخری ھ
ماقول علمائنا رحمھم اﷲ (ہمارے علمائے کرام رحمہم اﷲ کیا فرماتے ہیں۔ ت) ایك حنفی عالم کہتا ہے کہ بے نمازی کافر و مرتد ہے اس پر نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کرنا چاہئے۔ اس عالم کا قول مردود ہے یا نہیں تین شخصوں کے بے نماز جنازہ دفن کرادیا ہے اس پر شرعا کیا وعید عاءد ہوسکتی ہے دنیا میں ایسا مسلمان نہیں جو گاہ بگاہ پنجگانہ و عید نہ پڑھتا ہو ۔
الجواب :
ایمان وتصحیح عقائد کے بعد جملہ حقوق اﷲ میں سب سے اہم واعظم نماز ہے۔ جمعہ وعیدین یا بلا پابندی پنجگانہ پڑھنا ہرگز نجات کاذمہ دار نہیں۔ جس نے قصدا ایك وقت کی نماز چھوڑی ہزاروں برس جہنم میں رہنے کا مستحق ہوا جب تك توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کرلے مسلمان اگر اس کی زندگی میں اسے یکلخت
و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) ۔
اگر شیطان تجھے بھلادے تویاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھنا۔ (ت)
مگر بعد موت ہر سنی صحیح العقیدہ کو غسل وکفن دینا اس کے جنازے کی نماز پڑھنا الامااستثنی ولیس ھذامنھم (اگر وہ جن کا استثناء کیا گیا ہے اور یہ ان میں سے نہیں۔ ت) فرض قطعی علی الکفایہ ہے۔ اگر سب چھوڑ دیں جن جن کو اطلاع تھی سب گنہگار و تارك فرض ومستحق عذاب ہوں گے۔ جس نے تین مسلمانوں جو بے نماز دفن کرادیا فاسق مرتکب کبیرہ مستوجب سزائے شدید ہوا بے نماز کے نماز کو فرض جانتاہو اس کی تحقیر نہ کرتا اگرچہ نفس وشیطان کے پھندے میں آکر نہ پڑھتا ہو مرتکب کبائر ہے مستحق عذاب نار ہے مگر کافر نہیں باغی نہیں ڈاکو نہیں ایك تباہ کار مسلمان ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الصلوۃ واجبۃ علیکم علی کل مسلم یموت براکان اوفاجراوان ھو عمل الکبائر ۔
تم پر ہر مسلمان کی نماز جنازہ فرض ہے سوا چار کے باغی رہزن جب کہ یہ جنگ میں قتل ہوں ۔ اسی طرح رات کو شہر کے اندر ہتھیار لے کر لوٹ مار کرنے والا گلادباکر مارنے والا اپنے ماں باپ میں سے کسی کا قاتل نہر میں اسے باغیوں سے بھی لاحق کیا ہے (ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
الدواوین ثلثۃ فدیوان لایغفراﷲ منہ شیئا ودیوان لایعبأ اﷲ منہ شیئا ودیوان لایترك اﷲ منہ شیئا فاما الدیوان الذی لایغفراﷲ منہ شیئا فلاشراك اﷲ باﷲ واماالدایون الذی لا یعباء اﷲ منہ شیئاا فظلم العبد
دفتر تین ہیں ایك دفتر میں سے اﷲتعالی کچھ معاف نہ فرمائے گا اور دوسرے کی اﷲ کو کچھ پرواہ نہیں اور تیسرے میں اﷲ کچھ نہ چھوڑے گا وہ دفتر جس میں اﷲ تعالی کچھ معاف نہ فرمائے گا دفتر کفر ہے۔ اورجس کی اﷲ کو کچھ پرواہ نہیں وہ بندے کا اپنے رب کے معاملے میں اپنی جان پر
سنن ابو داؤد کتاب الجہاد مطبوعہ آفتاب عالم پریس ، لاہور ١ / ۳۴۳
ظلم کرنا کہ کسی دن کا روزہ چھوڑ دیا یا نماز چھوڑ دی اﷲ تعالی چاہے گا تو معاف فرمادے گا اور درگزر فرمائیگا۔ اور وہ دفتر جس میں سے اﷲ تعالی کچھ نہ چھوڑے گا وہ بندوں کے باہم ایك دوسرے پر ظلم ہیں ان کا بدلہ ضرورہونا۔ اسے امام احمد نے اورمستدرك میں حاکم نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا ۔
نیز فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
خمس صلوات کتبھن اﷲعلی العباد فمن جاء بھن فلم یضع منھن شیئا استخفافابحقھن کان لہ عنداﷲ عھد ان یدخل فی الجنۃ ومن لم یات بھن فلیس لہ عنداﷲ عھد ان شاء عذبہ وان شاء ادکلہ الجنۃ ۔ رواہ الائمۃ مالك واحمد وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم والبیہقی بسندصحیح عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالی عنہ۔
پانچ نمازیں اﷲ تعالی نے بندوں پرفرض ہیں جو ا نہیں بجالائے اوران کے حق کو ہلکا جان کر ان میں سے کچھ ضائع نہ کرے اﷲ کے پاس عہد ہوکہ اسے جنت میں داخل فرمائے اور جو انہیں بجانہ لائے اس کے لئے اﷲ کے پاس عہد نہیں کہ چاہے اسے عذاب کرے چاہے اسے جنت میں داخل کرے۔ اسے امام مالک امام احمد ابوداؤد نسائی ابن ماجہ ابن حبان حاکم اوربیہقی نے بسند صحیح حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
درمختار میں ہے :
ھی فرض علی کل مسلم مات خلا اربعۃ
ہرمسلمان کی نماز جنازہ فرض ہے سوائے چار کے
سنن ابوداؤد باب فیمن لم یوتر مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٢٠١ ، مسند احمد بن حنبل مروی از عبادہ بن الصامت مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵ / ۳۱۵
باغی رہزن جبکہ یہ لڑائی میں مارے گئے ہوں۔ اسی طرح رات کو شہر کے اندر ہتھیار لے کر لوٹ مار کرنے والا گلادباکر مارنےوالا اپنے ماں باپ میں سے کسی کو قتل کرنے والا نہر میں اسے بھی باغیوں سے لاحق کیا ہے(ملخصا) واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر : از بنگلہ ضلع سلہٹ موضع قاسم نگر مرسلہ مولوی محمد اکرم صاحب یکم ربیع الاول ھ
بے نمازی کی نماز جنازہ چاہئے یا نہیں۔ اگر چاہئے تو کیا دلیل جواب بالتفصیل بحوالہ کتب معتبرہ تحریر فرمائے ۔ بینواتوجروا
الجواب :
صحیح یہ ہے کہ ترك نماز سخت کبیرہ گناہ اشد کفران نعمت ہے مگر کفر وارتداد نہیں جبکہ انکار فرضیت یااستخفاف واہانت نہ کرے اور نماز ہر مسلمان کے جنازے کی فرض کفایہ ہے اگر سب چھوڑیں گے سب گنہگار رہیں گے نماز پنجگانہ اس پر فرض تھی اس نے چھوڑی نماز جنازہ ہم پرفرض ہے ہم کیوں چھوریں اس نے وہ فرض چھوڑا جو خالص حق اﷲ کریم غنی و عزوجل کا تھا ہم وہ فرض چھوڑ دیں جس میں اﷲ عزوجل کا بھی حق اوراس محتاج باشدالاحتیاج کا بھی حق العبد یہ محض نادانی اورخود اپنی بھی بدخواہی ہے علمائے کرام نے فرضیت نمازجنازہ سے صرف چند شخصوں کا استثناء فرمایا۔ باغی اورآپس کے بلوائی کہ فریقین بطور جاہلیت لڑیں اوران کے تماشائی اورڈاکو اور وہ کہ لوگوں کا گلہ دباکر پھانسی دے کر مار ڈالاکرتاہو اور وہ جس نے اپنے ماں باپ کو قتل کیا۔ ظاہر ہے کہ بے نمازی ان سے خارج ہے تو اس کی نماز جنازہ مثل عام مسلمانوں کے فرض ہے۔
فی الدرالمختارھی فرض علی مسلم مات خلابغاۃ وقطاع طریق اذاقتلوافی الحرب واھل عصبۃ ومکابرفی مصر لیلاوخناق وقاتل احدابویہ اھ ملخصاو فی ردالمحتار فی شرح
درمختار میں ہے : ہرمرنے والے مسلمان کی نماز جنازہ فرض ہے سوا باغی رہزن کے جب لڑائی می مارے جائیں اور جو براہ عصبیت آپس میں لڑیں رات کو ہتھیار لے کر شہر میں لوٹ مار کرنے والا گلا دباکر مارڈالنے والا اپنے والدین میں سے کسی کا
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٢
قاتل اھ بتلخیص۔ ردالمحتار میں ہے : شرح دررالبحار میں نوازل کے حوالے سے ہے کہ ہمارے مشائخ نے عصبیت میں مارے جانےوالوں کو باغیوں کے حکم میں رکھا ہے ایسے ہی ان کے پاس کھڑے تماشا دیکھنے والے اگر انہیں کوئی پتھر وغیرہ لگا اوراسی حالت میں مرگئے ہاں اگر جدا ہونے کے بعد مرے تو ان کی نماز پڑھی جائے گی اھ مختصرا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر : ازآرہ مدرسہ فیض الغرباء مرسلہ مولوی رحیم بخش صاحب قادری برکاتی رضوی جمادی الاخری ھ
زید تمام ضروریات دین کو تسلیم کرتا ہے کسی ایك کے انکار کو کفر جانتا ہے محض سستی وغفلت سے بے نماز ہے۔ پس ایسے بے نمازوں کے جنازے کی نماز ناجائز ہے یا نہیں کوئی نہ پڑھے نہ پڑھائے
الجواب :
لاالہ الااﷲ مسلمان اگرچہ بے نماز ہو اس کے جنازے کی نماز مسلمانوں پر فرض ہے۔ اگر کوئی نہ پڑھے گا جتنوں کو خبر ہو سب گنہگار وتارك فرض رہیں گے۔ ہاں اگر زجر کے لئے علماء خود نہ پڑھیں دوسروں سے پڑھوادیں تو بیجا نہیں اور اگر ان کے نہ پڑھنے سے اور بھی کوئی نہ پڑھے یا ان کو بھی منع کریں تو یہ علماء بھی مستحق عذاب نار ہوں گے بلکہ جہال سے زیادہ فانما علیك اثم۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الصلوۃ واجبۃ علیکم علی کل مسلم یموت براکان اوفاجرا وان ھو عمل الکبائر ۔ رواہ ابو داؤد وابویعلی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح علی اصولنا۔
تم پر ہر مسلمان کے جنازے کی نماز فرض ہے نیك ہو یابداگرچہ اس نے کبیرہ گناہ کئے ہوں۔ اسے ابوداؤد اور ابویعلی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہمارے اصول پر بسند صحیح روایت کیا۔
در مختار میں ہے :
سنن ابوداؤد کتاب الجہاد مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ١ / ٥٩٠
ہر مسلمان کی نماز جنازہ فرض ہے سوا چارکے باغی رہزن جبکہ یہ جنگ میں قتل ہوں ۔ اسی طرح رات کو شہر کے اندر ہتھیار لے کرلوٹ مار کرنے والا گلادباکر مارنے والا اپنے ماں باپ میں سے کسی کا قاتل نہر میں اسے بھی باغیوں سے لاحق کیا ہے۔ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : ازموضع بکہ جیبی والا علاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاکخانہ کوٹ نجیب اﷲ خان مرسلہ مولوی شیر محمد
صاحب۲۳رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص کبھی نماز پڑھے اور کبھی نہ پڑھے اس کا جنازہ کرنا جائز ہے یا نہیں اور بے نمازی کے لڑکے نابالغ کا جنازہ جائز ہے یا نہیں
الجواب :
بے نمازی اگرچہ فاسق ہے مگر مسلمان ہے اور اس کی نابالغ اولاد کا غسل وکفن اور نماز ودفن میں وہی حکم ہے جو اور مسلمانوں کا حدیث میں ارشاد ہوا : صلو اعلی کل بروفاجر (ہر نیك و بد کی نمازجنازہ پڑھو۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ ایك طالب علم موضع فرید پور میں مولوی یسین کا شاگرد وہاں کی مسجد میں مقیم ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ بے نمازی کے جنازے کی نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اور قبر پر اذان دینا جائز نہیں ہے اور فاتحہ وغیرہ اور گیارھویں شریف کی نیاز کرنا جائز نہیں ہے اور یہاں پر سب گاؤں کے مسلمانوں کو گمراہ کئے دیتاہے لہذا یہ باتیں تحریر کردیں جائز ہیں یا نہیں بموجب شرع شریف کے جواب سے مشرف فرمائیے گا۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
۱س شخص کے یہ مسئلے محض غلط اور بے سند ہیں۔ جنازے کی نماز ہر مسلمان پر فرض ہے الامااستثناہ العلماء ولیس ھذامنھم (مگر وہ جس کا علماء نے استثناء کیا ہے اور یہ ان میں سے نہیں۔ ت)
سنن الدارقطنی باب صفۃ من تجوز الصلٰوۃ معہ والصلٰوۃ علیہ نشر السنّۃملتان ٢ / ٥٧ ، سنن ابی داؤد باب فی الغزومع ائمہ الجور آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٣٤٣
مسئلہ نمبر : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مرگیابکر نے کہا زید نماز نہیں پڑھتا تھا اس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھی جائے مگر اس شرط پر کہ اس کو کھنچوانا چاہئے پھر زید کو بیلوں سے پاؤں باندھ کر کھنچوایا ۔ یہ بات قرآن وحدیث سے درست ہے یا نہیں اور اگر نہیں توبکر پر کیا حکم ہے فرمائیے کتاب اور حدیث رسول سے۔
الجواب :
بکر گنہگار ہوا اور اس نے مردے پر ظلم کیا۔ ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے تو میت کے کنگھی کرنے سے منع فرمایا کہ اسے تکلیف ہوگی فرمایا :
علام تنصون میتکم۔ رواہ الامام محمد فی کتاب الاثارقال اخبرنا ابوحنیفۃ و رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ قال اخبرناسفین عن الثوری کلاھما عن حماد بن ابی سلیمن عن ابراہیم النخعی
کاہے پر اپنے مردے کے موئے پیشانی کھینچتے ہو۔ اسے امام محمد نے کتاب الاثار میں روایت کیا --فرمایا ہمیں خبر دی امام ابو حنیفہ نے اوراسے عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیا--کہا ہمیں خبر دیسفیان نے وہ راوی ہیں سفیان ثوری سے--دونوں حضرات
راوی ہیں حماد بن ابی سلیمان سے--وہ ابراہیم نخعی سے--وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے انہوں نے دیکھا کہ ایك عورت کے سر میں کنگھا کر رہے ہیں تو فرمایا : کیوں اپنے مردے کی پیشانی کے بال کھینچتے ہو--اور اسے ابوعبید قاسم بن سلام اور ابراہیم حربی نے اپنی اپنی کتاب غریب الحدیث میں حضرت ابراہیم نخعی سے انہوں نے حضرت صدیقہ سے روایت کی کہ ان سے میت کے سر پر کنگھا کرنے سے متعلق پوچھا تو فرمایا : کیوں اپنے مردے کی موئے پیشانی کھینچتے ہو ۔ (ت)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ان کسر عظم المسلم میتا ککسرہ حیا رواہ الائمۃ مالك واحمد وسعید بن منصور وعبد الرزاق و ابوداؤد وابن ماجۃ بسند حسن عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔
بیشك مردہ مسلمان کی ہڈی توڑنی ایسی ہے جیسے زندہ مسلمان کی ہڈی توڑنی ۔ اسے امام مالک امام احمد سعید بن منصور عبدالرزاق ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بسند احسن ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا۔
سزا دینا توحاکم شرح کاکام ہے ہرکس وناکس کو اس کا اختیار نہیں اور موت کے بعد تو سزا دینے کے کوئی معنی ہی نہیں سزا درکنار موت کے بعد برا بھلا کہنے سے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے منع فرمایا ۔ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لاتسبواالاموات فانھم قدافضواالی ماقدموا ۔ رواہ احمدوالبخاری والنسائی
مردوں کو برا مت کہو کہ وہ اپنے کئے کو پہنچ چکے۔ اسے امام احمد اور نسائی نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ
غریب الحدیث
سنن ابی داؤد کتاب الجنائز مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ١٠٢
سنن النسائی کتاب الجنائز المکتبہ السلـفیہ لاہور ١ / ٢٢٢
ف١ : کتاب الاثار اور مصنف عبدالرزاق دونوں کتابوں میں ''بمشط '' کا لفظ نہیں ہے بلکہ '' کتاب الاثار '' میں '' رأیت میتایسرح رأسہ '' اور '' مصنف '' میں '' رأیت امرأۃ یکدّون راسھا '' ہے۔ (نذیر احمد)
تعالی عنہا سے روایت کیا۔
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لاتذکر واھلکاکم الابخیر ان یکونوا من اھل الجنۃ تاثمون وان یکونوا من اھل النار فحسبھم ماھم فیہ ۔ رواہ النسائی عنہا رضی اﷲ تعالی عنھا بسند جید۔
اپنے مردوں کو یاد نہ کرو مگر بھلائی کے ساتھ کہ اگر وہ جنتی ہیں تو براکہنے سے تم گنہ گار ہوگے اوراگر دوزخی ہیں توانہیں وہ عذاب ہی بہت جس میں وہ ہیں۔ اسےنسائی نےحضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سےبسندجید روایت کیا۔
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لاتسبواالاموات فتؤذوابہ الاحیاء ۔ رواہ احمد والترمذی عن المغیرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح ۔
مردوں کو برا نہ کہو اس کے باعث زندوں کو ایذا دو۔ اسے امام احمد اورترمذی نے حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بسند صحیح روایت کیا۔
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
اذامات صاحبکم فدعوہ ولاتقعوا فیہ ۔ رواہ ابوداؤد عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا ۔
جب تمہارا ساتھی مرجائے تواسے معاف رکھو اور اس پر طعن نہ کرو۔ اسے ابوداؤد نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بسند صحیح روایت کیا۔
عمرو بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك قبر سے تکیہ لگائے دیکھا فرمایا :
لاتؤذ صاحب ھذا القبر ۔ رواہ الامام احمد۔
مردے کو ایذا نہ دے ۔ اسے امام احمد نے روایت کیا۔
سبحان اﷲ! جب قبر پر تکیہ لگانے سے مردے کو ایذا ہوتی ہے توایسے ظلم شدید سے کس قدر
مسند احمد بن حنبل حدیث مغیرہ بن شعبہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ٤ / ٢٥٢
سنن ابوداؤد باب فی النہی عن سب الموتٰی مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ٣١٥
مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ احمد باب دفن المیت مطبع مجتبائی دہلی ص١٤٩
مسئلہ نمبر ۳۳ : سید محمد شاہ (پتا انگریزی میں پڑھا نہ گیا) ذیقعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان نے نو مسلم عورت سے عقد کیا تھا دو برس کے بعد رمضان ھ کو دنیائے فانی سے ملك عدم کو رخصت ہوئی۔ اس مسلمان کا یہاں کوئی وارث اور نہ تھا اس نے مسلمانوں کو اطلاع دی انہوں نے جواب دیا ہم تمہاری عورت کا جنازہ نہیں اٹھائیں گے نہ قبرستان میں جگہ دیں گے کیونکہ تم نماز نہیں پڑھتے ہو اور مسجد کمیٹی وخلافت کمیٹی وغیرہ میں چندہ بھی نہیں دیتے کبھی ہماری کمیٹیوں میں شرکت نہیں کرتے لہذا تم اور کوئی انتظام کرو۔ اس شخص نے جواب دیا اگر میراعذر قابل اعتماد ہو تو مجھ کو معافی دیجئے جو سزا میرے لئے آپ لوگ قرار دیں قبول کرتا ہوں۔ اگر میرا قصور ہے تو مجھے سزا دیں اور معافی دے کر میت کو اٹھائیں۔ ان لوگوں نے مطلق انکار کردیا جو خلافت کمیٹی کے ممبران و سیکریٹری وپرزیڈنٹ ہیں۔ تب اس نے ہندو سے التجا کی اسکی بیکسی بے بسی دیکھ کر ہنود اس محلہ میں آئے اور مسلمانوں کو سمجھایا بمشکل تمام راضی ہوئے مگر غسل دینے والی عورت کو روك دیا۔ مجبورا اس نے اپنے ہاتھ سے غسل دیا اور کفن پہنایا۔ بعد اس کے چار پانچ مسلمان انہوں نے کہا ہم تم پر آٹھ روپیہ جرمانہ کرتے ہیں اگر منظور ہو تو ہم میت اٹھائیں ورنہ ہم اپنے اپنے گھر جاتے ہیں۔ وہ چونکہ مصیبت زدہ تھا راضی ہوا۔ غرض صبح آٹھ بجے کی میت بارہ بجے شب اٹھائی گئی۔ اب عرض ہے کہ آیا حدیث شریف میں یہی فرمان ہے اور خدا اور اسکے رسول کا یہی حکم ہے تو مجھے مطلع فرمائیں اور اگر یہ حرکت مطابق شرع نہ ہو توان کی کیا سزا شرعا و قانونا بینواتوجروا
الجواب :
ان لوگوں نے سخت ظلم کیا اور شدیدجرم کیا اگر سلطنت اسلام ہوتی حاکم اسلام ان میں ایك ایك کو کوڑے لگاتا قیدکرتا اور وہ آخرت میں عذاب جہنم کے مستحق ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الصلوۃ واجبۃ علیکم علی کل مسلم براکان اوفاجراوان عمل الکبائر ۔ (ملخصا)
ہر مسلمان کے جنازے کی نماز تم پر فرض ہے نیك ہو یا بد اگرچہ اس نے گناہ کبیرہ کئے ہوں۔
خصوصا جس مسلمان نے رمضان مبارك میں انتقال کیاتو وہ بحکم حدیث شہید ہے۔ خلافت کمیٹی میں چندہ نہ دینا یا اس میں شریك نہ ہونا کوئی جرم نہیں بلکہ مسجد میں چندہ نہ دینا بھی گناہ نہیں نہ کہ جہاں امر بالعکس ہو نماز
قال اﷲ تعالی لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل ۔
وقال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم علی الید مااخذت حتی تودیہ ۔ رواہ احمد والاربعۃ والحاکم عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ بسند احسن۔
اﷲ تعالی فرماتا ہے : اپنے مال آپس میں ناحق نہ کھاؤ۔ (ت)
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : ہاتھ نے جولیا اس کے ذمہ ہے یہاں تك کہ اسے ادا کردے۔ اسے امام احمد ابوداؤد ترمذی نسائی ابن ماجہ اور حاکم نے سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے بہ سندحسن روایت کیا۔ (ت)
اوراس شخص نے عورت کو غسل دیا یہ اسے جائز نہ تھا شوہر عورت کے بدن کو بعد انتقال ہاتھ نہیں لگا سکتا اسے چاہئے تھا کہ کسی سمجھ والی لڑکی یا لڑکے کو نہلانے کا طریقہ بتاتا اور اپنے سامنے اس سے نہلواتا یا کوئی اور عورت اگر چہ اجرت پر ملتی اس سے غسل دلاتا۔ اوراگر کچھ ممکن نہ ہوتا توا پنے ہاتھوں میں کپڑے کی تھیلیاں چڑھاکر اس کے چہرے اور کہنیوں تك ہاتھوں کا تیمم کرادیتا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر : ازضلع اعظم گڑھ ڈاکخانہ اندارا موضع ادری حافظ عبدالشکور خاں ذی القعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید مسلمان حنفی بکرنصرانی کے یہاں ملازم تھا اوراس کا جھوٹا کھالیا کرتاتھا مسلمانوں نے اس سے منع کیا حتی کہ بکر نے بھی مگر زید باز نہ آیا اور اس کے مرنے پر جمیع مسلمانوں نے اس کی تجہیز وتکفین ونماز جنازہ سے انکار کیا بالآخر چند مسلمانوں نے نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا اگرایسا موقع آئندہ آئے تو کیا کرنا چاہئے بینواتوجروا۔ زید کے گھر والوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہئے کیونکہ زید
القرآن ۴ / ۲۹
مسنداحمد بن حنبل حدیث سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵ / ۸
الجواب :
مسلمان کو نصرانی کا جھوٹا کھانا بہت شنیع وبد ہے کما بیناہ فی فتاونا(جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ ت) لیکن اگر مذہب میں کچھ فرق نہ تھا تو اس بد حرکت سے کافر نہ ہوا۔ مسلمانوں پر اس کی تجہیز وتکفین اورجنازہ کی نماز لازم تھی مگر یہ کام فرض کفایہ ہے بعض نے کر لیا سب پر سے اتر گیا۔ ہر مسلمان کا ان میں شریك ہونا ضروری نہیں اگر کوئی نہ کرتا تو سب گنہگار ہوتے۔ آئندہ کے لئے بھی یہی احکام ہیں اس فعل میں اس کے گھر والوں کا کوئی قصور نہ تھا ان پر تعزیر بیجا ہے۔
قال اﷲ تعالی و لا تزر وازرة وزر اخرى- واﷲ تعالی اعلم۔
اﷲ تعالی کا ارشاد ہے : کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۳۵ : ازاوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ رجب ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اہل اسلام سے آخر عمر تك تارك صلوۃ والصیام ومشارب الخمر باللیل والایام ملحق دین نصاری رہا حتی کہ بہ تحقیق بدون توبہ ڈاك بنگلہ پر منتقل ہوا پھر ورثاء اس کے مکان پر لائے معاذاﷲ اور بخوف عدم شرکت دفن اہل اسلام کے ایك حجام اور خرادی اور کنجڑا پرورش یافتہ خود کو مصنوعی شاہد مقرر کرکے توبہ پر اس میت کی قائم کئے۔ عیاذا باﷲ۔ تب جنازہ اٹھا اور ہمراہ جنازہ کے عیسائی بھی تھے۔ تب بھی چند کس نے دیدہ وادانستہ نماز جنازہ پڑھی اوراسقاط لے کر قبر پر قرآن پڑھا۔ بعد دخول قبر عیسائیوں نے ٹوپی اتار کر سلامی لی پس مسلمانوں کو بحکم شرع میت کے اسلام پر خدشہ صادقہ تھا اور یقین کامل ہوا اور بحمیت اسلامی ان سے روکش ہوئے کہ اوروں کو عبرت ہو کیونکہ بعملداری ہنود اور تعزیر غیر ممکن اس خیال سے ان لوگوں سے مرتدین کا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں جب تك توبہ نہ کریں ان کے پیچھے نماز جماعت درست ہے یا ممنوع اس کے حق میں اور ان کے مشترك کے حق میں شرعا کیا حکم ہے مشرح بعبارت کتب بیان فرمائیں۔ رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین۔
الجواب :
ترك صوم صلوۃ وشرب خمار گناہان کبیرہ ہیں جن کا مرتکب فاسق وفاجر اورعذاب دوزخ کا مستحق ہے مگر حرام جان کر بشامت نفس کرے تو کافر نہیں۔ پس اگر شخص مذکور نے مذہب نہ بدلا تھا صرف باغوائے شیطان
عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم الصلوۃ واجبۃ علیکم کل مسلم براکان اوفاجراوان ھو عمل اکبائر ۔ (ملخصا)
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مروی ہے : ہر مسلمان کی نمازجنازہ تم پرفرض ہے نیك ہو یابد اگرچہ اس نے گناہ کبیرہ کئے ہوں۔ اسے ابوداؤد وغیرہ نے روایت کیا۔ (ت)
اور نصرانیوں کا معاذاﷲ جنازہ کےساتھ ہونا یابعد دفن ٹوپی اتار کر سلامی دینا ان کا اپنا فعل تھا جس کے سبب مسلمان کو کافر نہیں ٹھہراسکتے۔ اور یہ بدگمانی کہ اگر یہ ان کا ہم مذہب نہ ہوتا تو وہ جنازہ میں کیوں شرکت کرتے محض مردود ہے۔ ایسے اوہام پر بنائے احکام نہیں نہ کہ معاذاﷲ معاملہ کفر و اسلام جس میں انتہادرجہ کی احتیاط لازم بلکہ اس کا عکس دوسرا گمان قوی تر ہے کہ اگر وہ اسے اپنا ہم مذہب جانتے اپنی روش پر تجہیز وتکفین کرتے۔ مسلمانوں کو اس کا جنازہ کیو ں دیتے غرض اس صورت میں نماز پڑھنے والوں نے فرض خدا اداکیا ان پر اصلالازم نہیں۔ الزام ان پر ان سے معاملہ مرتدین کرنا چاہیں اور اگر بہ ثبوت شرعی ثابت ہو کہ میت عیاذا باﷲ تبدیل مذہب کرکے عیسائی ہوچکا تھا تو بیشك اس کے جنازہ کی نماز اور مسلمانوں کی طرح اس کی جہیز وتکفین سب حرام قطعی تھی۔
قال اﷲتعالی و لا تصل على احد منهم مات ابدا و لا تقم على قبره- ۔
اﷲ تعالی فرماتا ہے : ان میں سے جوبھی مرے نہ کبھی ان کی نماز جنازہ پڑھو اورنہ اس کی قبر پر کھڑے ہو (ت)
مگر نماز پڑھنے والے اگر اس کی نصرانیت پر مطلع نہ تھے اور بربنائے علم سابق اسے مسلمان سمجھتے تھے نہ اس کی تجہیز وتکفین ونماز تك ان کے نزدیك اس شخص کا نصرانی ہوجانا ثابت ہوا توان افعال میں وہ اب بھی معذور وبے قصور ہیں کہ جب ان کی دانست میں وہ مسلمان تھا ان پر یہ افعال بجالانے بزعم خود شرعا لازم تھے ہاں اگر یہ بھی اس کی عیسائیت سے خبردار تھے پھر نماز وتجہیز وتکفین کے مرتکب ہوئے قطعا سخت گنہ گار اور وبال کثیر میں گرفتار ہوئے جب تك توبہ نہ کریں نماز ان کے پیچھے مکروہ
القرآن ٩ / ٨٤
جیسا کہ یہ فاسق کا حکم ہے جس کی صراحت متعدد کتابوں میں موجود ہے اور جس کی توضیح وتنقیح غنیـہ وغیرہا میں ہوچکی ہے۔ (ت)
مگر معاملہ مرتدین پھر بھی برتنا جائز نہیں کہ یہ لوگ بھی اس گناہ سے کافر نہ ہوں گے۔ ہماری شرع مطہر صراط مستقیم ہے افراط وتفریط کسی بات میں پسند نہیں فرماتی البتہ اگر ثابت ہوجائے کہ انہوں نے اسے نصرانی جان کر نہ صرف بوجہ حماقت وجہالت کسی غرض دنیوی کی نیت سے بلکہ خوداسے بوجہ نصرانیت مستحق تعظیم وقابل تجہیر وتکفین ونماز جنازہ تصور کیا تو بیشك جس جس کا ایسا خیال ہوگا وہ سب بھی کافر و مرتد ہیں اور ان سے وہی معاملہ برتنا واجب جو مرتدین سے برتا جائے اور ان کی شرکت کسی اور طرح روا نہیں اور شریك ومعاون سب گنہگار ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر : ازلکھیم پور کھیری مکان حافظ محمد حسین سوداگر مرسلہ حکیم محمد تفـضل حسین صاحب ماہ جمادی الاولی ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہل شیعہ کی نماز جنازہ پڑھنا اہلسنت وجماعت کے لئے جائز ہے یا نہیں اور اگر کسی قوم سنت والجماعت نے نماز کسی شیعہ کی جنازہ کی پڑھی تو اس کے لئے شرع میں کیا حکم ہے۔
الجواب :
اگر رافضی ضروریات دین کا منکر ہے مثلا قرآن کریم میں کچھ سورتیں یا آیتیں یا کوئی حرف صرف امیرا لمومنین عثمان ذی النورین غنی رضی اللہ تعالی عنہ یا اور صحابہ خواہ کسی شخص کا گھٹایا ہوا مانتا ہے۔ یا مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم خواہ دیگر ائمہ اطہار کوا نبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم میں کسی سے افضل جانتاہے۔ اور آجکل یہاں کے رافضی تبرائی عموما ایسے ہی ہیں ان میں شاید ایك شخص بھی ایسا نہ نکلے جو ان عقائد کفریہ کا معتقدنہ ہو جب تو وہ کافر مرتدہے اور اس کے جنازہ کی نماز حرام قطعی وگناہ شدیدہے۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
و لا تصل على احد منهم مات ابدا و لا تقم على قبره-انهم كفروا بالله و رسوله و ماتوا و هم فسقون(۸۴) ۔
کبھی نماز نہ پڑھ ان کے کسی مردے پر نہ اس کی قبر پرکھڑا ہو انہوں نے اﷲ ورسول کےساتھ کفر کیا اور مرتے دم تك بے حکم رہے۔
کما فی خلاصۃ وفتح القدیر وتنویر الابصار والدرالمختاروالھدایۃ وغیرھا عامۃ الاسفار۔
جیسا کہ خلاصہ فتح القدیر تنویر الابصار درمختار ہدایہ وغیرہا عام کتب میں ہے۔
اور اگر صرف تفضیلیہ ہے تو اس کے جنازے کی نماز بھی نہ چاہتے متعدد حدیثوں میں بد مذہبوں کی نسبت ارشاد ہوا :
ان ماتوا فلا تشہدوھم وہ مریں تو ان کے جنازہ پر نہ جائیں۔ ولاتصلواعلیہم انکے جنازے کی نمازنہ پڑھو۔ نماز پڑھنے والوں کو توبہ استغفار کرنی چاہئے۔ اوراگر صورت پہلی تھی یعنی وہ مردہ رافضی منکر بعض ضروریات دین تھا اور کسی شخص نے با آں کہ اس کے حال سے مطلع تھا دانستہ اس کے جنازے کی نماز پڑھی اس کے لئے استغفار کی جب تو اس شخص کی تجدید اسلام اوراپنی عورت سے ازسر نو نکاح کرنا چاہئے۔
فی الحلیۃ نقلاعن القرا فی واقرہ الدعاء بالمغفرۃ للکافر کفر لطلبہ تکذیب اﷲ تعالی فیما اخبربہ ۔
حلیہ میں قرافی سے نقل کیا اوراسے برقرار رکھا کہ : کافر کے لئے دعائے مغفرت کفر ہے کیونکہ یہ خبر الہی کی تکذیب کا طالب ہے(ت)
مسئلہ نمبر : ازثمن برج وزیرآباد ضلع گوجرانوالا پنجاب ۔ مرسلہ محمد خلیل اﷲ صاحب پنشنر رسالدار ربیع الاول ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل صورت میں ایك شخص جو شیعہ اثناء عشری مذہب رکھتا ہے اور کلمہ لا الہ الاﷲ محمدرسول اﷲ علی خلیفۃ بلا فصل وغیرہ اعتقادات مذہب شیعہ کا معتقد ہے فوت ہوا ہے اس کا جنازہ ہمارے امام حنفی المذہب جامع مسجد مے پڑھایا اوراس کو غسل دیا نیز اس کے ختم میں شامل ہوا شیعہ جماعت نے امام مذکور کے نماز جنازہ پڑھانے کے بعد دوبارہ
کنز العمال بحوالہ ابن النجار عن انس رضی اﷲ عنہ حدیث ٣٢٥٢٩ مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ١١ / ٥٤٠
حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی
الجواب :
صورت مذکورہ میں وہ امام سخت اشد کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا اس نے حکم قرآ ن عظیم کا خلاف کیا
قال اﷲ تعال و لا تصل على احد منهم مات ابدا ۔
اﷲ تعالی فرماتا ہے : ان کے کسی مردے کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھو۔ (ت)
تعزیر یہاں کون دے سکتا ہے اس کی سزا حاکم اسلام کی رائے پر ہے وہ چاہتا تو پچھتر کوڑے لگاتا اور چاہتاتو قتل کرسکتا تھا کہ اس نے مذہب کی توہین کی۔ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں اور اسے امامت سے معزول کرنا واجب تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے :
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانۃ شرعا ۔
اس لئے کہ اسے امام بنانے میں تعظیم ہے جبکہ شرعا ان پر اس کی اہانت واجب ہے(ت)
فتاوی حجہ و غنیہ میں ہے : لوقد موافاسقایاثمون (اگر لوگوں نے کسی فاسق کو امام بنایا تو گنہگار ہوں گے۔ ت)یہ سب اس صورت میں ہے کہ اس نے کسی دنیوی طمع سے ایسا کیا ہو اگر دینی طور پر اسے کار ثواب اور رافضی تبرائی کو مستحق غسل ونماز جان کر یہ حرکات مردودہ کیں تو وہ مسلمان ہی نہ رہا۔ اگر عورت رکھتا ہو اس کے نکاح سے نکل گئی کہ آجکل رافضی تبرائی عموما مرتدین ہیں کما حققناہ فی ردالرفضۃ(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ “ ردالفضہ “ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)اوربحکم فقہائے کرام تو نفس تبرا کفر ہےکما فی الخلاصۃ وفتح القدیر وغیرہا کتب کثیرۃ(جیسا کہ خلاصہ اور فتح القدیر وغیرہ بہت سی کتابوں میں ہے۔ ت) نہ کہ نماز جنازہ کما فی الاعلام وغیرہ وبیناہ فی فتاونا(جیساکہ الاعلام بقواطع الاسلام میں ہے اور ہم نے اسے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
تبیین الحقائق باب الامامۃ والحدث فی الصلٰوۃ مطبوعہ مطبعہ کبرٰی امیریۃ مصر ١ / ١٣٤
غنیۃ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص٥١٣
کیافرماتے ہیں علمائے دین اگر ہجڑہ مر جائے اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے یا نہیں اور اگر پڑھی جائے تو نیت مرد کی جائے یا عورت کی
الجواب :
ہجڑہ اگر مسلمان ہے تواس کے جنازہ کی نماز فرض ہے اور نیت میں مرد عورت کی تخصیص کی کوئی حاجت نہیں۔ مرد وعورت دونوں کی ایك ہی دعا ہے خصوصا یہ ہجڑے جو یہاں ہوتے ہیں مرد ہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو عورت بناتے ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر : ازمین پوری مسئولہ مجیب اﷲ صاحب جمادی الآخرہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ نماز جنازہ کے لئے امامت میں احق افضل کون ہے کیا امام جامع مسجد یا قاضی اس معنی میں نکاح خوانی کرتا ہوا ور لیاقت کچھ نہیں رکھتا صرف معمولی اردو کی کتابیں دیکھے ہوئے ہو وہ بلااذن طلب کئے میت کے ورثاء یا اولیاء سے نماز جنازہ پڑھا سکتا ہے اور بموجودگی کئی افضل واعلم بالسنۃ عالم واحق بالامامۃ اس کا نماز پڑھنا کیسا ہے یہ جو عام طور پر رائج کہ اول وارث یا ولی میت سے اذن لیتے ہیں نماز پڑھانے کا یہ کیا کچھ ضروری چیز ہے اور کون امام بلااذن طلب کئے بھی نماز پڑھا سکتا ہے بینواتؤجروا۔
الجواب :
نماز جنازہ ولی میت کا حق ہے دوسرا کہ اس کے اذن کا محتاج ہے اگر بے اس کے اذن کے پڑھائے اسے اعادہ نماز جائز ہے حالانکہ نماز جنازہ کی تکرار مشروع نہیں۔ نکاح خوانی کا قاضی کوئی عہدہ شرعی نہیں وہ بے اذن ولی ہرگز نہیں پڑھا سکتا۔ یونہی جامع مسجد کا امام اگر میت جمعہ وغیرہ اس کے پیچھے نہ پڑھتا ہو یا وہ علم وفضل میں ولی میت سے زائد نہ ہو۔ اسی طرح امام الحی یعنی مسجد محلہ کا امام ہاں اگر میت ان کے پیچھے نماز پرھا کرتا تھا۔ اور یہ فضل دینی میں ولی سے زائد ہیں تو بے اذن ولی پڑھاسکتے ہیںاور اصحاب ولایت عامہ مثلا سلطان اسلام یا اس کا نائب حاکم شہر یا اس نائب قاضی شرع جسے سلطان اسلام نے فصل مقدمات پر مقرر کیا یا اس کا نائب یہ لوگ ولی پر مقدم ہیں انہیں ولی سے اجازت لینے کی مطلقا حاجت نہیں اور صورت مذکورہ کے علاوہ دونوں امام اور یہ والیان عام اگر نماز پڑھادیں توولی کو حق اعادہ نہیں مگر فرض کفایہ اداہوجائے گا ولی نے اگر ان کی اقتدا کرلی فبہا کہ اذن ابتدامیں نہ تھا تو اب ہوگیا
یقدم فی الصلوۃ علیہ السلطان اونائبہ (الاولی ثم نائبہ کمافی الفتح وغیرہ ش) ثم القاضی (ثم خلیفۃالولی ثم خلیفۃ القاضی امداد عن زیلعی ش) ثم امام الحی وتقدیم الولاۃ واجب وتقدیم امام الحی بشرط ان یکون افضل من الولی والا فالولی کما فی المجتبی (قلت عن البقالی) وشرح المجمع للمصنف (قلت عن العتابی)(وامام الحی وامام المسجد الخاص بالمحلۃ وانما کان اولی لان المیت رضی بالصلوۃ خلفہ فی حال حیاتہ فینبغی ان یصلی علیہ بعد وفاتہ ش) وفی الدرایۃ امام الجامع (عبرعنہ فی شرح المنیۃ بامام الجمعۃ ش) اولی من امام الحی (قلت والظاہر ان تقدیمہ ایضاندبی بشرط کونہ افضل من الولی والعلۃ فیہ ایضاکون المیت رضیہ امام لہ فی حیاتہ فلو لم یکن من یصلی الجمعۃ کالمرأۃ مثلااوکان یصلی خلف غیرہ لم یقدم علی امام الحی اذالم یکن المیت یصلی خلفہ لایقدم علی الولی قال ش
نماز جنازہ میں مقدم سلطان ہے یا اس کا نائب (بہتر یہ کہنا ہےکہ : پھر ا س کانائب جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ میں ہے -- شامی )پھر قاضی (پھر حاکم شہر کا نائب پھر قاضی ك نائب--امداد --اززیلعی -- شامی) پھر امام محلہ اور حکام کی تقدیم واجب ہے اور امام محلہ کی تقدیم مستحب ہے بشرطے کہ ولی سے افضل ہو ورنہ ولی بہتر جیسا کہ مجتبی میں( میں کہتا ہوں : بقالی سے منقول) ہے اور مصنف کی شرح مجمع میں(میں کہتاہوں : عتابی سے منقول)ہے (امام محلہ سے مراد وہ کو جو مسجدمحلہ کا امام ہو اس کے اولی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مرنے والے نے زندگی میں اس کی اقتداء پسند کی تو بعدوفات اس کی نماز جنازہ اسی کو پڑھانا چاہئے--شامی) درایہ میں ہے کہ امام جامع مسجد(شرح منیہ میں اسے امام جمعہ سے تعبیر کیا --شامی )امام محلہ سے بہتر ہے۔ (میں کہتا ہوں : ظاہر یہ ہے کہ اس کی تقدیم بھی استحبابی ہے بشرطے کہ ولی سے افضل ہو۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ مرنے والے نے زندگی میں اسے اپنا امام پسند کیا تومیت اگر جمعہ پڑھنے والا نہیں جیسے عورت یا دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے والا اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا تو وہ بھی ولی پر مقدم نہ ہوگا۔ شامی
نے کہا اس لئے کہ آگے آرہا ہے کہ اصل میں حق ولی کا ہے اس پر حکام اور امام محلہ کی تقدیم تعلیل مذکور کے باعث تھی وہ علت ہی یہاں موجود نہیں) پھر ولی جو نکاح کرانے میں عصبہ ہونے کی ترتیب کے اعتبار سے ہے تو اگر ولی کے علاوہ کسی ایسے نے نماز پڑھی جسے ولی پر حق تقدم حاصل نہیں اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی پھر پڑھ سکتا ہے اگرچہ قبر اگر چاہے۔ یہ اجازت اس کے حق کے سبب ہے اس وجہ سے نہیں کہ فرض جنازہ ادا نہ ہوا۔ اسی لئے پہلے جو لوگ پڑھ چکے ہوں انہیں ولی کے ساتھ اعادہ کی اجازت نہیں اس لئے کہ نماز جنازہ کی تکرار غیر مشروع ہے۔ عبارت ختم ہوئی ۔ درمیان میں ہلالین کے اندر قلت (میں کہتا ہوں)کے ساتھ حوالوں کا میری جانب سے اضافہ ہے اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ نمبر : از ملك بنگال ضلع سلہٹ ڈاکخانہ آدم پور گھوڑ مرا مرسلہ حافظ عبدالحمید صاحب امام مسجد جمادی الآخرہ ھ
ما قولکم رحمکم اﷲ تعالی اندریں مسئلہ کہ خدیجہ بی بی زوجہ مولوی عبدالحکیم صاحب رحلت نمود درحق صلوۃ جنازہ ولی زن شوہرش باشد یا پدرش وبراداران وعمام اومگر پدر وغیرہ اقارب مذکورین جاہلان بے علم اندبخلاف شوہر نیز از جانب شوہر عم او حافظ عبدالحی امام الحی موجود ست
آپ رحمکم اﷲ تعالی کا اس مسئلہ میں کیا قول ہے کہ خدیجہ بی بی زوجہ عبدالحکیم صاحب کا انتقال ہوا نماز جنازہ کے حق میں عورت کا ولی اس کا شوہر ہوگا یاباپ بھائی چچا مگر باپ وغیرہ اقارب مذکورین جاہل بے علم ہیں جب کہ شوہر صاحب علم ہے اور شوہر کی جانب سے اس کے چچا حافظ
عبدالحمید امام محلہ بھی موجود ہیـں توصورت مذکورہ میں نماز کی ولایت ان میں سے کس کے لئے ہے۔ واضح ہو کہ دو سال سے سلہٹ کے علماء اس مسئلہ میں باہم اختلاف رکھتے ہیں۔ امید ہے کہ شك دور فرمائیں گے۔ بیان فرمائیں اجر پائیں۔
الجواب :
درولایت نماز جنازہ شوہر از ہمہ اقارب موخرست ایں ولایت ہمچو ولایت نکاح بترتیب عصوبت و قرابت اقرب فالاقرب رارسد اگر زیناں ہیچکس نباشد شوہر مقدم بود۔
وجہل آناں مانع حق آناں نیست ایشاں را رواست کہ ہر کراخواہند بامامت امر کنند۔ مامور ایشاں ہمچوایشاں مقدم برزوج بود کہ متاخر را اگرچہ خود عصبہ باشد بامامور متقدم حق منازعت نیست گو اجنبی باش۔
وآں کہ امام الحی را استحبابا تقدیم دادہ اند بحکم تعلیل ونظر برمان خاص درجنازہ مردان ست۔ زنان رابامسجد وامام چہ کا ر کہ ایشاں نہ حاضر جماعت می شوند نہ شرعا اجاتش دادندپس درصورت مستفسرہ ولایت نماز پدر خدیجہ رابود۔
آرے اگر خدیجہ از مولوی عبدالحکیم پسرے عاقل بالغ داشتے حق تقدم مراورا بودے کہ پسر بر پدر در عصوبت مرجح است وآں پسر را
نماز جنازہ کی ولایت شوہر تمام اقارب کے بعد ہے ۔ یہ ولایت ولایت نکاح کی طرح عصبہ ہونے اور قریبی ہونے کی ترتیب پر قریب تر پھر قریب تر کے لئے ہوتی ہے--اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تواس وقت شوہر مقدم ہوگا۔
اور ان کا جہل ان کے حق سے مانع نہیں ان کے لئے روا ہے کہ جسے چاہیں امامت کا حکم دے دیں ان کامامور بھی ان ہی طرح شوہر پر مقدم ہوگا کہ متاخر کو--اگر چہ عصبہ ہو-- مامور کے ساتھ نزاع کا حق نہیں گو وہ اجنبی ہو۔
اور امام محلہ کو جو تقدیم دی گئی ہے اس کی علت اور زمانہ حال پر نظر کرتے ہوئے--وہ مردوں کے جنازے سے خاص ہے۔ عورتوں جو مسجد اور امام سے کیاکام کہ یہ حاضر جماعت ہوتی ہیں نہ ان کو شرعا اس کی اجازت ہی ہے--تو صورت مسئولہ میں نمازکی ولایت خدیجہ کے والدکو ہوگی۔
ہاں اگرخدیجہ کا مولوی عبدالحکیم سے کوئی عاقل بالغ لڑکا ہوتا تواسے حق تقدم ہوتا کیونکہ عصبہ ہونے میں بیٹے کو باپ پر ترجیح حاصل ہے--اور اس لڑکے کو
فی الدرالمختار یقدم فی الصلوۃ علیہ السلطان ان حضر اونائبہ وھوامیرالمصر(ثم القاضی)ثم صاحب الشرط ثم خلیفۃ ثم خلیفۃ القاضی (ثم امام الحی)فیہ ایھام وذلك ان تقدیم الولاۃ واجب وتقدیم امام الحی مندوب فقط بشرط ان یکون افضل من الولی والافالولی اولی(ثم الولی) بترتیب عصوبۃ الانکاح الا الاب فیقدم علی الابن اتفاقا الاان یکون عالماوالاب جاھلافالابن اولی فان لم یکن لہ ولی فالزوج ثم الجیران ولہ ای للولی ومثلہ کل من یقدم علیہ (الاذن لغیرہ فیھا)لانہ حقہ فیملك ابطالہ (الا) انہ (ان کان ھناك من یساویہ فلہ) ای لذلك المساوی ولواصغرسنا (المنع) لمشارکتہ فی الحق اماالبعیدفلیس لہ المنع اھ باختصار۔
وفی ردالمحتار قولہ(ثم امام الحی)
شریعت حکم دیتی ہے کہ اپنے باپ مولوی عبدالحکیم کو آگے کر اورادب کا لحاظ کرکے اس کے آگے قدم نہ رکھ۔ اس طرح مولوی عبدالحکیم کو تقدم ہو جاتا۔
درمختار میں ہے : نماز جنازہ پڑھانے میں مقدم سلطان اسلام ہے اگر وہ موجود ہو یا اس کا نائب یہ شہر کا حاکم اسلام ہے۔ پھر قاضی پھر کوتوال پھر اس کا خلیفہ پھر قاضی کا خلیفہ پھر امام محلہ۔ اس میں برابری کا ایہام ہے اور حکم یہ ہے کہ حکام کی تقدیم واجب ہے اور امام محلہ کی تقدیم صرف مندوب ہے بشرطیکہ ولی سے افضل ہو ورنہ ولی بہتر ہے۔ پھر ولی ۔ نکاح کرانے میں عصبہ ہونے کی جوترتیب ہے وہی یہاں بھی ہوگی مگر باپ کہ وہ بیٹے پر یہاں بالاتفاق مقدم ہے لیکن اگر بیٹا عالم اور باپ جاہل تو بیٹااولی ہے۔ اگر کوئی نہ ہو تو شوہر پھر ہمسائے۔ ولی کوا ور اسی کی طرح ہر اس شخص کو جسے دوسروں پر تقدم ہے یہ حق حاصل ہے کہ کسی اور کو اذن دے دے کیونکہ یہ اس کا حق ہے تو اسے باطل کرنے کا اختیار ہوگا۔ لیکن وہاں اگر کوئی اس کے مساوی ہو تو اسے اگر چہ وہ عمر میں چھوٹا ہی ہو۔ دوسرے کو روکنے کا حق حاصل ہے کیونکہ حق میں وہ اس کا شریك ہے ہاں بعید کو روکنے کا اختیار نہیں اھ باختصار۔
ردالمحتار میں ہے : امام محلہ اس لئے اولی ہے
اقول : سیأتی بعد سطران الحق انما ھوللولی وانما یستحب تقدیم امام الحی لاجل التعلیل المذکور فاذافاتت العلۃ فلیفت المعلول ولادخل فی ذلك لکون عدم رضاہ بوجہ صحیح فلیتامل۔ ثم قال فی ردالمحتار واما امام مصلی الجنازۃ الذی شرطہ الواقف وجعل لہ معلوما من وقفہ فھل یقدم علی الولی کامام الحی ام لاللقطع بان علۃ الرضا بالصلوۃ خلفہ فی حیاتہ خاصۃ بامام المحلۃ واستظھر المقدسی انہ کالاجنبی مطلقالانہ انما یجعل للغرباء ومن لاولی لہ۔
کہ مرنے والا اپنی زندگی میں اس کے پیچھے نماز پڑھنے پر راضی تھا تو بعد وفات بھی اسی کو پڑھانا چاہئے--شرح منیہ میں ہے : اس تعلیل کے پیش نظر اگر وہ زندگی میں اس سے راضی نہ تھا تواس کی تقدیم مستحب نہ ہونی چاہئے اھ--میں کہتا ہوں یہ اس صورت میں مسلم ہے جب اس کی ناراضی کی صحیح وجہ تحت ہوورنہ نہیں--تامل کرو--ردمحتار کی عبارت ختم ہوئی--میں نے دیکھا اوراسکے حاشیہ پر میں نے یہ لکھاہے :
اقول : چند سطور بعد آرہا ہے کہ حق ولی ہی کا ہے اورامام محلہ کی تقدیم تعلیل مذکور کے باعث مستحب ہے تو جب یہ علت فوت ہوتو معلول بھی فوت ہوگا اوراس میں کسی وجہ صحیح کے تحت اس کی ناراضی ہونے کو کوئی دخل نہیں--تامل کرنا چاہئے۔ آگے ردالمحتار میں ذکر ہے کہ : اب سوال یہ ہے کہ وہ امام جو جنازہ پڑھانے کے لئے مقرر ہو جس کی وقف کرنے والے نے شرط کی ہے اور وقف سےاس کے لئے تنخواہ مقرر کردی ہےکیا امام محلہ کی طرح وہ بھی ولی پر مقدم ہوگایامقدم نہ ہوگاکیونکہ قطعی بات ہے زندگی میں اقتدا سے راضی ہونے کے علت صرف امام محلہ کے حق میں ہے--امام مقدسی نے اظہار فرمایا کہ وہ بالکل اجنبی کی طرح ہے کیونکہ اس کا تقرر مسافروں اور ایسے مردوں کے لئے ہوتا جن کا کوئی ولی نہ ہو۔
اقول : (میں کہتا ہوں) یہ بہتر ہے اس لئے کہ آگے آرہا ہے کہ اصل یہ حق ولی کا ہے اس پر حکام اورامام محلہ کی تقدیم تعلیل مذکور کے سبب ہے اوروہ علت یہاں موجود نہیں-- اوراس امام جنازہ اور پنجگانہ کے امام مقرر کے درمیان فرق ظاہر ہے اس لئے اس نے زندگی میں اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کیا جبکہ امام مقرر کا حال یہ نہیں شرح منیہ میں ہے کہ اصل یہ ہے کہ نماز کاحق ولی کو ہے۔ اسی لئے امام ابویوسف کے نزدیك اور امام ابو حنیفہ سے ایك روایت میں وہ سب سے مقدم ہے ۔ اس لئے کہ یہ ایساحکم ہے جس کا تعلق ولایت سے ہے جیسے نکاح کرانے کا معاملہ ہے مگر استحسان یہ ہے کہ یہاں سلطان وغیرہ مقدم ہوں جس کی وجہ بیان ہوچکی ۔ اور یہی ظاہرالروایہ ہے__ عبارت درمختار (نکاح کرانے میں عصبہ ہونے کی جو ترتیب ہے وہی ہوگی) اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لئے ولایت نہیں اور شوہر کے لئے بھی نہیں مگروہ اجنبی سے زیادہ حقدار ہے-- میں کہتاہوں ظاہر یہ ہے کہ ذوی الارحام بھی ولایت میں داخل ہیں اور عصبہ ہونے کی قید صرف عورتوں کو خارج کرنے کے لئے ہے
تو وہ اجنبی سے اولی ہوں گے۔ اوریہ ظاہر ہے جس کی تائید ہدایہ کے الفاظ “ ولایت نکاح “ سے ہوتی ہے --عبارت درمختار (باپ بیٹے پر یہاں بالاتفاق مقدم ہے) یہی اصح ہے۔ اور کہا گیا کہ یہ امام محمد کا قول ہے اور شیخین (امام اعظم و امام ابویوسف) کے نزدیك بیٹا اولی ہے-- فتح القدیر میں ہے : ہم نے زیادہ عمر والے کو مقدم کیا حدیث قسامت کے پیش نظرجس میں ہے کہ “ دونوں میں جو زیادہ بڑا ہے وہ کلام کرے “ --اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ شیخین کے نزدیك حق بیٹے کاہے۔ مگر سنت یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کو آگے کرے اس پر علماء کا یہ کلام دلالت کررہاہے : دیگر اہل قرابت شوہر سے اولی ہیں اگرشوہر کا اس عورت سے کوئی بیٹا نہ ہو اگرہو تو شوہر ان سے اولی ہے۔ اس لئے کہ حق بیٹے کا ہے اوروہ اپنے باپ کو آگے کرے گا--اور یہ کہنا بعید نہ ہوگا کہ بیٹے کا باپ کو اپنی ذات پر مقدم کرنا ازروئے حدیث واجب ہے اھ—بدائع میں ہے : حکم ولایت کے تحت بیٹے کو یہ اختیار حاصل ہے اور خود آگے بڑھنے سے اس کو اس لئے روکا گیا کہ اپنے باپ کی بے ادبی کا مرتکب نہ ہو تو دوسرے کو آگے بڑھانے کا حق اس سے نہ گیا۔ عبارت درمختار (مگر یہ کہ بیٹا عالم ہو) بحر میں ہے : اگر باپ جاہل اور بیٹاعالم ہوتو بیٹے کو آگے کرنا چاہئے ۔ مگر یہ کہا جائے کہ علم نماز جنازہ میں
تقدم کا موجب نہیں کیونکہ اس میں علم کی ضرورت نہیں اس پر نہر میں یہ اعتراض ہے کہ امام محلہ ولی پر اسی وقت تقدم پاتا ہے جب اس سے افضل ہو۔ ہاں قدوری نےباپ پر بیٹے کا تقدم مکروہ ہونے کی علت یہ بتائی کہ اس میں باپ کی تقدیم مطلقا ضروری ہے اھ-- میں کہتا ہوں اس سے اس کلام کی تائید ہورہی ہے جو فتح القدیر کے حوالے سے گزرا۔ تلخیص وانتخاب کے ساتھ ردالمحتار کا مضمون ختم ہوا۔ خانیہ پھر ہندیہ کتاب الصلوۃ میں ہے : کسی شخص نے مسجد تعمیرکی اورا سے خداکے لئے وقف کردیاتو اس کی مرمت عمارت اذان اقامت اور امامت کا وہ سب لوگوں سے زیادہ حقدار ہے اگر وہ اس کا اہل ہو ورنہ اس بارے میں رائے اسی کی لی جائے گی اھ(یعنی دوسرے کو مقرر کرنے کا حق اسی کو ہوگا) اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ نمبر ۴۱ : موضع بکہ جیبی والا علاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاك خانہ نجیب اﷲ خان مرسلہ مولوی شیر محمد صاحب ۱۴ جمادی الاخرہ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میت اگر چہ بالغ ہو یا نابالغ ہو اس کے جنازہ میں ولی داخل نہیں ہوا تو اس کا جنازہ ہوا یا نہیں :
الجواب :
نماز ہوگئی جو نماز بے اجازت ولی پڑھی جائے ولی کو اختیار ہے کہ دوبارہ پڑھے۔ مگر جو پہلے پڑھ
فتاوی ہندیہ الفصل الثانی فیما یکرہ فی الصلٰوۃ الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١١٠
فی الدرالمختار یقدم فی الصلوۃ علیہ السلطان اوامیر المصر ثم القاضی ثم امام الحی ثم الولی فان صلی غیرالولی من لیس لہ حق التقدم علی الولی ولم یتابعہ الولی اعادالولی ولوعلی قبرہ ان شاء لاجل حقہ لا لاسقاط الفرض ولذا قلنا لیس لمن صلی علیھا ان یعید مع الولی لان تکرارھاغیرمشروع وان صلی من لہ حق التقدم کقاض اونائبہ اوامام الحی اومن لیس لہ حق التقدم وتابعہ الولی لایعید اھ مختصرا۔ واﷲتعالی اعلم۔
درمختار میں ہے : میت کی نمازپڑھنے میں مقدم بادشاہ یاولی شہر ہے پھر قاضی پھر امام محلہ پھر ولی--اگر ولی کے علاوہ ایسے شخص نے جس کو ولی پر تقدم کا حق حاصل نہیں نماز جنازہ پڑھ لی اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی اگر چاہے تو دوبارہ پڑھ سکتا ہے خواہ قبر پر ہی پڑھے اسے یہ اختیار اپنے حق کے سبب ہے اس لئے نہیں کہ فرض جنازہ ادا نہ ہوا تھا اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ پہلے جو پڑھ چکے تھے وہ ولی کے ساتھ ہوکر دوبارہ نہیں پڑھ سکتے-- اس لئے کہ نماز جنازہ کی تکرار جائز نہیں--اور اگر پہلے ایسے شخص نے پڑھی جسے ولی پر تقدم کا حاصل ہے جیسے قاضی یا نائب قاضی یا امام محلہ یا ایسے شخص نے پڑھ لی جسے حق تقدم حاصل نہیں مگر ولی نے اس کی متابعت کر لی تھی تو دوبارہ نہیں پڑھ سکتا اھ مختصرا (ت)
مسئلہ نمبر : ازبریلی مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خاں صاحب سلمہ اﷲ تعالی رمضان المبارك ھ
چے می فرمایند علمائے کرام دریں مسئلہ کہ بوقت نماز مغرب جنازہ بیاید تقدیم نماز فرض بایدیانماز میت۔ اس مسئلہ میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں کہ مغرب کے وقت جنازہ آئے تو پہلے نماز فرض کی ادائیگی ہو یا نماز جنازہ کی
الجواب :
نماز مغرب راتقدیم باید کما فی ردالمحتار بلکہ سنن راتبہ نیز بہ یفتی کما فی البحر وغیرہ
پہلے نماز مغرب ادا کرنا چاہئے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے بلکہ مقررہ سنتوں کو بھی ادا کرلینا چاہئے۔ اسی پر
فتوی ہے جیسا کہ بحر وغیرہ میں ہے اقول : ہاں اگر ضرورت پہلے ادائے جنازہ کی طالب ہے مثلا مردہ کا پیٹ پھولا ہوا ہے اور اندیشہ ہے کہ اگر دیر کریں تو پھٹ جائے گا اور ابھی وقت میں اتنی وسعت ہے کہ جنازہ پہلے ادا کرنے سے مغرب فوت نہ ہوگی تو ایسے وقت میں ناچار بالاتفاق نماز جنازہ کی ادائیگی پہلے ہوگی جیسا کہ پوشیدہ نہیں واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ نمبر : ۸شوال ھ
ظہر کی نماز کا وقت ابھی شروع ہوا پھر جنازہ بھی آیا اور وقت بہت ہے اب کون نماز مقدم ہو اور سنت کس وقت
الجواب :
جب وقت ظہر وسیع ہے جنازے کی تقدیم کریں ہاں اگر جنازہ لے جانے والے بھی اسی جماعت ظہر میں شریك ہوں گے کہ اگر جنازہ کی نماز پہلے ہوجائے جب بھی جنازہ نماز ظہر سے فارغ ہونے کے لئے رکھا رہے گا اس کے تغیر کا اندیشہ نہ ہو تو ظہر کے فرض و سنت پہلے پڑھیں اس دیر میں شاید اور نمازی بھی آجائیں اور جنازے پر تکثیر ہو۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر : ازمرادآباد محلہ گل شہید مرسلہ مولوی جمیل الدین احمد صاحب صفر ھ
ماقولکم ایھا العلماء الراسخون والفقھاء الماھرون فی ان ولی المیت صلی علیہ او غیربانابتہ صلوۃ الجنازۃ اول وقت العصر قبل ان یصلی العصر ھل تجوز صلوۃ الجنازۃ قبل صلوۃ العصر ام لا وان تجز فمن اعادھا بعد صلوۃ العصر باعتقاد انھا لاتجوز قبلھا ھل یکون مبتدعا شرعا اولا بینوہ بیانا شافیا توجروا عنداﷲ اجرا وافیا۔
علمائے راسخین وفقہائے ماہرین کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے کہ اول وقت عصر میں ولی میت نے یا اس کی اجازت سے دوسرے نے نمازجنازہ ادائے عصر سے پہلے پڑھ لی تو عصر سے پہلے یہ نماز جائز ہو ئی یا نہیں اگر جائز ہوئی تو بعد عصر جنازہ دوبارۃ پڑھے اس خیال سے کہ قبل عصر وہ جائز نہیں تو شرعا مبتدع ہے یا نہیں شافی طور پر بیان فرمائیں خداکے یہاں وافی اجر پائیں۔
صلاۃ الجنازۃ مشروعۃ فی کل وقت حتی فی الاوقات الثلثۃ ان حضرت فیھا فی الدرالمختار ینعقد نفل بشروع فیھا بکراہۃ التحریم لا ینعقد الفرض وماہوملحق بہ کو اجب لعینہ کو تر و سجدۃ تلاوۃ وصلوۃ جنازۃ تلیت الایۃ فی کامل و حضرت الجنازۃ قبل لوجوہ کاملا فلایتادی ناقصا فلو وجبتا فیھالم یکرہ فعلھما ای تحریما وفی التحفۃ الافضل ان لاتؤخر الجنازۃ اھ فی ردالمحتار مافی التحفۃ اقرہ فی البحر والنھر والفتح والمعراج لحدیث ثلث لایؤخرن منھا الجنازۃ اذاحضرت اھ واعتقاد انھا لاتجوز قبل صلوۃ العصر جہل فاضح او زیخ واضح وافتراء بلا امتراء علی الشریعۃ الغراء نعم ان ضاق الوقت یجب تقدیم العصر لکن قدمت صحت واذاصلاھا الولی اوغیرہ باذنہ فلاتجوز اعادتھاکماحققناہ بتوفیق اﷲ تعالی بما لامزید فی رسالتنا
نماز جنازہ ہر وقت مشروع ہے یہاں تك کہ تینوں اوقات مکروہہ میں بھی اگر اسی وقت آیا ہو۔ درمختار میں ہے : ان اوقات میں نماز نفل کراہت تحریم کےساتھ ہوجائےگی فرض نہ ہوگا اور وہ بھی جواس سے ملحق ہے جیسے واجب لعینہ جیسے وتر اور سجدہ تلاوت و نماز جنازہ جبکہ آیت سجدہ کامل وقت میں پڑھی گئی ہو اور جنازہ وقت مکروہ سے پہلے آگیا ہو اس لئے کہ ان کا وجوب کامل ہوا تو ناقص طور پر ادائیگی نہ ہوگی ہاں اگر ان دونوں کا وجوب ان ہی اوقات میں ہوا ہو تو ان اوقات میں ان کی ادائیگی مکروہ تحریمی نہیں۔ تحفہ میں ہے : افضل یہ ہے کہ جنازہ میں دیر نہ کی جائے اھ۔ ردالمحتار میں ہے : تحفہ میں جو مذکور ہے اسے بحر نہر فتح اور معراج میں برقرار رکھا ہے کیونکہ حدیث میں ہے : تین چیزوں میں دیر نہ کی جائے ان میں سے ایك یہ جنازہ ہے جب آجائے اھ۔ اور یہ خیال ہے کہ نماز عصر سے پہلے جنازہ ناجائز ہے رسواکن جہالت ہے یا کھلی ہوئی گمراہی اور شریعت مبارکہ پر قطعی افتراء --ہاں اگر وقت تنگ ہو تو پہلے عصر پڑھنا ضروری ہے لیکن اگر نماز جنازہ پہلے پڑھ لی تو وہ بھی صحیح ہوگئی--اور جب ولی نے یا اس کی اجازت سےدوسرے نے نماز جنازہ پڑھ لی تو دوبارہ پڑھنا جائز نہیں جیسا کہ ہم نے بتوفیق الہی اپنے رسالہ
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ مصطفی البابی مصر ١ / ٢٧٥
النھی الحاجز تکرارصلوۃ الجنائز میں اس کی بھر پور تحقیق کی ہے— سراج وہاج بحرالرائق ردالمحتار جامع الرموز جوہرہ نیرہ ہندیہ مجمع الانہر وغیرھما میں ہے : اگر ولی نے جنازہ پڑھ لیا تواس کے بعد کسی کو پڑھنا جائز نہیں اھ درمختار میں ہے : یاکسی ایسے شخص نے پڑھا جسے ولی پر حق تقدم حاصل نہیں مگر ولی نے اس کی متابعت کرلی تو دوبارہ نہیں پڑھ سکتا اھ مختصرا۔ اورخدائے برتر خوب جاننے والا ہے (ت)
مسئلہ نمبر : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھانا تیار ہے جنازہ بھی تیار ہے تو پہلے کھانا کھائے یا مردے کو دفن کرے
الجواب :
جنازہ آگیا تو پہلے اس کی نماز پڑھ لے اس کی نماز میں ایسی دیر نہیں ہوتی پھر بھوك وغیرہ وہی عـــہ ضرورتیں لاحق ہیں تو دفن کے لئے بعد کھانا کھانے کے جائے یا فقط نماز پر قناعت کرے جبکہ لے جانیوالے موجود ہوں اور اس کے نہ جانے سے کوئی شرعی حرج شرعی نہ آتا ہو۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
مسئلہ نمبر : ازٹاہ اسٹیشن دیورنیا مرسلہ شیخ نیاز احمد صاحب ذیقعدہ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك جنازہ کی نماز میں کچھ لوگ بلاوضو وبلاتیمم شریك ہوگئے ان کی نماز ہوئی یا نہیں اور ان کی نسبت کیا حکم ہے اورا یك شخص نے کہا کہ انہوں نے کچھ برا نہ کیا کہ نماز جنازہ میں صرف امام کی طہارت ضروری ہے مقتدیوں کی طہارت کی حاجت نہیں اس کایہ قول کیساہے بینوا توجروا
عـــہ : کھانا سامنے آیا اورکھانے کے بعد جنازہ مل جائیگا یا پہلے جنازہ میں شرکت کرے تو بھوك کی وجہ سے دل کھانے کی طرف رہے کھانا ٹھنڈا ہوکر بے مزا ہوجائے گا یا اس کے دانت کمزور ہیں روٹی ٹھنڈی ہوجائےگی اور چبائی نہ جائے گی(م)
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مجتبائی دہلی ١ / ١٢٣
جنازہ کی نماز مثل اور سب نمازوں کے بغیر طہارت کے ہر گز صحیح نہیں ۔ وہ پڑھنے والے گنہگار ہوئے اورانہوں نے بہت سخت برا کیا اوران کی نماز ہرگز ادا نہ ہوئی۔ نماز جنازہ میں صرف طہارت امام شرط ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اگر ایسا ہو جب بھی اس میت کی نماز جنازہ اداہوجائیگی اور وہ فرض کفایہ ساقط ہوجائے گا کہ جب امام طاہر تھا تواس کی نماز صحیح ہوگئی اس فرض کے ادا کرنے کو اتنا کافی ہے کہ اس میں جماعت شرط نہیں یہ معنی نہیں ہیں کہ فقط طہارت امام صحت نماز مقتدیان کے لئے بھی کفایت کرتی ہے مقتدیوں کو بے طہارت پڑھ لینی جائز ہے یہ محض جہالت فاحشہ ہے جس نے یہ فتوی بیہودہ دیا وہ شرعا تعزیر دئے جانے کے قابل ہے کہ جاہل کو مفتی بنناحرام ہے۔
فی ردالمحتار اماالشروط التی ترجع الی المصلی فھی شروط بقیۃ الصلوۃ من الطھارۃ الحقیقۃ بدناوثوباومکاناوالحکمیۃ وسترالعورت و لاستقبال والنیۃ سوی الوقت ۔
ردالمحتار میں ہے : نماز جنازہ پڑھنے والے سے متعلق شرطیں وہی ہیں جو بقیہ نمازوں سے متعلق کہ بدن جامہ جگہ نجاست حقیقیہ سے پاك ہو بدن نجاست حکمیہ سے بھی پاك ہو سترعورت ہو استقبال قبلہ اور نیت ہووقت کی شرط نہیں۔ (ت)
اسی میں ہے : لاصحۃ لھابدون الطھارۃ ۔ بغیر طہارت کے نماز جنازہ صحیح نہیں۔ ت)درمختار میں ہے :
لو ام بلاطہارۃ والقوم بھااعیدت وبعکسہ لا کما لوامت امرأۃ ولوامۃ لسقوط فرضہا بواحد ۔
اگر امام بے طہارت ہے اور مقتدی باطہارت تو جنازہ پھر سے پڑھنا ہے اور اس کے برعکس ہے تو اعادہ نہیں جیسے اگر کوئی عورت امامت کردے خواہ کنیز ہی ہوتو اعادہ نہیں اس لئے کہ ایك کے پڑھ لینے سے بھی فرض اداہوجاتا ہے(ت)
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ۱ / ۵۸۲
دُرمختار مطبوعہ مطبع مجتائی دہلی ١ / ١٢١
ای لاتعاد لصحۃ صلوۃ الامام وان لم تصح صلوۃ من خلفہ ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یعنی اعادہ اس لیئے نہیں کہ امام کی نماز صحیح ہوگئی اگرچہ پیچھے والوں کی نماز صحیح نہ ہوئی۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ نمبر : ازگوالیار مسئولہ مولوی محمد محمود الحسن صاحب ربیع الآخر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
() ایك جنازے کی نماز میں زید نے لوگوں کو جنہوں نے جوتوں میں سے پیروں کو نکال کر اور جوتے کے اوپرپیر رکھ کر نماز پڑھنا چاہا روکاکہ پیر جوتوں سے مت نکالو جوتے پہنے ہوئے نماز درست ہے۔ عمرو نے ایك شخصیت کے الفاظ میں کہا کہ کوئی کہتاہے جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھو جوتے سب اتار ڈالیں۔ چنانچہ بعض نے زید کے کہنے پر عمل کیا بعض نےعمرو کے کہنے پر۔ بعد نماز بحث پیش آئی۔ زید نے تحریری جواب میں کہ رسول خدا نے نماز میں جوتا اتارا مقتدیوں نے بھی اتار ا پیغمبر صاحب نے دریافت کیا تم نے جوتے کیوں اتارے جواب دیا کہاتباع کیا۔ آپ نے فرمایامجھ سےجبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ جوتے میں ناپاکی ہے۔ پس معلوم کرلینا چاہئے عمرو کو ایسا کہنا خلاف تھا اس لئے کہ وہ کیسے برجستہ الفاظ صدر کہہ سکتا تھا اس لئے ناپاکی کا ثبوت نہیں رکھتا تھا مقامی حالت میں جہاں جوتے اتار کر نماز پڑھنے کے واسطے عمرو نے کہا تھا یہ تھی کہ وہاں گھوڑے وغیرہ پیشاب کرتے ہیں جوتے پہنئے ہوئے جسقدر لوگ تھے ان کے جوتے خشك تھے پس اس حالت میں شرعا عمرو کا کہنا صحیح سمجھا جائے گا یا زید کا
() عمرو مذکور نے ایك مرتبہ ایسا بھی کیا کہ نماز جنازہ دوبار پڑھائی زید نے اس کو مکروہ کہا اور جب عمرو کی جانب سے لوگوں نے بحث کی تواس نےعلاوہ مکروہ کے آثار فتنہ اوربدعت بھی ثابت کیا کیا زید کا کہنا حق ہے
الجواب :
() اگر وہ جگہ پیشاب وغیرہ سے ناپاك تھی یا جن کے جوتوں کے تلے ناپاك تھے اور اس حالت میںجوتا پہنے ہوئے نماز پڑھی ان کی نماز نہ ہوئی احتیاط یہی ہےکہ جوتا اتار کر اس پر پاؤں رکھ کر نماز پڑھ لی جائے کہ زمین یا تلاناپاك ہو تو نماز میں خلل نہ آئے۔ ردالمحتار میں ہے :
کبھی بعض مقامات مین بیرون مسجد سڑك پر جنازہ رکھ کر نماز پڑھی جاتی ہے اس سے بہت سے لوگوں کی نمازکا فسالازم آتاہے کیونکہ وہ جگہیں نجس ہوتی ہیں اور لوگ اپنے نجاست آلود جوتے اتارتے نہیں(ت)۔
اسی میں ہے :
فی البدائع لوصلی علی مکعب اعلاہ طاھر وباطنہ نجس عندمحمد یجوز لانہ صلی فی موضع طاہر کثوب طاھر تحتہ ثوب نجس اھ وظاہرہ ترجیح قول محمد وھوالاشبہ (ملخصا)
بدائع میں ہے : اگر کسی ایسے مکعب پر نماز پڑھی جس کا بالائی حصہ پاکہے اور اندرونی حصہ ناپاك ہے تو امام محمد کے نزدیك جائز ہے اس لئے کہ نماز پاك جگہ اداہوئی جیسے کوئی پاك کپڑاہو جس کے نیچے دوسراناپاك کپڑا ہو اھ۔ اس کا ظاہر امام محمد کے قول کی ترجیح ہے اور وہی اشبہ ہے(ملخصا) (ت)
زید نے بیان حدیث میں غلطی کی حدیث میں تولفظ نجاست نہیں لفظ قذر ہے یعنی گھن کی چیز جیسے ناك کی آمیزش وغیرہ نجاست ہوتی ہے تو نماز سرے سے پڑھی جاتی کہ نماز کا ایك جز باطل ہونا ساری نماز کو باطل کردیتا ہے واﷲتعالی اعلم
() نماز جنازہ جب ولی پڑھائے یاباذن ولی ہوجائے تو دوبارہ پڑھنا جائز نہیں
کما ھو مصرح فی جمیع الکتب وتفصیلہ فی رسالتنا النھی الغحاجز عن تکرار صلوۃ الجنائز ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جیسا کہ تمام کتابوں میں اس کی تصریح ہے اور اس کی تفصیل ہمارے رسالے النہی الحاجز عن تکرارصلاۃ الجنائز میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ نمبر : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نماز جنازہ اس طرح ادا کرنا کہ میت چارپائی پر ہو اور چارپائی کے پائے ایك ہاتھ سے زائد بلند ہوں جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو کس دلیل سے جائز ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
نماز کے وقت میت کا چارپائی پر ہونا صدر اولی معمولی مسلمانان ہے اس کے پائے حسب عادت
ردالمحتار باب مفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیما مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ١ / ٤٢١
فی ردالمحتار عن جامع الرموز عن تحفۃ الفقہاء ان رکنھا القیام ومحاذاتہ الی جزء من اجزاء المیت اھ واﷲ تعالی اعلم
ردالمحتار میں جامع الرموز سے اس میں تحفۃ الفقہاء سے منقول ہے نماز جنازہ کا رکن قیام ہے اور نمازی کا میت کے کسی جز کے مقابل ہونا ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۰ : از اجمیر شریف مرسلہ محمود الحسن محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ اگر جنازہ کو ایسی چارپائی پر رکھ کر نماز پڑھی کہ جس کے پائے ایك بالشت سے کم تھے تب تو نماز ہوگئی ورنہ نہیں۔ اور ثبوت میں شامی اورکبیری پیش کرکے کہتا ہے کہ جنازہ مثل امام کے ہے جس طرح امام کا ایك بالشت سے اوپر کھڑا ہونامفسد صلوۃ ہے اس صورت میں بھی پائے ایك بالشت سے زائد ہونا مانع صلوۃ جنازہ ہے۔ کیاواقعی اگر پائے ایك بالشت سے زیادہ ہوں تو مفسد صلوۃ جنازہ ہیں یا ایك بالشت ہونا اولی ۔ اور اس سے زائد مکروہ یا مطلقا خواہ جس قدر بھی پائے لمبے ہوں جائز ہےبینواتوجروا۔
الجواب :
زید کے اقوال سب باطل وبے اصل ہیں نہ پایوں کی بلندی شرعا کسی حد پر مخصوص رکھی گئی ہے نہ ایك بالشت بلندی میں کچھ اولیت نہ ایك بالشت یاایك گز امام کی بلندی مفسد نماز نہ ہر بات میں جنازہ مثل امام یہ ہوسات عاطلہ وادہام باطلہ ہیں جنازہ کا زمین پر رضا ہونا ضرور شرط ہے اگرچہ پائے کتنے ہی بلند ہوں اور امام بقدر امتیاز سب مقتدیوں سے اونچاہونامکروہ ہے نہ مفسد نماز۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۱ : نماز جنازہ میں امام کے نیچے جانماز ہوتی ہے اور مقتدی سب زمین پر یہ جائز ہے یا ناجائزبینواتوجروا
صورت مستفسرہ میں جواز تو یقینی ہے۔ رہی کراہت اس کے لئے بھی کوئی وجہ نہیں۔ نہ فقیر کو یاد کہ کسی کتاب میں اسے منع لکھا ہو۔ درمختار میں جو اس مقدار کوجس سے امام ومقتدی میں امتیاز پایا جائے مکروہ لکھا وہاں بلندی موضع میں کلام ہے یعنی امام کو مقتدیوں سے اتنا اونچا کھڑاہونا مکروہ ہے جس سے امتیاز واقع ہو اور وجہ اس کی حدیث میں نہی آنا اور اہل کتاب سے مشابہت پایاجانا ہے کہ یہود وعنود اپنے امام کے لئے جائے بلند مقرر کرتے ہیں یہاں تك کہ نہی ومشابہت ثابت نہیں تو کراہت پر بھی حکم نہیں دے سکتے۔
فی الدرالمختار وانفرادالامام علی الدکان للنھی وقدرالاتفاع بذراع ولابأس بمادونہ وقیل مایقع بہ الامتیاز ھوالاوجہ ۔ فی ردالمحتار قولہ للنھی وھوما اخرجہ الحاکم انہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نھی ان یقوم الامام فوق ویبقی الناس خلفہ وعللوہ بانہ تشبہ باھل الکتاب فانھم یتخذون لامامھم دکانا ۔ اھ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم صلی اﷲ تعالی علیہ سیدنا ومولنامحمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین وبارك وسلم امین۔
درمختار میں ہے : امام کا تنہا کسی دکان (اونچی جگہ) پر کھڑاہونا مکروہ ہے کیونکہ اس سے ممانعت آئی ہے اونچائی کی مقدار ایك ہاتھ ہے اس سے کم ہو توحرج نہیں اور کہاگیا کہ بس اتنی اونچائی جس کی وجہ سے وہ ممتاز نظر آئے اوریہی اوجہ ہے۔ ردالمحتار میں ہے : ممانعت کی حدیث وہ ہے جسے حاکم نے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ امام اوپر کھڑا ہو اور لوگ اسکے پیچھے نیچے رہیں۔ علماء نے اس کی علت یہ بتائی ہے کہ اس میں اہل کتاب سے مشابہت ہے اس لئے وہ امام کے لئے کوئی اونچی جگہ بناتے ہیں بحر اھ۔ اورخدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے اﷲ تعالی کی رحمت برکت اور سلام ہو ہمارے آقا ومولو محمد رسول اﷲ اور ان کی آل واصحاب سب پر ۔ الہی قبول فرما۔ (ت)
مسئلہ نمبر : ۲۲شوال المکرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مردہ کے نماز پڑھانے کے واسطے جو جا نماز ملتی ہے اس سے کرتا اور کچھ کپڑا بنانا جائز ہے یا نہیں اور اگر جائز نہیں تو اس سے جونماز مفروضہ پڑھی گئی ہووہ لوٹائی جائے گی یا نہیں اوراس کفن سے یہ جانماز کے واسطے کپڑا نکالنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ١ / ٤٣٤
اس جانماز سے دو غرضیں لوگوں کی ہیں : ایك یہ اکثر نماز جنازہ راستے وغیرہا بے احتیاطی کے مقامات پر ہوتی ہے مسجد کہ صاف وپاکیزہ رکھی جاتی ہے اس میں نماز جنازہ منع ہے تو بغرض احتیاط امام کے نیچے جانماز بچھا دیجاتی ہے کہ سب مقتدیوں کے لئے اس کا مہیا کرنا دشوار ہوتا ہے اور اگر فرض کیجئے کہ وہ تمام جگہ ایسی ناپاك ہے کہ کسی کی نماز نظر بواقع نہ ہوسکے تو جانماز کے سبب امام کی تو ہوجائے گی اور اسی قدر سب مسلمانوں کی طرف سے ادا ئے فرض وابرائے ذمہ کے لئے کافی ہے کہ نماز جنازہ میں جماعت شرط نہیں دوسرے نفع فقیر کہ وہ جانماز بعد نماز کسی طالب علم یا اور فقیر پر تصدیق کردی جاتی ہے اور یہ دونوں غرضیں محمود ہیں تواس کے جواز میں کلام نہیں اورجس فقیر پر وہ تصدق کی گئی اسکی ملك ہے کرتا وغیرہ جو چاہے بنائے اس میں نماز مکروہ بھی نہیں نہ اصلا حاجت اعادہ ۔ کمالایخفی(جیساکہ واضح ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۵۳ : ازمنڈی ہلدوانی ضلع نینی تال مرسلہ حفیظ احدمستری ربیع الآخر ھ
نماز جنازہ کے وقت امام کے سامنے جو جانماز بچھاتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں
الجواب :
جائز ہے وقد بینا الحکمۃ فیہ فی فتاونا(اور اس کی حکمت ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کی ہے۔ ت)
مسئلہ نمبر : شوال ۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك بزرگ کے مزار پر چادریں چڑھائیں اور زیات کے مجاور نے اپنے قبضہ میں لاکر ان چادروں کو عمرو کے ہاتھ فروخت کیا اور عمرو نے بکر کے ہاتھ پس اس حالت میں بکر نے اس کا اوڑھ کر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اگر تصریحا عرف ورواج سے یہ امر ثابت ہے کہ وہ چادریں مجاوروں کے لینے کے لئے چڑھائی جاتی ہیں تو مجاور مالك ہوگیااور بیع جائز ہوئی اوراسے اوڑھ کر نماز پڑھنے میں حرج نہیں اوراگر چادراس لئے چڑھائی کہ مزار پر رہے تو وہ ملك زید پر باقی ہے اور بیعین اس کی اجازت پر موقوف ہیں اگر جائز کردے گا نافذ ہوجائیں گی ورنہ باطل۔ واﷲ تعالی اعلم
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز جنازہ میں مقتدی فقط سبحانپڑھ کرخاموش ہوجائیں اورکچھ نہ پڑھیں یا سبحان درود شریف دعاجو کچھ امام پڑھے مقتدی بھی پڑھیں بینواتوجروا۔
الجواب :
مقتدی بھی سب کچھ پڑھیں کہ نماز جنازہ میں صرف ذکر ودعاہے قرائت قرآن نہیں اور مقتدیوں کو صرف قرأت قرآن عظیم ہی منع باقی دعااذکار میں وہ امام کے شریك ہیں۔
فی الرحمانیہ فی الطحطاوی یکبرون الافتتاح مع رفع الیدین ثم یقرؤن الثناء ثم یکبرون ویصلون علی النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ثم یکبرون ویستغفرون للمیت ثم یکبرون ویسلمون ولایرفعون ایدیھم فی التکبیرات الثلث ولاقرأۃ فیہا ۔
رحمانیہ میں ہے : طحطاوی میں ہے کہ کانوں تك ہاتھ لے جانے کے ساتھ تکبیر افتتاح کہیں پھر ثناء پڑھیں پھر تکبیر کہیں اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود پڑھیں پھر تکبیر کہیں اور میت کے لئے اتغفار کریں پھر تکبیر کہیں اور سلام پھیریں۔ بعد کی تینوں تکبیروں میں ہاتھ نہ اٹھائیں۔ اورنماز جنازہ میں قرأت قرآن نہیں۔ (ت)
خزانۃ المفتین میں ہے :
وان کان المیت غیربالغ فان الامام ومن خلفہ یقولون اللھم اجعلہ لناذخراشافعاومشفعا واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اگر میت نابالغ ہوتو امام اورمقتدی سب کہیں گے اے اﷲ! اسے ہمارے لئے آگے جانےوالا کردے اوراسے ہمارے لئے ذخیرہ بنادے اور شفاعت کرنے والا مقبول الشفاعۃ کردے۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔ (ت)
مسئلہ نمبر : ازلشکر کانپور محلہ توپخانہ بازار قدیم چھوٹی مسجد مرسلہ محمد یوسف علی صاحب صفر مظفرھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز جنازہ میں سلام ہاتھ چھوڑنے کے بعد پھیرنا چاہئے یا قبل ہاتھ چھوڑنے کے افضل کیا ہے
خزانۃ المفتین
ہاتھ باندھنا سنت اس قیام کی ہے جس کے لئے قرار ہو کما فی الدرالمختاروغیرہامن الاسفار(جیساکہ درمختار وغیرہ کتابوںمیں ہے۔ ت) سلام وقت خروج ہے اس وقت ہاتھ باندھنے کی طرف کوئی داعی نہیں توظاہر یہی ہے کہ تکبیر چہارم کے بعد ہاتھ چھوڑ دیاجائے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر ۵۷ : ازبنارس کچی باغ مسئولہ مولوی محمد ابراہیم صاحب ذیقعدہھ
بہار شریعت جلد میں ہے چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ کھول کر سلام پھیرے(درمختار ردمحتار ) حالانکہ ان کتابوں میں ہاتھ کھولنے کاذکر نہیں سخت اضطراب ہے رفع فرمائیے۔
الجواب :
جس روزآپ کا سوال آیا حسن اتفاق سے اس کے دوسرے دن بریلی سے مولوی امجد علی صاحب میرے ملنے کے لئے یہاں آئے میں نے ان سے پوچھا انہوں نے فرمایا یہ مسئلہ طویل متعدد مسائل پر مشتمل ہے اوراس کے آخر میں میں نے درمختار اور ردالمحتار وغیرہما لکھا ہے۔ وغیرہما سے یہان میری مراد فتاوی رضویہ ہے۔ وہاں جو کچھ مذکور ہے اس کا بعض درمختار سے لیا گیا اور بعض ردالمحتار سے اور کوئی ذکر مسنون توہاتھ باندھے رہنے کی کوئی وجہ نہیں۔ تکبیررابع کے بعد خروج عن الصلاۃ کاوقت ہے اور خروج کے لئے اعتماد کسی مذہب میں نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر : نماز جنازہ میں تکبیر اخیر کے بعد السلام علیکم ورحمۃایك بار کہا بعد یاددہانی تکبیر کہی اور پھر سلام پھیرا۔
الجواب :
دوسری صورت میں نماز ہوجانا بھی اسی صورت میں ہے کہ اس نے بھول کر سلام پھیرا ہو اور اگر قصدا پھیرا یہ جان کر کہ نماز جنازہ میں تین تکبیریں ہیں تو یہ نماز بھی نہیںہوگی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر : از شہرمرادآباد محلہ مغلپورہ حصہ اول۔ مرسلہ مولوی سید اولاد علی صاحب رمضان المبارك ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز جنازہ کا مسبوق فوت شدہ تکبیروں کو پورا کرے تو ان میں کس کس تکبیر میں کیا کیا پڑھے
الجواب :
اگر جنازہ اٹھالیا جانے کا اندیشہ ہوجلد جلد تکبیریں بلادعا کہہ کر سلام پھیر دے ورنہ ترتیب وار
مسئلہ نمبر ۶۰ : ازکانپور بوچڑ خانہ مسجد رنگیاں مرسلہ مولوی عبدالرحمن جلشانی طالبعلم مدرسہ فیض عالم ۲۳ ربیع الاول ھ
ماجوابکم ایھاالعلماء رحمکم اﷲ تعالی اس مسئلہ میں کہ مردہ کی نمازجنازہ نہ پڑھی ہو تو کتنے دن تك پڑھنا جائز ہے
الجواب :
جب تك بدن میت کا سالم ہونا مظنون ہواور یہ امر اختلاف موسم وحال زمین وحال میت سے جلدی ودیر میں مختلف ہو جاتا ہے گرمی میں جلد بگڑجاتاہے سردی میں بدیر زمین شور یانمك میں جلد سخت وغیر شور میں بدیر فربہ مرطوب جلد خشك والاغر بدیر تواس کے لئے معین نہیں کرسکتے۔
فی الدر دفن واھیل علیہ التراب بغیر صلوۃ اوبھا بلاغسل صلی علی قبرہ مالم یغلب علی الظن تفسخہ من غیر تقدیر ھو الاصح ۔
فی ردالمحتار لانہ یختلف باختلاف الاوقات حرا وبردا والمیت سمنا وھزالاوالامکنۃ بحر وفی الحلیۃ نص الاصحاب علی انہ لایصلی علیہ مع الشك فی ذلك ذکرہ فی المفید والمزید وجوامع الفقہ وعامۃ الکتب وعﷲ فی المحیط بوقوع الشك فی الجواز اھ وتمامہ فیہا اھ ملخصین واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے بغیر نماز کے یابغیر غسل کے نماز پڑھ کر میت کو دفن کردیاگیا اوراس پر مٹی ڈال دی گئی تو اس کی قبر پر نماز پڑھی جائے جب تك اس کے پھٹنے کا ظن غالب نہ ہو اس میں کسی حد کی تعیین نہیں یہی اصح ہے۔ ردالمحتار میں ہے : اس لئے کہ اس میں سردی گرمی کے لحاظ سے مردے کے فرق سے اورمقامات کے فرق سے فرق پڑتا ہے بحر-حلیہ میں ہے کہ ہمارے علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ اس میں شك ہو تو نماز نہ پڑھی جائےگی۔ اسے مفید مزید جوامع الفقہ اورعامہئ کتب میں بیان کیا ہے۔ محیط میں اس کی علت یہ بتائی کہ جواز میں شك ہوگیااھاورپوری بات اسی میں ہے اھ بہ تلخیص۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٢٢٤
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز جنازہ میں جب ایك امام اور پانچ مقتدی ہوں تو بنظر حصول نعمت بشارت مغفرت تین صفوف اس طرح کرلی جائیں کہ صف اول ودوم میں دو دو نفر اورصف سوم میں ایك نفر ہو۔ کیونکہ عبارات فقہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازجنازہ میں ایك شخص کی صف کراہت سے مستثنی ہے جیسا کہ صاحب ردالمحتار بحوالہ کتاب محیط تحریر فرماتے ہیں۔
قال فی المحیط ویستحب ان یصف ثلاثۃ صفوف حتی لوکانو اسبعۃ یتقدم احدھم للامامۃ ویقف وراء ثلاثۃ ثم اثنان ثم واحد اھ فلو کان الصف الاول افضل فی الجنازۃ ایضالکان الافضل جعلھم صفاواحداولکرہ قیام الواحد وحدہ کماکرہ اھ۔
محیط میں تحریر کیا گیا کہ مستحب ہے کہ تین صفیں ہوں یہاں ك کہ اگر سات آدمی ہوں تو ایك امام ہوجائے تین اس کے پیچھے کھڑے ہوں پھر دوپھرایک۔ تو اگر جنازہ میں پہلی صف افضل ہوئی توان سب کو ایك صف میں کر دینا بہتر ہوتا ہے اور تنہا ایك کا کھڑاہونا مکروہ ہوتا جیسے غیر نماز جنازہ میں مکروہ ہے اھ۔
اسی طرح عالمگیریہ میں ہے بحوالہ کتاب تاتارخانیہ اورقنیہ میں بحوالہ کتاب جامع التفاریق للبقالی وعین الہدایہ میں اور رسالہ تجہیز وتکفین میں یہی ترتیب درج ہے اس اتفاق عبارات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ طریقہ پسندیدہ فقہائے کرام یہی ترتیب مذکور ہے۔ فقط
الجواب :
جس حدیث میں یہ بشارت ہے اس میں تین صفوف مروی ہیں پس جہاں تك ہر ایك صف میں کم از کم دوتین آدمی ہوسکیں ایساکرنا عمدہ ہے کیونکہ ایك شخص کو صف نہیں کہتے ہیں۔ ورنہ پھر تین مقتدی ہوں تو تین صف کرنی چاہئے ۔ حالانکہ یہ شاید کسی فقیہ کو پسندیدہ نہ ہو۔ اس حدیث کہ شرح میںمراقاۃ ملا علی قاری میں یہ عبارت منقول ہے :
وفی جعلہ صفوفااشارۃ الی کراہۃ الانفراد ۔
اور اس کے چند صف بنانے میں اکیلے ہونے کی کراہت کی جانب اشارہ ہے۔ (ت)
مراقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المشی الجنازۃ الخ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۴ / ۶۴
واقل الصف ان یکون اثنین علی الاصح ۔
اصح یہ ہے کہ صف کم سے کم دو کی ہو۔ (ت)
پس کراہت انفراد اس عبارت سے خوب ظاہر ہوگئی۔ یہ تفریع تفریعات مشائخ سے معلوم ہوتی ہے۔ ائمہ ثلاثہ سے منقول نہیں۔ حضرت مولانا محمود حسن صاحب نے اس میں یہ فرمایا کہ ایك شخص کی صف نہیں ورنہ تین کی تین صف کرنی چاہئے۔ وھو بعید۔ کتبہ عزیز الرحمان اب کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین گزارش ذیل میں کہ کتاب فقہ سے دو امر بالہدایۃ ماخوذ ہوتے ہیں۔ صلاۃ جنازہ میں شخص واحد کی صف کا کراہت سے مستثنی ہونا ونیز شخص واحد کو علی الاصح بہ تبعیت دیگر صفوف صف سے تعبیر کیا جانا اولی ہونا زیادتی صف اول کی بمقابلہ صف دوم اور صف دوم بمقابلہ صف سوم کی حتی کہ واسطے زیادتی صف اول کے سات نمازی ہونے کی حالت میں صف اولی میں تین اشخاص کا کھڑا کیا جانااور صف سوم میں صرف ایك شخص کا رہنا پسند کیاگیا حالانکہ ممکن تھا کہ ہر صف میں دو دو نفر کھڑے کئے جاتے۔ یہ پتا کسی کتاب سے نہیں چلتا ہے فقہائے کرام نے اس ترتیب پسندیدہئ خود کااستخراج کس حدیث یا نص سے کیا اور حضرت ملا علی قاری نے کس بنا پر ان کی مخالفت پسند کی کہ شخص واحد کے صف کے وجود ہی سے انکار فرمادیا۔ جس سے ترتیب پسندیدہ فقہاء کرام بالکلیہ غلط وعبث ہوئی جاتی ہے۔ پس ہدایت خواہ ہوں کہ اس اختلاف ترتیب صفوف ثلاثہ کے متعلق جو کچھ تحقیق وتنقیح موافق ملت احناف رحمہم اﷲ ہوبحوالہ کتب بخوبی صراحت سے تحریر فرماکر عنداﷲ ماجور وعندالناس مشکور ہوں نیز یہ بھی ہدایت فرمائی جائے کہ بحالت نفر اورصف سوم میں شخص واحد کا کھڑا ہو یا جملہ مقتدیوں کی ایك ہی جماعت کی جائے کہ صفوف ثلاثہ کی ترتیب کم از کم سات اشخاص کا ہونا سب کتب میں مرقوم ہے اس سے کم کی نسبت کچھ ذکر نہیں ہے حالانکہ ترتیب چھ اشخاص کی بھی ممکن ہے۔
الجواب :
سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے استاد امام اجل عطاء بن ابی رباح تابعی جلیل تلمیذ
ان النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم علی جنازۃ فکانواسبعۃ فجعل الصف الاول ثلثۃ والثانی اثنین والثالث واحدا ۔
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك جنازہ پر نماز پڑھی صرف سات آدمی تھے حضورا قدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے پہلی صف تین آدمیوں کی کی دوسری صف دو کی اور تیسری صف ایك شخص کی۔
امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :
فی القنیۃ ثم ان کان القوم سبعۃ فاتموھا ثلثۃ صفوف یقدم احدھم وخلفہ ثلثہ وخلفہم اثنان وخلفہا واحد انتہی قلت ویشھدلہ ان عطاء بن ابی رباح روی ان النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم وعلی الہ وصحبہ وسلم صلی علی جنازۃ فکانو سبعۃ (وساق الحدیث وقال) ولو لاھذاالحدیث لقنا بکراھۃ جعل الواحد صفالامرہ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وصحبہ وسلم للمنتبذ وراء الصف فی الصلوۃ المطلۃ با عادتھا کما تقدم فی موضعہ اللھم الاان یقال ان ذلك ایضااذالم یکن فیہ تحصیل مصلحۃ مقصودۃ من وھی السعی فی حصول المغفرۃ للمیت کما اخبرہ
قنیہ میں ہے : اگر سات آدمی ہوں توپوری تین صف بنائیں ایك آگے ہو تین اس کے پیچھے دو ان کے پیچھے ایك ان کے پیچھے(عبارت قنیہ ختم)میں کہتا ہوں اس کا ثبوت اس حدیث سے ہے کہ حضرت عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وصبحہ وسلم نے ایك جنازہ پر نمازپڑھی صرف سات آدمی تھے(آگے حدیث ذکر کی پھر کہا) اگر یہ حدیث نہ ہوتی تو ایك شخص کی صف بنانے کو ہم مکروہ کہتے۔ کیونکہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے صلاۃ مطلقہ میں صف کے پیچھے الگ تھلگ کھڑے ہونے والے کو نماز لوٹانے کا حکم فرمایا جیسا کہ یہ اپنے موقع پر بیان ہوچکا ہے --مگر یہ کہا جائے کہ وہ بھی اس وقت ہے جب اس میں نماز کی مصلحت مقصودہ کہ بجاآواری نہ ہو اوریہاں نماز کی ایك مصلحت مقصودہ موجود ہے وہ ہے میت کے لئے
حصول مغفرت کی کوشش جیسا کہ شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے خبر دی ہے۔ (ت)
غنیہ شرح منیہ میں ہے :
یستحب ان یصفوا ثلثۃ صفوف حتی لوکانوا سبعۃ یتقدم احدھم للامامۃ ویقف ورائہ ثلثۃ دوراھم اثنان ثم واحدذکرہ فی المحیط لقولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم من صلی علیہ ثلثہ صفوف غفرلہ رواہ ابوداؤد والترمذی وقال حدیث حسن والحاکم وقال صحیح علی شرط مسلم اھ قلت رواہ احمد وابن ماجۃ وابن سعد فی الطبقات والبیھقی فی السنن وابن مندۃ فی المعرفۃ کلھم عن مالك بن ھبیرۃ رضی اﷲتعالی عنہ بالفاظ شتی وکلھافی نظری بحمداﷲتعالی ۔
تین کرنا مستحب ہے یہاں تك کہ اگر سات آدمی ہوں تو ایك شخص امامت کے لئے آگے ہواور اس کے پیچھے تین کھڑے ہوں ان کے پیچھے دو پھر ایک۔ اسےمحیط میں ذکر کیا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشادہے : جس پر تین صفیں نماز پڑھیں اس کی بخشش ہوجائے۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا۔ اورترمذی نے کہا حدیث حسن ہے۔ اورحاکم نے روایت کیا اور کہاصحیح برشرط مسلم ہے اھ میں کہتا ہوں : اسے امام احمد ابن ماجہ طبقات میں ابن سعد سنن میں بیہقی معرفہ میں ابن مندہ نے بھی روایت کیا ہے۔ ان سبھی محدثین نے حضرت مالك بن ہبیرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بالفاظ مختلفہ روایت کیا اور بحمدہ تعالی سب میری نطر میں ہیں۔ (ت)
رحمانیہ میں عقابیہ سے ہے :
لوکان القوم سبعاقاموا ثلثۃ صفوف یتقدم واحد وثلثۃ بعدہ واثنان بعدہ وواحد بعدہ لان فی الحدیث من صلی علیہ ثلثۃ صفوف غفرلہ اھ قلت وافرد
اگر سات آدمی ہوں تو تین صف میں کھڑے ہوں ایك آگے ہو تین اس کے بعد دو اسکے بعد اور ایك اسکے بعد ۔ اس لئے کہ حدیث میں ہےجس کا جنازہ تین صفیں پڑھیں اس کی مغفرت ہوجائے اھ
غنیۃالمستملی شرح منیہ فصل فی الجنائز مطبوعہ سہیل الیڈمی چوك اردو بازار لاہور ص٥٨٨
رحمانیہ
میں کہتاہو ں دو اخیر والے “ اس کے بعد “ میں ضمیر واحد اس لئے رکھی کہ مرجع صف کو بنایا ہے(ت)
حلیہ وغنیہ وردالمحتار شروع معتمدہ میں اورجامع التفاریق ومحیط و عتابیہ وتاتار خانیہ وعالمگیریہ فتاوی مستندہ اور کتب مذہب میں ان کا کہیں خلاف نہیں۔ لاجرم امام ابن امیر الحاج نے جنازہ میں ایك شخص کے صف ہونے کی کراہت کو امام احمد بن حنبل سے ایك روایت کی طرف نسبت فرمایا :
حیث قال بعد ماقدمناعنہ ھذاوعن احمد انہ کرہ ان یکون الواحد صفا ۔
اس طرح کہ ہماری نقل کردہ عبارت کے بعد فرمایا : یہ محفوظ رکھو اور امام احمد سے ایك روایت ہے کہ انہوں نے ایك آدمی کی صف کو مکروہ جانا۔ (ت)
اپنے مذہب میں کراہت کی کوئی روایت ہوتی تو وہی احق بالذکر تھی صرف مذہب غیر کی طرف نسبت پر اکتفا نہ کی جاتی۔ غرض فقہ یہ ہے اور حدیث وہ پھر مخالفت کیا معنی۔ رہا وہ اشارہ جو مرقاۃ میں استنباط کیا اور اس کے سبب جہال نے نصوص حدیث وفقہ کو بالائے طاق رکھ دیا۔
اقول : وباﷲ التوفیق (میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) نہ وہ استنباط مقبول ہے نہ اس پر اعتماد جائز
اولا وہ علی قاری کی ایك بحث ہے اور منقول کے حضور بحث اصلا قابل التفات نہیں
کما نص علیہ فی ردالمحتار وغیرہ من معتمدات الاسفاروقداکثرنانقولہ فی فتاونا۔
جیساکہ ردالمحتار وغیرہ معتمد کتابوں میں تصریح ہے اور بہت سی عبارتیں ہم نے اپنے فتاوی میں نقل کی ہیں۔ (ت)
اور اسے مرقاۃ میں منقول بتانا جہل صریح ہے یا افترائے قبیح پھر جزئیہ منصوصہ کتب مذہب کو قول قاری سے غیر صحیح کردینا سخت جرأت مردود ہے۔ فتاوائے اکثر منصوصات ائمہ ومرسل بلاعز ولکھتے ہیں کما لایخفی علی خادم الفقہ(جیسا کہ خادم فقہ پر پوشیدہ نہیں۔ ت) بلکہ قدمائے اہل فتاوے غالبا اقوال مشائخ کو معزو لکھتے ہیں اور نصوص مذہب کو بلاعزو خصوصا جبکہ ائمہ مذہب سے ان میں اختلاف نہ منقول ہو۔ شرنبلالی علی دررالحکام میں ہے :
صرح بہ قاضی خان من غیر اسنادہ
(قاضی خان نے کسی کی طرف اسناد کئے بغیر اس کی
صراحت فرمائی صراحت فرمائی تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مذہب ہو(ت)
اور بالفرض ارشاد ائمہ مجتہدین فی المسائل یا تخریج مسائل ہی ہو تو علی قاری کو اپنی بحث سے اس کے رد کا کیا اختیار ہے کیاوہ ان میں نہیں جن کو فرمایا گیا :
امانحن فعلینااتباع مارجحوہ وماصححوہ کمالوافتوافی حیاتھم ۔
مگر ہم پر اسی کی پیروی کرنی ہے جسے ان حضرات نے ترجیح دی اور جسے صحیح کہا جیسے اگر وہ اپنی حیات میں فتوی دیتے تو ہمیں یہی کرنا تھا۔ (ت)
جیسا کہ تصحیح القدوری للعلامہ قاسم پھر ردالمحتار میں ہے : فانہ لا یسعنامخالفتھم ۔ (کیونکہ ہمارے لئے ان کے خلاف جانے کی گنجائش نہیں۔ ت)
ثانیا اگر وہ منقول ہی ہوتی تو شروع حدیث کی نقول نصوص کتب معتمدہ فقہیہ کے خلاف مقبول نہیں بلکہ نصوص تو نصوص کہ شروح حدیث کی تصریح صریح اشارات کتب مذہب کے بھی معارض نہ مانی گئی۔ شرح مشارق الانوار علامہ ابن مالك سے کہ علامہ علی قاری سے اقدم واعظم ہیں ایك مسئلہ منقول ہو ااس پر علامہ شامی نے ردالمحتار میں فرمایا :
ان ھذاالکتاب لیس موضوعالنقل المذہب و اطلاق المتون والشرح یردہ ۔
اس کی تالیف نقل مذہب کے لئے نہیں اور اطلاق متون وشروح اسکو ردکر رہی ہے۔ (ت)
ثالثا اگربالفرض کسی کتاب فقہ ہی میں ایك نقل شاذپائی جاتی تو نقل مشہور کتب معتبرہ کثیرہ کے مقابل نہ مانی جاتی
کمانص علیہ فی الشرنبلالیۃ والعقود الدریۃ وردالمحتاروغیرھاواکثرناالنقول فیہ فتاونا و فی کتابنافی رسم المفتی۔
جیسا کہ شرنبلالیہ العقود الدریہ ردالمحتار وغیرہا میں اس کی تصریح ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اور رسم المفتی سے متعلق اپنی کتاب میں ان کی بہت سی عبارتیں نقل کی ہیں۔ (ت)
رابعا اگرشاذ بھی نہ ہوتی جب بھی اسی ترتیب مذکور جامع التفاریق و محیط وحلیہ وغنیہ وغیرہاپر اعتماد
دُرمختار خطبۃ الکتاب مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
ردالمحتار خطبۃ الکتاب مصطفی البابی مصر ١ / ٥٧
ردالمحتار خطبۃ الکتاب مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۷
لایعدل عن درایۃ ماوافقتھاروایۃ کمانص علیہ فی الغنیۃ وردالمحتار وغیرھا۔
کسی درایت سے عدول نہ ہوگاجب تك کوئی روایت اس کی موافقت کرتی ہو جیسا کہ غنیہ اور ردالمحتار وغیرہما میں اس کی تصریح ہے(ت)
خامسا اس بحث واستنباط کا سارامدار اس پر ہے کہ روایت ابی داؤد میں جزاھم ثلثۃ صفوف (انہیں تین صفوں میں تقسیم کیا۔ ت) کا لفظ وارد ہے اور ایك شخص کو صف نہ کہیں گےترمذی کی اس حدیث میں جزاھم ثلثۃ اجزا ۔ (انہیں تین صفوں میں تقسیم کیا۔ ت)ہے اورجزمطلق ہے اور ہم ابھی حدیث مرفوع سے نقل کرچکے ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك صف ایك ہی صاحب کی کی علامہ قاری نے روایت ترمذی کی جوشرح ٹھرائی کہ تین حصے کرنے سے مراد یہ ہے کہ بوڑھے اورادھیڑ اور جوان یا علماء و طلبہ وعوام
حیث قال ای قسمھم ثلثۃ اقسام ای شیرخا وکہو لاوشبابااوفضلاء وطلبۃ العلم والعامۃ
انہوں نے کہا : ان کو تین حصوں میں تقسیم کیا یعنی بوڑھوں ادھیڑوں اور جوانوں میں یا علماء طلباء اورعوام میں تقسیم کیا۔ (ت)
یہ بھی نرا اجتہاد علامہ ہے جس پر نہ حدیث مرفوع میں دلالت نہ اس کی فرع فعل صحابی میں نہ اسے اس کی شرط اذا صلی علی جنازۃ فتقال الناس علیھا (جب نمازجنازہ پڑھی اور اس پر آدمی کم محسوس کئے ۔ ت) پر ترتب یہ مقتضی تجزیہ ہیں نہ طالب توزیع تویہ تفسیر بلاانشاء ہے نہ شرع سے کہیں کسی نماز میں یہ تقسیم معہود کو بوڑھے الگ چھانٹے جائیں اور ادھیڑ جدا اور جوان علیحدہ۔
سادسا ہمیں مسلم کہ فی نفسہ مستقل صف کم از کم دو کی ہوگی مگر صف یا صفوف کے ساتھ اگر ایك شخص صف جداگانہ ہوتو اس پر بھی ضرور اطلاق صف ہے اور یہی ہمارےا س مسئلہ میں ہے۔
سنن ابی داؤد باب فی الصفوف علی الجنازۃ آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ٩٥
جامع الترمذی ابواب الجنائز باب کیف الصلٰوۃ علی المیت الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١ / ١٢٢
مرقاۃ المفاتیح کتاب الجنائز(حدیث : ١٦٨٧) المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ٤ / ١٧٠
جامع الترمذی ابواب الجنائز باب کیف الصلٰوۃ علی المیّت امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہدہلی ١ / ١٢٢
یوم یقوم الروح و الملىكة صفا ﯼ
جس دن کھڑے ہون گے روح اور ملائکہ صف باند ھ کر ۔
۱ ابن جریر اس آیت کی تفسیرمیں سیدناعبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
الروح ملك فی السماء السابعۃ و اعظم من السموات ومن الجبال ومن الملئکۃ یسبح کل یوم اثنی عشر الف تسبیحۃ یخلق اﷲ من کل تسبیحۃ ملکا من الملئکۃ یجی یوم القیمۃ صفا وحدہ
یہ روح فرشتہ اسمان ہفتم مہں ہے وہ اسمانوں اور پھاڑوں اور سب فرشتوں سے اعظم ہے وہ روزانہ بارہ ہزار تسبیحیں کرتا ہے اﷲ عزوجل ہر تسبیح سے ایك فرشتہ بناتاہے یہ روح (فرشتہ) روز قیامت اکیلا ایك صف ہو گا
۲معالم التنزیل میں با روایت عطاء ابن ابی رباح سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہا سے اس ایت کی تفسیر میں ہے :
الروح ملك من الملئکۃ ما خلق اﷲ تعالی مخلوقا اعظم منہ فااذا کان یوم القیمۃ قام وحدہ صفام وقامت الملئکۃ کلھم صفا واحدا فیکون اعظم خلقۃ مثلہ ۔
روح ایك فرشتہ ہے اﷲ تعالی نے کوئی مخلوق جسم میں اس سے بڑی نہ بنائی۔ جب قیامت کا دن ہوگا وہ اکیلا ایك صف ہوکر کھڑا ہو گااور تمام فرشتے ملکر ایك صف تو اس کی جسا مت ان سب کے برابر ہوگی۔
۳امام ابوعمر ابن عبدالبر ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرمایا : المرأۃ وحدھا صف اکیلی عورت ایك صف ہے۔ ۴صحیح بخاری شریف میں : المرأۃ وحدھا تکون صفا تنہا عورت ایك صف ہوتی ہے۔ ۵حدیث عطاء سے گزرا جعل الصف الثالث واحد نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك شخص کو تیسری صف میں کیا۔
جامع البیان المعروف تفسیر ابن جریر تخت آیہ مذکورہ مطبوعہ مطبعۃ میمنیہ مصر ٣٠ / ١٣
معالم النزل علی ہامش تفسیر الخازن تخت آیہ مذکورہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٧ / ٢٠٣۔ ٢٠٢
التمہید حدیث الخامس لاسحاق مطبوعہ المکتبۃ القدوسیۃ لاہور ١ / ٢٦٨
صحیح البخاری باب المرأۃ وحدھا تکون صفًّا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٠١
سابعا کراہت انفرادصلوۃ مطلقہ میں ارشاد ہوئی ہے صلوۃ جنازہ کا اس سے الحاق محل منع ہے تبیین الحقائق میں فرمایا :
صلوۃ الجنازۃ لیست بصلوۃ من کل وجہ وانما ھی دعاء للمیت ۔
نماز جنازہ ہر لحاظ سے نماز نہیں یہ تو بس میت کے لئے دعا ہے۔ (ت)
امام نسفی کتاب کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں :
حتی لایحنث بصلاۃ الجنازۃ لوحلف ان لایصلی فصارت کسجدۃ التلاوۃ ۔
اگر نماز نہ پڑھنے کی قسم کھائی تو نمازجنازہ پڑھنے سے حانث نہ ہوگا تو یہ سجدہ تلاوت کی طرح ہوئی(ت)
اقول : بلکہ محل مقام میں صلاۃ مطلقہ کا اس سے بین تفاوت ہے۔ صلاۃ مطلقہ میں سب سے افضل صف اول ہے اور نماز جنازہ میں سب سے افضل صف اخیر۔ صلاۃ مطلقہ میں جب تك پہلی صف پوری نہ ہوجائے دوسری صف ہرگزنہ کی جائے گی۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اتمواالصف المقدم ثم الذی یلیہ فماکان من نقص فلیکن فی الصف الموخر رواہ احمد وابو داؤد والنسائی وابن حبان وابن خزیمۃ و الضیاء فی المختارہ عن
اگلی صف پوری کرو پھر وہ جو اس کے بعد ہے کہ جو کچھ کمی رہے پچھلی صف میں رہے۔ اسے امام احمد ابوداؤد نسائی ابن حبان ابن خزیمہ اور مختارہ میں ضیاء نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ
تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق باب الامامۃ والحدث فی الصلٰوۃ مطبوعہ مطبعۃ کبرٰی امیریہ مصر ١ / ١٣٧
سنن ابو داؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٩٨
سنن ابو داؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٩٨
تعالی عنہ سے بسند صحیح روایت کیا۔ (ت)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : الاتصفون کماتصف الملئکۃ عند ربھا(کیا تم ویسے صف نہیں لگاتے جیسے ملائکہ اپنے رب کے حضور صف لگاتے ہیں۔ ت) صحابہ نے عرض کی : یا رسول اﷲ وکیف تصف ملئکۃ عند ربھا(یارسول اﷲ ملائکہ اپنے رب کے حضور کیسے صف لگاتے ہیں۔ ت) ارشاد فرمایا : یتمون الصف الاول و یتراصون فی الصف (پہلی صف پوری کرتے ہیں اورصف کے اند خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ت) رواہ مسلم وابوادؤد وابن ماجۃ عن جابر بن سمرۃ رضی اﷲتعالی عنہ(اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت) اور نمازجنازہ میں تفریق صفوف سب کو مسلم۔ صلوۃ مطلقہ میں محاذات زن حسب شرائط عشرہ مفسد نماز ہے اور نماز جنازہ میں اصلا مفسد نہیں کما نص علیہ فی الکتب قاطبۃ(جیسا کہ تمام کتابوں میں اس کی تصریح ہے۔ ت) تو کیا بعید ہے کہ صف کے پیچھے انفراد صلاۃ مطلقہ میں مکروہ ہو نہ نماز جنازہ میں وبہ یضعف ماوقع فی الحلیۃ ان لو لاالحدیث لقلنا بکراھتہ (اور اسی سےحلیہ میں واقع یہ کلام ضعیف ہوجاتا ہے کہ اگر حدیث نہ ہوتی تو ہم اس کی کراہت کے قائل ہوتے۔ ت)بالجملہ مسئلہ واضح ہے اور بحث طائع اور برخلاف حدیث وفقہ اس پر اعتماد جہل فاضح ۔ اب رہا اصل سائل کہ یہ تفریق پانچ مقتدیوںمیں بھی کی جائے یا صر ف چھ سے مخصوص ہے۔
اقول : ہاں پانچ میں بھی کی جائے ہمیں حدیث وفقہ نے بتایا کہ ارشاد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
ما من مسلم یموت فیصلی علیہ ثلثۃ صفوف من المسلمین الا اوجب ۔
مسلمانوں میں سے کوئی فوت ہوگیا اور اس پر مسلمانوں کی تین صفوں نے نماز جنازہ پڑھا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ (ت)
حلیہ المحلی شرح منیہ المصلی
مشکٰوۃ المصابیح باب المشی بالجنازہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٧
قام رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم وصففت اناوالیتیم من ورائہ ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کھڑے ہوئے اور میں نے اوریتیم نےحضور کے پیچھے صف لگائی۔ (ت)
موطائے امام محمد میں عبداﷲ بن عتبہ سے ہے : موطائے امام محمد میں عبداﷲ بن عتبہ سے ہے :
قال دخلت علی عمر بن الخطاب بالھاجرۃ فو جدتہ یسبح فقمت ورائہ فقربنی فجعلنی بحذائہ عن یمینہ فلما جاء یرفاء تاخرت فصففناوراءہ ۔
میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے یہاں دوپہر کو آیا تو انہیں نفل پڑھتے ہوئے پایا میں ان کے پیچھے کھڑاہوگیا انہوں نے مجھے قریب کرکے اپنے برابر دائیں کرلیا پھر جب یرفا آگیا تو میں پیچھے ہوگیا ہم دونوں نے ان کے پیچھے صف بنالی(ت)
اور تیسری صف ایك کی فقہائے کرام نے کہ چھ ہی مقتدیوں کی صورت لکھی
اولا بعض صور پر اقتصار بعض دیگر کا نافی نہیں ردالمحتار میں ہے : لا یلزم ان یکون ماسکت عنہ مخالفافی الحکم لماذکرہ کمالایخفی ضروری نہیں کہ جس سے سکوت ہو وہ حکم میں اس کے مخالف ہو جو مذکور ہے جیسا کہ واضح ہے۔ (ت)
ثانیا اقول : اس کے لئے تین سبب ہیں : اول صورت مذکوہ حدیث کے ذکر سے تبرک۔
دوم اس پر تنبیہ کہ چھ مقتدیوں کی صورت میں اگرچہ ہر دوشخصوں کی ہوسکتی ہے مگر بہ اتباع سنت یونہی کریں کہ پہلی صف تین کی دوسری دو کی تیسری ایك کی۔
سوم کراہت انفراد کاکامل ازالہ کہ باوصف تیسر تعدد انفراد اختیار کیا اگر کہیے چھ مقتدیوں کی اس ترتیب میں کوئی اور حکمت بھی اقول رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے افعال کی حکمتیں خوب جانتے ہیں
مؤطا امام محمد باب الرجلان یصلیان جماعۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ص١٢٤
ردالمحتار
اولاجمع تام ہے اور جمع تام گویا صفت تام ہے ولہذا ایك روایت میں تین عورتوں کو جمیع صفوف مابعد کی نماز کا قاطع بتایا اور ظاہرالروایۃ میں بھی اسے اس درجہ قوی بتایا کہ ایك صف کودوسری کا حائل نہ جانا اور ان کی محاذات میں آخر صفوف تك تین تین مردوں کی نماز پرحکم فساد فرمایا۔ فتح القدیر میں ہے :
الصحیح ان بالصلاۃ بالثلاث تفسد صلوۃ واحد عن یمینھن واخرعن شمالھن وثلثۃ ثلثۃ الی اخر الصفوف وفی روایۃ الثلث کالصف التام فتفسد صلوۃ جمیع الصوف التی خلفھن ۔
صحیح یہ ہے کہ تین عورتوں سے ایك ان کے دائیں والے مرد کی ایك ان کے بائیں والے کی اورآخری صف تك ہرصف سے تین تین مردوں کی نماز فاسد ہوجاتی ہے-- اور ایك روایت میں ہے تین گویا پوری صف ہے تو ان کے پیچھے کی تمام صفوں کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ (ت)
اس معنوی کثرت وقوت کی تحصیل کو صف اول مین تین شخص رکھے۔
ثانیا اس میں تعدیل فضل ہے کہ جمع میں برکت ہے ایك سے دو میں زائد دو سے تین میں اور صفوف جنازہ میں آخری فالآخر افضل ہے۔ پہلی سے دوسری افضل دوسری سے تیسری تو اس ترتیب سے ہر صف کے لئے چار فضل حاصل ہو گے۔ پہلی صف میں باعتبار صف ایک بلحاظ رجال تین دوسری صف میں صف اور رجل دونوں کے اعتبارسے دو دو تیسری میں بااعتبار صف تین با لحاظ رجل ایک واﷲ ذولفضل العظیم واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(اور اﷲ بڑے فضل والا ہے--اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے۔ ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ نماز جنازہ کی کے دعائیں ہیں
الجواب :
مولنا الحافظ القاری الحاج الزائر السید الصالح القادری البرکاتی ادام اﷲ تعالی کرامتکم فی الحاضرۃ والاتی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ وہ تیرہ۱۳ د عائیں ہیں کہ نماز جنازہ کی احادیث میں وارد ہوئیں۔ فقیر نے انہیں جمع کرکے ایك اور کا اضافہ کیا انہیں میں گزارش کرتا ہوں کہ حفظ فرمالیں اور بالحاظ معنی جنائز اہلسنت پر پڑھا کریں جن کلمات کو دو خط ہلالی میں لے کر ان پرخط کھینچ کر بالائے سطر دوسرے الفاظ لکھے جاتے ہیں وہ لفظ عورت کے جنازے میں ان کلمات کی جگہ پڑھے جائیں ۔ فقیر آپ کو وصیت کرتا ہے کہ میرا جنازہ پائیں تو نماز خود ہی پڑھائیں اور یہ سب دعائیں اپنے خالص قادری قلب کے خضوع وخشوع سے پڑھیں اورقبر فقیر محتاج پر تلقین بھی کریں وحسبنااﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
ادعیہ بعد تکبیر سوم
() اللھم اغفرلحینا ومیتنا وشاھدنا وغائبنا وصغیرنا وکبیرنا وذکرنا و
(۲) اللھم اغفرلہ لھا وارحمہ ھا وعافہ ھا واعف عنہ ھا ووسع مدخلہ ھا واغسلہ ھا بالماء والثلج والبرد ونقہ ھا من الخطایاکما نقیت الثوب الابیض من الدنس وابدلہ ھا دارا خیرامن دارہ ھا واھلا خیرامن اھلہ) (وزوجاخیرا من زوجہ عــــہ۲ وادخلہ ھا الجنۃ واعذہ ھامن عذاب القبر من فتنۃالقبر
عــــہ۱ رواہ احمد وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن حبان والحاکم عن ابی ھریرۃ واحمد وابویعلی والبیہقی وسعیدبن منصور فی سنن عن ابی قتادۃ رضی اﷲتعالی عنہما(م)
اسے امام احمد ابوداؤد ترمذی نسائی ابن حبان اور حاکم نے ابو ہریرہ سے۔ اورامام احمد ابویعلی بیہقی اورسنن میں سعید بن منصور نے حضرت ابوقتادہ سے روایت کیا رضی اللہ تعالی عنہما ۔ (ت)
عــــہ۲ یعنی یہ الفاظ عورت کے جنازہ پر نہ پڑھے جائیں کلھا منہ رضی اﷲتعالی عنہ۔ (م)
() اللھم عبد ك امتك وابن وبنت امتك یشھد تشھدان لا الہ الا انت وحدك لاشریك لك ویشھدتشھد ان محمداعبدك ورسولك اصبح فقیرا اصبحت فقیرۃ الی رحمتك واصبحت غنیاعن عذابہ)ھا تخلی تخلت من الدنیاواھلھاان کان زاکیا کانت زاکیۃ فزکہ)ھا وان کان مخطئا کانت مخطئۃ فاغفر(لہ)لھا اللھم لاتحرمنااجر(ہ) ھا ولاتضلنابعد(ہ)ھا عــــہ۲
() اللھم(ھذاعبدک)ھذہ امتك بنت ابن عبد) بن امتك ماض فیہ)ھا حکمک خلقتہ ھا ولم یك (تك ھی ) شیئامذکورا نزل لت) بك وانت خیرمنزول بہ ط اللھم لقنہھا حجتہھا و الحقہ ھا بنبیہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وثبتہ ھا بالقول الثابت
عــــہ۱ : رواہ مسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ وابوبکر بن شیبۃ عن عوف بن مالك الاشجعی رضی اﷲتعالی عنہ۔ (م)
عــــہ۲ : رواہ الحاکم عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہ(م)
اسے مسلم ترمذی نسائی ابن ماجہ اورابوبکر بن ابی شیبۃ نےحضرت عوف بن مالك اشجعی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا (ت)
اسے حاکم نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
المستدر ك علی الصحیحین کتاب الجنائز مطبوعہ دارالفکر بیروت ١ / ٣٥٩
عــــہ : رواہ عن امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ (م)
قال الامام ابن الجزری وشرح حصنہ(زاکیا) ای طاہرامن الذنوب فزکہ ای فطھرہ بالمغفرۃ ورفع الدرجات اھ وتعقبہ العلامۃ القاری بانہ لایخفی عدم المناسبۃ بین تفسیرہ زاکیابطاھر ای من الذنوب وبین قولہ وطھرہ بالمغفرۃ اھ
اقول : لابدع فی سؤال المغفرۃ بالطاھرۃ من الذنوب قدکان سیدالطاھرین امام المعصومین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیھم یستغفرالیہ کل یوم مائۃ مرۃ و ذلك ان العبد وان جل ماجل لایبلغ عماعملہ شکر نعمۃ اﷲتعالی ابدا ولایخلواعامۃ الصالحین عن اسے امیر المومنین علی کرم اﷲوجہہ سے روایت کیا (ت)
امام ابن الجزری نے اپنی حصن حصین کی شرح میں فرمایا : زاکیاکامعنی گناہوں سے پاك فزکہ کا معنی : اسے مغفرت فرماکر اور درجات بلند فرماکر خوب پاك کردے اھ اس پر علامہ قاری نے تنقید کی کہ زاکیاکی تفسیر (گناہوں سے پاك ) اور( مغفرت فرماکر اسے گناہوں سے پاك کردے)ان دونوں میں مناسبت نہ ہونا واضح ہے اھ
اقول : جوگناہوں سے پاك ہے اس کے لئے دعائے مغفرت کوئی اجنبی اور نامناسب چیز نہیں۔ پاکوں کے سردار معصوموں کے امام حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم روزانہ خدا کی بارگاہ میں سو بار استغفار کرتے۔ بات یہ ہے کہ بندہ جتنا بھی بزرگ ہوجائے اس کا عمل اﷲ تعالی کی نعمتوں کے کامل شکر کی حد تك کبھی نہیں (باقی اگلے صفحہ پر)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تقصیر مابالنظر الی ما ینبغی لجلال وجہ الکریم فالمغفرۃ فی حقھم ان یتجاوز عن ذلك ولا یعاملھم قدر اعمالھم بل قدر افضالہ والیہ اشارۃ بقولہ رحمۃ اﷲتعالی ورفع الدرجات قال القاری واغرب الحنفی بقولہ الاولی ان یقال ای زدفی زکاتہ وطھارتہ اھ ۔
اقول : مرجعہ الی ماذکرنا ای ان کان طاھرا من الذنوب فزدنی طھارتہ بمغفرۃ التقصیر فی شکرك الخطیر وقدفسرہ القاری نفسہ بقولہ ای فزد فی احسانہ کما فی روایۃ اھ لایعبد عن قول الحنفی کثیرا وانا اقول : وباﷲ التوفیق بل ھومن تزکیۃ الشھودد ای ان کان زاکیا فاظھرفی ملکوتك انہ ذاك واشھدلہ بذاك وھذا لیس بتاویل بخلاف ماتقدم وباﷲ التوفیق کلھا منہ رضی اﷲ
پہنچ سکتا۔ رب کریم کی بزرگی شان کے لحاظ سے عامہ صالحین کسی نہ کسی کی کمی سے خالی نہ ہوں گے توان کے حق میں مغفرت یہ ہے کہ اس سے درگزر فرمائے اوران کےساتھ ان کے اعمال کے حساب سے نہیں بلکہ اپنے فضل وکرم کے لحاظ سے معاملہ فرمائے اور ابن جزری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اسی بات کی طرف اپنے قول(اور درجات بلند فرماکر) سے اشارہ فرمایا--علامہ علی قاری فرماتے ہیں : علامہ حنفی نے یہ عجیب وغریب بات لکھی کہ اس کی تفسیر میں یہ کہنا بہتر ہوگا کہاس کی ستھرائی اور پاکی میں اضافہ فرما—اقول : اسکا مآل بھی وہی ہے جوہم نے بیان کی اگر گناہوں سے پاك ہے تو اس کی پاکی میں اضافہ فرما اس طرح کہ اپنے عظیم شکر کی بجا آوری میں اس کی تقصیر کو بخش دے --اورخود مولانا قاری نے اس کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے : یعنی اس کی نیکی میں اضافہ فرما جیسا کہ ایك روایت میں آیا ہے اھ—
اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق خدا ہی سے ہے) بلکہ یہ تزکیہ شہود سے ہے (گواہوں کا تزکیہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی باطنی عدالت وپرہیز گاری جانچ کر ظاہر (باقی برصفحہ ایندہ)
(۶) اللھم (عبدک)امتك وا(بن)بنت عبدك (کانت) (یشھد)تشھد ان لاالہ الا اﷲوان محمدا عبدك ورسولك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ط وانت اعلم بہھا منا ان کان(کانت) (محسنا)محسنۃ فزدفی احسانہھا وان (کانت) (مسیئا)مسیئۃ فاغفرلہ ھا ولاتحرمنا اجرہھا تفتنا بعدہھا عــــہ ۲
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تعالی عنہ۔ (م)
عــــہ ۱ : رواہ الحاکم عن یزید بن رکانہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ (م)
عــــہ۲ : رواہ ابن حبان عن ابی ھریرہ رضی اﷲتعالی عنہ۔
کردی جائے ) یعنی اگر وہ پاکیزہ ہے تو اپنی بادشاہت میں اس کی یہ حالت عیاں کردے اور اس کے لئے اس پر گواہ لے لے۔ یہ اس کا لفظی معنی ہے تاویل نہیں کہ گزشتہ معانی تاویل تھے اور توفیق خدا ہی سے ہے۔ (ت)
اسےحاکم نے یزید بن رکانہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت) اسے ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان حدیث٣٠٦٢ مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ۶ / ۳۰ ، مواردالظماٰن کتاب الجنائز مطبوعہ مطبعۃ سلفیہ مدینہ منورہ ١ / ١٩٢ ، مسند ابو یعلٰی حدیث ٦٥٦٧ مطبوعہ موسستہ علوم القرآن بیروت ٦ / ١٠٦
(۸) اللھم انت ربھا وانت خلقتھا وانت ھدیتھا للاسلام ط وانت قبضت روحھا وانت اعلم بسرھاوعلانیتھا جئناشفعاء فاغفرلھا۔ عــــہ۲ ۔
عــــہ۱ : رواہ ابو یعلی بسند صحیح عن سعید بن المسید ان امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ من قولہ الحقنا بما قبلہ من المرفوعات للمناسبۃ ۱۲ کلھا منہ رضی اللہ تعالی عنہ ۔
عــــہ۲ : رواہ ابوداؤد والنسائی والبیہقی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔ (م)
اسے ابویعلی نے بسند صحیح حضرت سعید بن مصیب سے انہوں نے امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے انہی کے قول کے طور پر ( یعنی موقوفا) روایت کیا اسے ماقبل کی مرفوع دعاءوں کی مناسبت کے باعث ہم نے لاحق کردیا ۱۲ کلہا منہ رضی اللہ تعالی عنہ (ت)
ابوداؤد نسائی اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
سُنن ابو داؤد باب الدعاء للمیت مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۰۰
() اللھم ان فلان(ابن)بنت فلان فی ذمتك وحبل جوارك فقہ ھا من فتنۃ القبر وعذاب النار وانت اھل الوفاء والحمد ط اللھم فاغفرلہ ھا وارحمہھاانك انت الغفورالرحیم۔ عــــہ۲ ۔
عــــہ۱ : رواہ ابونعیم عن عبداﷲ بن الحارث بن نوفل عن ابیہ رضی اﷲتعالی عنہ ان النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم علمھم الصلوۃ علی المیت اللھم اغفر الحدیث قال فقلت انااصغرالقوم فلن لم اعلم خیرقال فلا تقل الا ماتعلم کلھامنہ رضی اﷲتعالی عنہ۔ (م)
عــــہ۲ : رواہ ابو داود ابن ماجۃ عن واثلۃ بن اسقع رضی اللہ تعالی عنہ (م)
اسے ابونعیم نے عبداﷲ بن حارث بن نوفل سے انہوں نے اپنے والد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں نماز جنازہ سکھائی اللم اغفر -- آخر حدیث تک--وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا میں لوگوں میں سب سے کم عمر ہوں اگر مجھے کوئی خیر معلوم نہ ہو فرمایا : تو تم وہی کہو جو جانتے ہو۱۲ کلہا منہ رضی اللہ تعالی عنہ (ت)
اسے ابوداود اور ابن ماجہ نے واثلہ بن اسقاء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا (ت)
سنن ابی داؤد باب الدعاء للمیت مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ١٠١ ، سنن ابن ماجہ باب ، اجاء فی الدعاء فی الجنازہ علی الجنازۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص١٠٩
(۱۲) اللھم انك خلقتناونحن عبادك ط انت ربنا والیك معادنا۔ عــــہ۲ ۔
() اللھم اغفرلاولنا واخرنا وحینا ومیتنا وذکرنا وانثاناوصغیرناوکبیرناوشاھدناوغائبنا
اللھم لاتحرمنااجر(ہ)ھا ولاتفتنا بعد(ہ)ھا عــــہ۳ ۔
اللھم یاارحم الراحمین یاارحم الراحمین یاارحم الراحمین
عــــہ۱ : رواہ ابن ماجۃ عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہما۔ (م)
عــــہ۲ : رواہ البغوی وابن مندۃ والدیلمی فی مسند الفرود عن ابی حاصر رضی اﷲ تعالی عنہ (م)
عــــہ۳ رواہ البغوی عن ابراہیم الاشھالی عن ابیہ رضی اﷲ تعالی عنہ(م)
اسے ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
اسے بغوی ابن مندہ اور مسند الفردوس میں دیلمی نے ابو حاصر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
اسے بغوی نے ابراہیم اشہالی سے انہوں نے اپنے والد رضی اﷲتعالی سے روایت کیا۔ (ت)
کنزالعمال بحوالہ الدیلمی حدیث ٤٢٨٤٩ مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱۵ / ۷۱۵
کنز العمال بحوالہ بغوی حدیث ۴۲۲۹۹ مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱۵ / ۵۸۶ ، شرح السنۃ باب فی صلٰوۃ الجنازۃ والدعاء للمیت مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ / ۳۵۵
عــــہ : زادہ الفقیر غفرلہ الکریم القدیر کلہا منہ رضی اﷲتعالی عنہ (م)
یہ دعا فقیر نے زیادہ کی رب کریم وقدیر اس کی مغفرت فرمائے ۱۲کلہا منہ رضی اللہ تعالی عنہ (ت)
(۱) الہی ! بخش دے ہمارے زندے اورمردے اور حاضر اور غائب اورچھوٹے اور بڑے اور مرد اور عورت کو۔ الہی! تو جسے زندہ رکھے ہم میں سے اسے زندہ رکھ اسلام پر اور جسے موت دے ہم میں سے اسے موت دے ایمان پر۔ الہی ! ہمیں اس میت کے ثواب سے محروم نہ کر۔ اور ہمیں اس کے بعد فتنہ میں نہ ڈال۔
(۲) الہی ! اس میت کو بخش دے اور اس پر رحم فرما اور اسے ہر بلا سے بچا اوراسے معاف کر اور ا سے عزت کی مہمانی دے اور اس کی قبر کو وسیع کر اور اسے دھودے پانی اور برف اور اولوں سے اور اسے پاك کردے گناہوں سے جیسے تو نے پاك کیا سپید کپڑا میل سے اوراسے بدل دے مکان بہتر اس کے مکان سے اور گھروالے بہتر اس کے گھر والوں سے اور زوجہ بہتر اس کی زوجہ سے۔ اور اسے داخل فرما بہشت میں اور اسے پناہ دے قبر کے سوال اور دوزخ کے عذاب سے۔
(۳) الہی ! یہ میت تیرا بندہ اور تیری باندی کا بچہ گواہی دیتا ہے کہ کوئی سچا معبود نہیں مگر ایك اکیلا تو تیرا کوئی شریك نہیں اور گواہی دیتا ہے کہ محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں یہ محتاج ہے تیری مہربانی کا اور تو بے نیاز ہے اس کے عذاب سے یہ اکیلا رہا دنیا اور دنیا کے لوگوں سے اگر یہ ستھرا تھا تو اسے ستھرا فرمادے اور اگر خطاوار تھا تو اسے بخش دے۔ الہی ! ہمیں محروم نہ کر اسکے ثواب سے اور گمراہ نہ کر اس کے بعد۔
(۴) الہی ! یہ تیرا بندہ تیری بندی کا بیٹا تیری باندی کا بچہ ہے نافذ اس میں حکم تیرا تونے اسے پیدا کیا جن کے یہاں کوئی غریب الوطن اترے۔ الہی ! اسے اس کی حجت سکھا دے اوراسے اس کے لئے محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ملادے ا ور اسے ٹھیك بات پر ثابت رکھ کہ یہ تیرا محتاج ہے اور تو اس سے غنی ہے یہ گواہی دیتا تھا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوائے اﷲ کے پس اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما اور ہمیں اس کے ثواب سے محروم نہ کر اور اس کے فتنے میں نہ ڈال۔ الہی ! اگر یہ ستھرا تھا تو اسے ستھرا فرما دے اور اگر یہ خطاکار تھا اور اسے بخش دے۔
() الہی ! تیرا یہ بندہ اور تیری باندی کا بچہ تیری رحمت کا محتاج ہے اور تو اسے عذاب کرنے سے غنی ہے اگر نیك تھا اس کی نیکیاں زیادہ کر اور اگر بد تھا تو اس سے درگزر فرما۔
(۶) الہی! تیرا یہ بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا گواہی دیتا تھا کہ کوئی سچا معبود نہیں مگر اﷲ اور یہ کہ محمد تیرے
(۷) تیرے اس بندے نے صبح کی کہ الگ ہو آیا دنیا سے اور اسے چھوڑ دیا اس کے لوگوں کے لئے اور تیرا محتاج ہوا اور تو اس سے غنی ہے۔ اور بیشك یہ گواہی دیتا تھا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اﷲ کے اور محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم الہی !اسے بخش دے اور اس سے درگزر فرما اور اسے ملادے اس کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے۔
() الہی ! تو اس جنازے کا پروردگار ہے اور تونے اسے پیدا کیا اور تونے اسے اسلام کی راہ دکھائی اور تونے اس کی جان قبض کی اور تو خوب جانتا ہے اس کا چھپا اور ظاہر حال ہم حاضر ہوئے ہیں اور شفاعت کرنے تواسے بخش دے۔
(۹)الہی ! بخش دے ہمارے سب بھائیوں بہنوں کو اور اصلاح کردے ہمارے آپس میں اور ملاپ کردے ہمارے دلوں میں۔ الہی ! یہ تیرا بندہ فلاں بن فلاں ہے اور ہم تو اس کو اچھا ہی جانتے ہیں اور تجھے اس کا علم ہم سے زیادہ ہے تو ہمیں اور اسے بخش دے۔
() الہی ! بیشك فلاں بن فلاں تیری پناہ اور تیری امان کی رسی میں ہے تو اسے بچا سوال نکیرین اور عذاب دوزخ سے کہ تو وعدہ پورا کرنے والا سب خوبیوں کا اہل ہے۔ الہی ! تو اسے بخش دے اوراس پر رحم کر بیشك تو ہی ہے بخشنے والا مہربان
() الہی! اسے پناہ دے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے الہی دور کر زمین کو اس کی دونوں کروٹوں سے اور آسمان پر لے جا اس کی روح کو اور اسے اپنی خوشنودی عطا کر۔
(۱۲) الہی! بیشك تونے ہمیں پیدا کیا اور ہم تیرے بندے ہیں اور تو ہمارا رب اور تیری ہی طرف ہمیں پھرنا ہے۔
(۱۳) الہی ! بخش دے ہمارے اگلے پچھلے اور زندہ اور مردہ اورخوردوکلاں اور حاضر اور غائب کو۔ الہی ! ہمیں محروم نہ کر اس کے ثواب سے اور ہمیں فتنے میں ڈال اس کے بعد۔
(۱۴) اے اﷲ اے سب مہربانوں سے زیادہ مہربان اے زندہ اے پائندہ اے نہا بنانیوالے آسمانوں اور زمینوں کے اے بزرگی وعزت بخشنے والے! میں تجھ سے مانگتاہوں اس وسیلہ سے کہ میں گواہی دیتاہوں کہ تو ہی ہے اﷲ یکتا بے نیاز کہ نہ کوئی اس کے اولاد نہ وہ کسی سے پیدا نہ کوئی اس کے جوڑ کا۔
فائدہ : نویں اور دسویں دعاؤں میں اگر میت کے باپ کانام معلوم نہ ہو اس کی جگہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام کہے سب آدمیوں کے باپ ہیں۔ اگر خود میت کا نام بھی نہ معلوم ہو تو نویں دعا میں لفظ ھذا عبدك یا ھذہ امتك پرقناعت کرے فلاں ابن فلاں یا بنت فلاں کو چھوڑ دے اور دسویں میں اس کی جگہ عبدك ھذا(یہ تیرا بندہ) یا عورت ہو تو امتك ھذا(تیری یہ باندی) کہے۔
فائدہ : میت کا فسق وفجور اگر معاذاﷲ معلوم ہو تو نویں دعا میں لانعلم الا خیرا کی جگہ قد علمنا منہہا خیرا کہے کہ اسلام ہر خیر سے بڑھ کر ہے واﷲ غفور رحیم۔
فائدہ : ان دعاؤں میں بعض مضامین مکرر بھی ہیں اوردعا میں تکرار مفید و مستحسن ہے جیسے جلدی ہو یا یاد کرنے میں دقت جانے تو دائے اول ودوم وسوم اور چہارم بالقول الثابتتك اور ہشتم اور دوازدہم تك پڑھے ان شاء اﷲ یہی کافی ووافی ہے یہ نصف سے کم بھی کم رہ گیا اور چاہے تو چہارم دہم بھی ملالے اب بھی نصف سے کچھ زائد رہے گا اور وقت مساعدت کرے تو سب کا پڑھنا اولی ہے امام جتنی دیر میں یہ دعائیں پڑھے مقتدی دعائے مشہور کے بعد اگر ان ادعیہ سے کچھ یاد نہ ہو صرف آمین آمین کہتے رہیں۔
طریقہ تلقین قبر: حدیث میں عــــہ ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : جب تمہارا
عــــہ : عن رواہ الطبرانی المعجم الکبیر والضیاء فی الاحکام وابن شاہین فی ذکر الموت واخرون کما ذکرنا فی حیاۃ الموتمنہ(م)
اسے طبرانی نے معجم کبیر میں ضیاء نے احکام میں ابن شاہین نے ذکر الموت میں روایت کیا اوردوسرے حضرات نے بھی روایت کیا جیسا کہ ہم نے رسالہ حیاۃ الموت میں بیان کیا ہے منہ(ت)
راشد بن سعد عــــہ وضمرہ بن حبیب وحکیم بن عمیر کہ تینوں صاحب اجلہ ائمہ تابعین سے ہیں فرماتے ہیں جب قبرپر مٹی برابر کر چکیں اور لوگ
عــــہ : رواہ عنہم سعید بن منصور فی سننہ منہ (ن)
ان سے اس کو سعید بن منصور نے پنی سنن میں روایت کیا(ت)
کنز العمال بحوالہ طبرانی حدیث ٤٢٤٠٦ مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ۱۵ / ۶۰۵
ترجمہ : کہہ میرا رب اﷲ اور میرا دین اسلام اور میرانبی محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (فقیر غفراﷲتعالی نے اس قدر اورزائد کیا) اور جان لے کہ یہ دو جو تیرے پائے پاس اے یا آئیں گے تو یہی دو بندے ہیں اﷲکے نہ نفع دیں نہ نقصان پہنچایں مگر خداکے حکم سے ۔ تو نہ ڈر اور نہ غم کر اور گواہی دےکہ تیرا رب اللہ ہے اور تیرا دین اسلام اور تیرے نبی محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ثابت رکھے ہمیں اﷲ اور تجھ کو ٹھیك بات پر دنیا کی زندگی اور آخرت میں۔ بیشك وہی ہے بخشنے والا مہربان۔
حدیث تلقین کی تخریج وتقویت فقیر نے کتاب حیوۃ الموات فی بیان سماع الاموات کے مقصد دوم و فصل پنجم اور مسئلہ تلقین کی روایات وتنقیح مقصد سوم فصل سیز دہم میں ذکر کی جس سے بحمد تعالی وہابیہ کے تمام اوہام کی تسکین کافی ہوتی ہے
وباﷲ التوفیق والحمد ﷲ رب العلمین وصلی اﷲتعالی علی سیدنامحمد والہ اجمعین واﷲ
اور خدا ہی سے توفیق ہے اور ساری تعریف اﷲ کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگاہے اور خدائے برترسبحانہ وتعالی اعلم۔ ہمارے آقاحضرت محمد اور ان کی تمام آل پر رحمت نازل فرمائے اور خدائے پاك وبرتر
خوب جاننے والا ہے(ت)
مسئلہ نمبر۶۳ : ازبمبئی جاملی محلہ مکان حاجی محمد صدیق جعفر مرسلہ مولوی محمد عمر الدین صاحب ۳ جمادی الاولی ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ بعد نماز جنازہ کے صفوف توڑ کر یہ دعا اللھم لاتحرمنا اجرہ ولاتفتنا بعدہ واغفرلنا ولہ یامثل اس کے کی جاتی ہے جیسا کہ بمبئی اور اس کے اطراف مانند مالا گاؤں وغیرہ بلاد میں قدیم الایام سے متعارف ومتعامل درست ہے یا نہیں اور برتقدیر جواز بعض اشخاص جواس کو حرام و ممنوع کہتے ہیں ان کا قول صحیح ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
بسم اﷲالرحمن الرحیم الحمدﷲ مجیب الدعوات وافضل الصلوۃ واکمل التحیات علی معاذ الاحیاء ومعادالاموات خالص الخیر ومحض البرکات فی الحی وۃ الاولی والحی وۃ العینی بعد الممات وعلی الہ وصحبہ کریمی الصفات ما بعد ماض وقرب ات امین۔
اﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ۔ اوربہتر دروداورکامل تر تحیتیں ان پر جو زندوں کی پناہگاہ مردوں کا مرجع خالص خیراورمحض برکات ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور بعد موت کی بالاتر زندگی میں بھی اور ان کی آل واصحاب پربھی جوبزرگ صفات والے ہیں جب تك کہ گزرا ہوا دوراورآنے والا قریب ہوتا رہے۔ الہی قبول فرما!(ت)
اموات مسلمین کے لئے دعاقطعا محبوب وشرعا مندوب جس کی ندب وترغیب مطلق پر آیات و احادیث بلاتوقیت و تخصیص ناطق تو بلاشبہہ ہر وقت اس پر حکم جواز صادق جب تك کسی خاص وقت ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہ ہو مطلق شرعی کواز پیش خویش موقت اور مرسل کو مقید کرنا تشریع من عند النفس ہے اور نماز ہر چند اعظم واجل طرق ہے مگر اس پر اقتصار کا حکم نہ اس کے اغناد پرجزم بلکہ شرع مبارك وقتا فوقتا بکثرت اور باربار تعرض نفخات رحمت کا حکم فرماتی ہے کیا معلوم کس وقت کی دعا قبول ہوجائے۔ صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
لیکثرمن الدعا اخرجہ الترمذی والحاکم عن ابی ھریرہ رضی اﷲتعالی عنہ وقال صحیح و اقروہ
دعا کی کثرت کرے۔ اسے ترمذی وحاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اورحاکم نے کہا صحیح ہے اور علماء نے اسے برقرار رکھا۔ (ت)
لاتعجز وافی الدعاء فانہ لن یھلك مع الدعاء احد ۔ قال فی الحرز المعنی لاتقصروا ولا تکسلوا فی تحصیل الدعاء ۔
دعا میں کسل وکمی نہ کرو کہ دعا کے ساتھ کوئی ہلاك نہ ہوگا— حرزثمین میں ہے معنی یہ ہے کہ دعاء کی بجاآوری میں کوتاہی و سستی نہ کرو۔ (ت)
مسند ابویعلی میں جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
تدعون اﷲتعالی فی لیلکم ونھارکم فان الدعاء سلاح المؤمنین ۔
رات دن اﷲ تعالی سے دعا مانگتے رہو کہ دعا مسلمان کا ہتھیار ہے۔
طبرانی کتاب الدعاء ابن عدی کامل امام ترمذی نوادر و بیہقی شعب الایمان میں بعد ابو الشیخ و قضاعی ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کرتے ہیں حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اﷲیحب الملحین فی الدعاء ۔
بیشك اﷲتعالی بکثرت وباربار دعا کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
طبرانی معجم کبیر میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور پرنور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان لربکم فی ایام دھرکم نفحات فتعرضوا لھا لعل ان یصبکم نفحۃ منھا فلا تشقون بعدھا ابدا ۔
یعنی تمہارے رب کے لئے زمانے کے دنوں میں کچھ عطائیں رحمتیں تجلیاں ہیں توان کی تلاش رکھو (یعنی کھڑے بیٹھے لیٹے ہروقت دعا مانگتے رہو تمہیں کیا معلوم کس وقت رحمت الہی کے خزانے کھولے جائیں) شاید ان میں کوئی تجلی تمہیں بھی پہنچ جائے کہ پھر بد بختی نہ آئے۔
حرزثمین شرح حصن حصین حدیث مذکور کے تحت افضل المطابع لکھنؤ ص۱۱
مسند ابویعلٰی حدیث ١٨٠٦ الدعوات الخ مطبوعہ موسستہ علوم القرآن بیروت ٢ / ٣٢٩
نوادرالاصول الاصل الثمانون والمائۃ فی الالاحاء والدعاء مطبوعہ دارصادر بیروت ص٢٢٠
المعجم الکبیر مروی ازمحمد بن مسلمہ حدیث ٥١٩ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۹ / ۲۳۴
علامہ منادی نے تیسیر میں فرمایا : تو انہیں تلاش کرو اس طرح کہ دلوں کو کدورتوں اور برے اخلاق سے پاك وصاف کرلو اور باری تعالی سے کھڑے بیٹھے لیٹے دیناوی کام کرتے ہروقت مانگتے رہو اس لئے کہ بندے کو کچھ پتا نہیں کہ کس وقت رحمت کے خزانے کھل جائیں۔ (ت)
سراج المنیر میں اس کے مثل ذکر کرکے فرمایا : قال الشیخ حدیث حسن (شیخ فرمایا : یہ حدیث حسن ہے۔ ت)
جب دعا کی نسبت صاف حکم ہے کہ اس میں کسل نہ کرو بکثرت مانگو رات دن مانگو ہرحال مانگو۔ تو ایك بار کی دعا پر اقتصار کیونکر مطلوب شرع ہوسکتا ہے۔ لاجرم حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے قبل نماز وبعد نماز دونوں وقت میت کے لئے دعا فرمانا اور مسلمانوں کو دعا کا حکم دینا ثابت۔
مسلم عن ام سلمۃ رضی اﷲتعالی عنہا قالت قال رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اذا حضرتم المریض اوالمیت فقولوا خیرافان الملئکۃ یؤمنون علی ماتقولون وھوعنھارضی اﷲتعالی عنھاقالت دخل رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی ابی سلمۃ وقدشق بصرہ فاغمضہ (الی ان قالت) ثم قال اللھم اغفر لابی سلمۃ وارفع درجتہ فی المھدیین واخلفہ فی عقبہ فی الغابرین واغفرلنا ولہ یارب العلمین وافسح فی قبرہ
امام مسلم حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جب تم بیمار یا میت کے پاس آؤ تو اچھی بات بولو اس لئے کہ ملائکہ تمہاری باتوں پر آمین کہتے ہیں--وہی امام انہی ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی ہیں فرماتی ہیں : رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ابوسلمہ کی وفات پر تشریف لائے تو ابھی ان کی آنکھ کھلبی ہوئی تھی سرکار نے بند کی(یہاں تك فرمایا) پھر سرکار نے دعاکی : اے اﷲ! ابو سلمہ کو بخش دے اور ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما اور پسماندان میں اس کا نیك بدل
السراج المنیر شرح الجامع الصغیر حدیث مذکورہ کے تحت مطبوعہ مطبعۃ ازہریۃ مصریۃ مصر ۲ / ۱۱
صحیح مسلم کتاب الجنائز مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ١ / ٣٠٠
عطا فرما اور ہمیں اور اسے اپنی رحمت سے چھپا اس کی قبر کشادہ فرمادے اور اس کے لیے اس میں روشنی ونور پیدا فرما—ابوداؤد و حاکم امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حاکم نے اس حدیث کو صحیح بھی کہا --وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اﷲتعالی علیکہ وسلم جب میت کی تدفین سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ دیر رکتے اور فرماتے اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت کرو اور اس وقت اس سے سوال ہونے والا ہے --امام احمد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نجاشی کے مرنے کی اطلاع دی پھر فرمایا : اس کے لئے دعائے مغفرت کرو۔ پھر صحابہ کو لےکر نماز گاہ تشریف لے گئے پھر انہیں نماز پڑھائی جیسے جنازہ کی نماز پڑھی جاتی ہے--ابن ماجہ اوربیہقی سنن میں حضرت سعید بن مسیب سے راوی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ایك جنازہ میں حاضر تھا جب انہوں نے جنازہ کو لحد میں رکھا تو کہا : اﷲ کے نام سے اﷲکی راہ میں اور اﷲ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دین پر--پھر جب لحد پر کچی اینٹیں درست
سنن ابی داؤد کتاب الجنائز مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ١٠٣ ، مستدرك علی الصحیحین کتاب الجنائز مطبوعہ دارصادر بیروت ١ / ٣٧٠
سند احمد بن حنبل مروی ازابوہریرہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ٢ / ٥٢٩
کرنے لگے تو کہا : اے اﷲ! اسے شیطان سے اور عذاب قبر سے پناہ میں رکھ اے اﷲ! اس کی کروٹوں سے زمین جدا رکھ اس کی روح کو اوپر پہنچا اوراسے اپنی خوشنودی عطافرما--میں نے عرض کیا : اے ابن عمر ! یہ کوئی ایسی دعا ہے جو آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سنی ہے یا اپنی رائے سے کی ہے-- فرمایا : ایسا ہے تو وہ دعاکرسکتاہوں جو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سنی ہے۔ یہ ابن ماجہ کی روایت ہے --اور دوسری روایت میں یوں ہے کہ جب لحد برابر کرنے لگے توکہا : اے اﷲ!اسے شیطان سے اور عذاب قبر سے پناہ میں رکھ۔ پھر جب اس پر اینٹیں برابر کردیں تو قبر کے کنارے کھڑے ہوکر یہ دعا کی : اے اللہ اس کی کروٹوں سے زمین کوجدارکھ اس کی روح کواوپر پہنچا اوراسے اپنی خوشنودی عطافرما--پھر فرمایا : میں نے اسے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سناہے۔ (ت)
احادیث اس بارہ میں حد شہرت واستفاضہ پر ہیں انہیں میں سے حدیث عبداﷲ بن ابی بکر وعاصم بن عمر بن قتادہ مروی مغازی واقدی ہے کہ جواب عــــہ میں مذکور ہوئی۔
عــــہ : یعنی جواب مجیب اول کہ بغرض تصدیق از
یعنی مجیب اول کا جواب جو تصدیق کے لئے بمبئی (باقی اگلے صفحہ پر)
السنن الکبرٰی کتاب الجنائز مطبوعہ دارصادر بیروت ٤ / ٥٥
اقول : یہ حدیث اگرچہ اپنے دونوں طریقوں مرسل ہے مگر مرسل ہمارے نزدیك اور جمہور کے نزدیک
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بمبئی آمدہ بود عبارتش ازیں مقام اینست۔ سے آیاتھا اس جگہ سے اس کی عبارت یہ ہے
اگر اس پر بھی تسلی نہ ہو تو زیادہ صریح لیجئے کبیری شرح منیہ عبداﷲبن ابی بکر سے روایت ہے :
قال لما التقی الناس بموتۃ جلس رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم علی المنبر وکشف لہ مابینہ وبین الشام فھوینظرالی معترکھم فقال علیہ الصلوۃ والسلام اخذالرایۃ زید بن حارثۃ فمضی حتی استشہد وصلی علیہ ودعا لہ وقال استغفروالہ دخل الجنۃ وھویسعی ثم اخذ الرایۃ جعفر بن ابی طالب فمضی حتی استشھد وصلی علیہ رسول اﷲتعالی علیہ وسلم ودعالہ وقال استغفروا لہ دخل الجنۃ فھو یطیر فیھا بجنا حین حیث شاء ۔
جب مقام موتہ میں لڑائی شروع ہوئی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اﷲعزوجل نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے پردے اٹھا دئےکہ ملك شام اور وہ معرکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دیکھ رہے تھے اتنے میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : زید بن حارثہ نے جھنڈا اٹھایا ور لڑتا رہا یہاں تك کہ شہید ہوا۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں اپنی صلاۃ ودعاء سے مشرف فرمایا اور صحابہ کو ارشاد ہوا اس کے لئے استغفار کرو بیشك وہ دوڑتاہوا جنت مین داخل ہوا۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : پھرجعفر بن ابی طالب نے علم اٹھایا اور لڑتا رہا یہاں یك کہ شہید ہوا حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کو اپنی صلاۃ ودعا سے شرف بخشا اورصحابہ کوارشاد ہوا اس کے لئے استغفار کرو وہ جنت میں داخل ہوا اور اس میں جہاں چاہے اپنے پروں سے اڑتا پھرتاہے۔ (ت)
اسی حدیث شریف سے صاف ظاہر ہے کہ آپ نے بعد نماز جنازہ کے دعا کی ہے اور صحابہ کرام کو بھی آپ نے امر فرمایا ہے پس صورت مسئولہ کے جواز میں کیا کلام رہا انتہی منہ رضی اللہ تعالی عنہ (م)
حجت ہے—پھر ہمارے نزدیك ثابت یہی ہے کہ امام واقدی ثقہ ہیں جیسا کہ امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں افادہ فرمایا--پھرالفاظ شرعیہ میں اصل یہ ہے کہ اپنے شرعی معانی پر محمول ہوں تو صلاۃ غیردعا ہے--پھر تاسیس(از سرنو کوئی افادہ) تاکید سے بہتر ہے تو دعا غیرصلاۃ ہے۔ (ت)
پھر جب دعا مستحب اور مطلقا مستحب اوراکثار مستحب اورقبل نماز بعد نماز ہرطرح مستحب توبعد نماز متصلا اس سے کون مانع بلکہ یہ وقت تو خاص مظنہ نفحات ربانیہ ہے کہ عمل صالح خصوصا نماز حالت رحمت ورحمت الہی سبب اجابت ولہذا دعا سے پہلے تقدیم عمل صالح مطلوب ہوئی
کما فی الحصن قال القاری وتقدیم عمل صالح ای قبل الدعاء لیکون سببالقبولہ کما فی حدث ابی بکر رضی اﷲتعالی عنہ فی صلوۃ التوبۃ علی ماسیاتی فی اصل الکتاب ورواہ الاربعۃ وابن حبان ۔
جیسا کہ حصن حصین میں ہے -- اس کی شرح میں مولانا علی قاری نے فرمایا : عمل صالح کی تقدیم یعنی دعا سے قبل نیك کام کی بجا آوری تاکہ قبول دعاء کا سبب ہو جیسا کہ نماز توبہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے جیسا کہ اصل کتاب حصن حصین میں آرہا ہے اور اسے اربعہ(ابوداؤد ترمذی نسائی ابن ماجہ)اور ابن حبان نے روایت کیا۔ (ت)
ولہذا ختم قرآن واتمام صوم ونماز پنجگانہ بلکہ ہر نماز مفروض بلکہ ہر فرض کے بعد دعا کی ترغیب احادیث میں آئی ہے جن میں نماز جنازہ بھی قطعا داخل
الترمذی وحسنہ والنسائی عن ابی امامۃ رضی اﷲتعالی عنہ قال قالت یارسول اﷲای الدعاء اسمع قال جوف اللیل الاخر ودبرالصلوات المکتوبات قال
ترمذی بافادہ تحسین اور نسائی حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ! کون سی دعا سنی جانے والی ہے فرمایا : وہ جواخیر شب کے درمیان ہو اور فرض
جامع الترمذی ابواب الدعوات مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ١٨٨
نمازوں کے بعد—علامہ علی قاری نے فرمایا : بعد فرائض کی تقیید اس لئے ہے کہ یہ سب افضل حالت تو اس میں قبول دعا کی امید زیادہ ہے اھ۔ بیہقی خطیب ابونعیم اورابن عساکر حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے : ہر ختم قرآن کے ساتھ ایك دعا مقبول ہوتی ہے--امام احمد ترمذی بافادہ تحسین ابن ماجۃ ابن خزیمہ ابن حبان اپنی صحاح میں اور بزار(اپنی مسندمیں) حضرت ابوہریرہ رضی ا ﷲتعالی عنہ سے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے : تین شخص ہیںجن کی دعا رد نہیں ہوتی ایك روزہ دار جب افطار کرے الحدیث--طبرانی معجم کبیر میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں : جس نے فرض نماز اداکی اس کی ایك دعا مقبول ہوتی ہے اور جس نے قرآن ختم کیا اس کی بھی ایك دعا مقبول ہوتی ہے--دیلمی مسند الفردوس میں امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے راوی ہیں جس نے کوئی فریضہ ادا کیا خدا کے یہاں اس کی ایك
کنز العمال بحوالہ البیہقی عن انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث ٢٣١٤ مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت ١ / ٥١٧
سنن ابن ماجہ باب فی الصیام لاتر دعوتہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۲۶
المعجم الکبیر مروی عِرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ حدیث ۶۴۷ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۸ / ۲۵۹
دعا مقبول ہوتی ہے--اس باب میں اور بھی حدیثیں ہیں جن میں سے کچھ ہم نے اپنے رسالہ سرور العیدالسعیدفی حل الدعاء بعد صلاۃ العید (ھ) میں نقل کی ہیں۔
خود رب العزت عزوجل ارشاد فرماتا ہے :
فاذا فرغت فانصب(۷) و الى ربك فارغب(۸) ۔
جب تو نماز سے فارغ ہو تودعا میں مشقت کر اور اپنے رب کی طرف زاری وتضرع کے ساتھ راغب ہو(ت)
جلالین میں ہے :
فاذا فرغت من الصلوۃ فانصب اتعب فی الدعاوالی ربك فارغب تضرع ۔
جب تونماز سے فارغ ہوتودعامیں مشقت کراوراپنے رب کی طرف زاری وتضرع کے ساتھ راغب ہو۔ (ت)
بالجملہ دعائے مذکور کے جواز میں شك نہیں ہاں دفع احتمال زیادت کو نقض صفوف کرلیں اسی قدر کافی ہے کہ اس کے بعد احتمال زیادت کا اصلا محل نہیں ہے جس طرح بعد ختم نمازظہر ومغرب و عشاء ادائے سنن کے لئے مقتدیوں کو کسر صفوف مسنون کہ اس کے بعد کسی آنے والے کو بقائے جماعت کا احتمال نہیں ہوسکتا۔ علامہ محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلبی حلیہ میں فرماتے ہیں :
لفظ البدائع اما المقتد ون فبعض مشائخنا قالوالاحرج فی ترك الانتقال لانعدام الاشتباہ علی الداخل عندمعاینۃ فراغ مکان الامام عنہ وروی عن محمد انہ قال مستحب للقوم ایضا ان ینقضوا الصفوف ویتفرقوا لیزول
بدائع عبارت یہ ہے : رہا مقتدیوں کا حکم توہمارے بعض مشائخ نے فرمایا وہ اگراپنی جگہ سے نہ ہٹیں تو کوئی حرج نہیں اس لئے کہ آنے والا جب امام کی جگہ خالی دیکھ لے گا تو اسے بقائے جماعت کا شبہہ نہ رہ جائےگا۔ اور امام محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : قوم کے لئے بھی مستحب ہے کہ صفیں توڑدیں اور منتشر ہوجائیں
القرآن۹۴ / ۷ ، ۸
جلالین نصف ثانی الم نشرح مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۵۰۰
تاکہ ایسے شخص کو شبہہ نہ ہوجو بعد میں آئے اور سب کو نماز میں دیکھے اور اما م سے دور ہو۔ اور اس حدیث کی وجہ سے بھی جو ہم نےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی --اورذخیرہ میں یہ ہے کہ یہ امام محمد سے روایت ہے اور اسی پر محیط میں رضی الدین نے مشی فرمائی اس تصریح کے ساتھ کہ یہی سنت ہے اھ (ت)
ثم اقول : یہ بھی لحاظ لازم کہ صرف اس دعا کی غرض سے جنازہ اٹھانے کو تعویق ودرنگ میں نہ ڈالیں کہ یہاں شرعا تعجیل مامور ہے اور دعا کچھ تعویق پر موقوف نہیں اتنے کلمات اللھم لا تحرمنا اجرہ ولاتفتنا بعدہ واغفرلنا ولہ بلکہ اس سے زائد جنازہ اٹھاتے اٹھاتے کہہ سکتے ہیں کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت)امام ابن حاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں :
ان بعض من یعتنون بہ من الموتی یترکونہ بعدان یصلی علیہ فی المسجد ویقفون عندہ ویطولون الدعاء وبعضھم یفعل ماھواکثر من ذلك وھوتکبیرالمؤذنین اذذاك علی ماتقدم من زعقاتھم ویطولون فی ذلک والسنۃ التعجیل بالمیت الی دفنہ ومواراتہ وفعلھم یضدذلک فلیحذرمن ھذا واﷲالمستعان ۔
انہیں جس مردے سے اعتنا ہوتا اسے نماز جنازہ پڑھنے کے بعد مسجد میں چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے پاس ٹھہر کر دیر تك دعا کرتے ہیں اور بعض اس سے زیادہ کرتے ہیں وہ یہ کہ اس وقت مؤذنین تکبیر کہتے ہیں جیسا کہ ان کی بلند بانگوں کاذکر پہلے ہوچکا ہے۔ اور اس میں طول دیتے ہیں۔ جب کہ سنت یہ ہے کہ میت کو لے جاکرجلد دفن کریں اور ان لوگوں کا عمل اس کے برخلاف ہے تواس سے بچنا چاہئے ۔ اور خدا ہی سے مدد طلبی ہے۔ (ت)
دیکھو ان امام نے بآنکہ انکار حوادث میں مبالغہ شدیدہ رکھتے ہیں یہاں تك کہ بعض جگہ حد سے تجاوز واقع ہوگیا کما نص علیہ الامام المحقق جلال الملۃ والدین السیوطی(جیساکہ امام محقق جلال الدین
المدخل لابن الحاج صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت ۳ / ٢٦٣
ف : حلیہ مجھے دستیاب نہیں اس لئے بدائع الصنائع کا حوالہ دیا جارہا ہے۔ نذیر احمد
کما نقل عن بعضھم بمانصہ چوں منع درکتب بلفظ قیام واقع شدہ شاید کہ دراں اشارت باشدباآں کہ ا گر نشستہ دعاکند جائز باشد ۔
جیسا کہ بعض سے منقول ہے عبارت یہ ہے : چونکہ کتابوں میں لفظ قیام کے ساتھ ممانعت آئی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ اس وقت یہ اشارہ کہ اگر بیٹھ کر دعا کرے تو جائز ہے (ت)
بلکہ کراہت اس قدر سے بھی اطلاق منع مانعین میں خلل واقع وانا اقول : وباﷲالتوفیق(اور میں کہتا ہو ں اور یہ اﷲ کی توفیق سے ہے۔ ت) قیام ان کلمات علماء میں بمعنی توقف ودرنگ ہے کہ ان معنی مین بھی اس کا استعمال شائع
قال تعالی حسنت مستقرا و مقاما(۷۶) ای موضع قرار لامحل انتصاب اذلامحل لہ وکذاقولہ تعالی حاکیا عن الکفار یاهل یثرب لا مقام لكم وقال تعالی یقیمون الصلوة ای یواظبون علیھا ومنہ اسمائہ تعالی القیوم القیام والقیم بمعنی الدائم القیام بتدبیر الخلق ۔ ومنہ حدیث فی معجزاتہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم لولم تکلہ لقام لکم ای دام وثبت ولم ینفذ و
باری تعالی کا ارشاد ہے : جنت کیا ہی عمدہ ٹھکانہ اور مقام ہے۔ مقام کا معنی ٹھہرنے کی جگہ کھڑے ہونے کی جگہ نہیں اس لئے کہ اس کا موقع نہیں۔ اسی طرح قول کفار کی حکایت فرماتے ہوئے ارشادباری ہے : اے اہل یثرب! تمہارے لئے مقام نہیں یعنی جائے قرار نہیں-- اور ارشاد باری ہے : نماز قائم کرتے ہیں۔ یعنی اس پر مداومت کرتے اور ہمیشگی برتتے ہیں-- اور اس سے باری تعالی کے اسماء قیوم قیام قیم ہیں—یعنی
القرآن ۲۵ / ۷۶
القرآن ٣٣ / ١٣
القرآن ۳۱ / ۴
مجمع البحار تحت لفظ قوم منشی نولکشور لکھنؤ ٣ / ١٨١
صحیح مسلم کتاب الفضائل مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ٢ / ٢٤٦
دوام والا ہمیشہ مخلوق کی تدبیر فرمانے والا--اسی سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے معجزات کی ایك حدیث ہے : اگر تم اسے نہ ناپتے تو وہ تمہارے لئے قائم رہتا یعنی وہ غلہ دائم وثابت رہتا اور ختم نہ ہوتا-- اسی سے یہ حدیث ہے۔ سنت قائمہ یعنی دائمی اور ہمیشہ رہنے والا طریقہ --اور دعائے اذان میں ہے : والصلوۃ القائمۃ--یعنی دائمی نماز جسے نسخ عارض ہونے والا نہیں-- حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے : میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اس پربیعت کی کہ زمین پر نہ گروں گا مگر قائم رہ کر--یعنی نہ مروں گا مگر اسلام پر برقرار اور ثابت رہ کر-- اسے مجد الدین فیروز آبادی نے القاموس المحیط میں ذکر کیا-- اور مزید لکھا : قام الماء--پانی جم گیا--قام الدابۃ--جانور ٹھہرا--اقام بالمکان--اس جگہ ہمیشہ رہا--اقام الشیئ--اس شیئ کو ہمیشہ رکھا--مالہ قیمۃ--اسے کسی چیز پر دوام نہیں اھ--
مجمع بحر الانوار میں ہے : حدیثاپنے سردار کے لئے قیام کرو--
مسند احمد بن حنبل مروی ازحکیم بن حزام مطبوعہ دارالفکر بیروت ٣ / ٤٠٢
القاموس المحیط باب المیم فصل القاف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۴ / ۱۷۰
القاموس المحیط باب المیم فصل القاف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۴ / ۱۷۰
مجمع بحارالانوار تحت لفظِ قوم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۳ / ۱۸۲
واللفظ لمسلم وضع عمربن الخطاب علی سریرہ فتکنفہ الناس یدعون ویثنون ویصلون علیہ قبل ان یرفع وانا فیھم قال فلم یرعنی الارجل قداخذ بمنکبی من ورائی فالتفت الیہ فاذاھوعلی فترحم علی عمر وقال ماخلفت احدا احب الی ان القی اﷲبمثل عملہ منك وایم اﷲ ان کنت لاظن ان یجعلك اللہ مع صاحبیك ۔ وفی
یعنی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا جنازہ رکھا تھا لوگ چارطرف سے احاطہ کئے ہوئے ان کے لئے دعاوثناء میں مشغول تھے میں بھی انہیں دعا کرنے والوں میں کھڑا تھا ناگاہ ایك شخص نے پیچھے سے آکر میرے شانے پر کہنی رکھی میں نے پلٹ کر دیکھا تو علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ تھے۔ جنازہ شریفہ کی طرف مخاطب ہوکر بولے : اﷲآپ پر رحم فرمائے آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا نہ چھوڑا جو مجھے آپ سے زیادہ پیاراہوکہ میں اس کے سے
عمل کرکے اﷲ تعالی سے ملوں اورخدا کی قسم مجھے امید واثق تھی کہ اﷲتعالی آپ کو آپکے دونوں صاحبوں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و امیرالمومنین صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی رفاقت نصیب فرمائے گا۔ الحدیث
ثم اقول : ہر شخص اپنے نفس میں دعا کرے دوسروں سے تاکید وتقاضا میں مصروفی واشتغال یانہ کرنے والوں سے نزاع وجلال کا وہ محل نہیں کہ وہ وقت اعتبار وتفکر واتعاظ وتدبر کا ہے نہ غافلانہ رفع اصوات وبحث ومنازعت کا۔
وقد وردت فی ذلك اثارکثیرۃ عن الصحابۃ الکرام والتابعین الاعلام رضی اﷲ تعالی عنہم وصرحت بہ العلماء الحنفیۃ والمالکیۃ و الشافعیۃ وغیرھم قدست اسرارھم۔
اس بارے میں صحابہ کرام اور تابعین اعلام رضی اللہ تعالی عنہم سے کثیر آثار وارد ہیں۔ حنفی مالکی شافعی اور ان کے علاوہ علماء قدست اسرارہم نے اس کی صراحت فرمائی ہے(ت)
امید کرتا ہوں کہ یہ وہ قول فصل وحکم عدل ہو جسے ہرذی انصاف پسند کرے وباﷲ التوفیق رہا مظنہ فساد اعتقاد کہ ایسے مواضع میں اکثر دستاویز مانعین ہوتا ہے اور اسے جہلا خواہ تجاہلا موجب منع وتحریم نفس فعل وبجائے ترك مواظبت ولومن البعض المقتدی بھم(اگرچہ مداومت کا ترك بعض مقتداء وپیشوا حضرات سے ہی عمل میں آجائے۔ ت) مواظبت ترك مطلق کے وجوب پر دلیل ٹھہراتے ہیں عندالتحقیق یہ صرف ان کی تلمیع سحیق ہے حق یہ کہ جہاں ایسا ہوتو صرف ترك احیانا اس کے ازالہ میں کافی کما نص علیہ العلماء فی غیرماکتاب(جیسا کہ علماء نے متعدد کتابوں میں اس کی صراحت فرمائی ہے۔ ت) (یعنی اگر یہ گمان ہوکہ لوگ واجب سمجھیں گے تو کبھی ترك بھی کردے۔ نہ یہ کہ ہمیشہ ترك کرنا واجب ہوجائے ۔ مترجم) اور وہ بھی عموما ضروری نہیں صرف علمائے مشار الیہم بالبنان کی جانب سے کفایت کرتا ہے کہ انہیں کے افعال پر نظر ہوتی ہے اور وہی باعث ہدایت عوام واﷲ الھادی الی سبل السلام والصلوۃ والسلام الی یوم القیام الی حبیبہ والہ وصحبہ الکرام وعلینا بھم
بشرف ملاحظہ جامع المعقول والمنقول واقف الفروع والا صول حضرت مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب مدظلہ العالی پس ازتسلیم معروض براہ کرم اس کا جواب مرحمت فرمائےگا۔ والتسلیم محمد عبدالوہاب ازکانپور مدرسہ فیض عام۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ان دنوں جو بلاد دکن وغیرہ میں یہ امر مروج ہے کہ بعد سلام نمازجنازہ قبل تفرق صفوف یعنی امام ومقتدی دونوں روبقبلہ اسی ہیئت معلومہ صلاۃ جنازہ پر قائم رہتے ہیں اور میت کے حق میں چند دعائیں وسورہ فاتحہ وغیرہ پڑھ کر بخشتے ہیں آیا یہ امر شرعا جائز ہے یا نہیں امید کہ اس کا شافی جواب بحوالہ عبارات کتب معتبرہ مذہب حنفیہ مرحمت ہو۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم والحمدﷲ مجیب الدعوات وافضل الصلاۃ واکمل التحیات علی ملاذ الاحیاء ومعادالاموات خالص
اﷲ کے نام سے شروع نہایت مہربان رحم والا۔ سب خوبیاں خداکےلئے جو دعائیں قبول فرمانے والا ہے اور بہتر درود کامل ترین تحیتیں ہوں ان پر جو زندوں کی پناہ گاہ مردوں کا مرجع خالص اور
محض خیروبرکت ہمیں دنیاکی زندگی میں اور بعد موت کی بالاتر زندگی میں اور ان کے بزرگ صفات والے آل واصحاب پر جب تك کوئی گزرنے والادور اورآنے والا قریب ہوتا رہے الہی قبول فرما۔ (ت)
اواخر ماہ فاخر حضرت مفیض المفاخر شہر ربیع الآخر ۱۳۱۱ ہجری میں اس مسئلہ کے متعلق ایك سوال بعض اہل علم وسنت نے بمبئی سے بھیجا جس کا اجمالی جواب قدرے تحقیق حدیثی پر مشتمل دیا گیا اب کہ رجب المرجب۱۳۱۱ھ کو یہ سوال کانپور مدرسہ فیض عام سے آیا اس میں صورت نازلہ شکل مسئلہ بمبئی سے جدا ہے وہاں یہ تھا کہ بعد نماز جنازہ کے صفوف توڑ کر یہ دعا اللھم لا تحرمنا اجرہ وتفتنابعدہ واغفرلنا ولہ یامثل اس کے کی جاتی ہے یہاں یوں ہے کہ قبل تفرق صفوف روبقبلہ اسی ہیئت معلومہ پر قائم رہتے ہیں الخ ادائے حق افتاء کو بس تھا کہ اس صورت خاصہ کا حکم لکھتا مگر ممکن کہ فتوی نظرگاہ عامہ تك پہنچے اور فقیر کو تجربہ ہے کہ بہت عوام تمایز صور سے غفلت کرتے اور بعض ناظرین قصدا بھی انہیں غلط میں ڈالتے ہیں لہذا ایسی جگہ ہمیشہ پوری بات کا ذکر کرنا مناسب کہ من لم یعرف اھل زمانہ فھوجاھل(جو اپنے زمانہ والوں سے نا آشنا ہووہ جاہل ہے۔ ت) وہاں تحقیق حدیثی تھی یہاں بعونہ عزوجل ایك مقدمہ تمہید کرکے تنقیح فقہی سے کام لیجئے کہ باوصف تکرار تکرار بھی نہ ہو اور ایضاح مرام وازاحت اوہام بھی بحمداﷲ تعالی نہایت کو پہنچے۔ فاقول : وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق(تو میں کہتا ہوں اور خداہی کی جانب سے توفیق ہے اور اسی کی مدد سے بلندی تحقیق تك رسائی ہے۔ ت) سلفا وخلفا ائمہ اہلسنت وجماعت رضی اللہ تعالی عنہ م وعنابہم کا اجماع ہے کہ اموات مسلمین کے لئے دعامحبوب اور شرعا مطلوب نصوص شرعیہ آیۃ وحدیثا بارہ ارسال مطلق واطلاق مرسل پر واردجن میں کسی زمانہ کی تقلید وتجدید نہیں کہ فلاں وقت تو مستحب ومشروع ہے او ر فلاں وقت ناجائز وممنوع۔ چند حدیثیں فتوی اولی میں گزریں یہاں بعض احادیث تازہ ذکر کردوں کہ فیض وعطائے حضرت رسالت علیہ الصلوۃ والتحیۃ محدود نہیں۔
حدیث۱ : حضور پرنور سید العالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اکثر الدعاء الحاکم فی مستدرك عن
دعا بکثرت کر۔ اسے حاکم نے مستدرك میں حضرت ابن عباس
رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا اور اسے صحیح کہا۔ امام سیوطی نے بھی اس کے صحیح ہونے کا نشان (رمز)لگایا۔
حدیث ۲ : فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
اذاسأل احدکم فلیکثر فانما یسأل ربہ ۔ ابن حبان فی صحیحہ والطبرانی فی الاوسط عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲتعالی عنہا بسند صحیح ۔
جب تم میں سے کوئی شخص دعا مانگے تو بکثرت کرے کہ اپنے رب سے ہی سوال کررہا ہے۔ اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور طبرانی نے معجم اوسط میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بسند صحیح روایت کیا۔
اقول : یہ حدیث سوال و مسئول دونوں میں تکثیر کی طرف ارشاد فرماتی ہے۔ مسئول میں یوں کہ بہت کچھ مانگے بڑی چیز مانگے کہ آخر رب قدیر سے سوال کرتا ہے اور سوال میں یوں بار بار مانگے بکثرت مانگے کہ آخر کریم سے مانگ رہاہے وہ تکثیر سوال سے خوش ہوتاہے بخلاف ابن آدم کے کہ باربار مانگنے سے جھنجھلا جاتاہے فللہ الحمد وحدہ(تو خدائے یکتا ہی کے لئے ساری خوبیاں ہیں۔ ت)
حدیث : فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
اکثر من الدعاء فان الدعاء یرد القضاء المبرم ۔ ابوالشیخ عن انس رضی اﷲتعالی عنہ۔
دعا بکثرت مانگ کر دعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے۔ اسے ابوالشیخ نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
اقول : اس معنی کی تحقیق کہ یہاں قضاء مبرم سے کیا مراد ہے فقیر نے اپنے رسالہ ذیل المدعی لاحسن الوعاء میں ذکر کی۔
حدیث ۴ : فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لقد بارك اﷲلرجل فی حاجۃ اکثرالدعاء فیھا ۔ البیہقی فی الشعب والخطیب
بیشك اﷲتعالی نے برکت رکھی آدمی کی اس حاجت میں جس میں وہ دعا کی کثرت کرے۔ اسے بیہقی نے
کنزالعمال بحوالہ ابی الشیخ عن انس رضی اﷲ عنہ حدیث ۳۱۲۰ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ٢ / ٦٣
شعب الایمان ذکر فصول فی الدعاء مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /
شعب الایمان میں اورخطیب نے تاریخ میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا
حدیث : کثرت دعا سے گھبرا کر دعا چھوڑ دینے والے کو فرمایا : ایسے کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لا یزال یستجاب للعبد مالم یدع باثم اوقطعیۃ رحم مالم یستعجل قیل یارسول اﷲ ماالاستعجال یقول قددعوت فلم اریستجیب لی فیستحسر عندذلك ویدع الدعاء ۔ مسلم عن ابی ہریرۃرضی اﷲتعالی عنہ واصل الحدیث عندالشیخین وابی داؤد والترمذی وابن ماجۃ جمیعاعنہ وفی الباب وغیرہ۔
بندےکی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تك کہ کسی گناہ یا قطع رحم کا سوال نہ کرے اور جب تك کہ جلد بازی نہ کرے۔
عرض کیا یا رسول اﷲ جلد بازی کیا ہے فرمایا جب بندہ کہنے لگے کہ میں نے باربار دعا کی قبول ہوتی نظر نہیں آتی اس وقت اکتاکر چھوڑ دے۔ یہ حدیث امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی۔ اوراصل حدیث بخاری مسلم ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ سبھی کے یہاں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے موجود ہے اور اس باب میں اس کے علاوہ اور حدیثیں ہیں۔ (ت)
حدیث ۶ و ۷ : حدیث حسن میں تصریحا ارشاد فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
اطلبوا الخیر دھرکم کلہ وتعرضوا النفحات رحمۃ اﷲفان ﷲ نفحات من رحمۃ یصیب بھا من یشاء من عبادہ ۔ ابوبکر بن ابی الدنیا فی الفرج بعد الشدۃ والامام الاجل عارف باﷲ سیدی محمد الترمذی فی نوادرالاصول والبیہقی فی شعب الایمان وابونعیم فی حلیۃ الاولیاء عن انس بن مالك وفی الشعب
ہر وقت ہر گھڑی عمر بھر خیر مانگے جاؤ اور تجلیات رحمت الہی کی تلاش رکھو کہ اﷲعزوجل کے لئے اس کی رحمت کی کچھ تجلیاں ہیں کہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے پہنچاتا ہے۔
اسے ابوبکر بن ابی الدنیا نے “ الفرج بعد الشدۃ “ میں امام اجل عارف باﷲ سیدی محمد ترمذی نے نوادرالاصول میں بیہقی نے شعب الایمان میں ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں انس بن مالك سے اور شعب الایمان میں حضرت
نوادرالاصول الاصل الرابع والثمانون والمائۃ فی طلب الخیر مطبوعہ دارصادر بیروت ص ٢٢٣
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی روایت کیا۔ اور اسی کے ہم معنی حدیث طبرانی کی معجم کبیر کے حوالے سے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت پہلے فتوی میں گزر چکی ہے۔ عامری نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
اقول : اورمیرا اسے حسن کہنا اچھا اور درست ہے کیونکہ اس کے متعدد طریق ہیں۔ اور شیخ محمد حجازی شعرانی نے معجم کبیر کی حدیث کو حسن کہا ہے۔ (ت)
یہاں تو بحمد اﷲ نہ صرف اطلاق بلکہ صراحۃ تعمیم زمانہ ہے جس میں نماز جنازہ سے قبل وبعد متصل ومنفصل سب اوقات قطعا داخل تو جس وقت دعا کیجئے بلاشبہ عین مامور بہ اور حسن فی حدذاتہ ہے تو جب تك کسی خاص وقت کی ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہ ہو منع وانکار حکم شرع کارد وابطال ہے۔ اب وہ عدم نقل خصوص وعدم درودخاص کا شگوفہ جس سے حضرات منکرین امثال مسائل میں اکثر مغالطہ دیتے ہیں رأساہباء منثور ہوگیا کہ جب بہ تصریح تعمیم امرشر ع وارد تو جمیع ازمنہ تحت امرداخل پھر کسی خاص میں عدم ورود کیا معنی بہ استناد اگرہوگا تو ایسا ہوگا کہ زید کہے اگرچہ قرآن عظیم میں اقیموا الصلوۃ وغیرہا بصیغہ عموم وارد مگر خاص میرا نام لے کر حکم کہاں ہے تو مجھ پر فرضیت نماز کا ثبوت نہیں ۔ آپ سے ذی ہوش سے یہی کہا جائے گا کہ جب عام نازل توتوبھی داخل۔ اگر مدعی خروج ہے خروج ثابت کر۔ غرض ایسا مکابرہ تو مقیاس الجنون کے اعلی نمبر سے کچھ ہی درجے گھٹا ہوگا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ حسن فی ذاتہ کو کبھی خارج سے کوئی امرمزاحم حسن عارض ہوتاہے جوکسی خاص مادہ میں اس کا دعوی کرے وہ مدعی ہے بار ثبوت اس کے ذمہ ہے۔ پھر ظاہر کہ عارض اپنے عروض ہی تك مزاحم رہے گا زائل ہوتے ہی اصل حسن کا حکم عود کرے گا۔ کما لایخفی علی من لہ ادنی نصیب من عقل مصیب(جیسا کہ ہراس شخص پر واضح ہے جسے عقل صحیح کا کوئی بھی حصہ نصیب ہوا ہے۔ ت) ا س مقدمہ واضحہ کے بعد ان کلمات فقہا ء پر نظر ڈالئے جن سے بے مایہ صاحبوں کو دھوکا ہو یا ہوشیار لوگ دانستہ عوام کو مغالطہ دیں۔
اقول : عامہ کتب میں یہ عامہ اقوال ہرگز اطلاق وارسال پر نہیں کہ بعد نماز جنازہ مطلقا دعا کو مکروہ لکھتے ہیں اور کیونکہ لکھتے کہ خود حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وصحابہ وائمہ سلف وخلف کے اقوال وافعال کثیرہ متواترہ اور انہیں فقہاء کی تصریحات وافرہ وکلمات متظافرہ ۔ خلاصہ یہ کہ نصوص شریعت و
ثم اقول : وباﷲ التوفیق( پھر میں کہتا ہو ں اور خدا ہی سے توفیق ہے۔ ت)اب نظر بلند تدقیق پسند تنقیح مناط میں گرم جولاں ہوگی کہ وہ کیا قیام ہے جس کی قید سے فقہاء یہ حکم دے رہے ہیں۔ آخر نفس دعا اصلا صالح ممانعت نہیں۔ نہ وہ خود اس کے نفس پر حکم کرتے ہیں شاید کھڑے ہوکر دعا منع ہو یہ غلط ہے۔
قال اﷲتعالی : یذكرون الله قیما و قعودا و على جنوبهم ۔ وقال تعالی : و انه لما قام عبد الله یدعوه كادوا یكونون علیه
اﷲ تعالی فرماتا ہے : وہ کھڑے بیٹھے اورلیٹے اﷲ کا ذکر کرتے ہیں۔ اور اﷲ تعالی فرماتا ہے : بے شك جب وہ بندہ خدا اس سے دعا کرتا کھڑاہو۔
قنیہ باب الجنائز مطبوعہ مشتہرہ بالمہانندیہ (انڈیا) ص٥٦
کشف الغطاء فصل ششم نماز جنازہ مطبع احمدی دہلی ص٤٠
کشف الغطاء فصل ششم نماز جنازہ مطبع احمدی دہلی ص٤٠
القرآن ۳ / ۱۹۱
تو معلوم ہوتا ہے کہ اس پر یہ تہ بہ تہ ٹوٹ پڑیں گے (ت)
شاید خاص میت کے لئے استادہ دعا منع ہو یہ بھی غلط۔ خودحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کھڑے ہوکر میت کے لئے مروی۔ خود فقہاء فرماتے ہیں : قبر کے پاس کھڑے ہوکر دعا سنت ہے---فتح القدیر میں ہے :
المعھود منھا (ای من السنۃ) لیس الا زیارتھا والدعاء عندھاقائماکماکان یفعل رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فی الخروج الی البقیع ۔
سنت سے معہود صرف قبروں کی زیارت ہے اور وہاں کھڑے ہوکر دعا کرنا جیسے بقیع تشریف لے جانے کے وقت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا عمل مبارك تھا۔ (ت)
مسلك متقسط میں ہے :
من اداب الزیارۃ ان یسلم ثم یدعوا قائما طویلا اھ ملخصا ۔
زیارت قبور کے آداب سے یہ ہے کہ سلام کرے پھر کھڑے ہوکر دیر تك دعا کرے اھ ملخصا (ت)
شاید یہ ممانعت صرف نماز جنازہ کی حالت میں ہو بعد دفن اجازت ہو یہ بھی غلط ۔ ہم نے فتوی اولی میں حدیث صحیحین ذکر کی کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ م نے نعش مبارك امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے گرد ہجوم کیا اور چار طرف سے احاطہ کرکے کھڑے ہوئے امیرا لمومنین شہید کے لئے دعائیں کرتے رہے۔ پھر سب سے قطع نظر کیجئے تو اس عارض میں مزاحمت حسن وایراث قبیح کی صلاحیت بھی ہو یا خواہی نخواہی یونہی مزاحم ہوجائے گا۔ آخر قیام میں کیا خصوصیت ہے کہ اس کا انضمام دعائے میت کو کہ شرعا مطلوب و مندوب تھی مکروہ و معیوب کردے گا۔ اب نظر نے ان سب احتمالات کو ساقط پاکر اتنا تو جزم کرلیا کہ کوئی معنی خاص مقصود ہے جو مناط و منشاء حکم ہوسکے۔ پھر وہ ہے کیا اس کے لئے اس نے باریك راہ تدقیق نکالی اور معانی قیام و مناہج کلام و دلائل احکام پر نگاہ ڈالی معانی قیام دو نظر آئے : برپا استادن کہ مخالف خفتن ونشستن ہے (یعنی پاؤں پر کھڑا ہونا جو سونے بیٹھنے کے مخالف ہے۔ ت) اور توقف ودرنگ کہ مخالف مقابل عجلت وشتاب ہے
فتح القدیر باب الشہید مطبوعہ نوریہ رضویہ سکّھر ٢ / ۲٠٢
المسلك المتقسط مع ارشاد الساری فصل یستحب زیارۃ اہل المعلی مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ص٣٤-٣٣٣
ولایقوم علی ذل یرادبہ
الا الاذلان عیر النجد والوتد
فلیس المراد ان حمار النجد عند ارادۃ الذل بہ یقوم ولایقعد بخلاف غیرہ وانہ یقعد انما اراد ان الحمار النجدی یدوم ویصبر علی الذل اماغیرہ فلایرضی بہ ۔
جیسا کہ ہم نے اسے پہلے فتوے میں بیان کیا اور اسی سے شاعر کا یہ شعر ہے
اس ذلت پر جس کا اس کے ساتھ ارادہ کیاجائے قائم نہیں رہتے مگر دو ذلیل تر نجد کاگدھا اور اس کے باندھنے کا کھونٹا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب نجد کے گدھے کے ساتھ ذلت کا ارادہ کیا جاتا ہے تو وہ کھڑا رہتا ہے بیٹتھا نہیں ہے اور دوسرابیٹھ جاتاہے۔ بلکہ مقصود یہ ہےکہ نجدی گدھا ذلت پر دائم وصابر رہتا ہے اوردوسرا ذلت سے راضی نہیں ہوتا ۔ (ت)
مناہج کلام بھی دو قسم پائے کہیں تو بعد صلاۃ الجنازہ کی تخصیص ہے : کما فی اکثرالعبارات المذکورۃ (جیساکہ اکثر مذکورہ عبارتوں میں ہے۔ ت)اور کہیں حکم مطلق کما فی عبارۃ القہستانی(جیسا کہ قہستانی کی عبارت میں ہے ہے۔ ت) بلکہ کہیں قبل نماز کے بھی صاف تصریح
فی کشف الغطا و پیش از نماز نیز بدعانہ ایستد زیراچہ دعامیکند بدعائیکہ او فرو اکبر است ببودن دعایعنی نماز جنازہ کذافی التجنیس ۔
کشف الغطا میں ہے : اور نماز سے پہلے بھی دعا کے لئے نہ کھڑا ہو اس لئے کہ اسے وہ دعاء کرنی ہے جو اس دعا سے زیادہ وافراوربڑی ہے یعنی نماز جنازہ ایسا ہی تجنیس میں ہے۔ (ت)
حالانکہ پیش ازنماز دعا خود احادیث صحیحہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت وقد مر بعضھا فی الفتوی الاولی(بعض حدیثیں پہلے فتوے میں گزر چکیں۔ ت) اور کھڑے ہوکر دعاء بھی صحابہ کرام سے گزری دلائل احکام بھی دو ملے کہیں نماز جنازہ میں زیادت کا شبہ کمافی المحیط والقنیۃ وغیرھما (جیسا کہ محیط اورقنیہ وغیرہما میں ہے۔ ت)کہیں یہ کہ ایك بار دعا کرچکا کمانقل عن وجیز الکردری(جیسا کہ وجیز کردری سے منقول ہے ۔ ت) یا اس سے افضل دعا کرے گا کما مر عن التجنیس (جیسا کہ تجنیس کے حوالے سے گزرا۔ ت) اب جو اصول و
کرہ تاخیر صلاتہ و دفنہ لیصلی علیہ جمع عظیم بعد صلاۃ الجمعۃ ۔
اس خیال سے کہ نماز جمعہ کے بعد ایك عظیم جماعت نماز جنازہ میں شریك ہوگی نماز جنازہ اور دفن میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔ (ت)
ومع ھذافالوجہ الاظھر عد جمیع المقیدات من القسم الاتی فانہ ھوالافعد الاوفق کما لایخفی۔
اس کے باوجود زیادہ ظاہر ضرورت یہ ہے کہ تمام قیدوں کو قسم آئندہ سے شمار کیا جائے اس لئے کہ وہ زیادہ مطابق و موافق ہے جیسا کہ واضح ہے۔ (ت)
یہ اس قسم اقوال پر کلام تھا--- رہی قسم اول یعنی جن کلمات میں تخصیص بعدیت اور شبہہ زیادت سے تمسك ہے
اقول : وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں اور خدا ہی سے توفیق ہے۔ ت) بدیہیات جلیہ سے ہے کہ یہاں مطلق بعدیت کا ارادہ ہرگز وجہ صحت نہیں رکھتا کہ استحالات سالفہ کے علاوہ نفس تعلیل ہی اس سے آبی کیا آج نماز ہوچکی کل استادہ دعا کرو تو نماز میں کچھ بڑھادینے کا اشتباہ ہو لاجرم بعدیت بلافاصل ہی مقصود جس میں نقض سے صفوف وتفرق رجال بروجہ اولی داخل کہ جب صفیں کھل گئیں لوگ ہٹ گئے تو اس کے بعد کسی فعل کو نماز میں زیادت سے کیا مشابہت رہی۔
کما بیناہ فی الفتوی الاولی وھوبین بنفسہ عند اولی النھی وان تتبغ زیادۃ فاستمع لما یتلی ۔
جیسا کہ ہم نے اسے پہلے فتوے میں بیان کیا اور اہل عقل کے نزدیك وہ خود ہی واضح ہے۔ اوراگر مزید وضاحت مطلوب ہو تو بیان آئندہ بغور سنو(ت)
صحیح مسلم شریف میں ہے سائب بن یزید رضی اللہ تعالی عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پیچھے نماز جمعہ پڑھی سلام امام ہوتے ہی سنتیں پڑھنے کھڑے ہوگئے امیر رضی اللہ تعالی عنہ نے بلا کر
لا تعد لمافعلت اذاصلیت الجمعۃ فلاتصلھا الصلاۃ حتی تکلم او تخرج فان رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم امرنا بذلك ان لانوصل صلوۃ بصلوۃ حتی نتکلم او نخرج ۔
اب ایسا نہ کرنا جب جمعہ پڑھو تو اسے اور نماز سے نہ ملاؤ یہاں تك کہ بات کرو یا اس جگہ سے ہٹ جاؤ کہ ہمیں حضور پر نورسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ایك نماز دوسری نماز سے نہ ملائیں یہاں تك کہ کچھ گفگو کریں یا جگہ سے ہٹ جائیں
علماء فرماتے ہیں وصل سے نہیں اس لئے ہے کہ ایك نماز دوسری نماز کا تمہ نہ معلوم ہو جمعہ میں دو رکعت پر زیادت نہ موہوم ہو۔ امام اجل ابو زکریا نووی منہاج میں فرماتے ہیں :
افضلہ التحول الی بیتہ والا فموضع اخر من المسجد اوغیرہ لیکثر مواضع سجود ولتنفصل صورۃ النافلۃعن صورۃ الفریضۃ ۔
بہتر تو یہ ہے کہ گھر جاکر پڑھے ورنہ مسجد ہی میں یا بیرون مسجد کسی اور جگہ پڑھے تاکہ اپنی سجدہ گاہوں کی تعداد بڑھا سکے اور تاکہ نفل کی صورت فرض کی صورت سے جدا ہوجائے۔ (ت)
مولانا علی قاری مراقاۃ میں فرماتے ہیں :
(اذا صلیت الجمعۃ ) ھی مثال اذغیرہا کذلک ویؤیدہ ما یاتی من حکمۃ ذلك کذا ذکر الجمعۃ بعد خصوص الواقعۃ للتاکید الزائد فی حقھا لاسیما ویوھم انہ یصلی اربعا وانہ الظہر وھذا فی مجتمع العام سبب للایھام (فلاتصلھا بصلوۃ
(جب نماز جمعہ پڑھو) یہ بطور مثال ہے اس لئے کہ غیرجمعہ کا بھی یہی حکم ہے اس کی تاکید اس سے ہوتی ہے جو اس کی حکمت بیان کی گئی ہے-- اسے ابن حجر نے ذکر کیا-- اور ہوسکتا ہے کہ جمعہ کا ذکر اس لئے ہوکہ اس کے بارے میں زیادہ تاکید ہے خصوصا اس میں یہ وہم ہوسکتا ہے کہ وہ چار رکعت ظہر پڑھ رہا ہے-- اور یہ فعل مجمع عام میں وہم پیداکرنے کا سبب ہوگا--(تو اسے اور نماز سے نہ ملاؤ
منہاج النووی شرح صحیح مسلم مع مسلم کتاب الجمعۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۸۸
یہاں تك کہ کلام کرلو) یعنی کسی آدمی سے بات کرلو اس لئے فرق اسی سے ہوگا کلام بہ ذکر الہی سے فرق نہ ہوگا(یا اس جگہ سے نکل جاؤ) یعنی حقیقۃ اس طرح کہ مسجد سے باہر چلے جاؤ--یاحکما--اس طرح کہ اس جگہ سے ہٹ جاؤ—دونوں کا مقصد یہ ہے کہ دونوں نمازوں میں فصل ہوجائے تاکہ وصل اور ملانے کا وہم نہ پیدا ہو یہ حکم استحباب کےلئے ہے اور نہی برائے تنزیہ ہے اھ ملخصا(ت)
یہاں سے صاف ثابت کہ ایسے شبہہ کے رفع کو اس جگہ سے ہٹ جانا بس ہے تو بعض نقض صفوف اس علت کی اصلا گنجائش نہیں۔ لاجرم معنی یہ ہیں کہ نماز جنازہ کے بعد اسی ہیئت پر بدستور صفیں باندھے وہیں کھڑے ہوئے دعا نہ کریں کہ زیادت فی الصلاۃ سے مشابہت نہ ہو۔ یہ معنی صحیح وسدید بے غبار و فساد ہیں اور عقل سلیم کے نزدیك نفس عبارت دلیل سے بالتعین مستفاد۔ یہاں سے روشن ہوا کہ اس قسم کے اقوال میں قیام بمعنی استادن بے تکلف درست اور وجہ تقلید بھی منکشف ہوگئی اور بعض علماء کا وہ استظہار بھی ظاہر ہوگیا کہ اگر نشستہ دعا کند جائز باشد (اگر بیٹھ کر دعا کرے جائز ہوگا۔ ت) بلاکراہت فی الواقع بیٹھ جانا بھی نماز جنازہ سے فاصل بین ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد شبہہ زیادت نہیں مگر نقض صفوف اس سے بھی اتم و اکمل ہے کما لایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت)اب بحدم اﷲ تعالی تمام کلمات علماء منظم ہوگئے اور مسئلہ کی صور و وجوہ مع دلائل شمس وامس کی طرح روشن ہوگئیں۔ بحمد اﷲ نہ کلمات علماء میں باہم اختلاف ہے نہ اصول وقواعد شرع عقل سے خلاف۔ ہر ایك اپنے اپنے محل پر درست وبجا ہے اور منکرین زمانہ کی جہالت و سفاہات سے پاك و جدا۔ ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق (اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدائے برتر ہی توفیق کا والی ہے۔ ت) اور ایك نہیں کیا صدہا جگہ دیکھے گا کہ کلمات علمائے کرام بظاہر سخت مضطرب و متخالف معلوم ہوتے ہیں یہاں تك کہ ناواقف یا سہل گزر جانے والاشدت تصادم سے پریشان ہو جائے یا رجما بالغیب خواہ پیش خویش کوئی وجہ رجحان سمجھ کر بعض کے اختیار باقی سے اغراض و انکار
ذلك فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم رب او زعنی ان اشکر نعمتك التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صالحاترضہ واصلح لی فی ذریتی انی تبت الیك وانی من المسلمین۔
وہ اﷲ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطافرماتا ہے اورخدا بڑے فضل والا ہے۔ اے میرے رب ! مجھے یہ نصیب کرکہ میں اس احسان کا شکر ادا کروں جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا اور یہ کہ میں ایسا نیك عمل کروں جسے تو پسند فرمائے۔ اور میرے لئے میری اولاد میں نیکی پیداکر بے شك میں تیری جانب رجوع لایا اور یقینا میں مسلمانوں سے ہوں (ت)
ہاں باقی رہی امام ابن حامد سے ایك حکایت کہ زاہدی نے قنیہ میں ذکر کی
حیث قال عن ابی بکربن حامد ان الدعاء بعد الصلوۃ الجنازۃ مکروہ ۔
اس کی عبارت یہ ہے کہ ابو بکر بن حامد سے منقول ہے کہ نماز جنازہ کے بعد دعا مکروہ ہے(ت)
یہ تو حضرات مانعین کی خوشی کی چیز ہے کہ اس میں قید قیام بھی نہیں اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور خدا ہی سے توفیق ہے۔ ت) یہ تو حضرات منکرین پر بڑی تشنیع کی جگہ ہے کہ اس میں قید قیام بھی نہیں جس نے ہمارا کلام بالابنظر امعان و اتقان دیکھا ہے اس پر روشن ہے کہ انکار میں جس قدر اطلاق زائد مستدل صاحبوں پر اتنی ہی آفت سخت کیا نماز جنازہ کے بعد مطلقا دعا کی کراہت باجماع امت باطل نہیں کیا نصوص قولیہ و فعلیہ حضور معلی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و اقوال تمام ائمہ سلف وخلف اس کے بطلان پر شاہد عادل نہیں کیا یہ اطلاق یونہی عنان گسستہ رہے تو دعائے زیارت قبور اس میں داخل نہیں تو واجب ہوا کہ مطلق بعدیت مراد نہ ہو بلکہ وہی بعدیت متصلہ بے فاصل بین اب قید قیام خود ہی آگئی کہ یہ بعدیت بے بقائے قیام متصور نہیں کما قررنا (جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ ت) تواس کا مرجع بعینہ انہیں اقوال
فاقول اولا بعدیت متصلہ ہے یا مطلقہ یا بین بین اول مخالف کو مضر اور ثانی اجماع و نصوص متواترہ کے غلاف اورثالث غیر منضبط نہ ایك تقیید دوسری سے اولی بالمقبول تو کلام مجمل اور استناد مہمل بہر حال مخالف کو گنجائش تمسك نہیں۔
ثانیا(بعبارت اخری) جب نہ تقیید سے چارہ نہ تسلیم اطلاق کا یاراکہ زیارت قبور کے وقت دعاللاموات مخالف بھی جائز مانتاہوگا تو اب نظر تعین تقیید میں رہی قید اتصال کے ظہور و انضباط سے قطع نظر بھی کیجئے تو اقل درجہ احتمال مساوی ہے اور مخالف مستدل۔ واذاجاء الاحتمال بطل الاستدلال(جب کلام میں کئی احتمال آگئے تو ایك پر اس سے استدلال باطل ہوا۔ ت)
ثالثا یہ اطلاق کلمات باقین کے مخالف اگر بوجہ اتحاد و حکم و حادثہ حمل علی المقید کیجئے تو یہ بھی اسی طرف راجع والکلام الکلام ورنہ بسبب مخالفت اکثرین ناقابل قبول ۔
فی الدرالمختار من باب التعزیر مطلق فیحمل علی المقید لیتفق کلامھم اھ وقبیل فصل فی الحائط المائل یحمل اطلاق الفتاوی علی ماوقع مقیدا لاتحاد الحکم والحادثۃ اھ ونقل نحوہ فی ردالمحتار اخرمضاربۃ عن مجموعۃ ملاعلی المولی علی قاری فی المسلك المتقسط اطلاقہم لاینا فی تقلید الکرمانی اھ قال الشامی ای
درمختار باب التعزیر میں ہے : یہ مطلق ہے تو مقید پر محمول کیا جائےگا تاکہ کلمات علماء میں باہم اتفاق ہوجائے اھ ---
جھکی ہوئی دیوار سے متعلق فصل سے ذرا پہلے ہے : فتاوی کا اطلاق اس پر محمول ہوگا جو مقید واقع ہے کیونکہ حکم اور حادثہ ایك ہی ہے اھ— اسی کے ہم معنی ردالمحتار آخر مضاربت میں مجموعہ ملاعلی سے نقل کیا-- اور مولاناعلی قاری مسلك متقسط میں فرماتے ہیں : ان حضرات کا اطلاق کرمانی کی تقیید کے منافی نہیں اھ – اس پر
درمختار قبل فصل الحائط المائل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۰۱
ردالمحتار بحوالہ ملا علی آخر باب المضارب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٤ / ٥٤٩
ردالمحتار بحوالہ المسلك المتقسط باب الجنایات مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٢ / ٢٤٩
شامی نے لکھا : مراد یہ ہے کہ مطلق مقید پرمحمول کردیاجائے گا اھ— اسی کے ہم معنی اس سے ذرا بعد باب الاحصار سے تھوڑا پہلے ذکر کیا اور باب التیمم سے ذرا قبل لکھا : علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ عمل اسی پر ہوگا جس پر اکثر ہیں اھ باب صلاۃ المریض میں علامہ شرنبلالی کی امدادالفتاح سے نقل ہے : قاعدہ یہ ہے کہ عمل اس پر ہوگا جس پر اکثر ہوں اھ— شروع باب صلوۃ الخوف میں ہے : اس پر عمل نہ ہوگاکیونکہ یہ صرف بعض کا قول ہے اھ--علامہ بیری شرح اشباہ میں قاعدہ “ کلام میں اصل حقیقت ہے “ کے تحت ایك جگہ لکھتے ہیں : کسی کے لئے اسے اخذ کرنا درست نہیں اس لئے کہ مشائخ کے نزدیك طے شدہ یہ ہے کہ جب مسئلہ میں اختلاف ہو تو اعتبار اس کا ہوگا جس کے قائل اکثر ہوں اھ اسے العقود الدرایۃ میں کتاب الوقف باب اول کے آخر سے نقل کیا (ت)
رابعا : اس روایت کا حاکی زاہدی محکی فیہ قنیہ و زاہدی معتمد نہ قنیہ معتبر خصوصا ایسی حکایت میں کہ بمعنی مفید مخالف اصلا قواعد شرع سے مطابق نہیں۔
فی ردالمحتار اول الطھارۃ کتاب القنیۃ مشھور بضعف الروایۃ اھ وفی
ردالمحتار شروع کتاب الطہارۃ میں ہے : کتاب “ قنیہ “ ضعف روایت میں مشہور ہے اھ
ردالمحتار قبیل باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ١٦٦
ردالمحتار باب صلٰوۃ المریض مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۶۲
ردالمحتار باب صلوۃ الخوف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ٦٢٥
العقود الدریۃ بحوالہ العلامۃ البیری مطلب فی اختلف فی مسئلۃ الخ حاجی عبدالغفار وپسران تاجران کتب ار گ بازار قندھار ٢ / ١٧٥
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ٥٩
العقود الدریۃ آخر کتاب میں ہے : ابن و ہبان نے ذکر کیا ہے کہ صاحب قنیہ یعنی زاہدی خلاف قواعد جو نقل کرے اسکی جانب التفات نہ ہوگا جب تك کسی اور سے کوئی نقل اس کی تائید میں نہ ملے-- اسی کے مثل نہر میں بھی ہے۔ اسےدرمختار میں مصنف کے حوالے سے ابن وہبان سے نقل کیا ہے -- اورطحطاوی کتاب الصوم میں فصل عوارض میں قریبا ایك ورق پہلے ہے : قنیہ کتب معتمدہ سے نہیں۔ (ت)
خامسا زاہدی اس مسئلہ میں بالخصوص متہم کہ وہ مذہب کا معتزلی ہے اور معتزلہ خذلہم اﷲ تعالی کے نزدیك اموات مسلمین کے لئے دعا محض بیکار کما نص علیہ فی شرح العقائد وشرح الفقہ الاکبر وغیرھما(جیسا کہ شرح عقائد اور شرح فقہ اکبر و غیرہما میں اس کی تصریح ہے۔ ت) اس کی یہ عادت ہے کہ مسائل اعتزل اپنی کتاب میں داخل کرتا ہے۔
کمافعل فی مسئلۃ فی الاشربۃ ومسئلۃ فی الذبائح و مسئلۃ فی الحج وغیرہ ذلك کما بینہ فی الدرالمختار وردالمحتار وغیرہما فی مواضعہ ۔
جیسا کہ اشربہ کے ایك مسئلہ ذباح کے ایك مسئلہ حج کے ایك مسئلہ میں اور بھی مسائل میں اس نے ایسا کیا ہے جیسا کہ درمختار و ردالمحتار و غیرہما میں اس کے مقامات پر مذکور ہے۔ (ت)
اس کا استاذالاستاذ زمحشری بھی اس کا خوگر ہے۔ فرق اتنا ہے کہ وہ آپ کچھ بکے مگر نقل میں ثقہ ہے بخلاف زاہدی کے اس کی نقل پر بھی اعتماد نہیں ۔ ان سفہا نے حنفیت کا نام بدنام کرکے فروغ میں بعض وہ خفی شرارتیں بھر دیں جن سے بعض مصنفین نے بھی دھوکا کھایا اور شدہ شدہ وہ نقول متعدد کتب میں پھیل گئیں جو آج تك حضرات نجدیہ وامثالہم کے نزدیك علق نفیس وغنیمت بار وہ ہیں اس کا بعض بیان فقیر غفراﷲ تعالی اپنی کتاب حیاۃ المواۃ فی بیان سماع الاموات میں کیا وباﷲ التوفیق
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار قبیل فصل فی العوارض مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ٤٦
حیث قال بعد ما مر و قال محمد بن الفضل لاباس بہ ظ ولایقوم الرجل بالدعاء بعد صلوۃ الجنازۃ قال رضی اﷲتعالی عنہ لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلوۃ الجنازۃ اھ فافھم
اس طرح کزشتہ عبارت کے بعد وہ کہتا ہے : اور محمد بن فضل نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ظ ۔ اوربعد نمازجنازہ آدمی دعا کے لئے نہ ٹھہرے امام موصوف رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اس لئے کہ یہ نمازجنازہ میں زیادتی واضافہ سے مشابہت رکھتا ہے اھ۔ اسے سمجھو ۔ (ت)
سابعا سب جانے دو توغایت درجہ یہ بھی بعض مشائخ سے ایك حکایت سہی اب ترجیح مطلوب ہوگی۔ کتب فقہ میں فتوی جانب جواز ہے۔ کشف الغطاء میں بعد ذکر عبارت قنیہ وغیرہا لکھا :
فاتحہ ودعا برائے میت پیش از دفن درست است و ہمیں است روایت معمولہ کذافی الخلاصۃ الفقہ انتہی ۔
میت کے لئے دفن سے پہلے فاتحہ ودعادرست ہے اور یہی روایت معمول بہا ہے۔ ایسا ہی خلاصۃ الفقہ میں ہے انتہی(ت)
علامہ شامی افادہ فرماتے ہیں کہ یہ لفظ فتوی یعنی ہمیں است روایت معمولہ (یہی روایت معمول بہا ہے۔ ت) قوت وشوکت میں علیہ الفتوی وبہ یفتی(فتوی اسی پر ہے۔ ت)کے برابر ہے جو آکد الفاظ افتاء ہیں ۔
فی الدرالمختار لفظ الفتوی اکدمن لفظ الصحیح والاصح والاشبہہ وغیرہا فی ردالمحتار ویظھرلی ان لفظ وعلیہ العمل مساو للفظ الفتوی اھ۔
درمختار میں ہے : لفظ فتوی لفظ صحیح اصح اشبہ وغیرہا سے زیادہ مؤکد ہے—ردالمحتار میں ہے میرا خیال ہے کہ لفظ “ علیہ العمل “ (اسی پر عمل ہے ) لفظ فتوی کے برابر ہے اھ(ت)
کشف الغطاء فصل ششم نماز جنازہ مطبع احمدی دہلی ص٤٠
درمختار مقدمۃ الکتاب مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ١٥
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ٥٤
ذلك من فضل اﷲ علینا وعلی الناس ولکن اکثر الناس لایشکرون والحمدﷲ رب العلمین و الصلوۃ والسلام علی اجود الاجودین سیدنا و مولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
یہ خدا کا فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ اور ساری تعریف اﷲ کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے اوردرود وسلام سخی تر لوگوں میں سب سے زیادہ جود و سخا والے ہمارے آقا ومولا اور ان کی تمام آل واصحاب پر (ت)
بالجملہ عبارات فقہاء صرف دو صورتوں سے متعلق ہیں : ایك بعد نمازجنازہ اسی ہیئت پر بدستور صفیں باندھے وہیں کھڑے دعا کرنا۔ دوسرے قبل نماز خواہ بعد نماز دعائے طویل کی خاص غرض سے امر تجہیز کو تعویق میں ڈالنا۔ ظاہرا اس صورت میں کراہت تحریمی تك ہوسکتی ہے اورصورت اولی میں تنزیہی۔ ابھی مرقاۃ سے گزرا کہ ایہام زیادت مورث کراہت تنزیہ ہے وبس جس کاحاصل خلاف اولییعنی بہتر نہیں نہ یہ کہ ممنوع وناجائز ہو۔ بعض علمائے لکھنؤ نے جو اہنے بعض رسائل میں مکروہ تنزیہی کو گناہ صغیرہ لکھ دیا سخت ذلت کبیرہ جس کے بطلان پر صدہا کلمات ایمہ و دلاءل شرعیہ رد میں چند مختصر سطور مسمی بہ جمل مجلیۃ ان المکروہ تنزیھالیس بمعصیۃلکھیں۔ خیریہ دو صورتیں تھیں جن سے کلمات فقہا باحث ان کے سوا تمام صور دعاجن میں دعا کی غرض سے تاخیر کریں نہ بعد نماز اس انداز پر ہو بلکہ مثلا صفیں توڑ کر دعائے قلیل یا بوجہ خاص جنازہ میں دیر کی حالت میں دعائے طویل اصلامضائقہ نہیں رکھتی نہ کلمات علماء میں ان کا انکار بلکہ وہ عام مامور بہ کے تحت میں داخل اور مستحب شرعی کی فرد ہے۔ باقی کلام فتویاولیمیں مذکور ہوا وباﷲ التوفیق واﷲ سبحانہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
الحمدﷲ کہ یہ مبارك جواب موضع صواب چار دہم رجب مرجب روز جاں افروز دو شنبہ کو وقت چاشت شروع اور وقت عشاء تمام اور بلحاظ تاریخ بذل الجوائز الدعاء بعد الصلاۃ الجنائز نام ہوا۔
واخر دعونا ان الحمد ﷲ رب العلمین والصلوۃ و اکمل السلام علی سید المرسلین محمد والہ وصحبہ اجمعین۔ امین! اور ہماری آخری پکار یہ ہے کہ ساری حمد خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا مالك ہے اور بہتر درود کامل تر سلام رسولوں کے سردار حضرت محمد اوران کی تمام آل و اصحاب پر الہی قبول فرما (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں پنجاب کے اکثر شہروں میں دستور ہے کہ نماز جنازہ سے فارغ ہوکر بعد سلام کے اسی جگہ جہاں نماز جنازہ ادا کی گئی ہے میت کے لئے دعائے مغفرت کی جاتی ہے اور بعض لوگ پیشتر دعا کے سورہ فاتحہ ایك بار سورہ اخلاص تین باریاگیارہ دفعہ پڑھکر میت کے لئے مغفرت کی دعاکرتے ہیں اور ہمیشہ سے یہی دستور چلا آیا اب فرقہ غیرمقلدین اس دستور کے ہٹانے میں کوشش کر رہے ہیں اس کے عدم جواز میں غیر مقلدین یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اس کاثبوت کسی حدیث سے نہیں بلکہ فقہ کی کتابوں کی عبارتیں سناتے ہیں منجملہ ان کے مستندات کے ایك یہ ہے :
اذافرغ من الصلوۃ لایقوم بالدعاء سراجیہ
جب نماز جنازہ سے فارغ ہوجائے تو دعا کے لئے نہ کھڑا ہو۔ (ت) بزازیہ جلد اول برحاشیہ عالمگیری
قدوری کے حاشیہ پر ہے :
الدعا بعدصلاۃ الجنازۃ مکروہ کذا فی البرجندی لایقوم بالدعاء بعدصلاۃ الجنائز لانہ دعا مرۃ لان اکثرھا دعاء ۔
دعا بعد نماز جنازہ مکروہ ہے۔ جیساکہ برجندی میں ہے نماز جنازہ کے بعد دعاکے لئے کھڑا نہ ہو کہ ایك مرتبہ دعا کرچکا ہے کیونکہ نماز جنازہ کا اکثر حصہ دعا ہی ہے۔ (ت)
جواب مدلل بدلائل بحوالہ کتب معتبرہ اور تحریر عبارات معتمدہ تحریرفرماکر ممنون و مشکور فرمائیں۔ بینوابالدیل والتفصیل توجرابالاجرالجزیل
الجواب :
گیارہ ۱۱سال ہوئے یہ مسئلہ ھ میں معرکۃ الآراء رہا بمبئی وکانپور سے اس کے بارہ میں بار بار سوالات مختلف صورتوں میں آئے فقیر نے جواب کبھی تحقیق حدیث اور کبھی تنقیح فقہ سے کام لیا اور بالآخر اس کے باب میں ایك موجز وکافی رسالہ مسمی بہ بذل الجوائز علی الدعاء بعدصلاۃ الجنائز لکھا جس میں تحقیق حکم فقہی وتوضیح معانی عبارات مذکورہ سراجیہ وغیرہا کتب فقہ کوبعونہ عزوجل ذروہ علیا تك پہنچایا اور بفضلہ تعالی عرش تحقیق مسقر کر دکھایا کہ میت کے لئے دعا قبل نماز جنازہ وبعد نمازجنازہ ہمیشہ مطلقا
برجندی شرح نقایہ فصل فی صلٰوۃ الجنازہ مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸۰
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ الخامس والعشرون فی الجنائز الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۸۰
فاتحہ و دعابرائے میت پیش ازدفن درست است وہمیں است روایت معمولہ کذا فی الخلاصۃالفقہ ۔ واﷲ تعالی اعلم
میت کے لئے دفن سے قبل فاتحہ ودعا درست ہے اوریہی روایت معمول بھا ہے۔ ایسا ہی خلاصۃ الفقہ میں ہے(ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ نمبر : ازبنارس محلہ کندی گڑٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ جمادی الاخرۃ ھ
بخدمت لازم البرکۃ جامع معقول ومنقول حاوی فروغ واصول جناب مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب مداﷲ فیضانہ از جانب خادم الطلبہ عبدالغفور سلام علیك قبول باد۔ کچھ مسائل میں یہاں علماء کے درمیان اختلاف ہے لہذا مسئلہ ارسال خدمت لازم البرکۃ ہے امید ہے کہ جواب سے مطلع فرمائیں زید کہتا ہے نمازجنازہ عندالحنفیہ اندر مسجد کے پڑھنی علی العموم خواہ میت مرض ہیضہ اسہال میں مرا ہو یا دوسرے مرض میں بچند وجوہ مکروہ ہے۔ منجملہ اسکے ایك وجہ تلویث مسجد ہے۔ عمرو کہتا ہے جو شخص مرض ہیضہ اسہال یا کسی اور مرض امراض معدہ کی وجہ سے مرا اس کا جنازہ مسجد میں پڑھنا البتہ موجب احتمال تلوث مسجد کا
الجواب :
قول زید صحیح ہے۔ عمرو کا مریضان معدہ میں حصر تو محض غلط ہاں سیدنا امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی روایت نادرہ بعض کتب میں یوں نقل کی گئی کہ خوف تلوث نہ ہو تو مسجد میں جائز۔ یہ عبارت بظاہر اس بحث علامہ طحطاوی کی مؤید کہ قول تعلیل بہ تلوث پر ظن تلوث سے تقیید مناسب شبہ وتوہم مانع نہیں ۔ اس عبارت وروایت شاذہ پر بھی امراض معدہ وامعاء و رحم و زخم و ریم وغیرہا ہر مظنہ تلوث بالاتفاق داخل کراہت ۔ حلیہ میں فرمایا :
ونقل فی الد رایۃ عن ابی یوسف روایۃ انہ لاتکرہ صلاۃ الجنازۃ فی المسجد اذالم یخف خروج شیئ یلوث المسجد فعلی ھذا اذامن ذلك لم یکرہ علی سائرالوجوہ الخ
درایہ میں امام ابویوسف سے ایك روایت یہ نقل ہے کہ جب مسجد کو آلودہ کرنے والی کسی چیز کے نکلنے کا اندیشہ نہ ہو تو مسجد میں نماز جنازہ مکروہ نہیں۔ اس کی بنیاد پر جب اس سے اطمینان ہو تو تمام صورتوں میں کراہت نہیں الخ (ت)
حاشیہ مراقی الفلاح میں ہے :
ینبغی تقیید الکراھۃ بظن التلویث فاما توھمہ اوشکہ فلا تثبیت بہ الکراھۃ ۔
کراہت کو آلودگی کے ظن مین مقید کرنا چاہئے اگر اس کا وہم یا شك ہو تو اس سے کراہت ثابت نہ ہوگی۔ (ت)
مگر عامہ کتب مذہب میں جہاں تك اس وقت نظر فقیر نے جولان کیا یہ روایت نوادر بھی برسبیل اطلاق وتعمیم بے تشقیق وتفصیل ماثور و منقول جو علماء اس کے ترجیح و تصحیح واختیار کی طرف گئے جنازہ کا مسجد میں لانا مطلقا مکروہ بتاتے ہیں۔ معللین اسے احتمال وتواہم تلویث سے تعلیل فرماتے ہیں۔ تقیید و تخصیص حالت ظن کا پتا نہیں دیتے علمائےکرام اختلاف مشائخ کو اس حالت سے مقید کرتے ہیں کہ جنازہ مسجد کے باہر ہو اور مطلقا صاف تصریح فرماتے ہیں کہ جنازہ کا مسجد میں ہونا بالاتفاق مکروہ
اقول : وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲتعالی ہی سے ہے۔ ت)یہاں اطلاق
حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل السلطان احق بصلٰوتہٖ مطبوعہ نور محمد کاخانہ تجارت کتب کراچی ص ٣٢٧
فان الفتوی متی اختلفت وجب المصیر الی ظاہرالروایۃ کما افادہ فی البحر والدر و غیرہما۔
اس لئے جب فتوی میں اختلاف ہو تو ظاہرالروایۃ کی طرف رجوع ضروری ہے جیسا کہ بحر اوردرمختار وغیرہما میں افادہ کیا۔ (ت)
اب عبارت علماء سنئے ۔ تنویرالابصارودرمختار میں ہے :
کرھت تحریما وقیل تنزیھافی مسجد جماعۃ ھوای المیت فیہ وحدہ او مع القوم واختلف فی الخارجۃ عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم والمختارالکرھۃ مطلقا خلاصۃ ۔
مکروہ تحریمی-- اورکہا گیا کہ تنزیہی ہے مسجدجماعت میں جس میں تنہامیت ہویا پڑھنے والوں کے ساتھ ہو اوراس جنازہ کے بارے میں اختلاف ہے جو تنہا یا بعض لوگوں کے ساتھ بیرون مسجد ہو اور مختاریہ ہے کہ مطقا مکروہ ہے۔ خلاصہ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
مطلقا فی ای جمیع الصور المتقدمۃ کما فی الفتح عن الخلاصۃ وفی مختارات النواز سواء کان المیت فیہ اوخارجہ و ظاہر الروایۃ وفی روایۃ لایکرہ اذاکان المیت خارج المسجد ۔
مطلقا یعنی گزشتہ تمام صورتوں میں جیسا کہ فتح القدیر میں خلاصہ سے منقول ہے ۔ اورمختارات النوازل میں ہے کہ خواہ میت مسجد کے اندر ہو یا باہر یہی ظاہرالروایۃ ہے-- اور ایك روایت میں یہ ہے کہ جب میت مسجد کے باہر ہو تو مکروہ نہیں(ت)
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنازۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٢٢٥
منع ادخال المیت فیہ والصحیح ان المنع لصلاۃ الجنازۃ وان لم یکن المیت فیہ الا لعذر مطر ونحوہ ۔
مسجد میں میت کو لے جانا منع ہے اور صحیح یہ ہے کہ ممانعت نماز جنازہ کی وجہ سے ہے اگرچہ میت مسجد کے اندر نہ ہو مگر بارش وغیرہ کاعذر ہو تو رخصت ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں بعد بیان مذہب مختار فرمایا :
وقیل لایکرہ اذاکان المیت خارج المسجد وھو مبنی علی ان الکراھۃ الاحتمال تلویث المسجد والاول ھوالاوفق لاطلاق الحدیث کذا فی الفتح القدیر ۔
اور کہا گیاکہ جب میت مسجد کے باہر ہو تو مکروہ نہیں اس قول کی بنیاد اس پر ہے کہ کراہت کا حکم آلودگی مسجد کے احتمال کی وجہ سے ہے اور پہلا قول ہی اطلاق حدیث کے مطابق ہے۔ ایسا ہی فتح القدیر میں ہے۔ (ت)
ہدایہ میں ہے :
لایصلی علی میت فی مسجدجماعۃ لقول النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من صلی علی جنازۃ فی المسجد فلااجرلہ ولانہ بنی لاداء المکتوب ولانہ یحتمل تلویث المسجد و فیہا اذاکان المیت خارج المسجد اختلف المشائخ ۔
مسجدجماعت میں کسی میت کی نمازجنازہ نہ پڑھی جائے گی اس لئے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے : جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی اس کے لئے اجر نہیں-- اور اس لئے کہ مسجد فرض نمازوں کی ادائیگی کے لئے بنی ہے—اور اس لئے اس میں مسجد کی آلودگی کا احتمال ہے۔ اور ہدایہ ہی میں ہے : جب میت مسجد کے باہر ہو تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے ۔ (ت)
مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی سے حلیہ میں ہے :
عندنا اذاکانت الجنازۃ خارج المسجد
جب جنازہ مسجد کے باہر ہو تو ہمارے نزدیک
بحرالرائق صل السلطان احق بصلاتہ مطبوعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٨٧
الہدایۃ فصل فی الصلٰوۃ علی المیت مطبوعۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ١٦١)
یہ مکروہ نہیں کہ لوگ مسجد کے اندر اس کی نماز پڑھیں کراہت اسے مسجد کے اندر داخل کرنے ہی کی صورت میں ہے۔ (ت)
برجندی شرح نقایہ میں ہے :
کرھت صلوۃ الجنازۃ فی مسجد جماعۃ اتفاقا اذاوضعت الجنازۃ فیہ ولو وضع خارجہ اختلف المشائخ فیہ وذلك لان علۃ الکراھۃ اما توھم التلوث اوکون المسجد مبینا لاداء المکتوبۃ اھ ملخصا۔
مسجدجماعت میں جنازہ رکھ کر نماز جنازہ پڑھنا بالاتفاق مکروہ ہے اور اگر جنازہ باہر رکھا ہو تواس میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ یہ اختلاف اس لئے ہے کہ کراہت کی علت آلودگی مسجد کا احتمال ہے یا یہ کہ مسجد فرائض وقتیہ کی ادائیگی کے لئے بنی ہے اھ بہ تلخیص (ت)
شرنبلالیہ میں ہے :
قولہ (یعنی الغرر) کرھت فی مسجد ھو فیہ اقول : والکرھۃ ھناباتفاق اصحابنا کمافی العنایۃ ۔
عبارت غرر ( مسجد میں جنازہ رکھا ہو تواس میں جنازہ مکروہ) میں کہتاہوں یہاں کراہت پر ہمارے مشائخ کا اتفاق ہے جیسا کہ عنایۃ میں ہے۔ (ت)
عبارات یہاں بکثرت ہیں فیما نقلناہ کفایۃ وقد ظہربہ کل ماالقیناعلیک(اور جس قدر ہم نے نقل کردیا وہ کافی ہے اور اس سے وہ ساری باتیں واضح ہوگئیں جو ہم نے بیان کیں۔ ت) واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم ۔
مسئلہ نمبر تا : از فیروز آباد ضلع آگرہ محلہ کوٹلہ مرسلہ مسکین تاج محمد ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) رمضان المبارك کے الوداعی جمعہ کو جامع مسجد میں مسلمانوں کا جنازہ آیا نمازیوں کی بہت زیادہ
شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ١٨١
غنیۃ ذوی الاحکام حاشیہ درالحکام باب الجنائز مطبوعہ احمد کامل الکائنہ دارالسعادت بیروت ۱ / ١٦٥
() اس شخص کے واسطے کیا حکم ہے کہ وہ جانتاہے کہ تمام مسلمانوں سے عذرات مذکورہ بالاصحیح ہیں اور اندورن مسجد جنازہ آگیا ہے اور نماز جمعہ بھی ہوچکی ہے مگر وہ جنازہ کو مسجد سے باہر کرتا ہے اور باہر کرکے نماز جنازہ پڑھاتا ہے اورجائے کی تنگی اور صفوں کی شکستگی اور روزہ داروں کے دھوپ میں کھڑے ہونے کی پروا ہ نہ کرتے ہوئے نمازیوں کی خواہش شرکت نماز جنازہ فوت کرے کیا حکم ہے
() اگر کوئی عذر نہ ہو اور نماز جنازہ مسجد میں پڑھ لی جائے تو نماز ہوگی یا نہیں اور ثواب ہوگا یا نہیں
() اگر بعد نماز جمعہ نماز جنازہ پڑھ لی جائے تو اولیہے یا سنت وغیرہ پڑھنے کے بعد نماز جنازہ پڑھنا اولی ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
(۱) جنازہ مسجد میں رکھ کر اس پر نماز مذہب حنفی میں مکروہ تحریمی ہے
تنویرالابصار میں ہے :
کرھت تحریما فی مسجد جماعۃ ھی فیہ واختلف فی الخارجۃ والمختارالکراھۃ ۔
مسجد جماعت میں نماز جنازہ مکروہ تحریمی ہے جبکہ جنازہ مسجد کے اندر ہو اور اگر باہر ہے تواس بارے میں اختلاف ہے مختار یہ ہے مکروہ ہے (ت)
نماز جنازہ بہت ہلکی اور جلد ہونے والی چیز ہے اتنی دیر دھوپ کی تکلیف ایسی نہیں کہ اس کے لئے مکروہ تحریمی گوارا کیا جائے اور مسجد کی بے حرمتی روا رکھیں۔ رہی نماز وہ ادا ہوجائےگی فرض اتر جائے گااور مخالفت حکم کاگناہ اورنفس نماز کا ثواب اﷲ عزوجل کے ہاتھ جیسے کوئی مغصوب زمین میں نماز پنجگانہ پڑھے۔
() اس نے مذہب پر عمل کیا جوبات مذہب میں منع تھی اس سے روکا نماز جنازہ فرض کفایہ ہے جومسلمان تنگی جاکے سبب نہ مل سکے اور ملنے کی خواہش رکھتے تھے اور انہیں ان شاء اﷲ العزیز ملنے ہی کا ثواب ہے۔ حدیث میں ہے : جو جماعت کی نیت سے مسجد چلا نماز ہوچکی اس کے لئے ثواب لکھ گیا۔
قال اﷲتعالی فقد وقع اجرہ علی اﷲ ۔
اﷲ تعالی کافرمان ہے : تواس کااجر خداکے ذمہ کرم پر ثابت ہے۔ (ت)
القرآن ٤ / ١٠٠
اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا آدمی کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی(ت)
نماز ہوجائے گی اور اب مخالفت کا گناہ اورزیادہ کہ محض بلاوجہ ہے اور ثواب کا جواب اوپر گزرا۔
() سنت سے فارغ ہوکر نماز جنازہ پڑھیں نوافل و وظائف قطعا بعد کو رکھیں۔ درمختار میں ہے :
فی البحر قبیل الاذان عن الحلبی الفتوی علی تاخیر الجنازۃ عن السنۃ ۔
بحر میں اذان سے ذرا پہلے حلبی صاحب حلیہ سے نقل ہے کہ فتوی اس پر ہے کہ جنازہ سنت کے بعد ہوگا۔ (ت)
ہاں اگر جنازہ کی حالت ایسی ہوکہ دیر میں متغیر ہوجائے گا تو پہلے جنازہ پڑھیں پھر سنت وغیرہ۔ اشباہ میں ہے :
اجتمعت جنازۃ و سنۃ وقتیۃ قدمت الجنازۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم
جنازہ اورسنت وقتیہ دونوں جمع ہوں تو جنازہ مقدم ہوگا۔ (ت) واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر : از سنیا ضلع بریلی مسئولہ امیر علی صاحب شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ بریلی کی جامع مسجد میں نبی خانہ میں نماز جنازہ پڑھائی جائے اور امام نبی خانہ میں ہو اور مقتدی جامع مسجد میں اور نبی خانہ میں برابر صف بندی ہو درست ہے یا نہیں
الجواب :
صحیح یہ ہے کہ مسجد میں نہ جنازہ ہو نہ امام جنازہ نہ صف جنازہ۔ یہ سب مکروہ ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر تا۷ : از قادری گنج ضلع بیر بھوم ملك بنگال مرسلہ سید ظہورالحسن صاحب قادری رزاقی مرشدی کرمانی جمادی الاولیھ
(۱) مسجد کے باہر پورب جانب جو سامنے پختہ صحن بناہوا ہے اکثر گرمیوں میں وہاں پر مغرب کی
درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۴
الاشباہ والنظائر القول فی الدین مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ٢ / ٦١٨ ، ٦١٧
اس جگہ جنازہ کی نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں
() اور لکڑی کا صندوق جو بمنزلہ تابوت کے ہوتا ہے اس کے اندر میت رکھ کر صندوق بند کیا ہو نماز پرھنا جائز ہے یا نہیں
(و) اور کسی ولی یا سادات یا علماء کی قبریں پختہ باندھنا اور کسی ملك سے دوسرے ملك یا شہر سے دوسرے شہر لے جاکر دفن کرنا درست ہے یا نہیں
() اور میت کو لکڑی کے صندوق میں رکھ کر دفن کرنا جائز ہے یا نہیں
(۶) اور قبر میں میت کے سینہ کفن کے نیچے شجرہ پیران طریقت رکھ کر دفن کرنا جائز ہے یا نہیں
() اور بزرگان دین نے جو ا پنے وصال سے قبل اپنا کفن تابوت وقبر پختہ اندر سے صحن پختہ کرکے تیار کررکھا ہے ایساقبل سے ان چیزوں کو ایسی حالتوں میں تیار رکھنا جائز ہے یا نہیںبینواتوجروا
الجواب :
(۱) صحن مسجد یقینا مسجد ہے فقہائے کرام اسے مسجد صیفی یعنی گرمیوں کی اور مسقف درجہ کو مسجد شتوی یعنی جاڑوں کی مسجد کہتے ہیں۔ اور نماز جنازہ مسجد میں مطلقا مکروہ ہے کما فی التنویر والدر وغیرھما(جیسا کہ تنویرالابصار اوردرمختار وغیرہما میں ہے۔ ت) ہاں حد مسجد سے باہر فنائے مسجد میں جائز ہے۔
(۲) میت اگر تابوت کے اندر ہو نماز اس پر اسی طرح جائز ہے کھولنے کی حاجت نہیں۔
(۳و) قبر جس قدر میت سے متصل ہوئی اس اندرونی حصہ کو پختہ کرنا ممنوع ہے اور باہر سے پختہ کرنے میں حرج نہیں اور معظمان دینی کے لئے ایسا کرنے میں بہت مصالح شرعیہ ہیں۔ لاش کا ایك ملك سے دوسرے ملك لے جانا توبڑی بات دوسرے شہر کو لے جانا بھی ممنوع ہے میل یا دومیل تك لیجانے میں حرج نہیں کما فی العالمگیریۃ وغیرھا (جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہا میں ہے۔ ت)
() تابوت میں دفن کرنا مکروہ وخلاف سنت ہے مگر اس حالت میں کہ وہاں زمین بہت نرم ہو تو حفاظت کے لئے حرج نہیں کما فی الھندیہ وغیرہا (جیساکہ ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ ت)
(۶) بہتر یہ ہے کہ قبر طاق کھود کر اس میں شجرہ رکھا جائے اور تبرکات اگر سینہ پر رکھیں تو اس کی ممانعت بھی ثابت نہیں والتفصیل فی الحرف الحسن (اور تفصیل ہمارے رسالہ “ الحرف الحسن فی الکتابۃ علی الکفن “ میں ہے۔ ت)() کفن پہلے سے تیار رکھنے میں حرج نہیں اور قبر پہلے سے نہ بنانا چاہئے کما فی الدرالمختار وغیرہ(جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) قال اﷲ تعالی و ما تدری نفس بای ارض
مسئلہ نمبر ۷۹ تا ۸۰ : از ریا ستکوٹہ راجپوتانہ محلہ چند گڑھ مسئولہ فضل احمد صاحب محرم ھ
(۱) کیافرماتے ہیں علمائے دن اس مسئلہ میں کہ پہلے ایك حصہ خام تھا اب بالکل ملحقہ مسجد کرکے سب پختہ بنا دیا گیا آیا یہ مسجد میں داخل ہے یا نہیں اوریہاں نماز جنازہ جائز ہے یا نہیں اور صحن مسجد ہے یا نہیں
() خانہ کعبہ اور مسجد اقدس نبوی میں نماز جنازہ کیوں ہوتی ہے اور جب کعبہ شریف میں نماز پڑھتے ہیں تو مسجد میں کیا حرج ہے
الجواب :
(۱) یہ جگہ مسجد سے خارج تھی اسے پختہ کرکے صحن مسجد سے ملادینا مسجد کے طور پر نہیں بلکہ صرف اس لئے کہ جمعہ و عیدین میں نمازیوں کو آرام ہو تو وہ بدستور مسجد سے خارج ہے اور اس میں نماز جنازہ جائز ہے اور اگر تمام مسلمانوں کی رائے سے اسے مسجد کرلیا گیا تو اب اس میں نمازجنازہ جائز نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
() وہاں شافعیہ ے طور ہوتی حنفیہ کے نزدیك جائز نہیں۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ نمبر : ازبلند شہر بالائے کوٹ محلہ قاضی واڑہ مرسلہ محمد عبدالسلام صاحب رمضان ھ
حوض مسجد کے اندر ہے اوراس کے چاروں طرف فرش ہے اس کی پٹری پر چارپائی رکھ کر نماز جنازہ پڑھائی جاتی ہے آیا یہ نماز درست ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
قول راجح تریہ ہے کہ نماز مذکورہ مکروہ ہے اور ایسا کرنا منع ہے۔ تنویرالابصار و درمختارمیں ہے :
کرھت تحریمافی مسجد جماعۃ ھوای المیت فیہ واختلف فی الخارجۃ عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم والمختار الکراھۃ مطلقا خلاصۃ الخ
مسجد جماعت میں نماز جنازہ مکروہ تحریمی ہے جبکہ جنازہ مسجد کے اندر ہو اور اگر تنہا جنازہ یا جنازہ مع کچھ نمازیون کے بیرون مسجد ہو تواس بارے میں اختلاف ہے مختار یہ ہے کہ مطلقا مکروہ ہے خلاصہ الخ(ت)
درمختار باب صلٰوۃ الجنازہ مطبوعہ مطبع مجتبائی ہلی ا / ١٢٣
مگر جب فرش مسجد چاروں طرف محیط ہے تو اس پٹری تك جنازے کا لے جانا مسجد کے اندر ہی ہوگا اور یہ باتفاق حنفیہ مکروہ ہے۔ یہ سب اس وقت ہے کہ وسط مسجد میں حوض خودبانی مسجد نے قبل مسجدیت بنایا ہو ورنہ اگر مسجد ہوچکی اس کے بعد وسط میں حوض بنوایا اگر چہ بانی نے بنایا ہو تو اس کا بنانا حرام اوراس سے وضو کرنا حرام اور نماز جنازہ بالاتفاق مکروہ ہے وتحقیقہ فی ماعلقناعلی ردالمحتار (اس کی تحقیق ہمارے حاشیہ ردالمحتار میں ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۸۲ : از بانٹوہ ملك کاٹھیا واڑ مولوی عبدالمطلب صاحب یکم شعبان ھ
یہاں نماز جنازہ کے لئے جو جگہ تعمیر کی گئی شہر سے دور فاصلہ پر ہے بارش اورگرمی میں بڑی دقت ہوتی ہے لہذا برائے رفع تکالیف بستی کے جو پرانا صد سالہ قبرستان ہے کہ جس کے اندر قبریں منہدم ہوچکی ہیں بسبب انہدام کے لوگ کوڑا کرکٹ اس کے اندر ڈالتے ہیں اگر وہاں نماز جنازہ کے لئے چبوترہ بنایا جائے تو جائز ہوگا یا چگونہ
الجواب :
قبور پر نماز ہرگز جائز نہیں نہ ان پر کوڑا کرکٹ ڈالنا جائز بند وبست کریں ممانعت کریں ہاں اگر وہاں یا اس کے قریب کوئی قطعہ زمین ایسا ہو جہاں قبریں نہ تھیں تو وہاں نماز کی اجازت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بملاحظہ اقدس مولانا صاحب راس العلماء تاج الفضلاء جامع کمالات صوریہ ومعنویہ جنا ب مولانا مولوی احمد رضا خان صاحب ادام اﷲ تعالی بالافادۃ السلام علیکم! عرض ضروری یہ ہے مولوی اسماعیل مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی کے بھانجے اور شاگرد جو ایك مدت سے قصبہ مرہٹ میں اقامت رکھتے ہیں غیرمقلد ہیں اور بیچارے غریب مقلدین کو اپنے مذہب میں لانا چاہتے ہیں چنانچہ فی الحال ایك رئیس کی لڑکی مرگئی توان کے اصرار سے دوبارہ نماز جنازہ پڑھی گئی انہوں نے علی رؤس الاشہاد کہہ دیاکہ تین روز تك جتنی بار جی چاہے نماز پڑھے۔ اس لئے حضور کو تکلیف دیتا ہوں کہ جواب استفتاء تحریر فرمائیے کہ افحام واسکات مخالفین ہو۔ اور ترجمہ عبارات بھی تحریر فرمائے کہ جس مقام میں یہ فتوی بھیجا جائے گا وہاں کے لوگ اردو فارسی جانتے ہیں۔
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ولی میت نے ایك بار نماز جنازہ کی لوگوں کے ساتھ پڑھی پھردوسری بار انہی لوگوں کے ساتھ اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بامامت شخص آخر نمازجنازہ پڑھی تو یہ تکرار نمازجنازہ جائز ہے یا نہیں اور اگر ولی اس مسئلہ سے ناواقف ہے اور بسبب اصرار کسی عالم کے اس نے دوبارہ نماز پڑھی تووہ گناہگار ہوگا یا عالم یا دونوں میں کوئی نہیں
الجواب :
الحمد ﷲ الذی جعل الارض کفاتاواکرم المومنین احیاء وامواتا والصلوۃ والسلام علی من عمرالقلوب بصلوتہ ونورالقلوب بصلوتہ وعلی الہ وصحبہ واھلہ وحزبہ اجمعین امین!
سب خوبیاں اﷲتعالی کے لئے جس نے زمین کوجمع کرنے والی بنایا اور اہل ایمان کو حیات وموت دونوں حالتوں میں عزت بخشی اوردرود و سلام ہو ان پرجنہوں نے دلوں کو اپنے تعلقات سے آباد فرمایا اورقبروں کو اپنی نماز سے روشن کیا اور ان کی آل ان کے اصحاب ان کے اہل ان کے گروہ سب پر درود وسلام الہی !قبول فرما(ت)
نماز جنازہ کی تکرارہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے نزدیك تومطلقا ناجائز ونامشروع ہے مگر جب کہ اجنبی غیراحق نے بلااذن و بلامتابعت ولی پڑھ لی ہو تو ولی اعادہ کرسکتاہے۔ امام اجل برہان الملۃ والدین ابوبکر ہدایہ میں فرماتے ہیں :
ان صلی غیرالولی والسلطان اعادالولی ان شاء لان الحق للاولیاء وان صلی الولی لم یجز لاحد ان یصلی بعدہ لان الفرض یتادی بالاول والتنفل بہا غیر مشروع ولہذا راینا الناس ترکوامن اخرھم الصلوۃ علی قبرالنبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم وھوالیوم کماوضع ۔
یعنی اگر ولی وحاکم اسلام کے سوا اور لوگ نماز جنازہ پڑھ لیں تو ولی کو اعادہ کا اختیار کہ حق اولیاء کاہے اور اگر ولی پڑھ چکا تو اب کسی کو جائز نہیں کہ فرض تو پہلی نماز سے اداہوچکا اوریہ نماز بطورنفل پڑھنی مشروع نہیں ولہذا ہم دیکھتے ہیں کہ تمام جہان کے مسلمانوں نےنبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مزار اقدس پر نماز چھوڑدی حالانکہ حضور آج بھی ویسے ہی ہیں جیسے جس دن قبر مبارك میں رکھے گئے تھے۔
امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
لو کان مشروعالمااعرض الخلق کلھم من العلماء و الصالحین والراغبین
یعنی اگر نماز جنازہ کی تکرار مشروع ہوتی تو مزار اقدس پر نماز پڑھنے سے تمام جہان اعراض نہ کرتا جس میں
علماء وصلحاء اور وہ بندے ہیں جوطرح طرح سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرنے کی رغبت رکھتے ہیں تو یہ تکرار کی مشروعی پر کھلی دلیل ہے پس اس کاا عتبار واجب ہوا۔
اقول : حاصل کلام یہ کہ نماز جنازہ جیسی قبل دفن ویسی بعد دفن قبر پر۔ ولہذا اگر کوئی شخص بے نماز پڑھے دفن کردیاگیا تو فرض ہے کہ اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھیں جب تك ظن غالب رہے کہ بدن بگڑ نہ گیا ہو گا اور نماز جنازہ ایك تو ہر مسلمان کاحق ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حق المسلم علی المسلم خمس وذکرمنھا اتباع الجنائز وسیأتی۔
مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں ان میں نماز جنازہ کو بھی ذکرفرمایا حدیث آگے آرہی ہے۔ (ت)
دوسرے مقبول بندوں کی نماز میں وہ فضل ہے کہ پڑھنے والوں کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ ہم عنقریب انس بن مالك و عبداﷲبن جابروسلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ م سے متعدد احادیث ذکر کریں گے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : “ مومن صالح کو پہلا تحفہ یہ دیا جاتاہے کہ جتنے لوگوں نے اس کےجنازہ کی نمازپڑھی سب بخش دئے جاتے ہیں۔ اﷲ عزوجل حیا فرماتا ہے کہ ان میں کسی پر عذاب کرے “ اب اگر حق کا لحاظ کیجئے تو محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حق کے برابر تمام جہان میں کس کا ہو سکتا ہے اور فضل کو دیکھئے تو افضل المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے نماز پڑھنے کے برابر کس مقبول پر نماز پڑھنی ہوسکتی ہے ہاں قبر پر نماز پڑھنے سے مانع یہ ہوتا ہے کہ اتنی مدت گزر جائے جس میں میت کا بدن سلامت ہونامظنون نہ رہے اسی کو بعض روایات میں دفن کے بعد تین دن سے تقدیر کیا اور صحیح یہ کہ کچھ مدت معین نہیں جب سلامت وعدم سلامت مشکوك ہوجائے نماز ناجائز ہوجائیگی مگر رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں معاذاﷲ اس کا اصلا احتمال نہیں وہ آج بھی یقینا ایسے ہی ہیں جیسے روز دفن مبارك تھے۔ وہ خودارشادفرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجسادالانبیاء ۔ رواہ احمد وابوداؤد والنسائی
بیشك اﷲتعالی نے زمین پر حرام فرمادیاہے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا جسم مبارك کھانا۔
مسند احمد بن حنبل مروی از ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ٢ / ٥٤٠
سنن ابن ماجہ ذکروفاتہٖ ودفنہٖ صلی اﷲتعالٰی علیہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ١١٩
اسے امام احمد ابوداؤد نسائی ابن ماجہ ابن خزیمۃ ابن حبان حاکم اور ابو نعیم نے روایت کیا ۔ ابن خزیمہ ابن حبان حاکم دارقطنی اور ابن دحیہ نے صحیح کہا اور اسے عبدالغنی اور منذری وغیرہم نے حسن کہا (ت)
جب مانع مفقود اورمقتضی اس درجہ قوت سے موجود تو اگر نماز جنازہ کی تکرارشرع میں جائز ہوتی تو صحابہ وتابعین سے لے کر آج تك تمام جہان تمام طبقات کے تمام علماء اوراولیاء وصلحا اور عاشقان مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اس کے ترك پرا جماع کیا معنی جن میں لاکھوں بندے خدا کے وہ گزرے اوراب بھی ہیں جنہیں دن رات یہی فکر رہتی ہے کہ جہاں تك مل سکیں وہ طریقے بجالائیں کہ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں تقرب پائیں لاجرم تیرہ سو برس کا یہ اجماع کلی دلیل ظاہر ہے کہ تکرار نماز جنازہ جائز نہیں اس لئے مجبورا سب باقیماندہ کواس فضل عظیم سے محروم ہونا پڑا۔ امام اجل نسفی وافی اوراس کی شرح وافی میں فرماتے ہیں :
لم یصل غیرہ بعدہ ای ان صلی الولی لم یجزلغیرہ ان یصلی بعدہ لان حق المیت یتادی بالفریق الاول وسقط الفرض بالصلوۃ الاولی فلوفعلہ الفریق الثانی لکان نفلا واذاغیر مشروع کمن صلی علیہ مرۃ الخ
اگر ولی نے نماز جنازہ پڑھ لی تو اس کے بعد دوسرے کو پڑھنا جائز نہیں اس لئے کہ میت کا حق پہلے فریق سے اداہوچکا اور پہلی نماز سے فرض ساقط ہوگیا اب اگر کوئی دوسرافریق اداکرے تو یہ نفل ہوگی اور یہاں نفل مشروع نہیں جیسے وہ جس کی ایك بار نماز پڑھی جاچکی ہو الخ(ت)
امام محمد محمد محمد بن حلبی ابن امیر الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :
قال علماؤنا اذاصلی علی المیت من لہ ولایۃ ذلك لا تشرع الصلوۃ علیہ ثانیا لغیرہ ۔
ہمارے علماء نے فرمایا جب میت پر صاحب حق نماز پڑھ چکے پھر اورکوئی اس پر نماز مشروع نہیں۔
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
لا یصلی علیہ لئلایودی الی تکرار الصلوۃ علی میت واحد فانہ غیر مشروع ۔
اس پر نماز نہ پڑھی جائے کہ ایك میت پر دو بار نماز نہ ہو کہ یہ نا مشروع ہے۔
درر شرح غرر و مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے :
الفرض یتادی بالاولی والتنفل بھاغیرمشروع ۔
فرض تو پہلی نماز سے ادا ہوگیا اور یہ نماز نفلی طور پر مشروع نہیں۔
درمختار وفتح اﷲ المعین میں ہے :
لیس لمن صلی علیہا ان یعید مع الولی لان تکرارھا غیر مشروع ۔
جو پہلے پڑھ چکا وہ ولی کے ساتھ بھی اعادہ کا اختیار نہیں رکھتا کہ اس کی تکرار غیر مشروع ہے۔
مراقی الفلاح میں ہے :
لایعیدمع لہ حق التقدم من صلی مع غیرہ لان التنفل بھا غیر مشروع ۔
جو اور کے ساتھ پڑھ چکا صاحب حق کے ساتھ نہ پڑھے کہ اس نمازمیں نفل مشروع نہیں۔
ایضاح و عالمگیریہ میں ہے :
لایصلی علی میت الامرۃ واحدۃ والتنفل بصلوۃ الجنازۃ غیرمشروع ۔
کسی میت پر ایك بار کے سوا نماز نہ پڑھی جائے اور نماز جنازہ نفل ادا کرنا غیر مشروع ہے۔
فتاوی امام قاضی خان و ظہیریہ و شرح نقایہ برجندی وخلاصہ و والوالجیہ وتجنیس و واقعات و بحرالرائق وغیرہا میں ہے :
ان کان المصلی سلطانا اوالامام الاعظم اوالقاضی او والی المصر امام حیہ
یعنی اگر بادشاہ اسلام یا امیرا لمومنین یا قاضی شرع یا اسلامی حاکم مصر یا امام الحی نماز پڑھ چکا
الدررالحکام فی شرع غررالاحکام باب الجنائز مطبوعہ احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ١ / ١٦٥
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٣
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل السلطان احق بالصلٰوۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٣٢٤
فتاوٰی ہندیہ الفصل فی الصلٰوۃ علی المیت مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٦٣
تو اب ولی کو بھی اعادہ کا اختیار نہیں۔
شرح نقایہ علامہ قہستانی میں ہے : لایصلی علی میت الامرۃ (کسی مردے پر ایك سے زیادہ نماز نہ پڑھی جائے۔ سراج وہاج وبحرالرائق و ردالمحتار وجامع الرموزوجوہرہ نیرہ وہندیہ و مجمع الانہر وغیرہ میں ہے :
واللفظ للبحرعن السراج ان صلی الولی علیہ لم یجز ان یصلی احد بعدہ ۔
سراج وہاج سے بحرالرائق کے الفاظ ہیں کہ اگر ولی نے اس پر نماز پڑھ لی تو اس کے بعد اب کسی کو جائز نہیں کہ نماز جنازہ پڑھے۔
ان سب کتابوں میں بلفظ لم یجز ولایجوزتعبیرمیں فرمایا یعنی ناجائز ہے۔ ایسا ہی عبارات ہدایہ سے گزرا۔ اور یہی لایصلی ولایعید ولیس لہ کامفاد اور یہی غیر مشروع سے مراد مگر اس میں صاف تصریح ہے جس سے تمام اوہام منصرف اور باقی عبارات کی بھی مراد منکشف ۔ یونہی قدوری ۲ہدایہ منیہ وقایہ نقایہ وافی کنز غرر اصلاح الملتقی تنویر نورالایضاح۔ ان بارہ متنوں اوران کی غیرسب میں تصریح ہے کہ نماز جنازہ جب ایك بار ہوچکی فوت ہوگئی۔
مختصر : یجوز التیمم للصحیح المقیم اذا حضرت الجنازۃ والولی غیرہ فخاف ان اشتغل بالطہارۃ ان تفوتہ الصلوۃ ھدایۃ تیمم الصحیح فی المصراذاحضرت الخ وقال بالطہارۃ مکان بالوضوء وھواشمل منیۃ الصحیح فی المصر تیمم لصلوۃ الجنازۃ اذاخاف الفوت جاز
() مختصر قدوری : تندرست مقیم کے لئے تیمم جائزہے جب جنازہ آجائے اور ولی دوسراہو اندیشہ ہو اگر وضو میں لگے تو نماز جنازہ فوت ہوجائےگی۔
() ہدایہ : تندرست شہر میں تیمم کرلے جب جنازہ آجائے طہارت میں مشغول ہوتو فوت کا اندیشہ ہو۔ صاحب ہدایہ نے “ وضو “ کی جگہ “ طہارت “ کہا یہ زیادہ جامع ہے۔
() منیہ : تندرست شہر کے اندر
جامع الرموز فصل فی الجنازۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٢٨٥
بحرالرائق فصل السلطان احق بصلٰوتہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٨٢
مختصر القدوری باب التیمم مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور ص١١
الہدایۃ باب التیمم مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ٣٨
نماز جنازہ کے لئے تیمم کرے گا جب فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو مگر ولی کےلئے یہ نہیں۔ () وقایہ : تیمم بے وضو جنب حائض اور نفاس والی کے لئے ہے جب انہیں پانی پر قدرت نہ ہو اور غیرولی کو نماز جنازہ فوت ہونے کا اندیشہ کے وقت بھی ہے()اصلاح : اس کی عبارت بھی وقایہ کے مثل ہے فرق یہ ہے کہ اس میں کہا ہے جب یہ پانی سے عاجز ہوں()نقایہ : جوفوت ہو اور اس کا کوئی بدل نہ ہو جیسے غیر ولی کے لئے نماز جنازہ کا کوئی بدل نہ ہو (اس کے لئے تیمم روا ہے)( )کنز : نماز جنازہ فوت ہونے کا اندیشہ کے وقت تیمم درست ہے()تنویر : نماز جنازہ فوت ہونے کے وقت تیمم جائز ہے۔ () وافی : اس کی عبارت کنز کے مثل ہے اور یہ اضافہ ہے جب خود ولی جنازہ نہ ہو()غرر : تیمم جائز ہے بے وضو جنب اورحائض کے لئے جو پانی سے عاجز ہوں اورغیرولی کے لئے نماز جنازہ کے فوت ہونے کے اندیشہ سے ۔ ()ملتقی : نماز جنازہ کے فوت ہونے کے اندیشہ سے() نورالایضاح : تیمم کو مباح کرنے والا عذر نماز جنازہ فوت ہونے کا اندیشہ ہے(ت)
وقایہ مع شرح الوقایہ باب التیمم مطبوعہ المکتبۃ الرشید دہلی ١ / ٩٥ تا ٩٧
اصلاح
نقایۃ مختصر الوقایۃ فصل التیمم مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب خانہ کراچی ص٦
کنز الدقائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص١٧
درمختار شرح تنویر الابصار باب التیمم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٤٣
وافی
ملتقی الابحر باب التیمم مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ١ / ٣٢
نورالایضاح باب التیمم مطبوعہ مطبع علیمی لاہور ص١١
کافی وشرح وافی
مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی باب التیمم مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص شرح النقایہ للبر جندی فصل التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ /
فتاوی خیریہ باب التیمم مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت /
ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی /
ہدایہ و مجمع الانہرمیں ہے : لانھالاتقضی فیتحقق العجز (اس لئے کہ اس کی قضاء نہیں ہوتی تو عجز متحقق ہے۔ ت) کافی امام نسفی میں ہے :
صلوۃ الجنازۃ والعیدتفوتان لاالی بدل لانھمالاتقضیان فیتحقق العجز البحر ۔
نماز جنازہ وعید فوت ہوں تو ان کا کوئی بدل نہیں اس لئے ان کی قضا نہیں ہوتی تو عجز متحقق ہے۔ بحر۔ (ت)
لانھا تفوت بلاخلف (اس لئے کہ جنازہ بلا بدل فوت ہوجاتاہے۔ ت)فتاوی خیریہ میں ہے :
لایجوز التیمم مع وجود الماء الافی موضع یخشی الفوات لاالی خلف کصلوۃ الجنازۃ ۔
پانی ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں مگر ایسی جگہ جہاں بلا بدل فوت کا اندیشہ ہوجیسے نماز جنازہ۔ (ت)
عندالتحقیق ان سب عبارات کا بھی وہی حاصل کہ نماز جنازہ دوبارہ پڑھنی صرف مکروہ ہی نہیں بلکہ محض ناجائز ہے۔ برہان شرح مواہب الرحمن پھر شرح نظم الکنز للعلامۃ المقدسی پھر حاشیہ علامہ نوح آفندی پھر ردالمحتار شامی میں ہے :
مجرد الکراھۃ لایقتضی العجز المقتضی لجوازالتیمم لانھالیست اقوی من فوات الجمعۃ والوقتیۃ مع عدم جوازہ لھما ۔
محض کراہت اس عجز کی مقتضی نہیں جو تیمم کاجواز چاہتا ہے اس لئے کہ وہ جمعہ اور نماز وقتیہ کے فوت ہونے سے زیادہ قوی نہیں باوجود یکہ ان دونوں کے لئے تیمم جائز نہیں(ت)
یہ چالیس کتابوں کی عبارتیں ہیں اورخود کثرت نقول کی کیا حاجت کہ مسئلہ واضح اورظاہر اور تمام کتب مذہب متون و شرح وفتاوی میں دائر وسائر صورت مستفسرہ میں کہ خود ولی پڑھ چکاتھا
کافی وشرح وافی
مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی باب التیمم مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٦٣ ، شرح النقایہ للبر جندی فصل التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ١ / ٤٦
فتاوٰی خیریہ باب التیمم مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٥
ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی ١ / ١٧٧
ذنب العالم ذنب واحد وذنب الجاھل ذنبان قیل ولم یا رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم العالم یعذب علی رکوبہ الذنب والجاھل یعذب علی رکوبہ الذنب وترك التعلم ۔ رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما۔
یعنی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا عالم کا ایك گناہ اور جاہل کا گناہ دو گناہ کسی نے عرض کی : یا رسول اﷲ! کس لئے فرمایا عالم پر وبال اسی کا ہے کہ گناہ کیوں کیا اور جاہل پر ایك عذاب گناہ کا اور دوسرا نہ سیکھنے کا۔ اسے دیلمی نے مسندالفردوس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
عالم جس نے تاکید واصرار کرکے ان لوگوں سے نماز جنازہ کی تکرار کرائی اگر مدعی حنفیت ہے تو خود اپنے ہی مذہب کے حکم سے گنہگار ہے اور فرقہ غیر مقلدین سے تو گناہگار درکنار بدمذہب وگمراہ ہے اور ان دونوں صورتوں میں اس عالم پر اتنے گناہ لازم ہوئے جس قدر شمار حصار جماعت ثانیہ کا تھا اور اس پر ایك زائد مثلا دوسری دفعہ اس کے اصرار سے سو آدمیوں نے نماز پڑھی تو ان میں سے ہر ایك پردو دوگناہ ایك گناہ فعل دوسرا گناہ جہل۔ اور اس عالم پر ایك سوا یك گناہ ایك اپنا اور سو ان کے فعل کے۔ آخری یہی داعی بگناہ ہوا۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من دعا الی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اثام من تبعہ لاینقص ذلك من اثامھم شیئا ۔ رواہ الائمۃ الاحمد ومسلم والاربعۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو کسی ضلالت کی طرف بلائے سب ماننے والوں کے برابر گناہ اس پر ہوا وران کے گناہوں میں کچھ کمی نہیں آئی۔ اسے امام احمد مسلم ترمذی نسائی ابوداؤد ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
یعنی یہ نہ ہوگا کہ اس کی ترغیب کے باعث گناہ ہونے کے سبب وہ گناہ سے بچ رہیں یا اس پر صرف
جامع الترمذی ابواب العلم امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ٩٢
لایستحب لمن صلی جماعۃ او منفردا اعادتھا جماعۃ اوانفرادا بل یکرہ ۔
یعنی جس نے نمازجنازہ جماعت سے خواہ تنہا پڑھ لی اس کے لئے دوبارہ جماعت میں خواہ تنہا پڑھنی پسندیدہ نہیں بلکہ مکروہ ہے۔ (ت)
اور اگر کراہت نہ بھی لیجئے تو اس قدر تو ضرور کہ باجماع تمام امت مرحومہ کسی کے نزدیك ضروری نہ تھا۔ پھر آپ نے کس آیت و حدیث کس امام کے قول سے اختیار کیا تھا کہ غیر مذہب والوں سے بااصرار ایسے امر کا ارتکاب کرائے جوان کے مذہب میں ناجائز اوراپنے نزدیك محض بے حاجت شافعیہ وغیرہم بعض علماء اگرچہ اس کے لئے جس نے ہنوز نماز جنازہ نہ پڑھی نماز اول ہوجانے کے بعد بھی اجازت نماز دیتے ہیں مگر اس مدعی علم کا پڑھ چکنے والوں پریہ اصرار خصوصا اس حالت میں کہ خود ولی اقرب بھی ا نہیں میں ہے اوراسکا وہ علی رؤس الاشہاد زعم واظہار کہ تین روز تك جتنی بار چاہے نماز پڑھے جیسا کہ فاضل سائل نے اپنے خط میں ذکرفرمایا یہ حنفی شافعی مالکی حنبلی اصلا مذہب کے مطابق نہیں نہ شرع مطہر سے اس پر کوئی دلیل اگر سچاہے تو اس اصراراور اس اظہار کی دلیل پیش کرے ورنہ اپنے جہل وسفاہت اورامر شرع میں بیباکی وجرأت کا مقرہوقل قل هاتوا برهانكم ان كنتم صدقین(۶۴) (کہو اپنی دلیل لاؤ اگرتم سچے ہو۔ ت)حضرات غیر مقلدین بلکہ تمام طوائف مبطلین کی عادت ہے کہ جب کچھ اپنے مفید مطلب نہیں پاتے الغریق یتشبث بالحشیش ڈوبتا سوار پکڑتا ہے نری بے علاقہ باتیں جنہیں ان کے دعوی سے اصلا مس نہیں بلکہ جوش غضب میں مدہوش ہوکر اپنے مضرومخالف دلیلوں سے استناد کربیٹھتے ہیں جیسے ان کے شیخ الکل میاں نذیر حسین صاحب دہلوی سے ان کی سب سے بڑی تالیف معیار وغیرہ میں بکثرت و بے شمار واقع ہوا نمونہ درکارہو فقیر کا رسالہ ملاحظہ ہو حاجزالبحرین الواقی عن جمع الصلاتین جس کا لقب تاریخی بعض ظرفا نے حجۃ الحین عــــہ علی
عــــہ : حین بالفتح بمعنی مرگ منہ(م)
القرآن ٢٧ / ٦٤
اجرؤکم علی الفتیااجرؤکم علی النار ۔
جو تم میں فتوی دینے پر زیادہ جری ہے آتش دوزخ پر زیادہ جرأت رکھتا ہے۔
اس میں آپ حضرات تو داخل نہیں اگر بحکم آنکہ ع :
وقت ضرورت چونماند گریز
(ضرورت پر بھاگنے کے سوا چارہ نہیں۔ ت)
مجبورا یہ کسی واقعہ حال کا دامن پکڑلے تواتنا یاد رہے کہ واقعہ عین لاعموم لہا وقائع خاصہ احکام عامہ نہیں ہوتے وہ ہرگونہ احتمال کے محل ہوتے ہیں۔
اولا آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ پہلے اس جنازہ پر صلوۃ ہوچکی تھی مجرد استبعاد کہ بھلا صحابہ اس وقت نہ پڑھتے۔
اقول : وباﷲ التوفیق یہ کافی نہ ہوگا کہ نماز جنازہ ہمیشہ سے فرض نہ تھی۔ حضرت ام المومنین خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا کے جنازہ مقدس پر اس لئے نماز نہ ہوئی کہ اس وقت تك اس کی فرضیت ہی نہ تھی تو ایك تو بہ سند صحیح یہ ثابت کیجئے کہ یہ کب کس سال کس ماہ میں اس کی فرضیت اتری۔ مجرد حکایات بے سند مسموع نہ ہوں گی کہ آپ مجتہد ہوکر قیل وقال کی تقلید نہیں کرسکتے پھر بدلیل صریح یہ مبرہن کیجئے کہ یہ واقعہ عین بعد فرضیت ہی تھا مجرد وقوع صلوۃ مفید فرضیت نہ ہوگا۔ شرع میں اس کی نظائر موجود کہ بعض افعال بلکہ خاص نماز کا قبل فرضیت وقوع ہوا بعد کو فرضیت اتری جیسے اسعد بن زرارہ وغیرہ انصار کرام اہل مدینہ رضی اللہ تعالی عنہم کا قبل فرضیت جمعہ جمعہ پڑھنا
کمارواہ عبدالرزاق ومن طریقہ عبدبن حمید فی تفسیرہ بسند صحیح
جیساکہ اسےعبدالرزاق نے اوران ہی کے طریق سےعبد بن حمید نے اپنی تفسیر میں بسند صحیح روایت کیا
اور اسے ہم نے اپنے رسالہ “ لوامع البہافی المصرللجمعۃ والابع عقیبہا “ میں بیان کیا۔ (ت)
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جماعت تراویح اسی خیال سے ترك فرمادی کہ مداومت کئے سے فرض نہ ہوجائے ۔ کما رواہ السنۃ من زید بن ثابت والشیخان عن ام المؤمنین رضی اﷲتعالی عنہا(جیسا کہ اسے اصحاب ستہ (بخاری مسلم ابوداؤد ترمذی نسائی ابن ماجہ) نے حضرت زید بن ثابت سے اورشیخین (بخاری مسلم) نے حضرت ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ ت)اگر کہے نماز میں نفس وقوع ہی فرضیت بتادے گا کہ یہ نماز شرع میں فرض ہی ہوکر معہود ہوئی ہے نفلی طور پر اصلا مشروع نہیں
اقول : اب راہ پر آگئے اسی لئے تو ائمہ کرام اس کی تکرار کونامشروع فرماتے ہیں کہ شرع مطہر میں یہ نماز بروجہ تنفل نہیں اور اس کی فرضیت بالاجماع بسبیل الکفایہ ہے اورفرض کفایہ جب بعض نے ادا کرلیا ادا ہوگیا اب جو پڑھے گا نفل ہی ہوگا۔ اوراس میں تنفل مشروع نہیں۔
ثانیا ثبوت دیجئے کہ اس واقعہ میں صلاۃ بمعنی ارکان مخصوصہ تھی صلاۃ علی فلاں بمعنی دعا نصوص شرعیہ میں شائع و ذائع ہے۔
قال تعالی خذ من اموالهم صدقة تطهرهم و تزكیهم بها وصل علیهم-ان صلوتك سكن لهم- ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا : اے نبی! مسلمانوں کے مال سے زکوۃ تحصیل فرماکر اس کے سبب تو ان کو پاك اور ستھرا کرے اوران پرصلاۃ کر بیشك تیری صلاۃ ان کے لئے چین ہے۔
اسی آیت کے حکم سے جب لوگ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس زکوۃ حاضر کرتے حضور ان کے حق میں دعا فرماتے :
اللھم صل علی فلان کمارواہ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ و غیرھم عن عبداﷲ بن
اے اﷲ! فلاں پر رحمت نازل فرما۔ جیسا کہ اسے امام احمد بخاری مسلم ابوداؤد ترمذی ابن ماجہ وغیرہم نے حضرت ابی اوفی
القرآن ٩ / ١٠٣
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ ١ / ٢٠٣ ، وکتاب الدعوات٢ / ٩٣٧ قدیمی کتب خانہ کراچی
رضی اﷲ عنہما رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ (ت)
اسی طرح آیہ کریمہ :
ان الله و ملىكته یصلون على النبی-یایها الذین امنوا صلوا علیه و سلموا تسلیما(۵۶) ۔
اللھم صل وسلم وبارك علیہ وعلی الہ وصحبہ وکل منتم الیہ۔
بیشك خدا اوراس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں اے ایما ن والو! تم بھی ان پر درود پڑھو اور خوب خوب سلام بھیجو۔ (ت)
اے اﷲ! ان پر درود وسلام وبرکت نازل فرما اور ان کی آل واصحاب اوران سے ہرنسبت وتعلق رکھنے والے پر بھی۔ (ت)
کریمہ هو الذی یصلی علیكم و ملىكته (وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر اوراس کے فرشتے۔ ت) کریمہ و من الاعراب من یؤمن بالله و الیوم الاخر و یتخذ ما ینفق قربت عند الله و صلوت الرسول- (اور کچھ گاؤں والے وہ ہیں جواﷲ پر اور روزقیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جوکچھ خرچ کریں اسے اﷲ کی نزدیکیوں اور رسول سے دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھیں۔ ت) وغیرہ صلوۃبمعنی دعا ہے علماء نے حدیث مؤطائے امام مالك وسنن نسائی عن ام المومنین الصدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
انی بعثت الی اھل البقیع لاصل علیہم ۔
میں اہل بقیع کی طرف بھیجا گیاکہ ان پر صلوۃ کروں۔ صلوۃکوبمعنی استغفار ودعا لیا۔
اقول : بلکہ سنن نسائی کی دوسری روایت میں ہے :
ان جبریل اتانی (فذکر الحدیث قال) فامرنی ان اتی البقیع فاستغفرلھم قلت لہ کیف اقول یارسول اﷲ قال قولی السلام علی اھل الدارمن المؤمنین
یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایاجبرئیل میرے پاس آئے مجھے حکم فرمایا کہ بقیع جاکر اہل بقیع کے لئے دعا ئے مغفرت کروں ام المومنین فرماتی ہیں میں نے عرض کیایارسول اﷲ! کس طرح
القرآن ۳۳ / ٤٣
القرآن ٩ / ٩٩
سنن النسائی کتاب الجنائز نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ١ / ٢٨٧
کہوں حضور نے دعاء زیارت قبور تعلیم فرمائی السلام علی اھل الدارمن المؤمنین والمسلمین ویرحم اﷲ المستقدمین مناوالمستاخرین وانا ان شاء اﷲبکم لاحقون۔
یہ توخود حدیث بخاری ومسلم و ابی داؤد والنسائی عن عقبۃ بن عامران النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم خرج یوما فصلی علی اھل احدصلوتہ علی المیت (حضرت عقبہ بن عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك دن احد تشریف لے جاکر اہل احد پر صلوۃ پڑھی جیسے میت پر صلوۃ پڑھی جاتی ہے۔ ت)میں بھی علماء نے صلوۃبمعنی دعا لی۔ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ہے :
زاد(البخاری)فی غزوۃ احد من طریق حیوۃ بن شریح عن یزید بعد ثمان سنین والمراد انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دعاء لہم بدعاء صلوۃ المیت ولیس المراد صلوۃ المیت المعھودۃ کقولہ تعالی وصل علیہم الاجماع یدل لہ لانہ لایصلی علیہ عندناوعند ابی حنیفۃ المخالف لایصلی علی القبر بعد ثلثۃ الایام ۔
امام بخاری نے غزوہ احد کے بیان میں بطریق حیوہ بن شریح عن یزید “ آٹھ سال بعد “ کا اضافہ کیا یعنی اہل احد کے لئے صلوۃ مذکور کا واقعہ ان کی شہادت کے آٹھ سال بعد کا ہے---اور صلوۃسے مرادیہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے لئے وہی دعا کی جو نماز میت میں ہوتی ہے معروف نماز جنازہ مراد نہیں۔ جیسے ارشاد باری تعالی “ صل علیہم “ کا معنی ان کے لئے دعاکرو۔ اس مراد کی دلیل اجماع ہے اسلئے کہ ہمارے نزدیك شہید کی نماز جنازہ نہیں اورامام ابوحنیفہ جو اس بارے میں ہمارے مخالف ہیں ان کے نزدیك تین دن کے بعد قبر پر نمازجنازہ نہیں۔ (ت)
پھر امام نووی شرح مہذب پھر امام سیوطی مرقاۃ الصعود شرح سنن ابی داؤد میں فرماتے ہیں :
قال اصحابنا وغیرھم ان المراد من
ہمارے علماء اور دیگر حضرات نے فرمایا کہ یہاں
سنن النسائی کتاب الجنائز نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ١ / ٢٧٧
ارشاد الساری شرح البخاری باب الصلٰوۃعلی الشہید دارالکتاب العربی بیروت ۲ / ٤٤٠
صلوۃسے مراد دعا ہے اور صلوتہ علی المیت کامعنی یہ ہے کہ جیسے نماز میت میں دعا ہوتی ہے وہی دعا ان کے لئے کی اور معروف نماز جنازہ بالاجماع مراد نہیں اھ مختصرا(ت)
اسی طرح وصال اقدس کے بعدحضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر جو صلوۃ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے ادا کی ایك جماعت علماء اسے بھی بمعنی درود ودعا لیتی ہے اور حدیث امیرالمومنین علی رضی اللہ تعالی عنہ سے یہی ظاہر :
اخرج ابن سعد عن عبداﷲ بن محمد بن عبد اﷲ بن عمر بن علی بن ابن ابی طالب عن ابیہ عن جدہ عن علی رضی اﷲتعالی عنہ قال لماوضع رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم علی السریر قال الایقوم علیہ احد ھوامامکم حیا ومیتا فکان یدخل الناس رسلا رسلا فیصلون علیہ صفاصفا لیس لھم امام ویکبرون وعلی قائم بحیال رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم یقول السلام علیك ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ اللھم انانشھدان قد بلغ ماانزل الیہ ونصح لامتہ وجاھدفی سبیل اﷲ حتی اعزاﷲ دینہ وتمت کلمتہ اللھم فاجعلناممن تبع ما انزل الیہ وثبتنا بعدہ واجمع بینناوبینہ فیقول الناس امین حتی صلی
ابن سعد نے عبداﷲ بن عبداﷲ بن عمر بن علی بن ابی طالب سے تخریج کی کہ انہوں نے اپنے والد سے بواسطہ اپنے دادا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ روایت کیا یعنی جب حضور پر نور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو غسل کے دے کر سریر منیر پر لٹایا حضرت مولی علی کرم اﷲ وجہہ نے فرمایاحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے آگے کوئی امام بن کے کھڑا نہ ہوکہ وہ تمہارے امام ہیں اپنی زندگی دنیاوی میں اور بعد وصال بھی۔ پس لوگ گروہ درگروہ اور پرے کے پرے حضور پر صلوۃ کرتے کوئی ان کا امام نہ تھا۔ علی کرم اﷲ وجہہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے کھڑے عرض کرتے تھے : سلام حضور پر اے نبی اوراﷲ کی رحمت اوراس کی برکتیں۔ الہی ! ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور نے پہنچادیا جو کچھ ان کی طرف اتاراگیا اور ہربات میں اپنی امت کی بھلائی کی اور راہ خدامیں جہاد فرمایا یہاں تك کہ ا ﷲ عزوجل نے اپنے دین کو غالب کیا
اور اﷲ کا قول پورا ہوا۔ الہی ! تو ہم کو ان پر اتاری ہوئی کتاب کے پیرؤوں سے کر اوران کے بعد بھی ان کے دین پر قائم رکھ اور قیامت ہمیں ان سے ملا۔ مولا علی یہ دعا کرتے اورحاضرین آمین کہتے یہاں تك کہ ان پر مردوں پھر عورتوں پھر لڑکوں نے صلوۃ کی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ (ت)
اور یہی ظاہر اس حدیث کا ہے جوابن سعد وبیہقی نے محمد بن ابراہیم تیمی مدنی سے روایت کی :
لما کفن رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ووضع علی سریرہ دخل ابوبکر وعمر فقالا السلام علیك ایھا النبی ورحمۃ وبرکاتہ ومعھما نفر من المہاجرین والانصار قدرمایسع البیت فسلموا کما سلم ابوبکر وعمر وھمافی الصف الاول حیال رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اللھم انا اشھد ان قد بلغ ماانزل الیہ ونصح لامتہ وجاھد فی سبیل اﷲ حق اعزاﷲدینہ وتمت کلماتہ فاومن بہ وحدہ لا شریك لہ فاجعلنایاالھنا ممن یتبع القول الذی انزل معہ راجمع بینناوبینہ حتی نعرفہ وتعرفہ بنافانہ کان بالمؤمنین رؤفا رحیما لانبغی بالایمان بدلا ولا نشتری بہ ثمنا ابدا فیقول الناس امین امین ثم یخرجون ویدخل علیہ اخرون حتی صلوا علیہ الرجال ثم النساء ثم الصبیان ۔
یعنی جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو کفن دے کر سریر مبارك پرآرام دیا صدیق وفاروق رضی اللہ تعالی عنہما نے حاضر ہوکر عرض کی : سلام حضور پر اے نبی اوراﷲ کی مہر اوراس کی افزونیاں اور دونوں حضرات کے ساتھ ایك گروہ مہاجرین اورانصار کاتھا جس قدر حجرہ پاك میں سماجاتا ان سب نے یوں ہی سلام عرض کیااورصدیق و فاروق پہلی صف میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے کھڑے یہ دعاکرتے : الہی ! میں گواہی دیتا ہوں کہ جو کچھ تونے اپنے نبی پر اتاراحضور نے امت کو پہنچایا اور اس کی خیرخواہی میں رہے اور راہ خدا میں جہاد فرمایا یہاں تك کہ اﷲ تعالی نے اپنے دین کو غلبہ دیا اوراﷲ کی باتیں پوری ہوئیں تو ایك اﷲ پر ایمان لایا گیا اس کا کسی کو شریك نہیں تو اے معبود ہمارے! ہمیں ان کی کتاب کے پیروؤں میں کر جوان کے ساتھ اتری اور ہمیں ان سے ملا کہ ہم انہیں پہچانیں اور تو ہماری پہچان انہیں کرادے کہ وہ مسلمانوں پر رحم دل تھے۔ ہم نہ ایما ن کسی چیز سے
الطبقات الکبری لابن سعد ذکر الصلٰوۃ علی رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم دارصادر بیروت ٢ / ٢٩٠
بزارو حاکم و ابن سعد وابن منیع و بیہقی و طبرانی معجم اوسط میں حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
از غسلتمونی وکفنتمونی علی سیریری ثم اخرجواعنی فان اول من یصلی علی جبرئیل ثم میکائیل ثم اسرافیل ثم ملك الموت مع جنودہ من الملئکۃ باجمعھم ثم ادخلو اعلی فوجا فصلوا علی وسلمو تسلیما ۔
جب میرے غسل وکفن مبارك سے فارغ ہو مجھے نعش مبارك پر رکھ کر باہر چلے جاؤ سب میں پہلے جبرئیل مجھ پر صلوۃ کریں گے پھرمیکائیل پھراسرافیل پھرملك الموت اپنے سارے لشکروں کے ساتھ پھر گروہ گروہ میرے پاس حاضر ہوکر مجھ پر درود سلام عرض کرتے جاؤ۔
امام جلاالدین سیوطی خصائص کبری میں فرماتے ہیں :
قال البیہقی تفردبہ سلام الطویل عن عبدالملك بن عبدالرحمن وتعقبہ ابن حجر فی المطالب العالیۃ بان ابن منیع اخرجہ من طریق مسلمۃ بن صالح عن عبدالملك بہ فھذہ متابعۃ السلام الطویل واخرجہ البزارمن وجہ اخر عن ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ ۔
بیہقی نے کہا : عبدالملك بن عبدالرحمن سے اسکی روایت میں سلام طویل منفرد ہیں۔ اس پر علامہ ابن حجر نے “ مطالب عالیہ “ میں تعاقب فرمایاکہ اسے ابن منیع نے بطریق مسلمہ بن صالح عبدالملك سے اسی سند سے روایت کیا ہے تو یہ سلام طویل کی متابعت ہوگئی اور اسے بزار نے ایك اور طریق سےحضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
اس حدیث سے بھی ظاہرکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے خود اپنے جنازہ اقدس کی نسبت اسی قدر تعلیم فرمائی کہ گروہ گروہ حاضر ہوکر درودوسلام پڑھتے جانا۔ شرح موطائے امام مالك للعلامۃ الزرقانی میں بعد ذکر حدیث مذکور امیر المومنین علی ہے :
الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بالصلٰوۃ علیہ افرادًا الخ دارالکتب الحدیثیہ مصر ٣ / ٣٩٥
ثم نقل عنہ جوابا ان المقصود من الصلوۃ علیہ صلی اﷲ علیہ وسلم عودالتشریف علی المسلمین مع ان الکامل یقبل زیادۃ التکمیل۔
ثم اثرعن القاضی عیاض تصحیح ان الصلوۃ کانت ھی المعروفۃ لامجرد الدعا فقط اھ
اسکا ظاہر یہی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پرصلوۃسے مراد وہی ہے جوایك جماعت کامذہب ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے خصائص سے ہےکہ ان کی نماز جنازہ بالکل نہ پڑھی گئی پس یہ ہوا کہ لوگ داخل ہوتے اور دعاکرکے جداہوجاتے --باجی نے فرمایا : اس کی ایك وجہ ہے وہ یہ کہ سرکار ہر شہید سے افضل ہیں اور شہید کو اس قدر فضیلت حاصل ہے کہ اس کی نماز جنازہ کی ضرورت نہیں۔ رہایہ کہ غسل کے بارے میں سرکار کا معاملہ شہید سے الگ رہا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شہید کو غسل اس لئے نہیں دیاجاتا کہ اس پر جوخون لگا ہے وہ زائل ہوجائے گا جبکہ پاکیزگی کے باعث اس کا باقی رہنا مطلوب ہے-- اور اس لئے بھی کہ آخرت میں وہ اس کی شہادت کا نشان ہوگا--اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے جسم پر ایسی کوئی چیز نہیں جسے زائل کرنا پسندیدہ نہ ہو-- اس لئے یہ حکم الگ الگ-- امام ابو الولید باجی کا افادہ ختم ہوا۔
پھر اس کا جواب نقل کیاکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نماز پڑھنے کا مقصد یہ ہےکہ مسلمانوں کو شرف حاصل ہو--- دوسرے یہ کہ کامل مزید تکمیل کے قابل ہوتا ہے۔
پھر امام قاضی عیاض سے اس کی تصحیح نقل کی کہ وہ صلوۃ یہی معروف نماز جنازہ تھی محض دعا نہ تھی۔
اقول : امام ابوالولید کا جومطمح نظر ہے اس سے جواب کو مس نہیں اس لئے کوہ اسکے مدعی نہیں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نماز جنازہ محال ہے اور اس کی ادائیگی کوئی وجہ نہیں رکھتی جوابا اس کا جواز ثابت کیاجائے اورا س کی کوئی وجہ ظاہرکی جائے---وہ صرف یہ فرما رہے ہیں کہ اگر سرکار کی نماز نہیں پڑھی گئی تواسکی ایك وجہ ہے--اور وہ اس طرح ہے--اب اگر ادائے نماز کی بھی ایك وجہ یا چندوجہیں ہیں تو یہ ان کے بیان کے منافی نہیں۔ اورمجیب نے جو ذکر کیا ہے وہ شہید کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے-- یہ کلام ان لوگوں کے مذہب پر ہوگا جو شہید کی نماز جنازہ کے قائل نہیں--شہید کا زیادتی کمال کے قابل ہونا تو بدیہی ہے-- رہا مسلمانوں کا فائدہ پانا تو وہ بھی ایساہی تھا --امام ترمذی محمد بن علی حضرت انس رضی اﷲ تعالی سے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے : مومن کا سب سے پہلا تحفہ یہ ہے کہ اس کی نماز جنازہ پڑھنے والوں کی مغفرت کردی جاتی ہے اور اسے دارقطنی نے افراد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ان الفاط میں روایت کیا ہے کہ : مومن جب قبر میں
داخل ہوتا ہے تواس کو سب پہلا تحفہ یہ دیا جاتا ہے کہ اس کی نماز پڑھنے والوں کی مغفرت کردی جاتی ہےاور اسے عبدبن حمید بزار اورشعب الایمان میں بیہقی نے ان ہی(حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ما) کی روایت سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ان الفاظ میں روایت کیا کہ : مومن کوبعد موت سب سے پہلا صلہ یہ دیاجاتا ہے کہ اس کے جنازہ کے پیچھے چلنے والے سب لوگوں کو بخش دیا جاتا ہے اور ابن ابی الدنیا نے ذکر موت میں اورخطیب نے حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے کہ : مومن کا سب سے پہلا تحفہ یہ ہے کہ جو لوگ اس کے جنازہ میں نکلے ان کی مغفرت کردی جاتی ہے اوردیلمی نےمسند الفردوس میں انہی(جابر بن عبداﷲ) کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ جب اہل جنت کاکوئی شخص انتقال کرتا ہے تو اﷲ عزوجل حیافرماتاہے کہ ان لوگوں کو عذاب دے جو اس کا جنازہ لے کر چلے او رجو اس کے پیچھے چلے اور جنہوں نے اس کی نماز پڑھی ۔ اورابوبکر بن ابی شیبہ ابوالشیخ اورابن حبان نے کتاب الثواب میں بروایت سلمان
شعب الایمان باب فی الصلٰوۃ علی من مات حدیث ٩٢٥٨ دارالکتب العلمیۃ بیروت ٧ / ٧
تاریخ بغداد ترجمہ نمبر٢٧٦٨ محمد بن راشدالبغدادی دارالکتاب العربی بیروت ٥ / ٢٧٤
الفردوس بماثور الخطاب حدیث ١١٠٨ دارالباز مکۃ المکرمہ ١ / ٢٨٢
فارسی رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کی ہے کہ : سب سے پہلے مومن کوجو بشارت دی جاتی ہے وہ یہ ہےکہ اس سے کہاجاتاہے اے خداکے ولی! تجھے اس کی خوشنودی کا مژدہ ہو جنت تیرے خیرمقدم کو تیار ہے اور اﷲنے تیرے جنازے کے ساتھ چلنے والوں کی مغفرت فرمادی اور تیرے لئے استغفار کرنے والوں کی دعا قبول کی اور تیرے لئے شہادت دینے والوں کو قبول فرمایا۔
رہی قاضی عیاض کی تصحیح تو میں کہتاہوں اس میں مخالف مدعی اجتہاد کے لئے کوئی جائے تمسك نہیں اس کےلئے قاضی عیاض کی تقلید کیسے روا ہوگی جب کہ وہ ان کی بھی تقلید نہیں کرتا جن کے قاضی عیاض مقلد ہیں یعنی امام مالك رضی اللہ تعالی عنہ نہ ان کی جوان سے بزرگ ہیں یعنی امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ۔ پھر ہمارے لئے قبول تصحیح کے معاملے میں یہ کہنا کافی ہے کہ ہاں ایك بار حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھی گئی-- وہ اس وقت جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ پر بیعت تمام ہوئی اور ان کی ولایت صحیح ہوگئی۔ اس سے قبل صرف یہ تھا کہ لوگ آکر دعا کرتے اورلوٹ جاتے ۔ پھر جب حضرت صدیق نے نماز ادا کی تو
اس کے بعد کسی نے حضور کی نماز جنازہ نہ پڑھی-- جیسا کہ شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے اس پر جز م ہم آگے نقل کریں گے۔
ثالثاثبوت دینا ہوگا کہ پہلی نماز ولی احق نے خود پڑھی تھی پھر اعادہ کی قطع نظر اس سے کہ جب نماز اول نہ ولی احق نے خود پڑھی نہ اس کے اذن سے ہوئی تواسے ہمارے نزدیك بھی اعادہ کا اختیار ہے۔ ان مجتہدصاحب کاوہ حکم واصرار صحیح ٹھہرانا خاص اسی صورت کے ثبوت پر موقوف کہ یہاں واقعہ یہی تھا۔
اقول : وباﷲ التوفیق زمانہ اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں تمام مسلمین کے ولی احق واقدم خود حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے النبی اولى بالمؤمنین من انفسهم (نبی مسلمانوں کے انکی جانوں سے زیادہ مالك رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
انااولی بالمؤمنین من انفسھم ۔ رواہ احمد و الشیخان والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ہریرہ رضی اﷲتعالی عنہ۔
میں مسلمانوں کا ان کی جانوں سے زیادہ مالك ہوں۔ اسے امام احمد بخاری مسلم نسائی ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا(ت)
تو جو نماز قبل اطلاع حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور لوگ پڑھ لیں پھر اگر حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اعادہ فرمائیں تو یہ وہی صورت ہے کہ نمازاول غیر ولی احق نے پڑھی ولی احق اختیاراعادہ رکھتا ہے اسے ان مجتہد صاحب کی صورت سے کچھ علاقہ نہ ہوگا خصوصا جب کہ پہلے سے ارشاد فرمایا ہو کہ فلاں مریض جب انتقال کرے ہمیں خبر دینا کہ آخر یہ ارشاد اسی لئے تھا کہ خود نماز پرھنے کاقصد تھا تو اگر اوروں کاپڑھنا ثابت ہو تو صرف بے اذن ولی نہیں بلکہ خلاف اذن ولی ہوگا اگرچہ ان کا اطلاع نہ دینا بمتقضائے ادب ومحبت ہو جیساکہ سکینہ سودأخادمہ مسجدام محجن رضی اللہ تعالی عنہما کے معاملہ میں واقع ہوا۔ موطائے امام مالك وغیرہ میں حدیث ابی امامہ اسعد بن سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے جب وہ بیمار ہوئیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اذاماتت فاذنونی جب اس کا انتقال ہو مجھے خبر کردیناان کا جنازہ شب کو تیار ہوا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ
صحیح البخاری کتاب الکفالۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٣٠٨
موطاامام مالك التکثیرہ علی الجنائز میر محمد کتب خانہ کراچی ص٢٠٨
فلا تفعلوالااعرفن مامات منکم میت ماکنت بین اظھرکم لا اذنتمونی بہ فان صلاتی لہ رحمۃ ۔
ایسا کبھی نہ کرنا جب تك میں تم میں تشریف رکھوں جو شخص مرے مجھے خبر کردینا کہ میری نماز اس کے حق میں رحمت ہے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
مؤطا الامام مالك التکثیر علی الجنائز میر محمد کتب خانہ کراچی ص٢٠٨
صحیح البخاری کتاب الجنائز قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٧٨
صحیح مسلم کتاب الجنائز نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٣١٠
مسند امام احمد بن حنبل حدیث عامر بن ربیعہ دارالفکر بیروت ٣ / ٤٤٤
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی الصلٰوۃ علی القبر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص١١١ ، التمہید لابن عبدالبر اباحۃ الصلٰوۃ علٰی قبر الخ المکتبۃ القدوسیہ لاہور ٦ / ٢٧٢
قال خرجنا مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلما وردنا البقیع اذاھو بقبر فسأل عنہ فقالو فلانۃ فعرفھافقال الااذنتمونی بھا قالوا کنت قائلا صائما قال فلا تفعلوالاعرفن مامات منکم میت ماکنت بین اظھرکم الااذنتمونی بہ فان صلاتی علیہ رحمۃ ۔
یعنی ہم ہمراہ رقاب اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم باہر چلے جب بقیع پر پہنچے ایك قبر تازہ نظر آئی حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دریافت فرمایا : لوگوں نے عرض کی : فلاں عورت۔ حضور نے انہیں پہچانا فرمایا : مجھے کیوں خبر نہ دی عرض کی : حضور دوپہر کو آرام فرماتے تھے اورحضور کاروزہ تھا۔ فرمایا : توایسا نہ کرو جب تم میں کوئی مسلمان مرے مجھے خبر کردیاکرو کہ اس پر میرانماز پڑھنا رحمت ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ واقعہ واقعہ حضرت سکینہ رضی اللہ تعالی عنہا کا غیر ہے وہاں یہ تھا کہ اندھیری رات تھی ہمیں گوارا نہ ہوا کہ حضور کو جگائیں یہاں یہ ہے کہ دوپہر کا وقت تھا حضور آرام فرماتھےحضور کو روزہ تھا اور دونوں حدیثوں میں وہی ارشاد اقدس ہے کہ ایسا نہ کرو ہمیں اطلاع دیا کرو۔ اب خواہ یوں ہوکہ ایك واقعہ کےحضار اور تھے اور دوسرے واقعہ کے لوگوں کو اس حکم کی خبر نہ تھی خواہ یوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے اس امر کو ارشادی محض بہ نظر رحمت تامہ حضور رؤف رحیم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم خیال کیا نہ ایجابی۔ لہذا جہاں تکلیف کا خیال ہوا ادب وآرام کومقدم رکھا بہر حال ایسے وقائع ان سب وجوہ مذکور کے مورد ہیں۔ ایك بار کے فرمان سے کہ خبر دے دیا کرو باقی بار کا اطلاع اقدس ہونا ثابت نہیں ہوسکتا کما لا یخفی
لاجرم طبرانی نے حصین بن وحوح انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی :
ان طلحۃ بن البراء مرض فاتاہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعودہ فقال انی لاری طلحۃ الا قدحدث فیہ الموت فاذنونی بہ وعجلو افلم یبلغ النبی
یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ تعالی عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور یہ فرماگئے کہ اب انکا وقت آیامعلوم ہوتاہے مجھے خبر کردینا اور تجہیز میں جلدی کرنا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم محلہ بنی سالم تك نہ پہنچے تھے کہ ان کا انتقال ہوگیا اورانہوں نے رات آنے پر اپنے گھروالوں کو وصیت کردی تھی کہ جن میں مروں تو مجھے دفن کردینا اورحضور اقدس
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو نہ بلانا رات کاوقت ہے مجھے یہود سے اندیشہ ہے مباداحضور کو میرے سبب سے کوئی تکلیف پہنچے۔ ان کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا صبح نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو خبرہوئی ۔ وباﷲ التوفیق
ثم اقول : وباﷲ استعین(پھر میں اﷲ تعالی کی مدد سے کہتاہوں۔ ت)حقیقت ولایت سے قطع نظر کرکے یہاں ایك لطیف تر تقریر ہے کہ فیض قدیر سے قلب فقیر پر فائز ہوئی نماز جنازہ شفاعت ہے کما صرحت بہ الاحادیث(جیساکہ احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ ت) احمدومسلم و ابوداؤدوابن ماجہ کی حدیث میں عبداﷲ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
مامن رجل مسلم یموت فیقوم علی جنازتہ اربعون رجلا لایشرکون باﷲ شیئا الاشفعھم اﷲ فیہ ۔
جس مسلمان کے جنازے میں چالیس مسلمان نماز میں کھڑے ہوں اﷲ تعالی اس کے حق میں ان کی شفاعت قبول فرمائے۔
احمدومسلم و نسائی نے ام المومنین وانس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہما اورترمذی نے صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
مامن میت تصلی علیہ امۃ من المسلمین یبلغون مائۃ کلھم یشفعون لہ الا شفعوافیہ ۔
جس میت پر سو مسلمان نماز جنازہ میں شفیع ہوں ان کی شفاعت اس کے میں قبول ہو۔
اور مالك شفاعت صرف حضور شفیع یوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں اور جوکوئی شفاعت کرے حضور
صحیح مسلم کتاب الجنائز نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٣٠٨
صحیح مسلم کتاب الجنائز نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٣٠٨
اعطیت الشفاعۃ ۔ رواہ البخاری ومسلم والنسائی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہا فی حدیث اعطیت خمسالم یطعہن احد من الانبیاء قبلی ۔
شفاعت مجھے عطافرمادی گئی ہے۔ اسے بخاری مسلم اورنسائی نے جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ اس حدیث میں کہ مجھے پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کے انبیاء کو نہ ملیں۔
حضور شافع شفیع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذاکان یوم القیمۃ کنت امام النبین وخطیبہم وصاحب شفاعتھم غیر فخر رواہ احمد و الترمذی وابن ماجۃ والحاکم باسانید صحیحۃ عن ابی بن کعب رضی اﷲ تعالی عنہ۔
روز قیامت تمام انبیاء کا امام اوران کا خطیب اور ان کی شفاعت کا مالك ہوں اور یہ بات کچھ براہ فخر نہیں فرماتا۔ اسے امام احمد ترمذی ابن ماجہ اور حاکم نے صحیح سند وں سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
تو جوشفاعت بے اذن والا کوئی کرے وہ فضولی کا تصرف ہے کہ اذن مالك پرموقوف رہے گا۔ مالك اگر جائز کردے جائز ہوجائے گا اوراگر آپ ابتدائے تصرف کرے تو باطل
فان البات اذطرء علی موقوف ابطلہ کمانص علیہ الفقہاء فی غیرمامسئلہ۔
اس لئے کہ قطعیت والا جب کسی موقوف پر طاری ہوتو اسے باطل کردیتا ہے جیساکہ فقہا نے متعدد مسائل میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔ (ت)
مثلاعمرو ملك زید بے اذن زید بیع کردے زید خبر پاکر روارکھے رواہے اور اگر خوداز سرنو عقد بیع کرے تو ظاہرہوگا کہ عقد فضولی پر قناعت نہ کی اب عقد یہی عقد مالك ہوگا نہ عقد فضولی۔ تو صورت مذکور میں جس میت پر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خود نماز پڑھیں۔ یہ اعادہئ نماز نہ ہوگا بلکہ نماز اول یہی قرار پانی چاہئے۔ بحمداﷲ تعالی یہی معنی ہیں ہمارے بعض ائمہ کے فرمانے کے کہ نماز جنازہ کا فرض حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں بےحضور کے پڑھے ساقط نہ ہوتاتھایعنی حضورخودپڑھیں یا دوسروں کو اذن دیں
صحیح البخاری باب قول النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جعلت لی الارض مسجدا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٦٢
جامع الترمذی ابواب الجنائز امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١ / ١٢٢
جیسا کہ مال غنیمت کے ا ندر خیانت کرنے والے کے ساتھ کیا پہلے اس مدیون کے ساتھ ایسا کرتے تھے جوادائے عین کےلئے کچھ چھوڑ نہ جائے(ت)
اوراگر بے اطلاع حضور پر نور لوگ خود پڑھ لیں تووہ شفاعت بے اذن کا مالك ہے کافی ومسقط فرض نہیں۔ مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں ہے :
رأیت السیوطی ذکرفی انموذج اللبیب انہ ذکربعض الحنفیۃ ان فی عہدہ علیہ الصلوۃ والسلام لایسقط فرض الجنازۃ الابصلاتہ فیؤل الی ان صلاۃ الجنازۃ فی حقہ فرض عین وفی حق غیرہ فرض کفایۃ واﷲ ولی الہدایۃ ۔
اقول : لایؤل الیہ وکیف وقدثبت ماذکرنامن امرالغال والمدیون ولم یقل للقائل ان فرض الجنازۃ کان لایسقط عنہ الابصلاتہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ولو ارادھذالکان تقییدہ بعدہ صلی اﷲ علیہ وسلم عبثا مستغنی عنہ انما المعنی ماقررناان الفرض لم یکن یسقط عن احد فی عھدہ مالم یصل اویا ذن لکونہ ھو مالك الشفاعۃ صلی اﷲعلیہ وسلم۔
میں نے دیکھا کہ امام سیوطی نے انموذج اللبیب میں لکھا ہے کہ بعض حنفیہ نے بیان کیا کہ حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد پاك میں فرض جنازہ حضور کی نماز کے بغیر ساقط نہ ہوتا--اورخدا ہی ہدایت کا مالك ہے(ت)
اقول : یہ مآل نہ ہوگا یہ کیسے ہوسکتاہے جب وہ جو ہم نے خائن اور مدیون کا معاملہ ذکر کیا وہ ثابت ہے--اس قائل نے یہ نہیں کہا کہ حضور سے بغیر نماز حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فرض ساقط نہ ہوتا اگر اس کا مقصد یہ ہوتاتوحضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے عہد مبارك کی قید لگانے کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی مقصود وہ ہے جو ہم نے بیان کیا کہ سرکار کے عہد مبارك میں کسی سے یہ فرض ساقط نہ ہوتا جب تك حضور خود نہ پڑھیں یادوسرے کو اذن نہ دیں اس لئے کہ شفاعت کے مالك وہی ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ (ت)
وبہ ظہر ان لوثبت ان الذین صلوامن قبل ان کانواھم المصطفین خلف المصطفی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم لم یکن فیہ ماینکر بہ علی شیئ من مذھبناولاحاجۃ بناالی الجواب الذی اورد العلامۃ القسطلانی فی ارشاد الساری وارتضاہ المولی علی القاری فی المرقاۃ وذکرہ الفاضل الزرقانی فی شرح الموطا ان صلوۃ غیرہ صلی اﷲ علیہ وسلم وقعت تبعالہ صلی اﷲعلیہ وسلم وبہ انحلت بحمداﷲتعالی عقدۃ استصعبھا المحقق حیث اطلق فی الفتح واﷲ سبحانہ ولی التوفیق والفتح والحمد ﷲ رب العلمین۔
اور اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اگر یہ بھی ثابت ہوجائے کہ جولوگ جنازہ پہلے اداکرچکے تھے وہی بعد کوسرکار مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پیچھے صف بستہ تھے تو اس میں کوئی ایسی بات نہ ہوگی جو ہمارے مذہب پر گرد اعتراض بٹھاسکے---اور ہمیں اس جواب کی ضرورت نہیں جوعلامہ قسطلانی نے ارشاد الساری میں ذکر کیا اور مولانا علی قاری نے مرقاۃ میں اسے پسند کیا اورفاضل زرقانی نے شر ح موطاء میں اسے بیان کیا کہ “ دوسرے حضرات کی نمازحضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تبیعت میں تھی “ --اور اسی سے بحمد اﷲتعالی ایك اور عقدہ حل ہوگیا جسے محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں دشوار قرار دیا ہے۔ اور خدائے پاك ہی توفیق اور کشف کا مالك ہے اور ساری خوبیاں اﷲ کے لئے جو سارے جہانوں کا مالك ہے۔ (ت)
لانورث ماترکناہ صدقۃ ۔ رواہ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی عن ابی بکر صدیق وابوداؤد عن ام المؤمنین ونحوہ عن الزبیر واحمد والشیخان وابوداؤد عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔
ہمارا کوئی وارث نہ ہوگا ہم جو چھوڑ جائیں گے صدقہ ہے اسے امام احمد بخاری مسلم اورابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ سے بھی روایت کیا رضی اللہ تعالی عنہم۔
حدیث ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا میں ہے :
فاذامت فھوالی ولی الامر من بعدی ۔
جب میں انتقال فرماجاؤں تو میرے ترکے کا اختیار اسے ہے جو میرے بعد ولی امروخلیفہ ہوگا۔
رہی ولایت خلافت وہ ہنوز کسی کو نہ تھی یہاں تك صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئی اگر یہی مانئے کہ جنازہ اقدس پر نماز ہوئی تو غیروالی احق سے بے اذن ولی احق تھی ہاں یہ ثابت کیا جائے کہ صدیق اکبرنے بعد خلافت نماز ادا کی اورپھر اعادہ کی گئی مگر حاشااس کا ثبوت کہاں-- الحمداﷲ تعالی اس تقریر کے بعد فقیرغفراﷲتعالی نے مبسوط امام شمس ائمہ سرخسی سے پایا کہ بعینہ اسی جواب کی طرف اشارہ فرمایا۔ منحۃ الخالق میں مبسوط سے ہے۔
لاتعاداالصلوۃ علی المیت الاان یکون الولی ھو الذی حضر فان
نماز جنازہ دوبارہ نہیں مگر یہ کہ ولی ہی بعد میں آیا تو اسے حق اور دوسرے کو اس کا حق
سنن ابوداؤد کتاب الخراج والفیٔ آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ٦٠
اقول : وبما قررناظھرلك سقوط ماوقع ھھنافی المنحۃ فافھم وتثبت وﷲ المنۃ۔
ساقط کرنے کا اختیار نہیں---یہی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فعل کی تاویل ہے کیونکہ حق سرکار کا تھا اﷲتعالی فرماتا ہے : نبی مسلمانوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالك ہیں-- اور اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ م کے فعل کی تاویل ہے اس لئے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ معاملات درست کرنے اور فتنہ فرو کرنے میں لگے ہوئے تھے توان کی آمد سے پہلے لوگ صلوۃ پڑھتے جاتے اور حق صدیق کاتھا کیونکہ خلیفہ وہی ہوئے تو جب فارغ ہوئے سرکار کی نماز جنازہ پڑھی پھر کسی نے حضور کی نماز نہ پڑھی۔ اقول : ہماری تقریر سے وہ اعتراض ساقط ہوگیا جو یہاں منحۃ الخالق میں ہے۔ تو اسے سمجھو اورثابت قدم رہو۔ اوراحسان خداہی کا ہے (ت)
رابعا : ثبوت ہو کہ دوبارہ نماز پڑھنے والے خودو ہی ہیں جواول پڑھ چکے تھے کہ نئے لوگوں کا پڑھنا اگر چہ ولی احق کے بعد خلافیہ حنفیہ وشافعیہ ہو ان مجتہد صاحب کے مذہب وفتوی کا مصح نہیں ہوسکتا کہ انہوں نے تو پڑھ چکنے والوں کو دوبارہ پڑھوائی۔
خامسا : ہرتقدیر پر ضرور ہے کہ حدیث ہو صحیح فقہی ہو۔ مجرد وصحت حدیثی اثبات حکم کے لئے بس نہیں ہوتی مجتہد صاحب اگر علم رکھتے ہوں گے صحت حدیثی و صحت فقہی کا فرق جانتے ہوں گے ورنہ فقیر کا رسالہ الفضل الموھبی فی معنی اذااصح الحدیث فھومذھبی ملقب بہ لقب تاریخی “ اعزالنکات بجواب سوال ارکات “ جس کا سوال مقام ارکات سے آیا اس کے جواب میں لکھا گیا تھاملاحظہ فرمائیں نہ مثل حدیث تعددالصلوۃ علی سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کہ :
اولا : حدیث صحیح بخاری شریف کے صریح خلاف جس میں حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری شاہد ومشاہد مشہد احد رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی :
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان شہدائے کرام کو ویسے ہی خون آلود دفن کرنے کا حکم فرمایا اور انہیں غسل نہ دیا گیا نہ ان کی نماز ہوئی۔ اسے احمد نے سند جید کے ساتھ روایت کیا۔ ترمذی نے روایت کرکے صحیح قرار دیا۔ نسائی اورابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے(ت)
مجتہدین زمانہ کے مسلك کے بالکل خلاف ہے کہ حدیث صحیح بخاری کے رد کے لئے ادھر کی روایات پر عمل حلال جانیں۔
ثانیا : اس کی خود حالت یہ کہ اس کی کوئی سند مسند مقال سے خالی نہیں اور متن بشدت مضطرب اگر اس کی تفصیل کیجئے ایك رسالہ مستقل ہوتا ہے مجتہد صاحب کو ہوس ہوئی تو بعونہ تعالی تسکین کافی کی جائے گی وباﷲ التوفیق لاجرم ان مجتہدین تازہ کے بزرگوار ابن تیمیہ کے جد امجد نےمنتقی میں کہا :
قدرویت الصلوۃ علیہم باسانیدلاتثبت ۔
شہدائے احد کی نماز ہونا ایسی سندوں سے مروی ہے جو ثابت نہیں۔ (ت)
ہاں تو ایك اثر مرسل ابوداؤد نے مراسیل میں بسند ثقات ابومالك غفاری تابعی سے روایت کیا :
ان النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم صلی علی قتلی احد عشرۃ عشرۃ فی کل عشرۃ حمزۃ رضی اﷲتعالی عنہ حتی صلی علیہ سبعین صلوۃ ۔
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے شہدائے احد پر دس دس آدمی کرکے نماز پڑھی ہردس میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ ہوتے یہاں تك کہ ان پر ستر بار نماز پڑھی ۔ (ت)
منتقی الاخبار مع نیل الاوطار ترك الصّلٰوۃ علی الشہید مصطفی البابی مصر ٤ / ٤٨
السنن الکبرٰی کتاب الجنائز باب من زعم ان النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم علٰی احد الخ دارصادر بیروت ٤ / ١٢
ثم اقول : وباﷲ التوفیق بعدتسلیم صحت حدیث غایت درجہ جو ثابت ہوگا وہ اس قدر کہ شہداء پر نعشیں بدل کر نمازیں ہوا کیں اور نعش مبارك سیدالشہداء رضی اللہ تعالی عنہ م بدستور رکھی رہی مجرد نہ اٹھایاجانا مستلزم اعادہ صلوۃ نہیں کہ یہ امر نیت حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے علم پر موقوف اور نیت غیبت ہے اور غیبت پر اطلاع نہیں ممکن کہ ان کی نعش ہربار کے برکات نازلہ میں شمول کے لئے رکھی گئی ہو۔ ظاہر ہے کہ ایسی جگہ رویت کا مبلغ صرف صورت ظاہرہ تك ہے نہ معنی باطن تک اور مطلب مستدل کا ثبوت اسی معنی باطن پر موقوف اور اس کی دلیل نہیں تو استدلال راسا ساقط۔ ہاں اگرحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خود اپنی زبان مبارك سے ایسے بیان فرماتے تو احتجاج صحیح تھا واذالیس فلیس اورجب وہ نہیں تو یہ بھی نہیں۔ ت)
سادسا : ذرا بھی یہ ملحوظ رہے کہ وہ محل متحمل اختصاص نہ ہو خصوصا جہاں خصوص پر قرینہ قریبہ قائم ہو جیسےحدیث خادمہ مسجد رضی اللہ تعالی عنہ ماوغیرہاجن کی قبر پرحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نماز پڑھ کر وجہ خودارشاد فرمائی :
ان ھذہ القبور مملوہ علی اھلھا ظلمۃ وانی انورھا بصلوتی علیہم صلی اﷲعلیہ وسلم قدر نورہ وجمالہ وجودہ ونوالہ علیہ وعلی الہ اجمعین رواہ مسلم وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ واصل احدیث متفق علیہ۔
بیشك یہ قبریں اپنے ساکنوں پر اندھیرے سے بھری ہیں اور بیشك میں اپنی نماز سے انہیں روشن کردیتا ہوں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ اﷲ تعالی ان پردرود وسلام نازل فرمائے ان کے نو روجمال اور جودونوال کے اندازے سے اوران کی آل واصحاب سب پر۔ یہ حدیث مسلم اورابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی۔ اوراصل حدیث بخاری ومسلم کی متفق علیہ ہے۔ (ت)
زید بن ثابت ویزید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیثوں میں گزرا کہ بے میری اطلاع کے دفن نہ کردیا کرو کہ میری نماز اس کے حق میں ر حمت ہے۔
اقول : خودبنظر ایمانی گواہ ہے کہ کروڑوں صلحاء واتقیاء کسی جنازہ کی نماز پڑھیں مگر وہ بات کہاں جوحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پڑھنے میں ہے وہ برکات وہ درجات ومثوبات دوسرے کی نماز میں حاصل نہیں ہوسکتیں اور حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بہ نص قطعی قرآن عظیم عزیز علیه ما عنتم حریص علیكم بالمؤمنین رءوف رحیم(۱۲۸) ہیں کہ ہر مسلمان کی کلفت ان پر گراں ایك ایك امتی کی بھلائی پر
القرآن ٩ / ١٢٨
والدلیل علی الخصوصیت مازاد مسلم (فذکرہ قال) وھذالایتحقق فی غیرہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ۔
خصوصیت کی دلیل وہ ہے جو مسلم نے مزید روایت کیا(اس کے بعد حدیث مذکور بیان کی پھر کہا) اور یہ بات حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے میں متحقق نہیں(ت)
مرقاۃ شرح مشکوۃ میں علامہ ابن مالك سے ہے :
صلاتہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کانت لتنویر القبروذالایوجد فی صلوۃ غیرہ ۔
حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نماز قبر کو روشن کرنے کے لئے تھی اور یہ بات دوسرے کی نماز میں نہیں۔ (ت)
اقول : اس سے زائد محل خصوص خصوص واقعہ سید اہل خصائص ہے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ وہاں تو ان معاملات میں بہت باتیں خصوصیات سے واقع ہوئیں۔ نعش مبارك کا مقابر کی طرف نہ لے جانا جہاں روح اقدس نے رفیق اعلی کی طرف رجوع فرمایا خاص اس جگہ دفن ہونا نہلانے میں قمیص مقدس بدن اقدس سے نہ جدا کیا جانا سب صحابہ کے مشرف ہولینے کے لئے جنازہ مبارك کا پونے دودن رکھا رہنا۔ جنازہ اقدس پر کسی کی امامت روا نہ نہ ہونا انہیں خصوصیات میں یہ بھی سہی خصوصا جبکہ حدیث میں وارد ہے کہ یہ صورت حسب وصیت اقدس واقع ہوئی کما قدمنامن حدیث عبداﷲ رضی اﷲتعالی عنہ (جیسا کہ حضرت عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے ہم اس کو پیش کرچکے۔ ت)نماز جنازہ مسلمان کاحق مسلمان پر ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حق المسلم علی المسلم خمس ردالسلام و عیادۃ المریض واتباع الجنازۃ و
مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں() سلام کا جواب دینا()بیماری میں عیادت کرنا() جنازہ کے
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المشی بالجنازۃ والصلٰوۃ علیہا مکتبہ امدادیہ ملتان ٤ / ٥١
پیچھے ہونا() دعوت قبول کرنا() چھینك پر تحمید کا جواب دینا۔ اسےبخاری ومسلم نےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کاکیا (ت)
عام مومنین کاحق ایسا ہونا آسان کہ حضار سے بعض نے ادا کردیا اداہوگیا مگرمولائے نعمت ہردوجہاں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاحق عظیم کہ بعد حضرت حق عزوجل اعظم حقوق ہے ۔ اگر حضار پر لازم عین ہو کیا مستبعد معہذا اعظم مقاصد مہمہ سے ہر مسلمان حاضر کا بالذات اس شرف اجل واعظم سے مشرف ہونا ہے۔ ہم اوپر متعدداحادیث بیان کرچکے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ مقبول کو بعد وفات پہلا تحفہ بارگاہ عزت سے ملتاہے یہ ہے کہ جتنے لوگ اس کے جنازہ کی نماز پڑھتے ہیں اﷲ عزوجل سب کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔ نہ کہ نبی کا جنازہ نہ کہ سیدالانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والثناء کا اس کے فضل کی مقدار کون قیاس کرسکتاہے ! شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ مسلمانان کے لئے خیر محض ونفع خاص لے کر آئی ہے نہ کہ معاذاﷲ انہیں ایسے فضل عظیم سے محروم کرنا تو حکمت شرعیہ اسی کی مقتضی تھی کہ یہاں اجازت عامہ دی جائے۔ حجرہ اقدس میں جگہ کتنی اورحضارتیس ہزار کما ورد فی حدیث جیساکہ ایك حدیث میں آیا ہے۔ ت) اب اگر یہ حکم ہوتا کہ اول بار جو پڑھ لیں پڑھ لیں تو ہزار صحابہ کی محرومی دوسرے اس پر تنافس شدید واقع ہونا مظنون بلکہ یقینی جب معلوم ہوتا کہ یہاں بھی مثل تمام جنائز ایك ہی بار کی اجازت ملے گی تو ہر ایك یہ چاہتا کہ میں ہی پڑھ لوں لہذا محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاعلم عظیم وجود عمیم مقتضی ہوا کہ اپنے معاملہ میں خود فوج فوج حاضری کی وصیت فرمادی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ یہی سر جلیل جنازہ اقدس پر جنازہ نہ ہونے کی بھی ایك حکمت نفسیہ ہے تاکہ تمام حضار بالذات بلاواسطہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے شرفیاب ہوں ۔ امام اجل سہیلی یہاں امامت نہ ہونے کی وجہ فرماتے ہیں :
اخبراﷲ انہ وملئکتہ یصلون علیہ صلی اﷲ علیہ وسلم وامرکل واحدمن المومنین ان یصلی علیہ فوجب علی کل واحد ان یباشر
یعنی اﷲ عزوجل نے خبر دی کہ وہ اوراس کے فرشتےمحبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ردرود بھیجتے ہیں اور ہر مسلمان کو حکم فرمایا کہ ان پر درود بھیجے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وعلی آلہ وبارك وسلم۔ تو ہر شخص پرواجب ہوا۔
نوادرالاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل الرابع والخمسون الخ دارصادر بیروت ص٧٨
کہ محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایسے درود بھیجے کہ بلاتوسط دیگرے اس شخص کی طرف سے محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچے اللہم صل وسلم وبارك علیہ وآلہ وصحبہ وامتہ اجمعین۔ اور محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر بعد وصال شریف صلوۃ بھی اسی قبیل سے ہے۔ یعنی تواس کابھی بے وساطت احدے ہونا چاہئے۔ اسے شرح موطا میں نقل کیا۔
بالجملہ یہ محل اعلی مواطن خصوص سے ہے ولاجرم علامہ سید ابوالسعود محمدالزہری نے حواشی کنز میں فرمایا :
تکرار الصلاۃ علی النبی عیلہ الصلوۃ والسلام کان مخصوصابہ ۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر تکرار نماز ان ہی کے ساتھ مخصوص تھی۔ (ت)
سابعاپھر تنبیہ کی جاتی ہے کہ مجتہد صاحب اپنے مذہب کی فکر کریں۔ وہ واقعہ جوان کے مسلك مذکور کارد ہو مثلا مہینہ بھر بعد نماز پڑھناکما علی ام سعدجیسے ام سعد پر۔ ت)یا مہینوں برسوں پیچھے کما علی اھل البقیع(جیسے بقیع والوں پر۔ ت)یا آٹھ برس گزرے کماعلی اھل احد(جیسے احد والوں پر۔ ت) علاوہ اور جوابوں کے خودان کا رد ہوگا۔ نہ ان کی سند کہ یہاں ان سے مطالبہ اپناادعا ثابت کرنے کا ہے وانی لہ ذلك واﷲ الھادی الی اقوم المسالک(اور ان سے یہ کہاں ہوسکے گا اور خداہی راست ترین راہ کی ہدایت فرمانے والا ہے۔ ت)
الحمدﷲ! ان چند جمل نفیسہ مجملہ مختصرہ نے صرف مجتہدین زمانہ ہی کی آنکھ کان نہ کھولے بلکہ بحمداﷲتعالی بنظر انصاف دیکھئے تو مسئلہ کا فیصلہ بحث کا تصفیہ کاملہ کر دیا۔ وﷲالحمداب بتوفیق اﷲ تعالی بعضے نکات وتمسکات کے اس مسئلہ میں فیض قدیر سے قلب فقیر پر فائز ہوئے ذکر کرکے کلام ختم کروں جو بعونہ تعالی اصل مسئلہ اعنی ممانعت تکرار جنازہ میں تائید مذہب حنفیت کریں یا مسلك طریقہ مجتہد جدید کا ابطال کلی خواہ ابطال کلیت۔
فاقول : وباﷲالتوفیق وبہ الوصول الیذری التحقیق(تو میں کہتا ہوں اور توفیق خدا ہی سے ہے اور اسی کی مدد سے بلندی تحقیق تك رسائی ہے۔ ت)
اولا نماز جنازہ اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں میت کی شفاعت ہے کما قدمنا علی الحدیث(جیسا
فتح المعین فصل فی الصلٰوۃ علی االمیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٣٥٣
وھذادلیل ان استقصی ادی الی اثبات المذھب تادیۃ صریحۃ ونفی قول کل من خالف فعلیك بتطلیب الصریحۃ۔
یہ ایسی دلیل ہے کہ اگر اسکی تہ تك جائیں تو صراحۃ اثبات مذہب تك پہنچائے اور ہر مخالف کے قول کی تردید کردے تو صریح کی تلاش تمہارے ذمے ہے۔ (ت)
ثانیامسندامام احمدو سنن ابی داؤد میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتصلواصلوۃ فی یوم مرتین ۔
کوئی نماز ایك دن میں دو بار نہ پڑھو
نیز حدیث میں ہے :
لایصلی بعد صلاۃ مثلھا ۔ رواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ عن امیرالمؤمنین عمر رضی اﷲتعالی عنہ من قولہ وظاہر کلام الامام محمد انہ عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم قال الامام ابن الھمام ومحمد اعلم بذلك منا۔
کسی نماز کے بعد اس کے مثل نہ پڑھی جائے۔ اسے ابوبکر بن ابی شیبہ نے امیرالمومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کے قول کی حیثیت سے نقل کیا اورامام محمد کے ظاہر کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے۔ امام ابن الہمام فرماتے ہیں : امام محمد ہم سے زیادہ اس کا علم رکھتے ہیں(ت)
القرآن ٤ / ٨٥
مسند امام احمد بن حنبل ازعبداﷲ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دارالفکر بیروت ٢ / ١٩ ، سنن ابی داؤد باب اذاصلی فی جماعۃ ثم ادرك جماعۃ آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٨٦
مصنف ابن ابی شیبہ من کرہ ان یصلی بعدا لصلٰوۃ مثلہا ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ کراچی ٢ / ٢٠٦
ثالثا ابوبکر بن ابی شیبہ استادامام بخاری و مسلم نے روایت کی :
عن صالح مولی التوأمۃ عمن ادرك ابابکر و عمر رضی اﷲتعالی عنہما انھم کانوا اذاتضایق بھم المصلی انصرفوا ولم یصلوا علی الجنازۃ فی المسجد ۔
یعنی ابوبکرصدیق وعمر فاروق ودیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی عادت کریمہ تھی کہ جب نماز جنازہ میں مصلی تنگی کرتا اس میں گنجائش نہ پاتے واپس جاتے اور نماز جنازہ مسجد میں نہ پڑھتے۔
اقول : نماز جنازہ کے جو فضائل جلیلہ ہیں صدیق وفاروق وصحابہ رضی اﷲتعالی علیہم پر مخفی نہ تھے نہ ان سے توقع کہ ایسے فضل جلیل کے لئے تشریف بھی لائیں اور پھر باوصف قدرت اسے چھوڑ کر چلے جائیں اگر نماز جنازہ دوبارہ جائزہوتی تو تنگی مصلی کیا حرج کرتی واپس جانے کی کیاوجہ تھی۔ جب پہلے لوگ پڑھ چکے اس کے بعد دوسریجماعت فرمالیتے۔
رابعا عن عبداﷲ بن سلام لمافاتتہ الصلوۃعلی عمر رضی اﷲ تعالی عنہ قال ان سبقت بالصلوۃ فلم اسبق بالدعاء لہ ۔ ذکرہ السیدالازھری فی فتح اﷲ المعین وقد کان ھذا الحدیث فی ذکری و الاستنادبہ فی خاطری حتی رأیت الازھری تمسك بہ فاسندتہ الیہ ولم یحضرنی الان من غیرہ۔
یعنی عبداﷲ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ کو جب امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے جنازہ مبارك پر نماز میرے آنے سے پہلے ہوچکی تو کہا کہ دعا کی بندش تو نہیں میں ان کے لئے دعا کروں گا۔ اسے فتح اﷲ المعین میں سیدازہری نے ذکر کیا یہ حدیث مجھے یاد تھی اوراس سے استناد میرے ذہن میں تھا یہاں تك کہ میں نے دیکھا کہ سید ازہری نے اس سے استدلال کیاہے تو میں نے انہی کی طرف اس کی نسبت کی اور بروقت اس کاکوئی اور حوالہ میرے ذہن میں نہیں(ت)
فتح اﷲ المعین فصل فی الصلٰوۃ علی المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٣٥٣
در بعض روایات آمدہ کہ روز دیگر ابوبکر صدیق و عمر فاروق ودیگر اصاحب بخانہ علی مرتضی بجہت تعزیت آمدند شکایت کردند کہ چرا ماراخبر نہ کردی تاشرف نماز وحضوری دریافتم۔ علی مرتضی گفت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا وصیت کردہ بود کہ چوں ازدنیا بروم مرابہ شب دفن کنی تاچشم نامحرم برجنازہ من نیفتد پس بموجب وصیت وے عمل کردم۔ این ست روایت مشہور ۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ دوسرے دن حضرات ابوبکر صدیق و عمرفاروق ودیگر صحابہ حضرت علی مرتضی کے گھر تعزیت کے لئے آئے اور شکایت فرمائی کہ ہمیں خبر کیوں نہ دی کہ ہم نماز اور حاضری کا شرف حاصل کرتے علی مرتضی نے فرمایا : فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے وصیت کی تھی کہ جب میں دنیا سے جاؤں تو مجھے رات میں دفن کریں تاکہ میرے جنازے پر نامحرم کی نظر نہ پڑے تو میں نے ان کی وصیت کے مطابق عمل کیا۔ یہ ہے روایت مشہور۔ (ت)
اقول : ان روایات سے بھی روشن کہ صدیق وفاروق و عبداﷲ بن سلام ودیگر اصحاب کبار رضی اللہ تعالی عنہ م دوبارہ نماز جنازہ ناجائز جانتے ورنہ فوت ہونا کیا معنی اور شکایت وافسوس کا کیا محل۔
سادسا ابوبکربن ابی شیبہ اپنی مصنف اور امام اجل ابو جعفر طحاوی شرح معانی الآثار میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے موقوفا اور ابن عدی کامل میں بروایت ابن عباس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے راوی :
وھذاحدیث الطحاوی بطریق عمربن ایوب الموصلی عن مغیرہ بن زیاد عن عطاء بن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما فی الرجل تفجاء الجنازۃ وھوعلی غیروضوء قال یتیمم ویصلی علیھا ۔
(اور یہ امام طحاوی کی حدیث ہے جس کی سند یہ ہے عمر بن ایوب موصلی مغیرہ بن زیاد عطاء ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے۔ ت)یعنی جس شخص کے پاس ناگاہ جنازہ آجائے اور اسے وضو نہ ہو وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے۔
ابن ابی شیبہ کی روایت یہ ہے :
حدثنا عمر بن ایوب الموصلی عن مغیرۃ
(ہم سے عمر بن ایوب موصلی نے مغیرہ بن زیاد سے
شرح معانی الآثار باب ذکر الجنب والحائض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ۶۴
روایت کی انہوں نےعطاء سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے انہوں نے فرمایا۔ ت)جب تجھے نماز جنازہ کے فوت ہونے کا اندیشہ ہواور وضو نہیں تو تیمم کرکے پڑھ لے۔
ابن عدی کی حدیث یوں ہے :
عن معافی بن عمران عن مغیرۃ بن زیاد عن عطاء عن ابن عباس عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم قال اذا فجأتك الجنازۃ وانت علی غیر وضوء فتیمم ۔ قال ابن عدی ھذا مرفوع غیر محفوظ والحدیث موقوف علی ابن عباس ۔
(معافی بن عمران مغیرہ بن زیادسے وہ عطاءسے وہ ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے راوی ہیں۔ ت) یعنی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : “ جب ناگہانی تیرے سامنے جنازہ آجائے اور تجھے وضو نہ ہو تو تیمم کرلے “ (ابن عدی نے کہا یہ مرفوع غیر محفوظ ہے اور حدیث حضرت ابن عباس پر موقوف ہے۔ ت)
دارقطنی و بیہقی حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی :
انہ اتی الجنازۃ وھوعلی غیر وضوء فتیمم ثم صلی علیہا ۔
یعنی ان کے پاس ایك جنازہ آیااس وقت وضوء نہ تھا تیمم کرکے نماز میں شریك ہوگئے۔
اسی کے مثل ابن ابی شیبہ وامام طحاوی نے باسانیدکثیرہ امام حسن بصری وامام ابراہیم نخعی وابوبکر نے عکرمہ تلمیذ ابن عباس اور طحاوی نے عطاء بن ابی رباح وعامر و ابن شہاب زہری وحکم سات ائمہ تابعین سے روایت کیا اگر نماز جنازہ کی تکرار روا ہوتی تو فوت کے کیا معنی تھے اور اس کے لئے تندرست کو پانی موجود ہوتے ہوئے تیمم کیونکر جائز ہوتاحالانکہ رب جل وعلا فرماتا ہے : فلم تجدوا مآء فتیمموا
الکامل لابن عدی ترجمہ یمان بن سعید المصیصی دارالفکر بیروت ۷ / ۲۶۴۰
الکامل لابن عدی ترجمہ یمان بن سعید المصیصی دارالفکر بیروت ٧۷ / ٢٦٤۲۶۴۰
سنن دارقطنی باب الوضوء والتیمم من آنیۃ المشرکین نشر السنۃ ملتان ۱ / ۲۰۲
القرآن ۴ / ۴۳
لایقبل اﷲ صلوۃ احدکم اذاحدث حتی یتوضأ ۔ اخرجہ الشیخان وابوداؤد والترمذی عن ابوہریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔
بے وضو جب تك وضو نہ کرے خدا اس کی نماز قبول نہیں فرماتا ۔ اسےبخاری ومسلم ابوداؤد اورترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
اور خودحضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتقبل صلوۃ بغیرطھور ولاصدقۃ من غلول ۔ اخرجہ عنہ مسلم والترمذی وابن ماجۃ ۔
کوئی نماز بغیر طہارت کے اور کوئی صدقہ مال خیانت سے مقبول نہیں۔ اسے حضرت ابوہریرہ سے مسلم ترمذی اورابن ماجہ نے روایت کیا۔ (ت)
نماز جنازہ میں تعجیل شرعا نہایت درجہ مطلوب ۔ صحاح ستہ میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : اسرعوابالجنازۃ ۔ جنازہ میں جلدی کرو۔ امام احمدو ترمذی و ابن حبان وغیرہم امیرالمومنین مولا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے راوی حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلاث لاتؤخرھن الصلوۃ اذا اتت والجنازۃ اذاحضرت والایم اذاوجدت لھاکفوا ۔
تین چیزوں میں دیر نہ کرو : نماز جب اس کاوقت آجائے اور جنازہ جس وقت حاضر ہو اورزن بے شوہر جب اس کا کفو ملے۔
سنن ابی داؤد میں حصین بن وحوح انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
عجلوافانہ لاینبغی لجیفۃ مسلم ان
جلدی کروکہ مسلمان کے جنازے کو
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۱۹
صحیح مسلم کتاب الجنائز نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٣٠٧
المستدرك علی الصحیحین کتاب النکاح دارالفکر بیروت ۲ / ۱۶۲ ، جامع الترمذی ابواب الجنائز امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی۱ / ۱۲۷
روکنا نہ چاہئے۔
طبرانی بہ سند حسن عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوفرماتے سنا :
اذامات احدکم فلا تحسبوہ واسرعوابہ الی قبرہ ۔
جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے نہ روکو اور جلدی دفن کو لے جاؤ۔
ولہذا علماء فرماتے ہیں : اگر روز جمعہ پیش از جمعہ جنازہ تیار ہوگیا جماعت کثیرہ کے انتظار میں دیر نہ کریں پہلے ہی دفن کردیں۔ اس مسئلہ کا بہت لحاظ رکھنا چاہئے کہ آج کل عوام میں اس کے خلاف رائج ہے جنہیں کچھ سمجھ ہے وہ تو اسی جماعت کثیر کے انتظارمیں روکے رکھے ہیں اور نرے جہال نے اپنے جی سے اور باتیں تراشی ہیں کوئی کہتا میت بھی جمعہ کی نماز میں شریك ہوجائے کوئی کہتا ہے نماز کے بعد دفن کریں گے تو میت کو ہمیشہ جمعہ ملتا رہے گا۔ یہ سب بے اصل وخلاف مقصد شرع ہیں۔ درمختار میں ہے۔ یسرع فی جنازۃ (جنازے میں جلدی کرے۔ ت)تنویر الابصار میں ہے :
وکرہ تاخیر صلاتہ ودفنہ لیصلی علیہ جمع عظیم بعد صلوۃ الجمعۃ ۔
اس مقصد سے کہ جمعہ کے بعد جماعت عظیم شریك جنازہ ہونماز جنازہ اور دفن میں تاخیر مکروہ ہے۔ (ت)
نیز جنازے پر تکثیر جماعت شرعا بہت محبوب کہ اس میں میت کی اعانت جسیم اوراس کے لئے عفو سیئات و رفع درجات کی امید عظیم ہے چالیس نمازیوں اورسو نمازیوں کی تین حدیثیں اوپر گزریں اور احمد اورابوداؤدو ترمذی وابن ماجہ حضرت مالك بن ہبیرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ما من مومن یموت فیصلی علیہ امۃ من المسلمین یبلغون ان یکونوا ثلثۃ صفوف الا غفرلہ ۔
جس مسلمان کے جنازے پر مسلمانوں کا ایك گروہ کہ تین صف کی مقدار کو پہنچتا ہو نماز پڑھے اس کی مغفرت ہوجائے گی۔
المعجم الکبیر مروی ازعبداﷲ بن عمرحدیث ١٣٦١٣ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۲ / ۴۴۴
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۲۴
درمختار شرح تنویر الابصار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۲۴
سنن ابی داؤد باب فی الصفوف علی الجنازۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۹۵
من صلی علیہ ثلثۃ صفوف اوجب ۔
جس پر تین صفیں نماز پڑھیں اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
ابن ماجہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں۔
من صلی علیہ مائۃ من المسلمین غفرلہ ۔
جس پر سو مسلمان نماز پڑھیں بخشا جائے۔
نسائی ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مامن میت یصلی علیہ امۃ من الناس الاشفعوا فیہ ۔
جس مردے پر مسلمانوں کا ایك گروہ نماز پڑھے ا ن کی شفاعت اس کے حق میں قبول ہو۔
راوی حدیث ابو الملیح نے کہا : گروہ چالیس آدمی ہیں۔ طبرانی معجم کبیر میں عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مامن رجل یصلی علیہ الاغفراﷲ لہ ۔
جس مسلمان پر سو آدمی نماز پڑھیں اﷲ عزوجل اس کی مغفرت فرمادے۔
لہذا شریعت مطہرہ نے صرف فرضیت کفایہ پر اکتفا نہ فرمایا بلکہ نماز جنازہ میں نمازیوں کے لئے عظیم واعظم افضال الہیہ کے وعدے دئے کہ لوگ اگر نفع میت کے خیال سے جمع نہ ہوں گے اپنے فائدے کے لئے دوڑیں گے اس بارے میں چھ میں چھ حدیثیں اوپر گزریں اورصحاح ستہ میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من شھدالجنازۃ حتی یصلی علیھا فلہ
جونماز ہونے تك جنازہ میں حاضر رہے اس کے لئے
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فیمن صلی علیہ جماعۃ من المسلمین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰۸
سنن النسائی فضل من صلی علیہ مائۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ١ / ۲۸۲
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی فی الکبیر باب فیمن صلی علیہ جماعۃ دارالکتاب بیروت ۳ / ۳۶
ایك دانگ ثواب ہے اور دفن تك حاضر رہے تو دو دانگ جیسے بڑےدو پہاڑ ان میں کا چھوٹا کوہ احد کے برابر۔
اسی کے مثل مسلم وابن ماجہ نےحضرت ثوبان اورامام احمدنے بسند صحیح قیراط نماز کی حدیث حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کی اور طبرانی معجم اوسط میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اتبع جنازۃ حتی یقضی دفنھاکتب لہ ثلثۃ قراریط القیراط منھااعظم من جبل احد ۔
جو کسی جنازے کے ساتھ رہے یہاں تك کہ دفن ہوچکے اس کےلئے تین قیراط اجر لکھا جائے ہرقیراط کوہ احد سے بڑا۔
بزار کی یہاں حدیث موقوف ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ میں ہے : جو کسی جنازہ میں اہل جنازہ کے پاس تك جائے اس کے لئے ایك قیراط ہے پھر اگر جنازہ کے ساتھ تك چلے تو ایك قیراط اور ملے اور نماز پر تیسرا اور دفن پر انتظار تك چوتھا قیراط پائے۔
ابن ماجہ امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے راوی
من غسل میتا وکفنہ وحنطہ وحملہ وصلی علیہ ولم یفش علیہ مارای خرج من خطیتہ مثل ماولدتہ امہ ۔
جو کسی میت کو نہلائے کفن پہنائے خوشبو لگائے جنازہ اٹھائے نماز پڑھے اور جو ناقص بات نظر آئے اسے چھپائے وہ اپنے گناہوں سے ایساپاك ہوجائے جس دن ماں کے پیٹ سے پیداہواتھا۔
اب اگر نماز جنازہ میں تکرار کی اجازت دیتے ہیں تولوگ تسویف وکسل کی گھاٹی میں پڑیں گے۔ کہیں گے کہ جلدی کیا ہے اگر ایك نماز ہوچکی ہم دوبارہ پڑھ لیں گے اس تقدیر پر اگر لوگوں کا انتظار کیا جائے تو جنازہ کودیر ہوتی ہے اور جلدی کی جائےتو جماعت ہلکی رہتی ہے اور دونوں باتیں مقصود شرع کےخلاف لاجرم مصلحت
صحیح مسلم کتاب الجنائز نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۳۰۷
مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط باب تجہیز المیت دارالکتاب بیروت ۳ / ۲۰
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی غسل المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۰۶
لوکان العلم معلقا بالثریا لتناولہ قوم من ابناء فارس ۔ رواہ الامام احمد فی المسند وابونعیم فی الحلیۃ عن ابی ھریرۃ والشیرازی فی الالقاب عن قیس بن سعد رضی اﷲتعالی عنہما۔
علم اگر ثریا پر معلق ہوتا تو اولاد فارس سے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی لے آتے۔ اسے امام احمد نے مسند میں اورابو نعیم نے حلیہ میں حضرت ابوہریرہ سے اورشیرازی نے القاب میں حضرت قیس بن سعد سے روایت کیا۔ رضی اللہ تعالی عنہما ۔
اعنی امام الائمہ سراج الامہ کاشف الغمہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ جن کی رائے منیر ونظر بے نظیر تمام مصالح شرعیہ کو محیط وجامع اور مومنین کے لئے ان کی حیات وموت میں خیر محض ونافع
فجزاہ اﷲعن الاسلام والمسلمین کل خیر وقاہ وتابعیہ بحسن الاعتقاد کل ضروضیرامین یاارحم الراحمین والحمدﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدناومولنا محمد والہ وصحابتہ ومجتھدی ملۃ اجمعین امین!
تو خدا اسلام اور مسلمانوں کی جانب سے انہیں خیر کا صلہ دے اور انہیں اور حسن اعتقاد کے ساتھ ان کا اتباع کرنے والوں کو ہر تکلیف اور نقصان سے بچائے اور سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! قبول فرما۔ اور سب خوبیاں اﷲکے لئے جوسارے جہانوں کامالك ہے۔ اورخدائے برتر ہمارے آقا ومولاحضرت محمد ان کی آل ان کے صحابہ اور ان کے دین کے مجتہدین سب پر درود وسلام نازل فرمائے الہی ! قبول فرما!
مسئلہ نمبر۸۴ : ازشہر چاٹگام موضع چرباکلیہ مکان روشن علی مستری مرسلہ منشی محمد اسمعیل ۱۳شوال۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے جنازہ کی نماز کے مرتبہ پڑھی گئی۔ اور اول کس شخص نے پڑھائی تھیبینواتوجروا
الجواب :
صلی اﷲ تعالی علی حبیبہ والہ وبارك وسلم۔ سائل کو جواب مسئلہ سے زیادہ نافع یہ بات ہے کہ درود شریف کی جگہ جو عوام و جہال صلعم یا ع یام یا ص یا صللم لکھا کرتے ہیں محض مہمل و جہالت ہے القلم احدی اللسانین (قلم دو زبانوں میں سے ایك ہے۔ ت)جیسے زبان سے درود شریف کے عوض یہ مہمل کلمات کہنا درود کو ادا نہ کرے گا یوں ہی ان مہملات کا لکھنا درود لکھنے کاکام نہ دے گا ایسی کوتاہ قلمی سخت محرومی ہے۔ میں خوف کرتاہوں کہ کہیں ایسے لوگ فبدل الذین فبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لهم (تو ظالموں نے بدل ڈالی وہ بات جو ان سے کہی گئی تھی ۔ ت)میں نہ داخل ہوں ۔ نام پاك کے ساتھ ہمیشہ پورا درود لکھا جائے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ جنازہ اقدس پر نماز کے باب مختلف ہیں۔ ایك کے نزدیك یہ نماز معروف نہ ہوئی بلکہ لوگ گروہ در گروہ حاضر آتے اور صلوۃ وسلام عرض کرتے بعض احادیث بھی اس کی مؤید ہیں کما بیناھا فی رسالتنا النھی الحاجز عن تکرار صلوۃ الجنائز(جیساکہ انہیں ہم نے اپنے رسالہ النھی الحاجز عن تکرار صلوۃ الجنائز میں بیان کیا ہے۔ ت)اور بہت علماء یہی نماز معروف مانتے ہیں امام قاضی عیاض نے اسی کی تصحیح فرمائی۔ کما فی شرح الموطا للزرقانی(جیساکہ علامہ زرقانی کی شرح موطامیں ہے۔ ت)سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ تسکین فتن وانتظام امت میں مشغول جب تك ان کے دست حق پرست پر بیعت نہ ہوئی تھی لوگ فوج فوج آتے اور جنازہ انور پر نماز پڑھتے جاتے جب بیعت ہولی ولی شرعی صدیق ہوئے انہوں نے جنازہ مقدس پر نماز پڑھی پھر کسی نے نہ پڑھی کہ بعد صلوۃ ولی پھر اعادہ نماز جنازہ کااختیار نہیں۔ ان تمام مطالب کی تفصیل قلیل فقیر کے رسالہ مذکورہ میں ہے۔ مبسوط امام شمس الائمہ
ان ابابکر رضی اﷲ تعالی عنہ کان مشغولا بتسویۃ الامور وتسکین الفتنۃ فکانوا یصلون علیہ قبل حضورہ وکان الحق لہ لا نہ ھو الخلیفۃ فلما فرغ صلی علیہ ثم لم یصل احد بعدہ علیہ ۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ معاملات درست کرنے اور فتنہ فرو کرنے میں مشغول تھے لوگ ان کی آمد سے پہلے آکر صلوۃ پڑھتے جاتے اورحق ان کا تھا اس لئے کہ وہ خلیفہ تھے تو جب فارغ ہوئے نماز پڑھی پھر اس کے بعد نماز نہ پڑھی گئی۔ (ت)
بزار و حاکم وابن منیع وبیہقی اور طبرانی معجم اوسط میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
اذاغسلتمونی وکفنتمونی فضعونی علی سریری ثم اخرجوا عنی فان اول من یصلی علی جبرئیل ثم میکائیل ثم اسرافیل ثم ملك الموت مع جنودہ من الملئکۃ باجمعھم ثم ادخلوا علی فوجا بعد فوج فصلواعلی وسلمواتسلیما ۔
جب میرے غسل وکفن سے فارغ ہو مجھے نعش مبارك پر رکھ کر باہر چلے جاؤ۔ سب سے پہلے جبرئیل مجھ پر صلوۃ کریں گے پھر میکائیل پھر اسرافیل پھر ملك الموت اپنے سارے لشکروں کے ساتھ پھر گروہ گروہ میرے پاس حاضر ہوکر مجھ پر درود وسلام عرض کرتے جاؤ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
المستدرك علی الصحیحین کتاب المغازی دارالفکر بیروت ۳ / ۶ ، شرح الزرقانی علی موطا لامام مالك بحوالہ البزار باب ۱۴۹ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ۲ / ۶۶
کیا فرماتے ہیں علمائے احناف رحمکم اﷲتعالی کہ حنفی مذہب میں نماز جنازہ مع اولیائے میت پڑھ لئے ہوں پھر دوبارہ پڑھنا اور نماز جنازہ غائب پر پڑھنا جائز ہے یا نہیں اور اگر امام شافعی مذہب ہو تو اسکے اقتداء سے ہم حنفیوں کو یہ دونوں امر جائز ہوجائیں گے یا نہیںیہ حیلہ ہمارے مذہب میں کچھ اصل ہے یا نہیں ہمارے بلاددکن اضلاع بنگلور و مدراس میں ان مسئلوں کی اشد ضرورت ہے امید کہ عبارات عام فہم ہوں گی۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدﷲ الذی لایشفع عندہ الاباذنہ والصلوۃ والسلام علی من امربالوقوف عندحدود دینہ وعلی الہ وصحبہ قدر کمالہ وحسنہ امین ط
تمام تعریف اﷲ کے لئے جس کے حضور اس کے اذن کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں اور درود وسلام ہو ان پر جنہوں نے دین کی حدوں پررك جانے کا حکم دیا اوران کی آل واصحاب پر حضور کے حسن وکمال کے بقدر۔ الہی قبول فرما۔
نوع اول۱ : نماز جنازہ دوبارہ روا نہیں۔
(۱) درمختار میں ہے : تکرارھا غیر مشروع نماز جنازہ کی تکرار جائز نہیں۔
(۲) غنیـہ شرح منیہ میں ہے : تکرار الصلوۃ علی میت واحد غیر مشروع ایك میت پر دوبارہ نماز ناجائز ہے۔
() امام اجل مفتی الجن والانس سیدی نجم الدین عمر نسفی استاذامام اجل صاحب ہدایہ رحمہم اللہ تعالی منظومہ مبارکہ میں فرماتے ہیں :
عــــہ۱ : المراد بالولی ھھنا ھوالاحق وبغیرہ من لیس لہ الحق فاحفظ وسیأتی التفصیل منہ (م)
یہاں ولی سے مراد وہ ہے جو سب سے زیادہ حقدار ہے اورغیر ولی سے مراد وہ جس کاحق نہیں یہ ذہن نشین رہے تفصیل آگے آئیگی ۱۲منہ (ت)
عــــہ۲ : ہرنوع بعون الہی نفیس وجلیل مسائل پر مشتمل ہوگی کہ اس باب میں جن کی حاجت واقع ہوئی اور محل خلاف میں قول ارجح کی طرف بھی اجمالی اشارہ ہوگا وباﷲ التوفیق ۱۲منہ(م)
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۹
وجائز فی فعلھا التکرار وفی القبور عــــہ یدخل الاوتار
یعنی نماز جنازہ کی تکرار جائز ہونا صرف امام شافعی کا قول ہے ہمارے نزدیك جائز نہیں۔ (۴) ایضاح امام ابوالفضل کرمانی () فتاوی عالمگیریہ () جامع الرموز میں ہے : لا یصلی علی میت الامرۃ واحدۃ کسی میت پر ایك بار سے زیادہ نماز نہ پڑھی جائے۔ () علامہ سید احمد طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں : سقوط فرضھا بواحد فلواعادوا تکررت ولم تشرع مکررۃ نماز جنازہ کا فرض ایك کے پڑھنے سے ساقط ہوجاتا ہے اب اگر پڑھیں تو مکرر ہوجائے گی اور وہ مکرر مشروع نہیں۔ بحرالرائق و شامل بیہقی وغیرہما کی عبارات نوع سوم میں آتی ہیں اور حلیہ کی چہارم اورعنایہ کی دہم میں۔ () مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی()نہایہ شرح ہدایہ () منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق میں ہے : لاتعادالصلوۃ علی المیت الا ان یکون الولی ھوالذی حضرفان الحق لہ ولیس لغیرہ ولایۃ اسقاط حقہ۔ کسی میت پر دو دفعہ نماز نہ ہو ہاں اگر ولی آئے تو حق اس کا ہے اور دوسرا اس کا حق ساقط نہیں کرسکتا(۱۱) ہدایہ (۱۲) کافی شرح وافی للامام الاجل ابی البرکات النسفی(۱۳)تبیین الحقائق شرح
عــــہ : لایدخل القبر عندہ لوضع المیت الا الوتر و عندنا الوتر والشفع سواء۱۲ منہ(م)
امام شافعی کے نزدیك میت کو اتارنے کےلئے قبر میں جانے والوں کی تعداد طاق ہی ہوگی اور ہمارے نزدیك طاق اور جفت یکساں ہیں۱۲منہ(ت)
جامع الرموز فصل فی الجنائز مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱ / ۲۸۵ ، فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی الصّلٰوۃ علی المیت نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۶۳
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنائز دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۷۱
منحۃ الخالق حاشیۃ علی البحرالرائق فصل فی السلطان احق بصلوٰتہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۸۲
الفرض یتادی بالاول والتنفل بھا غیرمشروع (زادفی التبیین) ولہذا لایصلی علیہ من صلی علیہ مرۃ ۔
فرض تو پہلی نماز سے ادا ہوجاتاہے اور یہ نماز نفل کے طور پر جائز نہیں اس لئے جو ایك بار پڑھ چکا دوبارہ نہ پڑھے۔
کافی کے الفاظ یہ ہیں :
حق المیت یتادی بالفریق الاول وسقط الفرض بالصلوۃ الاولی فلو فعلہ الفریق الثانی لکان نفلا وذاغیرمشروع کمن صلی علیہ مرۃ ۔
میت کا حق پہلے فریق نے اداکردیا اور فرض کفایہ نماز اول سے ساقط ہوگیا اب اور لوگ پڑھیں تو نماز نفل ہوگی اوریہ جائز نہیں جیسے ایك بار پڑھ چکنے والے کو دوبارہ اجازت نہیں۔
(۲۰) شرح تجرید کرمانی(۲۱) فتاوی ہندیہ(۲۲) مراقی الفلاح علامہ شرنبلالی میں ہے : التنفل بصلوۃ الجنازۃ غیرمشروع نماز جنازہ بطور نفل جائز نہیں۔ (۲۳) امام محمد محمد محمد بن امیرالحاج حلیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
المذھب عنداصحابنا ان التنفل بھا غیر مشروع ۔
ہمارے اماموں کا مذہب یہ ہے کہ نماز جنازہ نفلا روا نہیں۔
(۲۴) بحرالعلوم ملك العلماء رسائل الارکان میں فرماتے ہیں :
لوصلوا لزم التنفل بصلوۃ الجنازۃ ذاغیرجائز ۔
پھر پڑھیں تو نماز جنازہ بطور نفل پڑھنی لازم آئیگی اور یہ ناجائز ہے۔
کافی
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الخامس فی الصّلٰوۃ علی المیت نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۶۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
رسائل الارکان فصل فی حکم الجنازۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۵۵
نوع سوم۳ : یہاں تك کہ اگر سب مقتدی بے طہارت یا سب کے کپڑے نجس تھے یا نجس جگہ کھڑے تھے یا عورت امام اورمرد مقتدی تھے غرض کسی وجہ سے جماعت بھر کی نماز باطل اورفقط امام کی صحیح ہوئی اب اعادہ نہیں کرسکتے کہ اکیلے امام سے فرض ساقط ہوگیا ہاں اگر قوم میں کوئی وجہ بطلان نہ تھی امام میں تھی تو پھر پڑھی جائیگی کہ جب امام کی صحیح نہ ہوئی کسی کی صحیح نہ ہوئی۔ (۲۵) خلاصہ(۲۶) بزازیہ(۲۷) محیط (۲۸) بدائع امام ملك العلماء ابو بکر مسعود کاسانی (۲۹) شامل للامام البیہقی (۳۰) تجریدللامام ابی الفضل (۳۱) مفتاح (۳۲) جواہراخلاطی(۳۳) قنیہ(۳۴) مجتبی(۳۵) شرح التنویر للعلائی(۳۶) اسمعیل مفتی دمشق تلمیذصاحب درمختار(۳۷) ردالمحتار(۳۸) ہندیہ(۳۹) بحر(۴۰) حلیہ(۴۱) رحمانیہ میں ہے۔
بعضہم یزید علی بعض والنظم للدر ام بلاطھارۃ والقوم بھا اعیدت وبعسکہ لاکمالو امت امراۃ ولو امۃ لسقوط فرضھابواحد ۔
امام طہارت سے نہ تھا اورمقتدی طہارت پر تو نماز پھیری جائے اورعکس میں نہیں جبکہ عورت امام ہو اگرچہ کنیز ہوکہ فرض ایك کے پڑھ لینے سے ساقط ہوگیا۔
محیط وبحرالرائق کے لفظ یہ ہیں :
لوکان الامام علی طہارۃ والقوم علی غیرھا لاتعادلان صلوۃ الامام صحت فلواعادوا تتکرر الصلوۃ وانہ لایجوز ۔
امام طہارت پر ہو اور مقتدی بے طہارت تو نماز نہ پھیری جائےگی کہ امام کی نماز صحیح ہوگئی۔ اب اگر پھیریں تو نمازجنازہ دوبار ہوگی اور یہ ناجائز ہے۔
شامل بیہقی کے لفظ یہ ہیں :
وان کان القوم غیرطاھر لاتعادلان الاعادۃ لا تجوز ۔
اگر مقتدی بے طہارت ہوں نما زنہ پھیریں کہ یہ نماز دوبار جائز نہیں۔
نوع چہارم۴ : جب ولی خود یا اس کے اذن سے دوسرا نماز پڑھائے یا ولی خودہی تنہا پڑھ لے تو اب
بحرالرائق فصل السلطان احق بصلٰوتہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۷۹
شامل بیہقی
(۴۲)کنزالدقائق(۴۳) وافی للامام اجل ابی البرکات النسفی (۴۴) وقایہ(۴۵) نقایہ(۴۶) غرر للعلامہ مولی خسرو(۴۷) تنویر الابصارو جامع البحار شیخ الاسلام ابی عبداﷲ محمد بن عبداﷲ الغزی(۴۸) ملتقی الابحر(۴۹) اصلاح للعلامہ ابن کمال پاشا(۵۰)فتح القدیر للامام المحقق علی الاطلاق(۵۱) شرح منیہ ابن امیر الحاج(۵۲) شرح نورالایضاح للمصنف میں ہے :
واللفظ لمتن العلامۃ ابراہیم لایصلی غیر الولی بعد صلاتہ ۔
(علامہ ابراہیم حلبی کے متن کے الفاظ یہ ہیں۔ ت) ولی کے بعد کوئی شخص نماز جنازہ نہ پڑھے۔
امام ابن الہمام کے الفاظ یہ ہیں :
ان صلی الولی ان کان وحدہ لم یجز لاحد ان یصلی بعدہ ۔
ولی اگر چہ تنہا نماز پڑھ لے اس کے بعد کسی کو پڑھنا جائز نہیں۔
یوں ہی مراقی الفلاح میں فرمایا :
لایصلی احد علیہم بعدہ وان صلی وحدہ ولی ۔
ولی اکیلا ہی پڑھ چکا جب بھی اس کے بعد کوئی نہ پڑھے۔
حلیہ کی عبارت یہ ہے :
قال علماؤنااذاصلی علی المیت من لہ ولایۃ ذلك لاتشرع الصلوۃ علیہ ثانیا لغیرہ ۔
ہمارے علماء نے فرمایا جب میت پرصاحب حق نماز پڑھ لے پھر کسی کو اس پر نماز مشروع نہیں۔
(۵۳)مختصر(۵۴) ہدایہ للامام الاجل ابی الحسن بن عبدالجلیل الفرغانی(۵۵) نافع متن مستصفی للامام ناصرالدین ابی القاسم المدنی السمرقندی(۵۶) شرح الکنز للعلامۃ ابن نجیم(۵۷) شرح الملتقی للعلامہ شیخی زادہ (۵۸) شرح النقایہ للقہستانی(۵۹) ابراہیم الحلبی علی المنیہ
فتح القدیر فصل فی الصلٰوۃ علی المیت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۸۴
مراقی الفلا ح مع حاشیہ الطحطاوی فصل السلطان احق بصلٰوتہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۲۴
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ان صلی علیہ الولی لم یجز لاحد ان یصلی بعدہ ۔
اگر جنازے پر ولی نماز پڑھ لے تو اب کسی کو پڑھنا جائز نہیں۔
غنیـہ کے لفظ یہ ہیں :
عدم جواز صلوۃ غیرالولی بعد ہ مذھبنا ۔
ولی کے بعد سب کو نماز ناجائز ہونا ہمارا مذہب ہے۔
(۶۲) مستصفی للامام النسفی(۶۳) شلبیہ علی الکنز میں ہے :
لولم یحضر السلطان وصلی الولی لیس لاحد الاعادۃ ۔
اگر سلطان حاضر نہ ہو اور ولی پڑھ لے اب کوئی اعادہ نہیں کرسکتا۔
نوع پنجم۵ : کچھ و لی کی خصوصیت نہیں۔ حاکم اسلام یا امام مسجد جامع یا امام مسجد محلہ میت کے بھی پھر دوسروں کو اجازت نہیں کہ یہ بھی صاحب حق ہیں۔ (۶۴) امام فخر الدین عثمان نے شرح کنز میں بعد مسئلہ ولی فرمایا :
وکذا بعد امام الحی وبعد کل من یتقدم علی الولی ۔
یعنی یونہی اگر مسجد محلہ میت کا امام یا سلطان وغیرہ حکام اسلام نماز جنازہ پڑھ لیں تو پھر اوروں کو نماز کی اجازت نہیں۔
(۶۵) فاتح شرح قدوری (۶۶) ذخیرۃ العقبی علی صدر الشریعۃ (۶۷)حواشی سید حموی میں ہے :
تخصیص الولی لیس بقید لانہ لوصلی
کچھ ولی کی خصوصیت نہیں بلکہ سلطان وغیرہ جو
غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۸۵
شلبی علی الکنز علٰی ھامش تبیین الحقائق باب الجنائز مطبعہ کبرٰی امیریہ مصر ۱ / ۲۳۸
تبیین الحقائق باب الجنائز مطبعہ کبرٰی امیریہ مصر ۱ / ۲۴۰
ولی سے اولی ہیں ان کے بعد کسی کو پڑھنا جائز نہیں۔
(۶۸)فتح القدیر(۶۹)فتح اﷲالمعین میں ہے :
اذامنعت الاعادۃ بصلوۃ الولی فبصلوۃ من ھومقدم علی الولی اولی ۔
جب ولی کے دوسرے کو اجازت نہیں تو سلطان وغیرہ کہ اس سے بھی مقدم ہیں ان کے بعد اجازت نہ ہونا بدرجہ اولی۔
()قہستانی علی مختصر الوقایہ میں ہے :
لایجوزان یصلی غیرالاحق بعد صلوۃ الولی و الاحق وغیرہ ۔
جو اس نماز میں صاحب حق ہیں ان میں کسی کے پڑھنے کے بعد غیر کو پڑھنا جائز نہیں۔
حلیہ کی عبارت نوع چہارم میں گزری۔
نوع ششم۶ : ولی وغیرہ ذی حق جس صورت میں اپنے حق کے لئے اعادہ کرسکتے ہیں۔ اس حال میں بھی جو پہلے پڑھ چکا ان کی نماز میں شریك نہیں ہوسکتا۔ () نورالایضاح() درمختار() بحرالرائق() قنیہ() شرح مختصرالوقایۃ للعلامۃ عبدالعلی() شرح الملتقی للعلامہ عبدالرحمن رومی() غنیـہ ذوی الاحکام للعلامۃ الشرنبلالی () شرح منظومہ ابن وہبان للعلامۃ ابن الشحنہ() خادمی علی الدررمیں ہے :
واللفظ لہ لیس لمن یصلی والاان یعید مع الولی ۔
(اور ان کے الفاظ یہ ہیں۔ ت)جو ایك بار پڑھ چکا وہ ولی کے ساتھ اعادہ نہیں کرسکتا۔
() فتح القدیر میں ہے :
ولذاقلنالم یشرع لمن صلی مرۃ
اسی لئے ہمارا مذہب ہے کہ جو ایك بار پڑھ چکا
فتح القدیر فصل فی صلوٰۃ علی المیت مکتبہ نوریہ رضویہ لکّھر ٢ / ٨٤ ، فتح اﷲ المعین بحوالہ سیّد حموی فصل فی السلطان احق بصلوٰ تہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٣٥٣
جامع الرموز فصل الجنائز مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٢٨٤
خادمی علی الدرر باب الجنائز مطبعہ عثمانیہ دارسعادت ترکی ص٩٩
اسے پھر پڑھنا جائز نہیں۔
(۸۱) شامی علی الدرمیں ہے :
لان اعادتہ تکون نفلا من کل وجہ بخلاف الولی لانہ صاحب الحق ۔
اس لئے کہ اس کا اعادہ ہر طرح نفل ہی ہوگا اور یہ جائز نہیں بخلاف ولی کے کہ صاحب حق ہے۔
نوع ہفتم۷ : جب ولی نے دوسرے کو اذن دے دیا اگرچہ آپ شریك نماز نہ ہوا یا کوئی اجنبی بے اذن ولی خود ہی پڑھ گیا مگر ولی شریك نماز ہوگیاتو ان صورتوں میں ولی بھی اعادہ نہیں کرسکتا۔
() جوہرہ میں ہے :
ان اذن الولی لغیرہ فصلی لا تجوز لہ الاعادۃ ۔
اگر ولی کے اذن سے دوسرے نے پڑھ لی تو اب ولی کو بھی اعادہ کی اجازت نہیں۔
() بحرمیں ہے :
اذن لغیرہ بالصلوۃ لاحق لہ فی الاعادۃ ۔
ولی جب دوسرے کو نماز کا اذن دے دے اب اسے اعادہ کا حق نہیں۔
() فتاوی قاضی خان () فتاوی ظہیریہ () فتاوی ولوالجیہ () واقعات () تجنیس للامام صاحب ہدایہ () فتاوی عتابیہ () فتاوی خلاصہ () عنایہ شرح ہدایہ () نہایہ اول شروح ہدایہ() منبع () عبدالحلیم رومی علی الدرر() شلبی علی زیلعی الکنز () حلیہ () برجندی () بحر () رحمانیہ () شرح علائی() ہندیہ میں ہے :
واللفظ للعنایۃ عن الولوالجی وللشلبی عن النھایۃ الولوالجی والظہیریۃ والتجنیس وللبحر عنھم وعن الواقعات رجل صلی علی جنازۃ والولی خلفہ و
(الفاظ عنایہ شلبی اوربحر کے ہیں۔ عنایہ سے والوالجی سے منقول ہے اورشلبی میں نہایہ سے اس میں ولوالجی ظہیریہ اور تجنیس سے نقل ہے۔ اوربحرمیں ان سب سے اور واقعات سے نقل
ردالمحتار باب صلوٰۃ الجنائز مصطفی البابی مصر ١ / ٦٥٢
الجوہرۃ النیرہ باب التیمم مکتبہ امدادیہ ملتان ١ / ٢٧
بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ١٥٧
ہے۔ ت)ایك شخص نے نماز پڑھائی اور ولی راضی نہ تھا لیکن شریك ہوگیا تو اب اعادہ نہ کرے گا کہ ایك بار پڑھ چکا۔
نوع ہشتم۸ : یونہی اگر سلطان وغیرہ ذی حق کہ ولی سے مقدم ہیں پڑھ لیں یا خود نہ پڑھ لیں۔ ان کے اذن سے کوئی پڑھ دے جب بھی ولی کو اختیار اعادہ نہیں۔
( تا) سے تك تمام کتب مذکورہ ()فتح القدیر()فتح المعین میں ہے :
امامن ذکرنا لفظھم انفافبالفاظ متفقۃ و الباقون بمعانی متقاربۃ وھذا لفظ الخانیۃ ان کان المصلی سلطانا اوالامام الاعظم اوالقاضی او والی مصراوامام حیہ لیس للولی ان یعید فی ظاھر الراویۃ زادالذین سقنالفظہم لانھم اولی بالصلوۃ منہ
جن کی عبارت ابھی ہم نے ذکر کی وہ بہ الفاظ متفقہ اور باقی بمعانی متقاربہ بیان کرتے ہیں اور یہاں عبارت خانیہ کی ہے۔ ت) اگر امیرالمومنین یا سلطان اسلام یاقاضی یا والی شہر یا امام مسجد محلہ نے نماز پڑھ لی تو ہمارے ائمہ سے ظاہر الروایۃ میں ولی کو بھی اعادہ کا اختیار نہیں کہ یہ لوگ اس نماز کے حق میں ولی سے مقدم ہیں۔
() غنیـہ() حلیہ () بحر () طحطاوی علی مراقی الفلاح سب کے باب تیمم میں ہے :
لوصلی من لہ حق التقدم کالسلطان ونحوہ لایکون لہ حق بالاعادۃ ۔
سلطان وغیرہ جو ولی پر مقدم ہیں ان کے پڑھ لینے کے بعد ولی کو حق اعادہ نہیں۔
کفایہ و مستخلص کی عبارت نوع دہم میں آتی ہے۔ امام عتابی نے مثل عبارت مذکورہ خانیہ ذکر کیا اور ان کی گنتی میں جو ولی پر مقدم ہیں امام مسجد جامع کو بھی بڑھایا۔ اوردرایہ پھر نہر پھر درمختاراورجوامع الفقہ اور پھر شرنبلالیہ میں تصریح فرمائی کہ اما م جامع مسجد امام محلہ پر مقدم ہے۔
فتاوٰی قاضی خان باب فی غسل المیت الخ منشی نو لکشور لکھنؤ ١ / ٩٢
بحر الرائق فصل فی السلطان احق بصلوٰتہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٨١
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص٨١
ولوصلی امام المسجد الجامع لاتعاد ۔
جامع مسجد کا امام پڑھ لے تو پھر اعادہ نہیں۔
() مجمع البحار () شرح مجمع () بحر () ردالمحتار میں ہے :
امام الحی کالسلطان فی عدم اعادۃ الولی ۔
امام محلہ بھی اس امر میں مثل سلطان ہے کہ اس کے بعد ولی کو اعادہ جائز نہیں۔
تنبیہ : امام عتابی نے ولی پر تقدیم امام میں یہ شرط لگائی کہ ولی سے افضل ہو ورنہ ولی ہی اولی ہے۔ یہ شرط شرنبلالیہ میں معراج الدرایہ اوردرمختار میں مجتبی وشرح المجمع لمصنفہ سے نقل فرمائی۔ حلیہ میں اسےعتابی سے بحوالہ شرح مجمع اورامام بقالی سے بحوالہ مجتبی نقل کرکے فرمایاوھواحسن یہ کلام عمدہ ہے۔ اسی طرح بحرالرائق میں فرمایا۔ () خانیہ () وجیزکردری() عالمگیریہ () خزانۃ المفتین میں ہے :
واللفظ للوجیز مات فی غیربلدہ فصلی علیہ غیراھلہ ثم حملہ الی منزلہ ان کانت الصلوۃ الاولی باذن الوالی اوالقاضی لاتعاد ۔
(عبارت “ وجیز “ کی ہے۔ ت)غیر شہر میں مرا اجنبی لوگوں نے نماز پڑھ لی پھر اس کے اقارب آئے اسے اس کے وطن لے آئے اگر پہلی نماز حاکم اسلام یا قاضی کے اذن سے ہوئی تھی تو اب اقارب اعادہ نہ کریں ۔
نوع نہم۹ : اگر ولی نے نمازپڑھ لی اور سلطان وحکام کہ اس سے اولی ہیں بعد کو آئے اب وہ بھی بالاتفاق اعادہ نہیں کرسکتے ہاں اگر وہ موجود تھے اوران کے بے اذن ولی نے پڑھ لی اور وہ شریك نہ ہوئے تو ایك جماعت علماء کے نزدیك انہیں اختیار اعادہ ہے۔
وھومحمل مافی الدرعن المجتبی و
یہی اس کلام کا مطلب ہے جودرمختار میں مجتبی سے
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مصطفی البابی مصر ١ / ٦٥٢
فتاوٰی بزازیہ ہامش فتاوٰی ہندیۃ الخامس والعشرون فی الجنائز نورانی کتب خانہ پشاور ٤ / ٨٠ ، فتاوٰی ہندیۃ الفصل الخامس فی الصلوٰۃ علی المیت نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٦٤
منقول ہے اورنہایہ جوہرہ پھر ہندیہ اورطحطاوی میں ہے اور عنایہ وبرجندی میں نہایہ کے حوالے سے ہے اورفاتح شرح قدوری میں ہے اورحاشیہ ابو سعید علی الدرر میں مجتبی وغیرہ سے منقول ہے۔ (ت)
اور ایك جماعت علماء کے نزدیك اب بھی سلطان وغیرہ کسی کو اختیار اعادہ نہیں معراج الدرایہ میں اسی کی تائید کی ردالمحتار میں اسی کو ترجیح دی۔ اور یہی ظاہر اطلاق متون اور ظاہرا من حیث الدلیل اقوی ہے تو حاصل یہ ٹھہرا کہ سلطان نے پڑھ لی تو و لی نہیں پڑھ سکتا ولی نے پڑھ لی تو سلطان نہیں پڑھ سکتا غرض ہر طرح اعادہ وتکرار کا دروازہ بندفرماتے ہیں : (۱۳۶) غایۃ البیان شرح الہدایہ للعلامۃ الاتقانی میں ہے :
ھذا علی سبیل العموم حتی لا تجو ز الاعادۃ لالسلطان ولا لغیرہ ۔
یعنی ولی کے بعد کسی کو نماز کی اجازت نہ ہونے کا حکم عام ہے یہاں تك کہ پھر سلطان وغیرہ کسی کو اعادہ جائز نہیں۔
()صغیری میں ہے :
ان صلی ھوفلیس لغیرہ ان یصلی بعدہ من السلطان فمن دونہ ۔
ولی پڑھ لے تو پھر کسی کو پڑھنے کا حق نہیں سلطان ہو یا اور کوئی ۔
سراج وہاج شرح قدوری میں ہے :
من صلی الولی علیہ لم یجز ان یصلی احد بعدہ سلطانا کا ن او غیرہ
ولی کے بعد کسی کو نمازجائز نہیں سلطان ہو یا اس کا غیر ۔
(و ) ابوالسعود میں نافع وغیرہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا :
اطلق فی الغیر فعم السلطان فمفادہ عدم اعادۃ السلطان بعد صلوۃ الولی وبہ
کنز میں امام ماتن نے غیرکو مطلق رکھا جو سلطان کو بھی شامل تواس کا مفادیہ ہے کہ ولی کے بعد
صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ص٢٨٩
بحرالرائق بحوالہ سراج الوہاج فصل السلطان احق بصلٰوتہٖ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٨٢
سلطان بھی اعادہ نہ کرے اوراسی پر حدادی و اتقانی ونافع نے جزم کیا۔
()مستصفی للامام النسفی() شلبی علی الکنز میں ہے :
الحق الی الاولیاء حیث قال لیس لاحد بعدہ الاعادۃ بطریق العموم سلطانا کان اوغیرہ ۔
اصل حق ولی کا ہے ولہذا ماتن یعنی صاحب الفقہ النافع نے عام فرمایا کہ ولی کے بعد کسی کو اعادہ کا اختیار نہیں سلطان ہو یا کوئی۔
(و ) ردالمحتار میں معراج الدرایہ وغیرہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا :
اذا صلی الولی فھل لمن قبلہ کالسلطان حق الاعادۃ فی السراج والمستصفی لاویدل علی ھذا قول الھدایۃ ان صلی الولی لم یجز لاحد ان یصلی بعدہ ونحوہ فی الکنز وغیرہ فقولہ لم یجزلاحدیشمل السلطان ونقل فی المعراج عن النافع عــــہ لیس للسلطان الاعاۃ ثم اید روایۃ النافع اھ ملخصا۔
کیا ولی کے بعد سلطان وغیرہ جواس سے مقدم ہیں اعادہ کا حق رکھتے ہیں سراج و مستصفی میں منع فرمایا۔ اور ہدایہ کاقول اس پر دلیل ہے کہ فرمایا ولی کے بعد کسی کو جائزنہیں اور یونہی کنزوغیرہ میں ہے کسی میں سلطان بھی آگیا اور معراج میں منافع سے سلطان کومنع اعادہ نقل کرکے اس کی تائید فرمائی۔
عــــہ : المنافع ھذاھوالمستصفی للامام اجل ابی البرکات النسفی شرح الفقہ النافع الشہیر بالنافع للامام ناصرالدین ابی القاسم المدنی السمرقندی وقد قال رحمہ اﷲ تعالی فی اخرکتابہ المصفی شرح المنظومۃ النسفیۃ
منافع یہی امام اجل ابوالبرکات نسفی کی مستصفی ہے جوامام ناصرالدین ابولقاسم مدنی سمرقندی کی کتاب “ الفقہ النافع “ مشہور بہ “ نافع “ کی شرح ہے۔ امام نسفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنی کتاب “ المصفی شرح منظومہ نسفیۃ “ کے آخر میں لکھا ہے کہ : جب میں(باقی اگلے صفحہ پر)
شلبی علی الکنز علی ہامش تبیین الحقائق فصل السلطان احق بصلوٰتہ ٖ مطبعۃ کبرٰی امیریہ مصر ١ / ٢٣٨
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مطبعۃ کبرٰی امیریہ مصر ١ / ٩٢-٥٩١
صلی الولی ثم جاء المقدم علیہ فلیس لہ الاعادۃ ۔
ولی پڑھ چکا پھر سلطان وغیرہ وہ لوگ آئے جو ولی پر مقدم ہیں انہیں اعادہ کا اختیار نہیں۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لما فرغت من جمع المنافع واملائہ وھوالمستصفی سألنی بعض اخوانی ان اجمع للمنظومۃ شرحا مشتملا علی الدقائق فشرحتہا وسمیتہ المصفی فظھران المستصفی والمنافع شیئ واحد وھوشرح النافع والمصفی غیرہ وھوشرح المنظومۃ فلیس عین المستصفی ولا اختصارہ ولا المستصفی شرح المنظومۃ وقد وقع ھھناغلط من العلامۃ الکاتبی فی کشف الظنون فتنبہ ومن اشد العجب ان استدل ماادعاہ من المستصفی شرح المنظومۃ وان المصفی اختصارہ بمامرمن کلامہ رحمہ اﷲتعالی فی اخرالمصفی مع انہ شاھد باعلی نداء علی نقیض ماادعاہ ثم اعاد ذکرالمستصفی فی النافع فجعلہ شرحہ علی الصواب وذکر قیلا انہ المصفی ولیس بالصواب فاعلم منہ (م)
منافع –وہی مستصفی ہے --کی تالیف واملاسے فارغ ہواتو بعض عزیزوں نے مجھ سے چاہا کہ منظومہ کی ایك ایسی شرح لکھ دوں جو اس کے دقائق کے بیان پر مشتمل ہو تو میں نے منظومہ کی شرح لکھی اوراس کا نام “ مصفی “ رکھا--اس عبارت سے واضح ہے کہ مستصفی اور منافع ایك ہی ہیں اور یہ “ نافع “ کی شرح ہے اورمصفی دوسری کتاب ہے وہ منظومہ کی شرح ہے بعینہ مستصفی یاا س کا اختصار نہیں ہے۔ نہ ہی مستصفی منظومہ کی شرح ہے۔ --یہاں کشف الظنون میں علامہ کاتبی سے غلطی ہوگئی ہے اس لئے متنبہ رہنا چاہئے--انہوں نے یہ لکھ دیا کہ مستصفی منظومہ کی شرح ہے اور مصفی اس کا (مستصفی کا)اختصار ہے اور سخت حیرت کی بات یہ ہے کہ اس دعوے کی دلیل میں انہوں نے آخر مصفی کی یہی عبارت پیش کی ہے جو ابھی ذکر ہوئی حالانکہ وہ بہ آواز بلند ان کے دعوے کے خلاف شہادت دے رہی ہے--اس کے بعد “ النافع “ کے تحت کاتبی نے مستصفے کو دوبارہ ذکر کیا وہاں بجاطور پر اس کی شرح بتایا اور ایك ضعیف قول کا ذکر کیا کہ وہ مصفے ہی ہے اور یہ درست نہیں-- تو یہ معلوم رہے(ت)
اقول : کیف ماکان الامر فالذی یقول باعادۃ السلطان انما یقول اذاحضروتقدم الولی بلااذنہ قال فی الحلیۃ فی تصویر ھذا الخلاف صلی الولی والسلطان اوامام الحی ومن بینھما حاضر ولم یتابعہ الخ وکذلك قید فی النافع بقولہ ان حضرقال فی شرحہ المستصفی انماقدم السلطان بعارض ولہذا قال ان حضر اھ وفی المجتبی صلی الولی لم یجزان یصلی احد بعدہ
اسی سے صاحب بحر نے تطبیق دینا چاہا ہے انہوں نے نہایہ وغیرہ کی عبارت کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب سلطان کے موجود ہوتے ہوئے اس کی اجازت کے بغیر ولی پڑھادے- اورسراج و مستصفی کے کلام کو اس صورت پر محمول کیاہے جب ولی انکی غیر موجودگی میں پڑھادے بعد میں وہ آجائیں--صاحب نہر نے اس پراعتراض کیا ہے کہ کلمات علماء اس بارے میں متفق ہیں کہ سلطان وغیرہ کو ولی پر حق تقدم اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ موجود ہوں تو اختلاف موجودگی ہی کی صورت میں ہوگا۔
اقول : جیسابھی ہو جوسلطان کے لئے دوبارہ پڑھنے کا حق مانتا ہے وہ یہی کہتا ہے کہ جب سلطان موجود ہو اور ولی اس کی اجازت کے بغیر پڑھادے تو وہ پھر پڑھ سکتا ہے --حلیہ میں اس اختلاف کی صورت یوں پیش کی ہے “ ولی نے نماز پڑھائی اور سلطان یا امام محلہ یا وہ جن کا درجہ ان کے مابین ہے موجود ہیں اور انہوں نے ولی کی متابعت نہ کی “ الخ۔ اسی طرح “ نافع “ میں یہ قید لگائی ہےکہ “ اگر وہ موجود ہو “ ۔ اس کی شرح مستصفے میں فرمایا : سلطان کو تقدم عارض کی وجہ سے ہے : اسی لئے فرمایا “ اگر وہ موجود ہو “ اھ مجتبی میں ہے ولی نے پڑھ لی تو اس کے بعد کوئی نہیں پڑھ سکتا
المستصفٰی شرح الفقہ النافع للنسفی
یہ اس صورت میں ہے جب سلطان موجود نہ ہو اگراس کی موجودگی میں ولی پڑھ لے تو وہ پھر پڑھ سکتاہے اھ-- اسی کے مثل فاتح شرح قدوری میں ہے-- درمختارمیں ہے : اگر ولی نے مثلا سلطان کی موجودگی میں پڑھ لیا تو سلطان دوبارہ پڑھ سکتاہے اھ معراج اورحاوی میں مجتبی کے حوالے سے ہے : سلطان کوحق اعادہ حاصل ہے اگر ولی اس کی موجودگی میں پڑھ لے اھ -- حاشیہ طحطاوی علی المراقی میں ہے : ولی نے نماز پڑھ لی اور سلطان چاہتاہے کہ وہ بھی پڑھے تو اسے اس کا حق حاصل ہے جوہرہ-- یعنی جب سلطان وقت نماز موجود رہا ہو اور ولی کے ساتھ نہ پڑھا نہ ہی اجازت دی ہو اس لئے کہ عبارات علماء اس بارے میں متفق ہیں کہ سلطان کو غیر موجودگی کی حالت میں کوئی حق نہیں نہر اھ --اس سے واضح ہے کہ وہ کلام ساقط الاعتبار ہے جوعبدالحلیم رومی کے قلم سے حاشیہ دررمیں درج ہوا کہ سلطان کی غیر موجودگی میں اس سے کم درجہ والے نے جنازہ پڑھ لیا پھر سلطان آیا تو اگر وہ چاہے توپھر پڑھ سکتا ہے اھ۔ ا س سے آگاہ رہنا چاہئے اور توفیق خدا ہی سے ہے(ت)
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٣
المعراج
طحطاوی علی المراقی فصل فی السلطان احق بصلوتہٖ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٣٢٤
حاشیۃ الدرر علی الغرر عبدالحلیم باب الجنائز مطبعہ عثمانیہ ترکی ١ / ١٠٨
واللفظ للاصلاح و الوقایۃ ھولمحدث وجنب وحائض ونفساء عجزواعن الماء لخوف فوت صلوۃ الجنازۃ لغیر الولی اھ مثلہ فی الغرر غیرانہ قال لغیرالاولی ۔
(اصلاح اوروقایہ میں ہے۔ ت) مرد یا عورت جسے وضو یا غسل کی حاجت ہو اوراس میں نماز جنازہ فوت ہوجانے کا خوف کریں ان کو تیمم جائز ہے سوا اس کے جو اس نماز کا احق ہوکہ اسے خوف فوت نہیں۔ اور اسی طرح غرر میں ہے مگر وہاں غیرولی کی بجائے غیر اولی کہا۔ (ت)
مختصر وقایہ کے لفظ یہ ہیں :
مایفوت لاالی خلف کصلوۃ الجنازۃ لغیر الولی ۔
جواز تیمم کے عذروں سے ہے ایسے واجب کا فوت جس کا بدل نہ ہوسکے جیسے غیروالی کے لئے نماز جنازہ۔
غررالاحکام مع شرح الدررالحکام باب التیمم مطبعہ احمد کامل الکائنۃ فی دارالسعادت بیروت ١ / ٢٩ ، ٣٠
غررالاحکام مع شرح الدررالحکام باب التیمم مطبعہ احمد کامل الکائنۃ فی دارالسعادت بیروت ۱ ١ / ٢٩ ۲۹ ، ٣٠۳۰
النقایۃ مختصر وقایۃ فصل التیمم نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٦
لایجوز التیمم لمن ینتظرہ الناس فلو لم ینتظروہ اجزاہ ۔
جس کا انتظار ہوگا یعنی ولی و اولی اسے تیمم جائز نہیں اور جس کا انتظار نہ ہوگا یعنی غیر اولی اسے تیمم جائز ہے۔
() طحطاوی علی الدر میں ہے : یعتبر الخوف بغلبۃ الظن خوف فوت میں غالب گمان کا اعتبار ہے() امام اجل طحاوی شرح معانی الآثار میں فرماتے ہیں :
قد رخص فی التیمم فی الامصار خوف فوت الصلوۃ علی الجنازۃ وفی صلوۃ العیدین لان ذلك اذا فات لم یقض ۔
نماز جنازہ یا عید فوت ہونے کے خوف سے پانی ہوتے ہوئے شہروں میں تیمم کی اجازت ہے اس لئے کہ ان دونوں نمازوں کی قضا نہیں۔
(۱۶۳) ہدایہ(۱۶۴) مجمع الانہرمیں ہے : لانہ لاتقضی فیتحقق العجز
اس لئے کہ نماز جنازہ کی قضا نہیں تو پانی سے عجز ثابت ہوا۔
(۱۶۵) حلیہ (۱۶۶) برجندی (۱۶۷) مراقی الفلاح(۱۶۸) فتاوی خیریہ میں ہے :
انھا تفوت بلاخلف (زادالبرجندی) بالنسبۃ الی غیرالولی ۔
نماز ہوچکے تو غیرولی کے لئے اس کا بدل نہیں۔
(۱۶۹) کافی میں دونوں لفظ جمع فرمائے کہ :
صلوۃ الجنازۃ والعیدتفوتان لا الی بدل لانھما لاتقضیان فیتحقق العجز ۔
نماز جنازہ وعید فوت ہوجائیں تو ان کا بدل نہیں کہ وہ قضا نہیں کی جاتیں تو پانی سے عجز ثابت ہوا۔
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر باب التیمم دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۲۹
طحاوی شرح معانی الآثار باب ذکر الجنب والحائض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۴
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب التیمم داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٤١
شرح النقایہ للبرجندی باب التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۶ ، مراقی الفلاح علی ہامش الطحطاوی باب التیمم نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۶۳
کافی شرح وافی
کل مایفوت لا الی بدل جاز ادائہ بالتیمم مع وجود الماء وصلوۃ الجنازۃ عندناکذلك لانھا لاتعاد ۔
ہر واجب کہ فوت پر بدل نہ رکھتا ہو پانی ہوتے ہوئے اسے تیمم سے اداکرسکتے ہیں اور نماز جنازہ ہمارے نزدیك ایسی ہی ہے کہ وہ دوبارہ نہیں ہوسکتی۔
(۱۷۱) تبیین(۱۷۲) ارکان میں ہے :
صلوۃ الجنازۃ تفوت لاالی خلف فصار الماء معدوما بالنبسۃ الیھا ۔
نماز جنازہ کا بدل نہیں تو اسکے لئے پانی معدوم ٹھہرا۔
(۱۷۳) ظہیریہ(۱۷۴) عالمگیریہ(۱۷۵) سراجیہ(۱۷۶) شرح نورالایضاح(۱۷۷) درمختار(۱۷۸) رحمانیہ میں ہے :
والنظم للدر ولوجنبااوحائضا ۔
اس کے لئے جنب و حائض کو بھی تیمم روا--اور یہ مسئلہ وقایہ واصلاح وغررسے واضح تر گزرا۔
(۱۷۹) بحر(۱۸۰) ہندیہ(۱۸۱) طحطاوی علی المراقی(۱۸۲) حلیہ(۱۸۳)غنیـہ میں ہے :
واللفظ للبحر یجوز التیمم للولی اذا کان من ھومقدم علیہ حاضرا اتفاقالانہ یخاف الفوت ۔
سلطان وحکام کہ ولی سے مقدم ہیں وہ حاضر ہوں تو ولی کو بھی تیمم جائز ہے کہ اب اسے بھی خوف فوت ہوسکتا ہے۔
(۱۸۴) جوہرہ(۱۸۵) بحر(۱۸۶) عالمگیریہ میں ہے :
واللفظ لھذین یجوز للولی اذا اذن لغیرہ بالصلوۃ ولایجوز لمن امرہ الولی کذا فی الخلاصۃ ۔
(ان دونوں کے الفاظ ہیں کہ۔ ت) ولی دوسرے کو اذن نماز دے دے جب بھی اسے تیمم روا ہے (کہ اب اسے خوف فوت ہوگیا) اور جسے ولی نے اذن دیا اب اسے تیمم جائز نہیں جیساکہ خلاصہ میں تصریح فرمائی(کہ اب اسے خوف فوت نہیں)
تبیین الحقائق شر ح کنزالدقائق باب التیمم مطبعۃ کبرٰی امیریۃ مصر ١ / ٤٢
درمختار باب التیمم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۲
بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۸
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۱
تیمم فی المصر وصلی علی جنازۃ ثم اتی باخری فان کان بینھما مدۃ یقدر علی الوضوء (قال فی الدرثم زال تمکنہ)یعید التیمم وان لم یقدرصلی بذلك التیمم اھ قال فی الدربہ یفتی اھ قال فی المضمرات والجواھر والھندیۃ علیہ الفتوی ۔
پانی ہوتے ہوئے بخوف فوت تیمم سے نماز جنازہ پڑھی اب دوسرا جنازہ آیا اگر بیچ میں اتنی مہلت پائی تھی کہ وضو کرلیتا اورنہ کیا اب وضو کرے تو یہ دوسرا جنازہ فوت ہوتو اس صورت میں دوبارہ تیمم کرے اور مہلت نہ پائی تھی تو اسی پہلے تیمم سے یہ بھی پڑھے اسی پر فتوی ہے۔
(۱۹۵) برہان شرح مواہب الرحمن(۱۹۶) شرح نظم الکنز للعلامۃ المقدسی(۱۹۷) حاشیہ علامہ نوح آفندی(۱۹۸) حاشیہ علامہ ابن عابدین میں ہے :
مجرد الکراھۃ لایقتضی العجز المقتضی لجواز التیمم لانھا لیست اقوی من فوات الجمعۃ و الوقتیۃ مع عدم جوازہ لہما ۔
یعنی صرف کراہت کے سبب تیمم کی اجازت نہیں کہ جمعہ یا پنجگانہ فوت ہونے کے خوف سے تیمم کی اجازت نہیں
یہ اس سے زائد تو نہ ہوگی بلکہ اجازت اس لئے ہے کہ جنازہ فوت ہو تو بدل ناممکن ہے۔
تنبیہ : ماذکرنامن عدم جوازہ للولی نسبوہ لروایۃ الحسن عن الامام الاعظم وعزاہ فی الجوہرۃ للنوادر وصححہ فی الھدایۃ والخانیۃ والکافی والتبیین وکذانقل تصحیحہ فی الجوھرۃ والہندیۃ والمستخلص والمراقی وعلیہ مشی فی الخلاصۃ و العنایۃ والمنیۃ والھندیۃ
تنبیہ : ہم نے جو ذکر کیا کہ ولی کے لئے تیمم جائز نہیں اسے علماء نے امام اعظم سے حسن بن زیاد کی روایت بتایا ہے اور جوہرہ میں اسے روایت نوارد کہا ہے۔ ہدایہ خانیہ کافی اور تبیین میں اسی حکم کوصحیح کہا اسی طرح جوہرہ ہندیہ مستخلص
ردالمحتار باب التیمم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۶۱
اقول : فماوقع فی ابن کمال پاشا من نسبۃ تصحیح خلافہ لشمس الائمۃ وتبعہ عبد الحلیم علی الدرر و الشامی علی الدرفکانہ سبق نظر۔ قالوا وفی ظاھرالروایۃ یجوز للولی ایضا لان الانتظار فیھا مکروہ وجوابہ ما نقلنا انفاعن البرھان فمابعدہ وعزاہ فی الخلاصۃ للاصل الفتاوی الصغیری وعلیہ مشی فی الظہیریۃ و خزانۃ المفتین وصححہ فی جواہر الاخلاطی و عزا تصحیحہ فی عبدالحلیم لخواہر زادہ فی الرحمانیۃ لحاشیۃ شیخ الاسلام عن النصاب و الغیاثیۃ وفتاوی الغرائب والظھیریۃ۔
اورمراقی میں اس کی تصحیح نقل کی اسی پر خلاصہ عنایہ منیہ ہندیہ کافی درر مجتبی اور جامع الرموز میں مشی کی اورصدر شہید نے فرمایا “ بہ ناخذ “ (ہم اسی کو لیتے ہیں)جیسا کہ خلاصہ میں ہے۔ اسی طرح شمس الائمہ حلوانی نے اس کو صحیح کہا جیسا کہ غیاثیہ میں صدرشہیدکی منتقی اورغنیـہ میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے۔
اقول : توعلامہ ابن کمال پاشاسے جواس کے خلاف کی تصحیح کا انتساب شمس الائمہ کی طرف ہوا اورحاشیہ دررمیں عبدالحلیم رومی نے اورحاشیہ درمختار میں علامہ شامی نے اس کی پیروی کی گویا یہ سبقت نظر ہے۔ علماء نے کہا : ظاہر الروایۃ میں ولی کے لئے بھی تیمم جائز ہے اس لئے کہ جنازہ میں انتظار مکروہ ہے۔ اس کا جواب وہ ہے جو ابھی ہم نے برہان اور اس کے بعد ذکر شدہ کتابوں سے نقل کیا۔ اور اسے (ولی کے لئے جواز تیمم کو)خلاصہ میں اصل(مبسوط)اور فتاوی صغری کے حوالے سے بیان کیااور اسی پرظہیریہ و خزانۃ المفتین میں مشی کی اور جواہرالاخلاطی میں اسے صحیح کہااور حاشیہ عبدالحلیم میں اس کی تصحیح خواہر زادہ کی طرف اور رحمانیہ میں نصاب غیاثیہ فتاوی غرائب اور ظہیریہ کے حوالے سے حاشیہ شیخ الاسلام کی طرف منسوب کی
اقول : ولقد کان احسن توفیقا لولاان نص الاصل والصغری سواء کان اقول لیکن غیاثیہ میں جو میں نے دیکھا وہ جیساکہ میں نے پہلے ذکر کیا یہی ہے کہ حلوانی نے فرمایا صحیح روایت حسن ہے اور ہم اسی پر فتوی دیتے ہیں اھ۔ تو ہوسکتا ہے یہ عین مہملہ پھرتاے قرشت پھر ایك نقطے والی ب سے “ عتابیہ “ ہو۔
اقول : ہم جواز تیمم سے استثنائے ولی کی تصریح مختصر قدوری بدایہ وقایہ نقایہ اصلاح وافی غرر اور ہدایہ کے حوالے سے پیش کرآئے اور صرف اندیشہ فوت کے وقت اجازت تیمم ہونے کو کتب مذکورہ اورطحاوی کنز تنویر ملتقی اور نورالایضاح کے حوالے سے بیان کیا--یہ سب متون مذہب ہیں جن پر اعتماد ہے اور جونقل مذہب کے لئے ہی لکھے گئے ہیں تو کم سے کم اتناضرور ہے کہ یہ (ولی کےلئے عدم جواز تیمم) بھی ظاہرالروایۃ ہوگا--اس پر جلیل القدر علماء کی تصحیحات بھی مجتمع ہیں اس میں دلیل کی جو قوت ہے وہ بھی عیاں ہے تو اسی پر اعتماد ضروری ہے۔ حلیہ میں تطبیق کی جانب اشارہ کیا ہے کہ ولی کے لئے عدم جواز اس وقت ہے جب اس سے زیادہ تقدم رکھنے والا موجود نہ ہو اور جواز اس وقت ہے جب اس پر تقدم والا موجود ہو--اسی کی طرف غنیـہ اوربحر کی عبارتوں میں بھی اشارہ ملتا ہے۔
اقول : یہ بہت عمدہ تطبیق تھی اگرمبسوط اورصغری کی یہ تصریح نہ ہوتی کہ خواہ وہ مقتدی ہو یا
امام اور ظہیریہ و خزانہ کی یہ تصریح کہ اگر وہ امام ہو اور جواہر کی یہ تصریح کہ مقتدی ہویاامام یا وہ ہو جسے اس پر حق تقدم ہے اورنصاب کی یہ تصریح کہ تیمم جائز ہے امام کے لئے اور اس کے لئے جسے حق نماز ہے--تو صحیح یہ ہےکہ خلاف باقی رکھا جائے اورتحقیق یہ کی جائے کہ حق یہ تفصیل ہے(یعنی ولی کے لئے جواز جب اس سے زیادہ تقدم والا ہو ورنہ نہیں) اورخدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے۔
نوع یاز دہم۱۱ : (۱۹۹) ہدایہ(۲۰۰) کافی(۲۰۱) تبیین(۲۰۲) فتح القدیر(۲۰۳) غنیـہ(۲۰۴) سراج وہاج(۲۰۵) امداد الفتاح (۲۰۶) مستخلص (۲۰۷) طحطاوی علی المراقی :
واللفظ للفتح ترك الناس عن اخرھم الصلوۃ علی قبرالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولوکان مشروعالمااعرض الخلق کلھم من العلماء ولاالصالحین والراغبین فی التقرب الیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بانواع الطرق عنہ فھذادلیل ظاھر علیہ فوجب اعتبارہ ۔
(فتح کے الفاظ ہیں۔ ت) تمام جہان کے مسلمانوں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مزار اقدس پر نماز چھوڑ دی۔ اگر یہ نماز بطور نفل جائز ہوتی تو مزار انور پر نمازسے تمام مسلمان اعراض نہ کرتے جن میں علماء اور صلحاء وہ بندے جو طرح طرح سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں تقرب حاصل کرنے کی رغبت رکھتے ہیں تو یہ نماز جنازہ کی تکرار ناجائز ہونے پر کھلی دلیل ہے جس کا اعتبار لازم۔
حاشیہ نورالایضاح کے لفظ سراج و غنیـہ و امداد سے یوں ہیں :
والایصلی علی قبرہ الشریف الی یوم القیمۃ لبقائہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کمادفن طریا بل ھو حی یرزق ویتنعم لسائر الملاذ والعبادات وکذا سائر الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وقد اجتمعت
اس نماز کی تکرار جائز ہوتی تو مزار اقدس پر قیامت تك پڑھی جاتی کہ حضور ہمیشہ ویسے ہی تروتازہ ہیں جیسے وقت دفن مبارك تھے بلکہ وہ زندہ ہیں روزی دئےجاتے ہیں اورتمام لذتوں اور عبادتوں کے ناز و نعم میں ہیں اورایسے ہی باقی انبیا علیہم الصلوۃ
والثناء حالانکہ تمام امت نے اس نماز کے ترك پر اجماع کیا۔
النھی الحاجز میں چالیس کتابوں کی اکاون عبارتیں تھیں یہ پچاسی۸۵کتب متون وشرو ح وفتاوی کی دو سو سات۲۰۷ عبارات ہیں۔ غرض صورت مذکورہ استثناء کے سوا نماز جنازہ کی تکرار ناجائز وگناہ ہونے پر مذہب حنفی کا اجماع قطعی ہے اور اس کا مخالف مخالف مذہب حنفی ہے۔ بعض نام کے حنفی برائےجہالت یا مغالطہ عوام ان تمام روشن وقاہر تصریحات مذہب کو چھوڑ کر یہاں دوکتب تاریخ تصنیف شافعیہ سے سند لیتے ہیں :
اول : تبییض الصحیفہ امام جلال الدین سیوطی شافعی میں ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے جنازہ مبارك پر چھ دفعہ نماز ہوئی اور کثرت ازدحام خلائق سے عصر تك ان کےدفن پر قدرت نہ پائی۔
دوم : سیرالنبلا شمس الدین ذہبی شافعی میں ہے کہ شیخ تاج الدین ابوالیمن زید بن حسن کندی حنفی نے ۶شوال ۶۱۳ھ میں وفات پائی۔ قاضی القضاۃجمال ابن الحرستانی نے نمازپڑھائی پھر شیخ الحنفیہ جمال الدین حصیری نے باب الفرادیس میں پھرشیخ موفق الدین شیخ الحنبلیہ نے پہاڑ میں یعنی جبل قاسیون کوہ دمشق میں۔
اولا : جمیع کتب مذہب کے صریح خلاف میں دو کتاب تاریخ پر کیسی جہالت شدیدہ ہے۔
ثانیا : دنیا میں صرف حنفی ہی مذہب کے لوگ نہیں خصوصا پہلی صدیوں میں کہ خود مجتہدین بکثرت تھے اور ہر ایك کےلئے اتباع تھے۔ اس حکایت میں یہ کہاں ہے کہ حنفیہ نے چھ۶بار پڑھی بلکہ ہجوم خلائق تھا ہرمسلك ہرمذہب کے لوگ جوق درجوق آتے تھے غیر حنفیہ نے اگر سوبار پڑھی تو حنفی مذہب میں اس کی کیا حجت ہوسکتی ہے اﷲاکبر! امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ وہ عظیم الشان جلیل البرہان امام ہیں کہ مستقل مجتہد مطلق سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ نے جب اس امام الائمہ سراج الامہ کے مزار پرانوار کے پاس نمازصبح پڑھائی بسم اﷲ آواز سے نہ پڑھی نہ رفع یدین کیا نہ قنوت پڑھی کسی نے سبب پوچھا فرمایا : ان صاحب قبر کے ادب سے کما فی الخیرات الحسان للامام ابن حجرالمکی الشافعی(جیساکہ خیرات الحسان للامام ابن حجر مکی شافعی میں ہے۔ ت) اور ایك روایت میں ہے مجھے حیا آئی کہ اس امام جلیل کے سامنے اس کا خلاف کروں کما فی المسلك المتقسط للمولی علی قاری(جیساکہ المسلك المتقسط للمولی علی قاری میں ہے۔ ت) سبحان اﷲ مجتہد مستقل تو ادب امام سے حضورامام میں اتباع امام اختیار کریں اور خود حنفیہ خاص جنازہ امام پر مخالفت امام و
ثالثا : پہلی نمازیں غیرولی نے پڑھیں تو ولی کو اختیار اعادہ تھا کہ امام کے ولی صاحبزادہ جلیل حضرت سیدنا حماد ابن ابی حنیفہ تھے جب انہوں نے پڑھی پھر جنازہ مبارك پر کسی نے نہ پڑھی۔ امام ابن حجر مکی خیرات الحسان میں فرماتے ہیں :
مافرغوا من غسلہ الا وقد اجتمع من اھل بغداد خلق لایحصیھم الا اﷲتعالی کانہم نودی لہم بموتہ وحرز من صلی علیہ فقیل : بلغواخمسین الفا وقیل : اکثر واعیدت الصلوۃ علیہ ستۃ مرات اخرھا ابنہ حماد ۔
ادھر امام ابوحنیفہ کے غسل سے فارغ ہوئے تھے کہ ادھر بغداد کی اتنی خلقت جمع ہوگئی جس کا شمار خداہی جانتاہے گویا کسی نے انتقال امام کی خبر پکار دی تھی نماز پڑھنے والوں کا اندازہ کیاگیا تو کوئی کہتا پچاس ہزار تھے کوئی کہتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ تھے اوران پر چھ بار نماز ہوئی۔ آخر مرتبہ صاحبزہ امام حضرت حماد نے پڑھی ۔
رابعا : یوں ہی واقعہ دوم میں کیاثبوت ہے کہ پہلی نماز باذن ولی تھی بلکہ ظاہر یہی ہے کہ نمازدوم ہی باذن ولی ہوئی کہ جنازہ ایك عالم حنفی کا تھا اور وہاں اس وقت حنفیہ کے رئیس الرؤسا یہی امام جلال الدین محمودبن احمدحصیری تلمیذ خاص امام جلیل قاضی خان تھے جن کی تصانیف میں جابجاتصریح ہے کہ نمازجنازہ کی تکرار جائز نہیں۔ تیسری نماز والے حنبلی مذہب تھے حنبلیہ کے یہاں جواز ہے کہ ہم پر حجت نہیں۔ بالجملہ علماء وعقلاء کا اتفاق ہے کہ واقعۃ عین لا عموم لھاخاص واقعے محل ہرگونہ احتمال ان سے استدلال محض خام خیال نہ کہ وہ بھی اجماع قطعی تمام ائمہ مذہب کے رد کرنے کو جس پر جرأت نہ کرے گا مگر نااہل شدید الجہل لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
جواب سوال دوم۲ : مذہب مہذب حنفی میں جنازہ غائب پر بھی محض ناجائز ہے ۔ ائمہ حنفیہ کا اس کے عدم جواز پر بھی اجماع ہے خاص ا سکا جزئیہ بھی مصرح ہونے کے علاوہ تمام عبارات مسئلہ اولی بھی اس سے متعلق کہ غالبا نماز غائب کو تکرار صلواۃ جنازہ لازم۔ بلاد اسلام میں جہاں مسلمان انتقال کرے نماز ضرور ہوگی اوردوسری جگہ خبر اس کے بعد ہی پہنچے گی ولہذاامام اجل نسفی نے کافی میں اس مسئلہ کو اس کی فرع ٹھہرایا اگرچہ حقیقۃ دونوں مستقل مسئلے ہیں۔ اب اس مسئلہ کی نصوص خاصہ لیجئے اور بہ نظر تعلق مذکور سلسلہ عبارات بھی وہی رکھئے۔
وشرط صحتہا اسلام المیت وطہارتہ وضعہ امام المصلی فلھذا القیدلاتجوز علی غائب ۔
صحت نماز جنازہ کی شرط یہ ہے کہ میت مسلمان ہو طاہر ہو جنازہ نمازی کے آگے زمین پررکھا ہو ۔ اسی شرط کے سبب کسی غائب کی نماز جنازہ جائز نہیں۔
حلیہ کے لفظ یہ ہیں :
شرط صحتھا کونہ موضوعاامام المصلی ومن ھنا قالوا لاتجوز الصلوۃ علی غائب مطلقا ۔
نماز جنازہ کی شرائط صحت سے ہے جنازہ کا مصلی کے آگے ہونا۔ اسی لئے ہمارے علماء نے فرمایا کہ مطلقا کسی غائب پر نماز جائز نہیں۔
(۲۱۴)متن تنویرالابصارمیں ہے :
شرطہا وضعہ امام المصلی ۔
جنازہ کا نمازی کے سامنے ہونا شرط نماز جنازہ ہے۔
(۲۱۵) برہان شرح مواہب الرحمن طرابلسی(۲۱۶) نہر الفائق (۲۱۷) شرنبلالیہ علی الدرر(۲۱۸) خادمی (۲۱۹) ہندیہ(۲۲۰) ابوالسعود ۔ (۲۲۱) درمختار میں ہے :
شرطھا حضورہ فلاتصح علی غائب ۔
جنازہ کاحاضر ہونا شرط نماز ہے لہذا کسی غائب پر نماز جنازہ صحیح نہیں۔
(۲۲۲) متن نورالایضاح میں ہے :
شرائطہا اسلام المیت وحضورہ ۔
صحت نمازجنازہ کی شرطوں سے ہے میت کا مسلمان ہونا اور نمازیوں کے سامنے حاضر ہونا۔
(۲۲۳) متن ملتقی الابحر میں ہے :
لایصلی علی عضو ولاعلی غائب ۔
میت کا کوئی عضو کسی جگہ ملے تو
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۲۱
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۲۱
نورالایضاح فصل فی الصّلٰوۃ علی المیّت مطبع علیمی لاہور ص٥۵۶
ملتقی الابحر فصل فی الصّلٰوۃ علی المیّت موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۱۶۱
(۲۲۴) شرح مجمع(۲۲۵) مجمع شرح ملتقی میں ہے :
محل الخلاف فی الغائب عن البلد اذلوکان فی البلد لم یجز ان یصلی علیہ حتی یحضر عندہ اتفاقا لعدم المشقۃ فی الحضور ۔
امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کا اس مسئلہ میں ہم سے خلاف بھی اس صورت میں ہے کہ میت دوسرے شہر میں ہو اگر اسی شہر میں ہو تو نماز غائب امام شافعی کے نزدیك بھی جائز نہیں کہ اب حاضر ہونے میں مشقت نہیں۔
(۲۲۶) فتاوی خلاصہ میں ہے : لایصلی علی میت غائب عندنا ۔ ہمارے نزدیك کسی میت غائب پر نماز نہ پڑھی جائے۔ (۲۲۷) متن وافی میں ہے :
من استھل صلی علیہ والالاکغائب ۔
جوبچہ پیداہوکر کچھ آواز کرے جس سے اس کی حیات معلوم ہو پھر مرجائے اس پر نماز پڑھی جائے ورنہ نہیں جیسے غائب کے جنازہ پر نماز نہیں۔
(۲۲۸)کافی میں ہے :
لایصلی علی غائب وعضو خلافا للشافعی بناء علی ان صلاۃ الجنازۃ تعاد ام لا ۔
کسی غائب یا عضو پر نماز ہمارے نزدیك ناجائز ہے اوراس میں امام شافعی کا خلاف ہے اس بناء پر کہ نماز جنازہ ان کے نزدیك دوبارہ ہوسکتی ہے ہمارے نزدیك نہیں۔
(۲۲۹) فتاوی شیخ الاسلام ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی تمرتاشی میں ہے :
ان اباحنیفہ لایقول بجواز الصلاۃ علی الغائب ۔
ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ جنازہ غائب پر نماز جائز نہیں مانتے۔
(۲۳۰) منظومہ امام مفتی الثقلین میں ہے :
خلاصۃ الفتاوٰی الصلٰوۃ علی الجنازۃ اربع تکبیرات مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۲۴
وافی
کافی شرح وافی
فتاوٰی امام غزی تمرتاشی کتاب الطہارۃ والصّلٰوۃ مطبع اہل السنۃ والجماعۃ بریلی ص٤
وھی علی الغائب والعضوتصح وذاك فی حق الشہید قدطرح
صرف اما م شافعی قائل ہیں کہ غائب اور عضوپر نماز صحیح ہے اور شہید کی نماز نہ ہو اور ان سب مسائل میں ہمارا مذہب اس کے خلاف ہے۔ ہمارے نزدیك غائب وعضو پر نماز صحیح نہیں اور شہید کی نماز پڑھی جائےگی۔
یہ ۸۶کتابوں کی ۲۳۰عبارتیں ہیں وﷲ الحمد مسئلہ اولی پر بحث دلائل النھی الحاجز میں بحمداﷲتعالی بروجہ کافی ہوچکی یہاں بہت اختصار و اجمال کے ساتھ مسئلہ ثانیہ کے دلائل پر کلام کریں ۔
فنقول وباﷲ التوفیق حکم شرع مطہر کے لئے اوراس پر زیادت نا روا۔
اقول : ای ماکان بدون اذنہ الخالص والعام ولو فی ضمن الارسال او السکوت فانہ بیان ولیس یسکت عن نسیان فھذہ ھی الزیادۃ حقیقۃ لاغیرہ اذا المستند ولو الی سکوتہ مستند الیہ لا زائد علیہ والمتبع الکف دون الترك فانہ لیس بفعل العبد ولامقدور کمانص علیہ الاجلۃ الصدور بل ھوفی العقل مدلل فان الاعدام لا تعلل فافھم ان کنت تفھم۔
اقول : یعنی وہ زیادتی جو شرع کے اذن خاص یا عام کے بغیر ہو اگرچہ وہ ارسال یاسکوت کے ضمن میں ہو اس لئے کہ وہ بھی بیان ہے اس کا سکوت نسیان سے نہیں ہوتا یہی زیادتی حقیقۃ زیادتی ہے اس کے علاوہ نہیں اس لئے جس کا استناد شرع سے ہو گو سکوت ہی سے ہو وہ شریعت کی طرف مستند ہے اس پر زائد نہیں۔ اور اتباع کف (قصدا باز رہنے) میں ہوتی ہے۔ نہ ہونے میں نہیں(حضور علیہ الصلوۃ والسلام قصدا کسی کام سے باز رہے تواس میں ان کی پیروی ہوگی اور یوں کوئی کام سرکار کے عمل میں نہ آیا تو وہ ممنوع نہ ہوگا نہ اس سے بچنا ضروری ہوگا) اس لئےکہ ترك بندے کافعل ہی نہیں نہ ہی اس کی قدرت میں ہے جیسا اجلہ بزرگان دین نے اس کی تصریح فرمائی بلکہ عقل کے نزدیك بھی یہ دلیل رکھتا ہے کیونکہ عدم کی تعلیل نہیں ہوتی اسے سمجھو اگر سمجھ والے ہو۔ (ت)
حضور پرنور سید یوم النشور بالمؤمنین رؤف رحیم علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم کو نماز جنازہ مسلمین کا کمال اہتمام تھا ۔ اگر کسی وقت رات اندھیری یا دوپہر کی گرمی یا حضور کے آرام فرماہونے کے سبب صحابہ نے حضور
لاتفعلو ا ادعونی لجنائزکم ۔ رواہ ابن ماجۃ ف۱ عن عامر بن ربیعۃ رضی اﷲتعالی عنہ ۔
ایسا نہ کرو مجھے اپنے جنازوں کے لئے بلالیا کرو اسے ابن ماجہ نے عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا
اور فرماتے :
لاتفعلوا لایموتن فیکم میت ماکنت بین اظھرکم الا اذنتمونی بہ فان صلوتی علیہ رحمۃ ۔ رواہ الامام احمد عن زید بن ثابت ف رضی اﷲتعالی عنہ و رواہ ابن حبان والحاکم عن زید بن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہ فی حدیث اخر۔
ایسا نہ کرو جب تك میں تم میں تشریف فرماہوں ہرگز کوئی میت تم میں نہ مرے جس کی اطلاع مجھے نہ دو کہ اس پر میری نماز موجب رحمت ہے۔ اسے امام احمد نے زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ اور اسے ابن حبان اورحاکم نے زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث کے آخر میں روایت کیا۔
اور فرماتے :
ھذہ القبور مملوۃ ظلمۃ علی اہلھا وانی انورھا بصلوتی علیھم ۔ صلی اﷲتعالی
بیشك یہ قبریں اپنے ساکنوں پر تاریکی سے بھری ہیں اور بیشك میں اپنی نماز سے انہیں روشن فرمادیتا ہوں۔
ف۱ : یہ حدیث “ تمہید “ میں بھی منقول ہے اس پر تحقیق والے نے جنائز ابن ماجہ کا حوالہ دیا لیکن مجھے یہ حدیث ابن ماجہ میں ان الفاظ کے ساتھ نہیں مل سکی البتہ مسند احمد بن حنبل میں انہی الفاظ سے یہ حدیث منقول ہے حوالہ ملاحظہ ہو۔ نذیر احمد
ف : یہی حدیث ابن ماجہ نے یزید بن ثابت کے حوالہ سے نقل کی اورمسند احمد بن حنبل میں بھی یزید کے حوالے سے منقول ہے اور یزید زید کے بڑے بھائی ہیں۔ نذیر احمد
مسند احمد بن حنبل حدیث یزید بن ثابت دارالفکر بیروت ٤ / ٣٨٨
صحیح مسلم کتاب الجنائز نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۳۱۰ ، مسند احمد بن حنبل مروی ازابوھریرہ رضی اﷲعنہ دارالفکر بیروت ۲ / ۳۸۸ ، الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان فصل فی الصلٰوۃ الجنائز موسسۃ الرسالۃ بیروت ۵ / ۳۵
اﷲ تعالی رحمت وبرکت و سلامتی نازل فرمائے ان پر اوران کی آل پر ان کے نور وجمال جاہ وجلال جود ونوال نعم وافضال کے حساب سے ۔ حدیث مذکور کو مسلم اورابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
با ایں ہمہ حالانکہ زمانہ اقدس میں صدہاصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ م نے دوسرے مواضع میں وفات پائی کبھی کسی حدیث صریح سے ثابت نہیں کہ حضور نے غائبانہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھی۔ کیا وہ محتاج رحمت والا نہ تھے کیا معاذاﷲ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ان پر یہ رحمت وشفقت نہ تھی کیا ان کی قبور اپنی نماز پاك سے پرنور نہ کرنا چاہتے تھے کیا جومدینہ طیبہ میں مرتے انہیں کی قبور محتاج نور ہوتیں اور جگہ اس کی حاجت نہ تھی۔ یہ سب باتیں بداھۃباطل ہیں تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا عام طور پر ان کی نماز جنازہ نہ پڑھنا ہی دلیل روشن وواضح ہے کہ جنازہ غائب پر نماز ناممکن تھی ورنہ ضرور پڑھتے کہ مقتضی بکمال وفور موجود اور مانع مفقود۔ لاجرم نہ پڑھنا قصدا باز رہنا تھا اور جس امر سے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بے عذر مانع بالقصد احتراز فرمائیں وہ ضرور امر شرعی ومشروع نہیں ہوسکتا دوسرے شہر کی میت پر صلوۃ کاذکر صرف تین واقعوں میں روایت کیاجاتا ہے۔ واقعہ نجاشی و واقعہ معویہ لیثی و واقعہ امرائے موتہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ان میں اول ودوم وبلکہ سوم کا بھی جنازہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے حاضر تھا تو نماز غائب پر نہ ہوئی بلکہ حاضر پر اور دوم وسوم کی سند صحیح نہیں اور سوم صلوۃ بمعنی نماز میں صحیح نہیں۔ ان کی تفصیل بعونہ تعالی ابھی آتی ہے۔ اگرفرض کیجئے کہ ان تینوں واقعوں میں نماز پڑھی تو باوصف حضور کے اس اہتمام عظیم وموفور اور تمام اموات کے اس حاجت شدیدہ رحمت ونور قبور کے صدہا کیوں نہ پڑھی وہ بھی محتاج حضور و حاجتمند رحمت ونور اور حضور ان پر بھی رؤف ورحیم تھے۔ نماز سب پر فرض عین نہ ہونا اس اہتمام عظیم کا جواب نہ ہوگا نہ تمام اموات کی اس حاجت شدیدہ کا علاج۔ حالانکہ حریص علیکم ان کی شان ہے۔ دوایك کی دستگیری فرمانا اورصدہاکو چھوڑنا کب ان کے کرم کے شایان ہے۔ ان حالات واشارات کے ملاحظہ سے عام طور پر ترك اورصرف دوایك باوقوع خود ہی بتا دے گا کہ وہاں خصوصیات خاصہ تھی جس کا حکم عام نہیں ہوسکتا۔ حکم عام وہی عدم جواز ہے جس کی بناپر عام احتراز ہے۔ اب واقعہ بیر معونہ ہی دیکھئے۔ مدینہ طیبہ کے سترجگر پاروں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کےخاص پیاروں اجلہ علمائے کرام صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ م کو کفار نے دغا سے شہید کردیا۔ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ان کا سخت و شدید غم والم ہوا۔ ایك مہینہ کامل خاص نماز کے اندر کفار ناہنجار پر لعنت فرماتے رہے مگر ہرگز منقول نہیں کہ ان پیارے محبوبوں پر نماز پڑھی ہو۔
(آخر اجلہ صحابہ کرام کے شہید ہونے پر آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ان کی نماز جنازہ کو ترك فرمانا بغیر کسی وجہ کے نہیں ہوسکتا)
اہل انصاف کے نزدیك کلام تو اسی قدر سے تمام ہوا مگر ہم ان وقائع ثلثہ کا بھی باذنہ تعالی تصفیہ کریں۔
واقعہ اولی : جب اصحمہ رضی اللہ تعالی عنہ بادشاہ حبشہ نے حبشہ میں انتقال کیا۔ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں صحابہ کرام کو خبر دی مصلی میں جاکر صفیں باندھ کر چار تکبیریں کہیں ۔ رواہ الستۃ عن ابی ھریرۃ و الشیخان عن جابر کنت فی الصف الثانی اوالثالث رضی اﷲ تعالی عنہما(اسے اصحاب ستہ نے حضرت ابو ھریرہ سے روایت کیا اوربخاری و مسلم میں حضرت جابر سے یہ بھی ہے کہ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا رضی اللہ تعالی عنہما ۔ ت)اولا صحیح ابن حبان میں عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ وعن الصحابۃ جمیعا سے ہے :
ان النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم قال ان اخاکم النجاشی توفی فقوموافصلوا علیہ فقام رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم وصفوا خلفہ فکبر اربعاوھم لایظنون الا ان جناز تہ بین یدیہ ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا تمہارا بھائی نجاشی مر گیا اٹھو اس پر نماز پڑھو۔ پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کھڑے ہوئےصحابہ نے پیچھے صفیں باندھیں۔ حضورنے چار تکبیریں کہیں صحابہ کو یہی ظن تھا کہ ان کا جنازہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے حاضر ہے۔
صحیح ابوعوانہ میں انہیں میں سے ہے :
فصلینا خلفہ ونحن لانری الا ان جنازۃ قدامنا ۔
اقول : ھذافی فتح الباری ثم المواھب ثم شرحھا وکذلك فی ہم نے حضور کے پیچھے نماز پڑھی اورہم یہی اعتقاد کرتے تھے کہ جنازہ ہمارے آگے موجود ہے۔
اقول : ابوعوانہ و ابن حبان کے حوالے سےفتح الباری پھر مواہب پھر شرح مواہب میں یہی الفاظ
صحیح البخاری باب من صف صفین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۷۶
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان فصل فی الصّلٰوۃ علی الجنائز مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۵ / ۴۰
فتح الباری بحوالہ ابی عوانہ باب الصفوف علی الجنازہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۳۲
مذکورہ آئے اورایسے ہی عمدۃ القاری وغیرہ کتابوں میں نقل ہے--نصب الرایہ کے اندر روایت ابن حبان میں وھم لایظنون ان جنازتہ بین یدیہ(اور لوگ نہیں سمجھ رہے تھے کہ ان کا جنازہ حضور کے آگے رکھا ہوا ہے الا(مگر) کے اسقاط کے ساتھ واقع ہواتو محقق علی الاطلاق نے حدیث کو مدعا کے مطابق ثابت کرنے کی ضرورت محسوس کی اور فرمایا : اس لفظ سے یہ اشارہ ہورہا ہے کہ واقع میں ان حضرات کے گمان کے برخلاف تھا کیونکہ اس جملے کا قابل شمار ولحاظ فائدہ یہی ہے (تو معنی یہ ہوا کہ وہ ایسا نہیں سمجھ رہے تھے مگر واقع میں جنازہ حضور کے آگے موجود تھا )اب یہ ان کو حضور سے سن کر معلوم ہوا ہو یا ان پر انکشاف ہواہو اھ---اس کلام میں حضرت محقق کا اتباع صاحب غنیـہ وصاحب مرقات نے بھی کیا ہے۔ اور واقعی یہ نفیس کلام ہے مگر دونوں صحیح کتابوں (صحیح ابن حبان و صحیح ابی عوانہ)میں لفظ الا ثابت ہوجانے کے بعد اس کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جو الاکے ساتھ ہے وہ زیادہ ظاہر اور روشن ہے۔ اور خدا ہی کے لئے ساری حمد ہے۔ الحاصل اس سے وہ اعتراض دفع ہو گیا جوشیخ تقی الدین نے لکھا کہ اس پر کوئی دلیل لانے کی ضرورت ہے محض احتمال کافی نہیں۔ (ت)
یہ دونوں روایت صحیح عاضد قوی ہیں اس حدیث مرسل اصولی کی کہ امام واحدی نے اسباب نزول قرآن میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲعنہما سے ذکر کی کہ فرمایا :
کشف النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم عن سریر النجاشی حتی راہ
نجاشی کا جنازہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے ظاہر کردیا گیا تھا حضور نے اسے دیکھا اور
نصب الرایۃ بحوالہ تقی الدین احادیث الصلٰوۃ علی الغائب المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا ریاض الشیخ ۲ / ۲۸۳
اس پر نماز پڑھی۔
ثانیابلکہ جب تم مستدل ہو ہمیں احتمال کافی نہ کہ جب خود باسانید صحیحہ ثابت ہے۔ یہ جواب خود ایك شافعی امام قسطلانی نے مواہب شریفہ میں نقل کیا اور مقرررکھا۔
اقول ای لماتقررمن کفہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فالظاہر معناہ الاحتمال عن دلیل ثم من العجب قول الکرمانی کان غائبا عن الصحابۃ وارتضاہ فی الفتح قائلا سبقہ الی ذلك ابوحامد الخ وکذا استحسنہ الرؤیانی واربعتھم شافعیہ عــــہ وھذا لمانص علیہ الحنفیۃ والمالکیۃ من الاتفاق علی جواز الصلوۃ علی غائب عن القوم والامام یراہ ۔
اقول : علی ان فی حدیث عمران نحن لانری الا
اقول یعنی جب حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا غائبوں کی نماز سے بازرہنا ثابت ہے تو حضرت اصحمہ نجاشی کی نمازجنازہ پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا جنازہ سامنے تھا تو ظاہر یہ ہے کہ احتمال سے مراد احتمال بدلیل ہے۔ پھر عجیب بات ہے کہ کرمانی نے لکھا : نجاشی کاجنازہ صرف نظر صحابہ سے غائب تھا اس کو فتح الباری میں پسند کیایہ کہتے ہوئے کہ اس سے پہلے ابو حامد یہ فرما چکے ہیں۔ اس طرح رویانی نے اسے عمدہ چیز سمجھا یہ چاروں حضرات شافعی ہیں۔ تعجب کی چیز یہ ہے کہ اس پر حنفیہ ومالکیہ کا بھی اتفاق ہے کہ
عــــہ : قلدھم فیہ تقلید اجامدا مجتھد الوھابیۃ الشوکانی فی نیل الاوطار والبوفالی فی عون الباری غافلین عماردہ بہ الحنفیۃ وھذا دیدن ھؤلاء المدعین للاجتھاد یقلدون المقلدین فی الغلط المبین ویحرمون تقلید الائمۃ المجتہدین ۱۲منہ (م)
اس میں ان کی تقلید جامدکی ہے مجتہد وہابیہ شوکانی نے نیل الاوطار میں اوربھوپالی نے عون الباری میں۔ اور اس کلام سے غافل رہے جس کے ذریعے حنفیہ نے اس جواب کو رد کردیا ہے۔ یہی ان مدعیان اجتہاد کی عادت ہے کہ کھلی ہوئی غلط باتوں میں مقلدین کی تقلید کرتے ہیں اور ائمہ مجتہدین کی تقلید کوحرام ٹھہراتے ہیں۱۲منہ(ت)
فتح الباری بحوالہ الکرمانی باب الصفوف علی الجنازہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۳۲
فتح الباری شرح بخاری باب الصفوف علی الجنازہ مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۳۲
ایسے کی نماز جنازہ جائز ہے جولوگوں سے غائب ہو اورامام اسے دیکھ رہاہو۔ اقول : علاوہ ازیں حدیث عمران میں یہ ہے کہ “ ہم یہی اعتقاد کرتے تھے کہ جنازہ ہمارے آگے موجود ہے “ جیسا کہ ہم پیش کرچکے۔ رہی مجمع بن جاریہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہم نے حضور کے پیچھے دو صفیں لگائیں اور ہم کچھ نہ دیکھ رہے تھے اسے طبرانی نے روایت کیا (جس نے ابن ماجہ کاحوالہ دیا اسے وہم ہوا دراصل ابن حجر کی اس عبارت سے کہ “ اس کی اصل ابن ماجہ میں ہے “ وہ فریب خوردہ ہوگیا اوراس سے غافل رہا کہ ابن ماجہ میں یہ لفظ “ ہم کچھ نہ دیکھ رہے تھے “ موجود نہیں جبکہ وہی مقصود ہے) اس میں حمران بن اعین رافضی ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں ہر راوی نے اپنا حال بیان کیا ہے اس لئے کوئی تعارض نہیں ورنہ پہلی صف کے علاوہ کسی کی نماز ہی نہ ہو۔ (ت)
ثالثا نجاشی رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال دارالکفر میں ہوا وہاں ان پر نماز نہ ہوئی تھی لہذاحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہاں پڑھی۔ اسی بنا پر امام ابوداؤد نے اپنی سننن میں اس حدیث کے لئے یہ باب وضع کیا :
الصلوۃ علی مسلم یلیہ اھل شرك فی بلد اخر ۔
دوسرے شہر میں ایسے مسلم کی نماز جنازہ جس کے قریب صرف اہل شرك ہیں۔ (ت)
ف : معجم کبیر میں مجمع بن جاریہ کی احادیث کے تحت بحوالہ ابن ابی شیبہ کے الفاظ یوں ہیں : “ فصففنا خلفہ صفین “ اس میں “ وما نری شیئا “ کے الفاظ نہیں ہیں۔ ملا حظہ ہو معجم کبیر حدیث ۱۰۸۶جلد ۱۹ص۴۴۶۔ نذیر احمد
شرح الزرقانی علی مواہب بحوالہ طبرانی النوع الرابع فی صلوٰتہ الخ دارالمعرفۃ بیروت ۸ / ۸۷ ، فتح الباری شرح البخاری باب الصلٰوۃ علی الجنازۃ مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۳۲
سنن ابی داؤد باب الصلٰوۃ علی المسلم یموت فی بلادشرک آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۰۱
اقول : ای فقد کفاناالمؤنۃ بقولہ ھذامحتمل ثم اقول : قد یومی لہ ما اخرج احمد وابن ماجۃ عن حذیفۃ بن اسید رضی اﷲتعالی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خرج بھم فقال صلواعلی اخ لکم مات بغیر ارضکم قالوامن ھوقال النجاشی ثم رأیتہ عــــہ فی مسند ابی داؤد الطیالسی
حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں کہا یہ احتمال تو ہے مگر کسی حدیث میں یہ اطلاع میں نے نہ پائی کہ نجاشی کے اہل شہر میں سے کسی نے ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی اھ علامہ زرقانی نے لکھا : یہ الزام دونوں طرف سے مشترك ہے کیونکہ کسی حدیث میں یہ بھی مروی نہیں کہ ان کے اہل شہر میں سے کسی نے ان کی نماز جنازہ پڑھی تھی-- جیساکہ ابوداؤد نے اس پر جزم کیا ہے اور وسعت حفظ میں ان کا مقام معلوم ہے اھ۔
اقول : یعنی یہ احتمال مان کر ہمارا بوجھ انہوں نے خود ہی اتار دیا ثم اقول : اس کاکچھ اشارہ اس سے ملتا ہے جوامام احمد اورابن ماجہ نے حذیفہ بن اسید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لوگوں کولے کر باہر آئے پھر فرمایا : اپنے ایك بھائی کی۔
عــــہ : ثم رأیت الشوکانی ذکرہ عن شیخ مذھبہ الفاسد ابن تیمیۃ انہ اختار التفصیل بجواز الصلوۃ علی الغائب ان لم یصل علیہ حیث مات والا لا قال واستدل لہ بما اخرجہ الطیالسی واحمد وابن ماجۃ وابن قانع والطبرانی والضیاء فذکر الحدیث اقول : اما الاستئناس فنعم واماکونہ دلیلا علیہ حجۃ فیہ فلاکما لایخفی۱۲منہ(م)
پھرمیں نے دیکھا کہ شوکانی نے اپنے فاسد مذہب کے پیشوا ابن تیمیہ سے متعلق ذکر کیا اس نے یہ تفصیل اختیار کی ہے کہ غائب کی نماز جائز ہے اگر وہاں اس کی نماز نہ ہوئی ہو جہاں انتقال کیا ورنہ جائز نہیں۔ اور کہا کہ اس پر دلیل میں وہ حدیث پیش کی ہے جوطیالسی امام احمد ابن ماجہ ابن قانع طبرانی اور ضیاء نے روایت کی پھر حدیث بالاذکر کی اقول : اس حدیث سے رائے مذکور پر استیناس تو ہورہا ہے مگر یہ کہ اس پر یہ دلیل اور اس بارے میں حجت ہو توایسا نہیں جیسا کہ واضح ہے ۱۲منہ(ت)
شرح الزرقانی علی المواہب النوع الرابع دارالمعرفۃ بیروت ۸ / ۸۷
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی الصلٰوۃ علی النجاشی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۱
نیل الاوطار للشوکانی الصلٰوۃ علی الغائب بالنیۃ مصطفی البابی مصر ۴ / ۵۷
نماز ادا کرو جو تمھاری سرزمین کے علاوہ میں فوت ہوا۔ لوگوں نے عرض کیا : وہ کونفرمایا : نجاشی پھر میں نے اسے مسند ابوداؤد طیاسی میں دیکھا انھوں نے کہا ہم سے مثنی بن سعید نے حدیث بیان کی وہ قتادہ سے وہ ابوالطفیل سے وہ حذیفہ بن اسید سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس نجاشی کی وفات کی خبر آئی تو فرمایا : تمھارا بھائی تمھاری سرزمین کے علاوہ میں انتقال کر گیا تواٹہواس کی نماز پڑہویہ روایت استیناس کوقوت دے رہی ھے اس لیے کہ اس کے اندرفقوموا(تو اٹھو) میں فا (تو) ہے ۔ (ت)
ولہذا خود امام شافعی المذہب ابوسلیمان خطابی نے یہ مسلك لیا کہ غائب پرنمازجائز نہیں سوا اس صورت خاص کے کہ اس کا انتقال ایسی جگہ ہوا ہوجہاں کسی نے اس کی نماز نہ پڑھی ہو۔ اقول اب بھی خصوصیت نجاشی ماننے سے چارہ نہ ہوگا جبکہ اورموتیں بھی ایسی ہوئیں اور نماز غائب کسی پر نہ پڑھی گئی۔
رابعا بعض عــــہ کو ان کے اسلام میں شبہ تھا یہاں تك کہ بعض نے کہا : حبشہ کے ایك کافر پر نماز پڑھی
رواہ ابن ابی حاتم فی التفسیر عن ثابت و الدار قطنی فی الافراد والبزار عن حمید معا عن انس ولہ شاھد فی کبیر الطبرانی عن وحشی واوسطہ عن ابی سعید رضی اﷲ تعالی عنہم۔
اسے ابن ابی حاتم نے تفسیر میں ثابت سے دارقطنی نے افراد میں اور بزار نے مسند میں حمید سے دونوں حضرات نے حضرت انس سے روایت کیا اور اس حدیث کی ایك شاہد طبرانی کبیر میں حضرت وحشی سے اور معجم اوسط میں حضرت ابوسعید سے ہے رضی اللہ تعالی عنہم (ت)
اس نماز سے مقصود ان کی اشاعت اسلام تھی. اقول : یعنی بیان بالفعل اقوی ہے ولہذا مصلی میں تشریف لے گئے کہ جماعت کثیر ہو
عــــہ : روایت طبرانی میں ہے اس کا قائل ایك منافق تھا منہ (م)
فتح الباری بحوالہ ابن ابی حاتم والدار قطنی والبزار باب الصفوف علی الجنازۃ مصطفی البابی مصر ٣ / ٤٣١
فتح الباری بحوالہ ابن بزیزہ والدار قطنی والبزار باب الصفوف علی الجنازۃ مصطفی البابی مصر ٣ / ٤٣١
فتح الباری بحوالہ طبرانی اوسط باب الصفوف علی الجنازۃ مصطفی البابی مصر ٣ / ٤٣١
یہ ابن بزیزہ وغیرہ شافعیہ نے کہا جواس کے قائل ہیں کہ مسجد میں نماز جنازہ جائز ہے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جب رحلت نجاشی کی اطلاع دی تو اس وقت مسجد ہی میں تشریف فرماتھے مگر جنازہ کیلئے باہر تشریف لے گئے اس کی علت ان حضرات نے یہ بتائی کہ اس سے مقصود تکثیر جماعت کے ذریعہ ان کے اسلام کا اعلان کرنا تھا۔ ( اس واقعہ پر ہم نے چار کلام کئے مگر) خیال رہے کہ نقش زرنگار کی حیثیت صرف پہلے دو کو حاصل ہے ۔ (ت)
تنبیہ : غيرمقلدوں کے بھوپالی امام نے عون الباری میں حدیث نجاشی کی نسبت کہا اس سے ثابت ہوا کہ غائب پر نمازجائزہے اگر چہ جنازہ غیر جہت قبلہ میں ہواور نماز قبلہ رو۔
اقول : یہ اس مدعی اجتہاد کی کورانہ تقلید اور اس کے ادعاپر مثبت جہل شدید ہے نجاشی کا جنازہ حبشہ میں تھا اور حبشہ مدینہ طیبہ سے جانب جنوب ہے اور مدینہ طیبہ کا قبلہ جنوب ہی کو ہے تو جنازہ غیر جہت قبلہ کو کب تھا۔
لاجرم لما نقل الحافظ فی الفتح قول ابن حبان انہ انما یجوز ذلك لمن فی جھۃ القبلہ قال حجتہ الجمود علی قصۃ النجاشی اھ
جب حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ابن حبان کا یہ قول نقل کیا کہ صرف اسی غائب کی نماز جنازہ ہوسکتی ہے جو سمت قبلہ میں تو اس پر کہا کہ : ان کی دلیل واقعہ نجاشی پر جمود ہے اھ (ت)
تو ان مجتہد صاحب کا جہل قابل تماشاہے جن کو سمت قبلہ تك معلوم نہیں۔ پھر نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ان کے جنازہ پر نماز ان کی غیر سمت پڑھنے کا ادعا دوسرا جہل ہے۔ حدیث میں تصریح ہے کہ حضور نے جانب حبشہ نماز پڑھی رواہ الطبرانی عن حذیفة بن اسید رضی اﷲ تعالی عنہ (اسے طبرانی نے حذیفہ بن اسید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ ت)
واقعہ دوم : معاویہ بن معاویہ مزنی رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینہ طیبہ میں انتقال کیا۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تبوك میں ان پر نماز پڑھی۔
معجم کبیر مروی از حذیفہ بن اُسید حدیث ٣٠٤٨ مکتبہ فیصلیہ بیروت ٣ / ١٧٩
بطریق نوح بن عمرو السکسکی ثنابقیہ بن الولید عن محمد بن زیاد الالھانی عن ابی امامۃ عن محمد بن زیاد الالہانی ___ عن ابی امامه رضی اﷲ تعالی عنہ ۔
قلت ومن ھذا الطریق رواہ ابو احمد الحاکم فی فوائده والخلا لی فی فوائد سورۃ الاخلاص وابن عبدالبرفی الاستیعاب وابن حبان فی الضعفاء و اشار الیہ ابن مندۃ۔
اس کی سند اس طرح ہے : نوح بن عمروسکسکی نے __ کہا ہم سے حديث بیان کی بقیہ بن ولید نے __ عن محمد بن زیاد الالہانی ___ عن ابی امام ه رضی اللہ تعالی عنہ ۔
قلت( میں کہتا ہوں) اسی طریق سے اس کوا بواحمد حاکم نے فوائد میں خلال نے فوائد سورہ اخلاص میں ابن عبدالبر نے استیعاب میں اور ابن حبان نے ضعفاء میں روایت کیا اور اسی کی طرف ابن مندہ نے اشارہ کیا ۔ (ت)
اس کی سند میں بقیہ بن ولید مدلس ہے اور اس نے عنعنہ کیا یعنی محمد بن زیاد سے اپنا سننا نہ بیان کیا بلکہ کہا کہ ابن زیاد سے روایت ہے معلوم نہیں راوی کون ہے!
بہ اعلہ المحقق فی الفتح اقول لکن سند ابی احمدالحاکم ھکذااخبرنا ابوالحسن احمد بن عمیر بد مشق ثنا نوح بن عمروبن حری ثنا بقیۃ ثنا محمد بن زیاد عن ابی امامۃ فذکرہ۔
حضرت محقق نے فتح القدیر میں اسی سے اس کو معلول ٹھہرایا۔ اقول مگر ابواحمد حاکم کی سند اس طرح ہے : ہمیں خبر دی ابوالحسن احمد بن عمیر نے د مشق میں انھوں نے کہا ہم سے حدیث بیان کی نوح بن عمروبن حری نے کہا ہم سے حدیث بیان کی محمد بن زیاد نے وہ ابوامامہ سے راوی ہيں اس کے بعد حدیث ذکر کی ۔ (ت)
ذہبی نے کہا کہ حدیث منکر ہے نیزاس کی سند میں نوح ابن عمرو ہے۔ ابن حبان نے اسے حدیث کا چوربتایا یعنی ایك سخت ضعیف شخص اسے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتاتھا اس نے اس سے چرا کر بقیہ کے سراباندھی
قال الذھبی فی ترجمۃ نوح قال ابن حبان یقال انہ سرق ھذا الحدیث اھ اقول : ذہبی نے نوح کے حالات میں لکھا : ابن حبان نے بیان کیا کہ “ کہا جاتا ہے اس نے یہ حدیث چرالی اھ اقول :
اصابہ میں حافظ ابن حجر کے الفاظ یہ ہيں : ابن حبان نے علاء ثقفی ضعیف کے ترجمہ میں اس کی یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد کہا : اسے شام کے ایك شیخ نے چرا کر اسے بقیہ سے روایت کردیا پھر حدیث ذکر کی اھ ___ اصابہ کی اس عبارت میں ابن حبان کے حوالہ میں لفظ یقال(کہا جاتا ہے) نہیں ہے___ اور خود ذہبی نے علاء کے بارے میں ابن حبان سے اسی طرح نقل کیا ہے___اب رہا حافظ ابن حجر کا یہ کلام کہ “ پتا نہیں ابن حبان نے نوح ہی کو مراد لیاہے یاکسی اور کو کیونکہ انھوں نے نوح کو ضعفاء میں ذکر نہیں کیا ہے “ ____
فاقول : ( تو میں کہتا ہوں) ظاہر ہے کہ نوح وہ شامی شیخ ہے جس نے یہ حدیث بقیہ سے روایت کی ہے اس میں کسی شك کی گنجائش ہی نہیں کہ یہ ثابت کیا جائے کہ کوئی اور شامی شیخ اس سے روایت کرنے والا ہے لامحالہ ذہبی نے جزم کیا کہ ابن حبان نے اس سے نوح ہی کومراد لیا ہے۔ (ت)
انس عــــہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت طبقات ابن سعد میں دوطریق سے ہے : ایك طریق محبوب بن ہلال مزني ہے۔
عــــہ : تنبیہ : لم یرد الحدیث عن صحابی غیر انس وابی امامۃ اماما وقع فی نسختی فتح القدیر والمطبوعتین بمصر والھند من قولہ بعدذکر قصہ النجاشی فان قيل بل قد صلی علی غیرہ من الغیب وھو معاویۃ بن معاویۃ المزنی ویقال الیثی رواہ الطبرانی من حدیث ابی امامۃ
تنبیہ : یہ حضرت انس اور ابوا مامہ کے علاوہ کسی اور صحابی سے وارد نہیں___ رہی فتح القدیر کی یہ عبارت جواس کے مصر اور ہند کے طبع شدہ دونوں نسخوںمیں ہے کہ “ واقعہ نجاشی ذکر کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں : اگر اعتراض ہو کہ حضور نے نجاشی کے علاوہ دوسرے پر بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہے۔ وہ معاویہ بن معاویہ مزنی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ “ لیثی “ ___ اسے طبرانی نے حضرت ابوامامہ سے(باقی اگلے صفحہ پر)
الاصابۃ فی تمیزالصحابۃ ترجمہ نمبر ٨٠٨٠ معاویہ بن معاویہ مزنی دارصادر بیروت ٣ / ٤٣٧
قلت ( میں کہتاہوں) اسی طریق سے اسے طبرانی ابن ضریس فوائد میں سمویہ ابن مندہ اور دلائل میں بہیقی نے روایت کیا ۔ (ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وابن سعد من حدیث انس وعلی وزید وجعفر لما استشھد بموتہ علی مافی مغازی الواقدی
تصحیف وصوابہ وابن سعد من حدیث انس وعلی زید و جعفر ای وصلی علیھما فقد اخذ کلام الفتح ھذا برمتہ الحبلی فی الغنیۃ فقال وابن سعد من حدیث انس وکذ اصلی علی زید و جعفر وکذا اخذہ بتمامہ القاری فی المرقاۃ فقال وابن سعد من حدیث انس وصلی علی زید وجعفر وقد جمع الحافظ طرق الحدیث فی الاصابۃ فلم یذ کرہ عن علی ولا عن غیرہ من الصحابۃ سوی انس و ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہم منہ (م)
روایت کیا ہے اور ابن سعد نے حضرت انس اور علی سے اور زید و جعفر پر بھی نماز پڑھی جب یہ دونوں حضرات موتہ میں شہید ہوئے جیسا کہ مغازی واقدی میں ہے ___ تواس عبارت( من حدیث انس و علی وزید و جعفر ) میں تصحیف ( کتابت کی غلطی) ہے۔ صحیح عبارت اس طرح ہے ( وابن سعد من حدیث انس و علی زید وجعفر) یعنی اور اسے ابن سعد نے حضرت انس سے روایت کیا اور حضور نے حضرت زید و حضرت جعفر کی بھی غائبانہ نماز جنا پڑھی۔ اس خطائے کتابت کی دلیل یہ ہے کہ فتح القدیر کا پورا کلام لے کر علامہ حلبی نے غنیہ میں یوں لکھا : وابن سعد من حدیث انس وکذا صـلی علی زید و جعفر( اور ابن سعد نے اسے حضرت انس سے روایت کیا اور اسی طرح حضور نے حضرت زید و حضرت جعفر کی نماز پڑھی) یوں ہی علامہ علی قاری نے اسے مکمل اخذ کرکے مرقات میں یوں لکھا : وابن سعد من حدیث انس وصلی علی زید و جعفر (ا ور ابن سعد نے حضرت انس کی حدیث میں اسے روایت کیا اور حضور نے حضرات زید و جعفر کی نماز پڑھی___ اور حافظ ابن حجر نے اصابہ میں اس حدیث کے تمام طرق جمع کئے ہیں مگرا ن میں حضرت علی یا کسی اور صحابی سے روایت کا ذ کر نہیں صرف حضرت انس وابوامامہ کا ذکر ہے۔ رضی اللہ تعالی عنہم (ت)
فتح القدیر ٢ / ٨١
غنیہ المستملی ص ٥٤٤
مرقات المفاتیح ٤ / ١٤٠
قلت ومن ھذا الطریق اخرجہ ابن ابی الدنیا ومن طریقہ ابن الجوزی فی العلل المتناھیۃ والعقیلی وابن سنجر فی مسندہ وابن الاعرابی وابن عبدالبرو حاجب الطوسی فی فوائدہ ۔
قلت ( میں کہتا ہوں) اسی طریق سے اس کو ابن ابی الدنیا نے روایت کیا ہے اور اسی کے طریق سے ابن الجوزی نے العلل المتناہیہ میں ا ور عقیلی اور ابن سنجر نے اپنی مسند میں اور ابن الاعرابی ابن عبدالبر نے اور فوائد میں حاجب طوسی نے روایت کیا ہے ۔ (ت)
امام نووی نے خلاصہ میں فرمایا : اس کے ضعیف ہونے پر تمام محدثین کا اتفاق ہے۔ امام بخاری وابن عدی وابو حاتم نے کہا : وہ منکر الحدیث ہے۔ ابو حاتم و دارقطنی نے کہا : متروك الحدیث ہے ۔ امام علی بن مدینی استاد امام بخاری نے کہا : وہ حدیثیں دل سے گھڑتا تھا ابن حبان نے کہا : یہ حدیث بھی اسی کی گھڑی ہوئی ہے اسی سے چرا کر ایك شامی نے بقیہ سے روایت کی ۔ ذکرہ فی المیزان (اسے میزان الاعتدال میں ذہبی نے ذکر کیا۔ ت) ابوالولیدطیاسی نے کہا : علامہ کذاب تھا عقیلی نے کہا : العلاء بن یزید ثقفی لایتابعہ احد علی ھذا الحدیث الامن ھو مثلہ اودونہ علاء کے سوا جس جس نے یہ حدیث روایت کی سب علاء ہی جیسے ہیں یااس سے بھی بدتر ذکرہ فی العلل المتناھیۃ( ابن الجوزی نے اسے علل متناہیہ میں ذکر کیا ۔ ت) ابو عمر بن عبد البر نے کہا : اس حدیث کی سب سندیں ضعیف ہیں اور دربارہ احکام اصلا حجت نہیں صحابہ میں کوئی شخص معاویہ بن معاویہ نام معلوم نہیں ۔ قالہ فی الاستیعاب ونقلہ فی الاصابۃ (ابن عبد البر نے یہ استیعاب میں کہا اور حافظ نے اسے اصابہ میں نقل کیا ۔ ت)یونہی ابن حبان نے کہا کہ مجھے عــــہ اس نام کے
عــــہ : وہابیہ کے امام شوکا نی نے نیل الاوطارمیں یہاں عجیب تماشہ کیاہے
اولا استیعاب سے نقل کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے معویہ بن معویہ لیثی پر نماز پڑھی ۔ پھر کہا(باقی اگلے صفحہ پر)
میزان الاعتدال ترجمہ ٥٧٣٠ العلاء بن زید الثقفی دارالمعرفۃ بیروت ٣ / ٩٩
میزان الاعتدال ترجمہ ٥٧٣٠ العلاء بن زید الثقفی دارالمعرفۃ بیروت ٣ / ٩٩
العلل المتناہیۃ حدیث فی فضل معاویۃ بن معاویۃ دارالنشرالکتب الاسلامیہ لاہور ١ / ٢٩٩
الاصابۃ فی تمیزالصحابۃ ترجمہ ٨٠٨٠ معاویۃ بن معاویۃ دارصادر بیروت ٣ / ٤٣٧
ثانیا فرض کیجئے کہ یہ حدیث اپنے طرق سے ضعیف نہ رہے کما اختارہ الحافظ فی الفتح( جیسا کہ حافظ ابن حجر نے اسے فتح الباری میں اختیار کیا ہے ۔ ت) یا بفرض غلط لذاته صحیح سہی پھراس میں کیا ہے خود اسی میں تصریح ہے کہ جنازہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پیش نظرانور کردیا گیا تھا تو نماز جنازہ حاضرپر ہوئی نہ کہ غائب پر حدیث ابی امامہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لفظ طبرانی کے یہاں یہ ہیں : جبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام نے حاضرہو کر عرض کی : یا رسول اﷲ !معاويہ بن معاویہ مزنی نے مدینہ میں انتقال کیا۔
اتحب ان اطوی لك الارض فتصلی علیہ قال نعم فضرب بجناحہ علی الارض فرفع لہ سریرہ فصلی علیہ وخلفہ صفان من الملائکۃ کل صف سبعون
کیا حضور چاہتے ہیں کہ حضور کےلئے زمین لپٹ دوں تاکہ حضور ان پر نماز پڑھیں فرمایا : ہاں ۔ جبریل نے اپنا پر زمین پر مارا جنازہ حضور کے سامنے ہوگیا اس وقت حضور نے ان پر نماز پڑھی اور فرشتوں کی دو صفیں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
استیعاب میں اس قصہ کا مثل معاویہ بن مقرن کے حق میں ابوامامہ سے روایت کیا۔ پھر کہا نیزاس کا مثل انس سے ترجمہ معاویہ بھی معاویہ مزنی میں روایت کیا ۔ اس میں یہ وہم لاتاہے کہ گویا تین صحابی جدا جدا ہیں جن پرنمازغائب مروی ہے حالانکہ یہ محض جہل یاتجاہل ہے وہ ایك صحابی ہیں معاویہ نام جن کے نسب ونسبت میں راویوں سے اضطراب واقع ہوا کسی نے مزنی کہا کسی نے لیثی کسی نے معاویہ بن معاویہ کسی نے معاویہ بن مقرن ابو عمر نے معاویہ بن مقرن مزنی کو ترجیح دی کہ صحابہ میں معاویہ بن معاویہ کوئی معلوم نہیں اور حافظ نے اصابہ میں معاویہ بن معاویہ مزنی کو ترجیح دی اور لیثی کہنے کو علاء ثقفی کی خطا بتایا اور معاویہ بن مقرن کو ایك اورصحابی مانا جن کے لئے یہ روایت نہیں بہر حال صاحب قصہ شخص واحد ہیں اور شوکانی کا ایہام تثلیث محض باطل۔ ابن الاثیرنے اسدالغابہ میں فرمایا : معاویہ بن معاویہ المزنی ویقال اللیثی ویقال معاویۃ بن مقرن المزنی قال ابوعمر وھو اولی بالصواب الخ یعنی معاویہ بن معاویہ مزنی اور کوئی کہتا ہے معاویہ بن مقرن مزنی ابو عمرو نے کہا یہی صواب سے نزدیك تر ہے۔ پھر حدیث انس کے طریق اول سے پہلے طور پر نام ذ کر کیا اور طریق دوم سے دوسرے طور پر اور حدیث ابوامامہ سے تیسرے طور پر ۔ منہ
نیل الاوطار الصلٰوۃ علی الغائب بالنیۃ مصطفی البابی مصر ٤ / ٥٧
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ ترجمہ معاویہ بن معاویہ مزنی المکتبہ الاسلامیۃ بیروت ٤ / ٣٨٨
حضور کے پیچھے تھیں ہر صف میں ستر ہزار فرشتے۔
ابو احمد حاکم کے یہاں یوں ہے :
وضع جناحہ الایمن علی الجبال فتواضعت ووضعت جناحہ الایسر علی الارضین فتواضعت حتی نظرنا الی مکۃ والمدینۃ فصلی علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وجبریل والملئکۃ ۔
جبریل نے اپنا داہنا پر پہاڑوں پر رکھا وہ جھك گئے بایاں زمینوں پر رکھا وہ پست ہوگئیں یہاں تك کہ مکہ ومدینہ ہم کو نظر آنے لگے اس وقت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور جبریل وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام نے ان پر نماز پڑھی۔
حدیث انس بطریق محبوب کے لفظ یہ ہیں : جبریل نے عرض کی کیا حضور اس پر نماز پڑھنا چاہتے ہیں فرمایا : ہاں۔
فضرب بجناحہ الارض فلم تبق شجرۃ ولا اکمۃ الا تضعضعت ورفع لہ سریرہ حتی نظر الیہ فصلی علیہ ۔
پس جبریل نے زمین پر اپنا پر مارا کوئی پیڑ اور ٹیلہ نہ رہا جو پست نہ ہوگیا اور ان کا جنازہ حضور کے سامنے بلند کیا گیا یہاں تك کہ پیش نظر اقدس ہوگیا اس وقت حضور نے ان پر نماز پڑھی۔
بطریق علاء کے لفظ یوں ہیں :
ھل لك ان تصلی علیہ فاقبض لك الارض قال نعم فصلی علیہ ۔
جبریل نے عرض کی حضور ان پر نماز پڑھنی چاہیں تو میں زمین سمیٹ دوں فرمایا : ہاں۔ جبریل نے ایسا ہی کیا اس وقت حضور نے ان پر نماز پڑھی۔
اقول : بلکہ طرزکلام مشیر ہے کہ نماز پڑھنے کے لئے جنازہ سامنے ہونے کی حاجت سمجھی گئی جب تو جبریل نے عرض کی کہ حضور نماز پڑھنی چاہیں تو میں زمین لپیٹ دوں تاکہ حضور نماز پڑھیں ۔ فافھم
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی باب الصلوة علی الغائب دار الکتاب العربی بیروت ۳ / ۳۸
الاصابہ فی تمییز الصحابہ ترجمہ ۸۰۸۰ معاویہ بن معاویہ دار صادر بیروت ۳ / ۴۳۶
الاصابہ فی تمییز الصحابہ ترجمہ ۸۰۸۰ معاویہ بن معاویہ دار صادر بیروت ۳ / ۴۳۷
لما التقی الناس بموتۃ جلس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی المنبر وکشف لہ مابینہ وبین الشام فھو ینظر الی معرکتھم فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اخذ الروایۃ زید بن حارثۃ فمضی حتی استشھد وصلی علیہ ودعالہ وقال استغفروا لہ وقد دخل الجنۃ وھو یسعی ثم اخذ الرایۃ جعفر بن ابی طالب فمضی حتی استشھد فصلی علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ودعا وقال استغفروا لہ وقد دخل الجنۃ فھو یطیر فیھابجنا حین حیث شاء ۔ (ملخصا)
جب مقام موتہ میں لڑائی شروع ہوئی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم منبر پر تشریف فرماہوئے اور اﷲ عزوجل نے حضور کے لئے پردے اٹھا دئیے کہ ملك شام او ر وه معرکہ حضور دیکھ رہے تھے اتنے میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : زید بن حارثہ نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہاں تك کہ شہید ہوا حضور نے انھیں اپنی صلوۃ ودعا سے مشرف فرمایااور صحابہ کو ارشاد ہوا اس کے لئے استغفار کرو بیشك وہ دوڑتا ہوا جنت میں داخل ہوا۔ حضور نے فرمایا پھر جعفر بن ابی طالب نے نشان اٹھایا اور لڑتا رہا یہاں تك کہ شہید ہوا حضور نے ان کو اپنی صلوۃ ودعا سے شرف بخشا اور صحابہ کو ارشاد ہوا اس کے لئے استغفار کرو وہ جنت میں داخل ہوا اور اس میں جہاں چاہے اپنے پروں سے اڑتاپھرتا ہے۔
اولا یہ دونوں طریق سے مرسل ہے اقول عاصم بن عمر او ساط تابعین سے ہیں قتادہ بن نعمان رضی اللہ تعالی عنہ صحابی کے پوتے اور یہ عبداﷲ بن ابی بکر عبد اﷲ بن ابی بکر محمد بن عمرو بن حزم ہیں صغار تابعین سے عمرو بن حزم صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کے پر پوتے۔
ثانیا خود واقدی کو محدثین کب مانتے ہیں یہاں تك کہ ذہبی نے ان کے متروك ہونے پر اجماع کا ادعا کیا
اقول : و زدت ھذا مشایعۃ للاول وکلاھما الزام فالمرسل نقبلہ والواقدی نوثقہ۔
اقول : ( میں کہتا ہوں) یہ نقد پہلے نقد کی روش پر میں نے بڑھا دیا ہے اور دونوں اعتراض الزامی ہیں ورنہ ہمارے نزدیك حدیث مرسل مقبول ہے اور واقدی ثقہ ہیں ۔ (ت)
میزان الاعتدال ترجمہ ٧٩٩٣ محمد بن عمر واقدی دارالمعرفۃ بیروت ٣ / ٦٦٦
رابعا خود اسی روایت میں صاف تصریح ہے کہ پردے اٹھا دئے گئے تھے معرکہ حضرت اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پیش نظرتھا ۔
اقول : لکن موتۃ بالشام علی مرحلتین من بیت المقدس وغز وتھا سنۃ ثمان وقد حولت القبلۃ قبلھا عــــہ بزمان فکیف یکفی الرؤیۃ مع اشتراط کونھا امام المصلی الاان یقال انما ارید الرد علی الاحتجاج لصلوۃ الغیب وقدتم واذا ثبت فیھا قولنا ثبت ذلك الشرط لنا لان الرویۃ مع الاستدبار لاتمکننا۔
اقول : لیکن مقام موتہ سرزمین شام میں بیت المقدس سے دو۲ منزلہ پر واقع ہے( تو مدینہ سے سمت قبلہ میں نہیں بلکہ قبلہ سمت مخالف شما ل میں ہوا مترجم) اور غزوہ موتہ ۸ ہجری میں ہوا جس سے بہت پہلے تحویل قبلہ ہوچکی تھی پھر یہ روایت کیسے کافی ہوگی جبکہ جنازہ کا مصلی کے آگے ہونا شرط ہے۔ جوابا کہا جاسکتا ہے کہ غائبانہ نما ز پر استدلال کا رد کرنا مقصود تھا وہ پورا ہوگیا اوراس بارے میں جب ہمارا قول ثابت ہوجائیگا تو وہ شرط بھی ہمارے حق میں ثابت ہوگی اس لئے کہ پشت کی جانب جنازہ ہوتے ہوئے دیکھ لینا ہمارے لیے ناممکن ہے ۔ ت)
خامسا اقول : کیا دلیل ہے کہ یہاں صلوۃ بمعنی نماز معہود ہے بلکہ درود ہے اور دعالہ عطف تفسیری نہیں بلکہ تعمیم بعد تخصیص ہے اور سوق روایت اسی میں ظاہر کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اس وقت منبر اطہر پر تشریف فرماہونا مذکور اور منبر انور دیوار قبلہ کے پاس تھا او رمعتاد یہی ہے کہ مبنر پر روبحاضرین وپشت بہ قبلہ جلوس ہو۔ اور اس روایت میں نماز کے لئے منبر پر سے اترنے پھر تشریف لے جانے کاکہیں ذکر نہیں نیز برخلاف روایت نجاشی اس میں نماز صحابہ بھی نہیں نہ یہ کہ حضور نے ان کو نماز کے لئے فرمایا۔ اگر یہ نماز تھی تو صحابہ کو شریك نہ فرمانے کی کیاوجہ۔ نیز اسی معرکہ میں تیسری شہادت عبداﷲ بن رواحہ
عــــہ : لان تحویلھا فی السنۃ الثانیۃ منہ (م)
اس لئے کہ تحویل قبلہ ھ میں ہوئی ہے۔ (ت)
وھو فی اخر ھذین المرسلین رواہ البیھقی عن طریق الواقدی بسندیہ والیہ اشارفی حدیث ابن سعد عن ابی عامر الصحابی رضی اﷲ تعالی عنہ مرفوعا رأیت فی بعضھم اعراضا کانہ کرہ السیف ۔
وہ بات ان ہی دونوں مرسل کے آخر میں ہے اسے بیہقی نے بطریق واقدی اس کی دونوں سندوں سے روایت کیا ہے اور اسی کی طرف طبقات ابن سعد کی حدیث میں اشارہ ہے جو حضرت ابو عامر صحابی رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ سرکار نے فرمایا ان میں سے ایك کے اندر میں نے کچھ اعراض دیکھا گویا شمشیر سے اسے ناگواری ہوئی۔ (ت)
اور سب سے زائد یہ کہ وہ شہید معرکہ ہیں نماز غائب جائز ماننے والے شہید معرکہ پر نماز نہیں مانتے تو باجماع فریقین یہاں صلوۃ بمعنی دعا ہونالازم جس طرح خود امام نووی شافعی امام قسطلانی شافعی امام سیوطی شافعی رحمہم اللہ تعالی نےصلوۃ علی قبور شہداء احد میں ذکر فرمایا کہ یہاں صلوۃ بمعنی دعاہونے پر اجماع ہے کما اثرناہ فی النھی الحاجز ( جیسا کہ ہم نے اسے النہی الحاجز میں نقل کیا ہے۔ ت) حالانکہ وہاں صلی علی اھل احد صلوتہ علی المیت ( اہل احدس پر ویسے ہی صلوۃ پڑھی جیسے میت پر صلوۃہوتی ہے۔ ت) ہے یہاں اس قدر بھی نہیں وہابیہ کے بعض جاہلان بیخرد مثل شوکانی صاحب نیل الاوطار ایسی جگہ اپنی اصول دانی یوں کھولتے ہیں کہ صلوۃ بمعنی نماز حقیقت شرعیہ ہے اور بلادلیل حقیقت سے عدول ناجائز۔
اقول : اولا ان مجتہد بننے والوں کو اتنی خبر نہیں کہ حقیقت شرعیہ صلوة بمعنی ارکان مخصوصہ ہےیہ معنی خود نماز جنازہ میں کہاں کہ اس میں نہ رکوع ھے نہ سجود نہ قراءت نہ قعود الثالث عندنا والبواقی اجماعا )قراءت ہمارے نزدیك اور باقی تینوں بالاجماع کسی کے یہاں نہیں۔ ت( ولہذا علماء تشریح فرماتے ھیں کہ نماز جنازہ صلوة مطلقا نہیں اور تحقیق یہ کہ وہ دعائے مطلق و صلوة مطلقہ
صحیح البخاری بالصلٰوۃ علی الشہید قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۷۹
لکن التسمیۃ لیست بطریق الحقیقۃ ولا بطریق الاشتراك ولکن بطریق المجاز ۔
لیکن تسمیہ بطور حقیقت نہیں نہ بطور اشتراك بلکہ بطریق مجاز ہے ۔ (ت)
ثانیا : صلوۃ کے ساتھ جب علی فلان مذکور ہو ہرگز اس سے حقیقت شرعیہ مراد نہیں ہوتی نہ ہوسکتی ہے
قال اﷲ تعالی یایها الذین امنوا صلوا علیه و سلموا تسلیما(۵۶) ۔ اللھم صل وسلم وبارك علیہ وعلی الہ کماتحب وترضی وقال وصل علیهم-ان صلوتك سكن لهم- وقال صلی اﷲ علیہ وسلم اللھم صل علی ال ابی اوفی ۔
اﷲ تعالی فرماتا ہے : اے ایمان والو ! ان پر صلوۃ بھیجو او خوب سلام بھیجو ۔ اے اﷲ! ان پر اور ان کی آل پررحمت وسلامتی وبرکت نازل فرما جیسی تجھے محبوب وپسندیدہ ہے۔ اور ارشاد باری ہے : ان پر صلوۃ بھیج بیشك تیری صلوۃ ان کے لئے سکون ہے۔ اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اے اﷲ! آل ابی اوفی پر صلوۃ فرما۔ (ت)
کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ الہی ! تو آل ابی اوفی پر نماز یا ان کا جنازہ پڑھ کیا صلوۃ علیہ شرع میں بمعنی دورد نہیں ولکن الوھابیۃ قول یجھلون ( لیکن وہابیہ نادان قوم ہے ۔ ت)
تنبیہ : بعض حنفی بننے والے یہاں یہ عذر بے معنی پیش کرتے ہیں کہ مدارج النبوۃ میں ہے :
والان درحرمین شریفین معتارف ست کہ چوں خبر اور اس وقت حرمین شریفین میں متعارف ہے کہ
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب سنۃ الصلٰوۃ علی الجنازۃ ادارۃ الطباعۃ المنیر یۃ بیروت ۸ / ۱۲۲
القرآن ۳۳ / ۵۶
القرآن ۹ / ۱۰۳
صحیح البخاری باب ھل یصلی علٰی غیر النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۴۱
جب اطلاع ملتی ہے کہ فلاں مرد صالح بلاد اسلام میں سے کسی شہر میں فوت ہوگیا تو شافعیہ اس کی نماز پڑھتے ہیں اور کچھ حنفی بھی ان کے ساتھ شریك ہوجاتے ہیں ۔ قاضی علی بن جار اﷲ سے جو فقیر کے شیخ حدیث تھے پوچھا گیا کہ حنفیہ اس نماز کی ادائیگی میں کیسے شریك ہوتے ہیں انھوں نے فرمایا کہ ایك دعا ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ (ت)
تمام نصوص صریحہ کتب معتمدہ واجماع جمیع ائمہ مذہب کے مقابل گیا رھویں صدی کے ایك فاضل قاضی کی حکایت پیش کرتے ہوئے شرم چاہئے تھی۔
() امام محقق علی الاطلاق کمال الملۃ والدین ابن الہمام رحمۃ اللہ تعالی علیہ کہ متاخرین تو متاخرین خود ان کے معاصرین ان کے لئے مرتبہ اجتہاد کی شہادت دیتے ان امام جلیل کی یہ حالت ہے کہ اگر کسی مسئلہ مذہب پر بحث کرنا چاہیں تو ڈرتے ڈرتے یوں فرماتے ہیں : لوکان الی شیئ لقلت کذا مجھے کچھ اختیارہوتا تو یوں کہتا۔ ( دیکھوفتح القدیر مسئلہ آمین وکتاب الحج باب الجنایات مسئلہ حلق وغیرہما)پھر جو بحث وہ کرتے ہیں علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں مسموع نہ ہوگی اس پر عمل جائز نہیں مذہب ہی کاا تباع کیا جائے گا۔ ردالمحتار نواقض مسح الخف میں ہے :
قد قال العلامۃ قاسم لا عبرۃ بابحاث شیخنا یعنی ابن الھمام اذا خالف المنقول ۔
علامہ قاسم نے فرمایا : ہمارے استاد امام ابن الہمام کی بحثوں کا کچھ اعتبار نہیں جب وہ مسئلہ منقولہ مذہب کے خلاف ہوں۔
اسی طرح جنایات الحج میں ہے۔ نکاح الرقیق میں علامہ نورالدین علی مقدسی سے ہے :
الکمال بلغ الاجتھاد وان کان البحث لایقضی علی المذھب ۔
امام ابن الہمام رتبہ اجتہاد تك پہنچے ہوئے ہیں اگر چہ بحث مذہب پر غالب نہیں آسکتے۔
فتح القدیر باب صفۃ الصلٰوۃ وباب الجنایات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٢٥٧ و ۲ / ۴۴۸
ردالمحتار باب المسح علی المخفین ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱ / ۱۸۴
ردالمحتار باب نکاح الرقیق ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۲ / ۳۷۸
النص ھو المتبع فلا یعول علی البحث معہ ۔
نقل ہی کا اتباع ہے تو مسئلہ منقول ہوتے ہوئے بحث کا اعتبار نہ ہوگا۔
() تصریح ہے کہ خلاف مذہب بعض مشائخ مذہب کے قول پر بھی عمل نہیں ہم نے العطایا النبویہ میں اس کی بہت نقول ذکر کیں
حلبی علی الدرباب صلوۃ الخوف میں ہے :
لا یعمل بہ لانہ قول البعض ۔
اس پر عمل نہ کیا جائے کہ یہ بعض کا قول ہے۔ تو جوا یك کا بھی قول نہ ہو اس پر کیونکر عمل ہوسکتا ہے۔
() نصوص جلیہ ہیں کہ متون کے مقابل شروح شروح کے مقابل فتاوی پر عمل نہیں۔ ہم نے ان کی نقول متوافرہ اپنی کتاب فصل القضا فی رسم الافتاء میں روشن کیں اور علامہ ابراہیم حلبی محشی در کے قول میں مذکور ہے :
لایعمل بہ لمخالفتہ لاطلاق سائر المتون ۔
اس پر عمل نہیں کہ اطلاق جملہ متون کے خلاف ہے۔
جب نہ متون بلکہ صرف اطلاق عبارات متون کا مخالف ناقابل عمل تو جو متون وشروع وفتاوی سب کے خلاف ہے اس پر عمل کیونکرمحتمل!
() پھر وہ بحث کچھ ہستی بھی رکھتی ہو نماز جنازہ مجرد دعا کے مثل زنہار نہیں۔ دعا میں طہارت بدن طہارت جامہ طہارت مکان استقبال قبلہ تکبیر تحریمہ قیام تحلیل استقرار علی الارض کچھ بھی ضرور نہیں اور نما زجنازہ میں یہ اور ان سے زائد اور بہت باتیں سب فرض ہیں کیا اگر کچھ لوگ اسی وقت پیشاب کرکے بے استنجا بے وضو بے تیمم جنازہ کے پاس آئیں اور ان میں ایك شخص قبلہ کو پشت کرکے جنازہ کی پٹی سے پیٹھ لگا کر بیٹھے اور باقی کچھ اس کے آگے برابر لیٹے بیٹھے کچھ گھوڑو ں پر چڑھے اور اتر دکھن پورب مختلف جہتوں خلاف قبلہ کو منہ کئے ہوں وہ پشتوں میں کہے : الہی! اس میت کو بخش دے اور یہ سب انگریزی وغیرہ میں آمین کہیں تو کوئی
پھر جسے ادنی لیاقت اجتہاد بھی نہیں جمیع ائمہ مذہب کے خلاف اس کی بات کیا قابل التفات! طحطاوی باب العدت میں ہے :
النص ھو المتبع فلا یعول علی البحث معہ ۔
نقل ہی کا اتباع ہے تو مسئلہ منقول ہوتے ہوئے بحث کا اعتبار نہ ہوگا۔
() تصریح ہے کہ خلاف مذہب بعض مشائخ مذہب کے قول پر بھی عمل نہیں ہم نے العطایا النبویہ میں اس کی بہت نقول ذکر کیں
حلبی علی الدرباب صلوۃ الخوف میں ہے :
لا یعمل بہ لانہ قول البعض ۔
اس پر عمل نہ کیا جائے کہ یہ بعض کا قول ہے۔ تو جوا یك کا بھی قول نہ ہو اس پر کیونکر عمل ہوسکتا ہے۔
() نصوص جلیہ ہیں کہ متون کے مقابل شروح شروح کے مقابل فتاوی پر عمل نہیں۔ ہم نے ان کی نقول متوافرہ اپنی کتاب فصل القضا فی رسم الافتاء میں روشن کیں اور علامہ ابراہیم حلبی محشی در کے قول میں مذکور ہے :
لایعمل بہ لمخالفتہ لاطلاق سائر المتون ۔
اس پر عمل نہیں کہ اطلاق جملہ متون کے خلاف ہے۔
جب نہ متون بلکہ صرف اطلاق عبارات متون کا مخالف ناقابل عمل تو جو متون وشروع وفتاوی سب کے خلاف ہے اس پر عمل کیونکرمحتمل!
() پھر وہ بحث کچھ ہستی بھی رکھتی ہو نماز جنازہ مجرد دعا کے مثل زنہار نہیں۔ دعا میں طہارت بدن طہارت جامہ طہارت مکان استقبال قبلہ تکبیر تحریمہ قیام تحلیل استقرار علی الارض کچھ بھی ضرور نہیں اور نما زجنازہ میں یہ اور ان سے زائد اور بہت باتیں سب فرض ہیں کیا اگر کچھ لوگ اسی وقت پیشاب کرکے بے استنجا بے وضو بے تیمم جنازہ کے پاس آئیں اور ان میں ایك شخص قبلہ کو پشت کرکے جنازہ کی پٹی سے پیٹھ لگا کر بیٹھے اور باقی کچھ اس کے آگے برابر لیٹے بیٹھے کچھ گھوڑو ں پر چڑھے اور اتر دکھن پورب مختلف جہتوں خلاف قبلہ کو منہ کئے ہوں وہ پشتوں میں کہے : الہی! اس میت کو بخش دے اور یہ سب انگریزی وغیرہ میں آمین کہیں تو کوئی
پھر جسے ادنی لیاقت اجتہاد بھی نہیں جمیع ائمہ مذہب کے خلاف اس کی بات کیا قابل التفات! طحطاوی باب العدت میں ہے :
النص ھو المتبع فلا یعول علی البحث معہ ۔
نقل ہی کا اتباع ہے تو مسئلہ منقول ہوتے ہوئے بحث کا اعتبار نہ ہوگا۔
() تصریح ہے کہ خلاف مذہب بعض مشائخ مذہب کے قول پر بھی عمل نہیں ہم نے العطایا النبویہ میں اس کی بہت نقول ذکر کیں
حلبی علی الدرباب صلوۃ الخوف میں ہے :
لا یعمل بہ لانہ قول البعض ۔
اس پر عمل نہ کیا جائے کہ یہ بعض کا قول ہے۔ تو جوا یك کا بھی قول نہ ہو اس پر کیونکر عمل ہوسکتا ہے۔
() نصوص جلیہ ہیں کہ متون کے مقابل شروح شروح کے مقابل فتاوی پر عمل نہیں۔ ہم نے ان کی نقول متوافرہ اپنی کتاب فصل القضا فی رسم الافتاء میں روشن کیں اور علامہ ابراہیم حلبی محشی در کے قول میں مذکور ہے :
لایعمل بہ لمخالفتہ لاطلاق سائر المتون ۔
اس پر عمل نہیں کہ اطلاق جملہ متون کے خلاف ہے۔
جب نہ متون بلکہ صرف اطلاق عبارات متون کا مخالف ناقابل عمل تو جو متون وشروع وفتاوی سب کے خلاف ہے اس پر عمل کیونکرمحتمل!
() پھر وہ بحث کچھ ہستی بھی رکھتی ہو نماز جنازہ مجرد دعا کے مثل زنہار نہیں۔ دعا میں طہارت بدن طہارت جامہ طہارت مکان استقبال قبلہ تکبیر تحریمہ قیام تحلیل استقرار علی الارض کچھ بھی ضرور نہیں اور نما زجنازہ میں یہ اور ان سے زائد اور بہت باتیں سب فرض ہیں کیا اگر کچھ لوگ اسی وقت پیشاب کرکے بے استنجا بے وضو بے تیمم جنازہ کے پاس آئیں اور ان میں ایك شخص قبلہ کو پشت کرکے جنازہ کی پٹی سے پیٹھ لگا کر بیٹھے اور باقی کچھ اس کے آگے برابر لیٹے بیٹھے کچھ گھوڑو ں پر چڑھے اور اتر دکھن پورب مختلف جہتوں خلاف قبلہ کو منہ کئے ہوں وہ پشتوں میں کہے : الہی! اس میت کو بخش دے اور یہ سب انگریزی وغیرہ میں آمین کہیں تو کوئی
ردالمحتار بحوالہ حلبی باب صلٰوہ الخوف ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ۱ / ۵۶۸
ردالمحتار بحوالہ حلبی باب صلٰوہ الخوف ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ۱ / ۵۶۸
اتقوا ز لۃ العالم وانتظر وافینئتہ ۔ رواہ الحسن بن علی الحلوانی استاذ مسلم و ابن عدی والبیھقی والعسکری فی الامثال عن عمر وبن عوف المزنی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
عالم کی لغزش سے بچو او راس کے رجوع کا اتنظار رکھو۔ اسے استاذ امام مسلم حسن بن علی حلوانی ابن عدی بیہقی او رامثال میں عسکری نے حضرت عمروبن عوف مزنی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : عالم سے لغزش ہوتی ہے تو وہ اس سے رجوع کرلیتاہے اور اس کی خبر شہروں شہروں پہنچ کر لغزش اس سے منقول رہ جاتی ہے ذکرہ المناوی فی فیض القدیر ( اسے علامہ مناوی نے فیض القدیر میں لکھا ۔ ت)
خدارا نصاف ! ذرایوں فرض دیکھئے کہ کتب مذہب میں جواز نمازغائب وتکرار جنازہ کی عام تصریحات ہوتیں اورایك قاضی ممدوح نہیں ان جیسے دوسو قاضی اسے ناجائز بتاتے اور کوئی شخص کتب مذہب کے مقابل ان دوسو سے سند لاتا تو دیکھیے یہ حضرات کس قدر غل مچاتے اچھل اچھل پڑتے کہ دیکھو کتب مذہب میں تو جواز کی صاف تصریح ہے اور یہ شخص ان سب کے خلاف گیارھویں صدی کے دوسو قاضیوں کی سنددیتا ہم ان کی مانیں یا کتب مذہب کو حق جانیں اور اب جو اپنی باری ہے تو تمام ائمہ مذہب کا اجماع تمام کتب مذہب کا اتفاق سب بالائے طاق اور تنہا قاضی ممدوح کو تقلید کااستحقاق اس ظلم صریح وجہل قبیح کی کوئی حد ہے مگریہ ہے کہ جب کہیں کچھ نہ پایا الغریق یتشبث بالحشیش ڈوبتا سوار ( تنکا ) پکڑتا ہے وباﷲ العصمۃ۔
مدراج النبوۃ نہ کوئی فقہ کی کتاب ہے نہ اس میں یہ حکایت بغرض استناد نہ شیخ کو اس پرتعویل واعتماد وہ حنفی ہیں اور مذہب حنفی خود اسی کتاب میں اسی عبارت سے اوپر بتارہے ہیں مذہب امام ا بو حنیفہ و مالکیہ رحمہم اللہ تعالی آنست کہ جائز نیست (امام ابو حنیفہ
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر حدیث۱٤۷٤٧ اتقو ا الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۴۰
مدرارج النبوۃ انتقال شاہِ حبشہ نجاشی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۳۷۷
پھر اس پر دلیل بتاکر مخالفین کے جواب دیئے ہیں نیز اس حکایت کے متصل ہی حضور پر نور سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے ہر روز بہ نیت جملہ اموات مسلمین نماز غائب پڑھنے کی وصیت نقل کرکے اس پر سکوت نہ کیا کہ کہاں قاضی علی بن ظہرہ اور کہا حضور پر نور غوثیت مآب۔ مبادا غلامان حضور اس سے حنفیہ کے لئے جواز خیال کریں لہذا معا اس پر تنبیہ کو فرمادیا کہ ایشاں حنبلی اندونز دامام احمد بن حنبل جائز است (وہ حنبلی ہیں اور امام احمد بن حنبل کے نزدیك جائز ہے ۔ ت) اگر شیخ کو اس حکایت سے استناد مقصود ہوتا تو یہاں استدراك و دفع وہم نہ فرماتے بلکہ اسے اس کا موید ٹھہراتے کما لا یخفی واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم (جیساکہ پوشیدہ نہیں اور خدائے پاك وبر تر خوب جاننے والا ہے ۔ ت)
جواب سوال سوم : اولا جبکہ آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ نماز غائب وتکرار نماز جنازہ پر دونوں ہمارے مذہب میں ناجائز ہیں اور ہرناجائز گناہ ہے اور گناہ میں کسی کا اتباع نہیں۔ تو امام کا شافعی المذہب ہونا اس ناجائز کو ہمارے لیے کیونکر جائز کرسکتا ہے ! رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاطاعۃ لا حد فی معصیۃ اﷲ تعالی ۔ رواہ البخاری ومسلم وابو داؤد والنسائی عن امیر المؤمنین علی ونحوہ احمد والحاکم بسند صحیح عن عمر ان بن حصین وعن عمر وبن الحکم الغفاری رضی اﷲ تعالی عنہم۔
ناجائز بات میں کسی کی اطاعت نہیں۔ اسے بخاری مسلم ابوداؤد اور نسائی نے امیرالمومنین علی سے اور اسی کے ہم معنی امام احمد او رحاکم نے بسند صحیح عمران بن حصین سے اور عمر بن حکم غفاری سے روایت کیا۔ رضی اللہ تعالی عنہم (ت)
ثانیا : یہاں اطاعت امام کا حیلہ عجیب پادر ہوا ہے۔ بھائیو! وہ تمھارا امام تو جب ہو کہ تم اس کی اقتداء کرو۔ پیش ازا قتداء اس کی اطاعت تم پر کیوں ہو اور جب تمھارے مذہب میں وہ گناہ و ناجائز ہے تو تمھیں ایسے امر میں اس کی اقتداء ہی کب روا ہے یہ وہی مثل ہے کہ کسی کو دن نے کچھ اشعار قبیح وشنیع اغلاط پر مشتمل لکھ کر کسی شاعر کو سنائے۔ اس نے کہا یہ الفاظ غلط باندھے ہیں کہا بضرورت
ثالثا : جائز یا فرض و واجب نمازیں جن میں حنفی حسب شرائط مذکور بحرالرائق وغیرہ۔ اہلسنت کے کسی دوسرے مذہب والے مثلا شافعی وغیرہ کی اقتداء کرے۔ اس میں ہمارے ائمہ تصریح فرماتے ہیں کہ جو امور ہمارے مذہب میں اصل سے محض ناجائز ہیں ان میں اس کی پیروی نہ کرے اگر چہ اس کے مذہب میں جائز ہوں۔ مثلا صبح کی نماز میں وہ قنوت پڑھے تو یہ نہ پڑھے۔ نماز جنازہ میں امام پانچویں تکبیر کہے تویہ نہ کہے عنایہ شرح ہدایہ میں ہے :
انما یتبعہ فی المشروع دون غیرہ ۔
اس کی پیروی صرف مشروع میں کرے گا غیر میں نہیں ۔ (ت)
تنویر میں ہے :
یاتی الماموم بقنوت الوتر لا الفجر بل یقف ساکتا ۔
مقتدی قنوت وتر پڑھے فجر نہ پڑھے بلکہ خاموش کھڑا رہے ۔ (ت)
بحر میں ہے :
لوکبر خمسا فی الجنازۃ حیث لا یتابعہ فی الخامسۃ ۔
اگر امام نے جنازہ کے اند رپانچ تکبیریں کہیں تو پانچویں میں اس کی پیروی نہ کرے ۔ (ت)
جب بعد اقتداء یہ حکم ہے تو قبل اقتداء امر ناجائز ونامشروع میں اقتداء کی اجازت کیونکر ممکن ۔ غرض مذہب مہذب حنفی کا حکم تویہ ہے ۔ باقی جو کوئی غیر مقلد بننا چاہے تو آج کل آزادی و بے لگامی کی ہوا چل رہی ہے ہر شخص کو شتر بے مہارہونے کا اختیار ہے اور اس کے رد میں بحمد اﷲ تعالی ہمارے رسائل النہی الاکید وغیرہ کافی۔
واﷲ المستعان علی اھل طغیان واخردعونا ان الحمد ﷲ رب العلمین و افضل الصلوۃ واکمل
سرکشی والوں کے خلاف خداہی سے مدد طلبی ہے اور ہماری آخر ی پکار یہ ہے کہ تمام حمد خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ اور بہتر
سرکشی والوں کے خلاف خداہی سے مدد طلبی ہے اور ہماری آخر ی پکار یہ ہے کہ تمام حمد خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ اور بہتر
درمختار شرح تنویر الابصار باب الوتر والنوافل مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴
بحرالرائق باب الوتر والنوافل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۵
دورد۔ کامل تر سلام رسولوں کے سردار حضرت محمد پر اور ان کی آل واصحاب سب پر۔ الہی! قبول فرما۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۸۸ : مرسلہ عبدالغفار بن عثمان سرش والہ مقام احمد آباد گجرات محلہ کالو پور خشکلاکی بول جامع علوم مولنا مولوی احمد رضاخاں صاحب بعد از سلام نیاز اینکہ یہاں میرے اور ایك شخص کے درمیان تقریر ہوئی کہ مقولہ میرا یہ ہے کہ حضرت ام المؤمنین خدیجۃ الکبری کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی گئی اگر پڑھی گئی ہے تو پیش امام کون تھا
بنظر عنایت جواب باصواب مع حوالہ کتب معتبرہ ارقام فرمائیں کہ یہاں کے علماء سے تشفی نہیں ہوئی۔
الجواب :
فی لواقع کتب سیر میں علماء نے یہی لکھا ہے کہ ام المومنین خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا کے جنازہ مبارکہ کی نماز نہیں ہوئی کہ اس وقت یہ نماز ہوئی ہی نہ تھی۔ اس کے بعد اس کا حکم ہوا ہے۔ زرقانی علی المواہب میں ہے :
فی رمضان بعد البعث بعشرسنین ماتت الصدیقۃ الطاھرۃ خدیجۃ رضی اﷲ تعالی عنہا ودفنت بالحجون ونزل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حفر تھا ولم تکن یومئذ الصلوۃ علی الجنازۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم
صدیقہ طاہرہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بعثت کے دس سال بعد ماہ رمضان میں وفات پائی او رمقام حجون میں دفن کی گئیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کی قبر میں اترے اس وقت نماز جنازہ نہ تھی۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۸۹ : از شہر بریلی مدرسہ اہلسنت وجماعت مسئولہ مولوی رجب الدین یکے از طلبائے مدرسہ مذکور ۴ ذی الحجہ ۱۳۲۱ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص یہ کہتا ہے کہ قبر شق اکثر ملك میں جو اہل اسلام بناتے ہیں خلاف اور ناجائز طریقے سے بناتے ہی جس کا نقشہ یہ ہے۔
بلکہ قبر شق کی صور ت میں وہ یہ بتاتاہے کہ نقشہ مذکورہ کے درمیان اور ایك بہت چھوٹی سی مثل نہر کے شق بناکر۔ ا س نہر صغیر میں نقش قبلہ رخ دائیں کروٹ پر رکھیں۔ اور شق اسی کو کہتے ہیں ۔ نقشہ یہ ہے :
آیا یہ صورت ثانی جو شخص مذکورہ نے ایجاد کی ہے وہ صحیح ہے یا نہیں اور شق سے یہی مراد ہے اور عبارت علمگیری میں ہے : ان تحفر حفیرۃ کالنھر وسط القبر ( قبر کے درمیان میں نہر کی طرح ایك گڑھا کھود ا جائے ۔ ت) اس حفیرہ سے یہی صورت ثانیہ مراد ہے یا اول ا س کا یہ قول جو اکثر ملکوں میں مروج ہے یہ حفیرہ ہے یعنی قبر اور بعد کھود نے قبر کے نہر صغیر بنا کر مردہ کواس میں رکھے اسی کو شق کہتے ہیں جو کہ نہر کے نیچے آدھ گز سے بھی کم ہوگی۔ پس حضرات مفیتان عظام وعلمائے کرام کثرہم اﷲ تعالی اس مسئلہ میں غور فرماکر موافق مذہب حنفی بحوالہ کتب فتوی دیں عند اﷲ اجر عظیم پائیں۔
الجواب :
فتاوٰی ہندیۃ الفصل السادس فی القبر و الدفن الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۶۶
صفۃ الشق ان تحفر حفیرۃ کالنھروسط القبر ویبنی جانباہ باللین اوغیرہ ویوضع المیت فیہ ویسقف کذافی معراج الدرایۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم
شق کی صورت یہ ہے کہ قبر کے بیچ میں نہرکی طرح مسطیل ایك گڑھا کھودا جائے جس کے دونوں کنارے کچی اینٹوں یا کسی اور چیز سے بنادیں او راس میں میت کو رکھ کر اوپر سے چھت کی طرح بند کردیں۔ ا یسا ہی معراج الدرایۃمیں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مردہ کو قبر کے پچھم جانب سے گور میں ڈالنا چاہئے اوربعض کہتے ہیں کہ دکھن جانب سے ڈالے۔
الجواب :
ہمارے نزدیك مستحب یہی ہے کہ میت کو قبلہ کی طرف سے قبر میں لے جائیں۔ درمختار میں ہے :
ویستحب ان یدخل من قبل القبلۃ بان یوضع من جہتھا ۔ واﷲ تعالی اعلم
مستحب یہ ہے کہ میت کو قبلہ کی طرف سے داخل کریں اس طرح کہ اسی سمت سے اتاریں۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۹۱ : از اپربر ہما ضلع کتھا پوسٹ لین مسئولہ امیر خان دکاندار ۹شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کتب فقہیہ میں لکھتے ہیں کہ میت کا منہ قبلہ کی طرف کیا جائے اس سے کیا مراد ہے اس میں پانچ صورتیں ہیں : پہلی صورت تویہ ہے کہ میت کو صندوقی قبر میں اس طرح سے داہنی کروٹ پر لٹائیں کہ تمام بدن کا بوجھ داہنی کروٹ پر اور داہنی کروٹ کا تمام بوجھ داہنے بازو پر گرے اور میت کی پیشانی ناک گھٹنا صندوق کی داہنی طرف کی دیوار سے لگا کر پشت کی طرف پتھر اور ڈھیلے رکھ دئے جائیں۔ او ردوسری صورت یہ ہے کہ میت کے بائیں پہلوکو اٹھا کر اس کے نیچے ڈھیلے دے کر میت کو بائیں پہلو بل رکھیں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ میت کو چت لٹایا جائے اور فقط منہ ہی قبلہ کی طرف پھیر دی جائے۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ قبر کھودتے وقت قبر کی داہنی طرف تھوڑا نیچا اور بائیں طرف تھوڑا اونچا کر کے کھودی جائے۔ لاش رکھنے کے بعد داہنے پہلو پر ہو کر قبلہ رخ ہوجاتی ہے۔ پانچویں صورت یہ ہے کہ میت کا پاؤں قبلہ کی طرف او رمنہ پورب کی طرف کیاجائے جیسا کہ حالت نزع میں ہے۔ کتب فقہ میں ان صورتوں میں کون صورت مراد ہے اور اگر سب جائز ہیں تو اعلی و افضل کون ہے بینوا توجروا
الجواب :
پانچویں صورت محض ناجائز ہے کہ سنت متواترہ مسلمین کے محض خلاف ہے اور افضل طریقہ یہ ہے کہ میت کو دہنی کروٹ پر لٹائیں۔ اس کے پیچھے نرم مٹی یا ریتے کا تکیہ سابنادیں اور ہاتھ کروٹ سے الگ رکھیں بدن کا بوجھ ہاتھ پر نہ ہو اس سے میت کو ایذا ہوگی۔ حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
بے شك مردے کو اس سے ایذا ہوتی ہے جس سے زندے کو ایذا ہوتی ہے ۔ (ت)
اور اینٹ پتھر کا تکیہ نہ چاہئے کہ بدن میں چبھیں گے اور ایذا ہوگی ا ورناك وغیرہ اعضاء دیوار قبر سے ملادینے کی اجازت نہیں نہ اس کی کوئی وجہ۔ اور جہاں اس میں وقت ہوتو چت لٹا کر منہ قبلہ کو کردیں اب اکثر یہی معمول ہے او راگر معاذاﷲ معاذاﷲ منہ غیر قبلہ کی طرف رہا اور ایسا سخت ہو گیا کہ پھر نہیں سکتا تو چھوڑدیں اورزیادہ تکلیف نہ دیں۔ چھوتی صورت بھی بالکل خلاف سنت ہے اور اس میں بھی میت کے لیے اذیت ہے کہ بیٹھنے میں دقت ہوگی۔ ملائکہ کہ سوال کے لئے آتے ہیں میت کو بٹھاتے ہیں ایسی ڈھلوان جگہ پر بیٹھنا بہت دشوار ہوگا۔ اور دوسری صورت بھی ناقص ہے بہتر پہلی صورت ہے مگر ان اصلاحوں کے بعد جو ہم نے لکھیں۔ درمختار میں ہے :
ویوجہ الیھا وجوبا وینبغی کونہ علی شقہ الایمن ۔ واﷲ تعالی اعلم
واجب ہے کہ اسے قبلہ رو کیا جائے اور اسے داہنی کروٹ پر ہونا چاہئے واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ تا : () قبر میں سے جس قدر مٹی نکلی وہ سب اس پر ڈال دینا چاہئے یا صرف بالشت یا سوابالشت قبر کو اونچا کرنا چاہئے
() میت کو دفن کرتے ہی آدمیوں کو منتشر ہوجانا چاہئے یا گھر پر آن کر فاتحہ پڑھ کر پھر منتشر ہونا چاہئے جیسا کہ آج کل رواج ہے
الجواب :
()صرف بالشت بھر۔ واﷲ تعالی اعلم
() بہتر یہ ہے کہ منتشر ہوجائیں پھر میت کے گھر جانے کو لازم نہ سمجھیں۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از شاہجہان پور محلہ رنگی چوپال مسئولہ سلامت اﷲ رضوی صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ پرانی قبر ہویا جدید (جدید سے مراد جسے بنے ہوئے تھوڑا زمانہ گزرا ہو مگر اس یوم عاشورہ سے پہلے کی ہو) اس خاص کر عاشورہ کے دن پانی چھڑکنا بہتر ہے یہ قول زید کیسا ہے اور عمرو کا سوال یہ ہے کہ یوم عاشورہ سے علاوہ دنوں میں قبروں پر پانی چھڑکنا کیا حکم
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۲۵
الجواب :
بعد دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے اور اگر مرور زمان سے اس کی خاك منتشر ہوگئی ہوا ور نئی ڈالي گئی یا منتشر ہوجانے کا احتمال ہو تو اب بھی پانی ڈالا جائے کہ نشانی باقی رہے اور قبر کی توہین نہ ہونے پائے بہ علل فی الدر وغیرہ ان لایذھب الاثر فیمتھن ( درمختا وغیرہ میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ نشانی مٹ جانے کے سبب بے حرمتی نہ ہو ۔ ت) اس کے لئے کوئی دن معین نہیں ہوسکتا ہے جب حاجت ہو اور بے حاجت پانی کا ڈالنا ضائع کرنا ہے اور پانی ضائع کرنا جائز نہیں اور عاشورہ کی تخصیص محض بے اصل وبے معنی ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۵ : از شہر علی گڑھ محلہ مدار دروازہ مرسلہ عمر احمد صاحب سوداگر پارچہ بنارسی ۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ہندہ کو قبر میں اتارنے اور تختے لگانے کے بعد مٹی کچھ ہی دی گئی کہ باران رحمت شروع ہوگئی ہندہ کی قبر پر بارش کے پانی کے علاوہ اور پانی ڈالنے کی ضرورت نہ ہوئی۔ کچھ اشخاص کہتے ہیں جس مردہ کی قبر پر بجائے پانی دنیا کے باران رحمت ہو وہ مردہ جنتی ہے اس کی کچھ اصلیت شرع میں ہے یا نہیں فقط
الجواب :
بارش رحمت فال حسن ہے خصوصا اگر خلاف عادت ہو۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۹۶ : از شہر کہنہ ۱۱جمادی الاخری ۱۳۱۷ ھ
چہ می فرمایند علمائے دین کہ بعد مردن میت تادفن میت از کدام چل سوال از میت می پر سند۔ بینوا توجروا۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ میت کے مرنے کے بعد سے دفن ہونے تك کون سے چالیس سوال میت سے ہوتے ہیں بینوا توجروا۔ (ت)
الجواب :
سوال از میت بعد دفن ست پیش ازاں ہیچ سوالے درحدیث نیامدہ ۔ واﷲ تعالی اعلم میت سے سوال دفن کے بعد ہوتا ہے اس سے پہلے کوئی سوال حدیث میں نہ آیا۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۹۷ : از موضع شمس آباد ضلع کیمل پور پنجاب مسئولہ مولوی غلام ربانی صاحب ۱۱جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین خصوصا حضرت عالم اہلسنت وجماعت مجدد مائۃ حاضرہ زید مجدہم اس مسئلہ میں کہ ضلع کیمل پور کے پچاس ساٹھ موضع میں اور ایسا پشاور کے ضلع میں دس بیس موضع میں گاہے گاہے
من رش الماء علی القبر و القی التہ التی حفربھا القبر امن من عذاب القبر اھ
جس نے قبر پر پانی چھڑکا اور جس سامان سے قبر کھودی گئی تھی اسے ڈال دیا تو عذاب قبر سے مامون ہو ا ۔ (ت)
کسی کتاب کے اندر سے یہ مسئلہ نہیں دکھاسکتے فقط کسی کتاب کے وقایہ پرلکھا یا دکھاتے ہیں جوکہ خود انھوں نے یا ان کے باپ دادا نے لکھا ہوگا منیۃ المریدین او رخزانۃ الروایات کا حوالہ دیتے ہیں مگروہ بھی غلط ہے کیو نکہ عرصہ تین سال سے چند کتب خانے تلاش کرچکے نہ وہ کتابیں ان کو ملیں نہ اور کسی کتاب سے اس کا شاہد پایا کسی اپنے باپ دادا اور کسی مولوی اخوندزادہ کا قول و فعل ثابت کرتے ہیں او ریہ رواج بھی ابھی پچاس ساٹھ سال کا ہے او رعلمائے کرام پنچاب وافغانستان کہ جو اس فعل کے مانع ہیں وہ کہتے ہیں کہ اول جملہ اس عبارت کا تو بیشك منصوص ہے مگر جملہ القائے الات کا مخترعہ ہے ابتداء یوں ہوئی ہوگی کہ بعد دفن میت کے آلات قبر کو بطور شمار کرنے کے سرہانے والے نے پاؤں والے کی طرف کو ( جوکہ عادۃ بعد دفن کھڑے ہوکر جانا چاہتے ہیں تو اس وقت بیلچہ گرووں معول شمار کرکے اپنا اپنا لے جاتے ہیں) دینے یا شمار کرنے کے لئے پھینك دیا ہوگا کسی نے نادانی سے اس کا اس صورت سے ڈالنا ہی سمجھ لیا ہوگا۔ بعد کو جب نزاع ہوا ہوگا تو مروج نے عزت بچانے کے لئے یہ عبارت بنا کر حدیث کی عبارت سے مناسبت دیکھ کر ملالی ہوگی۔ اور واقعی ایسا بہت جگہ ہوا ہے کہ پہلے زمانے کے بعض کم علموں نے اپنی کسی بات کی تحقیق وتاکید کے لئے قلمی کتابوں میں جو جو مضمون بڑھایا یا کم کیا اب وہ چھاپے ہوجانے کے بعد ان کا پتا چل رہا ہے ۔ مانعین کہتے ہیں کہ اس کام کو ثواب سے کیا علاقہ ہے ایك مولوی اس فعل بے اصل کے فاعل نے یہ جواب بھی دیا ہے کہ جیساکہ ان آلات کو میت کی قبر کھودنے میں تکلیف ہوئی ہے اب مناسب ہے کہ یہ آلات بھی میت کے اوپر سے گزریں تاکہ بدلہ ہوجائے اس کا جواب بھی ترکی بہ ترکی دیا گیا کہ چاہئے کہ گورکن لوگ بھی میت یا اس کی قبر سے کود کر پاؤں کی طرف کو چلے جایا کریں عجیب جہالت ہے۔ بعدہ علمائے مانعین نے اشتہار دے دیا کہ فعل بدعت سیئہ معلوم ہوتا ہے۔ ہزاروں کتابیں تلاش کی گئیں پتا نہ ملا اور مجوزین بھی نہیں دکھا سکتے۔ لہذا ترك کرنا چاہئے۔ زید امام مسجد کہتا ہے کہ عدم ذکر فی الکتب کے ساتھ دلیل عدم جواز اس فعل پر لانا درست نہیں۔ عبارت اس کے مکتوب کی یہ ہے :
۱عدم وجود المسئلۃ فی کتب الفقہ واصول الفقہ والتفسیر والحدیث وغیرھا نفی الذکر و الذکر فی الکتب من الدلیل
(۱) مسئلہ کا فقہ اصول فقہ تفسیر حدیث وغیرہ کی کتابوں میں موجود نہ ہو نا نفی ذکر ہے۔ اور دلیل کتابوں میں مذکور ہونا ہے تو نفی ذکر سے تمسك بلا دلیل ہے
اور تمسك بلادلیل ان وجوہ فاسدہ سے ہے جن کا حنفیہ کے نزدیك کوئی اعتبار نہیں جسا کہ صاحب غایۃ التحقیق شرح حسامی اور صاحب نورالانوار شرح منار نے ذکر کیاہے۔ () حرمت او رکراہت ایسے حکم شرعی ہیں جن کے لئے دلیل ضروری ہے جیسا کہ ردالمحتار کی عبارت والنتن الذی الخ میں اس کی صراحت ہے اور اشیاء میں اصل اباحت اصلیہ ہے جیسا کہ اشباہ میں لکھا ہوا ہے اور یہاں ان دونوں پر کوئی دلیل نہیں تو فتوے کی رو سے القائے مذکور کا حکم اباحت اصلیہ پر باقی رہا۔ اس کے ساتھ متعدد مقامات کے علماء کا تعامل بھی شامل ہے جوایك قسم اجماع ہے جیسا کہ فصول الحواشی لاصول الشاشی میں مذکور ہے۔ (۳) بدعت سیئہ وہ ہے جو ویسی ہی سنت کو ختم کرنے والی ہو جیسا کہ مشکوۃ المصابیح میں صراحت ہے۔ اور جب معتبر دلیل سے عدم القاء کا مسنون ہونا ثا بت نہیں تو لقاء کو بدعت کیسے کہا جارہا ہے! ۴) کتب معتبرہ کا سکوت (ذکر منفی) ایجاب وسلب سے اعم ہے تو مانع سلب کو ایجاب پر ترجیح کیسے دے دی گئی !(۵) کتابیں القاء کے منع وفعل سے ساکت ہیں' او رساکت کا کوئی حکم نہیں ہوتا جیسا کہ متعدد کتب اصول فقہ میں ارشاد باری تعالی ومن لم یستطع منکم طولا الخ کی تعلیق کے تحت مذکور ہے ۔ (ت)
تمام ہوئی مولوی مجوز کی جس رسم خط سے کہ اس نے لکھی تھی۔ عرضیہ نیاز فقیر خادم دربار محمد غلام ر بانی
بیشك فعل مذکور بروجہ مذبوربدعت سیسہ شنیعہ واجب الترك ہے۔ فی نفسہ وہ ایك فعل عبث تھا جس میں عقلا ونقلا کوئی فائدہ نہیں اوراس کی وجہ کہ مجوز نے بیان کی محض مضحکہ ہے۔ آلات کو تکلیف ہونا کیا معنی ! اور ہوبھی تو اس گزار دینے میں ان کو کیا ارام یہ بھی حرکت ہے کہ باعث تکلف ہے اور میت پر کیا تکلیف کہ بدلہ ہو اور ہو بھی تو میت کا کیا قصور! تکلیف حفاروں نے دی یاحفر کرانے والوں نے تو ان پر سے آلات گزارے جائیں اور بالفرض میت مجرم ہے کہ اس کے سبب تکلیف ہوئی تو احیاء بدرجہ اولی تو عمارت بنوانے والا اگر چہ بادشاہ کہ قلعہ بنوائے روز شام کو تمام آلات معماران ومزدوران اس پر سے گزارے جائیں۔ نہیں نہیں یہ خود اس پر سے اتریں کہ حقیقۃتکلیف تو انہی کو ہوئی۔ اور میت پر سے چارپائی کیوں نہیں اتاری جاتی جو اس نے راستے بھر توڑی آلات اس کا شکر نہیں کرتے کہ ان سے اقامت فرض کی' الٹے شاکی ہوتے ہیں اور فرض میں جب یہ بدلہ ہے تو خطیب کہ محض ادائے سنت کےلئے منبر پر بوجھ ڈالتا ہے وہاں تو سر سے منبر اتا ر دینا کافی بھی نہ ہوگا بلکہ بعد خطبہ خطیب کے سر پر منبر لاد دینا چاہئے غرض جہل عجیب چیز ہے اس کے رد میں اطاعت سے زیادہ وقت عزیز ہے ہاں اس سے اس کا عبث ہونا زیادہ واضح ہوگیا کہ اس کے حامی بھی کوئی فائدہ نہ بتاسکے ناچار مضحکہ تراشا اور عبث بجائے خود بیہودہ ہے نہ کہ قبرو میت کے ساتھ کہ محل تذکر واعتبار ہیں نہ کہ جائے لغویات بیکار ایسی ہی جگہ کے لئے ارشاد ہدایہ و درر و غنیہ وتقریر کفایہ وعنایہ و فتح القدیر ہے :
العبث خارج الصلوۃ حرام فما ظنك فی الصلوۃ ۔
عبث نمازکے باہر ہو تو حرام ہے پھر نماز کے اندر ہو تو کیساہوگا ۔ (ت)
پھرا س عبث مبغوض کو دین میں نافع اور میت سے عذاب کا دافع سمجھ کر کرتے ہیں یہ قطعا شرع میں زیادت و اختراع وشنیع ابتداع ہے اور حدیث کے نام سے جو عبارت پیش کی ساختہ کذاب و ضاع ہے جاہل کو عبارت بنانی بھی نہ آئی یا اجہلوں نے اپنی جہالت بڑھائی القی التہ التی حفربھا القبر سے یہ مضمون کیونکر ادا ہوا کہ قبر پر سے اتاریں خصوصا یوں کہ سرہانے سے پائنتی پھینکیں اور من کی جزا میں امن من عذاب القبر تو اس کا مفید کہ ایسا کرنے والا عذاب قبر سے محفوظ رہے گا نہ کہ میت۔ بالجملہ اس بدعت عبث عند القبر بلکہ عبث مع القبر نے سنیت تذکرو اعتبار کا رفع کیا اور اس ادعائے امن من عذاب
وقد فرغنا من ابانتہ فی کتابنا شمائم العنبر فی ادب النداء امام المنبر ھذا وقد اند فعت بما ذکرنا قعا قع المجوزین بامرہ۔ واﷲ تعالی اعلم
ہم اسے اپنی کتاب “ شمائم العنبر فی ادب النداء امام المنبر “ میں بیان کرچکے ہیں یہ ذہن نشین رہے اور ہمارے بیان سے اس کام کو جائز کہنے والوں کی بے معنی آوازیں دفع ہوگئیں اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے ۔ (ت)
مسئلہ : از دلیر گنج پرگنہ جہان آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ خلیفہ الہی بخش رجب ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ یا شب جمعہ کے سوا کسی اور دن میں مسلمان کا اتنقال ہو تو اس کو جمعہ کے سپرد کرنا یعنی جمعہ تك قبر پر بیٹھنا درست ہے یا نہیں
الجواب :
بعد دفن اتنی دیر بیٹھنا کہ ایك اونٹ ذبح کیا جائے مسنون ہے۔ صحیح مسلم شریف میں اس بارے میں حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث وارد ہے اور زیادہ دیر یا دنوں تك بیٹھنا بھی ممنوع نہیں بلکہ وہاں لغو وبیہودہ باتیں کرنے ہنسنے وغیرہ غفلت وقسوت کی حرکات سے بچیں اور تلاوت و درود خوانی اور اعمال حسنہ میں مشغول رہیں کہ یہ امور موجب نزول رحمت ہوتے ہیں اور احیاء کے پاس ہونے سے مردے کا دل بہلتا ہے کما بیناہ فی حیاۃ الموات ( جیسا کہ اسے ' حیات الموات' میں بیان کیاہے ۔ ت) جمعہ تك بیٹھنے کا منشاء غالبا وہ روایت ہے
صحیح مسلم کتاب الایمان نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٧
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ ف فلینفعہ ۔ رواہ مسلم عن جابربن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما۔
تم میں جو اپنے بھائی مسلمان کو نفع پہنچاسکے پہنچائے اسے مسلم نے جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے ۔ (ت)
بہر حال یہ کام خیر سے خالی نہیں جبکہ نیۃ یا عملا اس کے ساتھ کوئی محذور شرعی نہ ہو۔ شرح الصدور شریف میں ہے :
عمم النسفی فی بحرالکلام فقال ان الکافر یرفع عنہ العذاب یوم الجمعۃ ولیلتھا وجمیع شھر رمضان قال واما المسلم العاصی فانہ یعذب فی قبرہ لکن یرفع عنہ العذاب یوم الجمعۃ ولیلتھا ثم لایعود الیہ الی یوم القیمۃ وان مات یوم الجمعۃ اولیلۃ الجمعۃ یکون لہ العذاب ساعۃ واحدۃ وضغطۃ القبر کذلك ثم ینقطع عنہ العذاب ولایعود الیہ الی یوم القیمۃ انتھی وھذا یدل علی ان عصاۃ المسلمین لا یعذبون سوی جمعۃ واحدۃ وحدۃ اودونھا وانھم اذا
امام نسفی نے بحرالکلام میں عام لگاتے ہوئے کہا کہ روز شب جمعہ اور پورے ماہ رمضان میں کافر سے عذاب اٹھالیا جاتا ہے او رگنہگار مسلمان کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے مگر اس سے روز اور شب جمعہ اٹھا لیا جاتا ہے پھر قیامت تك دوبارہ عذاب نہیں ہوتا اور اگرروز جمعہ یا شب جمعہ کو انتقال کیا ہے تو صرف ایك ساعت عذاب ہوتا ہے۔ قبر کے دبانے کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔ پھر اس سے عذاب بند ہوجاتا ہے اور قیامت تك پھر نہیں لوٹتا۔ انتہی۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ گنہگار مسلمانوں کو ایك جمعہ تك یا ا س سے بھی کم عذاب ہو گا اور جب
جمعہ کادن آجائے گا تو بند ہوجائے گا پھر دوبارہ نہ ہوگا۔ اس بارے میں دلیل کی ضرورت ہے انتہی ۔ (ت)
اسی طرح منح الروض الازہر میں ہے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ تا ۱۰۲ : کیا فرماتے ہین علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) میت کا دفن بلا اجازت کسی شخص کی اراضی میں کوئی قابل مواخذہ فعل ہے
() کیا ایسا کرنے والے گنہگارنہ ہوں گے
() کیا میت کے حق میں یہ فعل اولی ہے
() اگر میت وصیت اس کے متعلق کرے توکیا پسماندہ گان میت اس پر اس طور سے عمل کریں کہ بلااجازت مالك زمین کے میت کو دفن کردیں تو کیا عندالشرع ی فعل میت یا پسماندگان کے واسطے موجب ثواب ہوگا
الجواب :
بے اجازت مالك اس کی زمین میں دفن کرنا حرام ہے۔ ایسا کرنے والے گنہگار ہیں میت اگر اس کی وصیت یوں کر گیا کہ چاہئے مالك اجازت دے یا نہ دے مجھے وہیں دفن کرنا تو وہ بھی سخت گنہگار ہے۔ میت یا پسماندگان کے لئے ثواب کیسا! اس میں استحقاق عذاب ہے مالك کو اختیار ہے کہ میت کی نعش نکال دے اور اپنی زمین خالی کرلے یا نعش رہنے دے اور قبر برابر کرکے اس پر جو چاہے بنائے چلے پھرے تصرف کرے کہ قبر کی جو حدیثیں ہیں ایسی ناجائز قبرکے لیے نہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : لیس لعرق ظالم حق ( کسی ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں ۔ ت) درمختار میں ہے :
لا یخرج منہ بعد اھالۃ التراب الالحق ادمی کان تکون الارض مغصوبۃ ویخیر المالك بین اخراجہ ومساواتہ بالارض ۔
مٹی ڈالنے کے بعد میت کو قبر سے نہ نکالا جا ئے گا مگر کسی آدمی کے حق کے باعث مثلا یہ کہ زمین غضب کی ہوئی ہو اور مالك کو اختیار ہوگا کہ مردہ کو باہر نکالے یا قبر زمین کے برابر کردے ۔ (ت)
سنن ابی داؤد باب احیاء الموات آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ٨١
درمختار باب صلٰوۃ الجنازہ مطبع مجتبائی دہلی ٣ / ١٢٦
مسئلہ : از حیدر آباد دکن شہر سکندر آباد محلہ نلاگٹہ مکان سید محمد اکبر صاحب ماسٹر ریلوے مرسلہ سید غلام غوث صاحب صفر ھ
زمین جو دوامی پٹہ کی ہو اس میں دفن جائزہے یا نہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ دفن کے لیے ملکی زمین چاہئے پھر اس بناء پر تو جاگیرات میں دفن جائز نہ ہوگا ۔ بینوا توجروا
الجواب :
بلاشبہ جائز ہے جبکہ بااجازت مستاجر ہو۔ ملك غیر ہونا منافی جواز دفن نہیں غایت یہ کہ مالك کو ازالہ قبر کا اختیار ہوگا۔ مگر جب اس کا اجارہ دوامی ہو تو مالك کی طرف سے یہ اندیشہ بھی نہیں یہاں تك کہ علماء نے دوامی اجارہ کی زمین میں مسجد بنانے کی اجازت دی او راس میں وقف صحیح مانا اسی بنا پر کہ وہ ہمیشہ رہے گی تو تائید حاصل ہے ۔ ردالمحتار میں ہے :
قال فی اسعاف وذکر فی اوقاف الخصاف
اسعاف میں ہے کہ اوقاف خصاف میں مذکور ہے
القرآن ٢٤ / ٢٢
الاسرارالمعرفوعۃ حرف الجیم حدیث ٣٩٤ دارالکتب العلمیّتہ بیروت ص ١٠٣
مشکٰوۃ المصابیح باب الشفقۃ علی الخلق مطبع مجتبائی دہلی ص٤٢٢
صحیح مسلم باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن نور محمد اصح المطابع کراچی ٢ / ٣٤٥
کہ دکانوں کاوقف جائزہے اگر زمین اجارہ کے ذریعہ ان لوگوں کے قبضے میں ہو کہ سلطان ان کو اس سے نہ نکالے اس لیے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تعمیر کرنے والوں کے ہاتھ میں رہتی ہیں ان کے درمیان ان میں وراثت اور تقسیم جاری ہوتی ہے سلطان ان سے کوئی تعرض نہیں کرتا۔ نہ ہی ان کو پریشا ن کرتا ہے بس اس کے لیے کچھ مقررہ آمدنی ہوتی ہے جو ان سے وصول کرتا ہے۔ یہ دستور پشت ہا پشت سے چلا آرہا ہے اور یہ ان کے ہاتھ میں اس طرح ہیں کہ یہ ان کی خرید وفروخت اور اجارہ پر دینے کا تصرف کرتے رہتے ہیں ان کی وصیتیں ان میں نافذ ہوتی ہیں عمارت گراتے بناتے رہتے ہیں تو اسی طرح ان کا وقف بھی جائز ہوگا۔ (عبارت ختم ہوئی) اسے فتح القدیر میں بھی برقرار رکھا ہے۔ اور اس کی وجہ جیسا کہ معلوم ہوا وہ بقائے تابید ہے____ او ر خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ ت )
مسئلہ : از گور کھپور شوال۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میونسپلٹی مسلمانوں سے چاہتی ہے کہ تم اپنے مردے باہر شہر کے دفن کرو اور اگر کوئی امر مانع ہو تو اس قطعہ زمین میں دفن کرو جو اس کام کے لئے میونسپلٹی اپنے ہاتھ میں رکھے گی اور تم سے بابت دفن ان مردہ مسلمانوں کے جن کی فیس ناداری کی وجہ سے کسی طرح ادا نہیں ہوسکتی ایك فیس مقررہ لے گی او رخام وپختہ میں فرق ہوگا۔ اور زمین خریدنے کا قاعدہ یہ ہے کہ گو بیچنے والا راضی نہ ہو بیچنا نہ چاہتا ہو یہ کتنی ہی تعداد میں قیمت مانگتا ہو مگر اس کی پروا نہیں کی جائے گی نہ وہ راضی کیا جائیگا بلکہ قاعدہ سرکاری کی مقررہ قیمت ا س کو دے دی جائے گی او ر اس زمین پر مالکانہ قبضہ کر لیا جائے گا۔ ایسی صورت میں میونسپلٹی کی آمدنی سے اس طرح زمین کا معاوضہ جبر کے ساتھ خریدنا جیسا کہ بیان کیا گیا شرعا
الجواب :
چونگی کا روپیہ درکنار اگر کوئی مسلمان ہی اپنے خاص مملوك بملك حلال وطیب سے زمین اس طریقہ جبر پر خریدے وہ قطعا حرام ہوگی اور زمین حکما مغصوب او راس میں بروجہ مذکور مردوں کا دفن کرنا حرام و معصیت یہاں تك کہ بعد دفن مردہ کا قبر سے نکالنا حرام مگر اسکے باوجود ایسی جگہ قبر کھود کر دوسری جگہ دفن کرنا چاہئے فتاوی قاضی خاں و فتاوی عالمگیری میں ہے :
لاینبغی اخراج المیت من القبر بعد ما دفن الااذا کانت الارض مغصوبۃ او اخذت بشفعۃ۔ واﷲ تعالی اعلم
بعد دفن میت کو قبر سے نکالنا چاہئے مگر جب زمیں غصب کی ہوئی یا حق شفعہ سے دوسرے نے لے لی ہو۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۰۵ تا ۱۰۹ : از فتحپور ہسورہ محلہ جری ٹولہ مرسلہ محمود علی صاحب اہلمد کلکٹری ربیع الآخر ھ
() قبرستان باشندگان قر ب وجوار کے لئے مضر صحت ہوسکتا ہے یا نہیں
() تبدیلی قبرستان بلاعذر شرعی جائز ہے یا نہیں
() جدید قبرستان ایسی اراضی میں کہ جس میں پہلے غلیظ دفن ہورہا ہے جاری کرنا جائز ہے یا نہیں
() جدید قبرستان ایسی اراضی میں کہ جس کے قرب میں اب غلیظ دفن ہورہا ہے جائز ہے یا نہیں
() مردہ کو کس طرح قبر میں دفن کرنا چاہئے جواب بحوالہ کتب معتبرہ مرحمت ہو۔
الجواب :
() شریعت مطہرہ نے قبر کا گہرا ہونا اسی واسط رکھا ہے کہ احیاء کی صحت کر ضرر نہ پہنچے درمختار میں ہے :
حفر قبرہ مقدار نصف قامۃ فان زاد فحسن ۔
میت کی قبر نصف قد کے برابر کھودی جائے اگر زیادہ ہو تو اچھا ہے ۔ (ت)
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٤
وان زاد الی مقدار قامۃ فھو احسن کما فی الذخیرۃ وھذا احدالعمق والمقصود منہ المبالغۃ فی منع الرائحۃ ونبش السباع ۔
اگر قد برابر زیادہ کیا تو زیادہ اچھا ہے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے اور یہ گہرائی کی حد ہے اس کا مقصد بو روکنے اور درندوں کے اکھاڑنے سے بچانے میں مبالغہ ہے ۔ (ت)
بلکہ ہزاروں لاکھوں آدمی مقابر کے قریب بستے ہیں بلکہ ہزاروں وہ ہیں جن کا پیشہ ہی تکیہ داری یا قبور کی مجاورت ہے ان کی صحت میں اس سے کوئی فرق نہیں آتا جیسا کہ مشاہدہ ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
() تبدیلی سے اگر یہ قبرستان کو کوئی اور مکان کسی کے رہنے بسنے کا یا مسجد یا مدرسہ لیا جائے اور قبور کے لئے دوسری زمین دے دی جائے تو یہ قطعی حرام اور بوجوہ حرام کہ وقف میں تصرف بیجا ہے اور وقف نہ بھی ہو تو قبور مسلمین کی توہین وبیحرمتی ہے۔ قبر پر چلنا پھرنا پاؤں رکھنا حرام ہے چہ جائکہ انھیں پامالی کے لیے مقرر کرلینا ____ اس کی تفصیل ہمارے رسالہ اھلاك الوھابین فی توھین قبور المسلمین میں ہے۔ عالمگیری میں ہے :
لا یجوز تغییر الوقف عن ھیئتہ ۔
وقف کی ہیأت بدلنا جائز نہیں ۔ (ت)
ہدایہ میں ہے :
فی غایۃ القبح ان یقبر فیہ الموتی سنۃ ویزرع سنۃ ۔
بہت زیادہ برا یہ ہے کہ ا س میں ایك سال مردے دفن ہوں اور ایك سال کھیتی ہو ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
انھم نصوا علی ان المرور فی سکۃ حادثۃ فیھا حرام ۔
علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ قبرستان کے اندر نوپیدا راستے میں چلنا حرام ہے ۔ (ت)
اسی طرح طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے اور اگر یہ مراد ہے کہ مقبرہ بدستور رکھا جائیے گام اس میں
فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الوقف الباب العاشرفی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ٢ / ٤٩٠
الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیۃ کراچی ٢ / ٦١٨
ردالمحتار فصل الاستنجاء ادارۃ الطباعۃ العربیۃ مصر ١ / ٢٢٩
لایخرج منہ بعد اھالۃ التراب الالحق ادمی کان تکون الارض مغصوبۃ اواخذت بشفعۃ ویخیر المالك بین اخراجہ ومساواتہ بالارض ۔
مٹی ڈال دینے کے بعد قبر سے مردے کو نکالا نہ جائے گا مگر کسی انسان کے حق کی وجہ سے مثلا زمین غصب کی ہو یا شفعہ کی وجہ سے لے گئی ہو او رمالك کو اختیار ہوگا کہ مردے کو نکال دے یا قبر زمین کے برابر کردے (ت)
اگر وہ کسی کا مملوك نہیں بلکہ وقف ہے تو وقف میں دست اندازی کا کسی کو حق نہیں الوقف لا یملك ( وقف کسی آدمی کی ملکیت نہیں ہوتا ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
() یہ حرام او ر سخت توہین اموات اہل اسلام ہے۔ مقابر میں پاخانہ پھر نا حرام ہے حالاں کہ وہ اوپر ہی رہے گا اموات تك نہ پہنچے گا تو یہ صورت کیونکر حلال ہوسکتی ہے درمختار میں ہے : یکرہ بول وغائط فی المقابر ( قبرستان میں پیشاب اور پاخانہ مکروہ ہے ۔ ت)طحطاوی و ردالمحتار میں ہے : الظاھر انھا تحریمۃ ( ظاہر یہ ہے کہ مکروہ تحریمی ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
() اس سے بھی شرعا منع کیا جائے گا جو لوگ دفن کے لئے جائیں انھیں ایذا ہوگی جو فاتحہ کو جائیں انھیں ایذا ہوگی او ران سے قطع نظر کیجئے ان کی ایذا تو اتنی دیر کے لئے ہوگی جب تك وہاں رہیں گے اموات کے لیے یہ آٹھ پہر کی ایذا ہوگی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان المیت یتأذی مما یتأذی منہ الحی ۔
کوئی تصرف نہ کیا جائے گا۔ مگراس میں دفن کرنا روك دیا جائے گا اور اس کے عوض دوسری زمین میں دفن کرنے لگیں تو یہ اگریوں ہے کہ پرانا مقبرہ بالکل بھرگیا اور اس میں کہیں قبر کی جگہ نہ رہی توبے شك مناسب ہے اگر دوسری جگہ معقول وقابل قبور مسلمین مل سکے اور اگریہ بھی نہیں بلکہ قبور کے لئے جگہ موجود ہے اور پھر منع کیاجائے تو دو صورتیں ہیں اگر وہ جگہ جہاں اموات دفن ہو تے تھے کسی شخص خاص کی ملك ہے کہ اس کی اجازت سے دفن ہوتے تھے تو بلاشبہ اسے اختیار ہے کہ میت کو نکلوادے۔ درمختار میں ہے :
لایخرج منہ بعد اھالۃ التراب الالحق ادمی کان تکون الارض مغصوبۃ اواخذت بشفعۃ ویخیر المالك بین اخراجہ ومساواتہ بالارض ۔
مٹی ڈال دینے کے بعد قبر سے مردے کو نکالا نہ جائے گا مگر کسی انسان کے حق کی وجہ سے مثلا زمین غصب کی ہو یا شفعہ کی وجہ سے لے گئی ہو او رمالك کو اختیار ہوگا کہ مردے کو نکال دے یا قبر زمین کے برابر کردے (ت)
اگر وہ کسی کا مملوك نہیں بلکہ وقف ہے تو وقف میں دست اندازی کا کسی کو حق نہیں الوقف لا یملك ( وقف کسی آدمی کی ملکیت نہیں ہوتا ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
() یہ حرام او ر سخت توہین اموات اہل اسلام ہے۔ مقابر میں پاخانہ پھر نا حرام ہے حالاں کہ وہ اوپر ہی رہے گا اموات تك نہ پہنچے گا تو یہ صورت کیونکر حلال ہوسکتی ہے درمختار میں ہے : یکرہ بول وغائط فی المقابر ( قبرستان میں پیشاب اور پاخانہ مکروہ ہے ۔ ت)طحطاوی و ردالمحتار میں ہے : الظاھر انھا تحریمۃ ( ظاہر یہ ہے کہ مکروہ تحریمی ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
() اس سے بھی شرعا منع کیا جائے گا جو لوگ دفن کے لئے جائیں انھیں ایذا ہوگی جو فاتحہ کو جائیں انھیں ایذا ہوگی او ران سے قطع نظر کیجئے ان کی ایذا تو اتنی دیر کے لئے ہوگی جب تك وہاں رہیں گے اموات کے لیے یہ آٹھ پہر کی ایذا ہوگی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان المیت یتأذی مما یتأذی منہ الحی ۔
جس چیز سے زندہ کو ایذا پہنچتتی ہے اس سے مردہ کو بھی ایذا ہوتی ہے۔
جس چیز سے زندہ کو ایذا پہنچتتی ہے اس سے مردہ کو بھی ایذا ہوتی ہے۔
کوئی تصرف نہ کیا جائے گا۔ مگراس میں دفن کرنا روك دیا جائے گا اور اس کے عوض دوسری زمین میں دفن کرنے لگیں تو یہ اگریوں ہے کہ پرانا مقبرہ بالکل بھرگیا اور اس میں کہیں قبر کی جگہ نہ رہی توبے شك مناسب ہے اگر دوسری جگہ معقول وقابل قبور مسلمین مل سکے اور اگریہ بھی نہیں بلکہ قبور کے لئے جگہ موجود ہے اور پھر منع کیاجائے تو دو صورتیں ہیں اگر وہ جگہ جہاں اموات دفن ہو تے تھے کسی شخص خاص کی ملك ہے کہ اس کی اجازت سے دفن ہوتے تھے تو بلاشبہ اسے اختیار ہے کہ میت کو نکلوادے۔ درمختار میں ہے :
لایخرج منہ بعد اھالۃ التراب الالحق ادمی کان تکون الارض مغصوبۃ اواخذت بشفعۃ ویخیر المالك بین اخراجہ ومساواتہ بالارض ۔
مٹی ڈال دینے کے بعد قبر سے مردے کو نکالا نہ جائے گا مگر کسی انسان کے حق کی وجہ سے مثلا زمین غصب کی ہو یا شفعہ کی وجہ سے لے گئی ہو او رمالك کو اختیار ہوگا کہ مردے کو نکال دے یا قبر زمین کے برابر کردے (ت)
اگر وہ کسی کا مملوك نہیں بلکہ وقف ہے تو وقف میں دست اندازی کا کسی کو حق نہیں الوقف لا یملك ( وقف کسی آدمی کی ملکیت نہیں ہوتا ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
() یہ حرام او ر سخت توہین اموات اہل اسلام ہے۔ مقابر میں پاخانہ پھر نا حرام ہے حالاں کہ وہ اوپر ہی رہے گا اموات تك نہ پہنچے گا تو یہ صورت کیونکر حلال ہوسکتی ہے درمختار میں ہے : یکرہ بول وغائط فی المقابر ( قبرستان میں پیشاب اور پاخانہ مکروہ ہے ۔ ت)طحطاوی و ردالمحتار میں ہے : الظاھر انھا تحریمۃ ( ظاہر یہ ہے کہ مکروہ تحریمی ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
() اس سے بھی شرعا منع کیا جائے گا جو لوگ دفن کے لئے جائیں انھیں ایذا ہوگی جو فاتحہ کو جائیں انھیں ایذا ہوگی او ران سے قطع نظر کیجئے ان کی ایذا تو اتنی دیر کے لئے ہوگی جب تك وہاں رہیں گے اموات کے لیے یہ آٹھ پہر کی ایذا ہوگی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان المیت یتأذی مما یتأذی منہ الحی ۔
جس چیز سے زندہ کو ایذا پہنچتتی ہے اس سے مردہ کو بھی ایذا ہوتی ہے۔
درمختار فصل الاستنجاء مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۷
ردالمحتار فصل الاستنجاء ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱ / ۲۲۹
ردالمحتار فصل الاستنجاء ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر۱ / ۲۲۹
(۵) صالحین کے قریب دفن کرنا چاہئے کہ ان کے قرب کی برکت اسے شامل ہوتی ہے۔ اگر معاذاﷲ مسحق عذاب بھی ہوجاتا ہے تو وہ شفاعت کرتے ہیں وہ رحمت کہ ان پر نازل ہوتی ہے اسے بھی گھیر لیتی ہے حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ادفنو اموتاکم وسط قوم صالحین ۔
اپنے اموات کوا چھے لوگوکے درمیان دفن کرو ۔
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : ھم القوم لا یشقی بھم جلیسھم ان لوگوں کے پاس بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں رہتا۔ اور اگر صالحین کا قرب میسر نہ ہو تواس کے عزیزوں قریبوں کے قریب دفن کریں کہ جس طرح دنیا کی زندگی میں آدمی اپنے اعزا کے قرب سے خوش ہوتا ہے اور ان کی جدائی سے ملول اسی طرح بعد موت بھی۔ ہم ابھی حدیث وفقہ کو ذکر کر آئے کہ مردے کو ہر اس بات سے ایذا ہوتی ہے جس سے زندہ کو۔ وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ( اور ہمیں اﷲ کافی ہے او روہ کیاہی اچھا کرساز ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم ۔
مسئلہ : از گیا محلہ مرادپور مرسلہ تیغ علی صاحب جمادی الاولی ھ
جس گورستان کی بوجہ کمی زمین وکثرت دفن مردگان سے یہ حالت ہوگئی کہ نئی قبریں کھودنے پر کثرت سے مردوں کی ہڈیاں نکلتی ہوں اور بصورت موجود رہنے دوسرے گورستان متصل اس کے جو کہ ان سب شکایتوں سے پاك وصاف ہو اس کو چھوڑ کر خواہ مخواہ صرف بخیال مدفن ہونے آباء واجداد اپنے ایسے گورستان میں دوسرے مردوں کی ہڈیان اکھاڑ کر مردا دفن کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
صورت مذکورہ محض ناجائز و حرام ہے صرح بہ علماؤ نا قاطبۃ فی غیر ماکتاب ( ہمارے علماء نے متعدد کتابوں میں اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از گیا محلہ مراد پور مرسلہ تیغ علی صاحب جمادی الآخرہ ھ
جناب مولانا قبلہ ہادی صراط مستقیم دام افضالکم بعدسلام مسنون ملتمس خدمت ہے کہ حضور نے بجواب
الموضوعات لابن جوزی باب دفن المیّت فی جوار الصالحین دارالفکر بیروت ٣ / ٢٣٧
المدخل لا بن الحاج صفۃ القبور دارالکتاب العربیہ بیروت ٣ / ٢٦٩
سوال : جس گورستان میں بوجہ کمی زمین وکثرت دفن مردہ گان یہ حالت ہوگئی کہ نئی قبریں کھودنے پر کثرت سے مردوں کی ہڈیاں نکلتی ہوں بصورت موجود رہنے دوسرے گورستان متصل اس کے جو ان سب شکایتون سے پاك اور صاف ہو اس کو چھوڑ کر خواہ مخواہ صرف بخیال ہونے جائے مدفن آباء واجداد اپنے ایسے گورستان میں دوسرے مردے کی ہڈیاں اکھاڑ کر مردہا دفن کرنا شرعا جائز و درست ہے یا نہیں راقم استفتاء ھذا بندہ عاصی تیغ علی عفاعنہ الباری ساکن مراد پور گیا۔
الجواب : دفن کرنا اس گورستان میں درست ہے اگر ہڈیاں ظاہر ہوں ان کو ا یك طرف کردیا جائے لیکن اگر دوسری جگہ صاف اور خالی ہو تو وہاں دفن کرنا اولی ہے۔ فقہاء نے اس بارے میں یہ تفصیل کی ہے کہ کہنہ قبور میں دوسرے میت کو دفن کرنا درست ہے اور قبر جدید کھود کر اس میں دوسری میت کو دفن کرنا درست نہیں ہے ۔ شامی میں ہے :
وقال الزیلعی ولوبلی المیت وصار ترابا جاز دفن غیرہ فی قبرہ وزرعہ والبناء علیہ الخ
اگر میت بوسدہ ہو کر مٹی ہوجائے تو اس کی قبر میں دوسرے کو دفن کرنا وہاں کھیتی باڑی کرنا اور اس پر عمارت بنانا جائز ہے الخ (ت)
اس کے بعد تاتار خانیہ سے یہ نقل کیا ہے کہ باوجود دوسری جگہ خالی ملنے کے ایسا کرنا بلا ضرورت اچھانہیں پس مدار ضرورت وعدم ضرورت پر ہے۔ اگر ضرورت ہو پرانی قبر میں میت کو دفن کرنا بلاکراہت درست ہے اور اگر ضرورت کچھ نہ ہو بلکہ دوسری جگہ صاف وخالی ہو تو اگر چہ پھر بھی درست ہے مگر غیر اولی مکروہ تنزیہی۔ واﷲ تعالی اعلم
کتبہ عزیز الرحمن عفی عنہ مفتی مدرسہ دیوبند ج ا ھ
الجواب :
حکم شریعت مطہرہ وہی ہے کہ فقیر نے فتوی سابقہ لکھا بحالت یعنی بحالت مذکورہ اس قبرستان میں دفن کرنا محض ناجائز و حرام ہے۔ فتوی دیوبند صریح باطل و مردود ہے اور خیانت وتحریف وافترا و تناقض و سفاہت سے مملو ۔ مسئلہ بہت ظاہر و واضح ہے لہذا ہم نے کسی خاص کتاب کا حوالہ نہ دیا بلکہ اتنا لکھ دیا
لایدفن ا ثنان فی قبرواحد الا لضرورۃ ولایحفر قبر لدفن اخر الا ان بلی الاول فلم یبق لہ عظم الا ان لایوجد بد فیضم عظام الاول و یجعل بینھما حاجز من تراب ۔
یعنی بلامجبوری ایك قبر میں دو کا دفن جائز نہیں نہ بلامجبوری دوسرے کے دفن کے لئے قبر کھودنے کی اجازت مگر جبکہ پہلا بالکل خاك ہوگیا ہو کہ اس کی ہڈی تك نہ رہی ہاں مجبوری ہو تو ہڈیاں ایك طرف جمع کرکے انھیں اور اس میت میں مٹی کی آڑ قائم کردیں ۔ (ت)
تارتار خانیہ و امدادالفتاح میں ہے :
اذا صار المیت ترابانی القبر یکرہ دفن غیرہ فی قبرہ لان الحرمۃ باقیۃ وان جمعوا عظامہ فی ناحیۃ ثم دفن غیرہ فیہ تبرکان بالجیران الصالحین ویوجد موضع فارغ یکرہ ذلك ۔
یعنی اگر میت بالکل خاك ہوجائے جب بھی اس کی قبر میں دوسرے کو دفن کرنا ممنوع ہے کہ حرمت اب بھی باقی ہے اور اگر مزارات صالحین کے قرب کی برکت حاصل کرنے کی غرض سے میت کی ہڈیاں ایك کنارے جمع کردیں تو اب بھی ممنوع ہے جبکہ فارغ جگہ دفن کو مل سکتی ہے ۔ (ت)
امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج رحمہ اﷲ تعالی حلیہ میں فرماتے ہیں :
یکرہ ان یدفن فی القبر الواحد اثنان الالضرورۃ وبھذا تعرف کراھۃ الدفن فی الفساقی خصوصا ان کان فیھا میت لم یبل واما ما یفعلہ جھلتہ اغبیاء من الحفارین وغیر فی المقابر المسبلۃ العامۃ وغیرھا من بنش القبور التی لم یبل اربابھا
یعنی بلا مجبوری ایك قبر میں دو کا دفن جائز نہیں اور یہیں سے ظاہر ہو ا کہ تہ خانوں میں دفن منع ہے خصوصا جبکہ وہاں کوئی میت موجود ہو جو ابھی خاك نہ ہوا او ر وہ جو بعض گورکن وغیرہ جاہلان بد عقل کرتے ہیں کہ وقفی یا غیر وقفی قبرستان میں وہ قبر جس کا مردہ ہنوز خال نہ ہو کھود کر دوسرا دفن کردیتے ہیں یہ
فتاوٰی تاتار خانیۃ الجنائز ، القبر والدفن ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ٢ / ١٧٢
صریح معصیت ہے۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ حتی الامکان انھیں ایسا کرنے سے خود روکے او راس کے روکے نہ رکیں تو حکام کو اطلاع دیں کہ وہ ان لوگوں کو سزا دیں اور شریعت سے معلوم ہے کہ کسی کو اس کے عزیز یا تبرك کے لئے کسی مزار کے پاس دفن کرنے کی غرض سے ابتداء دو جنازے ایك قبر میں رکھنا حلال نہیں جبکہ وہاں دوسرا مقبرہ موجود ہو نہ کہ ان وجوہ کے لیے اگلی قبر کھود نا او ر ایك کے خاك ہونے سے پہلے دوسرے کا اس میں داخل کرنا یہ کیسے حلال ہوسکتا ہے حالانکہ اس میں پہلے میت کی ہتك حرمت اور اس کے اجزاء کا متفرق کرنا ہے تو خبردار اس حرکت سے بچو۔
ان نفیس عبارات کے بعد زیادہ کی حاجت نہیں۔ طرفہ یہ کہ دیوبندی نے جہاں سے شامی کی عبارت نقل کی ہے وہیں وہ فتح القدیر کا کلام منقول تھا اسے چھوڑدیا یہ خیانت ہے وہیں حلیہ کا یہ قاہر کلام ملخصا مذکور تھا اسے بھی اڑادیا یہ دوسری بھاری خیانت ہے۔ وہیں تاتار خانیہ کی وہ عبارت مسطور تھی جس کا ترجمہ یہ کیا کہ “ بلاضرورت ایساکرنا اچھا نہیں “ جس کا حاصل خودیہ نکلا کہ “ غیر اولی یعنی مکروہ تنزیہی “ حالانکہ تارتار خانیہ میں دوجگہ یکرہ فرمایا جس کا اطلاق مفید کراہت تحریم ہے اور اس کی دلیل فرمائی تھی کہ حرمت اب بھی باقی ہے جس سے صاف ممانعت روشن تھی کیا مسلمان میت کی بیحرمتی درست ہے صرف غیر اولی ہے۔ اس تعلیل کو اڑاجانا تیسری خیانت ہے۔ یہیں شامی نے اس پر اپنی بحث میں کہا تھا کہ مگر اس میں بہت مشقت ہے تو اولی یہ ہے کہ جواز کا مدار میت کے خاك ہونے پر رکھیں' جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ تار تارخانیہ میں خاک
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔
جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کرا ن کے کفر میں شك کرے وہ بھی مسلمان نہیں۔
فانہ فی المنع من الحفر ان لایبقی عظم اصلا لافی ھذا' علی انہ بحث فیہ علی خلاف المنصوص اقول : وقد یکون عظم امرأۃ فکیف یحل للاجانب النظر الیہ ومسہ کشعرھا المقطوع کما نصوا علیہ فافھم۔ واﷲ تعالی اعلم
اس لئے کہ کھودنے سے ممانعت کے بارے میں ہے مگر یہ کہ اصلا کوئی ہڈی باقی نہ رہ جائے ____ اس کے بارے میں نہیں___ علاوہ ازیں وہ نص کے خلاف ا ن کی بحث ہے ___اقول : ایسا بھی ہوگا کہ ہڈی کسی عورت کی ہو تو نامحرموں کا اسے دیکھنا چھونا حلال نہیں علمائے کرام نے ا س کی تصریح فرمائی ہے __ تواسے سمجھو ____ او ر خدائے بزرگ وبرتر خوب جاننے والا ہے ۔ ت)
مسئلہ : از موضع سنیأ ضلع بریلی مسئولہ امیر علی صاحب رضوی شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر دیکھا گیا مرا ہوا بچہ کسی کے پیدا ہوتا ہے اس کو ہانڈی میں رکھ کر گورستان سے علیحدہ دفن کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ پکا مسان ہے اس سے اہل ہنود کی طرح بچتے ہیں یہ کیونکر ہے بینوا توجروا
یہ شیطانی خیال ہے اسے مسلمانوں کے گورستان ہی میں دفن کریں۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از مونگیر محلہ دلاور پور مکان شیخ رحمت علی صاحب مرسلہ مولوی سید عطاء الحق صاحب ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کافر کے مردہ کو جس کا کوئی وراث نہیں کیا کیا جائے بینوا توجروا
الجواب :
اس کے مذہب وملت والوں کو دے دیا جائے کہ جو چاہیں کریں او راگر کفار میں بھی کوئی نہ ملے تو جیفہ سگ کی طرح دفع عفونت کے لیے کسی گڑھے میں دبادیں۔ تفصیل مسئلہ یہ ہے کہ کافر دو قسم ہے : اصلی ومرتد۔ اصلی وہ کہ ابتداء سے کافر ہو اور مرتد وہ کہ بعد اسلام کافر ہوا یا با وصف دعوی اسلام عقائد کفر رکھے : جیسے آج کل نیچری مرتد کے لیے تو اصلا نہ غسل نہ کفن نہ دفن نہ مسلمان کے ہاتھ سے کسی کافر کو دیا جائے اگر چہ وہ اسی کے مذہب کا ہو اگر چہ اس کا باپ یا بیٹا ہو بلکہ اس کا علاج وہی مرادار کتے کی طرح دبادینا ہے اور کافر اصلی سے اگر مسلمان کو قرابت نہیں توا س کے بھی کسی کام میں شریك نہ ہو بلکہ چھوڑ دیا جائے کہ اس کا عزیز قریب یا مذہب والے جو چاہے کریں او ر وہ بھی نہ ہوں تو علاج مثل علاج مرتد ہے اور اگر مسلمان کو اس سے قرابت قریبہ ہے تاہم جب کوئی قریب کا فر موجود ہو بہتر یہی ہے کہ اس کی تجہیز میں شرکت نہ کرے ہاں ادائے حق قرابت کے لئے اگر ا سکے جنازہ کے ساتھ جنازہ سے دور دور چلاجائے تو مضائقہ نہیں اور اگر مسلمان ہی قریب ہے کوئی کافر قرابت دار نہیں جب بھی مسلمان پر اس کی تجہیز و تکفین ضروری نہیں اگر اس کے ہم مذہب کافروں کو دے دے یا بے غسل وکفن کسی گڑھے میں پھنکوادے جائز ہے۔ او ر اگر بلحاظ قرابت غسل و کفن ودفن کرے تو بھی اجازت ہے مگر کسی کام میں رعایت طریقہ مسنونہ نہ کرے نجاست دھونے کی طرح پانی بہادے کسی چیتھڑے میں لپیٹ کر تنگ گڑھے میں دبادے۔ رب انی اعوذبك من الکفر والکافرین ( اے رب ! میں تیری پناہ لیتا ہوں کفر اور کافروں سے ۔ ت )درمختار میں ہے :
( یغسل المسلم ویکفن ویدفن قریبہ) کخالہ ( الکافر الاصلی) اما المرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب ( عند الاحتیاج) فلولہ قریب فالا ولی ترکہ لھم من غیر مراعاۃ السنۃ) فیغسلہ غسل الثواب النجس ویلفہ فی خرقہ ویلقیہ فی حفرۃ اھ اقول ولفظ البحر حفیرۃ اھ قال الطحطاوی
(مسلمان اپنے قرابت دار) جیسے ماموں (کافر اصلی کو) غسل وکفن دفن کرے رہا مرتد تو اسے کسی گڑھے میں کتے کی طرح دبادے ( ضرورت کے وقت) تو اگر اس کا کوئی اور قرابت دار ہے توبہتر یہ ہے کہ انھیں دے دے (بغیر رعایت سنت کے غسل اور کفن دفن کرے) توکسی ناپاك کپڑے کی طرح دھوئے او رکسی چیتھڑے میں لپیٹ کر کسی گھڑے میں ڈال دیں اھ اقول بحر کی عبارت میں
بحرالرائق کتاب الجنائز ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٩٣
وفی الایضاح ومراقی الفلاح فی خرفۃ والقاہ فی حفرۃ من غیر وضع کالجیفۃ مراعاۃ لحق القرابۃ او دفع القریب الی اھل ملتہ ویتبع جنازتہ من بعید وفیہ اشارۃ الی ان المرتد لایمکن منہ احد لغسلہ لان لاملۃ لہ فیلقی کجیفۃ کلب فی حفرۃ اھ مختصرا وفی ردالمحتار قولہ یغسل المسلم ای جواز لا ن من شروط وجوب الغسل کون المیت مسلما الخ۔
حفیرۃ ( تنگ کڑھا) ہے۔ طحطاوی نے حاشیہ مراق الفلاح میں کہا یعنی لحداور کشادگی کے بغیر اھ ایضاح اور مراقی الفلاح میں ہے اسے کسی ناپاك کپڑے کی طرح دھوئے اور کسی معمولی کپڑے میں کفن دے کر کسی گڑھے میں مردارکی طرح ڈال دے تاکہ حق قرابت کی رعایت ہوجائے یا قرابت دار اس کے اہل مذہب کو دے دے اور خود دور سے جنازے کے پیچھے چلا جائے او راس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مرتد کو غسل کے لئے کسی کو نہ دے اس لئے کہ اس سے کوئی رشتہ وتعلق نہیں تو کتے کی طرح کسی گڑھے میں ڈال دے گا اھ
مختصرا___ردالمحتار میں ہے مسلمان کا کافر اصلی قرابت دار کو غسل دینا صرف جوازا ہے اس لئے کہ وجوب غسل کی شرطوں میں یہ ہے کہ میت مسلم ہو الخ (ت)
کشف الغطاء میں جامع صغیر امام صدر شہید سے ہے :
اگر قریب نباشد دفع کردہ شود باہل دین او تاہر چہ خواہند بوے کنند ۔ واﷲ تعالی اعلم
اگر کوئی مسلمان قرابت دار نہ ہو تو اس کے اہل مذہب کو دے دیا جائے گا کہ اس کے ساتھ جو چاہیں کریں۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : لوگوں میں رسل ہے کہ میت کو دفن کرکے اس کے مکان میں آتے ہیں او رکہتے ہیں فاتحہ پڑھ لو پھر کچھ پڑھتے ہیں او ر ہاتھ اٹھاتے ہیں یہ فعل کیسا ہے بینو توجروا
الجواب :
اصل اس فعل میں کوئی حرج نہیں کہ ایصال ثواب سے اموات کی اعانت اور ان کےلئے دعائے مغفرت
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل السلطان احق بصلٰوۃ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص ٣٣٠
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ١ / ٥٩٧
کشف الغطاء فصل دفنِ میّت مطبع احمدی دہلی ص ٤٧
فقد روی الترمذی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن عزی مصابا فلہ مثل الجرہ و ایضا
عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من عزی ثکلے کسی بردا فی الجنۃ وابن ماجۃ والبیھقی باسناد حسن قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مامن مومن یعزی اخاہ بمصیبۃ الاکساہ اﷲ تعالی من حلل الکرامۃ یوم القیمۃ ۔
ترمذی کی روایت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے : جو کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کرے تو اسے بھی اسی کی طرح اجر ملے۔ امام ترمذی ہی کی دوسری روایت حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے یہ ہے : جو مرگ فرزندکی مصیبت زدہ کسی عورت کو تعزیت کرے اسے جنت میں عمدہ چادر پہنائی جائے ابن ماجہ او ربہیقی نے بسند حسن روایت کی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : جو مومن بھی کسی مصیبت پر اپنے بھائی کی تعزیت کرے خدا تعالی اسے قیامت کے دن عزت و کرامت کا لباس پہنائے گا (ت)
علامہ ابن الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :
التعزیۃ مستحب قد ندب الیہ الشارع فی غیرماحدیث ومن ذلك ماروی ابن ماجۃ و البیھقی باسناد حسن الی ان قال وحسن ان یقرن مع الدعاء لہ بجزیل الثواب علی مصابہ لمیتہ بالرحمۃ والمغفرۃ و قد نبھنا الشارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی ھذا المقصود فی غیرما حدیث الخ اھ ملخصا۔
تعزیت مستحب ہے شارع علیہ السلام نے متعدد حدیثوں میں اس کی ترغیب دی ہے ان میں سے ایك حدیث ہو ہے جسے ابن ماجہ وبہیقی نے بسند حسن روایت کیا (حدیث مذکور پیش کرنے کے بعد فرمایا) او ر اچھا یہ ہے کہ مصیبت زدہ کے لئے عظیم ثواب کی دعا کرنے کے ساتھ اس کے مردے کیلئے رحمت ومغفرت کی دعا بھی کرے۔ اس خاص مقصد پر بھی شارع علیہ السلام نے متعدد حدیثوں میں ہمیں متنبہ اور خبردار کیا ہے الخ اھ تلخیص (ت)
جامع الترمذی ابواب الجنائز کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١ / ١٢٧
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی ثواب من عزی مصاباً ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ١١٦
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
اربعین میں ہے :
مسئلہ : درتعزیت میت رفتن وہردودست برداشتہ سورہ فاتحہ خواند جائزاست یا نہ
جواب : رفتن برائے تعزیت میت جائز است و دعائے مغفرت برائے اونمودن مستحب است وہمچنین دعائے خیر برئے اہل میت اما دست برداشتن برائے دعا وقت تعزیت ظاہرا جواز است زیرا کہ درحدیث شریف رفع یدین در دعا مطلقا ثابت شدہ پس دریں وقت ہم مضائقہ نہ دار دلیکن تخصیص آں برائے دعا وقت تعزیت ماثور نیست انتہی ملخصا۔
مسئلہ : میت کی تعزیت میں جانا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر سورہ فاتحہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں
جواب : میت کی تعزیت کے لئے جانا جائز ہے اور اس کے لئے مغفرت کی دعا کرنا مستحب ہے اسی طرح اہل میت کے لئے دعائے خیر کرنابھی مستحب ہے۔ رہا تعزیت کے وقت کی دعامیں ہاتھ اٹھانا تو ظاہر یہ ہے کہ جائز ہے اس لئے کہ حدیث شریف کے اندر دعامیں ہاتھ اٹھانا مطلقا ثابت ہے تو اس وقت بھی مضائقہ نہیں مگر خاص وقت تعزیت کی دعا میں ہاتھ اٹھا نا حدیث میں منقول نہیں ہے۔ انتہی ملخصا (ت)
اور تعزیت بعد دفن کے اولی ہے :
فی الجوھرۃ ثم ردالمحتار ھی بعد الدفن افضل منھاقبلہ الخ وبمثلہ ذکر الطحطاوی فی حاشیۃ مراقی الفلاح ۔
جوہرہ پھر ردالمحتار میں ہے : قبل دفن تعزیت سے بہتر بعد دفن تعزیت ہے الخ اسی کے مثل سید طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں ذکر کیا ہے ۔ (ت)
اور قبر کے پاس مکروہ ہے
فی الدرالمختار وتکرہ التعزیۃ ثانیا و عندالقبر ۔
درمختار میں ہے : دوسری بار تعزیت کرنا یوں ہی قبر کے پاس تعزیت کرنا مکروہ ہے ۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
یشھدلہ ما اخرج ابن شاھین
اس پر شاہد اثر ہے جو ابن شاہین نے ابراہیم نخعی
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ١ / ٦٠٤
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٦
سے روایت کیا کہ قبر کے پاس تعزیت بدعت ہے انتہی (ت)
مدخل ابن الحاج میں ہے :
موضع التعزیۃ علی تمام الادب اذارجع ولی المیت الی بیتہ ۔
کمال ادب کے طور پر تعزیت کا موقع اس وقت ہے جب ولی میت گھر واپس آجائے ۔ (ت)
اور پہلے دن ہونا بہتر و افضل ہے
فی الدرلمختار اولھا افضلھا الخ یعنی ایام تعزیت۔
درمختا ر میں ہے : ایام تعزیت میں پہلا دن افضل ہے الخ (ت)
اور تعزیت کے لئے اولیائے میت کے مکان پرجانا بھی سنت سے ثابت
روی ابوداؤ والنسائی فی حدیث قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لسیدتنا البتول الزھراء رضی اﷲ تعالی عنہا ما خرجك من بیتك یا فاطمۃ قال اتیت اھل ھذا المیت فترحمت الیھم وعز یتھم بمیتھم ۔ وفی السنن الصحاح لابن سکن عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من اوذون بجنازۃ فاتی اھلھا فعزاھم کتب اﷲ لہ قیراطا الحدیث وللنسائی عن معویۃ بن قرۃ عن ابیہ
ابوداؤد اور نسائی نے ایك حدیث میں روایت کیا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے سیدہ بتول زہراء رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا : فاطمہ تم اپنے گھر سے باہر کس لئے گئی تھیں عرض کی : اس میت والوں کے یہاں گئی تھی ان کے لئے رحمت کی دعا اور میت کی مصیبت پر تعزیت کی ۔ اور ابن سکن کی سنن صحاح میں حضرت ابوہریرہ کی روایت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے : جسے کس جنازہ کی خبر ملے وہ اہل میت کے پاس جاکر ان کی تعزیت کرے اﷲ تعالی اس کے لئے ایك قیراط ثواب لکھے الحدیث
المدخل لابن الحاج صفۃ القبر دارالکتاب العربی بیروت ٣ / ٢٧٧
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٦
سنن ابی داؤد باب التعزیۃ آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ٨٩ ، سنن النسائی کتاب الجنائز باب النہی نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ١ / ٢٦٥
السنن الصحاح ، امام ابن سکن
نسائی نے معاویہ بن قرہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب تشریف فرما ہوتے تو ان کے پاس ان کے صحابہ میں سے چند حضرات بیٹھتے ان میں ایك صاحب تھے جن کا نام ایك کم سن فرزند تھا ایك روز مجلس میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کو دیکھا ارشاد فرمایا : کیا بات ہے فلاں نظر نہیں آرہا ہے صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! اس کا چھوٹا سا لڑکا جسے حضور نے دیکھا تھا فوت ہوگیا تو ا س سے بنی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ملاقات کرکے اس کے فرزند کے بارے میں پوچھا اس نے موت کی خبر سنائی حضور نے اس پر اس کی تعزیت فرمائی الحدیث اھ بتلخیص (ت)
اور مولوی اسحق کا قول پہلے مذکور ہوا کہ رفتن برائے تعزیت میت جائز ست ( تعزیت میت کے لئے جانا جائز ہے ۔ ت) اور تین روز تك اولیائے میت کو بھی رخصت واجازت ہے کہ بے ارتکاب مکتات واتباع رسوم کفار اپنے مکان میں تعزیت کے لئے بیٹھیں تا کہ لوگ ان کے پاس آئیں اور رسم تعزیت بجالائیں
فی الدرالمختار لا بأسع بتعزیۃ اھلہ و ترغیبھم فی الصبر وباتخاذ طعام لھم و بالجلوس لھا فی غیر مسجد ثلثۃ ایام و اولھا افضلھا الخ
درمختار میں ہے : اس میں حرج نہیں کہ اہل میت کو تعزیت کریں اور صبر کی ترغیب دیں اور ان کے لئے کھانا پکوائیں اور تعزیت کے لئے اگر اہل میت مسجد کے علاوہ کسی جگہ بیٹھیں تو ا س میں بھی حرج نہیں اور ایام تعزیت میں پہلا دن افضل ہے الخ (ت)
حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :
قال فی شرح السیدو لا باس بالجلوس لھا الی ثلثۃ ایام من غیرا رتکاب محظور من فرش البسط والاطعمۃ من
شرح سید میں ہے : تین دن تك تعزیت کے لئے بیٹھنے میں حرج نہیں مگر کسی ممنوع کام کا ارتکاب نہ ہو جیسے مکلف فرس بچھانا اہل میت کی جانب سے
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٦
کھانے کا اہتمام ہونا ۔ (ت)
نہر الفائق میں تجنیس سے منقول :
لاباس بالجلوس لھا ثلثۃ ایام وکونہ علی باب الدارمع فرش بسط علی قوارع الطریق من اقبح القبائح انتھی۔
تین دن تك تعزیت کے لئے بیٹھنے میں حرج نہیں مگر گھر کے دروازے پر عام راستوں میں فرش فروش بچھا کر یہ کام ہو تو بہت برا ہے انتہی (ت)
عالمگیریہ میں ظہیریہ سے نقل کیا ہے :
لاباس لاھل المصیبۃ ان یجلسوا فی البیت اوفی مسجد ثلثۃ ایام والناس یاتونھم ویعزونھم الخ
اس میں حرج نہیں کہ اہل میت گھر میں یا مسجد میں تین دن بیٹھیں اور لوگ ان کے پاس آتے اور تعزیت کرتے رہیں الخ (ت)
بلکہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مروی ہے کہ زید و جعفر و ابن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہم کی خبر شہادت سن کر مغموم ومحزورن مسجد میں تشریف رکھی صحابہ حاضر ہوتے اور تعزیت کرتے جاتے کما ذکرہ العلامۃ زین فی البحرا لرائق ( جیسا کہ علامہ زین بن بجیم نے اسے بحرالرائق میں ذکر کیا ہے ۔ ت) اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انھیں اس امر سے منع نہ فرمایا
واخرج الشیخان عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالی عنہما لماجاء النبی صلی اﷲ تعالی عیہ وسلم قتل ابن حارثۃ وجعفر وابن رواحہ لما جلس یعرف فیہ الحزن الحدیث
بخاری ومسلم نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی ہے جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو زید بن حارثہ جعفر اور عبدا ﷲ بن رواحہ کی شہادت کی اطلاع ہوئی جب تشریف رکھی سرکار پر غم کا اثرنمایا تھا الحدیث (ت)
شیخ محقق رحمہ اﷲ تعالی شرح میں فرماتے ہیں : جلس نشست آنحضرت صلی اﷲ تعالی وعلیہ وسلم
حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح بحوالہ النہر الغائق نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص ٣٣٩
فتاوٰی ہندیۃ وممایتصل بذالک مسائل التعزیۃ نورائی کتب خانہ پشاور ٢ / ١٦٧
بحرالرائق کتاب الجنائز ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٩٢
صحیح البخاری باب من جلس عند المصیبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٧٣
پس اب فعل مذکور فی السوال میں کوئی امر ایسا نہ رہا جس کا ثبوت حدیث و فقہ سے نہ ہو صرف اتنی بات باقی ہے کہ بعد دفن کے پلٹ کر سیدھے اس مکان پر جاتے ہیں اور بعد فاتحہ اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے ہیں اس کے لئے کسی ثبوت خاص کی حاجت نہیں کہ جب تعزیت و ایصال ثواب و دعا محمود ٹھہری اور افضل یہ قرار پایا کہ دفن کے بعد ہو اور پہلے دن ہو اور قبر سے پلٹ کر ہو اور اس کے مکان میت پر جانا بھی جائز ہو تو ا سی وقت جاکر ادائے تعزیت میں کیا مضائقہ ہے۔ ہاں اگر سرے سے اس کے مکان پر جانا ہی روا نہ ہوتا تو بیشك محل منع ہوتا۔ اور جب ایسانہیں تو اس کی کیا ضرورت ہے کہ اپنے اپنے گھر جاکر پھر وہاں جائیں کوئی دلیل شرعی اس پر قائم نہیں بلکہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت کہ جب ایك صحابی کو دفن کر کے پلٹے اور صحابہ کرام حاضر رکاب سعادت تھے میت مرحوم کی زوجہ مطہرہ کا بھیجا ہوا آدمی ملا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کے مکان پر تشریف لے گئے
فقد اخرج الامام احمد بسند صحیح و ابوداؤد عن عاصم بن کلیب عن ابیہ عن رجل من الانصار قال خرجنا مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی جنازۃ فلما رجع استقبلہ داعی امرأتہ فجاء وجیء بالطعام الحدیث ملخصا۔
امام احمد نے بسند صحیح اور ابوداؤد نے عاصم بن کلیب سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ایك انصاری صحابی سے روایت کی وہ فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ ایك جنازہ میں گئے جب سرکار واپس ہوئے تو مرنے والے کی عورت کا داعی سامنے ایا حضور اس کے گھر تشریف لے گئے اور کھانا حاضر کیا گیا۔ الحدیث بہ تلخیص (ت)
اگر دفن سے پلٹ کر مکان میت پر جانا منع ہوتا تو حضور کیوں قبول فرماتے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہ تو اصل فعل کا حکم تھا مگر ہو ا یہ کہ جہال نے اس رسم شرعی میں بہت رسوم جاہلیت واختراعات بیہودہ کو دخل دیا مثلا گانے باجے شمعیں قندیلیں عمدہ عمدہ فرش طرح طرح کے کھانے ریا وناموری کے اسباب میت کی تعریف میں حد سے غلو تعزیت کے وقت الٹی وہ باتیں جو غم والم کو زیادہ کریں اور میت
مسند احمد بن حنبل حدیث رجل من انصار دارالفکربیروت ٥ / ٢٩٣
کما یشکوبعد ذلك العلامۃ الشامی حیث یقول یحصل عند ذلك غالبا من المنکرات الکثیرۃ کایقاد الشموع والقنادیل التی لاتوجد فی الافراح وکدق الطبول و الغناء بالاصوات الحسان واجتماع النساء والمردان واخذ الاجرۃ علی الذکر و قراۃ القران وغیر ذلك مما ھو مشاھد فی ھذا الزمان وماکان کذلك فلا شك فی حرمتہ ۔
جیسا کہ اس کے بعد علامہ شامی یوں شکایت فرماتے ہیں : زیادہ تر اس وقت بہت سی بری باتیں ہوتی ہیں جیسے بیش قیمت شمعیں او رقندیلیں روشن کرنا جو شادیوں میں بھی نہیں ملتیں ایسے ہی طبل بجانا خوش آوازی سے گیت سنانا عورتوں امردوں کاجمع ہونا ذکر اور تلاوت قرآن پر اجرت لینا اور ان کے علاوہ ساری باتیں جو اس زمانے میں دیکھنے میں آتی ہیں جس کام کا یہ حال ہو اس کے حرام ہونے میں کیا شك ہے ! (ت)
معہذا خاص اس قصد سے یعنی تعزیت لینے کے لیے بیٹھنا بھی اگر چہ رخصت ہے مگر افضل نہ کرنا ہے
کما فی الھندیۃ من معراج الدرایۃ عن خزانۃ الفتاوی الجلوس للمصیبت ثلاثٹ ایام رخصۃ و ترکہ احسن ۔
جیسا کہ ہندیہ میں معراج الدرایہ سے اس میں خزانۃ الفتاوی سے منقول ہے موت کے سبب تین دن بیٹھنے کی اجازت ہے اور اس کا ترك بہتر ہے ۔ (ت)
لہذا بہت علمائے متاخرین نے میت کے گھر اس ہجوم واجتماع کو پسند نہ فرمایا اور یہی مناسب جانا کہ لوگ دفن کر کے متفرق ہوجائیں اولیائے میت اپنے کام میں مشغول ہوں اور لو گ اپنے اپنے کاموں میں مصروف
کما فی مراقی الفلاح للعلامۃ الشرنبلالی قال کثیر من متاخری ائمتنا رحمہم اﷲ تعالی یکرہ الاجتماع عند صاحب المصبیۃ حتی یاتی الیہ من یعزی بل اذا رجح الناس من الدفن فلیتفرقو اویشتغلوا
جیساکہ علامہ شرنبلالی کی مراقی الفلاح میں ہے کہ ہمارے بہت سے ائمہ متاخرین رحمہم اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ میت والے کے یہاں اس مقصد سے اجتماع کہ اس کے یہاں تعزیہت کرنے والے آئیں مکروہ ہے۔ لوگ جب دفن سے واپس ہوں تو
فتاوٰی ہندیۃ ومایتصل بذلک مسائل التعزیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٦٧
متفرق ہوجائیں لوگ اپنے اپنے کام میں مشغول ہوں اہل میت اپنے کام میں مصروف ہوں ۔ (ت)
بالجملہ قول فیصل جس سے اختلاف زائل اور توفیق حاصل ہو یہ ہے کہ نفس تعزیت و دعا و ایصال ثواب بیشك محمود ومندوب اور وقت دعاہاتھ اٹھانا بھی جائز اوراگر کوئی شخص اولیائے میت کے مکان پر جاکر تعزیت کر آئے تو بھی قطعا روا۔
مگر اولیاء کا خاص اس قصد سے بیٹھنا اور لوگوں کا ان کے پاس ہجوم ومجمع کرنا خواہ قبل دفن ہو یا بعد اسی وقت اگر ہو یا کبھی مکان میت پر ہو یا کہیں اور بہر طور جائز و مباح ہے جبکہ متکرات شرعیہ سے خالی ہو مگر اس کا نہ کرنا افضل ہے نہ یہ کہ قطعا حرام اور گناہ اور فاعل مبتدع وگمراہ ٹھہرے۔
سبحانك ھذا بھتان عظیم قلت وبہذا تتفق الکلمات من قول قوم لاباس بہ وقوم اخرین انہ یکرہ ویکون ماثبت بالحدیث المذکور بیانا للجواز فاتقن ھذا التحریر الفرید فانہ ان شاء اﷲ التحقیق الوسیط وان خالف زعم الفریقین من اھل الافراط و التفریط واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب والیہ المرجح والماب ۔
تجھے پاکی ہے۔ یہ بڑا بہتان ہے۔ قلت( میں کہتا ہوں) اور اس تفصیل سے کلمات عالماء میں تطبیق بھی ہوجاتی ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا ہے اس میں کوئی حرج نہیں اورت دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ یہ مکروہ ہے___ اور حدیث مذکور سے جو ثابت ہوا ہو بیان جواز کے لئے ہوگا___ تو اس منفرد تنقیح کو اچھی طرح محفوظ کرلو کہ ان شاء اﷲ یہ درمیانہ تحقیق ہے اگر چہ دونو ں فریق کے افراط و تفریط والوں کے برخلاف ہو___ ا ور خدائے پاك وبرتر درستی کو خوب جاننے والاہے اور اسی کی جانب رجوع ومآب ہے ۔ (ت)
مسئلہ : ربیع الآخر شریف ۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میت کی تعزیت بعد دفن ہی چاہئے یا پیش از دفن بھی جائز ہے بینوا توجروا
الجواب :
افضل یہ ہے کہ بعد دفن قبرسے پلٹ کر ہو کما فی الجواھرۃ وغیرھا ( جیسا کہ جوھرۃ
فی صحیح الامام ابن السکن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من اوذن بجنازۃ فاتی اھلھا فعزاھم کتب اﷲ تعالی قیراطا فان تبعھا کتب اﷲ لہ قیراطین فان صلی علیھا کتب اﷲ لہ ثلثۃ قراریط فان شہد دفنھا کتب اﷲ لہ اربعۃ قراریط القیراط مثل احد ۔
صحیح امام ابن سکن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے (ت) جسے کسی جنازہ کی خبرملے و ہ اہل میت کے پاس جاکر ان کی تعزیت کرے اﷲ تعالی اس کے لئے ایك قیراط ثواب لکھے پھر اگر جنازہ کے ساتھ جائے تواﷲ تعالی دو قیراط اجر لکھے پھر اس پر نماز پرھے تو تین قیراط پھر دفن میں حاضر ہو تو چار اور ہر قیراط کوہ احد کے برابر ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از شہر بھڑونچ لال بازار چنارواڑ مرسلہ مولوی عباس میاں ولد مولوی علی میاں ربیع الاول شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میت مکان میں موجود ہے اس کو دفن نہیں کیا اس کے پہلے اہل میت کے لوگوں کو کھانا درست ہے یا نہیں احمد سعید کا کہنا ہے کہ درست ہے اور کوئی برا نہیں۔ فقہ کی کتاب منافع میں تولکھا ہے کہ دفن کرنے کے پہلے کھانا حرام ہے بلکہ ہمسایہ کے چالیس مکان تك حرام ہے۔ اب حق کون ہے وہ بیان کریں۔
الجواب :
کھانا حرام نہیں غفلت حرام ہے۔ اور چالیس گھر تك حرام ہونا بے اصل محض ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از خیر آباد ضلع سیتاپور محلہ میانسرائے قدیم مدرسہ عربیہ مرسلہ مولوی سید فخر الحسن صاحب ربیع الآخر شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو طفل زنا سے متولد ہو کر چارپانچ سال کی عمر میں فوت ہوجائیں او ر ا س کی مادر بخوف پابندی حکم شریعت اس سانحہ پر صبر اختیار کرے تو طفل متوفی مادر صابر کا فرط ہوگا یا نہیں ا ور اس کے دلائل کیا کیا ہیں اور اگر پدر زا نی کے قلب پر بھی اس سانحہ کا صدمہ زیادہ ہوا ہو اور وہ بھی بلحاظ امر شریعت صبر کو ملحوظ رکھے تو وہ بھی مستحق ہوگا کہ طفل متوفی اس کے لئے فرط ہو یا مستحق نہ ہوگا امید کہ مفصل جواب بحوالہ عبارت کتب تحریر فرمایا جائیگا تاکہ کسی کو سن کر بمقابلہ دلائل نقلیہ انکار کا موقع نہ ملے اور شخص مقر کو اطمینان کامل حاصل ہوجائے ۔ فقط
ولد الزنا کے لئے شرعا کوئی باپ نہیں شرع مطہر نے زانی سے اس کا نسب قطع فرمادیا ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الولد للفراش وللعاھر الحجر ۔
بچہ بچھونے والے کا اور زانی کے لئے پتھر ۔
تو وہ اس کا فرط کیونکر ہوسکتا ہے۔ رہا ماں کے لئے فرط ہونا یہ ا س پر موقوف ہے کہ والد الزنا کو منصب شفاعت دیا جائے ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔ احادیث سے تویہ ظاہر ہو تا ہے کہ وہ مطبوع علی الشر ہوتاہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : ولد الزنا شر الثلثۃ ( ولد زنا تین میں سب سے برا ہے ۔ ت) دوسری حدیث میں ہے :
لایدخل الجنۃ ولد زانیۃ اھ ای مع السابقین کما فی نظائرہ۔
زانیہ کا بچہ جنت میں نہ جائے گا اھ یعنی سابقین کے ساتھ جیسے ا س طرح کی دیگر حدیثوں میں یہ تاویل ہے ۔ (ت)
تیسری حدیث میں ہے :
لاینبغی علی الناس الاولد بغی والابن فیہ عرق منہ ۔
لوگوں پر ظلم نہ کرے مگر زنا کی اولاد اور وہ جس میں اس کی کوئی رگ ہو ۔ (ت)
چوتھی حدیث میں ہے :
من لم یعرف حق عترتی والانصار والعرب فھو لاحدی ثلاث امامنافق وامالزنیۃ واما امرء حملت بہ امہ لغیر طھر ۔ رواہ الدیلمی ورواہ البیھقی من حدیث زید بن جبیر عن داؤد بن حصین عن ابن رافع
جو میری اولادا ورانصار او رعرب کا حق نہ پہنانے وہ تین میں سے ایك ہے۔ منافق ہے یا زانیہ کا بچہ یا ایسا شخص جسے اس کی ماں نے بحالت حیض حمل میں لیا۔ اسے دیلمی نے روایت کیا اور اسے بہیقی نے زید بن جبیر کی حدیث میں داؤد بن حصین سے انھوں نے ابو رافع سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے انہوں نے
سنن ابوداؤد کتاب العتق باب فی عتق والدالزنا آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ١٩٦
تاریخ بغداد ترجمہ ٥٩٠٠ عبدا لرحمن ابو حفص دارالکتاب العربیہ بیروت ١١ / ١٩١ ، شعب الایمان حدیث ٧٨٧٣ دارالکتب العلمیہ بیروت ٢ / ١٩١
کنز العمال بحوالہ طب عن ابی موسٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث ١٣٠٩٣ موسسۃ الرسالہ بیروت ٥ / ٣٣٣
الفردوس بماثور الخطا ب حدیث ٥٩٥٥ دارالکتب العلمیہ بیروت ٣ / ٦٢٦
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا اس کے الفاظ یہ ہیں : یاتومنافق ہے یا مزنیہ کا بچہ یا بے طہارت کا (ت)
بایں ہمہ ا عزوجل پر حکم نہیں کرسکتے و یفعل الله ما یشآء(۲۷) ان الله یحكم ما یرید(۱) ( اﷲ جو چاہے کرتا ہے بیشك خدا جوچاہے حکم فرماتا ہے ۔ ت) ہا ں صبر بجائے خود ایك حسنہ جمیلہ ہے ان الله لا یضیع اجر المحسنین(۱۲۰) اور اﷲ تعالی نیکی کرنے والوں کا اجر رائیگاں نہیں کرتا ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از شہر محلہ کٹر ہ چاند خاں مسئولہ جمال احمد شعبان ھ
سائل کے بڑے لڑکے کی اہلیہ نے جو عرصہ سے بعارضہ دق علیل تھی او راس کے والدین اسے اپنے گھر لے گئے تھے وہیں انتقال کیا سائل مع پسر خبر انتقال سن کر مع چند دیگراشخاص وجملہ سامان تجہیز وتکفین لے کر پہنچے انھوں نے ہمیں نہایت ترش روئی سے شریك میت نہ ہونے دیا اور مٹی تك نہ دینے دی یہ فعل کیسا ہے
الجواب :
بہت برا کیا اگر بلاوجہ شرعی صحیح معتبر تھا کہ مسلمان کو ناحق ایزادی اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اذای مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ واﷲ تعالی اعلم
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذادی ا س نے مجھے ایذادی او رجس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ تعالی کو ایذادی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قدیم قبراگر کسی وجہ سے کھل جائے یعنی اس کی مٹی الگ ہو جائے اور مردہ کی ہڈیاں وغیرہ ظاہر ہونے لگیں تو اس صورت میں قبر کو مٹی دینا جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو کس صورت سے دینا چاہئے بینوا توجروا بالدلیل
الجواب :
اس صورت میں اسے مٹی دینا فقط جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے کہ ستر مسلم لازم ہے۔
القرآن ١٤ / ٢٧
القرآن ۵ / ۱
القرآن ٩ / ١٢٠
کنز العمال بحوالہ طن عن انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث ٤٣٧٠٣ موسسۃ الرسالہ بیروت ١٦ / ١٠
ولید کے زمانے میں جب روضہ پاك کی دیوار منہدم ہوئی تو ایك قدم کھل گیا جس سے لوگ گھبرا ا ٹھے انھیں گمان ہوا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا قدم مبارك ہے۔ کسی ایسے آدمی کو تلاش کیاجو اس سے اگاہ ہو یہاں تك کہ حضرت عروہ نے کہا بخدا یہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا قدم نہیں یہ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا ہی قدم ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہشام بن عروہ سے مروی ہے وہ اپنے والد سے راوی ہیں اور ابن زبالہ وغیرہ نے روایت کی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جس کو دیوار تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا اس سے فرمایا جو تم نے دیکھا اسے چھپادو اس نے تعمیل کی ۔ (ت)
اور اس بارے میں کوئی صورت بیان میں نہ آئی ستر لازم ہے اور کشف ممنوع ا س طرح چھپائیں کہ زیادہ نہ کھولنا پڑے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از کلکتہ زکریا اسٹریٹ نمبر مسئولہ مولوی عبدالحق ومولوی کریم صاحبان بمعرفت حاجی لعل خاں صاحب رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك پیر نے اپنے مرض الموت میں اپنے وطن سے دور ایك مرید سعید ورشید کے شہر میں اپنے دفن کی خواہش کی بعد وصیت اور اسی مرض الموت میںوہاں پہنچ گئے اور بعد انتقال وہیں دفن ہوئے اب چار برس چند ماہ کے بعد اس پیر کا فرزند جس کے سامنے اس کے باپ نے اپنے مرید کو وصیت کی تھی کہ ہم تمھارے شہر میں دفن ہوں بسبب نزاع کے اس مرید سے چاہتا ہے کہ نعش کو اس حجرے سے اکھاڑ کر وطن شیخ یا اسی شہر میں جہاں اب مزار ہے دوسری جگہ لے جاکر دفن کرے آیا یہ امر ممکن ہے کہ نبش مسلم کیا جائے جس سے سراسر توہین میت متصور ہے اور وصیت متوفی کو جو اس اہتمام کے ساتھ کی توڑدیا جائے۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں نبش حرام حرام سخت حرام اور میت کی اشد توہین وہتك سر رب العلمین ہے اور جو بیٹا باپ کے ساتھ ایسا چاہے عاق وناخلف ہے۔ اگر چہ وصیت دربارہ دفن واجب العمل نہیں نہ یہاں دفن بے رضائے مالك کے مسئلہ کو کچھ دخل تھا کہ رضا پر تفریع حکم ہو بالفرض اگر وقت دفن رضائے مالك نہ ہوتی تو اختیار نبش اسے ہوتا نہ کہ اجنبی کو جس کا زمین میں کوئی حق نہیں۔ التجنیس والمزید میں ہے :
اذادفن فی ارض غیرہ بغیر اذن مالکھا فالمالك بالخیاران شاء امر باخراج المیت وان شاء سوی الارض وزرع فیھا ۔ واﷲ تعالی اعلم
اگر دوسرے کی زمین اس کے مالك کی اجازت کے بغیر دفن کردیا جائے تو مالك کو اختیار ہے اگر چاہے میت کو نکلوادے اور اگر چاہے تو زمین کے برابرکر دے اور اس میں کھیتی کرے ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : روز دوشنبہ صفر ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی امرأۃ حاملۃ ماتت فی مدۃ کاملۃ ودفنت بدستور العمل فرای رجل صالح فی المنام انھا ولدت ولداحیا ایجوز ان یحفر قبرھا ویخرج الولد معہا اویخرج ولدھا فقط باعتماد منام الرجل المذکور ام لا بینوا بالبرھان توجروا من الرحمان۔
اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ ایك عورت پوری مدت حمل کے بعد بحالت حمل انتقال کر گئی دستور کے مطابق اسے دفن کردیا گیا ایك مردصالح نے خواب دیکھا کہ اس عورت کو زندہ بچہ پیدا ہواہے اب شخص مذکور کے خواب پر اعتماد کرکے قبر کھود کر بچے کو عورت کے ساتھ نکالنا جائز ہے یا نہیں دلیل کے ساتھ بیان فرمائیں خدا سے اجر پائیں (ت)
الجواب :
لا الابدلیل جائز والستر مصون
جائز نہیں مگر جب کوئی روشن دلیل ہو پر دہ محفوظ
ہے اور خواب طرح طرح کے ہوتے ہیں سراجیہ پھر ہندیہ میں ہے ایك عورت کے حمل کو ساتھ مہینے ہوئے بچہ اس کے پیٹ میں حرکت کرتا تھا وہ مرگئی او راسے دفن کردیا گیا پھر کسی نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ کہتی ہے میں نے بچہ جنا ہے تو قبر نہ کھودی جائے گی اھ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے ۔ (ت)
مسئلہ : از جوہر کوٹ بارکھان ملك بلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ربیع الاول شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
مسافران راعادت است کہ درسفر بمیرند ہمانا دفن میکند ولیکن امان میکند بعد از مدت مقررہ ازنیجا بیرون کنا نیدہ از مشرق بہ مغرب واز شمال بجنوب وعلی العکس می برن د آیا ایں فعل جائز است یا ناجائز
مسافروں کی عادت یوں ہے کہ جو سفر میں مرتے ہیں ان کو ویسے ہی دفن کر دیتے ہیں لیکن امانت رکھتے ہیں ایك مقررہ مدت کےبعد سے نکالا کر مشرق سے مغرب شمال سے جنوب او راس کے برعکس لے جاتے ہیں یہ فعل جائز ہے یا ناجائز
الجواب :
ایں حرام ست بعد از دفن کشودن حلال نیست و نقل بمسافت بعیدہ روانیست واﷲ تعالی اعلم
یہ حرام ہے دفن کے بعد کھولنا جائز نہیں اور دور مسافت تك لے جانا بھی روا نہیں اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ تا : از جالندھر چوك حضرت امام ناصرا لدین صاحب مسئولہ ملك محمد امین صاحب صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں :
() قبرستان بوجہ بہت ویرانے کے میت کی ہڈیاں باہر نکل پڑیں تو ایسی حالت میں پختہ اینٹوں سے قبر از سرنو بنانی جائز ہے یا نہیں
() ایسے قبرستان میں جوتی پہن کر جانا اور چارپائی پر سونا گھوڑا باندھنے میں کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
() ان ہڈیوں کو دفن کرنا واجب ہے اور قبر میت کے گرد پکی نہ ہو اوپر سے پکی کرسکتے ہیں۔
مسئلہ : از شہر بریلی کہنہ محلہ کانکر ٹولہ مسئولہ مولوی حضور احمد صاحب ر بیع الاول شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کے صحن میں بعد تعمیر مسجد ایك عرصہ کے بعد اتفاق سے تین میت دفن ہوگئیں قبروں کے میل میں شمال کی جانب ایك حجرہ بھی تھا کہ اس کو وارثان میت موصوفہ نے توڑکر دوسری جگہ حجرہ بنوادیا اور اراضی حجرہ سابق کو شامل قبروں کے حدود قائم کردئے وارثان میت کا ایما قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اراضی حجرہ سابق بغرض آئندہ قبروں کے شامل کی گئی ہے۔ علاوہ اس کے قبرو کے تین رخ یعنی جانب مشرق و مغرب جنوب بوقت بنوانے حدود کے تھوری اراضی صحن مسجد قبروں میں اور شامل ہوگئی ہے۔ ایسی صوت میں شرعا کیا ہونا چاہئے او رچونکہ اس وقت فرش صحن مسجد کا پختہ اور درست ہورہا ہے اراضی حجرہ سابق ونیز اور جو اراضی کسی قدر قبروں کے حصہ میں دب گئی ہے اس کو نکال کر اور تینوں قبروں میں جس قدر اراضی ہے حدود بنادئے جائیں یا نہیں یا کیا کرنا چاہئے چونکہ تعمیر فرش زیر تعمیر ہے اس کے جواب کی جلد ضرورت ہے۔
الجواب :
اگر صورت واقعہ یہ ہے کہ صحن مسجد میں بعد تعمیر مسجد وارثان بانی مسجد خواہ کسی نے قبریں بنالیں تو وہ قبریں محض ظلم ہیں اور ان کا باقی رکھنا ظلم ہے نہ کہ آئیندہ قبروں کے لئے ایك حدبندی اور اس میں حجرہ مسجد اورصحن مسجد سے اورزمین شامل کرنایہ سب ظلم وحرام ہے او راس کا دفع کرنا فرض ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس لعرق ظالم حق واوقع ھھنا فی ابن عابدین ایھام ازلناہ فیما علیہ عقلناہ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں۔ یہاں شامی کچھ ایہام واقع ہے جس کا ازالہ ہم نے اس کے حاشیہ میں کیا ہے واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ : مسجد کےمحاذی مسجد کے دروازے سے ملحق اگر پرانا قبرستان ہو جس میں قبروں کے نشان نمایا ہوں اس کی اراضی کو مسجد کے صحن کو وسعت دینے کی غرض سے ہموار کرکے شامل صحن کرلیا جائے اور اس پر نماز پڑھی جائے تو
الجواب :
حرام حرام حرام۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بنگالہ ضلع سلہٹ موضع شوبیدپور مرسلہ مولانا انوار لدین صاحب شعبان المعظم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قبرستان وقف میں کسی کو اپنی سکونت یا ذاتی منفعت کے لئے مکان بنایا یا مقبرہ غیر وقف میں مالك کا خاص قبور پر یا قبروں سے جدا مکان تعمیر کرنا خصوصا اس قبر پر جو بلااجازت مالك اس کی زمین میں بنالی ہو اس میں سے میت کو نکال کر یا بے نکالے ہوئے جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
مقبرہ وقف میں اپنا مکان سکونت بنانا یا خلاف وقف اپنے کسی تصرف وانتفاع میں لانا حرام ہے ۔ فان الوقف لا یملك ولا یخالف(اس لیے کہ وقف کو نہ اپنی ملك بنایا جاسکتا ہے نہ اس کے مقررہ مقصد کے خلاف کیا جاسکتاہے ۔ ت) اورمالك کو اپنی زمین مملوك میں قبروں سے جدا مکان بنانا روا فان الملك مطلق لہ والمالك لا یحجر ( اس لیے کہ ملك اس کے لیے مطلق ہے اور مالك روکا نہیں جاسکتا ۔ ت) اور قبور پر کہ اس کی اجازت سے بنی ہوں ناروا
لما فیہ من استھانۃ بالمسلمین وقد حققنا مایتعلق بھذافی فتاونا بمالا مزید علیہ ومن سعی فی نقض ماتم من جہتہ فسعیہ مردود علیہ۔
اس لیے کہ ا س میں مسلمان کی اہانت ہے اس سے متعلق تمام باتون کی کامل تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں کردی ہے اور جو اس عہد کو توڑنے کی کوشش کرے جو اسی کی جانب سے تمام ہوا تو اس کی کوشش اس پر رد کردی جائیگی ۔ (ت)
مگر جو قبر ظلما بلااجازت مالك بنالی جائے اس کے لیے کچھ حق نہیں۔
لقولہ صلی اﷲ علیہ وسلم لعرق ظالم حق
کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے : ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں۔ (ت)
علماء اجازت دیتے ہیں کہ چاہے میت کو نکلوادے' چاہے یونہی زمین اپنے تصرف میں لائے ۔ درمختار میں ہے :
مالك کو اختیار ہے کہ اسے نکال دے یا زمین کے برابر کردے ۔ (ت)
صفوف نماز کی شرعا کس قدر حرمت وتعظیم ہے مگر جو صفیں قبل تمامی صف اول کرلی جائیں حدیث وفقہ حکم فرماتے ہیں کہ ان صفوں کو چیرتے ہوئے جاکر صف اول پوری کریں کہ خلاف شرع قائم ہونے کے سبب ان کی حرمت نہیں یہ حق اﷲ میں ہے ۔ حق العبد تو اشد ہے۔ پھر بھی اگر صاحب حق اس کا لحاظ کرکے اپنے حق سے درگزر کرے کہ مردہ بدست زندہ اس نے خود قصور نہ کیا۔ توا مید ہے کہ حق سبحنہ وتعالی اسے اجر عظیم فرمائے گا۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بمبئی محلہ نل بازار دکان سیٹھ شمس الدین وامیر الدین مرسلہ امیر الدین معرفت سید محمد مہدی حسن میاں صاحب ربیع الاول ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص قبرستان خاص یا قرب قبرستان مکان تعمیر کرے اور پاخانہ بھی تعمیر کرے۔ پاخانہ کی موری کا غلیظ پا نی قبروں پر ہو کر جائے تو ایسی جگہ مکان بغرض سکونت و رہائش بنا نا جائز ہے یا نا جائز ایسی جگہ کہ کپڑوں کے دھونے سے غلیظ پانی کپڑوں کا قبروں پر سے جاری ہے وہاں دھوبی کپڑے دھوسکتا ہے او راگر وہ جگہ بقبضہ مسلمان ہے یا ملکیت مسلمان ہے تو مسلمان اگر مانع نہ آئے یا بطمع کرایہ دھوبی کے اس عمل مذکور کوجاری رہنے دے۔ بینوا توجروا
الجواب :
قبرستان وقف ہے اور وقف میں اپنی سکونت کا مکان بنانا وقف بیجا ہے او راس میں تصرف بیجا حرام ہے پھر اگر اس قطعہ میں قبور بھی ہوں اگر چہ نشان مٹ کرناپید ہوگئی ہوں جب تو متعدد حراموں کا مجموعہ ہے قبروں پر پاؤں رکھنا ہوگا چلنا ہوگا بیٹھنا ہوگا پیشاب پاخانہ کرنا ہوگا او ریہ سب حرام ہے۔ اس میں مسلمانوں کو طرح طرح ایذا ہے او ر مسلمان بھی کون اموات کہ شکایت نہیں کرسکتے دنیا میں عوض نہیں لے سکتے بے وجہ شرعی مسلمانوں کی ایذا اﷲ ورسول کی ایذا ہے اﷲ ورسول کو ایذا دینے والا مستحق جہنم۔ اسی طرح اگر قبرستان کے قریب مکان بنایا پاخانے یا دھوبیوں کے غلیظ پانی کا بہاؤ قبور پر رکھا تو یہ بھی سخت حرام ہے اور جو باوصف قدرت اسے منع نہ کرے وہ بھی مرتکب حرام ہے اوربطمع کرایہ اسے روارکھنا سستے داموں دوزخ مول لینا ہے یہ کام اسی شخص کے ہو سکتے ہیں جس کے دل میں نہ اسلام کی قدر نہ مسلمانوں کی عزت نہ خدا کا خوف نہ موت کی ہیبت والعیاذ
اباحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ کرہ وطء القبر والقعود اوالنوم اوقضاء الحاجۃ الیہ ۔
امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے قبر پر چلنا بیٹھنا سونا قضائے حاجت کرنا مکروہ قراردیا ہے ۔ (ت)
حدیقہ ندیہ میں جامع الفتاوی سے ہے :
انہ والتراب الذی علیہ حق المیت فلایجوز ان یوطء ۔
وہ اور اس پرکی مٹی حق میت ہے توا س پر چلنا جائز نہیں ۔ (ت)
فتاوی عالمگیری میں امام علی ترجمانی سے ہے :
یاثم بوطء القبور لان سقف القبر حق المیت ۔
قبروں پر چلنے سے گنہگار ہوگا اس لیے کہ قبر کی چھت میت کا حق ہے ۔ (ت)
تنویرالابصار میں ہے : یکرہ بول وغائط فی مقابر ( قبرستان میں پیشاب پاخانہ مکروہ ہے ۔ ت)ردالمحتار میں ہے :
لان المیت یتأذی بمایتاذی بہ الحی والظاھر انھا تحرمیۃ لانھم نصوا علی المرورفی سکۃ حادثہ فیھا حرام فہذا اولی ۔
اس لیے مردے کو بھی اس چیزسے اذیت ہوتی ہے جس سے زندے کوا ذیت ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے۔ اس لیے کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ قبرستان کے اندر نوپیدا راستے سے گزرنا حرام ہے تو یہ بدرجہ اولی حرام ہوگا ۔ (ت)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لان امشی علی جمرۃ اوسیف احب الی من ان
مجھے آگ یا تلوار پر چلنا قبر پر چلنے سے زیادہ پسند ہے
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمد یۃ الصنف الثامن نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢ / ٥٠٤
فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ٥ / ٣٥١
درمختار فصل فی الاستنجا مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٥٧
ردالمحتار فصل فی الاستنجا ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ١ / ٢٢٩
اسے ابن ماجہ نے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے بسند جید روایت کیا۔
نیز نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
کسر عظم المیت یوذیہ فی قبرہ مایوذیہ فی بیتہ وقال عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ اذی المومن فی موتہ کاذاہ فی حیاتہ وعن عمارۃ بن حزم رضی اﷲ تعالی عنہ قال رانی رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جالسا علی قبر فقال یا صاحب القبر انزل من علی القبر لاتؤذی صاحب القبر ۔
مردے کی ہڈیاں توڑنا او راسے ایذا دینا ایسا ہے جیسے زندے کی ہڈی توڑنا او رایك روایت کے الفاظ یہ ہے : میت کو قبر کے اندربھی اس چیز سے ایذاہوتی ہے جس سے گھر کے اندر ایذاہوتی تھی حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : بحالت وفات مومن کو ایذا دینا ایسے ہے جیسے اسے زندگی میں ایذا دینا۔ حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك قبر پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا : اے قبر سے لگنے والے! قبر سے اتر جا صاحب قبر کو ایذا نہ دے ۔ (ت)
ان تمام صحیح حدیثوں اور ان کے سوا اور احادیث کثیرہ سے ثابت ہے کہ قبر پر بیٹھنا یا پاؤں رکھنا بلکہ صرف اس سے تکیہ لگانے سے میت کو ایذاہوتی ہے۔ او رمردہ مسلمان کی ایذا ایسی ہے جیسے زندہ مسلمان کی۔ تواس پر تجھے پانی بہانا کس قدر باعث ایذاہوگا۔ جب زندہ مردہ اس میں برابر ہیں تو کیا یہ شخص روا رکھے گا کہ پاخانے کے بدرو کا پانی اس پر بہایا جائے یا لوگ اس کے سینے او رمنہ پر پیشاب کیاکریں یا دھوبی ناپاك کپڑے دھوکر وہ پانی اس کے منہ اور سر پر چھڑك دیا کریں ہر گز کوئی مسلمان بلکہ کافر اسے اپنے لیے روانہ رکھے گا تومیت مسلمانوں کے لیے ایسی سخت ایذا کس دل سے روارکھی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ رواہ الطبرانی عنہ
جس نے کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادی ا س نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو
سنن ابوداؤد کتاب الجنائز آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ١٠٢
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ بحوالہ ابن ابی شیبہ باب دفن المیّت مکتبہ امدادیہ ملتان ٤ / ٧٩
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ بحوالہ الطبرانی والحاکم باب دفن المیّت مکتبہ امدادیہ ملتان ٤ / ٦٩
کنز العمال بحوالہ طب عن انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث ٧٠٣ موسسۃالرسالۃ بیروت ١٦ / ١٠
ایذادی۔ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں بسند حسن حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔ (ت)
اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
ان الذین یؤذون الله و رسوله لعنهم الله فی الدنیا و الاخرة و اعد لهم عذابا مهینا(۵۷) ۔
بیشك جولوگ اﷲ ورسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر اﷲ کی لعنت ہے دینا اور آخرت میں اور اﷲ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھاہے ۔
والعیاذ باﷲ تعالی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ربیع الاول شریف ھ
قبر پر درخت لگانا دیوار کھینچنا یا قبرستان کی حفاظت کے لیے اس کے چاروں طرف کھود کر جس میں قدیم قبریں بھی ہیں محاصرہ کرناجائز ہے یا نہیں
الجواب :
حفاظت کے لیے حصار بنانے میں حرج نہیں اور درخت اگر سایہ زائرین کے لیے ہو اچھا ہے مگر قبرستان سے جدا ہو۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از بریلی مدرسہ منظرالاسلام مسئولہ غلام جان صاحب طالبعلم شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قبرستان کی کوئی چیز مثلا لکڑی واینٹیں وغیرہ مسجد میں صرف کرنایا ان کی قیمت لے کر مسجد میں صرف کرنا جائز ہے یا نہ
الجواب :
قبرستان میں پیڑ جس نے لگائے ان کی لکڑی او رمقبرہ جس نے بنوایا اس کی اینٹیں ا س لگانے بنوانے والے کی ملك ہے وہ جوچاہے کرے اور اگر مالك کا پتا نہیں یا درخت خودرو ہیں تو مسجد میں صرف کرسکتے ہیں واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از سہانپور مرسلہ مولوی امیر یار خاں صاحب امام مسجد جامع شوال ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ ( اﷲ آپ پر رحم کرے آپ کا کیا فرمان ہے ۔ ت) ا س مسئلہ میں کہ ایك بزرگ کی قبر خام ہے اس اہل قبر سے اس کے مقتدین کے لیے کمال درجہ کا فیض مثل اویسیہ کے اور حصول تسکین قلب ومراقبہ واشغال متصور ہے۔ مگر چونکہ موسم برسات میں بباعث آب وسیلاب کے اور دیگر مواسم گرما وغیرہ
الجواب :
صورت مذکورہ فی السوال جائز ہے۔ ائمہ دین نے مزرات حضرات علماء ومشائخ قدست اسرار ہم کے گرد زمین جائز التصرف میں اس غرض سے کہ زائرین ومستفیدین راحت پائیں عمارت بنانا جائز رکھا اور تصریحات فرمائیں کہ علت منع نیت فاسدہ یا عدم فائدہ ہے توجہاں نیت محمود اور نفع موجود منع مفقود۔ تفصیل صور وتحقیق اغر اس مسئلہ میں یہ ہے کہ اگر پہلے عمارت بنالی جائے بعدہ اس میں دفن واقع ہو جب تو مسئلہ بناء علی القبر سے متعلق ہی نہیں کہ یہ اقبار فی البناء ہے نہ بناء علی القبر علامہ طرابلسی برہان شرح مواہب الرحمن پھر علامہ شرنبلالی غنیہ ذوی الاحکام پھر علامہ سید ابوالسعود ازہری فتح اﷲ المعین پھر علامہ سید احمد مصری حاشیتین در ومراقی الفلاح میں فرماتے ہیں :
واللفظ الغنیۃ قال قال فی البرھان یحرم البناء علیہ للزینۃ ویکرہ للاحکام بعد الدفن لا الدفن مقام بنی فیہ قبلہ لعدم کونہ قبر حقیقۃ بدونہ اھ
الفاظ غنیہ کے ہیں کہا کہ برہان میں ہے کہ قبر پر زینت کے لیے عمارت بنانا حرم ہے او ردفن کے بعد پختگی ومضبوطی کے لیے بنانا مکروہ ہے جہاں پہلے سے عمارت تھی وہاں دفں مکروہ نہیں کیونکہ بغیر دفن کے وہ جگہ حقیقۃ قبر نہیں اھ (ت)
اور اگر دفن کے بعد تعمیر ہو تو اس کی دو۲ صورتیں ہیں : ۱ایك یہ کہ خود نفس قبر پر کوئی عمارت چنی جائے اس کی ممانعت میں اصلا شك نہیں کہ سقف قبر و ہوائے قبر حق میت ہے معہذا اس فعل میں ا س کی اہانت واذیت یہاں تك کہ قبر پر بیٹھنا چلنا ممنوع ہوا نہ کہ عمارت چننا ہمارے بہت علمائے مذہب قدست اسرارہم نے احادیث وروایات نہی عن النباء سے یہی معنی مراد لیے اور فی الواقع بناء علی القبر کے حقیقی معنی یہی ہیں۔ گرد قبر کوئی مکان بنانا حول القبر ہے کہ علی القبر۔ جیسے صلوۃ علی القبر کی ممانعت بجنب القبر کو شامل نہیں کما نص علیہ العلماء قاطبۃ وبیناہ فی فتاونا ( جیسا کہ علماء نے بالاتفاق اس کی تصریح کی ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اسے بیان کیا ہے ۔ ت)امام فقیہ النفس فخر الملۃ والدین اوزجندی خانیہ میں فرماتے ہیں :
قبر کو گچ سے پکا نہ کیا جائے گا ا س لیے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مروی ہے کہ حضور نے گچ اور چونے سے پختہ کرنے سے اور قبر کے اوپر عمارت بنانے سے ممانعت فرمائی ہے علماء نے فرمایا عمارت سے مراد وہ سفط ہے جو ہمارے دیار میں قبر پر بنایا جاتا ہے اس لیے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا : قبر کو گچ اور گارے سے پختہ نہ کیا جائے اور نہ اس پر عمارت او رسفط بلند کیا جائے ۔ (ت)
امام طاہرین بن عبدلرشید بخاری خلاصہ میں فرماتے ہیں :
لا یرفع علیہ بناء قالوا ارادبہ السفط الذی نجعل فی دیارنہ علی القبور وقال فی الفتاوی الیوم اعتاد واالسفوط ۔
اس پر کوئی عمارت اونچی نہ کی جائے علماء نے فرمایا : اس سے وہ سفط مراد ہے جو ہمارے دیار میں قبروں پر بنایا جاتا ہے اور فتاوی میں ہے کہ اس زمانے میں سفطوں کی عادت ہوچکی ہے ۔ (ت)
رحمانیہ میں نصاب الاحتساب سے ہے :
لایجوز لاحد ان یبنی فوق القبور بیتا اومسجدا لان موضع القبر حق المقبور فلا یجوز لاحد التصرف فی ھواء قبرہ ۔
قبر کے اوپر گھر یا مسجد بناناجائز نہیں اس لیے کہ قبر کی جگہ میت کا حق ہے تو کسی کے لیے اس قبرکی فضا میں تصرف روا نہ ہوگا ۔ (ت)
ہندیہ میں ہے :
یاثم بوطء القبور لان سقف القبر حق المیت ۔
قبروں پر چلنے سے گنہگار ہوگا اس لیے کہ قبر کی چھت حق میت ہے ۔ (ت)
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس والعشرون فی الجنائز مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ١ / ٢٢٦
رحمانیہ
فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشرفی زیارۃ القبور الخ نورانی کتب خانہ پشاور ٥ / ٣٥١
ولذ النقل فی المرقاۃ عن الازھاران النھی للحرمۃ فی المقبرۃ المسبلۃ ویجب الھدم وان کان مسجدا ۔
اسی لیے مرقات میں ازہار سے نقل ہے کہ عام وقفی قبرستان میں تعمیر حرام ہونے کی وجہ سے نہی ہے اور اسے ڈھادینا ضروری ہے اگر چہ مسجد ہی ہو ۔ (ت)
یوں ہی اگر بہ نیت فاسدہ ہو مگر زینت وتفاخر جیسے امراء کی قبور پر ابنیہ رفیعہ بمصارف وسیعہ اس غرض سے بنائے جاتے ہیں تو یہ بوجہ فساد نیت ممنوع
کما مرعن البرھان ومثلہ فی نور الایضاح وغیرہ۔
جیساکہ برہان کے حوالے سے گزرا اور اسی کے مثل نورالایضاح وغیرہ میں ہے ۔ (ت)
اسی طرح جہاں بے فائدہ محض ہو جیسے کوئی قبر کسی بن میں واقع ہو جہاں لوگوں کا گزر نہیں یا عوام غیر صلحا کی قبور جن سے نہ کسی کو عقیدت کہ بجہت تبرك وانتفاع ان کی مقابر پر جائیں نہ ان کے دنیا دار ورثا سے امید کہ وہی جاڑے گرمی برسات مختلف موسموں میں بقصد زیارت قبر ونفع رسانی میت وہاں جاکر بیٹھا کریں گے قرآن وذکر میں مشغول رہیں گے یا بر وجہ جائز قراء وذاکرین کو وہاںمقرر رکھیں گے ایسی صورت میں بوجہ اسراف واضاعت مال نہی ہے علامہ تورپشتی فرماتے ہیں : منھی لعدم الفائدۃ فیہ ( ممنوع ہے کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں ۔ ت) مجمع بحار الانوار میں ہے : منھی عنہ لعدم الفائدۃ (بے فائدہ ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے ۔ ت)مرقاۃ میں ہے :
وقال بعض الشراح من علمائنا ولاضاعۃ المال ۔
اور ہمارے بعض علمائے شارحین نے فرمایا او راضاعت مال کی وجہ سے بھی ۔ (ت)
جہاں ان سب محذورات سے پاك ہو وہاں ممانعت کی کوئی وجہ نہیں۔ ولہذا مولانا علی قاری نے بعد نقل کلام
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ بحوالہ تورپشتی باب دفن المیّت مکتبہ امدادیہ ملتان٤ / ٦٩
مجمع بحار الانوار لفظ '' شرف'' کے تحت مذکور ہے منشی نولکشور لکھنؤ ٢ / ١٨٧
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب دفن المیّت فصل اول مکتبہ امدادیہ ملتان ٤ / ٦٩
قلت فیستفاد منہ انہ اذا کانت الخیمۃ لفائدۃ مثل ان یقعد القراء تحتھا فلا تکون منھیۃ قال ابن الھمام واختلف فی اجلاس القارئین لیقرأ واعند القبر والمختار عدم الکراھۃ ۔
میں کہتا ہوں تو اس سے مستفاد ہو اکہ جب خیمہ کسی فائدہ کے تحت ہو مثلا یہ کہ قرآن پڑھنے والے اس کے نیچے بیٹھیں گے تو ممنوع نہ ہوگا۔ ابن ہمام نے فرمایا : قبر کے پاس بیٹھ کر پڑھنے کے لیے جوٹاٹ بچھتے ہیں ان سے متعلق اختلاف ہے مختاریہ ہے کہ کراہت نہیں۔ (ت)
شیخ الاسلام کشف الغطاء میں فرماتے ہیں :
اگر غرضے صحیح داشتہ باشد ' دراں باك نیست بآں چنانکہ دربنائے قبر بہ نیت آسائش مردم وچراغ افرو ختن درمقابربقصد دفع ایذائے مردم از تاریکی راہ ونحو آں گفتہ اند کذا یفھم من شرح الشیخ ۔
اگر کوئی صحیح غرض ہو تو اس میں حرج نہیں جیسے لوگوں کے آرام کے لیے قبر کے پاس عمارت بنانے اور راستے کی تاریکی سے لوگوں کی تکلیف دفع کرنے کے لیے قبرستان میں چراغ جلانے ا وراس طرح کے کاموں میں علماء نے فرمایا ہے____ شیخ کی شرح سے ایسا ہی سمجھ میں آتا ہے ۔ (ت)
صحیح بخاری شریف میں ہے :
عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال فی مرضہ الذی مات فیہ لعن اﷲ الیہود والنصاری اتخذ واقبور انبیاء ھم مسجدا قالت ولولا ذاك لابرزوا قبرہ ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کرتی ہے کہ حضور نے اپنے مرض وفات میں فرمایا : یہود ونصاری پر خدا کی لعنت ہو انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنالیا۔ اگریہ ارشاد نہ ہوتا تو حضور کی قبر انور نمایاں رکھی جاتی ۔ (ت)
کشف الغطاء باب دفن میّت مطبع احمدی دہلی ص ۵۵
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذالمسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٧٧
لکن لم یبرز وہ ای لم یکشفوہ بل بنوا علیہ حائلا ۔
لیکن اسے نمایا اور منکشف نہ رکھا بلکہ اس پر ایك حائل بنادیا ۔ (ت)
جذب القلوب میں فرمایا :
چوں دفن سرور انبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بموجب حکم الہی ہم درحجرہ شریفہ شد۔ عائشہ صدیقہ نیز درخانہ خود ساکن می بودومیان او و قبرشریف پر دہ نہ بود و در آخر بسبب جرأت و عدم تحاشی مردم از درآمدن برقبرشریف وبرداشتن خاك ازاں خانہ را دوقسم ساخت ودیوارے درمیان مسکن خود وقبر شریف کشید وبعد ازاں کہ امیر المومنین عمر درمسجد زیادت کر دہ حجرہ راازخشت خام بناکردو تازمان حدوث عمارت ولید ایں حجرہ ظاہر بود عمر بن عبدالعزیز بحکم ولید بن عبدالملك آں راہدم کردو بحجارہ منقوشہ برآورد۔ برظاہر آں حظیرہ دیگر بناکرد وہیچکدام ازیں دودرے نگذاشت از عروہ روایت می کنند کہ وے بہ عمربن عبدالعزیز گفت اگر حجرہ شریفہ رابرحال خود گزارند وعمارتے گردآں برآرند احسن باشد الخ(ملخصا)
جب سرور انبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو حکم الہی کے باعث حجرہ شریفہ ہی میں دفن کردیاگیا عائشہ صدیقہ بھی اپنے گھر میں سکونت پذیر تھیں ان کے اور قبر شریف کے درمیان پردہ نہ تھا آخر میں قبر شریف کے پاس بیباکی سے لوگوں کے بے تحاشہ آنے اور وہاں کی خاك لے جانے کی وجہ سے گھر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور ا ور اپنے مسکن اور قبر شریف کے درمیان ایك دیوار کھینچ دی جب امیر المومنین حضرت عمر نے مسجد میں اضافہ کیا تو حجرہ کی عمارت کچی اینٹوں کی بنادی ولید کے زمانہ کی تعمیر جدیدتك یہ حجرہ ظاہر تھا عمر بن عبد العزیز نے ولید بن عبد الملك کے حکم سے اسے منہدم کرکے منقش پتھروں سے بنایا او را س کے بیرونی حصہ پر ایك اور حظیرہ بنایا اور ان دو۲ دروازوں میں سے کوئی نہ چھوڑا۔ حضرت عروہ سے روایت ہے کہ انھوں نے عمر بن عبدالعزیز سے کہا اگر حجرہ شریف کو اپنے حال پر رکھتے اور اس کے گرد ایك عمارت بنادیتے تو بہتر ہوتا الخ ( ملخصا) (ت)
لاجرم ائمہ کرام نے گرد قبور علماء ومشائخ قدست اسرارہم اباحت بناکی تصریح فرمائی ۔ علامہ طاہر فتنی
جذب القلوب باب ہفتم دربیان تغیرات الخ نولکشور لکھنؤ ص ١٢١
وقد اباح السلف ان یبنی علی قبر المشایخ والعلماء المشاھیر لیزورھم الناس و یستریحوا بالجلوس فیہ ۔
سلف نے مشہور علماء ومشایخ کی قبروں پر عمارت بنانے کی اجازت دی ہے تاکہ لوگ ان کی زیارت کو آئیں او راس میں بیٹھ کر آرام پائیں ۔ (ت)
بعینہ اسی طرح علامہ علی قاری مکی نے بعد عبارت مسطورہ ذکر فرمایا کہ وقد اباح السلف البناء الخ ( سلف نے علماء ومشائخ کی قبور پر عمارت بنانے کی اجازت کی ہے ۔ ت) کشف الغطاء میں ہے :
درمطالب المومنین گفتہ کہ مباح کردہ اند سلف بناء رابر قبر مشائخ علمائے مشہور تامردم زیارت کنند واستراحت نمایند بجلوس درآں ولیکن اگر برائے زینت کنند حرام است ودرمدینہ مطہرہ بنائے قبہا بر قبور اصحاب درزمان پیش کردہ اند ظاہر آنست کہ آں بتجویز آں وقت باشدو برمرقد منور آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نیز قبہ عالی ست ۔
مطالب المومنین میں لکھا ہے کہ سلف نے مشہور علماء و مشایخ کی قبروں پر عمارت بنانا مباح رکھا ہے تاکہ لوگ زیارت کریں اور اس میں بیٹھ کر آرام لیں لیکن اگر زینت کے لیے بنائیں تو حرام ہے مدینہ منورہ میں صحابہ کی قبروں پر اگلے زمانے میں قبے تعمیر کئے گئے ہیں ظاہر یہ ہے کہ اس وقت جائز قراردینے سے ہی یہ ہوا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مرقد انور پر بھی ایك بلند قبہ ہے ۔ (ت)
نورالایمان میں ہے :
قدنقل الشیخ الدھلوی فی مدارج عن مطالب المومنین ان السلف اباحوا ان یبنی علی قبر المشایخ والعلماء المشہورین قبۃ لیحصل الاستراحۃ الزائرین و یجلسون فی ظلھا وھکذا فی المقاتیح شرح المصابیح وقد جوزہ اسمعیل الزاھدی الذی من مشاھیر الفقہاء ۔
شیخ محقق دہلوی نے مدارج النبوۃ میں مطالب المومنین سے نقل کیا ہے کہ سلف نے مشہور مشائخ وعلماء کی قبروں پر قبے تعمیر کرنا جائز ومباح رکھا ہے تاکہ زائرین کو آرام ملے اور اس کے سائے میں بیٹھ سکیں اسی طرح مفاتیح شرح مصابیح میں بھی ہے اور مشاہیر فقہاء میں سے اسمعیل زاہدی نے بھی اسے جائز قراردیا ہے ۔ (ت)
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب دفن المیّت مکتبہ امدادیہ ملتان ٤ / ٦٩
کشف الغطاء باب دفن میّت مطبع احمدی دہلی ص٥٥
مدارج النبوۃ بحوالہ مطالب المومنین وصل درنماز جنازہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٤٢٠
حیث قال فی مسألۃ الدفن فی الفساقی ان فی نحو قرافۃ مصر لایتأتی للحدودفن الجماعۃ لتحقق الضرورۃ واماالبناء فقدم تقدم الاختلاف فیہ ومام الاختلاط فللضرورۃ فاذا فعل الحاجزبین الاموات فلا کراھۃ ۔
تہ خانوں کے اندر تدفین کے مسئلہ میں لکھتے ہیں : قرافہ مصر جیسی جگہ میں لحد نہیں بن پاتی او رکئی ایك آدمیوں کو ایك ساتھ دفن کرنا مجبوری کی وجہ سے ہے ۔ رہی تعمیر تو اس بارے میں ختلاف گزر چکا ہے اور اختلاط تو مجبورا ہے ۔ اگر مردوں کے درمیان آڑ کردی جائے تو کوئی کراہت نہیں ۔ (ت)
نہایت یہ کہ امام اجل ابوعبد اﷲ محمد بن عبداﷲ غزی تمرتاشی نے تنویر الابصار و جامع البحارپھر علامہ محقق علاءالدین محمد دمشقی نے شرح تنویر پھر فاضل جلیل سیدی احمد مصری نے حاشیہ مراقی میں تصریح وتقریر فرمائی کہ قول جواز ہی مختار ومفتی بہ ہے۔
وھذا الفظ العلامۃ الغزی لایرفع علیہ بناء وقیل لاباس بہ وھوالمختار اھ
یہ علامہ غزی کی عبارت ہے : اس پر کوئی عمارت بلند نہ کی جائے اورکہا گیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور یہی مختار ہے اھ (ت)
بعد تصریح صریح افتاء وترجیح مجال کلام کیا ہے
ھذا ینبغی تحقیق المقام بتوفیق الملك المنعم العلام وبہ یحصل التوفیق بین کلمات الاعلام واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اس مقام کی تحقیق اسی طرح ہونی چاہئے بادشاہ محسن علام کی توفیق سے۔ اور اسی سے علمائے اعلام کے کلمات میں تطبیق بھی ہوجاتی ہے۔ اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم زیادہ کمال واستحکام والا ہے (ت)
مسئلہ تا : از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ر بیع الاول شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
() بزرگوں کے مزار پر فاتحہ قرآن پڑھنے اور کھڑے ہوکر وسیلہ چاہنے کے لیے بنادے اور عرس
درمختار شرح تنویر الابصار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٥
() کسی بزرگ کے روضے کے سامنے قبریں ہیں اور وسعت جگہ کے لیے اس قبہ سے لگا کر اس گرد کی قبر پرمثل سائبان کے پایہ زینہ دیگر چھپر ڈالنا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
(۱) جائز ہے کمافی مجمع بحار الانوار ( جیساکہ مجمع بحار الانوار میں ہے ۔ ت) ہاں منکرات شرعیہ مثل ومزامیر سے بچنا لازم ہے۔
() کسی قبر پرکوئی پایہ چننا جائز نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : ازموضع شرشدی ڈاکخانہ رفینی ضلع نواکھالی مرسلہ سید حمید الدین صاحب شعبان ھ
ماقول علمائنارحمھم اﷲ تعالی ( ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالی کا کیا ارشاد ہے ۔ ت) ایك نہایت مشہور ومعروف بزرگ کا اتنقال ہوا اس کے وارث نے بایں نیت ا س پر گھاس کی چھت بنوادی ہے کہ زائرین اطمینان کے ساتھ صیف وشتا میں قرآن مجید پڑھ کر ثواب رسانی کرسکیں اور اس بزرگ کی قبرکا نشان باقی رہے تاکہ لوگ اس سے فیض حاصل کرسکیں اس میں نہ چراغ جلایا جاتاہے نہ چاندنی تانی گئی ہے نہ کسی کوقبر پرستی او رنہ قدمبوسی کی اجازت ہے اصل قبرو متصل زمین خام ہے ۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں وہ بلاشبہہ جائز ہے او ربنوانے والا اپنی نیك نیتی پر ثواب کا مستحق ہے اور اس میں زائروں اور تلاوت کرنے والوں کے لیے چرا غ بھی روشن کریں یہ قبر پر چراغ نہیں مجمع بحار الانوار جلد ثالث میں ہے :
قداباح السلف البناء علی قبور الفضلاء الاولیاء والعلماء لیزورھم الناس ویستریحون فیہ ۔ واﷲ تعالی اعلم
سلف نے اہل فضل اولیاء وعلماء کی قبروں پر عمارت بنانا مباح قرار دیا ہے تاکہ لوگ ان کی زیارت کریں اور ا س میں ارام لیں ۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بجنور مرسلہ شیخ معین الدین صاحب ماسٹر پٹواری اسکول ضلع بجنور جمادی الاخری ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بلحاظ نرمی زمین وحفظ نعش اپنے پیر طریقت کی قبر کو پختہ بنوایا اور سالیانہ تاریخ وفات شیخ پر قرآن شریف اور درود وکلمہ پڑھوا کر شیخ مذکور کی روح پر فتوح کو ایصال ثواب کرتا ہے اور بامید فیضان وحل مشکلات شیخ کی قبر پر جاکر بیٹھتاہے اور وساطۃ اس سے استمداد کرتا ہے تو یہ
الجواب :
اموات مسلمین کو ایصال ثواب بے قید تاریخ خواہ بحفظ تاریخ معین مثلا روز وفات جبکہ اس کاالتزام بنظر تذکیر وغیرہ مقاصد صحیحہ ہو نہ اس خیال جاہلانہ سے کہ تعیین شرعا ضروریا وصول ثواب اسی میں محصور یو نہی عرس مشائخ کہ منکرات شرعیہ مثلا رقص ومزامیر وغیر سے خالی ہو۔ اسی طرح اولیائے کرام وسائل بارگاہ ونواب حضرت احیائے معنی واموات صورۃ قدست اسرارہم سے استعانت واستمداد جبکہ بطور توسل وتوسط وطلب شفاعت ہو نہ معاذاﷲ بظن خبیث استقلال وقدرت ذاتہ جس کا توہم نہ کسی مسلم سے معقول نہ مسلمان ہونے پر سوئے ظن مقبول یہ سب امور شرعا جائز وروا ومباح ہیں جن کے منع پر شرع مطہرہ سے اصلا دلیل نہیں۔ فقیر غفر اﷲ تعالی نے متعدد مسائل ورسائل مندرجہ فتاوی فقری مسمی بہ البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقۃ میں ان سب مسئلوں کی تحقیق انیق بروجہ کافی ذکر کی۔ اور دربارہ استعانت خاص ایك رسالہ مسمی بہ برکات الامداد لاھل الاستمداد تالیف کیا۔ ان کے بعد تفصیل تازہ کی حاجت نہیں اور قبر پختہ بنانے میں حاصل ارشاد علمائے امجادر حمہم اﷲ تعالی یہ ہے کہ اگر پکی اینٹ میت کے متصل یعنی اس کے آس پاس کسی جہت میں نہیں کہ حقیقۃ قبر اسی کا نام ہے بلکہ گڑھا کچا اور بالائے قبر پختہ ہے تو مطلقا ممانعت نہیں یہاں تك کہ امام اجل فقیہ مجتہد اسمعیل زاہدی نے خاص لحد میں پکی اینٹ پر نص فرمایا جبکہ کچے چوکے کی تہ ہواور اپنی قبر مبارك میں یونہی کرنے کی وصیت فرمائی او رمتصل میت ممنوع مکروہ مگر جبکہ بضرورت تری ونرمی زمین ہو تو ا س میں بھی حرج نہیں۔ درمختا ر میں ہے :
یسوی المین علیہ والقصب لاالاجر المطبوخ والخشب لوحولہ امافوقہ فلا یکرہ ابن ملکوجاز حولہ بارض رخوۃ کالتابوت ۔
اس پرکچی انیٹیں ا وربانس چن دے پکی انیٹیں اور لکڑی اس کے گرد نہ لگائے اوپر ہو تومکروہ نہیں ابن الملک۔ او رنرم زمین ہو تو ا س کے گرد بھی جائز ہے جیسے تابوت ۔ (ت)
حلیہ پھرردالمحتار میں ہے :
کرھوالا جرو الواح الخشب وقال الامام علماء نے پکی اینٹوں او رلکڑی کے تختوں کو مکروہ کہا ہے
اورامام تمرتاشی نے فرمایا : یہ اس وقت ہے جب میت کے گرد ہو اور اگر اس کے اوپر ہو تو مکروہ نہیں اس لیے کہ یہ درندے سے حفا ظت کا ذریعہ ہوگا مشائخ بخارا نے فرمایا کہ ہمارے دیار میں پکی اینٹیں مکروہ نہیں کیونکہ زمین کمزور ہونے کی وجہ سے اس کی ضرورت ہے ۔ (ت)
خانیہ و خلاصہ وہندیہ میں ہے :
یکرہ الاجرفی اللحد اذاکان یلی المیت اما فیما وراء ذلك لاباس بہ ویستحب للبن والقصب ۔
لحد میں پکی اینٹ مکروہ ہے جبکہ میت سے متصل ہو اس کے علاوہ میں کوئی حرج نہیں اور مستحب کچی اینٹ اور بانس ہے ۔ (ت)
حسامی پھر امداد الفتاح پھر طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :
وقد نص اسمعیل الزاھد بالاجر خلف اللبن علی اللحد واوصی بہ ۔
اسمعیل زاہد نے لحد پر کچی اینٹ کے پیچھے پکی اینٹ لگانے کی صراحت فرمائی اور اس کی وصیت کی (ت)
منافع ومبسوط پھر غنیہ میں ہے :
اختار والشق فی دیار نالر خاوۃ الاراضی فیتعذر اللحدفیھا اجاز واالاجر ورفوف الخشب و التابوت ولوکان من حدید ۔
ہمارے دیار میں شق اختیار کی گئی ہے اس لیے کہ زمین نرم ہے جس میں لحد متعذر ہے یہاں تك کہ علماء نے پکی اینٹ لکڑی کے صندوق اورتابوت کی اجازت دی ہے اگر چہ لوہے کا ہو۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
قیدہ الامام السرخسی بان لایکون الغالب علی الاراضی النزوالرخاوۃ فان کان
امام سرخسی نے اس حکم کو اس سے مقید کیا ہے کہ زمین پر تری ا ورنرمی غالب نہ ہو۔ اگر ایسی ہو تو پکی اینٹ
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الصلٰوۃ منشی نولکشور لکھنؤ ١ / ٩٢
الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح فصل فی حملہا ودفنہا نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٣٣٥
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز سہیل اکیڈمی لاہور ص ٥٩٥
اور لکڑی لگانے میں کوئی حرج نہیں جیسے اس بناء پر لوہے کا تابوت لگانے میں حرج نہیں ۔ (ت)
نیز بحر وحاشیہ ابی السعود الازہری علی الکنز میں ہے :
وقیدہ فی شرح المجمع بان یکون حولہ امالوکان فوقہ لایکرہ لانہ یکون عصمۃ من السبع ۔
شرح مجمع میں یہ قید لگائی ہے کہ اس کے گرد ہو لیکن اگر اوپر ہو تو مکروہ نہیں اس لیے کہ اس سے درندوں سے حفاظت رہے گی ۔ (ت)
کافی پھر غرر و درر میں ہے :
یسوی اللبن والقصب لاالخشب والاجر وجوز فی ارض رخوۃ ۔
کچی اینٹ اور بانس چناجائے لکڑی اور پکی اینٹ نہ ہو اور نرم زمین میں اس کی بھی اجازت ہے ۔ (ت)
شرح نقایہ برجندی میں ہے :
انما یکرہ الاجرفی اللحد ان کان یلی المیت امافی وراء ذلك فلا باس بہ کذافی الخلاصۃ وقال الامام علی السغدی اتخاذ التابوت فی دیارنا افضل من ترکہ ۔
لحد میں پکی اینٹ اسی صورت میں مکروہ ہے کہ میت سے متصل ہو اس کے علاوہ میں کوئی حرج نہیں ایسا ہی خلاصہ میں ہے۔ امام علی سغدی نے فرمایا : ہمارے دیار میں تابوت لگانا نہ لگانے سے بہتر ہے ۔ (ت)
مجمع الانہر میں ہے :
یکرہ الاجروالخشب ای کرہ ستر اللحد بھما وبالحجارۃ والجص لکن لوکانت الارض رخوۃ جاز استعمال ماذکر ۔
پکی اینٹ اور لکڑی مکروہ ہے صرف لحد کو ان سے اور پتھروں سے اور گچ سے چھپانا مکروہ ہے لیکن اگرزمین نرم ہو تو ان سب کا استعمال جائز ہے ۔ (ت)
فتح المعین علٰی شرح الکنز لملامسکین باب الجنائز فصل فی الصلٰوۃ علی المیّت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی٢ / ١٩٤
دررالحکام فی شرح غرر الاحکام باب الجنائزمطبعۃ احمد کامل الکائنہ دارسعادت بیروت ١ / ١٦٧
شرح نقایہ برجندی فصل فی صلٰوۃ الجنائزۃ منشی نولکشور لکھنؤ ١ / ١٨٢
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی الصلٰوۃ المیّت داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۸۶
الان دردیارنا نیز بسبب رخاوت زمین ہمیں متعارف است حتی کہ تجویز کردہ اندمشائخ درامثال ایں دیار بایں علت خشت پختہ وچوب وگرفتن تابوت راکہ ازآہن باشد ۔
اب ہمارے دیار میں بھی زمین کے ڈھیلے پن کی وجہ سے یہی متعارف ہے یہاں تك کہ مشائخ نے اس طرح کے دیار میں اسی علت کی وجہ سے پکی اینٹ اور لکڑی او رآہنی تابوت لگانے کو جائز کہا ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
درتجنیس گفتہ رخصت دادہ است امام اسمعیل زاہد کہ گردانیدہ شوند خشت ہائے پختہ خلف خشتہائے خام بہ لحد وتحقیق وصیت کردہ بود بوے ومشائخ بخارا گفتہ اند درزمین ماخشت پختہ اگر بنہند مکروہ ونباشد از برائے نرمی زمین پس بہر جاکہ زمین نرم باشد باك نیست بنہادن خشت پختہ ومانندآں از چوب ۔
تجنیس میں ہے کہ امام اسمعیل زاہد نے اس کی رخصت دی ہے کہ لحد میں کچی اینٹوں کے پیچھے پکی اینٹیں لگائی جائیں اور اس کی وصیت بھی فرمائی تھی مشائخ بخارا نے فرمایا ہے کہ اگر ہماری زمین میں پکی اینٹ لگائیں تو مکروہ نہ ہوگا اس لیے کہ زمین نرم ہے تو جہاں بھی زمین نرم ہو پکی اینٹ او راسی طرح لکڑی کےتختے لگانے میں کوئی حرج نہیں۔ (ت)
ان عبارات متظافرہ سے واضح ہواکہ فعل زید بغرض مذکور ہرگز ہرگزکسی طرح قابل مواخذہ نہیں وانا اقول ( اور میں کہتا ہوں ۔ ت)بالفرض کراہت ہی مانتے تو مسئلہ خصوصا ایسے تصریحات جماعات کثیرہ ائمہ کے بعد زینہار حد تفسیق تك بھی نہیں پہنچ سکتا کہ اس کی اقتداء کو مکروہ ہی کہا جائے نہ کہ عدم جواز یہ محض جہل بعید و تعصب شدید ہے معہذا نصوص سابقہ سے واضح ہوا کہ پکی اینٹ او رلکڑی کا ایك حکم ہے۔ اصل سنت کچی اینٹ اور نرکل سے چھپانا ہے لکڑی کے تختے اڑانے عام طورپر ان بلاد میں حضرات متعرضین بھی استعمال کررہے ہیں اپنے اور مولویوں کے پیچھے نماز ناجائز کیوں نہیں کہتے مگر تحکم ان صاحبوں کاداب قدیم ہے ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ واتم واحکم۔
مسئلہ : از ہائی سکول نجیب آباد ضلع بجنور معرفت حمید حسن خاں طالبعلم درجہ نہم مسئولہ اﷲرکھا مستری محرم۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قبر کا پختہ کرانا بہتر ہے یا نہ کرانا اگر پختہ بنانا بہتر ہے تو
کشف الغطاء٥٣
الجواب :
قبر پختہ نہ کرنا بہتر ہے اور کریں تو اندر سے کڑا کچا رہے اوپر سے پختہ کرسکتے ہیں طول وعرض موافق قبرمیت ہو اور بلندی ایك بالشت سے زیادہ نہ ہو اورصورت ڈھلوان بہتر ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ تا : از بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ سید صفدر علی صاحب شعبان المعظم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
() کسی ولی اﷲ کا مزار شریف فرضی بنانا اور اس پر چادر وغیرہ چھڑھانا اور اس پر فاتحہ پڑھنا اور اصل مزار کا سا ادب ولحاظ کرنا جائز ہے یا نہیں اور اگر کوئی مرشد اپنے مریدوں کے واسطے بنانے اپنے مرضی مزار کے خواب میں اجازت دے تو وہ قول مقبول ہوگا یا نہیں
() اگر جنازہ میت کا واسطے دفن کے جانب پچھم لے جائیں توکس طرح سے لے جانا چاہئے سرجانب غرب ہویا جانب پورب
الجواب :
() فرضی مزار بنانا او راس کے ساتھ اصل سا معاملہ کرناناجائز وبدعت ہے اور خواب کی بات خلاف شرع امور میں مسموع نہیں ہوسکتی۔
() میت کو کسی طرف لے جانا ہو بہر حال سر آگے کی طرف رہے ۔ عالمگیری میں ہے :
فی حالۃ المشی بالجنازۃ یقدم الراس کذافی المضمرات ۔ واﷲ تعالی اعلم
جنازہ لے جانے میں سر اگے رکھا جائے گا۔ ایسا ہی مضمرات میں ہے ۔ ( ت)واﷲ تعالی اعلم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلازید نے ایك قبر فرضی اور مصنوعی جس کا پہلے سے کوئی وجود نہ تھا بنواکر یہ بات مشہور کی کہ اس قبر میں امروہہ کے زین العابدین تشریف لائے ہیں مجھ کو خواب میں بشارت ہوئی ہے ایسی روایات سے اس قبر کی عظمت لوگوں کے سامنے بیان کرکے قبر پرستی کی طرف بلانے لگا۔ حتی کہ اس میں اس کو کامیابی ہونے لگی اور بہت سی مخلوق اس کی طرف متوجہ ہوگئی ۔ اس قبرپر چادریں اور مرغ اور بکری ا و رمٹھائیاں روپیہ ا ور پیسہ چڑھانے لگے۔ ا ور اپنی مرادیں اورمنتیں اس قبر سے مانگنے لگے۔ اور زید ا س آمدنی سے متمتع ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے واسطے شریعت کیا حکم لگا تی ہے ----------------------- آیا ایسے شخص کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں کیا ایسا شخص فاجرو فاسق کافر ہے کیا ایسا شخص کا نکاح باطل ہوتا ہے کیا ایسے شخص کے جلسوں میں شریعت شرکت کی اجازت دیتی ہے آیا ایسے شخص سے رشتہ قرابت رکھا جائے نیز اس شخص کے متعلق بھی استفسار کیا جاتا ہے جو زید کے اس معاملہ سے خوش ہے اور اس کاممدو معاون اس معاملہ میں ہے یا ایك ایسا شخص ہے جو زید کو اس معاملہ سے باز رکھ سکتا ہے مگر ساکت ہے ۔ بینواتو جروا
الجواب :
قبر بلا مقبور کی طرف بلانا اور اس کےلئے وہ افعال کرانا گناہ ہے اور جبکہ وہ اس پر مصر ہے اورباعلان اسے کررہا ہے تو فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور پھیرنی واجب ۔ اس جلسہ زیارت قبربے مقبور میں شرکت جائز نہیں زید کے اس معاملہ سے جو خوش ہیں خصوصا وہ جو ممدومعاون ہیں سب گنہگار وفاسق ہیں قال تعالی : و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- ۔ گناہ اور زیادتی پر ایك دوسرے کی مدد نہ کرو۔ (ت) بلکہ وہ بھی جو باوصف قدرت ساکت ہے قال تعالی :
كانوا لا یتناهون عن منكر فعلوه-لبئس ما كانوا یفعلون(۷۹) ۔
وہ برے کام سے ایك دوسرے کو روکتے نہ تھے کیا ہی برا کام وہ کرتے تھے ۔ (ت)
مگر ان میں سے کوئی بات کفر نہیں کہ اس سے نکاح باطل ہو سکے۔ قرابت اپنے اختیار کی نہیں کہ چاہے رکھی چاہے توڑی ۔ یو نہی مرد سے رشتہ کہ اختیاری رشتہ بذریعہ نکاح ہوتا ہے اس کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے قال تعالی : بیده عقدة النكاح- ( اسی کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ۔ ت)ہاں عزیز داری کا برتاؤ اگر یہ سمجھیں کہ اس کے چھوڑنے سے اس پر اثر پڑے گا تو چھوڑدیں یہاں تك کہ باز آئے اور اگر سمجھیں کہ اسے قائم رکھ کر سمجھا نا موثر ہوگا تو یوں کریں۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از قصبہ اوریا ضلع ایٹاوہ مرسلہ عبد الحی صاحب مدرسہ اسلامیہ شعبان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پیران پیر رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نام سے بعض جگہ مزار بنالیا گیا ہے بعض
القرآن ٥ / ٧٩
القرآن ٢ / ٢٣٧
الجواب :
جھوٹا مزار بنانا اور اس کی تعظیم جائز نہیں۔ واﷲسبحانہ تعالی اعلم
مسئلہ : از شہر محلہ کانکرٹولہ مرسلہ عبدالرحیم خاں ذی قعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص بچپن میں حافظ قرآن ہوا اور تمام عمر بدافعالی میں گزاری ایك شوہر دار عورت سے جس کا شوہر نامرد تھا برسوں تعلق رہا او راس سے ایك لڑکی پیدا ہوئی ان حرکات پر ماں باپ نے گھر سے نکال دیا۔ وہ اسی عورت کے گھر جارہا پھر بیمار ہو کرواپس آیا اور مرگیا۔ اب زید کے والدین نے کوشش کرکے مسجد میں ایك بزرگ کی قبر پرانی تھی لیکن خام تھی اس کے برابر دفن کردیا دونوں قبروں کو بہت اچھا پختہ بنوادیا۔ اب اس کے والدین نے دنیا والوں کے خیالات بدلنے کی غرض سے اس قبر پر بہت کثرت سے ہار پھول چڑھانے شروع کردیا۔ اور مسجد میں کوڑا وغیرہ ہوان کو کچھ مطلب نہیں لیکن قبر پر دن میں دو ایك مرتبہ جھاڑو دینا اور دلوانا او رلوگوں سے یہ کہناکہ دیکھو کیسی رونق ہے اور بعض جاہل لوگ نے قبر پر سے مراد مانگنے کی ترغیب دینا شروع کیا۔ چنانچہ اسی قبر کو ابھی بیس پچیس دن گزرے ہوں گے کہ چادر بہن اور بھائی چڑھانے لگے اور قبر کو تعظیم کے ساتھ بوسہ دینا شروع کیا۔ اور آئندہ کو خدا جانے کیا حالت کو ان کے والدین پہنچادیں ایسی حالت میں قبر کو پوجنے والے اور شہرت کرنے والے اور کرانے والے اور مسجد میں جھاڑو کو نہ دینے والے اور قبر پر بلا ناغہ چڑھاوادینا اور مشہور کرنا شرع شریف میں کیا حکم ہے بینواتوجروا
الجواب :
اسے پوچنا نہیں کہتے۔ یہ سائل کی بہت زیادتی ہے۔ تکریم قبور کو وہابیہ پوجنا کہتے ہیں او روہابیہ خود شیطان کو پوجتے ہیں باقی ایسے شخص کی قبر کو ولی کا مزار ٹھہرانا اورمسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے اس کے یہ اہتمام کرنا اور لوگوں کو وہاں مراد مانگنے کی ترغیب دینا یہ ضرور مکرو زور ہے۔ حدیث میں فرمایا : من غشنا فلیس منا ( جو ہمیں دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ الف : از دہلی مدرسہ نعمانیہ محلہ بلی ماراں مرسلہ مولوی عبدالرشید صاحب مہتمم مدرسہ ۱۵ محرم الحرام ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد ہے اور اس کے متصل قبرستان ہے جس میں کہ
صحیح مسلم کتاب الجنائز نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٣١٢
الجواب :
قول مفتی بہ امر خلافی میں ہوتا ہے۔ یہ حدیث شنیعہ ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناجائز و حرام ہے۔ توہین قبور مسلمین ایك اور قبور پر نماز کا حرام ہونا دو۔ او روقف کی تغییر تین عالمگیری میں ہے :
لایجوز تغییرالوقف عن ھیأتہ اھ فکیف عن اصلہ۔
وقف کی ہیات تبدیل کرنا جائز نہیں اورپھر سرے سے وقف ہی کو بدلنا کیسے جائز ہوگا !
کہا ں قبر کی بلندی کہ حد شرعی سے زائد ہو اس کے دور کرنے کا حکم او رکہاں یہ کہ قبور مسلمین مسمار کرکے ان پر چلیں اموات کو ایذا دیں اس پر نماز پڑھ کر گناہ کے مرتکب ہوں نماز خراب کریں ارشاد اقدس : لاتصلوا علی قبر (قبرپر نماز نہ پڑھو ۔ ت) کی مخالف کریں اورکہاں قبور مشرکین کھودکران کی نجاست سے زمین پاك کرکے مسجد اقدس کااس پر بنا فرمانا اور کہاں قبور مسلمین کو توہین اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
افنجعل المسلمین كالمجرمین(۳۵) ما لكم-كیف تحكمون(۳۶) ۔
کیا ہم مسلموں کو مجرموں کی طرح کردیں تم کیسا حکم رکھتے ہو (ت)
اس مسئلہ کی تمام تفصیل ہمارے رسالہ اھلاك الوھابیین علی توھین قبور المسلمین میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
__________
فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع عشر فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ٢ / ٤٩٠
صحیح مسلم کتاب الجنائز نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٣١٢
القرآن ٦٨ / ٣٥ و ٣٦
الجواب :
ومنہ الھدایۃ الی الحق والصواب
جاننا چاہئے کہ انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام وعامہ مومنین اہلسنت کے ساتھ جو قلبی عداوت فرقہ نجدید وہابیہ کو ہے ایسی او رکسی فرقہ مبتدعہ کو نہیں ہے اسی وجہ سے اس فرقہ محدثہ کے اکا بر ملاعنہ کی تصانیف اباطیل اہانت محبوبان خدا سے بھری پڑی ہیں جس کا جی چاہے وہ نجدی ملا اسمعیل دہلوی وصدیق حسن بھوپالی وخرم علی و رشید گنگوہی وغیرہ کی تالیفات باطلہ اٹھا کر دیکھ لے کہ قسم قسم کی اہانتوں سے پر ہیں۔ منجملہ ان کے ایك اہانت قبور انبیاء وشہداء واولیاء علیہم السلام کا منہدم ونابود تابمقدور کرنا اس فرقے کا شعار ہوگیا ہے۔
شیخ نجدی نے روضہ اقدس کو گرانے کا ارادہ کیا تھا
علامہ احمد بن علی بصری کتاب فصل الخطاب فی ردضلالات ابن عبدالوھاب میں فرماتے ہیں :
ان میں سے ایك یہ بات صحیح ہے کہ وہ کہتاہے میں اگر قدرت پاؤں تو روضہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو توڑ دوں ۔ (ت)
شیخ نجدی نے شہداء و صحابہ کرام کے مزار توڑنے
اور یہی علامہ بصری ایك دوسرے مقام میں لکھتے ہیں :
اقول : تھدیم قبور شھداء الصحابۃ المذکورین لاجل البناء علی قبورھم ضلالۃای ضلا لتہ انتھی مختصرا ۔
یعنی نجدی کا شہداء صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی قبور کو قبوں کی وجہ سے توڑ ڈالنا بڑی ضلالت اورگمراہی اس نجدی کی ہے (بالاختصار) ۔ (ت)
اوریہی علامہ مذکور تیسرے مقام میں لکھتے ہیں :
قال بعضھم ولوکان المبنی علیہ مشھورا بالعلم والصلاح اوکان صحا بیا وکان المبنی علیہ قبۃ وکان البناء علی قدر قبرہ فقط ینبغی ان لا یھدم لحرمۃ نبشہ وان اندرس اذا علمت ھذا فھذ البناء علی قبور ھؤلاء الشھداء من الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم لا یخلو اما ان یکون واجبا اوجائزا بغیر کراہۃ وعلی کل فلا یقدم علی الھدم الارجل مبتدی ضال لاستلزامہ انتھاك حرمۃ اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الواجب علی کل مسلم محبتھم ومن محبتھم وجوب توقیرھم وای توقیر ھم عند من ھدم قبور ھم حتی بدت ابدانھم واکفانھم کما ذکر بعض
بعض علماء نے فرمایا کہ صاحب قبہ اگر کوئی مشہور عالم متقی یا صحابی ہے اور قبہ صرف قبرکے برابر ہو تو اسے منہدم نہ کرنا چاہیے کیونکہ خواہ اس کا نشان بھی کیونہ مٹ جائے مگراس کا کھولنا جائز نہیں اب آپ معلوم ہونا چاہئے کہ ان شہید صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کی قبور پر عمارات بنانا یا تو واجب ہوگا یا بلاکراہت جائز ۔ اوربہر صورت منہدم کرنا جائز نہیں اوریہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے کو بدعتی اور گمراہ ہو کیونکہ اس سے اصحاب رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بے حرمتی ہوتی ہے حالانکہ ان کی تعلیم اور توقیر ہر مسلمان پر واجب ہے اب وہ لوگ تعظیم کرنے والے کیسے قرار پاسکتے ہیں جنھوں نے شہداء کی قبور کھود ڈالیں جبکہ بعض کے جسم
فصل الخطاب فی ردّ ضلالات ابن عبدالوہاب
اور کفن بھی ظاہر ہوگئے جیسا کہ بعض علماء نجد نے اس سوال کے جواب میں ذکر کیا اھ مختصرا
وہابیہ روسیاہ کے نزدیک انبیاء علیھم الصلوۃ و السلام معاذ اللہ منہا مر کر مٹی ہوگئے ہیں
ان بدبختوں کے نزدیك ظاہری موت کے بعد یہ بالکل بے حس وبے شعور ہوجاتے ہیں اور مرکر معاذاﷲ (پناہ بخدا) مٹی میں مل جاتے ہیں ملا اسمعیل دہلوی اپنی کتاب تفویت ا لایمان کے صفحہ میں حضور اقدس سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان ارفع واعلی میں بکتا ہے کہ : “ میں عــــہ بھی ایك دن مر کر مٹی میں ملنے ولا ہوں “ ۔ جب سید المرسلین علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت ان ملا عنہ کا ایسا ناپاك خیال ہے اور ان کے روضہ اطہر اور شہداء وصحابہ کرام علیہم الرضوان کی قبور کو منہدم کرنے کا بیہودہ خیال ہے تو باقی اموات عامہ مومنین صالحین کی نسبت پوچھنا کیا ہے۔ جب قبور مومنین بلکہ اولیاء علیہم السلام اجمعین کا توڑنا اور منہدم کرنا شعار نجدیہ وہابیہ ہوا تو کسی کو جائز نہیں ہے کہ وہ صورت مسئولہ میں قبور مومنین اہلسنت کوتوڑ کر بلکہ ان کو کھود کر ان پر اپنی رہائش واسائش کے مکان بناکر ان میں لذات دنیا میں مشغول ومنہمك ہو جو قطعا ویقینا اصحاب قبور کو ایذا دینا اور ان کی اہانت اور توہین کرنا ہے جو کسی طرح جائز نہیں۔
اہلسنت کے نزدیک انبیاء و شہداء و اولیاء اپنے ابدان مع اکفان کے زندہ ہیں
اہلسنت کے نزدیك انبیاء وشہداء علیہم التحیۃ والثناء اپنے ابدان شریفہ سے زندہ ہیں بلکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ابدان لطیفہ زمین پر حرام کئے گئے ہیں کہ وہ ان کو کھائے اسی طرح شہداء واولیاء
عــــہ : سابقا علامہ بصری علیہ الرحمۃ کے قول میں گزرا کہ نجدی نے جب قبور شہداء صحابہ کرام علیہم الرضوان کو شہید کیا تو ان میں ان کے کفن اور بدن شریف سب سلامت تھے اور صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کو مدفون ہوئے تخمینا بارہ سو سال گزر چکے تھے پس ہزار تف ہے ملا اسمعیل او راس کے مقلدین وہابیہ روسیاہ پر کہ ان کا ایسا ناپاك عقیدہ ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس واطہر کے ساتھ کہ جو مسلمان کی شان کے خلاف ہے۔ اﷲ تعالی اہلسنت کو ان کی صحبت بد سے بچائے۔ امین!
تقویۃ الایمان مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ ، لاہور ص٤٢
وحیاۃ الشھداء اکمل واعلی فھذا النوع من الحیاۃ والرزق لایحصل لمن لیس فی رتبتھم وانما حیاۃ الانبیاء اعلی واکمل واتم من الجمیع لانھا للروح والجسد علی الدوام علی ماکان فی الدنیا
شہداء کی زندگی بہت اعلی ہے زندگی اور رزق کی یہ قسم ان لوگوں کو حاصل نہیں ہوتی جوان کے ہم مرتبہ نہیں اور انبیاء کی زندگی سب سے اعلی ہے اس لیے کہ وہ جسم وروح دونوں کے ساتھ ہے جیسی کہ دنیا میں تھی اور ہمیشہ رہے گی۔
اور قاضی ثناء اﷲ صاحب پانی پتی تذکرۃ الموتی میں لکھتے ہیں : “
اولیاء اﷲگفتہ اندارواجنا اجسادنایعنی ارواح ایشاں کار اجساد مے کنند وگاہے اجساد ازغایت لطافت برنگ ارواح مے برآید می گویند کہ رسول خدا راسایہ نبود ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) ارواح ایشاں از زمین وآسمان وبہشت ہر جاکہ خواہند مے روند وبسبب ایں ہمیں حیات اجساد آنہار ا درقبرخاك نمی خورد بلکہ کفن ہم می باند ابن ابی الدنیا از مالك روایت نمود ارواح مومنین ہر جاکہ خواہند سیر کنند مراد از مومنین کاملین اند حق تعالی اجساد ایشاں راقوت ارواح مے دہد کہ دوقبور نماز میخوانند (ا داکنند) وذکر می کنند وقرآن کریم مے خوانند “
اولیاء اﷲ کا فرمان ہے کہ ہماری روحیں ہمارے جسم ہیں۔ یعنی ان کی ارواح جسموں کا کام دیا کرتی ہیں اور کبھی اجسام انتہائی لطافت کی وجہ سے ارواح کی طرح ظاہر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔ ان کی ارواح زمین آسمان اور جنت میں جہاں بھی چاہیں آتی جاتی ہیں اس لیے قبروں کی مٹی ان کے جسموں کو نہیں کھاتی ہے بلکہ کفن بھی سلامت رہتا ہے۔ ابن ابی الدنیاء نے مالك سے روایت کی ہے کہ مومنین کی ارواح جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی ہیں۔ مومنین سے مراد کاملین ہیں حق تعالی ان کے جسموں کو روحوں کی قوت عطا فرماتا ہے تو وہ قبروں میں نماز ادا کرتے اور ذکر کرتے ہیں اور قرآن کریم پڑھتے ہیں ۔
اور شیخ الہند محدث دہلوی علیہ الرحمۃ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں :
اولیاء خدائے تعالی نقل کردہ شدندازیں دارفانی بداربقا
اﷲ تعالی کے اولیاء اس دار فانی سے داربقا کی طرف
تذکرۃ الموتٰی والقبور اردو ارواح کے ٹھہرنے کی جگہ نوری کتب خانہ نوری مسجد اسلام گنج لاہور ص ٧٥
کوچ کرگئے ہیں اور اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں انھیں رزق دیا جاتاہے وہ خوش حال ہیں اور لوگوں کو اس کا شعور نہیں۔
اور علامہ علی قاری شرح مشکوۃ میں لکھتے ہیں :
لافرق لھم فی الحالین ولذ قیل اولیاء اﷲ لایموتون ولکن ینتقلون من دار الی دار الخ
اولیاء اﷲ کی دونوں حالتوں (حیات وممات) میں اصلا فرق نہیں' اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایك گھر سے دوسرے گھر میں تشریف لے جاتے ہیں۔
علامہ جلا الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے شرح الصدور میں اولیائے کرام علیہم الرضوان کی حیات بعد ممات کے متعلق چند روایات مستندہ لکھی ہیں جو یہاں نقل کی جاتی ہیں : امام عارف باﷲ استاذ ابوالقاسم قشیری قدہ سرہ اپنے رسالے میں بسند خود حضرت ولی مشہور سیدنا ابو سعید خراز قدس اﷲ ثرہ المتاز سے روای ہے کہ میں مکہ معظہ میں تھا باب بنی شیبہ پر ایك جوان مردہ پڑا پایا جب میں نے اس کی طرف نظر کی تو مجھے دیکھ مسکرایا اورکہا :
یاابا سعید اماعلمت ان الاحبا احیاء وان ماتو ا وانما ینقلون من دار الی دار ۔
اے ابو سعید ! کیاتم نہیں جانتے کہ اﷲ تعالی کے پیارے زندہ ہیں اگر چہ مرجائیں وہ تو یہی ایك گھر سے دوسرے گھر میں بدلائے جاتے ہیں۔
وہی عالی جناب حضرت سیدی ابو علی قدس سرہ سے راوی ہیں : میں نے ایك فقیر کو قبر میں اتارا جب کفن کھولا ان کا سرخاك پر رکھ دیا کہ اﷲ تعالی ان کی غربت پر رحم کرے۔ فقیر نے آنکھیں کھول دیں اور مجھ سے فرمایا : یا ابا علی اتذللنی بین یدی من یدللنی ( اے ابو علی! تم مجھے اس کے سامنے ذلیل کرتے ہو جو میرے ناز اٹھا تا ہے) میں عرض کی : اے سردار میرے! کیا موت کے بعد زندگی ہے فرمایا : بل انا حی وکل محب اﷲ حی لانصرنك بجاھی غدا ( میں زندہ ہوں اور خدا کا ہر پیارا زندہ ہے بیشك وہ وجاہت وعزت جو مجھے روز قیامت ملے گی اس سے میں تیری مدد کروں گا)
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب الجمعۃ فصل الثالث مطبع امدادیہ ملتان ٣ / ٢٤١
شرح الصدور باب زیارۃ القبور وعلم الموتٰی خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ٨٦
شرح الصدور باب زیارۃ القبور وعلم الموتٰی خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ٨٦
وہی امام حضرت ابو یعقو ب سوسی نہر جوری قدس سرہ سے راوی : “ میں نے ایك مرید کو نہلانے کے لیے تختے پر لٹایا اس نے میرا انگوٹا پکڑلیا۔ میں نے کہا : جان پدر ! میں جانتا ہوں کہ تو مردہ نہیں یہ تو صرف مکان بدلنا ہے لے میرا ہاتھ چھوڑدے “ ۔
مکہ معظمہ میں ایك مرید نے مجھ سے کہا : پیر مرشد! میں کل ظہر کے وقت مرجاؤں گا حضرت ایك اشرفی لیں آدھی میں میرا دفن اور آدھی میں میرا کفن کریں۔ جب دوسرا دن ہوا اور ظہر کا وقت آیا مریدمذکور نے ا کر طواف کیا پھر کعبے سے ہٹ کر لیٹا تو روح نہ تھی میں نے قبر میں اتارا۔ انکھیں کھول دیں۔ میں نے کہا : کیا موت کے بعدزندگی کہا : انا حی وکل محب اﷲ حی (میں زندہ ہوں اور اﷲ تعالی کا ہر دوست زندہ ہے )۔
نامناسب افعال کرنے سے اموات مسلمین کو ایذا ہوتی ہے۔
او ربعض عامہ مومنین اور بقیہ اموات کے ابدان گو سلامت نہ رہتے ہوں تاہم ان کی قبور پر بیٹھنے بلکہ ان پر تکیہ لگانے اور قبرستان میں جوتوں کی آواز کرنے سے ان کو ایذا ہوتی ہے۔ احادیث صحیحہ سے یہ امر ثابت بلاریب ہے۔ حاکم وطبرانی عمارہ بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مجھے ایك قبر پر بیٹھے دیکھا فرمایا :
یاصاحب القبر انزل من علی القبر لاتؤذی صاحب القبر ولا یؤذیك ۔
اورقبر والے! قبر سے اتر آ نہ تو صاحب قبر کوایذا دے نہ وہ تجھے۔
سعید بن منصور اپنی سنن میں راوی : کسی نے حضرت سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے قبر پر پاؤں رکھنے کا مسئلہ پوچھا فرمایا :
کما اکرہ اذی المؤمن فی حیاتہ فانی
مجھ کو جس طرح مسلمان زندہ کی ایذا ناپسند ہے
شرح الصدور باب زیارۃ القبور و علم الموتٰی خلافت اکیڈمی سوات ص ٨٦
شرح الصدور باب زیارۃ القبور و علم الموتٰی خلافت اکیڈمی سوات ص ٨٦
شرح الصدور بحوالہ الطبرانی والحاکم باب تأذیہ بسائرہ وجوہ الاذی خلافت اکیڈمی سوات ص۱۲۶
یوں ہی مردہ کی۔
امام احمدعلیہ الرحمۃ بسند حسن انھیں حضرت عمر بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی : سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مجھے ایك قبر سے تکیہ لگائے دیکھا فرمایا : لا تؤذی صاحب ھذاالقبر( اس قبروالے کو ایذا نہ دے) یا فرمایا : لا تؤذہ ( اسے تکلیف نہ پہنچا) اس ایذا کا تجربہ بھی تابعین عظام اور دوسرے علماء کرام نے جو صاحب بصیرت تھے کرلیا ہے۔ ابن ابی الدنیا ابو قلابہ بصری سے راوی : میں ملك شام سے بصرہ کو جاتا تھا رات کو خندق میں اترا وضو کیا دورکعت نماز پڑھی پھر ایك قبر پر سر رکھ کر سوگیا جب جاگا تو صاحب قبر کو دیکھا کہ مجھ سے گلہ کرتا ہے او رکہتا ہے : لقد اذیتنی منذ اللیلۃ (اے شخص! تونے مجھ کو رات بھر ایذا دی) ۔ امام بیہقی دلائل النبوۃ میں اور ابن ابی الدنیا حضرت ابو عثمان نہدی سے وہ ابن مینا تابعی سے راوی : میں مقبر ے میں گیا دو رکعات پڑھ کر لیٹ گیا خدا کی قسم میں خوب جاگ رہا تھا کہ سنا کوئی شخص قبر میں سے کہتا ہے : قم فقد اذیتنی ( اٹھ کہ تو نے مجھ کو ایذا دی)۔ حافظ ابن مندہ امام قاسم بن مخیمرہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے راوی : “ اگر میں تپائی بھال پر پاؤں رکھوں کہ میرے قدم سے پار ہوجائے تو یہ مجھ کو زیادہ پسند ہے اس سے کہ قبر پر پاؤں رکھوں۔ “ ایك شخص نے قبر پر پاؤں رکھا جاگتے میں سنا : الیك عنی یا رجل لا تؤذینی (اے شخص! الگ ہٹ مجھے ایذا نہ دے) ۔ او رعلامہ شربنلالی مراقی الفلاح میں لکھتے ہیں :
اخبرنی شیخی العلامۃ محمد بن احمد الحموی الحنفی رحمہ اﷲ تعالی بانھم یتاذون بخفق النعال ۔
مجھ کو میرے استاذعلامہ محمد ابن احمد حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے خبردی کہ جوتے کی پہچل سے مردے کو ایذا ہوتی ہے ۔
مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ حم عن عمرو بن حزم باب دفن المیّت مطبع مجتبائی دہلی ص ١٤٩
شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا عن ابی قلابۃ باب ینفع المیّت فی قبرہ خلافت اکیڈمی سوات ص۱۲۸
دلائل النبوۃ للبہیقی باب ماجاء فی الرجل سمع صاحب القبردارالکتب المعلمیۃ بیروت ٧ / ٤٠
شرح الصدور بحوالہ ابن مندہ عن القاسم فصل تأذیہ بسائروجوہ الاذی خلافت اکیڈ می سوات ص ١٢٦
مراقی الفلاح علی ھامش حاشیۃ الطحطاوی فصل فی زیارۃ القبور نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٣٤٢
ویکرہ ان یبنی علی القبر اویقعد اوینام علیہ اویطاء علیہ او یقضی حاجۃ الانسان من بول اوغائط ۔ الخ
قبر پر عمارت بنانا بیٹھنا سونا روندنا بول وبراز کرنا مکروہ ہے ۔
علامہ شامی اس کی دلیل میں حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں :
لان المیت یتاذی بما یتاذی بہ الحی ۔
یعنی اس لیے کہ جس سے زندو ں کو اذیت ہوتی ہے اس سے مردے بھی ایذا پاتے ہیں۔
بلکہ دیلمی نے ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اس کلیے کی تصریح روایت کی کہ سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
المیت یؤذیہ فی قبرہ مایؤذیہ فی بیتہ ۔
میت کو جس بات سے گھر میں ایذا ہوتی ہے قبر میں بھی اس سے ایذا پاتا ہے۔
ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں سیدنا عبداﷲ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
اذی المومن فی موتہ کا ذاہ فی حیاتہ ۔
مسلمان کو بعد موت تکلیف دینی ایسی ہی ہے جیسے زندگی میں اسے تکلیف پہنچائی۔
اور اظہر من الشمس ہے کہ قبور کو کھود کر ان پر رہنے کو مکان بنایا تو اس میں یہ سب امور موجود ہیں جس سے یقینا اہل قبور کی توہین ہوتی ہے اور ان کو ایذا دینا ہے۔ جو ہر گز ہمارے حنفی مذہب میں جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ شرح کنز میں علامہ زیلعی لکھتے ہیں :
ردالمحتار فصل الاستنجاء ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ١ / ٢٢٩
الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ٧٥٤ دارالکتب العلمیۃ بیروت ١ / ١٩٩
شرح الصدور بحوالہ ابن ابی شیبہ باب تاذیہ بسائروجوہ الاذی خلافت اکیڈ می سوات ص ۱۲۶
اگر میت پرانی ہوجائے اور مٹی میں مل جائے تودوسرے کو اس قبر میں دفن کرنا کھیتی باڑی کرنا اور اس پر عمارت بنانا جائز ہے۔
تو جواب اس کا اولا یہ ہے کہ یہ قول علامہ زیلعی کا احادیث مذکورہ اور روایات مسطورہ کے معارض ہے لہذا قابل قبول نہیں ہے اور ثانیا یہ کہ علامہ شربنلالی نے امداد الفتاح میں علامہ زیلعی کے اس قول کو رد کردیا ہے دوسری روایت معارضہ سے پس قابل تعمیل نہیں۔
قال فی الامداد ویخالفہ مافی التتار خانیۃ اذاصار المیت ترابافی القبر یکرہ دفن غیرہ فی قبرہ لان الحرمۃ باقیۃ الخ۔
امداد الفتاح میں فرمایا اور تاتارخانیہ میں اس کے برعکس ہے یعنی جب قبر میں میت گل کر مٹی بھی ہوجائے تب بھی اس کی قبر میں غیر کو دفن کرنا مکروہ ہے کہ اس کی تعظیم وحرمت کے خلاف ہے کہ اس میت کی تعظیم وحرمت اب بھی باقی ہے ۔ الخ
اور مؤید ہے اس کی وجہ جو علامہ نابلسی علیہ الرحمۃ نے حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں لکھا ہے :
معناہ ان الاارواح تعلم بترك اقامۃ الحرمۃ وبالا ستھانۃ فتاذی بذلك ۔
یعنی قبر پر تکیہ لگانے سے جو اہل قبور کو ایذا ہوتی ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ روحیں جان لیتی ہیں کہ اس نے ہماری تعظیم میں قصور کیا لہذا ایذاپاتی ہیں ۔
اور شیخ الہند علیہ الرحمۃ شرح مشکوۃ میں لکھتے ہیں :
شاید کہ مراد آنست کہ روح وے ناخوش میدارد وراضی نیست بتکیہ کردن برقبر وے ازجہت تضمن وے اہانت واستخفاف رابوے ۔
اس سے مراد غالبا یہ ہے کہ اس کی روح قبر پر تکیہ لگانے سے ناخوش ہوتی ہے کیونکہ ا س میں اس کی توہین ہے۔
جب قبر پر تکیہ لگانے سے اہل قبورکی اہانت ہوتی اور ان کی توہین اور ان کی ترك تعظیم ہوتی ہے۔ تواس پر کھیتی کرنے سے اور اس پر مکان بنانے سے تو بطریق اولی ان کی توہین ہوگی اور ثالثا یہ کہ ہم یہاں معترض
ردالمحتار بحوالہ الامداد باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱ / ۵۹۹
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃالنصف الثامن الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۵۰۵
اشعۃ اللمعات باب الدفن فصل الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٦٩٩
ولا یحفر قبرلدفن اخرما لم یبل الاول فلم یبق لہ عظم الا عند الضرورۃ بان لم یوجد مکان سواہ الخ۔
دوسرے مردہ کو دفن کرنے کے لیے قبر نہ کھودی جائے جب تك پہلا مردہ بوسیدہ نہ ہوجائے یہاں تك کہ اس کی ہڈیاں باقی نہ رہیں مگر بوقت ضرورت قبر کھودنا جائز ہے جبکہ اس کے بغیر کوئی دوسری جگہ میسر نہ ہو الخ (ت)
دوسرے مردہ کو دفن کرنے کے لیے قبر نہ کھودی جائے جب تك پہلا مردہ بوسیدہ نہ ہوجائے یہاں تك کہ اس کی ہڈیاں باقی نہ رہیں مگر بوقت ضرورت قبر کھودنا جائز ہے جبکہ اس کے بغیر کوئی دوسری جگہ میسر نہ ہو الخ (ت)
شھذا ماعندی والعلم الاتم عند ربی قالہ بفمہ وامر برقمہ العبد الفقیر محمد عمرالدین السنی الحنفی القادری الھزاروی عفااﷲ تعالی عنہ۔
یہ میری تحقیق ہے اور علم کا مل میرے رب کے پاس ہے یہ فتوی بزبان خودکہا ہے اور اس کے لکھنے کا حکم دیا ہے بندہ فقیر محمد عمر دین سنی حنفی قادری ہزاروی نے (عفا اﷲ تعالی عنہ ) ۔ (ت)
جو کچھ مجیب لبیب نے لکھاہے حق او رصواب ہے چنانچہ خزانۃ الروایۃ میں ہے :
فی مفید المستفید عن مفاتیح المسائل
مفاتیح المسائل سے مفید المستفید میں ہے جب قبر
میں میت گل کر مٹی بھی ہوجائے تب بھی اس کی قبر میں غیر کو دفن کرنا مکروہ ہے کیونکہ اس میت کی تعظیم و حرمت اب بھی باقی ہے انتہی (ت)
اور یہ بھی خزانۃ الروایۃ میں ہے :
لایجوز لاحد ان یبنی فوق القبور بیتا اومسجدا لان موضع القبر حق المقبور ولھذا لایجوز نبشہ انتھی مختصرا۔ نمقہ الراجی الی رحمۃ ربہ الشکور عبد الغفور صانہ اﷲ عن الافات و الشرور۔ ﷲ درالمجب حیث اجاب فاجادواصاب فیما افادہ حررہ المسکین محمد بشیر الدین عفی عنہ ۔
قبروں پر کسی کو گھر یا مسجد بنانا جائز نہیں کیونکہ قبروالی جگہ صاحب قبر کا حق ہے اسی وجہ سے قبر کو کھودنا جائز نہیں ہے اھ مختصرا۔ اسے لکھا ہے اپنے رب شکور کی رحمت کے امیدوار عبدالغفور نے اﷲ تعالی اسے آفات اور برائیوں سے بچائے ۔ (ت)اﷲ تعالی مجیب کو جزائے خیردے کہ انھوں نے عمدۃ جواب دیا اور صحیح افادہ فرمایا اسے لکھا ہے مسکین محمد بشیر الدین عفی عنہ نے ۔ (ت)
اس فتوے کو دیکھا فتوی صحیح ہے جواب درست ہے۔ حررہ محمد عبدالرشید دہلوی عفی عنہ
الجواب صحیح۔ ( جواب صیح ہے ۔ ت) محمد افضل المجید عفی عنہ
خزانۃ الروایۃ
حررہ العبد المفتقر مطیع الرسول عبدالمقتدرالقادری البدایونی عفی عنہ۔ الرسول قادری حنفی محمد عبد المقتدر مطیع ۱۳۱۷
ذلك کذلك ( یہ جواب بے مثل ہے ۔ ت)محمد فضل احمد البدایونی عفی عنہ
المجیب مصیب ( جواب درست ہے ۔ ت) محمد ابراہیم قادری قادری محمد ابراھیم ۱۳۱۸
اصاب من اجاب واﷲ اعلم بالصواب ( جواب درست دیا ہے واﷲ اعلم بالصواب ۔ ت)محمد حافظ بخش المدرس بالمدرسۃ المحمدیہ بلدہ بدایوں بخش حنفی محمد حافظ
صح الجواب ( جواب صحیح ہے ۔ ت) محمد احمد قادری عبد الرسول
حررہ عبدالرسول محب احمد عفی عنہ المدرس بالمدرسۃ الشمید الکائنۃ بجامع بدایوں
___________________
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدﷲ الذی جعل الارض کفاتا o و اکرم المومنین احیاء وامواتا o وجعل موتھم راحۃ وسباتا o وحرم اھانتھم تحریما بتاتا oالصلوۃ والسلام علی من سقانا من فضلہ وفضلتہ ماء فراتا o واعطانا فی کل محجۃ ابلح حجۃ نقضا واثباتا o وابد تعظیم المؤمنین ابدالابدین ولم یوقت لہ میقاتا o فجعلھم عظاما وان صاروا عظاماo وحرم ایذاء ھم ولوکانوا رفاتا o وعلی الہ وصحابہ و
تمام تعریفیں اس اﷲ تعالی کے لیے ہیں جس نے زمین کو جمع کرنیوالی بنایا زندہ اور مردہ مومنوں کو عزت بخشی او ران کی موت کو سکون وآرام بنایا اور ان کی توہین کو قطعی طور حرام کیا درود سلام ہو اس ذات پر جس نے اپنے احسان اور بقیہ سے ہمیں خوب میٹھا پانی پلایا اور ہر میدان میں ہمیں نقض واثبات کے لیے بھاری حجہ عطا فرمائی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مومنوں کو عزت بخشی اور اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہ فرمایا او رمومنوں کو عظمت والا بنایا اگر چہ وہ ہڈیاں ہو جائیں اور ان کو ایذادینا حرام کیا اگر چہ وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں اور آپ کے
ال اصحاب اہل اور آپ کے گروہ پرجو عند اﷲ مکرم ہیں اجتماعی اور متفرق طور پر اﷲ مجیب کو جزائے خیر اور ثواب عطافرمائے۔ (ت)
جامع الفضائل قامع الرذائل حامی السنن ماحی الفتن مولنا مولوی محمد عمرالدین جعلہ اﷲ کا سمہ عمرالدین وبسعیہ ورعیہ عمرالدین کا جواب ناہج مناہج صواب کافی و وافی ہے مگر بحکم المامور معذور بنظر تکثیر افاضہ دو وصل مفید کا اضافہ منظور وصل اول اس بیان مجیب کی تا ئید و تصویب میں کہ قبور مسلمین کی تعظیم ضرور اور اہانت محظور او ر یہ کہ کیا کیا امور موجب ایذائے اصحاب قبور یہاں اگر سلسلہ سخن میں بعض امو رمذکورہ جواب کا اعادہ ہو تو غیر محذور کہ تکرر فرع موجب مزید تاکید واوقع فی الصدور ع
والمسك ماکررتہ یتضوء
وصل دوم میں احقاق مرام وازہاق اوہام وتبکیت مخطیان نجاریہ لیام اور اس امر کا بیان کامل و تام کہ مقابر عام مسلمین میں کوئی وقفی مکان بنانا بھی حرام نہ کہ اپنی سکونت وآرام کا مقام نیز روایت علامہ زیلعی کی تحقیق انیق اس وصل میں دو فتوے فقیر کی نقل پر قناعت ہے کہ ان میں بحمد اﷲ تعالی کفایت ہے وباﷲ التوفیق۔
وصل اول
علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ مسلمان کی عزت مردہ و زندہ برابر ہے۔ محقق علی الاطلاق رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
الاتفاق علی ان حرمۃ المسلم میتا کحرمتہ حیا ۔
اس بات پر اتفاق ہے کہ مردہ مسلمان کی عزت وحرمت زندہ مسلمان کی طرح ہے ۔ (ت)
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
کسر عظم المیت واذاہ ککسرہ حیا ۔ رواہ الامام احمد وابو داؤد وابن ماجۃ
مردے کی ہڈی کو توڑنا ا ور اسے ایذا پہنچانا ایسا ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی کو توڑنا اسے امام احمد و
سنن ابی داؤد کتاب الجنائز آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ١٠٢
وابوداؤد وابن ماجہ نے بسند حسن ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا۔
یہ حدیث مسند الفردوس میں ان لفظوں سے ہے : سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
المیت یؤذیہ فی قبرہ مایؤذیہ فی بیتہ ۔
مردے کو قبر میں بھی اس بات سے ایذا ہوتی ہے جس سے گھر میں اسے اذیت ہوتی۔
علامہ مناوی شرح میں فرماتے ہیں :
افادان حرمۃ المؤمنین بعدموتہ فاقیۃ ۔
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مسلمان کی حرمت بعد موت کے بھی ویسے ہی باقی ہے ۔
سیدنا حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
اذی المؤمن فی موتہ کاذاہ فی حیاتہ ۔ رواہ ابی بکر بن ابی شیبہ
مسلمان مردہ کو ایذا دینا ایسا ہے جیسے زندہ کو ۔ اسے ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا۔
علماء فرماتے ہیں :
المیت یتاذی بما یتاذی بہ الحی ۔ کذافی رد المحتار وغیرہ من معتمدات الاسفار۔
جس بات سے زندہ کو ایذا پہنچتی ہے مردے بھی اس سے تکلیف پاتے ہیں جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ معتمد کتب میں مذکور ہے ۔ (ت)
علامہ شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہ اشعتہ اللمعات میں امام علامہ ابویوسف بن عبدالبر سے نقل فرماتے ہیں :
ازیں جامستفادمیگر ددکہ میت متالم میگرد دتجمیع انچہ متالم میگرد دبدان حی ولازم انیست کہ متلذذگرد تمام انچہ متلذذم میشود بدان زندہ انتہی ۔
اس جگہ یہ مستفاد ہوتا ہے کہ جن چیزوں سے زندہ کو درد پہنچتاہے ان تمام سے مردہ کو بھی الم پہنچتا ہے ا ور یہ لازم ہے کہ جن چیزوں سے زندہ کو لذت حاصل ہو ان سب سے میت کو بھی لذت حاصل ہوتی ہے انتہی۔ (ت)
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر حدیث ٦٢٣١ دارالمعرفۃبیروت ۴ / ۵۵۱
شرح الصدور بحوالہ ابن ابی شیبہ فصل تأذیہ بسائرو جوہ الاذی خلافت اکیڈمی سوات ص ١٢٦
ردالمحتار فصل الاستنجاء ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ١ / ٢٢٩
اشعۃ اللمعات باب دفن المیّت فصل ثانی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٦٩٦
فی الشامیہ عن الطحطاویۃ آخر کتاب الطھارۃ نصوا علی ان المرورفی سکۃ حادثۃ فیھا حرام ۔
آخر کتاب الطہارۃ شامی میں طحطاوی سے ہے علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ قبرستان میں جو نیا راستہ نکالا گیا ہو اس پر چلنا حرام ہے۔
اور فرماتے ہیں : “ مقبرے کی گھاس (سبز) کاٹنا مکروہ ہے کہ جب تك وہ( گھاس سبز) تر رہتی ہے ہے اﷲ تعالی کی تسبیح کرتی ہے اس (سبز گھاس) سے اموات کادل بہلتا ہےاور ان پر رحمت الہی کا نزول ہوتا ہے ہاں خشك گھاس کاٹ لینا جائز ہے مگر وہاں سے تراش کوجانوروں کے پاس لے جائیں او ریہ ممنوع ہے کہ انھیں گورستان میں چرنے چھوڑدیں “ ۔
فی جنائز ردالمحتار یکرہ ایضا قطع النبات الرطب والحشیش من المقبرۃ دون الیابس کما فی البحر والدرر وشرح المنیۃ وعﷲ فی الامداد بانہ مادام رطبا یسبح اﷲ تعالی فیونس المیت وتنزل بذکرہ الرحمۃ ونحوہ فی الخانیۃ انتھی ۔ وفی العالمگیریۃ عن البحرالرائق لوکان فیھا حشیش یحش ویرسل الی الدواب ولاترسل الدواب فیھا اھ۔
ردالمحتار کے جنائز میں ہے کہ ترگھاس کا مقبرے سے کاٹنا مکروہ ہے خشك گھاس کا نہیں جیسا کہ بحر درراور شرح منیہ میں ہے اور امداد میں اس کی یہ وجہ بتائی گئی ہے کہ جب تك وہ تر رہتی ہے اﷲکی تسبیح کرتی رہتی ہے جس سے میت کو انس حاصل ہوتا ہے خانیہ میں بھی اسی طرح ہے انتہی اور علمگیریہ میں بحرالرائق سے ہے کہ اگر قبرستان میں خشك گھاس ہوتو کاٹ کر لائی جاسکتی ہے مگر جانور اس میں نہ چھوڑے جائیں اھ۔
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك شخص کو مقابر میں جوتا پہنے چلتے دیکھا ارشاد فرمایا : “ ہائے کم بختی تیری اے طائفی جوتے والے! پھینك اپنی جوتی ۔
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ١ / ٦٠٦
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ١ / ٦٠٦
فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی الرباطات نورانی کتب خانہ پشاور ٢ / ٤٧١
ابوداؤد نسائی اور طحطاوی وغیر ہم نے بشیر بن خصاصیہ سے روایت کی اور لفظ امام حنفی کے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك شخص کو قبروں کے درمیان جوتیاں پہن کر چلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : خرابی ہو تیری اے جوتیوں والے اپنی جوتیاں اتاردے سبتہ مہملہ کے کسرہ اور سکون باء سے مراد وہ چمڑا ہے جس میں بال نہ ہوں قاضی عیاض نے فرمایا : عرب والے کچے چمڑے کے مع بالوں کے جوتے پہنا کرتے تھے اور پکائے ہوئے چمڑے کے جوتے طائف وغیرہ میں بنائے جاتے تھے الخ۔
فاضل محقق حسن شرنبلالی اور ان کے استاذ علامہ محمد بن احمد حموی فرماتے ہیں : “ چلنے میں جو آواز کفش پا سے پیدا ہوتی ہے اموات کو رنج دیتی ہے ۔ “
حیث قال فی مراقی الفلاح اخبرنی شیخی العلامۃ محمد بن احمد الحموی الحنفی رحمہ اﷲ تعالی بانھم یتاذون بخفتی النعال انتھی اھ۔ اقول ووجھہ ماسیاتی عن العارف الترمذی رحمہ اﷲ تعالی ۔
اس لیے کہ مراقی الفلاح میں کہا کہ مجھے خبردی میرے شیخ علامہ محمد بن احمد حموی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے کہ مردے جوتیوں کی پہچل سے تکلیف محسوس کرتے ہیں اھ۔ میں کہتا ہوں اس کی دلیل عنقریب عارف ترمذی سے منقول ہو کر آئے گی۔
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لان یجلس احد کم علی جمرۃ فتحرق ثیابہ حتی تخلص الی جلدہ خیرلہ من ان یجلس علی قبر ۔ رواہ مسلم وابوداؤد والنسائی
بیشك آدمی کو آگ کی چنگاری پر بیٹھارہنا یہاں تك کہ وہ اس کے کپڑے جلا کر جلد تك توڑ جائے اس کے لیے بہتر ہے اس سے کہ قبر پر بیٹھے اسے مسلم وابوداؤد و
تاریخ سبتتہ للقاضی عیاض
مراقی الفلاح علی ھامش الطحطاوی فصل فی زیارۃ القبور نور محمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٣٤٢
سنن ابی داؤد کتاب الجنائز آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ١٠٤
نسائی وابن ماجہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
عمارہ بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : مجھے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك قبر پر بیٹھے دیکھا ارشاد فرمایا : “ او قبر پر بیٹھنے والے! قبر سے اتر آ صاحب قبر کو ایذا نہ دے نہ وہ مجھے ایذا دے ۔ “
اخرج الطحاوی فی معانی الاثار والطبرانی فی المعجم الکبیر بسند حسن والحاکم وابن مندۃ عن عمارۃ بن حزم رضی اﷲ تعالی علیہ رانی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جالسا علی قبر فقال یا صاحب القبر انزل من علی القبر لا تؤذی صاحب القبر ولایؤذیك ولفظ الامام الحنفی فلایؤذیك ۔
طحطاوی نے معانی الآثارمیں اور طبرانی نے معجم کبیر میں بسند حسن اور حاکم اور ابن مندہ نے عمارہ بن حزم سے روایت کی کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك قبرپر بیٹھے دیکھا تو فرمایا : اے قبر پر بیٹھنے والے قبر سے اتر اور قبر والے کوتکلیف نہ دے اور وہ تجھے تکلیف نہ دے۔ اور امام حنفی کے لفظ یہ ہیں فلا یؤذیك ( پس وہ تجھے تکلیف نہ دے ۔ ت)
اور امام احمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنی مسند میں یوں روایت کیا : عمر وبن حزم کو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وآلہ وسلم نے ایك قبر سے تکیہ لگائے دیکھا فرمایا :
لاتؤذ صاحب القبر کما فی المشکوۃ قلت وھذا الحدیث لایلائمہ تاویل الامام ابی جعفر والنھی عن شیئ لاینا فی النھی عن اعم منہ فافھم ۔
صاحب قبر کوایذا نہ دے جیسے مشکوۃ میں ہے میں کہتا ہوں اس حدیث سے امام ابوجعفر کی تاویل مناسب نہیں رکھتی ہے او رکسی چیز سے روکنا اس چیز سے عالم کے روکنے کو مستلزم نہیں تو غور کیجئے۔
شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہ شرح میں فرماتے ہیں :
شاید کہ مراد آنست کہ روح وے ناخوش می دارد وراضی نیست بہ تکیہ کردن برقبر وے جہت تضمن وے اہانت واستخفاف رابوے اھ۔
شاید مراد یہ ہے کہ اس کی روح ناراض ہوتی ہے اپنی قبرپر تکیہ لگائے کی وجہ سے اہانت محسوس کرتی ہے ۔ اھ
شرح معانی الآثار باب الجلوس علی القبور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ۳۴۶
مشکوٰۃ المصابیح باب دفن المیّت فصل ثالث مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
اشعۃ اللمعات باب دفن المیّت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ٦۹٩
قال سیدی عبد الغنی فی الحدیقۃ عن نوادر الاصول معناہ ان الارواح تعلم بالترك اقامۃ الحرمۃ وبالاستھانہ فتتاذی بذلك اھ۔
سیدی عبدالغنی نے حدیقہ میں نوادر سے نقل کرتے ہوئے فرمایا : اس کے یہ معنی ہیں کہ ارواح اپنی اہانت و ذلت کو محسوس کرتی ہیں اور اس سے انھیں ایذا ہوتی ہے اھ
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لان ام شی علی جمرۃ اوسیف اواخصف نعلی برجلیہ احب الی من ان امشی علی قبر ۔ رواہ ابن ماجۃ عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ واسنادہ جید کما فاد المنذری۔
البتہ چنگاری یا تلوار پر چلنا یا جوتا پاؤں سے گانٹھنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کسی قبر پر چلوں اسے ابن ماجہ نے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اس کی سند عمدہ ہے جیسا کہ منذری نے افادہ کیا۔ (ت)
عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
لان اطاء علی جمرۃ احب الی من ان اطاء علی قبر مسلم رواہ الطبرانی فی الکبیر باسناد حسن قالہ امام عبدالعظیم۔
بے شك مجھے ا گ پر پاؤں رکھنا زیادہ پیارا ہے مسلمان کی قبر پرپاؤں رکھنے سے اسے طبرانی نے معجم کبیر میں بسند حسن روایت کیا ۔ جیسا کہ امام عبدالعظیم نے کہا ہے ۔ (ت)
ان ہی صحابی اجل سے کسی نے قبر پر پاؤں رکھنے کا مسئلہ پوچھا فرمایا :
کما کرہ اذای المؤمن فی حیاتہ فانی اکرہ اذاہ بعد موتہ ۔ اخرجہ سعید بن منصور
میں جس طرح مسلمان کی ایذا اس کی زندگی میں مکروہ جانتا ہوں یونہی بعد موت اس کی ایذا کو ناپسند
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۳
الترغیب والترتیب الترھیب من الجلوس علی القبر الخ مصطفی البابی مصر ٤ / ٣٧٢
شرح الصدور باب تأدیسائروجوہ الاذی خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ١٢٦
اقول : وھذہ الاحادیث تویدما اخترنا وتؤذن ان تاویل ابی جعفر رحمہ اﷲ تعالی لیس فی محلہ فبما فی عامۃ الکتب نأخذی لاعتقادھا بنصوص الاحادیث ولانہ علیہ الاکثر وقد نصوا ان العمل بما علیہ الاکثر وانہ لا یعدل عن روایۃ ماوفقتھا درایۃ فکیف اذاکان ھوا الاشھر الاظھر الاکثر الازھر وبھذا یضعف مازعم العلامۃ البدرفی المعدۃ فتبصر۔
کرتاہوں ۔ اسے سعیدبن منصور نے اپنی سنن میں بیان کیا جیسا کہ شرح الصدور میں ہے۔ میں کہتا ہوں ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جوبات ہم نے اختیار کی ہے وہ درست ہے او رابو جعفر رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ وسلم کی تاویل برمحل نہیں لہذا ہم وہ مسلك اختیار کرتے ہیں جوعام کتب میں ہے کیو نکہ اسے احادیث کی صراحت سے تقویت حاصل ہے اور ا س لیے بھی کہ اکثر کایہی قول ہے کیونکہ علماء نے صراحت کردی ہے کہ عمل اس پر ہوگا جس پر اکثریت ہوگی اوریہ کہ اس روایت سے عدول نہیں کیا جاتا ہے جو درایت کے مطابق ہو تو پھر اس سے عدول کا جواز کیا ہوگا جو اشہر اظہر اکثر اور واضح ہے اور اسی سے علامہ بدر کا زعم عمدہ میں ضعیف قرار پاتا ہے۔ تو غور کیجئے۔
ان ہی احادیث سے ہمارے علماء رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہم نے بے ضرورت عــــہ قبر پر چلنے اور اس پربیٹھنے او رپاؤں رکھنے سے منع فرمایا کہ یہ سب حرمت مومن کے خلاف ترك ادب گستاخی ہے
ففی النوادر والتحفۃ والبدائع والمحیط وغیرھا
تحفہ بدائع اور محیط وغیرہ میں ہے کہ
عــــہ : قولہ بے ضرورت ضرورت کی صورت مثلا قبرستان میں میت کے لیے قبرکھودنے یا دفن کرنے جانا چاہتے ہیں بیچ میں قبریں حائل ہیں اس حاجت کیلیے اجازت ہے پھر بھی جہاں تك بن پڑے بچتے ہوئے جائیں اور ننگے پاؤں ہوں ان اموات کیلیے دعا استغفار کرتے جائیں
فی حاشیۃ العلامۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح عن شرح المشکوۃ الوطء الحاجۃ کدفن المیت لایکرہ اھ وعن السراج فان لم یکن لہ طریق الاعلی القبر جازلہ المشی علیہ للضرورۃ ۔ منہ
علامہ طحطاوی کے حاشیہ مراقی الفلاح میں شرح مشکوۃ سے ہے کہ ضرورت کے پیش نظر مثلا میت کو دفن کرنے جانا ہو تو قبروں پر سے گزرنا مکروہ نہیں اھ اور سراج سے ہے کہ اگرقبرپر ہی گزرنے کا راستہ ہو تواس پر چلنا ضرورتا جائز ہے منہ (ت)
بدائع الصنائع فصل فی سُنۃ الدفن ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٣٢٠ ، تحفۃ الفقہاء باب الدفن وحکم الشہداء دارالکتب العلمیۃ بیروت ٢ / ٢٥٧
اقول : والکراھۃ عند الاطلاق کراھۃ تحریم کما صرحوا بہ مع مایفیدہ من النھی الواردفی الاحادیث معللا بالایذاء والایذاء حرام فھذا ماندین اﷲ تعالی بہ وان قیل وقیل۔
ابو حنیفہ نے قبر کا روندنا بیٹھنا سونا اس پرقضائے حاجت کرنا مکروہ کہا ہے اسی طرح ابن امیر الحاج نے حلیہ میں نقل کیا
میں کہتا ہوں جب کراہت مطلق ہو تو مراد کراہت تحریم ہوتی ہے جیساکہ فقہاء نے تصریح کی ہے پھر اس نہی سے بھی تائید ہوتی ہے جو احادیث میں ایذاء کی علت سے متعلق وارد ہے اور ایذا حرام ہے پس دیانتداری کی بات یہی ہے اب خواہ کوئی کچھ کہتا رہے۔
حاشیہ طحطاوی علی شرح نورالایضاح میں سراج وہاج سے ہے :
ان لم یکن لہ طریق الا علی القبر جازلہ دلیل علیہ للضرورۃ اھ اقول : وھذا ایضا دلیل علی مااخترنا من کراھۃ التحریم فان المفھوم المخالف معتبر فی الروایات وکلام العلماء بالاتفاق فافادان المشی لا یجوز بلاضرورۃ وما لایجوز فادناہ کراھۃ التحریم۔
اگرقبر پر ہی سے راستہ ہو تو اس پر چلنا ضرورتا جائز ہے۔ اھ اقول : (میں کہتا ہوں) اس سے بھی ثابت کہ ہماراقول کراہت تحریمی کا درست ہے کیونکہ مفہوم مخالف روایات اور کلام علماء میں بالاتفاق معتبر ہے تو معلوم ہوا کہ بلاضرورت قبر پر چلنا ناجائز ہے او رجو ناجائز ہو اس کا ادنی درجہ مکروہ تحریمی ہے۔
سیدی عبدالغنی بابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں :
قال الوالد رحمہ اﷲ تعالی فی شرح علی الدرر ویکرہ ان یوطء القبر لماروی عن ابن مسعود الخ و ذکر اثرالذی رویناہ۔
والد صاحب نے درر کی شرح میں فرمایا کہ قبر کا روندنا مکروہ ہے جیسا کہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے الخ پھر آپ نے وہی اثر ذکر کیا جو ہم روایت کرچکے ہیں ۔
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی زیارۃ القبور نور محمد کارخانہ تجارت کتب کرا چی ص٣٤٠
حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢ / ٥٠٤
یکرہ ان یطاء علی القبر بالرجل ویقعد علیہ اھ قولہ یعنی بالرجل قلت فسر بذلك لتلا یحمل علی الجماع۔ اقول : ویکرہ ایضا بل اشد لما فیہ من زیارۃ الاستخفاف کا لوطا علی سطح المسجد مع الدلالۃ علی تناھی القلب فی تناسی الموت فکان الحمل علی الوطا بالرجل لیکون ادخل فی النھی عن الوطا بمعنی الجماع بطریق دلالۃ ینبغی ان یفھم او رجامع الفتاوی سے لائے : انہ والتراب الذی علیہ حق المیت فلا یجوز ان یوطا ۔ اور مجتبی سے لائے : ان المشی علی القبور یکرہ ۔ اور شرعۃ الاسلام وشرح شرعہ سے : من السنۃ ان لایطأ القبور فی نعلیہ فان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یکرہ ذلك الخ۔ اور امام شمس الائمہ حلوانی سے : وانہ قال یکرہ ۔ اور امام علی ترجمانی سے : قال یأثم بوطئ القبور لان سقف القبر حق المیت اھ۔ اقول وھذا نص علی مااخترنا من کراھۃ التحریم اذالا اثم فی المکروہ تنزیھا۔ لان مرجعہ الی خلاف الاولی ولا نہ
قبر کو پیر وں سے روندنا او راس پر بیٹھنا مکروہ ہے اھ قلت پیروں سے ورندنے کی تشریح اس لیے کردی کہ جماع پر محمول نہ کیا جائے۔ اقول : (میں کہتا ہوں) جماع بھی مکروہ ہے بلکہ اس کی کراہت زائد ہے کیونکہ اس میں زیادہ توہین ہے جیسے مسجد کی چھت پر وطی کرنا پھر اس میں موت کا بھول جانا بھی شامل ہے۔ لہذا پیروں سے روندنے پر محمول کرنا اس لیے ہے تاکہ جماع کی ممانعت پر بطریق دلالت النص دلالت کرے یہ مطلب نہیں کہ وطی مکروہ نہیں اسی طرح سمجھنا چاہئے او رجامع الفتاوی سے نقل کیا کہ یہ وہ مٹی ہے جس پر میت کا حق ہے لہذا اس کو روندناجائز نہیں اور مجتبی میں ہے : قبروں پر چلنا مکروہ ہیے۔ شرعۃ الاسلام اور اس کی شرح میں ہے : سنت یہ ہے کہ جوتوں سمیت قبریں نہ روندی جائیں کیونکہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اسے مکروہ سمجھتے تھے __ اور شمس الائمہ حلوانی نے کہا کہ یہ مکروہ ہے __ اور امام علی ترجمانی سے ہے کہ قبروں کے روندنے سے گنہگار ہوگا کیونکہ قبرکی چھت میت کا حق ہے۔ اقول : (میں کہتا ہوں) یہ بھی ہمارے اختیار کردہ قول کراہت تحریمہ صراحت کرتا ہے کیونکہ مکروہ تنزیہی میں کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ وہ صرف خلاف اولی ہے نیز
حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢۲ / ۵۰۴
حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢۲ / ۵۰۴
حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢۲ / ۵۰۵
حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢ / ۵۰۵
حدیقہ ندیہ الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢ / ۵۰۵
حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بیان جواز کے لیے قصدا ایسا کیا اور نبی قصدا گناہ کرنے سے معصوم ہوتا ہے او رگناہ میں مبتلا کرنے والی چیز کا ارتکاب جائز نہیں ہوتاتو بیان جواز کے کیا معنی پھر یہ اباحت کے ساتھ مجتمع ہوتا جیساکہ اشربہ ردالمحتار میں ابی السعود سے ہے اور معصیت اباحت کے ساتھ مجتمع نہیں ہوتی ہے۔ پھر اس کی تعمیر نفی باس سے کرتے ہیں اور گناہ سے بڑھ کر کون باس عظیم ہوگا اور اسی لیے گنہگار بنانے والی چیز واجب الترك ہے اور جس چیز کا ترك واجب ہو اس کا فعل حرام کے قریب ہوگا اور یہی معنی کراہت تحریم کے ہیں اوراس لیے بھی کہ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ مکروہ وہ تنزیہی کے فاعل پر بالکل گناہ نہ ہوگا جیسا کہ تلویح میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اﷲ چھوٹے سے چھوٹے جرم پر سزادے سکتاہے بحمد اﷲ تعالی یہ ساتھ دلائل ہیں جن سے معلوم ہواکہ بعض بناء زمانہ نے رسالہ شرب الدخان میں مکروہ تنزیہی کو صغائر سے بتاکر فاحش غلطی اور خطاء عظیم کی ہے۔ البتہ صاحب بحرنے اپنی بحرمیں تصریح کی ہے کہ مکروہ تحریمی صغائر سے ہے۔ پس اسے سمجھ اور دیوانہ نہ بن۔
نورالایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے :
فصل فی زیارۃ القبور ندب زیارتھا من غیر ان یطأ القبور ۔
“ فصل زیارت قبور کے بیان میں “ زیارت قبور مستحب ہے مگر قبریں نہ روندی جائیں ۔
عــــہ : ھو المولوی عبدالحی اللکہنوی ۱۲
وہ مولوی عبدالحی لکھنوی ہے (ت)
کرہ وطؤھا بالاقدام لما فیہ من عدم الاحترام وقال قاضی خان لو وجد طریقا فی المقبرۃ وھو یظن انہ طریق احد ثوہ لایمشی فی ذلك وان لم یقع فی ضمیرہ لابأس بان یمشی فیہ اھ ملخصا۔
اقول : وھذا ایضادلیل مااخترناہ فانہ علق نفی البأس ان لایقع فی قلبہ انہ طریق علی قبر فافادو البأس فیما اذا وقع ذلك فی نفسہ وایضاقد تقدم التصریح بالحرمۃ عن الشامی والطحطاوی عن علمائنا رحمھم اﷲ تعالی ۔
قبروں کو پیروں سے روندنا مکروہ ہے کیونکہ اس میں بےحرمتی ہے۔ قاضی خاں نے کہا کہ اگر کسی شخص نے قبرستان میں کوئی راستہ دیکھا جس کے بارے میں اسے گمان ہے کہ یہ لوگوں نے نیا بنالیا ہے تو وہ اس پرنہ چلے اگر اس کے دل میں اس قسم کا خیال پیدا نہ ہوتو چلنے میں مضائقہ نہیں اھ ملخصا
اقول : (میں کہتا ہوں)یہ بھی ہمارے قول کی دلیل ہے کیونکہ اس میں جواز کی صورت دل میں اس خیال کا نہ آناہے کہ یہ راستہ قبروں پر بنایا گیا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہو اکہ اگر اس کے دل میں اس قسم کاخیال پیدا ہو تو پھر مضائقہ ہوگا۔ نیز شامی اور طحطاوی جو ہمارے علماء ہیں رحمہم اللہ تعالی ان سے منقول شدہ حرمت کی تصریح پہلے گزر چکی ہے ۔
علامہ اسمعیل نابلسی حاشیہ درر وغرر میں فرماتے ہیں :
لاباس بزیارۃ القبور والدعاء للاموات ان کانوا مومنین عــــہ من وطئ القبور۔ کما فی البدائع والملتقط اھ۔
قبروں کی زیارت اور مردوں کے حق میں دعا کرنے میں حرج نہیں بشرطیکہ قبریں نہ روندی جائیں جیساکہ بدائع اور ملتقط میں ہے۔
طریقہ محمدیہ میں ہے :
من افات الرجل المشی علی المقابر اھ۔
پیر کی آفتوں میں سے قبروں کاروندنا ہے ۔ اھ
امام علامہ محقق علی الاطلاق ان لوگوں پر اعتراض فرماتے ہیں جن کے اعزاء واقراباء کے گرد مخلوق دفن ہے
عــــہ : علی صیغۃ المفعول ای امنین
مؤمنین صیغہ مفعول ہے یعنی جب وہ محفوظ رہیں (ت)
الحدیقۃ الندیۃ بحوالہ شرح الدرر الصنف الثامن فی آفات الرجل مکتبہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۵۰۵
طریقہ محمدیہ الصنف الثامن فی آفات الرجل مطبع ہندو پریس دہلی ٢ / ٢٥٩
فقد قال فی الفتح یکرہ الجلوس علی القبرو وطؤہ فما یصنعہ الناس ممن وفنت اقاربہ ثم دفن حوالیھم خلق من وطأتك القبور الی ان یصل الی قبر قریبہ مکروہ ۔
چنانچہ فتح میں کہا : قبرپر بیٹھنا اور اس کوروندنا مکروہ ہے تووہ لوگ جن کے رشتہ داروں کے گرد دوسروں کی قبریں ہوں ان کا ان قبروں کو روندنا اپنے قریبی رشتہ دار کی قبر تك پہنچنے کے لیے مکروہ ہے ۔
امام محدث حافظ الحدیث ابوبکر بن ابی الدنیا حضرت ابو قلابہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہے :
اقبلت من الشام الی البصرۃ فنزلت الخندق فتطھرت وصلیت رکعتین باللیل ثم وضعت راسی علی قبر فنمت۔ ثم انتبھت فاذا بصاحب القبر یشتکی ویقول لقد اذیتنی منذ اللیلۃ الخ۔
یعنی میں ملك شام سے بصرہ کوآتاتھا۔ رات کو خندق میں اترا۔ وضو کیا اور دورکعت نماز پڑھی۔ پھرا یك قبر پرسر رکھ کر سورہا جب جاگا تو ناگاہ سنا کہ صاحب قبر شکایت کرتا اور فرماتا ہے کہ تونے رات بھر مجھے ایذا پہنچائی الخ۔
ابن ابی الدنیا اور امام بہیقی دلائل النبوۃمیں حضرت عثمان نہدی سے وہ مینا تابعی سے راوی : “ میں مقبرے میں گیا دورکعات پڑھ کر لیٹ رہا۔ خدا کی قسم! میں خوب جاگ رہاتھا کہ سنا صاحب قبر کہتا ہے : قم فقد اذیتنی ( اٹھ کہ تونے مجھے ایذا دی ) ۔ “ امام حافظ ابن مندہ قاسم بن مخیمرہ سے راوی : “ کسی شخص نے ایك قبر پر پاؤں رکھا قبر سے آواز آئی : الیك عنی ولاتؤذنی ( اپنی طرف ہٹ دور ہو اے شخص میرے پاس سے )اور مجھے ایذا نہ دے “ ۔
ذکر ھما العلامۃ السیوطی فی شرح الصدور اقول وفیھما تائید لما علیہ عامۃ علمائنا خلافا للامام ابی جعفر ومن تابعہ من
ان دونوں کو علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ نے شرح الصدور میں درج فرمایا اقول ان دونوں روایتوں میں اس کو تائید ہوتی ہے جس پر ہمارے عام علماء ہیں بخلاف
شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا باب ماینفع المیّت فی قبرہ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص ١٢٨
دلائل النبوۃ للبہیقی باب ماجاء فی الرجل الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ٧ / ٤٠
شرح الصدور بحوالہ ابن مندہ عن القاسم بن مخیمرہ باب تاذیہ بسائروجوہ الاذی خلافت اکیڈمی سوات ص ١٢٦
امام ابو جعفر اور ان کے تا بع بعض متاخرین کے۔
او راس فقیر غفراﷲ تعالی لہ نے حضرت سیدی ابوالحسن نوری مدظلہ العالی سے سنا کہ ہمارے بلاد میں مارہرہ مطہرہ کے قریب ایك جنگل میں گنج شہیداں ہے کوئی شخص اپنے بھینس لیے جاتا تھا ایك جگہ زمین نرم تھی ناگاہ بھینس کاپاؤں جارہا معلوم ہو ایہاں قبر ہے قبر سے آواز آئی : “ اے شخص! تونے مجھے تکلیف دی تیری بھینس کا پاؤں میرے سینے پر پڑا ۔ “ فیھا قصۃ لطیفۃ تدل علی عظیم قدرۃ اﷲ تعالی وعجیب صنعہ فی الشھداء( اس میں لطیف قصہ ہے جو شہداء کے بارے میں اﷲ تعالی کی قدرت عظیمہ اور عجیب صناعی پردلالت کرتا ہے۔ ت)اب بحمد اﷲ تعالی حکم مسئلہ مثل آفتاب روشن ہوگیا جب حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے اور اس سے تکیہ لگانے اور مقابر میں جوتا پہن کر چلنے والوں کو منع فرمایا اور علماء نے اس خیال سے کہ قبور پر پاؤں نہ پڑے گورستان میں جو راستہ جدید نکالا گیا ہو اس میں چلنے کو حرام بتایا او رحکم دیا کہ قبر پر پاؤں نہ رکھیں بلکہ اس کے پاس نہ سوئیں سنت یہ ہے کہ زیارت میں بھی وہاں نہ بیٹھیں بلکہ بہتریہ ہے کہ بلحاظ ادب پاس بھی نہ جائیں دور ہی سے زیارت کرآئیں اور قبرستان کی خشك گھاس اگر جانور کو کھلانا جائز فرمایا مگر یوں کہ یہاں سے کاٹ کر لے جائیں نہ کہ جانوروں کو مقابر میں چرائیں اور تصریح فرمائی کہ مسلمان زندہ ومردہ کی عزت برابر ہے او رجس بات سے زندوں کو ایذا پہنچتی ہے مردے بھی اس سے تکلیف پاتے ہیں ا ور انھیں تکلیف دینا حرام تو خود ظاہر ہوا کہ یہ فعل مذکور فی السوال کس قدر بے ادبی و گستاخی وباعث گناہ او راستحقاق عذاب ہے۔ جب مکان سکونت بنایا گیا تو چلنا پھرنا بیٹھنا لیٹنا قبورکو پاؤں سے روندنا ان پر پاخانہ پیشاب جماع سب ہی کچھ ہوگا اور کوئی دقیقہ بے حیائی اور اموات مسلمین کی ایذا رسانی کا باقی نہ رہے گاوالعیاذ باﷲ رب العلمین۔
علماء فرماتے ہیں : جہاں چالیس مسلمان جمع ہوتے ہیں ان میں ایك ولی اﷲ ضرور ہوتا ہے کما صرح بہ العلامۃ المناوی رحمہ اﷲ تعالی فی التیسیر شرح الجامع الصغیر ( جیساکہ علامہ مناوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تیسیر شرح جامع صغیر میں تصریح کی۔ ت)اور ظاہر ہے کہ مقابر مسلمین میں صدہا مسلمانوں کی قبریں ہوتی ہیں بلکہ خدا جانے ایك ایك قبر میں کس کس قدر دفن دفن ہیں تو بالضرورت ان میں بندگان مقبول بھی ضرور ہوں گے بلکہ اس امر کی اموات میں زیادہ امید ہے کہ بہت بندے خدا کے جو زندگی میں آلودہ گناہ تھے بعد موت پاك وطیب ہوگئے۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : الموت کفارۃ لکل مسلم موت کفارہ گناہ ہے ہر سنی عــــہ مسلمان کے لیے۔
عــــہ : فائدہ جلیلہ : محاورہ قرآن وحدیث میں مومن ومسلم خاص اہلسنت کو کہتے ہیں کہ(باقی اگلے صفحہ پر)
اسے ابو نعیم اور بیہقی نے شعب الایمان میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیااور علامہ سیوطی نے فرمایا کہ ابن عربی نے اس کی تصحیح کی ۔
اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حکم دیا کہ فاجر معلن کے فسق وفجور کا اس کی اندگی میں اعلان کیا جائے تاکہ لوگ ا س سے احتراز کریں۔
اخرج ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ والترمذی فی النوادر والحاکم فی الکنی والشیرازی فی الالقاب وابن عدی فی الکامل والطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی السنن والخطیب فی التاریخ کلھم عن الجارد عن بھزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اترعون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس ۔
ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ میں اور ترمذی نے نوادر میں اور حاکم نے کنی میں او رشیرازی نے القاب میں اور ابن عدی نے کامل میں اور طبرانی نے کبیر میں اور بیہقی نے سنن میں اور خطیب نے تاریخ میں سب نے جارود سے جاورد نے بہزبن حکیم سے انھوں نے اپنے باپ سے اور ان کے دادانے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کی کہ کیا تم فاجر کاذکر کرنے سے ڈرتے ہو لوگ اسے کب پہچانیں گے فاجر کی برائیاں بیان کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں ۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)زمانہ نزول قرآن عظیم وارشاد حدیث کریمہ میں صرف اہل سنت وجماعت ہی تھے ا س زمانے برکت نشان میں کسی بدمذہب ومبتدع کا ہونا محال تھا کہ بدمذہبی شبہ وتاویل سے پیدا ہوتی ہے جسے یقین قطعی سے بدلنے والے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دنیا میں جلوہ فرما تھے اگر شبہ گزرتا حضور کشف فرماتے شبہ والامانتا تو سنی ہوتا نہ مانتا تو کافر ہوجاتا یہ بیچ کی شق وہاں ممکن ہی نہ تھی ولہذا آیہ کریمہ “ ویتبع غیر سبیل المؤمنین “ سے جب علماء نے حجیت اجماع پر استدلال کیا تصریح فرمادی کہ مبتدعین کااتفاق اجماع میں ملحوظ نہیں کہ مومنین سے مراد امت اجابت ہیں۔ مبتدعین امت اجابت نہیں امت دعوت ہیں دیکھوتوضیح وتلویح بحث اجماع وغیرہ۔ یہ فائدہ نفیسہ یادرکھنے کاہے کہ انما المؤمنون اخوۃ “ وغیرہا آیات واحادیث میں مومنین سے اہلسنت ہی مراد ہیں انھیں کے باہم اتفاق واتحاد کا حکم ہے ۔ ندوۃ خذلہا اﷲ تعالی کی تعمیم اور تمام گمراہوں بدمذہبوں سے اتحاد و داد کی تعلیم سب بے دینوں کی تکریم وتعظیم پر ان نصوص کو پیش کرنا محض بددینی اور ضلالت ہے والعیاذ باﷲ تعالی ۱۲منہ
اخرج الامام احمد والبخاری والنسائی عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لاتسبوا الاموات فانھم قدا فضوا الی ماقدموا ۔ واخرج ابوداؤد والترمذی والحاکم والبیھقی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذکر محاسن موتاکم وکفوا عن مساویھم واخرج النسائی بسند جید عن عائشہ رضی اﷲ تعالی عنھا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تذکروا ھلکاکم الابخیر ۔
امام احمد بخاری اور نسائی نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے فرمایا : “ تم مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ انھوں نے جو کچھ کیا تھا وہ اس کی جزا کو پہنچے “ ۔ اور ابوداؤد ترمذی حاکم بیہقی نے ابن عمر سے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کی کہ “ تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیوں سے درگزر کرو “ ۔ اور نسائی نے بسند جید عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی اور انھوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہ “ تم اپنے مردوں کو بھلائی سے ہی یاد کرو ۔ “
بعد اس اطلاع کے بھی اگر ایسے اشخاص اپنی حرکت سے باز نہ آئیں تو اب ان کی گستاخیاں عوام مومنین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ حضرات اولیائے کرام کے ساتھ بھی ہوں گی اور اشد واعظم مصیت اس کی جواولیاء کی جناب رفیع میں گستاخی ہو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : اﷲ جل جلالہ فرماتا ہے :
من عادی لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب ۔ رواہ الامام البخاری عن سیدنا ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اقول : وکفی بالجامع الصحیح حجۃ وان کان فی قلب الذھبی ماکان۔
جو میرے کسی ولی سے دشمنی باندھے میں نے اس سے لڑائی کا اعلان کردیا اسے امام بخاری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
اقول : دلیل کے طور پر جامع صحیح کا حوالہ کافی ہے اگر چہ مریب کے دل میں کچھ شك گزرے۔
سنن ابی داؤد باب مافی النہی عن سب الموتٰی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۱۵
سنن النسائی النہی عن ذکر الہلکی الابخیر مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۲۲۲
صحیح البخاری کتاب الرقاق باب التواضع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۶۳
عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما تدین تدان ۔ اخرجہ ابن عدی فی الکامل عن ابن عمرواحمد فی المسند عن ابی الدرداء وعبد الرزاق فی الجامع عن ابی قلابۃ مرسلا وھو عند الاخرین قطعۃ حدیث قلت ولہ شواھد جمۃ وھو من جوامع کلمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے جیسا کروگے ویسا بھرو گے ۔ اسے ابن عدی نے کامل میں ابن عمر سے احمد نے مسند میں ابی الدردا سے اور عبدالرزاق نے جامع میں ابو قلابہ سے مرسلا روایت کیاہے او رآخری دو کے نزدیك یہ حدیث کاٹکڑا ہے قلت (میں کہتاہوں) اس کے لیے شواہد کثیر ہیں اور یہ حدیث حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے جامع کلمات میں سے ہے (ت)
اﷲ تعالی کی طرف شکوے کہ یہ بلا ان جاہلوں میں ان اجہلوں کی پھیلائی ہوئی ہے جنھوں نے اموات کو بالکل پتھر سمجھ لیا کہ مرگئے اور خاك ہوگیے نہ اب کچھ سنیں نہ سمجھیں نہ کسی چیز سے ایذا یا راحت پائیں او رجہاں تك بن پڑا قبور مسلمین کی عظمت قلوب عوام سے چھیل (سلب کر) ڈالی ۔ فاناﷲ وانا الیہ راجعون۔
وصل دوم:تنفیح مقام وتفضیح اوہام نجدیہ لیام نقل درفتوی فقیر غفرلہ ملك الانعام
فتوی اولی :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ : از کلکتہ امرتلالین نمبر ۸ مرسلہ حاجی لعل خاں صاحب وبار دوم بلفظ از کانپور بازار نیا گنج کمپنی دادوجی دادا بھائی سورتی مرسلہ عبدالرحیم صاحب ۲۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین رحمہم اللہ تعالی اس مسئلے میں کہ ایك طرف چند پرانی قبریں پائی جاتی ہیں او رباقی ایك تہائی سطح میدان پڑا ہوا ہے او ر وہاں عمر رسیدہ قریب اسی۸۰ سے سو۱۰۰ برس کے بزرگوں سے تحقیق کرنے پر وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کے ہوش سے ہم لوگوں کے جاننے میں کسی حصہ اس سطح زمین میں کوئی میت دفن نہیں ہوا ہے
الجواب :
وقف کی تبدیل جائز نہیں جو چیز جس مقصد کے لیے وقف ہے اسے بدل کر دوسرے مقصد کے لئے کردینا روانہیں جس طرح مسجد یا مدرسہ کو قبرستان نہیں کرسکتے یونہی قبرستان کو مسجد یا مدرسہ یا کتب خانہ کردینا حلال نہیں۔ سراج وہاج پھر فتاوی ہندیہ میں ہے :
لایجوز تغیر الوقف عن ھیأتہ فلا یجعل بستانا ولا الخان حماما ولا الر باط دکانا الااذا جعل الواقف الی الناظر مایری فیہ مصلحۃ الوقف اھ قلت فاذالم یجز تبدیل الھیأۃ فکیف بتغییر اصل المقصود۔
وقف کواس کی ہیئت سے تبدیل کرنا جائز نہیں لہذا گھر کا باغ بنانا اور سرائے کا حمام بنانا او ر ر باط کا دکان بنانا جائز نہیں ہاں جب واقف نے نگہبان پر معاملہ چھوڑ دیا ہو کہ وہ ہر وہ کام کرسکتا جس میں وقف کی مصلحت ہوتوجائز ہے اھ قلت( میں کہتاہوں) جب ایك ہیت کی تبدیلی جائز نہیں تو اصل مقصود کی تغیر کیونکر جائز ہوگی!
او راس پارہ قبرستان میں سو برس سے کوئی قبر نہ ہونا اسے قبرستان ہونے سے خارج نہیں کرسکتا۔ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے قول مفتی بہ پر واقف کے صرف اتنا کہنے سے کہ میں نے یہ زمین مسلمان کیلئے وقف کی یا اس زمین کو مقبرہ مسلمین کردیا وہ تمام زمین قبرستان ہوجاتی ہے اگر چہ ہنوز ایك مردہ بھی دفن نہ ہوا ۔ اورامام محمد کے قول پر ایك شخص کے دفن سے ساری زمین قبرستان ہوجاتی ہے۔ اسعاف پھر ردالمحتار میں ہے :
تسلیم کل شیئ بحسبہ ففی المقبرۃ بدفن واحد وفی السقایۃ بشربہ وفی الخان
ہر چیز کا سپرد کرنا اس کی حیثت کے مطابق ہوتا ہے تو مقبرے میں ایك شخص کو دفن کرنا ہے او رسقایہ
میں ایك گھونٹ پانی پینا ہے او رسرائے میں اترنا ہے۔
ہدایہ وہندیہ میں ہے :
وعند ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی یزول ملکہ بالقول کما ھو أ صلہ وعند محمد رحمہ اﷲ تعالی اذا استقی الناس من السقایۃ وسکنوا الخان والرباط ودفنوافی المقبرۃ زال الملك ویکتفی بالواحد لتعذر فعل الجنس کلہ وعلی ھذا البئر والحوض ۔
اورابویوسف کے نزدیك اس کی ملك کہنے سے زائل ہوجائیگی جیسی کہ یہ وقف کی اصل ہے اور امام محمد کے نزدیك جب لوگ سقایہ سے سیراب ہوں او رسرائے اور رباط میں رہیں او ر مقبرہ میں دفن کریں تو ملك زائل ہوجائیگی او رایك پر اکتفا ء کیا جائے گا کیو نکہ تمام جنس کا فعل متعذر ہے او ر کنویں اور حوض کا حکم بھی ایسا ہی ہے۔
درمنتقی اور شامی میں ہے :
قدم فی التنویر والدرر والوقایۃ وغیرھا قول ابی یوسف وعلمت ارجحیتہ فی الوقف والقضاء اھ
تنویر درر اور وقایہ وغیرہا میں ابویوسف کا قول مقدم رکھا اور تم اس کی ارحجیت وقف اور قضا میں جان چکے ہو۔
پس صورت مستفسرہ میں وہاں مدرسہ وکتب خانہ بنانا ہی جائز نہیں اگر چہ مردے کی ہڈی نہ نکلے اور نکلنے کی حالت میں ممانعت اور اشد ہوجائے گی کہ قبرمسلم کی بے حرمتی ہوئی کما بینا فی الامر باحترام المقابر( جیسا کہ ہم نے رسالہ الآمر باحترام المقابر میں بیان کیا ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
فتوی ثانیہ :
مسئلہ : از کانپور مسجد رنگیاں مرسلہ مولوی شاہ احمد حسن صاحب مرحوم بوساطت جناب مولانا مولوی وصی احمد صاحب ۲۱ جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھ
بخدمت سراپائے برکت مولنا مولوی صاحب مجدد مائۃ حاضرہ صاحب حجت قاہرہ امام جماعت عالم سنت مولنا وسیدنا المولوی محمد احمد رضا خاں صاحب تمت فیوضا تہم وعمت سکنتہ المشارق والمغارب السلام علیکم
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الثانی عشر فی الرباطات الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۴۶۵
ردالمحتار کتاب الوقف مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۰۵
نقل استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ سطح زمین قبرستان کے نام سے مشہور ہے جس کی ایك طرف چندپرانی شکستہ قبریں پائی جاتی ہیں الخ بعینہ سوال آمدہ ازکلکتہ امرتلالین واز کانپور بازار گنج ۲۰ربیع الآخر ۱۳۲۱ ھ کے عنقریب فتاوی میں گزرا۔
جواب اہالی مدرسہ جامع العلوم
ایسے مقام پر کتب خانہ اور مدرسہ بنانا جائز ہے لعدم المانع( کہ مانع معدوم ہے ۔ ت) اور اگر بوسیدہ ہڈی اتفاقی طور پر نکل آئے تو اس کو کہیں دفن کردے۔
وقال الزیلعی ولویلی المیت وصار ترابا جاز دفن غیرہ فی قبرہ و زرعہ والبناء علیہ اھ شامیۃ ص ۵۹۹ واﷲ اعلم۔
امام زیلعی نے فرمایا اگر میت بوسیدہ ہوکر مٹی ہوجائے تو اس کی قبر میں دوسرے کو دفن کرنا اور اس کی قبرپر کھیتی کرنا اور عمارت بنانا جائز ہے اھ شامیہ ص ۵۹۹ واﷲ اعلم (ت)
الاحقر محمدرشید مدرس دوم مدرسہ جامع العلوم کانپور محمد رشید دو عالم زفیض( ۱۳۱۳ھ)
من اجاب فقد اصاب ( جو جواب دیاگیا درست ہے ۔ ت) محمد عبداﷲ عفی عنہ
یہ جواب نادرست ہے کیونکہ یہ فقہاء کی عبارات کے خلاف ہے (ت)
محمد عبدالرزاق مدرس مدرسہ امداد العلوم کانپور محمد عبدالرزاق
خلاصہ جواب جناب مولوی احمد حسن صاحب
صورت مسئولہ میں اس مقام پر کتب خانہ ومدرسہ بنانا ناجائز ہے اس لیے کہ یہ جگہ جب مقبرے کے نام سے مشہور اور وقف ہے تو شرعا یہ مقبرہ سمجھا جائے گا اور اس مقبرے کے لیے زمین وقف ہوگی اور اس کی شہرت اس کے ثبوت کے لیے دلیل کافی ہے۔ درمختار میں ہے : تقبل فیہ الشھادۃ بالشھرۃ الخ ملخصا( اس میں شہرت کی بنا پر شہادت قبول کی جاتی ہے الخ ۔ ت)اسی طرح ردالمحتار میں ہے عالمگیریہ میں ہے : الشھادۃ علی الوقف بالشھرۃ تجوز ا لخ(وقت پر شہادت شہرت کی بناء پر جائز ہے الخ ۔ ت) او راس کے مندر س ہوجانے سے دوسرا کوئی نفع لینادرست نہ ہوگا۔ قاضی خاں مطبوعہ مصر جلد ثالث ص ۳۱۴ پر ہے :
مقبرۃ قدیمۃ بمحلۃ لم یبق فیہا اثار المقبرۃ ھل یباح لاھل المحلۃ الانتفاع بھا قال ابو نصر رحمہ اﷲ تعالی لایباح ۔
ایك محلے میں پرانا قبرستان ہے جس کے نشانات باقی نہیں رہے کیا اہل محلہ اس سے نفع حاصل کرسکتے ہیں ابونصر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے کہا کہ مباح نہیں ہے ۔
علمگیری میں جلد ثانی مطبوعہ مصر صفحہ ۴۷۰ و ۴۷۱ :
سئل القاضی الامام شمس الائمۃ محمود الاوز جندی عن المقبرۃ اذا اندرست و لم یبق فیھا اثر الموتی لاالعظم ولاغیرہ ھل یجوز زرعھا و استغلالہا قال لاولھا
قاضی شمس الائمہ محمود اوزجندی سے ایسے مقام قبرستان کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کے نشانات مٹ گئے ہوں اور اس میں ہڈیاں تك نہ رہی ہوں کیا اس میں کھیتی باڑی کرنا او ر اسے کرائے پر دینا جائز ہے
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الفصل الثانی فی الشہادۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۴۳۸
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی المقابر والرباطات ۴ / ۷۲۵
فرمایا : نہیں وہ قبرستان کے حکم میں ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔
نہ عدم جوازانتفاع بالمقبرہ امام زیلعی کی اس عبارت ہی کے خلاف ہے اس لیے کہ انھوں نے “ جوا زمیت “ کے بوسیدہ او رخاك ہوجانے پر مرتب فرمایا ہے اور یہاں عدم جواز اس وجہ سے نہیں بلکہ بہ سبب مقبرے کے وقف ہونے میں ہے۔ جیسا کہ مصحح نے علمگیریہ مطبوعہ مصرمیں لکھاہے عبارت منقولہ علمگیریہ پر یہ عبارت لکھی ہے :
قولہ قال لاھذا لاینا فی ماقالہ الزیلعی لان المانع ھنا کون المحل موقوفا علی الدفن فلا یجوز استعمالہ فی غیرہ فلیتامل ولیحرر اھ مصححہ ۔ سئل شمس الائمۃ الحلوانی عن مسجد اوحوض خرب لایحتاج الیہ لتفرق الناس ھل للقاضی ان یصرف اوقافہ الی مسجد اخر اوحوض او اخر۔ قال تعم ولو لم یتفرق الناس ولکن استغنی الحوض عن العمارۃ و ھناك مسجد محتاج الی العمارۃ اوعلی العکس ھل یجوز للقاضی صرف وقف ما استغنی عن العمارۃ الی عمارۃ ماھو محتاج الی العمارۃ فقال لا کذافی المحیط
ان کا قول “ انھوں نے کہا نہیں “ یہ زیلعی کے قول کے منافی نہیں کیونکہ یہاں مانع حمل کا دفن کے لیے موقوف ہونا ہے تواس کا استعمال غیر میں جائز نہیں غور کرنا چاہیے اور اسے محفوظ کرنا چاہئے اھ مصحح۔ او رمسائل سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ غیر جنس کی طرف وقف جائز نہیں علمگیریہ جلد ثانی ص ۴۷۸ میں ہے ۔ شمس الائمہ حلوانی سے مسجد یا حوض کے بارے میں دریافت کیا گیا جو ویران ہوں اور ان کی ضرورت نہ رہی ہو کیونکہ وہاں آبادی نہیں رہی کیا قاضی ا س کے اوقاف کو دوسری مسجد یا دوسرے حوض میں صرف کرسکتا ہے فرمایا : ہاں اوراگر لوگ وہیں رہتے ہوں مگر اس حوض کی ضرورت نہ رہی ہو اور وہاں مسجد عمارت کی محتاج ہو یا بالعکس تو کیا قاضی اس وقف کی آمدنی جس کی ضرورت نہ ہو دوسرے محتاج وقف کی تعمیر پر خرچ کرسکتا ہے تو فرمایانہیں۔ محیط میں اسی طرح ہے۔
لہذا اس زمین میں جو دفن کے لیے وقف ہو مدرسہ وغیرہ بنانا جائز نہ ہوگا گو خالی ہی کیوں نہ ہو او ردوسرے اس کا خالی ہونا فقط شہادت سے کہ ہماری عمر میں ہمارے علم میں کوئی میت دفن نہ کی گئی ثابت نہیں ہوسکتا بلکہ
حاشیہ فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی الرباطات الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۴۷۱
فتاوٰی ہندیۃ الباب الثالث عشر فی الاوقاف الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۴۷۸
وھذا الجواب صحیح( یہ جواب صحیح ہے ۔ ت) کتبہ عبدالرزاق عفی عنہ
الجواب الثانی صحیح (جواب ثانی صحیح ہے ۔ ت) کتبہ احمد حسن عفی عنہ
جواب مولوی رشید احمد گنگوہی وغیرہ دیوبندیاں
الجواب :
یہ جواب صحیح نہیں ہے اور مجیب صاحب نے جو روایت نقل کہ ہے اس سے بھی مدعا ثابت نہیں ہوتا۔ الحاصل وہ قبرستان وقف نہیں ہے توکچھ کلام نہیں ہے اور قبرستان کو جو وقف مشہور کردیتے ہیں یہ سب جگہ جاری نہیں اکثر جگہ دیکھا گیا ہے کہ گورستان وقف نہیں ہوتا اور بعد تسلیم اس بات کے کہ وہ وقفی ہے اس صور ت میں کہ وہاں دفن اموات کا ایك مدت دراز سے بند ہے تواس میں دوسرا مکان وقفی بنا دینا درست ہے۔ لہذا مدرسہ وقفی بنانا اس گورستان میں جائز ہے چنانچہ اس روایت سے واضح ہے یعنی عینی شرح بخاری جلد ۲ صفحہ ۳۵۹ :
فان قلت ھل یجوز ان تبنی المساجد علی قبور المسلمین قلت قال ابن القاسم لو ان مقبرۃ من مقابر المسلمین عفت فبنی قوم علیہا مسجدا لم اربذالك باسا ۔ وذالك لان المقابر وقف من اوقاف المسلمین لدفن موتا ھم لایجوز لاحد ان یملکھا فاذا درست واستغنی عن الدفن فیھا جاز صرفھا لای المسجد لان المسجد ایضا وقف من اوقاف المسلمین لا یجوز
اگر تم کہو کیا مسلمانوں کی قبروں پر مساجد کا بنانا جائز ہے میں کہوں گا : ابن قاسم نے کہا اگر مسلمانوں کا کوئی قبرستان ختم ہوجائے اور وہاں کچھ لوگ مسجد بنالیں تو میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا کیونکہ قبرستان بھی مسلمانوں کا ایك وقف ہے ان کے مردوں کو دفن کرنے کے لیے کسی کے لیے اس کا مالك بننا جائز نہیں اب جبکہ وہ مٹ گیا او ر اس میں دفن کی ضرورت نہیں رہی تو اسے مسجد کے استعمال میں لانا جائز ہوا کیونکہ مسجد بھی مسلمانوں کے اوقاف میں سے ایك وقف ہے کسی کو اس کا
مالك بناناجائز نہیں۔ لہذا ان دونوں کا مقصد ایك ہے۔
درکتب فقہیہ میں بھی روایات جواز موجود ہیں مگر بندے کو مہلت نہیں فقط واﷲ تعالی اعلم ۔ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ رشید احمد (۱۳۰۱ھ)
الجواب صحیح۔ بندہ محمود عفی عنہ الجواب صحیح۔ بندہ مسکین محمد یسین عفی عنہ الجواب صحیح۔ غلام رسول عفی عنہ محمد یسین عفی عنہ جبکہ وہ مقبرہ نہایت کہنہ ہے اور اس وقت دفن کرنا وہاں متروك ہوگیا ہے توبناء مدرسہ اس جگہ میں خصوصا حصہ خالی میں درست ہے۔ البتہ اگر وہ مقبرہ فی الحال دفن اموات میں کام آتاہو توکوئی اوربناء اس میں درست نہیں ہے۔
قال فی علمگیریۃ ولوبلی المیت وصار ترابا جاز دفن غیرہ فی قبرہ وزرعہ والبناء علیہ کذا فی التبیین ۔
علمگیریہ میں ہے کہ اگر میت پرانی ہوجائے او رمٹی ہوجائے تو دوسرے کو اس قبر میں دفن کرنا جائز ہے او راس میں کھیتی کرنا اور اس پر عمارت بنانا بھی جائز ہے جیسا کہ تبیین میں ہے۔
فقط واﷲ تعالی اعلم۔ کتبہ عزیز الرحمن عفی عنہ فتوکل علی العزیز الرحمن (۱۳۰۷ھ)
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جواب اول غلط صر یح او رحکم ثانی حق و صحیح او رتحریر ثالث جہل قبیح ہے۔
گنگوہی صاحب کا بے محل شقشقہ
اولا سوال میں صاف تصریح تھی کہ “ ایك سطح وقف زمین پھر مجیب سوم کی تشقیق کہ “ اگروہ قبرستان نہیں “ الخ محض شقشقہ بے معنی ہے
وقف میں شہرت کافی ہے اور گنگوہی صاحب کی جہالت
ثانیا قبرستان کو جو وقف مشہور کردیتے ہیں یہ سب جگہ جاری نہیں اس “ یہ “ کا مشار الیہ شہرت ہے
فتاوٰی ہندیۃ الفصل السادس فی القبر والدفن نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۶۷
کلام مجیب دوم سلمہ میں بھی اس کی بعض نقول منقول پھر باوصف تسلیم دلیل شرعی نفی مدلول جہل قطعی یہاں شہادت شہرت کونہ ماننا نہ اسی مقبرے بلکہ عامہ اوقاف قدیمہ یکسر مٹادینا ہے طول عہد کے بعد شہود معاینہ کہاں اور مجرد خط حجت نہیں فتاوی خیریہ میں ہے :
لایعمل بمجرد الدفتر ولامجرد الحجۃ لما صرح بہ علماء نا من عدم الاعتماد علی الخط وعدم العمل بہ کمکتوب الوقف الذی علیہ خطوط القضاۃ الماضین وانما العمل فی ذلك بالبینۃ الشرعیۃ ۔
صرف تحریر پر عمل نہ ہوگا اور نہ صرف دلیل پر کیونکہ ہمارے علماء نے تصریح کردی ہے کہ خط پر اعتماد نہیں اور اس پر عمل نہیں جیسے وہ وقف نامہ جس پر گزشتہ قاضیوں کی تحریریں ہوں اس معاملے میں شرعی گواہوں پر ہی عمل ہوگا۔
اسی میں ہے :
کتاب الوقف انما ھو کاغذ بہ خط وھولا یعتمد علیہ ولایعمل بہ کما صرح بہ کثیر من علمائنا والعبرۃ فی ذالك للبینۃ الشرعیۃ وفی الوقف یسوغ للشاھدان یشھد بالسماع ویطلق ولایضر فی شھادتہ قول بعد شہادتہ لم اعائن الوقف ولکن اشتھر عندی او اخبرنی بہ من اثق بہ ۔
وقف کی تحریر تو ایك کاغذ ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی عمل کیا جاسکتا ہے جیسا کہ ہمارے بہت سے علماء نے تصریح کی ہے اعتبار اس معاملہ میں شرعی گواہوں کا ہے او ر وقف میں گواہ کے لیے جائز ہے کہ سن کر گواہی دے اور اطلاق رکھے او راس کی شہادت میں ادائے شہادت کے بعد یہ کہنا کہ میں نے وقف کا معائنہ نہیں کیا لیکن میرے نزدیك مشہور ایسا ہی ہے یا مجھے قابل اعتماد شخص نے خبر دی ہے کچھ مضر نہیں ۔
فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۰۳
وقف میں تبدیلی حرام ہے اور گنگوہی صاحب کی سفاہت
ثالثا مقبرے کے لیے وقف تسلیم کر کے اس میں مدرسہ وغیرہ دوسرے مکان وقفی بنانے کو درست بتانا ظلم واضح وجہل فاضح ہے کہ اس میں صراحۃ تغیر وقف ہے او ر وہ حرام ہے حتی کہ متولی بھی وقف پر ولایت رکھتا ہے نہ کہ اجنبی حتی کہ علماء نے تغیر ہیأت کی بھی بے اذن واقف اجازت نہ دی نہ کہ تغیر اصل وقف عقود الدریہ میں ہے :
لا یجوز للناظر تغیر صیغۃ الواقف کما افتی بہ الخیر الرملی والحانوتی وغیرھما ۔
وقف کے نگہبان کے لیے واقف کے صیغے کی تبدیلی جائزنہیں جیسا کہ خیر رملی اور حانوتی وغیرہما نے فتوی دیا ہے۔
سراج وہاج وہندیہ میں ہے :
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فلا یجعل الداربستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دکانا الا اذاجعل الواقف الی الناظر مایری فیہ مصلحۃ الوقف ۔
وقف کو اس کی ہیئت سے تبدیل کرنا جائز نہیں لہذا گھر کو باغ اور سرائے کو حمام او ر رباط کو دکان بنانا جائز نہیں ہاں واقف نے اگر نگران وقف کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ہر وہ کام کرسکتا ہے جس میں وقف کی مصلحت ہو تو ٹھیك ہے۔
فتح القدیر و ردالمحتار وشرح الاشباہ للعلامۃ البیری میں ہے :
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری ۔
وقف کو اپنی اصل حالت پر باقی رکھنا واجب ہے بغیر اس کے کہ اس پر کوئی دوسری زیادتی کی جائے ۔ (ت)
وقف کرنے کے لیے مالک ہونا شرط ہے شیئ ایک بار وقف ہوکر دوبارہ وقف نہیں ہوسکتی
( اور گنگوہی صاحب کی ناواقفی )
رابعا : مدرسہ یا کتب خانہ یاکوئی مکان کیا خالی دیواروں کا نام ہے۔ ہر عاقل ادنی عقل والا بھی جانتاہے کہ زمین ضرور اس میں داخل تنہا دیواروں کوبناء وعملہ کہتے ہیں نہ بیت وخانہ مدرسہ جائے درس
اماشرائطہ فمنھا العقل والبلوغ ومنھا ان یکون قربۃ ومنھا الملك وقت الوقف ویتفرع علی اشتراط الملك انہ لایجوز وقف الاقطاعات ولا وقف ارض الحوز للامام ملتقطا۔
بہر حال وقف کی شرائط تو ان میں سے بلوغ او رعقل ہے او ران میں سے اس کا عبادت کیلئے ہونا ہے اور وقت وقف ملك کاہونا ہے ملك کی شرط پر یہ بھی متفرع ہے کہ جاگیر کاوقف جائزنہیں او امام کی گھیری ہوئی زمین کا وقف بھی جائز نہیں۔ ملتقطا
اسعاف میں ہے :
اتفق ابویوسف ومحمد رحمھما اﷲ تعالی ان الوقف یتوقف جوازہ علی شروط بعضھا فی المتصرف کالملك فان الولایۃ علی المحل شرط الجواز والولایۃ تستفاد بالملك اوھی نفس الملك ۔
ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالی نے اتفاق کیا ہے کہ وقف کاجواز بعض شرائط پر موقوف ہے کچھ تواس میں سے متصرف ہیں جیسے ملك کیونکہ ولایت “ محل “ شرط جوازہے اور ولایت یا تو ملك سے مستفاد ہے یا وہ خود ملك ہے۔
اسی میں ہے :
لو وقف ارضااقطعہ ایاھا السلطان فان کانت ملکالہ او مواتا صح وان کانت من بیت المال لایصح ۔
اگر کوئی شخص نے بادشاہ کی دی ہوئی جاگیر وقف کردی تو اگر وہ اس کی ملك ہے یا وہ مردہ زمین ہے تو صحیح ہے اور اگر بیت المال سے ہے تو صحیح نہیں
(اور گنگوہی صاحب کی نادانی)
خامسا تنہا عمارت وقف ہوگی یا تنہا زمین یا دونوں ثانی بدیہی البطلان ہے لان الوقف لایوقف ( کیونکہ وقف کا دوبارہ وقف جائز نہیں ۔ ت) یوں ہی ثالث لانہ علیہ یتوقف ( کیونکہ وہ وقف پر موقوف ہے ۔ ت) اول کا جواز ارض غیر محتکرہ میں اس صورت میں ہے کہ یہ عمارت اسی کا م پر وقف ہو جس پر اصل زمین کا وقف ہے ھوالصحیح بل ھو التحقیق وبہ التوفیق ( یہ صحیح ہے بلکہ یہی تحقیق ہے اﷲ تعالی کی توفیق ہے ۔ ت) تو زمین مقبرہ اور دیواریں مدرسہ محض وسوسہ۔ فتاوی علامہ خیرالدین رملی میں ہے :
سئل فی کرم مشتمل علی عنب وتین وارضہ وقف سیدنا الخلیل علیہ وعلی نبینا وسائر الانبیاء افضل الصلوۃ واتم السلام من الملك الجلیل ادعی رجل بانہ وقف جدہ ھل تسمع دعواہ اجاب لاتسمع ولاتصح اذاالکرم اسم للارض والشجر وان ارید بہ الشجر فوقف الشجر علی جہتہ غیر جہۃ الارض مختلف فیہ وقد قال صاحب الذخیرۃ وقف البناء من غیر وقف الارض لم یجزھوالصحیح وان ارید کل من الارض والشجر فبطلانہ بدیھی التصور وان ارید الارض فبدیھیۃ البطلان اولی اھ ملتقطا۔
اب باغ کے بارے میں دریافت کیا گیا جس میں انگور اور انجیر ہیں اور اس کی زمین جس کو حضرت ابراہیم علی نبینا وسائرالانبیاء افضل الصلوۃ واتم السلام من الملك الجلیل نے وقف کیا تھا ایسے باغ پر ایك شخص نے دعوی کردیا کہ یہ اس کے دادا نے وقف کیا تھا کیا اس کا دعوی سنا جائے گا جواب دیا نہیں کیونکہ باغ زمین اور درختوں کے مجموعے کانام ہے اوراگر اس سے مراد درخت ہوں تو درختوں کا زمین کی جہت کے بغیر وقف کرنا مختلف فیہ ہے صاحب ذخیرہ نے کہاہے کہ عمارت کا وقف کرنا زمین کے بغیر جائز نہیں یہی صحیح ہے۔ اور اگر زمین اور درخت سب مراد ہوں تو اس کا باطل ہونا ظاہر ہے اور اگر صرف زمین مراد ہو تواس کا باطل ہونا اور بھی ظاہر ہے اھ ملتقطا۔
اسی میں اس کے متصل ہے :
کیف یصح للواقف وقفہا علی نفسہ و
واقف اس کو اپنے اوپر کیونکر وقف کرسکتا ہے حالانکہ
یہ وقف ابراہیم علیہ السلام کا ہے اھ یہی معنی ہیں ان کے قول کے کہ اس کابطلان ظاہر ہے
ردالمحتار میں ہے :
الذی حررہ فی البحر اخذا من قولہ الظھیریۃ واما اذا وقفہ علی الجھۃ التی کانت البقعۃ وقفا علیہ جاز اتفاقا تبعا للبقعۃ وان قول الذخیرۃ لم یجزھو الصحیح مقصور علی ماعداصورۃ الاتفاق وھومااذا کانت الارض ملکا اووقفا علی جہۃ اخری اھ وعلی ھذا فینبغی ان یستثنی من ارض الوقف مااذاکانت معدۃ للاحتکار وبہ یتضح الحال ویحصل التوفیق بین الاقوال اھ ملخصا وقد اوضحناہ فیما علقنا علیہ۔
جوبحر میں تحریر کیاہے وہ ظہیریہ کے قول سے ماخوذ ہے او راگر اسی جہت پر وقف کیا جس پر وہ خطہ وقف تھا تو وقف اسکی اتباع میں بالاتفاق جائز ہے اورذخیرہ کا قول “ جائز نہیں “ صحیح ہے اور یہ اتفاق کی صورت کے غیر پر مقصور ہے او ر یہ اس وقت ہے جبکہ زمین ملك یا وقف ہوکسی دوسری جہت پر اس بناء پر زمین وقف سے اس صورت کا استثنا ضروری ہے جبکہ وہ زمین احتکار کے لیے تیار کی گئی ہو۔ اس سے صورت حال واضح ہوجاتی ہے اور تمام اقوال میں توفیق حاصل ہوجاتی ہے اھ ملخصا اور ہم نے ردالمحتار کی تعلیقات میں اس کی خوب وضاحت کی ہے۔
گنگوہی صاحب کی سخت نافہمی متعلقہ روایتوں کو بے علاقہ بتانا
سادسا مدرسہ یا کتب خا نہ جو بنایا جائے گا جبکہ شرعا وقف نہیں ہوسکتا لاجرم بانیان پر رہے گا اور اب یہ صراحۃ وقف تصرف مالکانہ اور اپنے انتفاع کے لیے اس میں عمارت بنانا ہوگا تو آفتاب کی طرح واضح ہے کہ قاضی خاں وعلمگیری و محیط کی عبارات جو مجیب دوم سلمہ نے نقل کیں کہ مقبرہ اگر چہ مندرس ہوجائے اس میں قبر کا نشان درکنار اموات کی ہڈی تك نہ رہے جب بھی اس سے انتفاع حرام اور ہمیشہ اس کے لیے حکم مقبرہ رہے گا اسی طرح فتاوی ظہریۃ و خزانۃ المفتین واسعاف کی عبارات کہ :
مقبرۃ قدیمۃ بمحلۃ لم یبق فیھا آثار المقبرۃ
جوقبرستان پرانا ہو اس میں مقبرے کے آثار باقی
ردالمحتار کتاب الوقف مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۲۸
نہ رہے ہوں تو اس سے اہل محلہ نفع حاصل کرسکتے ہیں اگر اس میں گھاس ہو تو وہ بھی کاٹی جاسکتی ہے کاٹ کر باہر لائی جائے مگر جانور قبرستان میں نہ چھوڑے جائیں۔ قطعا مفید مدعا تھیں۔
اور مجیب صاحب سوم کا یہ زعم کہ : “ مجیب صاحب نے جو روایت نقل کی ہے اس سے بھی مدعا ثابت نہیں ہوتا محض سوء فہم اور جہل مبین۔ “
( گنگوہی صاحب کی سخت بے علمی نصوص مذہب کو چھوڑ کر ایك مالکی عالم سے استناد)
گنگوہی صاحب پر گرفت
سابعا مجیب سوم کو جب فقہ میں کوئی راہ نہ ملی ناچارمتون وشروح وفتاوائے مذہب سب بالائے طاق رکھ کر نصوص اصول وفروع فقہ حنفی سب سے آنکھ بند کرکے شرح صحیح بخاری سے ایك روایت خارج عن المذہب پر قناعت کی کہ ابن القاسم نے کہا کہ میری رائے میں جب مقبرے کے آثار مٹ جائیں او راس کی حاجت نہ رہے تووہا ں مسجد بنا لینا جائز ہے۔ عربی لفظوں کاترجمہ دیکھ لیا اب یہ ادراك کسے کہ یہ ابن القاسم کون ہیں کس مذہب کے عالم ہیں ان کا قول مذہب حنفی میں کہاں تك سنا جاسکتا ہے او ر وہ بھی خاص ان کی رائے اور وہ بھی اصول و فروع مذہب کے صریح خلاف مجیب صاحب علامہ عینی رحمۃ اللہ تعالی علیہ شرح جامع صحیح میں صرف اقوال مذہب پر اقتصار نہیں کرتے بلکہ ائمہ اربعہ او ران سے بھی گزر کربعض دیگر سابق ولاحق بلکہ بعض بد مذہبوں مثلا داؤد ظاہری وابن حزم تك کے اقوال نقل کر جاتے ہیں بلکہ بارہا این وآن ہی کے قول پر قناعت فرماتے ہیں اور ائمہ مذہب کا مذہب بیان میں نہیں لاتے جاہل کہ تراجم علماء سے آگاہ نہیں آپ کی طرح دھوکا کھاجاتا ہے اور خادم علم بحمد اﷲ تعالی فرق مراتب وتفرقہ مذاہب کی خبر رکھتا ہے۔ علامہ عینی یہاں کسی کتاب فقہ کی تحریر میں نہیں یہ اسطرادی بالائی فوائد ہیں جن سے اقاویل ناس پر اطلاع مقصود اور مذہب تو اصلا وفرعا کتب مذہب میں مضبوط ہوچکا ۔ ان کی ان نقول کا اکثر مادہ تصانیف ابن المنذ رو ابن بطال وغیرہما شافعیہ وغیرہم ہیں ان کی عادت ہے کہ محل نقل میں سطریں کی سطریں بلکہ کہیں صفحے بلا غروبے تغیر لفظ نقل فرماتے ہیں جس پرا ن کے امام عصری امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے الدرر الکا منہ میں تنبیہ کی یہاں بھی صدر کلام
ثامنا مجیب صاحب نے ناحق اس حکایت غیر مذہب پر قناعت کی کہ فقط بیچارے مردہ مسلمانوں کی قبریں طلبہ اور مدرسہ کے بھنگی بہشتی سے پامال کرانے کی گنجائش ملی۔ اس ذکر اصحابناکو کیوں نہ لیا کہ مسجدوں میں چلانے گھوڑے یا گدھے باندھنے کی راہ چلتی۔
بل ھو اشنع واخنع وھو اتخاذ موضع المسجد حشاو کنیعا لقولہ وذکراصحابنا ان المسجد اذاخرب ودثر ولم یبق حولہ جماعۃ والمقبرۃ اذا عفت ودثرت تعود ملکا لاربابھا “ قال “ فاذا عادت ملکا یجوز ان یبنی موضع المسجد دارا وموضع
بلکہ یہ زیادہ برا ہے کہ مسجدکو اصطبل یاباڑہ بنالیا جائے کیونکہ انھوں نے کہا : ہمارے اصحاب نے ذکر کیا کہ مسجد جب ویران ہوجائے او راس کے گرد کوئی جماعت نہ رہے او رقبرستان جب مٹ جائے تو ان پر ان کے سابق مالك کی ملك لوٹ آتی ہے انھوں نے فرمایا کہ جب یہ چیزیں ملك میں آگئیں تو مسجد کی جگہ کو گھر اور قبرستان کی جگہ
عــــہ : دونوں حضرات کے مزار فائض الانوار قرافہ میں یکجا ہیں علماء فرماتے ہیں ان دونوں مزار کے بیچ میں دعا قبو ل ہوتی ہے ۱۲ منہ حفظ ربہ
کو مسجد وغیرہ بنانا درست ہوا کیونکہ گھرکے لیے ان چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔
مگر آپ نے ضرور ہوشیاری برتی اولا جانتے تھے کہ کتب معتمدہ مذہب مشہورہ متداولہ میں اسے صراحۃ ردکیا اور اس کے خلاف پر بشد ومدفتوی دیا ہے تنویر الابصار و درمختار میں ہے :
ولوخرب ماحولہ استغنی عنہ یبقی مسجدا عند الامام والثانی ابدا الی قیام الساعۃ وبہ یفتی ۔
او راگر اس کااردگرد ویران ہوگیا اور اس کی ضرورت نہ رہی تو مسجد باقی رہے گی امام صاحب او رامام ثانی (امام ابویوسف) کے نزدیك ہمیشہ قیامت تك اور اسی پر فتوی ہے
حاوی القدسی وبحرالرائق وردالمحتار میں ہے :
واکثرالمشائخ علیہ مجتبی وھو الاوجہ فتح ۔ اھ
اسی پر اکثر مشائخ ہیں مجتبی اوریہی اوجہ ہے۔ فتح (ت)
ثانیا یہ قول امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ جسے علامہ عینی نے اصحابنا کی طرف نسبت کیا خاص اسی حالت میں ہے جب وہ شے موقوف اس غرض کی صلاحیت سے بالکل خارج ہوجائے جس کے لیے واقف نے وقف کی تھی اصلا کسی طرح اس کے قابل نہ رہے۔ ردالمحتار میں ہے :
ذکر فی الفتح مامعناہ انہ یتفرع علی الخلاف المذکور مااذا انھدم الوقف ولیس لہ من الغلۃ مایعمربہ فیرجع الی البانی اوورثتہ عند محمد خلا فا لابی یوسف لکن عند محمد انما یعود الی ملکہ ماخرج عن الانتفاع المقصود للواقف بالکلیۃ ۔
فتح میں ذکر کیا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خلاف مذکور پر یہ متفرع ہوتاہے کہ جب وقف عمارت منہدم ہوجائے اور اس کی آمدنی نہ ہو جس سے اسے تعمیر کیا جائے تو وہ بنانے والے یا اس کے ورثاء کی طرف لوٹ جائے گا امام محمد کے نزدیك اس میں ابویوسف کے خلاف ہے۔ لیکن محمد کے نزدیك اس کی ملك میں صرف وہی لوٹے گا جس سے بالکل نفع ممکن نہ ہو۔
یہ بات مقبرہ مذکور میں کیونکر متصور ہوکہ ہنوز تہائی میدان حسب بیان سائل بالکل خالی پڑا ہے
ثالثا شاید یہ بھی کچھ اندیشہ گزرا کہ ا س مقبرے کے ساتھ مسجد کی بھی خیر نہیں مباداعوام بھڑك جائیں ان وجوہ سے ذکر اصحابنا چھوڑ کر قال ابن القاسم کایہ سرا پکڑا مگر غافل کہ جن تین اندیشوں سے
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷۹
ردالمحتار کتاب الوقف مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۰۶
ردالمحتار کتاب الوقف مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۰۶
اول تو وجہ سابع میں دیکھ چکے کہ خلاف مفتی بہ ہونا درکنار وہ دوسرے مذہب کا کوئی قول ضعیف بھی نہیں۔
اور ثانی یو ں کہ کلام ابن القاسم میں عفت ودرست ہے۔ عفاء دروس نیست ونابود وناپید وبے نشان ہوناہے یہ اس مقبرے پرکہاں صادق کہ سائل کہتا ہے پرانی شکستہ قبریں پائی جاتی ہیں تو ابھی نیست ونابود و ناپید نہ ہوا اور اس روایت خارجہ نے بھی آپ کو کام نہ دیا۔ او رثالث یوں کہ جب ان کی رائے میں مجرد وقفیت موجب اتحاد معنی وجواز اقامت بجائے یك دگر ہے تو جیسے مقبرے کو مسجد کرنا روا یوں ہی مسجد کومقبرہ ۔ یوں مسجد کو سراء اور سرائے کو بیت الخلا فان الکل وقف من اوقاف المسلمین لا یجوز تملیکہ لاحد فمعنی الکل علی ھذا واحد( کیونکہ یہ سب مسلمانوں کے اوقاف میں سے وقف کی صورتیں ہیں توکسی کو اس کا مالك بناناجائز نہیں اس اعتبار سے سب کامعنی ایك ہے ) پھر مفرکدھر!تاسعا ذرابراہ مہربانی تھوڑی دیر کو ہوش میں آکر فرمائے کہ ابن القاسم نے کہا مقبرے کو بعد بے نشانی مسجد کردینا روا او رابولقاسم محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : مقابر پر مسجد بنانا حرام آپ کے نزدیك یہ دونوں حکم حالت واحد پر وارد جب تو آپ کاایمان ہے کہ ابن القاسم کی بات کو حق جانیں اور ابوالقاسم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد نہ مانیں اور اگرحالت مختلف ہے تو پہلے وہ فرق معین کیجئے جس پر ان دونوں احکام کا انقسام ہوگا کیا فقط نو کہن کا تفرقہ ہے کہ نئی قبروں پر مسجدبنانا حرام اور جہاں ذرا پرانی پڑیں اب ان پر نمازا جائز ہوگی یا فقط اوپر کا نشان مٹ جا ناچاہئے یا یہ ضرور ہے کہ لاشوں کے تمام اجزا ساری ہڈیاں بالکل خاك ہوجائیں مردے بجمیع اجزاء تراب خالص کی طرف استحالہ کریں اس کے بعد روا ہے۔
اول توبداہۃ بالکل اور شاید بعلت وہابیت آپ کے یہاں تو شرك ہو اور ثانی بھی اسی کی مثل ہو کہ نشان بالانہ قبر ہے نہ قبر کے لیے رکن شرط تو اس کا عدم و وجود یکساں معہذا اس مقبرے میں یہ صورت بھی ہنوز متحقق نہ ہوئی کہ نشان قبر موجود ہیں اور آپ کا حکم بے تخصیص ثلث خالی صاف مطلق ہے کہ “ مدرسہ وقفی بنانا گورستان میں درست ہے “ اور آپ کے مقلد نے اس اطلاق کی صریح تصریح کردی ہے کہ “ بناء مدرسہ اس جگہ میں خصوصا حصہ خالی میں درست ہے۔ “ اس خصوص نے عموم کو واضح کردیا لاجرم ثالث لیجئے گا اب یہ آپ پر لازم تھا کہ دلیل شرعی سے اس مدت کی تعیین کرتے جس میں مردے کی ہڈی پسلی کا اصلا نام ونشان نہیں رہتا۔ سب سے پچھلی جومیت دفن ہوئی اسے اتنی مدت گزر چکی ان دو مرحلوں کو بغیر طے کئے حکم جواز لگا دینا محض جہل تھا اتنا یاد رکھئے کہ مجرد شك یہاں کام نہ دے گاکہ “ الیقین لا یزول بالشک “ (شك سے یقین زائل نہیں ہوتا ۔ ) عقل ونقل کاقاعدہ اجماعیہ ہے وجود مانع یعنی بعض اجزائے اموات پر یقین نہ ہو حکم حرمت وممانعت ہی رہے گا اور آپ کے لیت ولعل سے کام نہ چلے گا
عاشرا لطف یہ ہے کہ اس روایت خارجہ میں شرط استغناء عن الدفن لگائی گئی ہے۔ آیا اس سے یہ مراد کہ اس کے سوادوسری جگہ دفن ہوسکتاہو جب تو یہ شرط محض لغو وعبث ہے وہ کون سا گورستان ہے جس کی طرف احتیاج دفن بمعنی لولاہ لامتنع (ا گر وہ نہ ہو تو منع ہے ۔ ت) ہے ۔ نہ ہر گز تعطل و ویرانی اوقاف میں صرف اس قدرملحوظ ہوتا ہے کہ یہاں مطمح النظر دو امر رہتے ہیں ایك عدم محتاجین یعنی وہاں آبادی نہ رہی لوگ متفرق ہوگئے اب حاجت کسے ہو جیسے جواب دوم میں علمگیری ومحیط سے دربارہ مسجد وحوض گزر ا کہ خرب ولایحتاج الیہ لتفرق الناس ( جو ویران ہوجائے لوگوں کے وہاں سے چلے جانے کی وجہ سے اس کی احتیاجی نہ رہے ۔ ت) دوسرے عدم حاجت بوجہ عدم صلوح یعنی وہ شے کسی مانع وقصور ونقص کے سبب اب اس کام کی نہ رہی مثلا زمین پر پانی نے غلبہ کیا کہ دفن کی گنجائش نہ رہی فتاوی کبری وجامع المضمرات وہندیہ واسعاف وغیرہا میں ہے :
امرأۃ جعلت قطعۃ ارض لھا مقبرۃ واخرجتھا من یدھا ودفنت فیھا ابنھا وتلك القطعۃ لاتصلح المقبرۃ لغلبۃ الماء عندھا فیصیبھا فساد فارادت بیعھا ان کانت الارض بحال لایرغب الناس عن دفن الموتی لقلۃ الفساد لیس لھا البیع وان کانت یرغب الناس عن دفن الموتی لکثرۃ الفساد فلھا البیع ۔
ایك عورت نے اپنی زمین کے ایك ٹکڑے کو قبرستان بنادیا اور اسے اپنے ہاتھ سے نکالا او راس میں اس اپنے بیٹے کو دفن کردیامگر یہ ٹکڑا غلبہ پانی کی وجہ سے قبرستان کے لیے درست نہ رہا تو اس نے اسے بیچنے کا ارادہ کیا اگر زمین ایسی ہے کہ لوگ اس میں اپنے مردوں کو دفن کرنے سے پہلو تہی نہیں کرتے ہیں کیونکہ فساد زائد نہ تھا تو وہ عورت اس ٹکڑے کو بیچ نہیں سکتی او راگر لوگ اس میں زیادہ خرابی کی وجہ سے مردے دفن نہیں کرتے ہیں تو وہ عورت بیچ سکتی ہے۔
پر ظاہر کہ صور ت مستفسرہ میں ہرگز نہ عدم محتاجین ہے نہ عدم صلوح پھر شرط استغناء کب متحقق ہوئی اور تغیر وقف کی اجازت کس گھر سے ملی تو روشن ہواکہ مجیب سوم کا اس روایت خارجہ سے تمسك محض تشبث الغریق بالحشیش( ڈوبتے کوتنکے کا سہارا ۔ ت) تھا۔ ولاحول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی بالتوفیق۔
تنبیہ : یہ مجیب سوم پر تلك عشرۃ کاملۃ ہیں اور ان کارد ان کے سب اتباع واذناب کے رو سے مغنی
وکل الصید فی جوف الفراء
(یہ عرب کا قول بطور مثل اس وقت بولا جاتا ہے جب بہت سی حاجتوں میں سے بڑی حاجت پوری ہوجائے)
صاحبو ! اس سے مقصود زمین مملوك یعنی اگر کسی کی ملك میں کوئی میت دفن کردی گئی ہو تو جب وہ بالکل خاك ہوجائے مالك کو رواہے کہ وہاں کھیتی کرے گھر بنائے جو چاہے کرے
لان الملك مطلق والمانع زال وھذا ایضا اذاکان ذلك باذنہ والاففی الغصب لہ اخراج المیت وتسویۃ الارض کما ھی لحدیث لیس لعرق ظالم حق ۔
کیونکہ ملك مطلق ہے او رمانع زائل ہوگیا اوریہ بھی اس صورت میں ہے جبکہ اس کی اجازت سے ہو ورنہ غصب کی صورت میں اسے حق ہے کہ میت کو نکالے او ر زمین برابر کرے جیسے کہ تھی کیونکہ حدیث میں ہے کہ زمین پر ظالم کاحق نہیں۔
علامہ مدقق علائی قدس سرہ نے درمختار میں اسے ایسے نفیس سلسلے میں منسلك کیا جس نے معنی مرادی کو کھول دیا مجیب اول نے یہ روایت وہیں سے اخدکی مگر علامہ مدقق کے اشارات تك ہر فہم کی دسترس کہاں !در مختار میں فرمایا :
لایخرج منہ بعد اھالۃ التراب الالحق ادمی کان تکون الارض مغصوبۃ اواخذت بشفعۃ ویخیر المالك بین اخراجہ و مساواتہ بالارض کما جاز زرعہ والبناء علیہ اذا بلی وصار ترابا زیلعی ۔
مردے کو مٹی ڈالنے کے بعد صرف حقوق العباد کی وجہ سے نکالا جائیگا جیسے زمین مغصوبہ ہو یا شفعہ سے لی گئی ہو اور مالك کو اختیار ہوگا کہ اسے نکالے یا زمین برابر کردے جیسے کہ اس پر عمارت بنانا او رکھیتی باڑی کرنا مردوں کے گلنے سڑنے اور مٹی ہوجانے کے بعد درست ہے زیلعی (ورنہ مقبرہ وقفی میں کھیتی کرنا کسی کے نزدیك جائز نہیں )
ہدایہ میں ہے :
درمختار باب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۲۶
یہ بات انتہائی قبیح ہے کہ ایك سال ا س میں مردے دفن کیے جائیں اور ایك سال کھیتی باڑی کی جائے ۔ (ت)
بات یہ ہے کہ وہابیہ کی نگاہ میں قبور مسلمین بلکہ خاص مزارات اولیائے کرام علیہم الرضوان ہی کی کچھ قدر نہیں بلکہ حتی الوسع ان کی توہین چاہتے ہیں اور جس حیلے سے قابو چلے انھیں نیست ونابود وپامال کرانے کی فکر میں رہتے ہیں ان کے نزدیك انسان مرا اور پتھر ہوا جیسے وہ خود اپنی حیات میں ہیں کہ مالا یسمع ولایبصر ولایغنی عنك شیئا ( جو سنے نہ دیکھے او رنہ تیرے کچھ کام آئے ت)حالانکہ شرع مطہر میں مزارات اولیاء تو مزارات عالیہ عام قبور مسلمین مستحق تکریم وممتنع التوہین یہاں تك کہ علماء فرماتے ہیں : “ قبر پر پاؤں رکھناگناہ ہے کہ سقف قبر بھی حق میت ہے۔ “ قنیہ میں امام علائے ترجمانی سے ہے :
یاثم بوطء القبور لان سقف القبر حق المیت ۔
قبر پر پاؤں رکھنا گناہ ہے کہ سقف قبربھی حق میت ہے ۔
حتی کہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جن کی نعلین پاك کی خاك اگر مسلمان کی قبر پر پڑ جائے تو تمام قبر جنت کے مشک عنبر سے مہك اٹھے اگر مسلمان کے سینے او رمنہ اور سر اور آنکھوں پر اپنا قدم اکرم رکھیں اس کی لذت و نعمت وراحت وبرکت میں ابدالآ باد تك سرشار وسرفراز رہے۔ وہ فرماتے ہیں :
لان امشی علی جمرۃ اوسیف احب الی من ان امشی علی قبر مسلم ۔ رواہ ابن ماجۃ بسند جید عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ۔
بے شك چنگاری یا تلوار پرچلنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں اسے ابن ماجہ نے سند جید کے ساتھ عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
او ر وہابیہ کو اس کی فکر ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو قبروں پر مکان بنیں لوگ چلیں پھریں قضائے حاجت کریں بھنگی اپنے ٹوکرے لے چلیں
اگر ایں ست پسند تونصیب بادا
( اگر یہی تجھے پسند ہے تو تجھے تصیب ہو ۔ ت)
فتاوٰی قنیہ کتاب الکراھیۃ والاستحسان مکتبہ مشتہرہ بالمہانندیہ کلکتہ بھارت ص ۱۶۷
سنن ابن ماجۃ باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۳
طاقت وقوت صرف اﷲ تعالی کے لیے ہے جب میں نے مسئلہ کما حقہ بیان کردیا تواب چاہئے اﷲ تعالی کی حمد کرتے ہوئے قلم کو روکیں کہ اسی نے علم دیا اور درود و سلام ہو ہمارے آقا ومولاحضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پرا ور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم عز شانہ احکم(ت)
تمت
کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا خاں البریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم
محمدی سنی حنفی قادری عبدالمصطفے احمد رضاخاں(۱۳۰۱ھ)
ان ھذا لھو الحق والحق بالاتباع احق۔ ( بے شك حق یہی ہے اور حق ہی اتباع کے زیادہ لائق ہے ۔ ت) (محمد سلطان)
اس میں جو کچھ بیان ہے سب مطابق احکام شریعت وسلف صالحین ہے مسلمان ان سب کو تمسك کریں مؤلف علام کو خدائے برتر جزائے خیر دے او رمقبول خاص وعام کرے اور مجھ کو بھی ثواب سے محروم نہ فرمائے والصلوۃ والسلام علی خیر الانام وآلہ واصحابہ الکرام۔ المذنب المدعو محمد عبداﷲ عفی عنہ
مسائل بالا کہ علمائے دین متین وفضلائے امت (رسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) تحریر وتقریر فرموند ہمہ حق و راست ودرست اند۔ شاکی اینہا مردود وفاسق اند۔
اوپر والے مسائل جن کو علمائے دین متین وفضلائے امت رسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لکھا ہے اور بیان کیا سب کے سب درست اور صحیح ہیں ان میں شك کرنیوالے مردود اور فاسق ہیں (ت)
العبد الضعیف الراجی الی رحمۃ اللطیف محمد نعیم پشاوری عفی اﷲ عنہ وعن والدیہ والمومنین والمومنات آمین ثم آمین۔
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد ﷲ الذی رزق الانسان علما وسمعا وبصرافی الحیات وبعد الممات فالموتی یعرفون الزوار و یسمعون الاصوات والصلوۃ والسلام الاتمام الاکملان علی من ھدانی الی الصراط المستقیم وقانا بہا من نارالجحیم التی اعدت للکفرین والماردین من النیا شرۃ
سب تعریفیں اس اﷲ تعالی کے لیے ہیں جس نے انسان کو زندگی اوربعد از موت جاننے سننے او ردیکھنے کی قوت بخشی اتم واکمل درود وسلام ہو اس ذات پر جس نے ہمیں سیدھی راہ دکھائی او رہمیں نار جہنم جو کافروں سرکشوں رب العالمین کو جھٹلانے والوں شیطان لعین کو اولین وآخرین کے علم پر فضیلت
دینے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے سے بچایا درود وسلام ہو آپ پر اور آپ کے آل اصحاب بیٹے گروہ سب پر اور ان کے وسیلہ سے ہم پر یا ارحم الراحمین بعد ازیں جب میں نے دین متین کے ناصر مولنا مولوی محمد عمردین کے جواب کو غور سے دیکھا تو اسے سنت کے موافق اور فتنہ سے مدافع پایا او رمولوی رشید احمد گنگوہی کی تحریر پر نظر کی تو اسے گمراہ کن اور توہین مومنین سے مملوپایا اور خاتم المحققین عمدۃ المدققین عالم اہل سنت مجدد مأتہ حاضرہ میرے سردار ۔ یرے مرشد م میرے کل اور آج کے لیے ذخیرہ وخزانہ مولنا احمد رضاخاں ( اﷲ تعالی اس کی عطاؤں اورفیض کو ہمیشہ جاری رکھے) نے جو اس پر ردفرمایا میرے پاس ایسی زبان نہیں کہ اس کی تعریف کرسکوں ہاں ا تنا ضرور کہوں گا کہ بے شك وہ صاف سچ او رخالص حق ہے اﷲ تعالی سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے طفیل اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے انھیں جزائے خیر عطا فرمائے اﷲ تعالی بہتر جانتا ہے اوراصل کتاب اسی کے پاس ہے۔ محمد ظفر الدین محمدی سنی حنفی قادری برکاتی رضوی مجددی بہاروی عظیم آبادی نے اسے بزبان خو دکہا ہے او راپنے قلم سے لکھا ہے ۔ (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ارضی مذبح جس پر دکاندار لوگ خوانچہ لگا کر بیٹھ جاتے ہیں بذریعہ ٹھیکہ مالك تھا اور دکاندار وں پر دو دو چار چار پیشے روزانہ کے حساب سے مقرر کر لیے تھے بعد چند روزکے اندورن میعاد ٹھیکہ زید سے عمرو نے ٹھیکہ لگایا اور دکانداروں پر اول سے زیادہ کرایہ مقرر کرلیا مگر دکاندار لوگ کرایہ زیادہ حسب منشاء عمرو کو نہ دے سکے اور مجبور ہو کر اراضی تکیہ جو متصل مذبح کے ہے حسب رضامندی فقیر جابیٹھے اور فقیر کو دو پیسے روز ہر دکان دار دینے لگا عمر و کو یہ بات ناپسند خاطرہوئی او ردینی برادروں قصابان سے اپنا عذر کیا چنانچہ عمرو ٹھیکیدار ونیز اکثر برادران عمرو کہ جو وہاں کی اشیاء کے خریدار بھی ہیں باتفاق سب نے فقیر پر دباؤ ڈالا او رکہا کہ منجملہ دو پیسے کے ڈیڑھ پیسہ عمرو کو اور نصف فقیر کو ہر دکاندار دے ایسی صورت میں عمرو کو ڈیڑھ پیسہ لینا کہ جو عمرو کی زمین سے کسی دکاندرا کو کچھ تعلق نہیں ہے چاہئے یا نہیں دوم تکیہ کی اراضی میں دکاندار وں کو خوانچہ لگاکر بیٹھنا اور کرایہ فقیر کو دینا اور فقیر کو لینا جائز ہے یا نا جائز ہے بینوا توجروا
الجواب :
دونوں باتیں حرام ہیں نہ تکیہ کی زمین دکان داروں کو کرایہ پر دی جاسکتی ہے نہ ان کا کرایہ فقیر کو حلال ہوسکتاہے اور اگر فقیر کی اپنی مملوك کوئی زمین ہوتی تو اس پر دباؤ ڈال کر کوئی کوڑی عمرو کو دلوانا قطعا حرام تھا تو یہ حرام در حرام ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۰ تا ۱۴۵ : از شیرکوٹ مسئولہ مظہر الحسن صاحب ۹ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) ازروئے شریعت اسلام قبرستان کی بیع ورہن وغیرہ جائز ہے یا نہیں
(۲) قبرستان کی زمین کسی کی ذاتی ملکیت ہوسکتی ہے یا نہیں اور مخصوص قبرستان بنانا کیسا ہے اور اسی کی نسبت کیا احکام شرعی ہیں
(۳) قبروں کو منہدم یا مسمار کرکے اس میں کھیتی وغیرہ کرنا کیسا ہے اور اگر کوئی شخص مسلمان ہوکر ایسا کرے تو اس کے لیے شرعا کیا حکم ہے
(۴) قبروں کو منہدم یا ویران کرتے یاکھودتے ہوئے دیکھ کر کوئی مسلمان ایسا کرنے والے کو روکنے کا شرعا مجاز ہے یانہیں
(۵) قبرستان میں یا اس کی متعلقہ زمین میں بول وبراز گندگی وغیرہ پھینکنا یا قبرستان کو گندگی کا مخزن
(۶) مسلمانوں پر قبرستان کی حرمت کس حدتك واجب ہے
الجواب :
( ۱ و۲) عامہ قبرستان وقف ہوتے ہیں اور وقف کی بیع حرام و رہن حرام ہے اور جو خاص قبرستان کسی کی ملك ہوجس میں اس نے مردے دفن کیے ہوں مگر اس کام کے لیے وقف نہ کیا ہو کہ وہ بھی مواضع قبور کو نہ بیچ سکتا ہے نہ رہن کرسکتا ہے کہ اس میں توہین اموات مسلمین ہے اور ان کی توہین حرام ہے۔
(۳) حرام ہے مگر یہ کہ کسی کی مملوك زمین میں بےاس کی اجازت کے کسی نے مردہ دفن کردیا ہواور اس نے اسے جائز نہ رکھا تو اسے اس کے نکلوادینے اور اپنی زمین خالی کر لینے اور کھیتی وعمارت ہر شے کا اختیار ہے۔
(۴) جو شخص ایسے جرم شدید کامرتکب ہو ہر مسلمان پرواجب ہے کہ بقدر قدرت اسے روکے جو اس میں پہلو تہی کرے گا اسے فاسق کی طرح عذاب نار ہوگا۔
قال تعالی كانوا لا یتناهون عن منكر فعلوه-لبئس ما كانوا یفعلون(۷۹) ۔
اﷲ تعالی فرماتا ہے : وہ ایك دوسرے کو برے کام سے روکتے نہ تھے وہ سب کیا ہی برا کام کرتے تھے (ت)
(۵) حرام حرام سخت حرام ہے اور اس کا مرتکب مستحق عذاب نار وغضب جبار ہے۔
(۶) قبور مسلمین پر چلنا جائز نہیں بیٹھنا جائز نہیں ان پر پاؤں رکھنا جائز نہیں یہاں تك کہ ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ قبرستان میں جو نیا راستہ پیدا ہو اس میں چلنا حرام ہے۔ اور جن کے اقربا ایسی جگہ دفن ہوں کہ ان کے گرد اور قبریں ہوگئیں اور اسے ان قبور تك اور قبروں پر پاؤ ں رکھے بغیر جانا ممکن نہ ہو دور ہی سے فاتحہ پڑھے اور پاس نہ جائے زیادہ تفصیل ہمارے رسالہ اھلاك الوھابیین میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۶ : از سکندر پور ضلع بلیا پاٹی گلی مسئولہ محمد حسین وعطا حسین ۲۲ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زینب نے اپنے نواسہ بکر کو اپنی زمینداری ہبہ کی او رلکھ دیا کہ توابع لواحق اس کے جو کچھ ہے ہبہ کردیا۔ بکر نے عمرو کے ہاتھ اس زمینداری کو مع جملہ حقوق توابع لواحق بیع کردیا اور اس کے اندر قبرگاہ واہبہ کا بھی ہے توا س کے اندر عمرو مشتری کی قبر بناناجائز ہے یا نہیں یا اس قبر گاہ پر متصرف ہونا مشتری عمرو کا درختان انبہ وغیرہ کا پھل کھانا یالکڑی لینا جائز ہے یا نہیں اور وہ قبر گاہ بغیر دیوار بے مرمت اور خراب ہو تو عمرو بنواسکتا ہے یا نہیں بینوا توجروا
ہبہ وبیع سے قبرستان وقف مستثنی ہیں۔ مشتری کی قبربھی اس میں بن سکتی ہے۔ واہبہ وغیرہ کی قبر کی مرمت بھی وہ کرسکتا ہے۔ جو درخت اس میں ہیں وہ مشتری کی ملك ہیں جو چاہے کرے قبرستان اگرچہ وقف ہو اس کے درخت وقف نہیں کما بینہ فی الھندیۃ وغیرھا ( جیساکہ ہندیہ وغیرہا میں بیان کیاگیا ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۷ : از کلکتہ زکریا اسٹریٹ نمبر ۲۲ مسئولہ مولوی عبدالحق صاحب ومولوی مبارك کریم صاحب بمعرفت حاجی لعل خاں صاحب ۲۶ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس مرید خاص نے مزار کچھ زمین ومکانات اپنے خرچ اور آفس ومال گودام کے لیے نیز اس لیے کہ زائرین قیام کریں اور مجالس اس میں قائم ہوں تیار رکھتے تھے نہ وہ زمیں ومکانات وقف کئے نہ کبھی حالت حیات شیخ نے نامزد کئے نہ بعد وفات شیخ بنام مقبرہ اس نے بہ ضرورت تجارت اس اراضی ومکانات کو مبلغ کثیر پر رہن رکھا ہے۔ اب فرزند شیخ کہتے ہیں کہ یہ سب مکانات وغیرہ ہمارے نام کردو توکیا فرزند شیخ کایہ دعوی صحیح ہوسکتا ہے اور کیا مرید کو اختیار ہے کہ قبل فك رہن اس جائداد کوفرزند شیخ کے نام کردے اور کیا وہ فرزند شیخ اس مرید کی جائداد بجبر واکراہ اپنے نام کروا کرسکتا ہے۔ آیا شریعت میں مرید پر کچھ استحقاق مال شیخ یا وارثان شیخ کا ہے
جواب از لکھنؤ : ھوالمصوب صورت مذکورہ میں زمین ومکانات وانتظام مقبرہ پر دعوی فرزند شیخ کا باطل ہے مرید پر مال استحقاق شیخ کا یا وارثان شیخ کا شرعا نہیں ہے اور مرید جائداد مرہون بغیرفك رہن کسی شخص کودے نہیں سکتا نہ فرزند شیخ مرید پر کوئی جبر کرسکتا ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔ محمد عبدالمجید
الجواب :
فرزند شیخ کا دعوی باطل اور اسے جبر کاکوئی اختیار نہیں۔
قال تعالی لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل الا ان تكون تجارة عن تراض منكم-۔
باری تعالی ارشادفرماتا ہے : اپنے مال آپس میں ناحق نہ کھاؤ مگر یہ تمھاری باہمی رضامندی سے کوئی سودا ہو ۔ (ت)
زمین ومکانات ومقبرہ سب ملك مرید ہیں اس کے ورثاء کے قبضے میں رہیں گے مرید پر شیخ کا مال استحقاق بمعنی وجوب شرعی بحیثیت شیخیت نہیں اگرچہ طریقۃ وہ اور اس کا مال سب گویا ا س کے شیخ کا ہے یا شریعۃ بوجوہ
مسئلہ ۱۴۸ : ا ز جوناگڑھ کا ٹھیا واڑ سرکل مدار المہام مرسلہ مولوی امیر الدین صاحب ۱۰ ذی قعدہ ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی بزرگ کے مزار پرلوبان جلانا شرع شریف میں کیا حکم رکھتا ہے اور جو شخص جلانے والے کو فاسق اور بدعتی کہے اس کا کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
عود لوبان وغیرہ کوئی چیز نفس قبر پر رکھ کرجلانے سے احتراز چاہئے اگر چہ کسی برتن میں ہو لما فیہ من التفاؤل القبیح بطلوع الدخان علی القبر والعیاذ باﷲ ( کیونکہ اس میں قبر کے اوپر سے دھواں نکلنے کا برا فال پایا جاتاہے اورخدا کی پناہ ۔ ت) صحیح مسلم شریف میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی :
انہ قال لابنہ وھو فی سیاق الموت اذاانامت فلا تصحبنی نائحۃ ولانارا الحدیث۔
انھوں نے دم مرگ اپنے فرزند سے فرمایا جب میں مرجاؤں تو میرے ساتھ نہ کوئی نوحہ کرنے والی جائے نہ آگ جائے ۔ الحدیث (ت)
شرح المشکوۃ للامام ابن حجر المکی میں ہے : لانھا من التفاؤل القبیح ( کیونکہ آگ میں فال بد ہے ت) مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے : انھا سبب للتفاؤل القبیح ( یہ فال بدکاسبب ہے ۔ ت) اورقریب قبر سلگا کر اگر وہاں کچھ لوگ بیٹھے ہوں نہ کوئی تالی یا ذاکر ہو بلکہ صرف قبر کے لیے جلا کر چلاآئے تو ظاہر منع ہے کہ اسراف و اضاعت مال ہے۔ میت صالح اس غرفے کے سبب جو اس کی قبر میں جنت سے کھولا جاتاہے او ربہشتی نسیمیں بہشتی پھولوں کی خوشبوئیں لاتی ہیں دنیا کے اگر لوبان سے غنی اور معاذاﷲ جو دوسری حالت میں ہو اسے اس سے انتفاع نہیں۔ تو جب تك سند مقبول سے نفع معقول نہ ثابت ہو سبیل احتراز ہے۔
ولایقاس علی الورد والریا حین المصرح باستحبابہ فی غیر ماکتاب کما اوردناعلیہ
اس کا قیاس پھولوں پر نہیں ہوسکتا جن کے مستحب ہونے کی صراحت متعدد کتابوں میں موجود ہے جیساکہ
مرقاۃ بحوالہ امام ابن حجر مکی کتاب الجنائز مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۱۹۶
مرقاۃ شرح مشکوٰ ، ۃ کتاب الجنائز مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۱۹۶
ا س پر کثیر تصریحا ت ہم نے اپنی کتاب حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات میں نقل کی ہیں اس لیے حسب تصریح علماء ان کے استحباب کی علت یہ ہے کہ وہ پھول جب تك تر رہیں گے اﷲ تعالی کی تسبیح کرتے اور میت کا دل بہلاتے رہیں گے__ خوشبودار ہونا علت نہیں (ت)
اوراگر بغرض حاضرین وقت فاتحہ خوانی یا تلاوت قرآن مجید وذکر الہی سلگائیں تو بہتر ومستحسن ہے۔
وقد عھد تعظیم التلاوۃ والذکر وتطییب مجالس المسلمین بہ قدیما وحدیثا۔
اور تلاوت وذکر کی تعظیم اور اس سے مسلمانو ں کی مجلسوں میں خوشبو پھیلانا زمانہ قدیم وجدید میں متعارف ہے (ت)
جو اسے فسق وبدعت کہے محض جاہلانہ جرأت کرتا ہے یا اصول مردود وہابیت پر مرتاہے۔ بہر حال یہ شرع مطہرپر افترا ہے اس کا جواب انھیں دو آیتوں کا پڑھنا ہے :
قل هاتوا برهانكم ان كنتم صدقین(۱۱۱)
قل ﰰ لله اذن لكم ام على الله تفترون(۵۹) واﷲ تعالی اعلم
تم کہو اپنی دلیل لاؤ اگر سچے ہو___ تم کہو کیا خدا نے تمھیں اذن دیا ہے یا اﷲپر افترا کرتے ہو۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
القرآن ۱۰ / ۵۹
مسئلہ ۱۴۹ : از لکھنؤ محلسرا ڈاکخانہ چوك مرسلہ مولوی محمد احمد صاحب علوی خلف مولوی حبیب علی صاحب مرحوم ۸ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مزارات اولیاء اﷲ پر روشنی کرنا جائز ہے یانہیں زید کہتا ہے کہ روشنی مزارات اولیاء اﷲ پرناجائز ہے کیونکہ اس میں تعبد منظور ہوتاہے چنانچہ زید کی تحریر بجنسہ ذیل میں نقل کی جاتی ہے آیا مسلك زید کا نزدیك علمائے دین ومفتیان شرع متین قابل قبول وعمل ہے
یا نہیں
نقل تحریر زید یہ ہے :
میں بقسم شرعیہ اس کو باور کراتا ہوں کہ میں نے کوشش کی کہ چراغان قبور کا کسی تاویل سے استحسان ثابت ہو جائے تومیں رسم قدیم کی مخالفت نہ کروں چنانچہ فتاوی عالمگیری کو دیکھا اس میں نکلا کہ اخراج الشموع الی المقابر بدعۃ لااصل لہ( مزارات پر چراغان کرنا بدعت ہے اس کی کوئی اصل نہیں ۔ ت) اسی طرح
لعن رسول اﷲ زائرات القبوروالمتخذین علیھا المساجد والسرج ۔ رواہ الترمذی والنسائی۔
لعنت کی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے زائرات قبور پر اورجو پکڑیں قبروں پر مسجدیں ( یعنی قبروں کی طرف سجدہ کریں) اور قبروں پر چراغ روشن کریں۔ اسے ترمذی اور نسائی نے روایت کیا۔
اس کے بعد میں نے حضرت شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی برادر شاہ عبدالعزیز صاحب ختم المحدثین کے فتوے مطبوعہ مطبع مجتبائی ص ۱۴ کو دیکھا اس میں لکھاہے :
پس امداد بدعاء وختم واطعام بدعتے مباح است (یعنی درعرس سالانہ بزرگان دین اگر صلحائے وقت جمع شدہ قرآن شریف خوانند وخیرات کردہ ثواب رسانند مضائقہ ندارد ایں رابدعت مباح بایدگفت) وجہ قبح ندارد ۔ اما ارتکاب محرمات از روشن کردن چراغ ہا وملبوس ساختن قبور وسرودہا نواختن معازف بدعات شنیعہ اند حضور چنیں مجالس ممنوع اگر مقدور باشد محل حدیث من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ وان لم یستطع فبلسانہ وان لم یستطع فبقلبہ وذلك اضعف الایمان عمل باید کرد از مقام زجر پراگندہ کردن اسباب بدعت کافی ۔
دعا ختم قرآن اور کھانا کھلانے کے ذریعے مدد کرنا ایك جائز بدعت ہے( یعنی بزرگان دین کے سالانہ عرس میں اگر اس زمانے کے نیك لوگ جمع ہو کر قرآن شریف پڑھیں اور خیرات کرکے ثواب پہنچائیں تو کوئی مضائقہ نہیں اسے بدعت مباحہ کہا جاسکتا ہے) قبیح ہونے کی کوئی وجہ نہیں لیکن حرام باتوں کا ارتکاب جیسے چراغ روشن کرنا قبروں کو ملبوس کرنا گانے باجے بجانا شنیع بدعتیں ہیں ایسی مجلسوں میں شرکت منع ہے اگر قدرت ہو تو حدیث پاک “ جو تم میں کوئی برائی دیکھے تو اپنے ہاتھ سے روك دے یہ نہ ہوسکے تو زبان سے یہ بھی نہ ہوسکے تودل سے برا جانے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے “ پر عمل کرنا چاہئے زجر کی جگہ اسباب بدعت کو منتشر کردینا کافی ہے (ت)
الجامع للترمذی ابواب الفتن نور محمد اصح المطابع کراچی ص ۳۱۶
فتاوٰی شاہ رفیع الدین
“ چراغاں کردن بدعت است پیغمبر خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم برشمع افروزاں نزد قبروسجدہ کنند گان لعنت گفتہ “ ۔ ارشاد الطالبین ص ۱۰
(قبور پر) چراغاں کرنا بدعت ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قبرکے نزدیك چراغاں کرنے اور سجدہ کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ (ت)
خلاصہ یہ کہ چراغاں جو بغرض خاص تقرب کیا جاتا ہے یابغرض زینت۔ یہاں تك کہ بعض لوگ منت مانتے ہیں اور اس کا ایفاء کرتے ہیں اور اہل اﷲ کے مزار پر کرتے ہیں معمولی آدمی کی قبر پر نہیں کرتے ہیں ا س طرح جب کتب حدیث و فقہ وتحریرات علماء میں نکلا تو میں نے بلاخوف وخطر اس کو ترك کردیا اور جس قدررقم کا تیل آتا تھا وہ میں نے شربت وبرف میں صرف کردیا۔ نظر انصاف سے دیکھا جائے کہ یہ کیا سنگین جرم ہے نمازنہ پڑھے جماعت کا پابند نہ ہو ڈاڑھی منڈائے وہ سب قابل عفو ہے لیکن چراغاں نہ کرنا جس کے لیے اس قدر شدید وعید آئی ہے وہ ایسا جرم ہے کہ فورا وہابیت کا دعوی دے دیا جاتا ہے۔ چونکہ اس کے کہنے والے اکثر جاہل ناخواندہ لوگ تھے میں نے اس کی طرف تو جہ بھی نہیں کی میں نے یہ سمجھاتھا کہ اگر صاحب فتاوی بزازیہ و عالمگیریہ وصاحب مشکوۃ او ر شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی اور قاضی ثناء اﷲ پانی پتی یہ سب وہابی ہیں تو میں الحمد ﷲ وہابی ہوں یہ امر بھی قابل گزارش ہے کہ میں نے مولوی احمد رضاخاں صاحب کو ایك عریضہ بھیجااور اس میں استفتاء چراغان کاکہا اورجواب کے لیے ٹکٹ بھی رکھ دئے لیکن خاں صاحب موصوف نے اس کا جواب نہیں دیا شکل یہ ہے کہ اگر حق جواب لکھا جائے تو پیرزادے ناخوش ہوتے ہیں اگر ناحق لکھا جائے تو قرآن وحدیث وفقہ کے خلاف ہوتا ہے بہت تلاش سے بعض لوگوں کی تحریرات سے ایك آدھ چراغ کا جواز اس طرح سے نکلتا ہے کہ کسی دوسری مصلحت سے چراغ جلایا جائے لیکن چراغاں کا جواز اگر آج بھی کسی مستند عالم کی کتاب سے نکل آئے تو مجھ کوس ا س معاملہ میں کدنہ ہوگی صرف دو امور میں جس کی وجہ سے لوگوں کو خلجان ہوتاہے :
اول یہ کہ پیرزادے اس کوکرتے چلے آئے ہیں مگر پیرزادوں کا فعل ناسخ قول رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نہیں ہے پیرزادگان کچھ معصوم نہیں ہیں صالح ہوں اہل اﷲ ہوں لیکن معصوم نہیں جہاں تك ہزاروں نیك مشائخ زمانہ کرتے ہیں وہاں ایك امر ناجائز بھی کسی مصلحت سے انھوں نے کرلیا خدا تعالی معاف کرنے والا ہے غور سے دیکھا جائے کہ غیر محارم کے سامنے آنا شرعا جائز ہوجائے گا۔
دوسرا امر باعث خلجا ن یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں قبرمبارك پر روشنی ہوتی ہے اس خطرے کو جواب حسب ذیل ہیں :
(۱) تعامل حرمین شریفین کا بعد قرون ثلثہ مشہود لہا بالخیر کے سند نہیں ہے۔
(۳) قبر شریف درحقیقت روپوش ہے آج ہفت اقلیم کا بادشاہ بھی اس کو نہیں دیکھ سکتا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ
خلیفہ ہارون الرشید نے سیڑھی لگا کر دیکھنا چاہا ناکامیاب رہا۔
(۴) مدینہ منورہ میں روشنی منجانب سلطان ٹرکی ہوتی ہے گورنمنٹ ٹرکی نے عثمانیہ بینك قائم کرکے سود کا لین دین شروع کردیا ہے کیا گورنمنٹ کے بھی فعل سے سود جائز ہوسکتا ہے ہرگز نہیں۔
(۵) نزدیك اہلسنت والجماعت کے حجت شرعی صرف چار ہیں : قرآن وحدیث واجماع وقیاس مجتہدین صرف تعامل حرمین کوئی سند نہیں۔
(۶) بڑا حصہ حرمین شریفین کا داڑھی کترواتاہے کیا داڑھی کتروانے کے جواز میں کوئی شخص یہ سند پیش کرسکتا ہے کہ وہاں کے لوگ داڑھی کترواتے ہیں لہذا یہ فعل جائز ہے وہاں کے علماء سے خود فتوی لیا جائے وہ داڑھی کتراتے چراغاں کرنے کو یقینا ناجائز کہیں گے۔
(۷) اب ایك تاویل ضعیف او رایجاد ہوئی ہے کہ متقدمین ومتاخرین کسی کو بھی نہیں سوجھی یعنی قبر پر چراغ جلانے کی ممانعت ہے لیکن قبر کے گرد جلانے میں ممانعت نہیں ہے کیونکہ حدیث شریف میں لفظ علی بمعنی پرواقع ہے اردو میں کیا قبرپر چڑھا واصرف اسی کو کہتے ہیں جو خاص اس جگہ پر کیا جائے جتنے حصہ کو قبر کہتے ہیں بعض قبرکی صورت کوہان شتر کے مانند ہوتی ہے اس پر چڑھا واغالبا ممکن بھی نہ ہوگا لیکن قبر پر چڑھا وا تو اتنا وسیع ہے کہ گرد قبر سے بلکہ دروازے کے آس پاس بھی کوئی رکھ دے تو وہ قبر کا چڑھاوا سمجھا جائے گا اور رسول خدا ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) کے فرمانے کی یہ تاویل ضعیف ہے۔ قرآن شریف سورہ کہف میں لنتخذن علیهم مسجدا(۲۱) ( قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے ۔ ت) کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ اصحاب کہف کے سینہ پر سنگ بنیاد مسجد کا رکھیں گے استغفراﷲ ۔ ایك صاحب نے یہ کمال کیا کہ ملاعلی قاری کی نسبت کہہ دیا کہ انھوں نے گر د قبر کے چراغ جلانے کو جائز کہا ہے حالانکہ مرقاۃ شرح مشکوۃ مطبوعہ مصر صفحہ ۴۷ میں حدیث مندرجہ مشکوۃ شریف مذکور بالا کی شرح میں انھوں نے صر ف مسجد کو اطراف قبرمیں بنانے کی اجازت اس بنیاد پر دی ہے کہ عبادت یہود ونصاری یہ تھی کہ وہ قبر پر مسجد بناتے تھے اور چونکہ مشابہت یہود و نصاری کی وجہ سے ممانعت ہوئی تھی لہذاجب مشابہت نہ رہی تویہ فعل جائز ہوگیا۔ لیکن چراغ کی ممانعت کے وجوہ حضرت ملا علی قاری نے
عــــہ : زید کی اصل عبارت میں تتخذون ہے۔
اولا تضییع مال۔
دوم چراغ کا آثار جہنم سے ہونا بوجہ ناریت۔
سوم تعظیم قبور۔
ہر گز ملا قاری نے گرد قبر کے چراغ جلانے کی اجازت نہیں دی ہے یہ ان پر اتہام ہے۔ سمجھنے کی بات ہے کہ جوانھوں نے وجوہ ممانعت لکھے ہیں کیا وہ گرد قبر کے چراغ جلانے سے جاتے رہیں گے جو وہ اجازت دیتے ہیں بقسم شرعی باور کراتاہوں کہ اگر کسی عالم مستند نے چراغاں قبر کے لیے جلانے کو جائز کردیا ہو تو میں پہلا شخص اس تاویل پر عمل کرنے کے لیے تیار ہوں گا سچ یہ ہے کہ مجاوروں نے جن کے لیے قبور ذریعہ معاش ہیں انھوں نے ان باتوں کی ایجاد کی ہے۔ یہ سب بحث چراغ جلانے میں ہیں نہ کہ چراغاں میں جو محض تعبدا یعنی ازراہ تقرب کیا جاتاہے لوگ تیل بتی کی منت مانتے ہیں سال کے سال شب عرس کو کرتے اور اس کو مذہبی فعل سمجھتے ہیں اگر تقرب یعنی تعبد منظور نہیں ہوتا تو لوگ چراغاں بزرگوں کی قبر پر کیوں کرتے ہیں کسی فاسق فاجر کی قبر پر کیوں نہیں کرتے! اس سے ظاہر ہے کہ منشاء چراغاں محض تقرب یعنی تعبد ہے۔ اگر ایسی تاویل جائز سمجھی جائے توکوئی شخص قبر کے نیچے یا قبر کے بیچ چراغ جلائے کیونکہ حدیث میں قبر پر کی ممانعت ہے استغفراﷲ! یہ توحدیث کے ساتھ مضحکہ کرنا ہے۔ اگر اس وعید کے بعد بھی کوئی شخص پھر اس میں خلاف کرے یاکٹ جحتی کرے توا س کا جواب یہ ہے کہ یہ بات قبرمیں تصفیہ کے قابل ہے۔ موسی بدین خود عیسی بدین خود انتہی تحریر زید
اب جوکچھ ازر راہ انصاف وتتبع کتب حضرات اہلسنت والجماعت محقق ہووے اس سے معزز فرمائے اور کیا یہ اقوال زید کے صحیح اور موافق سلف کے ہیں بہ تشریح وتفصیل تام ارشادہو اﷲ تعالی آپ کو جزائے خیر عنایت فرمائے۔
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الجواب :
اللھم لك الحمد سرمدا صل علی سراجك المنیر والہ ابدا یا نور النور یانور قبل کل نور بعد کل نور۔ لك النور وبك النور ومنك النور والیك النور وانت النور ونورۃ النور صل علی
اے اﷲ ! تیرے لیے دائمی حمد ہے۔ اپنے سراج منیر اور ان کی آل پر ہمیشہ رحمت نازل فرما۔ اے نور اے نور کے نور اے ہر نور قبل نور اے نور کے بعد نور تیرے لیے نور ہے تجھ سے نور ہے تیری طرف نور ہے تونور اور نور کانور ہے اپنے نور انوار پر اور ان کی آل پر
جو روشن چراغ ہیں اور ان کے اصحاب پر جو تابناك مصباح ہیں درود نازل فرما ایسا درود جس سے ہمارے چہرے ہمارے سینے ہمارے دل اور ہماری قبریں روشن ہوجائیں الہی قبول فرما ۔ (ت)
امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی بن اسمعیل بن عبد الغنی نابلسی قدسنا اﷲ بسرہ القدسی کتاب مستطاب حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ مطبع مصر جلد دوم ص ۴۲۹ میں فرماتے ہیں :
قال الوالد رحمہ اﷲ تعالی فی شرحہ علی شرح الدرر من مسائل متفرقۃ اخراج الشموع الی القبور بدعۃ اتلاف مال کذا فی البزازیۃ اھ وھذا کلہ اذاخلا عن فائدۃ وامااذاکان موضع القبور مسجدا اوعلی طریق اوکان ھناك احد جالس اوکان قبر ولی من الاولیاء اوعالم من المحققین تعظیما لروحہ المشرقۃ علی تراب جسدہ کاشراق الشمس علی الارض اعلاماللناس انہ ولی لیتبرکوا بہ ویدعوا اﷲ تعالی عندہ فیستجاب لھم فھو ا مرجائز لامنع منہ والاعمال بالنیات ۔
یعنی والد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے حاشیہ درر و غرر میں فتاوی بزازیہ سے نقل فرمایا کہ قبروں کی طرف شمعیں لے جانا بدعت اور مال کا ضائع کرنا ہے یہ سب اس صورت میں ہے کہ بالکل فائدہ سے خالی ہو اور اگر شمعیں روشن کرنے میں فائدہ ہو کہ موضع قبور میں مسجد ہے یا قبور سرراہ ہیں یا وہاں کوئی شخص بیٹھا ہے یا مزار کسی ولی اﷲ یا محققین علماء میں سے کسی عالم کا ہے وہاں شمعیں روشن کریں ا ن کی روح مبارك کی تعظیم کے لیے جو اپنے بدن کی خاك پر ایسی تجلی ڈال رہی ہے جیسے آفتاب زمین پر تاکہ اس روشنی کرنے سے لوگ جانیں کہ یہ ولی کا مزار پاك ہے تاکہ اس سے تبرك کریں او ر وہاں اﷲ عزوجل سے دعامانگیں کہ ان کی دعا قبول ہوتو یہ امر جائز ہے اس سے اصلا ممانعت نہیں اور اعمال کا مدار نیتوں پر ہے
پھر فرماتے ہیں :
روی ابوداؤد والترمذی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما ان رسول اﷲ صلی اﷲ
ابوداؤد اور ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
نے قبروں پر جانے والی عورتوں اور قبروں پر مسجدیں بنانے والوں اور چراغ رکھنے والوں پر لعنت فرمائی یعنی ان لوگوں پر جوکسی فائدہ کے بغیر قبروں پر چراغ جلاتے ہیں جیساکہ ہم نے ذکر کیا ہے (ت)
یعنی یہ مذکورہ بالاحدیث کہ راویت کی گئی ہے۔ اس سے بھی مراد وہی صورت ہے کہ محض عبث بلافائدہ قبور پر شمعیں روشن کریں ورنہ ممانعت نہیں ملاحظہ ہو وہی حدیث ہے وہی عبارت فتاوی بزازیہ ہے ان علامہ جلیل القدر عظیم الفخر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ان کے معنی روشن فرمادئے اور تصریحا ارشاد کیا کہ مقابر میں شمعیں روشن کرنا جب کسی فائدہ کے لیے ہو ہرگز منع نہیں فائدہ کی متعدد مثالیں فرمائیں :
(۱) وہاں کوئی مسجد ہوکہ نمازیوں کو بھی آرام ہوگا اور مسجد میں بھی روشنی ہوگی۔
(۲) مقابر برسرراہ ہوں روشنی کرنے سے راہ گیروں کو نفع پہنچے گا اور اموات کو بھی کہ مسلمان مقابر مسلمین دیکھ کر سلام کریں گے ۔ فاتحہ پڑھیں گے دعاکریں گے ثواب پہنچائیں گے گزرنے والوں کی قوت زائد ہے تو اموات برکت لیں گے او راگر اموات کی قوت زائد ہے تو گزرنے والے فیض حاصل کریں گے۔
(۳) مقابر میں اگر کوئی بیٹھا ہو کہ زیارت یا ایصال ثواب یا افادہ یا استغفار کے لیے آیا ہے توا سے روشنی سے آرام ملے گا قرآن عظیم دیکھ کر پڑھنا چاہے تو پڑھ سکے گا۔
(۴) وہ تینوں منافع مزارات اولیاء کرام قدسنا اﷲ تعالی باسرارہم کو بھی بروجہ اولی شامل تھے کہ مزارات مقدسہ کے پاس غالبا مساجد ہوتے ہیں گزرگاہ بھی بہت جگہ ہے اور حاضرین زائرین خواہ مجاورین سے تونادرا خالی ہوتے ہیں مگر امام ممدوح ان پر اکتفا نہ فرما کر خود مزارات کریمہ کے لیے بالتخصیص روشنی میں فائدہ جلیلہ کا افادہ فرماتے ہیں کہ ان کی ارواح طیبہ کی تعظیم کے لیے روشنی کی جائے۔
اقول : ظاہر ہے کہ روشنی دلیل اعتناء ہے او راعتناء دلیل تعظیم۔ اور تعظیم اہل اﷲ ایمان وموجب رضائے رحمان عزجلالہ۔ قال اﷲ عزوجل :
و من یعظم شعآىر الله فانها من تقوى القلوب(۳۲)
جو الہی نشانیوں کی تعظیم کرے تو وہ دلوں کی پرہیز گاری سے ہے۔
القرآن ۲۲ / ۳۲
و من یعظم حرمت الله فهو خیر له عند ربه- ۔
جو الہی آداب کی چیزوں کی تعظیم کرے تو اس کے لیے ا س کے رب کے یہاں بہتری ہے ۔
اس کی نظیر مصحف شریف کا مطلا ومذہب کرناہے کہ اگر چہ سلف میں نہ تھا جائز ومستحب ہے کہ دلیل تعظیم و ادب ہے۔ درمختار میں ہے :
جاز تحلیۃ المصحف لما فیہ من تعظیمہ کما فی نقش المسجد ۔
مصحف شریف مطلا ومذہب کرنا جائز ہے کیونکہ اس میں اس کی تعظیم ہے جیسا کہ مسجد کو منقش کرنے میں (ت)
یوں ہی مساجد کی آرائش ان کی دیواروں پر سونے چاندی کے نقش ونگار کہ صدر اول میں نہ تھے بلکہ یہ حدیث میں تھا :
لتزخرفنھا کما زخرفت الیھود والنصاری ۔ رواہ ابو داؤد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔
تم مسجدوں کی آرائش کروگے جیسے یہود ونصاری نے آرائش کی اسے ابوداؤد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
مگر اب ظاہری تزك واحتشام ہی قلوب عامہ پر اثر تعظیم پیدا کرتا ہے۔ لہذا ائمہ دین نے حکم جوازدیا۔ تبیین الحقائق میں ہے :
لا یکرہ نقش المسجد بالجص وماء الذھب ۔
گچ او ر سونے کے پانی سے مسجد میں نقش بنانا مکروہ نہیں ہے (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ کما فی نقش المسجدای ماخلا محرابہ ای بالجص وماء الذھب ۔
اس کا قول جیسا کہ مسجد کی آرائش میں یعنی محراب کے علاوہ یعنی گچ اور سونے کے پانی سے ۔ (ت)
درمختار کتاب الحظروالا باحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۴۵
سنن ابوداؤد باب فی بناء المسجد آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۶۵
تبیین الحقائق فصل کرہ استقبال القبلہ مطبعۃ کبرٰیامیریہ مصر ۱ / ۱۶۸
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب فی البیع ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۵ / ۲۴۷
ابنو ا المساجد واتخذوھا جما ۔ رواہ ابن ابی شیبۃ والبیھقی فی السنن عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
مسجدیں منڈی بناؤ اسے ابن ابی شیبہ نے اور سنن میں بیہقی نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔ (ت)
دوسری حدیث میں ہے :
ابنوا مساجدکم جما وابنوا مدآئنکم مشرفۃ ۔ رواہ ابن ابی شیبۃ فی المصنف عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔
یعنی مسجدیں منڈی بناؤ ان میں کنگرے نہ رکھو اور اپنے شہر اونچے کنگرے دار بناؤ__ اسے مصنف میں ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا (ت)
مگر اب بلا نکیر مسلمانوں میں رائج ہے۔
وماراہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن ۔
اور جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ خدا کے یہاں بھی اچھا ہے(ت)
امام ابن المنیر شرح جامع صحیح میں فرماتے ہیں :
استنبط کراھیۃ زخرفۃ المسجد لاشتغال قلب المصلی بذلك اولصرف المال فی غیر وجھہ نعم اذا اوقع ذلك علی سبیل تعظیم المساجد ولم یقع الصرف علیہ من بیت المال فلا باس بہ ولواوصی بتشیید مسجد وتحمیرہ وتصفیرہ نفذت وصیتہ لانہ قدحدث للناس
یعنی حدیث سے مستنبط کیا گیا ہے کہ مسجدوں کی آرائش مکروہ ہے کہ نمازی کا خیال بٹے گا یا اس لیے کہ مال بیجا خرچ ہوگا۔ ہاں اگر تعظیم مسجد کے طور پر آرائش واقع ہو ا ور خرچ بیت المال سے نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں اور اگر کوئی شخص وصیت کر جائے کہ اس کے مال سے مسجد کی گچ کاری او راس میں سرخ و زرد رنگ کریں تو وصیت نافذ ہوگی کہ لوگوں میں جیسی
المصنف لابن ابی شیبہ ادارۃ القرآن العلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۳۰۹
مسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ۱ / ۳۷۹
نئی نئی باتیں پیدا ہوتی گئیں ویسے ہی ان کے لیے فتوے نئے ہوئے کہ اب مسلمانوں کا فروں سب نے اپنے گھروں کی گچکاری اور آرائش شروع کردی اگرہم ان بلند عمارتوں کے درمیان جو مسلمین تو مسلمین کافروں کی بھی ہوں گی کچی اینٹ اور نیچی دیواروں کی مسجدیں بنائیں تونگاہوں میں ان کی بے وقعتی ہوگی۔
اسی قبیل سے ہے مزارات اولیاء کرام وعلمائے عظام قدست اسرارہم پر عمارات کی بناء کہ باوصف حدیث مسلم وابوداؤد ونسائی ومسند احمد :
عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ نھی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یقعد علی القبروان یجصص وان یبنی علیہ ۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے اسے گچ سے پکی کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع فرمایا ۔ (ت)
جس میں صراحۃ اس کی ممانعت ارشادہوئی ہے سلفا وخلفا ائمہ کرام و علمائے اعلام نے جائز رکھی تکملہ مجمع بحارالانوار جلد ثالث صفحہ ۱۴۰ میں ہے :
قد اباح السلف البناء علی قبور الفضلاء الاولیاء والعلماء لیزورھم ویستریحون فیہ ۔
بیشك ائمہ سلف صالحین نے اہل فضل اولیاء وعلماء کے مزارات طیبہ پر عمارت بنانا مباح فرمادیا کہ لوگ ان کی زیارت کریں اور ان میں راحت پائیں۔
جواہر اخلاطی میں ہے :
ھو وان کان احداثا فھو بدعۃحسنۃ وکم من شیئ کان احداثا وھوبدعۃ حسنۃ وکم من شیئ یختلف باختلاف
یعنی یہ اگر چہ نو پیدا ہے پھر بھی بدعت حسنہ ہے اور بہت سی چیزیں ہیں کہ نئی پیدا ہوئیں اور ہیں اچھی بدعت اور بہت احکام ہیں کہ زمانے یا مقام کی تبدیلی سے
صحیح مسلم کتاب الجنائز البناء علی القبر نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۳۱۲
تکملہ بحار الانوار تحت لفظِ قبر منشی نولکشور لکھنؤ ۳ / ۱۴۰
بدل جاتے ہیں۔
یعنی ایسی جگہ احکام سابقہ سے سند لانا حماقت ہے جوحاجت اب واقع ہوئی اگر زمانہ سلف میں واقع ہوتی تو وہ بھی حکم کرتے جواس وقت ہم کرتے ہیں جیسے ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا :
لورای النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مااحدث النسآء لمنعھن المساجدکما منعت نساء بنی اسرائیل ۔
یعنی اگر رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب تك نکالی ہیں انھیں مسجدوں سے منع فرمادیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجدوں سے منع کیا گیا تھا۔ (ت)
اور آخر ائمہ دین نے عورات کو مسجدوں سے منع فرماہی دیا حالانکہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا :
اتمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ ۔ رواہ احمد ومسلم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔
اﷲ تعالی کی باندیوں کو اﷲ تعالی کی مسجدوں سے نہ روکو اسے امام احمد ومسلم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا (ت)
کیا ائمہ دین نے نظر بحال زمانہ جو حکم فرمایا اسے حدیث کی مخالفت کہا جائے گا حاش ﷲ!ایسا نہ کہے گا مگر احمق کج فہم یوں ہی یہ تازہ تعظیموں کے احکام ہیں۔ سلف صالحین کے قلوب تعظیم شعائراﷲ سے مملو تھے۔ ظاہری تزك واحتشام کے محتاج نہ تھے تو ان کے وقت میں یہ باتیں عبث وبے فائدہ تھیں اور ہر عبث مکروہ۔ اور اس میں مال صرف کرنا ممنوع اب کہ بے تزك واحتشام ظاہری قلوب عوام میں وقعت نہیں آتی ان باتوں کی حاجت ہوئی مصحف شریف پر سونا چڑھانے کی اجازت ہوئی مسجدوں میں سونے کے کلس سونے چاندی کے نقش نگار کی اجازت ہوئی مزارات پر قبہ بنانے چادر ڈالنے روشنی کرنے کی اجازت ہوئی ان تمام افعال پر بھی احادیث واحکام سابقہ پیش نہ کرے گا مگر سفیہ ونافہم۔ یہ مختصر شرح ہے اس ارشاد امام ممدوح قدس سرہ کی اور اس کی تفصیل بازغ وتحقیق بالغ ہمارے رسالہ طوالع النور فی حکم السراج علی القبور میں ہے وباﷲا لتوفیق۔
یہی امام جلیل کشف النور میں پھر علامہ شامی ردالمحتار فصل اللبس اور عقودالدریہ مسائل شتی میں مزارات اولیاء کرام پر غلاف ڈالنے کی نسبت بھی اسی تعظیم سے استدلال فرماتے ہیں کما بیناہ فی فتاونا ( جیسا کہ ہم نے
صحیح مسلم باب خروج الفساد الی المساجد نور محمداصح المطابع کراچی ۱ / ۱۸۳
صحیح مسلم باب خروج الفساد الی المساجد نور محمداصح المطابع کراچی ۱ / ۱۸۳
(۱) امام ممدوح قدس سرہ نے جس طرح اصل مسئلہ کا فیصلہ فرمایا زید کے اس بے معنی اعتراض کی بھی کہ “ اہل اﷲ کے مزار پر کرتے ہیں معمولی آدمی کی قبر پر نہیں کرتے “ غلطی ظاہر فرمادی کہ ان پہلے تین فوائد عامہ کے بعد چوتھے فائدہ میں خاص مزارات اولیاء کرام کی تخصیص فرمائی نیز اس کا وجوب ائمہ سلف دے چکے ہیں جن کا ارشاد مجمع بحارالانوار سے گزرا کہ مزارات اولیاء کرام وعلمائے عظام پر بنائے عمارت جائز ہے عوام وفساق کی قبور پر کیوں نہ اجازت دی
اقول : آدمی اگر آیہ کریمہ ذلك ادنى ان یعرفن فلا یؤذین- ( وہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ ان کی پہچان ہو جائے تو انھیں ایذا نہ دی جائے ت) کہ حکمت جلیلہ سے آگاہ ہو جس سے وجہ استنباط طوالع النور میں مذکور تو ایسا مہمل اعتراض ہر گز خیال میں بھی نہ آئے۔ امام ممدوح قدس سرہ نے زید کے اس سوال کا کہ “ بزرگوں کی قبروں پر کیوں کرتے ہیں کسی فاسق وفاجر کی قبر پر کیوں نہیں کرتے “ جواب ارشاد فرمایا کہ تعظیما لروحہ المشرقۃ علی تراب جسدہ الخ یعنی ان کی روح کی تعظیم کی جاتی ہے اور لوگوں کو دکھا یا جاتا ہے کہ یہ مزار محبوب کا ہے اس سے تبرك وتوسل کرو کہ تمھاری دعا مستجاب ہو۔
امام ممدوح قدس سرہ نے زید کے اس توہم کا بھی علاج فرمادیا کہ تعظیما لروحہ ( ان کی روح کی تعظیم کے لیے ۔ ت) معاذ اﷲ! یہ تو ان کی عبادت نہیں ان کی روح پاك کی تعظیم ہے۔ ہرتعظیم عبادت ہوتو تعظیم انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام تو نصوص قطعیہ قرآن عظیم سے فرض ہے۔ قال اﷲ تبارك وتعالی :
لتؤمنوا بالله و رسوله و تعزروه و توقروه- ۔
ہم نے اپنے رسول کو اس لیے بھیجا کہ اے لوگو! تم اﷲ ورسول پرایمان لاؤ او ررسول کی تعظیم وتوقیر کرو۔
وقال تبارك وتعالی :
الحدیقۃ الندیۃ ایقاد الشموع فی القبور مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۳۰
القرآن ۴۸ / ۹
وہ جو پیروی کریں گے اس رسول نبی امی یعنی بے پڑھے غیب کے علوم جاننے بتانے والے کی تو جو اس نبی پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اوراس کی مدد کریں اور اس کے ساتھ جو نور اترا اس کے پیروہوں وہی لوگ مراد کو پہنچیں گے۔
وقال اﷲ تبارك وتعالی :
لىن اقمتم الصلوة و اتیتم الزكوة و امنتم برسلی و عزرتموهم و اقرضتم الله قرضا حسنا لاكفرن عنكم سیاتكم و لادخلنكم جنت تجری من تحتها الانهر-
بیشك اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوۃ دیا کرو او رمیرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور میرے رسولوں کی تعظیم کرو اﷲ کے لیے قرض حسن دوتوضرور میں تمھارے گناہ تم پر سے اتار دوں گا ضرور تمھیں بہشتوں میں داخل فرماؤں گا جن کے نیچے نہریں بہیں۔
بلکہ قرآن عظیم نے توماں باپ کی تعظیم بھی فرض کی۔ قال اﷲ تبارك و تعالی :
و اخفض لهما جناح الذل من الرحمة ۔
اور جھکادو تم ان (ماں باپ) کے واسطے نرمی کے بازو رحمت سے۔
کیا معاذ اﷲ قرآن عظیم نے انبیاء و والدین کی عبادت کا حکم فرمایا ہے !
(۴) امام ممدوح قدس سرہ نے شبہہ تعظیم قبر کا بھی جواب فرمادیا کہ :
تعظیما لروحہ الی قولہ قدس سرہ و الاعمال بالنیات ۔
یعنی تعظیم خشت وگل نہیں بلکہ روح محبوب کی تعظیم مقصود ہو جو بلاشبہہ محمود ہے اور اعمال کا مدار نیت پر ہے۔
اﷲ اﷲ! کیسے نفیس وجامع کلمات ارشاد فرمائے گویا اپنے نور باطن سے ادراك فرمالیا تھا کہ زید و امثالہ کو یہ شبہات عارض ہوں گے سب کا جواب ان دولفظوں میں فرمادیا کہ تعظیما لروحہ۔
القرآن ۵ / ۱۲
القرآن ۱۷ / ۲۴
الحدیقۃ الندیۃ ایقادا لشموع فی القبور مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۳۰
(۶) اسے تقرب بروجہ تعبد بتانا مسلمانوں پر کیسی سخت بدگمانی اور اس پر جرم کرنا مسلمان پر کیساصریح ظلم و افتراء ہے۔ درمختار میں منیۃ الفتاوی وذخیرۃ وشرح وہبانیہ سے ہے :
انا لانسیئ الظن بالمسلم انہ یتقرب الی الادمی بھذا النحو۔
کسی مسلمان کے متعلق ہم یہ بدگمانی نہیں کرسکتے کہ وہ کسی انسان کی طرف اس طرح کا تقرب کرے گا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ای علی وجہ العبادۃ لانہ المکفر وھذا بعید من حال المسلم ۔
یعنی عبادت کے طور پر تقرب اس لیے کہ اس سے آدمی کافر ہوجاتا ہے اوریہ مسلمان کے حال سے بعید ہے ۔ (ت)
طرفہ یہ کہ زید نے کہا “ پیرزادے اس کوکرتے چلے آئے ہیں مگر پیرزادہ گان صالح ہوں اہل اﷲ ہوں معصوم نہیں جہاں ہزاروں نیك کام مشائخ زمانہ کرتے ہیں ایك یہ ناجائز بھی کسی مصلحت سے کرلیا خدا معاف کرنے والا ہے ۔ “ سبحان اﷲ ! صالح بھی ہیں اہل اﷲ بھی ہیں اور غیر خدا کے عابد بھی ہیں اس سے بڑھ کر محال کیا ہوگا!
(۸) جب زید کے نزدیك وہ تعبد ہے توقطعا شرك ہوا ا ور شرك ہر گز معاف نہ ہوگا ان الله لا یغفر ان یشرك به (بیشك اﷲ شرك کو نہیں بخشتا ۔ ت) پھر اس جملہ کا کیا محل رہا کہ “ خدا معاف کرنے والا ہے ۔ “
(۹) جب ہزارہا بندگان صالحین واہل اﷲ پر یہاں تك بدگمانی ہے کہ تعبد غیر کا الزام ان کے سر تھوپا جاتا ہے اور نہ صرف ظن بلکہ اس پر جزم کیا جاتاہے ۔ تواس کی کیا شکایت کہ فقیر کے پاس سے جواب مسئلہ نہ پہنچنے کو پیرزادوں کی رعایت کے سبب سکوت عن الحق پر محمول کیا فتاوی میں اس سوال کے جواب میں متعدد مقامات پر مذکور سالہا سال سے اس پر مستقل فتوی مرقوم۔ خاص اس باب میں چھبیس برس سے رسالہ “ طوالع النور “ مکتوب
ردالمحتار کتاب الذبائح ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ۵ / ۱۹۷
القرآن ۴ / ۴۸
الجواب :
“ یہ شخص اہلسنت وجماعت صالحین سے جاہل اور بے بہرہ ہے اور یہ اعتقاد اور مقولہ جو درج سوال ہے کفر ہے۔ نعوذ باﷲ منہ۔ حضرت سلف صالحین اور ائمہ دین کایہی مذہب ہے اوریہی احادیث صحیحہ وکلام شریف کی آیات سے ثا بت ہے کہ حق تعالی جل شانہ زمان ومکان وجہت سے پاك ہے اور دیدار اس کا بہشت میں مسلمانوں کو نصیب ہوگا چنانچہ عقاید اس سے مشحون ہیں واﷲ تعالی اعلم بندہ رشید احمد گنگوہی ۔ “ اوراس پر حضرات دیوبند مولوی محمود حسن صاحب وعزیز الرحمان صاحب وغیر ہما نے مہریں کیں اور جناب اسمعیل صاحب دہلوی پر بددین ملحد زندیق کی چوٹیں جڑیں علی الخصوص ہمارے ذکر کے قابل عالیجناب مولوی اشرفعلی تھانوی صاحب ہیں جنھوں نے اس حکم کفر دہلوی صاحب پر یوں تصدیق فرمائی : “ الجواب الصحیح۔ اشرفعلی عفی عنہ “ ۔
چھٹتی کہاں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
اب تك وہ ویسا ہی چنین وچناں ویساہی امام یہ اس کے ویسی ہی چناں چنیں ویسے ہی غلام۔
مسلمانو! انصاف کرو یہ کون سادین ہے کون سی دیانت ہے اور اس پر ادعائے ایمان وامانت ہے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
مسلمانو ! اس کا تعجب نہیں کہ اﷲ واحد قہار محمدرسول اﷲ سید الابرار جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سخت سے سخت توہینیں کرنے والے کیوں اپنے باطل پر ایسے اڑے ہیں کیوں چاہ ضلالت میں اوپر تلے یوں اوندھے پڑے ہیں عجب تو یہ ہے کہ دیکھنے والے یہ کچھ ان کے کوتك دیکھیں ا ور پھر ان کے جبہ ودستار کے دام میں پھنیں گویا یہ حرکات ایك سہل سی بات ناقابل التفات کوئی کسی کا دس پانچ روپے کا مال چرالے یا دغا سے دبالے ہمیشہ کو نظرو ں سے گرجائے چو ردغا باز نام قرار پائے۔ اورمعاذ اﷲ ! اگرکوئی کسی مشہور بنام علم پر ایسا الزام عائد ہو تواس کی تشہیر حد سے زائد ہو دس پانچ روپے کا جرم یوں ناقابل تلافی اور خاص دین و مذہب وعقائد میں ایسی چوری خیانت سب معافی معافی کیسی خطاہی نہیں وضوئے تمیز کبھی ٹوٹا ہی نہیں یہ کیا ظلم ہے کیا بے پروائی ہے کیسی آنکھوں پر چربی چھائی ہے۔ مسلمانو! آنکھ کھولو ورنہ پیشی فردا کے لیے مستعد ہولو
بروز حشر شود ہمچو صبح معلومت کہ باکہ باختہ عشق درشب دیجور
( حشر کے دن صبح کی طرح تجھ پر واضح ہوگا کہ تونے اندھیری رات میں کس سے عشق بازی کی ہے ۔ ت)
اس تمام شرمناك واقعہ کی تفصیل اور وہ پندرہ سوال ایك مختصر رسالے “ دیوبندی مولویوں کا ایمان “ میں ہے
(۱۰) اب زید صاحب کے حوالوں پر نظر ڈالئے درمختار کاحوالہ محض غلط ہے ۔
(۱۱)علمگیری کی عبارت میں لااصل لہ ( اس کی کوئی اصل نہیں ۔ ت) اپنی طرف سے بڑھا لیا۔
(۱۲) بزازیہ کی عبارت سے واتلاف مال ( مال کا ضیاع ۔ ت) کم کردیا جس سے علت منع ظاہر ہوتی کہ جہاں بے فائدہ محض ہے وہاں ممانعت ہے۔
(۱۳) پھر اس کی کیا شکایت کہ علمگیری میں الی راس القبور (قبروں کے سرہانے ۔ ت) تھا اسے الی المقابر( قبروں کی طرف ۔ ت) بنالیا تاکہ عموم بڑھ جائے۔
(۱۴) ہاں پوری چالاکی یہ ہے کہ عبارت علمگیری سے فی اللیالی الاول (پہلی چندراتوں میں ۔ ت)کا لفظ اڑا دیا علمگیری کی اصل عبارت یہ ہے :
اخراج الشموع الی راس القبور فی اللیالی الاول بدعۃکذا فی السراجیۃ ۔
یعنی موت کی پہلی چندراتوں میں شمعیں گھروں سے قبروں کے سرہانے لے جانا بدعت ہے ایسا ہی فتاوی سراجیہ میں ہے۔
ذکرہ الشیخ الامام الزاھد الصفار البخاری رحمہ اﷲ تعالی فی کتاب الاعتقاد ۔
یہ مسئلہ شیخ امام زاہد صفار بخاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے کتا ب الاعتقاد میں ذکر فرمایا ۔
ظاہر ہے کہ یہاں قبور عوام کا ذکرہے کہ اعراس طیبہ یا مزارات اولیاء کی روشنی فقط پہلی چند راتوں میں نہیں ہوتی او رظاہر ہے کہ وہ ایك عادت خاصہ کا بیان ہے ورنہ لیالی اول کی تخصیص بے وجہ تھی اب جس طر ح یہاں جہال میں رواج ہے کہ مردہ کی جہاں کچھ زمین کھود کرنہلاتے ہیں جسے عوام لحد کہتے ہیں چالیس رات چراغ جلاتے اوریہ خیال کرتے ہیں کہ چالیس شب روح لحد پرآ تی ہے اندھیرادیکھ کر پلٹ جاتی ہے یوں ہی اگر وہاں جہال میں رواج ہوکہ موت سے چندرات تك گھروں سے شمعیں جلا کر قبروں کے سرہانے رکھ آتے ہوں او ریہ خیال کرتے ہوں کہ نئے گھر میں بے روشنی کے گھبرائے گا۔ تواس کے بدعت ہونے میں کیا شبہہ ہے۔ اور اس کا پتا یہاں بھی قبروں کے سرہانے چراغ کے لیے طاق بنانے سے چلتا ہے اور بیشك اس خیا ل سے جلانا فقط اسراف و تضییع مال ہی نہیں کہ محض بدعت عمل ہو بلکہ بدعت عقیدہ ہوئی کہ قبر کے اندر روشنی واموات کااس سے دل بہلنا سمجھا ولہذا امام صفار رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس مسئلہ کو کتاب الاعتقاد میں ذکر فرمایا ۔ اب ملاحظہ ہو کہ اس روایت کو ہمارے مسئلہ سے کیا تعلق رہا! والاحتمال یقطع الاستدلال (اور احتمال استدلال ختم کردیتا ہے ۔ ت)
(۱۵) اس روایت میں اخراج کا لفظ بھی قابل لحاظ ہے قبور عوام ہی کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہاں نہ کوئی مکان ہوتا ہے نہ حاضر رہنے والے نہ کوئی سامان روشنی گھر ہی سے چراغ لے جانا پڑتا ہے بخلاف مزارات طیبہ کے کہ وہاں گھر سے لے جانے کی حاجت نہیں ہوتی تو ذکر قبور عوام ہی کا ہے اور اگر زید نہ مانے اور اسے چراغاں مزارات طیبہ کی نسبت جانے تو آٹھ برس سے تو اس روشنی کا ثبوت ہوگیا جسے زید نے مشائخ زمانہ کا فعل کہا کہ امام زاہد صفار رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی وفات ۵۳۴ ھ میں ہے کمافی الطبقات الکبری وکشف الظنون ( جیسا کہ طبقات کبری اورکشف الظنون میں ہے ۔ )
(۱۶) سب سے زیادہ خوفناك تحریف یہ ہے تتخذون علیھم مساجد کو قرآن عظیم کا لفظ کریم بنالیا حالانکہ یہ جملہ قرآن عظیم میں کہیں نہیں یہ تینوں لفظ متفرق طور پر ضرور قرآن عظیم میں آئے ہیں مثلا تتخذون مصانع ۔ انعمت علیه ۔ و مسجد یذكر فیها اسم الله ۔ مگر اس ترکیب وترتیب سے کہیں نہیں___
کشف الظنون
القرآن ۲۶ / ۱۲۹
القرآن ۱ / ۷
القرآن ۲۲ / ۴۰
قال الذین غلبوا على امرهم لنتخذن علیهم مسجدا(۲۱)
وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے ۔ (ت)
پھر بھی دیوبندی صاحبوں کے حال سے غنیمت ہے کہ وہ تو انہونی کتابیں دل سے گھڑلیتے ہیں ان کے صفحے بنالیتے ہیں ان کی عبارتیں دل سے تراش لیتے ہیں اور اکابر اولیائے کرام وعلمائے عظام کی طرف نسبت کردیتے ہیں دیکھو دیوبندیوں کی لال کتاب “ سیف النقی “ اور اس کے رد میں العذاب البیئس وغیرہ تحریرات کثیرہ ۔ ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
(۱۷) زید کو اقرار ہے کہ فعل مشائخ قدیم چلا آتا ہے اگر چہ کہیں تو انھیں مشائخ زمانہ لکھا کہیں پیر زادے اور کہیں مجاور جن کے لیے قبور ذریعہ معاش ہیں مگر شروع میں تحریر فرماچکے ہیں کہ “ میں بقسم شرعی باور کراتاہوں کہ میں نے کوشش کی کہ چراغان قبور کا کسی تاویل سے استحسان ثابت ہوجائے تو میں رسم قدیم کی مخالفت نہ کروں ۔ “ او راس کا جواب وہ دیا کہ “ پیرزادگا ن صالح ہوں اہل اﷲ ہوں ۔ معصوم نہیں۔ “ زید صاحب معصوم کے سوا کسی کی نہیں مانتے مگر افسوس جب وہ صالحین ہیں اہل اﷲ ہیں تو یہی عالمگیری جس کی سند سے آپ انھیں بدعتی بنانا چاہتے ہیں ان کے افعال کو دین میں سند وحجت بتاتی ہے فتاوی عالمگیری میں مشائخ کرام ہی کے ذکر میں ہے :
یتمسك بافعال اھل الدین کذافی جواھر الفتاوی ۔
تمسك کیا جائے اہل دین کے افعال سے۔ ایسا ہی جواہر االفتاوی میں ہے۔
(۱۸) سرکار اعظم حضور پر نور مدینہ طیبہ صلی اﷲ تعالی علی من طیبہا وآلہ وبارك وسلم میں وہ جلیل وجمیل روشنی وہ جانفرا دلکشاروشنی وہ دل افروز وہابی سوز روشنی کہ نہایت تزك واحتشام سے ہوتی ہے اس کے جواب میں زید نے یہ تاویل گھڑی کہ وہ روشنی مسجد کریم کے لیے ہے نہ کہ مزار اقدس کے واسطے صلی اﷲ تعالی علی صاحبہ وآلہ وبارك وسلم ۔ شاید زید کو زیارت سراپا طہارت نصیب نہ ہوئی اپنے قصبہ کی کسی مسجد پر قیاس کیا جہاں دمڑی کے چراغ میں دھیلے کا تیل وہاں کے فرشی جھا ڑوں او رکثیر التعداد فانوسوں اور ہزارہا روپے کے شیشہ آلات او ران کی دل نواز جمگمگاہٹ دیکھو تو آپ کی خشن بے ذوق طبیعت کے طور پر یہ مسجد کے لیے کب جائز ہو وہی بزازیہ جس سے یہ سند لائے اسی کی دربارہ مسجد بھی سنیے اس کی کتاب الوصایا فصل اول میں ہے :
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السابع عشر فی الغناء واللہو الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۵۱
یعنی اگر کوئی اپنے تہائی مال کی وصیت راہ خدا کے لیے کرے تو اس سے مسجد کا چراغ بھی جلاسکتے ہیں مگر صرف ایك چراغ رمضان ہو یا غیر رمضان۔ یعنی اگر کوئی اپنے تہائی مال کی وصیت راہ خدا کے لیے کرے تو اس سے مسجد کا چراغ بھی جلاسکتے ہیں مگر صرف ایك چراغ رمضان ہو یا غیر رمضان۔
(۱۹) زید صاحب کو چاہئے ذراحج و زیارت سے مشرف ہو وہاں ان مسجد الحرام شریف میں کچھ ہانڈیاں گرد مطاف نظر آئیں گی کہ ساری مسجد کریم کو پوری روشنی نہیں دیتی او رسرکار اعظم میں وہ نظر آئے گا جس سے آنکھیں چندھیا جائیں اگر یہ روشنی مسجد کے لیے ہوتی تو مسجد الحرام شریف زیادہ مستحق تھی کہ وہ مسجد مدینہ طیبہ سے افضل بھی ہے اور وسعت میں بھی کئی حصے زیادہ۔ نہیں نہیں بالیقین وہ تجمل روضہ پر انوار حضور سید الابرار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لیے ہیں جسے ہر سمجھ والا بنگاہ اولین ادراك کرلیتا ہے۔ میرے دل سے ان لفظوں کا ذوق نہیں جاتا جو ایك مسلمان زائر نے حج کے بعد شان وتجمل روضہ انور دیکھ کر کہے تھے کہ یہاں شان محبوبیت کھلتی ہے۔ اس نے کہ گھر سے پاك ہے اپنا گھر یوں سادہ رکھا ہے اور کاشانہ محبوب کے یہ سازو سامان ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ دیکھیے نگاہ ظاہر پرا س شان وشکوہ کا کیسا اثر پڑا کہ اس ناظر کے دل میں ایمان جگمگا اٹھا۔ اسی حکمت کے لیے تو علمائے کرام نے تجمل ظاہر پسند فرمایا ہے۔ ورنہ حاشا ﷲ
حاجت مشاطہ نیست روئے دلآرام را
( دل کو سکون دینے والے چہرے کے لیے آرائش کی ضرورت نہیں ۔ ت)
اللھم ارزقنا الایمان الکامل وامتناعلیہ بجاہ جیبك وعروس مملکتك صلی اﷲ علیہ وعلی الہ وبارك وسلم۔ امین۔
اے اﷲ! ہمیں ایمان کامل نصیب کر اور اسی پر موت دے اپنے حبیب اور اپنے عروس مملکت کے طفیل۔ اﷲ تعالی ان پر اور ان کی آل پر درود وسلام اور برکت نازل فرمائے۔ الہی قبول فرما ! (ت)
(۲۰) مسجد میں روشنی خشت وگل کی ذات کے لیے نہیں ہوتی بلکہ نمازیوں کے واسطے بلکہ نماز میں بھی اصل نظر صرف فرائض پر مقصود ہے کہ اصالتا بنائے مسجد انہی کے لیے ہے۔ ولہذا جہاں تہجد وغیرہ نوافل خواں وذاکرین شب بھر مسجد میں رہتے یا رات کے سب حصوں میں ان کی آمدورفت مسجد میں رہتی ہو اور ا س وجہ سے وہاں شب بھر روشنی رکھنے کی عادت ہو یا واقف نے خود اس کی تصریح کردی ہو ایسی جگہ کے علاوہ باقی تمام مساجد میں تہائی رات کے بعد روشنی گل کردینے کا حکم ہے کہ اب اسراف وتضییع مال ہے ۔
لاباس بان یترك سراج المسجد الی ثلث اللیل ولایترك اکثر من ذلك الااذا شرط الواقف ذلك اوکان ذلك معتادا فی ذلك الموضع ۔
مسجد کا چراغ مسجدمیں تہائی رات تك جلتا چھوڑ دینے میں حرج نہیں او راس سے زیادہ نہ جلایا جائے لیکن جبکہ واقف نے اس کی شرط رکھی ہو یا وہاں اس کا رواج ہو۔ (ت)
سراج وہاج پھر ہندیہ میں ہے :
لو وقف علی دھن السراج المسجد لایجوز وضعہ جمیع اللیل بل بقدر حاجۃ المصلین وجوز الی ثلث اللیل اونصفہ اذا احتاج الیہ للصلوۃ فیہ ۔
اگرمسجد کے چراغ کے لیے وقف کیا تو پوری رات چراغ جلانا جائز نہیں بلکہ تہائی رات تك جواز ہے یا نصف شب تك جبکہ نماز کے لیے اس کی ضرورت ہو ۔ (ت)
اور مسجد اکرم سرکار اعظم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں نماز عشاء کے بعد کوئی رہنے نہیں پاتا لوگوں کو باہر کرکے سحرتك دروازے بند رکھتے ہیں اوریہ عادات آج سے نہیں صدہا سال سے ہے۔ امام جلیل ابوالحسن سمہودی کتاب وفاء الوفاء میں جس کی تصنیف ۸۸۶ھ میں فرمائی پھر اس کے خلاصہ خلاصۃ الوفاء میں فرماتے ہیں :
یطاف لاخراج الناس من المسجد بعد العشاء الاخرۃ بفوانیس ستۃ رتبھا شیخ الخدام شبل الدولۃ کافور المظفری الحریری وکان الطواف قبلہ بشعل من السعف ۔
نما زعشاء کے بعدلوگوں کو مسجد کریم سے باہر کرنے کیلئے اب چھ فانوس لے کر دورہ کرتے ہیں جن کو خدام کے شیخ شبل الدولہ کافورالمظفری الحریری نے بنایا ہے جبکہ قبل ازیں کھجور کی شاخ کی شمع سے دورہ ہوتا تھا۔ (ت)
نیز اس پر اس سے بہت پہلے کی وہ جلیل القدر معجزہ خسف بدخواہان ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالی عنہما کی عظیم حکایت دال ہے جو اسی کتاب وفاء الوفاء تصنیف ۸۸۶ ہجری اور اس سے پہلے کتاب ریاض النضرۃ
فتاوٰی ہندیۃ الباب الحادی عشر فی المسجد الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۴۵۹
وفاء الوفاء فصل ۳۱ عدد قنادیل المسجد داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۸۲ ۔ ۶۸۱
قال کان عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ یعس فی المسجد بعد العشاء فلا یری احدا لااخرجہ الارجلا قائما یصلی ۔
فرمایا : امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نماز عشاء کے بعد مسجد کریم میں دیکھ بھال کے لیے دورہ فرماتے جسے دیکھتے مسجد سے باہر فرمادیتے مگر جو شخص کھڑا نماز پڑھ رہا ہو۔
بااینہمہ مسجد کریم میں صبح تك روشنی رہتی ہے۔ اور فقہائے کرام نے اس کے جواز کی تصریح فرمائی ۔ وہی بزازیہ کتاب الوقف فصل رابعہ ملاحظہ کیجئے
یجوز ترك سراج المسجد فیہ من المغرب الی العشاء لاکل اللیل الااذاجرت العادۃ بذلك کمسجد سیدنا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
جائزہے مسجد کے چراغ کا مسجد میں چھوڑنا مغرب سے عشاء تك نہ کہ تمام شب مگر جب کہ اس کی عادت ہو جیسے کہ مسجد نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
اس سے بھی روشن کہ یہ روشنی نمازیوں کے لیے نہیں ہے بلکہ روضہ اقدس کے لیے ہیے او ر ہم عنقریب کلام ائمہ اس کی تصریح نقل کریں گے۔ وباﷲ التوفیق۔
(۲۱) زید صاحب نے یہ روشنی مزار اطہر کے لیے نہ ہونے کی وہ بھاری دلیل گھڑی جس کے بوجھ میں خود ہی دب کر رہے۔ ذرایہ نئی منطق جہاں بھر سے بھی جدا منطق الطیر سے سوا' ملاحظہ ہو کہ “ قبر شریف در حقیقت روپوش ہے بھلا روشنی اس کے لیے ہوسکتی ہے “ گویا جو شے نظر نہ آئے اس سے اعتناء اس کی تکریم ہو ہی نہیں سکتی ۔ اہل اﷲ پر عبادت قبورکا الزام رکھا تھا جس کی تکذیب کو ان کا اہل اﷲ ہونا ہی بس تھا مگر کہیں یہ مسئلہ عباد صنم کی تائید نہ کرے وہ یہی کہتے ہیں کہ بے دیکھے تعظیم کیسی
(۲۲) حجرہ مطہرہ کی آرائش او راس پر وہ ہزارہا روپے کی تیاری کا غلاف شریف یہ بھی شاید مسجد ہی کے لیے ہو کہ مزار کریم تو مستور ہے۔
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۲۶۹
(۲۴) دوسری بات یہ کہ روشنی منجانب سلطان ہوتی ہے جس نے بنك قائم کیا۔ اس کہنے کا محل جب تھا کہ فعل سلطان سے کسی نے استناد کیا ہوتا کہ یہ روشنی ا س لیے جائز ہوتی ہے کہ سلطان کی طرف سے ہوتی ہے او رجب ایسا نہیں تو بے محل محض سلطان ترکی کو باتباع لہجہ نصاری مکروہ لفظ ٹرکی سے تعبیر کرکے بلاوجہ سلطان اسلام کی عیب چینی' کیا مصلحت ہوئی حدیث میں ہے :
السطان ظل اﷲ فی الارض فمن اکرمہ اکرمہ اﷲ ومن اھانہ اھانہ اﷲ ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی الشعب عن ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
سلطان زمین میں اﷲ تعالی کا سایہ ہے جواس کی عزت کرے ا ﷲ تعالی اس کو عزت دے اور جو اس کی توہین کرے ا ﷲ تعالی اسے ذلت دے۔ اسے طبرانی نے معجم الکبیرمیں او ربیہقی نے شعب الایمان میں حضر ت ابوبکرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا۔
لاجرم یہ اپنی طرف سے عدم جوا ز روشنی پر اقامت دلیل ہے یہ ضرورت اس کے ذکر کی طرف ہوئی اگر چہ اب بھی شرع مطہرمسئلہ کی روش سے دور ہے کہ اس کی سند کتابت بعض اخبارات ہی ہوگی او راخباری بیانات جیسے ہوتے ہیں معلوم ہیں ۔ امام حجۃ الاسلام نے احیاء العلوم میں تصریح فرمائی ہے کہ کسی مسلمان کی طر ف نسبت کبیرہ حرام ہے جب تك تواتر سے یقینی الثبوت نہ ہو کہ محض اخباری گپیں اگر صحیح بھی ہو ں توممکن بلکہ مظنون کہ وہ اس نئی جماعت حریت کی طرف سے ہوگا تو سلطان کے سر اس کبیرہ کا باندھنا محض جزا ف ہے پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ “ بینك سو د دینے کے لیے ہے یا معاذاﷲ سود لینے کے لیے سلطنت میں اس وقت وہ وسعت کہاں کہ لوگوں کو کثیر المقدار قرض دے وہ خود اپنی ضروریات شدیدہ کے لیے روپے کی حاجتمند ہے او رحاجت شرعیہ کے وقت سود دینے کی اجازت ہے۔ درمختار میں ہے :
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ۔
نفع دینے کی شرط پر حاجتمند کو قرض لینا جائز ہے (ت)
بہر حال حاصل دلیل یہ ہے کہ یہ سلطان کی طرف سے ہے اور سلطان فاسق ہیں ا ور جو فاسق کی طرف
(۲۵) سلطان اسلام سے فارغ ہوکر حرمین شریفین کی طرف متوجہ ہوئے کہ وہاں کا بڑا حصہ ڈاڑھی کترواتاہے الحمد ﷲ کہ کلیہ نہ کہا ہر جگہ ہمیشہ بڑا حصہ عوام کا ہوتا ہے۔ اگر عام طور پر صدہا سال سے ایك فعل کریں اور وہ بھی مسجد میں اور وہ بھی مسجد اقدس سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں اور وہ بھی کار خیر وموجب اجر وتعظیم شعائرا ﷲ واجلال حرمات اﷲ جان کر ۔ بااینہمہ جماہیر علماء روزانہ دیکھیں ا ور منع نہ فرمائیں توا ستناد تقریر علماء سے ہوگا نہ کہ فعل عوام سے۔
(۲۶) خود ہی سمجھ کر تعامل ہے نہ مجرد عمل عوام اس کا یہ علاج کیا کہ تعامل حرمین شریفین کا بعد قرون ثلثہ کے سند نہیں۔ قرون ثلثہ کی تخصیص کا قضیہ ہمارے رسالہ رد وہابیہ میں جابجا ہوچکا اور مسئلہ تعامل حرمین شریفین بھی کتاب مستطاب “ اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد “ قاعدہ یازدہم میں واضح فرمادیا گیا یہاں اسی قدر کافی کہ شیخ محقق جذب القلوب شریف میں حدیث صحیح بخاری : انھا طیبۃ تنفی الذنوب کما تنفی الکیر خبث الفضۃ (بیشك وہ طیبہ ہے گناہوں کو دور کرتا ہے جیسے بھٹی چاندی کا میل دور کرتی ہے ۔ ت) وغیرہ بیان کرکے فرماتے ہیں :
“ مراد نفی وابعاد اہل شرو فساداست ازساحت عزت ایں بلدہ طیبہ وبقول اکثر علمائے دین خاصیت مذکورہ دروے درجیمع ازمان ودہور پیداست ۔ “
اس شہر پاك کی سرزمین سے شرفساد والوں کو دور کرنا مراد ہے ا ور اکثر علمائے دین کے بقول اس میں یہ خاصیت ہر دور اور ہر زماے میں ہے ۔ ت)
صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان الایمان لیار زالی ا لمدینۃ کما تارز الحیۃ الی جحرھا ۔
بیشك ایمان مدینہ کی طرف سمٹتا ہے جیسے سانپ اپنے بل کی طرف۔
امام قرطبی اس کی شرح میں فرماتے ہیں :
فیہ تنبیہ علی صحۃ مذھبھم وسلامتھم من البدع وان عملھم حجۃ فی ماننا ۔
اس حدیث شریف میں تنبیہ ہے اس پرکہ ان کا مذہب صحیح ہے اور وہ بدعتوں سے پاك ہیں ان کا عمل ہمارے زمانہ میں حجت ہے۔
صحیح البخاری باب الایمان یازرالی المدینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۵۲
عمدۃ القاری شرح البخاری بحوالہ قرطبی دارالطباعۃ المنیریہ بیروت ۱۰ / ۲۴۰
(۲۸) ابھی جواہر الفتاوی وفتاوی عالمگیریہ سے گزرا کہ دینداروں کے افعال سند ہوتے ہیں یہ چھٹی حجت ہوئی۔
(۲۹) اب یہ بفضل اﷲ عزوجل ہم وہ عبارات جانفزا ذکر کریں جن سے یہ ثابت ہو کہ روضہ انور میں کیسی روشنی ہوتی ہے اور کے برسوں سے رائج ہے۔ جب سلطنت عثمانیہ کی بنیاد بھی نہ پڑی تھی اوریہ کہ وہ خاص روضہ اطہر ہی کے واسطے ہے نہ کہ بہ نیت مسجد ا وریہ کہ وہ بمنظوری علماء کرام ہے نہ کہ صرف فعل سلاطین۔ اور یہ کہ کیسے امام جلیل نے اس کے جواز کا روشن فتوی دیا نہ فتوی بلکہ خاص اس باب میں مستقل رسالہ تصنیف فرمایا والحمدﷲ۔ عالم مدینہ طیبہ امام اجل سید ابوالحسن علی نورالدین بن عبد اﷲ سمہودی مدنی قدس سرہ معاصر امام اجل جلال الملۃ والدین سیوطی رحمہم اللہ تعالی نے (کہ دونوں حضرات کی وفات شریف ۹۱۱ ھ میں ہوئی) کتاب مستطاب خلاصۃ الوفاء باخبار دارالمصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تصنیف ۸۹۳ ہجری کے باب رابع کی شانز دہ گانہ فصلوں میں تفصیل نمبر ۱۱ روضہ اقدس کے تزك واحتشام وشیشہ آلات وسامان روشنی کے بیان میں وضع فرمائی اورفصل نمبر ۱۴ مسجد مقدس کے ستونوں چراغوں وغیرہ کے بیان میں جدا لکھی اس فصل مسجد میں فرمایا :
بصحن مسجد اربع مشاعل تشعل فی لیالی الزیارات المشہورۃ وماعلمت اول من احدثھا وبالمسجد سلاسل کثیرۃ للقنادیل علمت بعد الحریق والمرتب للوقود منھا یزید وینقص لما لا یخفی ۔
مسجد کریم کے صحن میں چارمشعلیں ہیں کہ زیارت کی مشہور راتوں میں روشن کی جاتی ہیں اور مجھے معلوم نہ ہوا کہ اول یہ مشعلیں کس نے رکھیں اور مسجد میں قندیلوں کی بہت سی زنجیریں ہیں کہ آتشزدگی کے بعدبنیں او ران کی روشنی کا راتب گھٹتا بڑھتا ہے جس کا سبب ظاہر ہے۔
۔
امامعالیق الحجرۃ الشریفۃ التی تعلق حولہا من قنادیل الذھب والفضۃ ونحوھما فلم اقف علی ابتداء حدوثھا الاا ن ابن النجار قال مالفظہ فی سقف المسجد الذی بین القبلۃ والحجرۃ علی رأس الزوار اذ وقفوا معلق نیف واربعون قندیلا کباراو صغارا من الفضۃ المنقوشۃ والساذجۃ وفیھااثنان من بلور وواحد من ذھب وفیھما قمر من فضۃ مغموس فی الذھب وھذہ تنفذ من البلدان من الملوك وارباب الحشمۃ انتہی وعمل من ذکر مستمر بذلك لم تزل ھذہ القنادیل فی زیادۃ ومن احسن مارأیت من معالیق الحجرۃ قندیل من فولاد کبیر احسن التکوین مخرما مکفتا بذھب یضیئ اذااسرج فیہ وعلیہ مکتوب ان الناصر محمد بن قلادون علقہ بیدہ ھناك ۔ انتھی ملتقطا
حاصل یہ ہے کہ روضہ انور کا سامان روشنی سونے کی قندیلیں اور چاندی کی اوران کے مثل اور قیمتی چیزوں کی کہ روضہ مطہر کے گرد آویزاں کی جاتی ہیں مجھے معلوم نہ ہو ا کہ ان کی ابتداء کب سے ہے ہاں امام حافظ الحدیث محمد بن محمد بن النجار متوفی ۶۴۲ھ نے اپنی کتاب الدرالثمینہ فی اخبار المدینہ میں فرمایا کہ سقف مسجد کریم کے اتنے ٹکڑے میں کہ دیوار قبلہ سے حجرہ مقدسہ تك ہے۔ جب زائرین مواجہہ اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں کھڑے ہوں ان کے سروں پر چالیس سے زائد قندیلیں آویزاں ہیں۔ بڑی بڑی زاور چھوٹی چاندی کی نقشی اور ساری اور ان میں دو بلور کی ہیں ایك سونے کی اور ایك چاندی کا چاند ہے سونے میں مغرق او ریہ شہروں شہروں سے سلاطین وامراء حاضر کیا کرتے ہیں انتہی۔ اوریہ دستور برابر چلاآتاہے ہمیشہ ان قندیلوں میں ترقی ہوتی رہی اور روضہ مطہرہ کی تمام آویزاں روشنیوں میں سب سے زیادہ خوبصورت جو میں نے دیکھی وہ فولادی بڑی قندیل ہے کہ نہایت خوبصورت بنی ہوئی ہے اس کے پیٹ اور کنارو ں پر سونا چڑھا ہوا ہے کہ اس میں روشنی کرنے سے دمکنے لگتاہے اس پر لکھا ہوا ہے کہ ناصرالدین محمود بن قلادون نے اسے یہاں اپنے ہاتھ سے لٹکایا انتہی ملتقطا
یہاں تو آپ کو یہ معلوم ہوا کہ روشنی خاص روضہ منورہ کے لیے ہے اور یہ کہ کتنی کثیر وشاندارہے اور یہ کہ صدہا سال سے ہے اور یہ کہ عثمانی سلطنت سے بھی پہلے سے ہے۔ اب مجمع علمائے کرام کا ذکر سنئے
جب مکہ معظمہ میں آئے حضرت شریف مکہ سیدی حسن بن ابی نہی حسنی اور ناصر حرم محترم قاضی مدینہ منورہ شیخ الاسلام سید العلماء سیدی حسین حسینی مکی اور قاضی مکہ معظمہ مولانا مصلح الدین لطفی بگ زادہ مع جملہ اعیان واکابر حرم محترم حاضر ہوئے ۔ فرماتے ہیں : وکافۃ العلماء والفقھاء والموالی یعنی مکہ معظمہ کے تمام علماء وفقہاء وسردار گرد کعبہ معظمہ جمع ہوئے پھر آستانہ عالیہ کی طرف سے حضرت شریف ودیگر عظماء کو خلعت پہنائے گئے کعبہ معظمہ کا دروازہ کھولا گیا سیدنا الشریف نے خلعت پہنا اور طواف کعبہ معظمہ کیا ادھر وہ طواف میں ہیں ادھر رئیس مؤذنان قبہ زمزم پر سلطنت وشریف کے لیے بآواز بلند دعا کررہاہے اور تمام حاضرین دعا وآمین میں مشغول ہیں بعد فراغ طواف ورکعتین طواف حضرت شریف کعبہ معظمہ کے اندر حاضر ہوئے اور اپنے دست مبارك سے قندیلیں آویزاں کیں سب حاضرین جملہ علماء وفقہاء وامراء وعظماء نے فاتحہ پڑھی اور دعائیں کیں اور جلسہ ختم ہوا علامہ ممدوح فرماتے ہیں :
وکان یوما شریفا مشہودا ووقتا مبارکا متیمنا مسعودا ۔
او روہ دن بزرگ اور تمام اعیان مکہ کی حاضری کا تھاا وروہ وقت مبارك اورفرخندہ باسعادت تھا۔
پھر محمد چادیش باقی قندیل لے کر سرکار ارعظم مدینہ طیبہ حاضرہوئے علامہ فرماتے ہیں :
واجتمعت لہ اکابر المدینۃ الشریفۃ واعیانھا وعلماؤھا وصلحاؤھا ۔
وعمل محفل شریف فی الحرم الشریف البنوی ۔ وفتحت الحجرۃ الشریفۃ النبویۃ علی ساکنھا افضل الصلوۃ وعلق ذلک
ان کے پاس مدینہ طیبہ کے اکابر وعمائد وعلماء وصلحاء سب جمع ہوئے۔ حرم کریم میں محفل عظیم منعقد کی گئی۔ حجرہ طاہرہ مزار پرانوار حضرت سید الابرار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کھو لاگیا اور وہ سو نے کی قندیل جواہر
بے بہا سے مرصع روئے انور سید اطہر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مواجہ اقدس میں آویزاں کی گئی ۔
وقرئت الفواتح وحصل الدعاء ۔
حاضرین نے فاتحہ پڑھی او ردعا کی اور مجلس بخیر وخوبی ختم ہوئی ۔ علامہ ممدوح اس حکایت کا خاتمہ ان لفظوں میں فرماتے ہیں :
وھو اول من علق قنادیل الذھب فی الحرمین الشریفین من سلاطین ال عثمان خلد ا ﷲ تعالی سلطنتھم وقد سبق بھذہ المنقبۃ الشریفۃ ابائہ السلاطین العظام ۔
یعنی سلاطین آل عثمان میں کہ ا ﷲ عزوجل ان کی سلطنت کو ہمیشہ رکھے سلطان مرادخاں نے اس کی پہل کی کہ حرمین محترمین میں سونے کی قندیلیں آویزاں کیں وہ اس عظیم منقبت میں اپنے باپ داداسلاطین پر سبقت لے گئے۔
اس خاتمہ سے دو۲ فائدے ظاہر ہوئے ایك یہ کہ سلاطین عثمانیہ سے پہلے سلاطین بھی سونے کی قندیلیں حاضر کرتے سلاطین عثمانیہ سے پہلے یہ سعادت سلطان محمد مرادخاں نے پائی ۔ دوسرے یہ کہ علامہ ممدوح اس کا استحسان فرماتے اور اسے منقبت شریفہ بتاتے ہیں۔
اب پھر عبارات سابقہ خلاصۃ الوفاء کی طرف رجوع کیجئے ا وروہ سنئیے جوا مام ممدوح سیدی نورالدین سمہودی اس عبارت کے اثناء میں اس جانفرا روشنی کے بیان میں حکم فرماتے ہیں وہ عبارت یہ ہے :
وقد الف السبکی تالیفا سماہ تنزیل السکینۃ علی قنادیل المدینۃ وذھب فیہ الی جوازھا وصحۃ وقفھا وعدم جواز صرف شیئ منھا لعمارۃ المسجد ۔
بیشك امام اجل تقی الملۃ والدین علی بن عبدالکافی متوفی ۷۵۶ ھ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے خاص اس باب میں ایك کتاب تالیف فرمائی جس کانام “ تنزیل السکینۃ علی قندیل المدینۃ “ رکھا اور اس کتاب میں ا ن کا وقف صحیح ہونا بیان فرمایاا ور یہ کہ ان کو مسجد کی عمارت میں صرف کرنا جائز نہیں۔
یہ امام اجل وہ ہیں جن کی نسبت امام ابن حجر فرماتے ہیں : الا مام المجمع علی جلالتہ واجتھادہ یہ وہ امام کہ ان کی جلالت شان وقابلیت اجتہاد پر اجماع ہے۔
الاعلام باعلام بلد اﷲ الحرام
الاعلام باعلام بلد اﷲ الحرام
وفاء الوفاء فصل ۲۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۹۵ ۔ ۵۹۱
امام ابن حجر
الناس یقولون ماجاء بعد الغزالی مثلہ وعندی انھم یظلمونہ وما ھو عندی الامثل سفین الثوری ۔
لو گ کہتے ہیں امام حجۃ الاسلام کے بعد کوئی امام تقی الدین سبکی کے مثل پیدا نہ ہوا ا ور میرے نزدیك وہ ان کی شان گھٹاتے ہیں میرے نزدیك توو ہ امام سفیان ثوری کے ہمسر ہیں۔
جواجلہ اکابر تابعین سے تھے وہ اس روشنی کو فقط جائز ہی نہیں بتاتے بلکہ فرماتے ہیں کہ اس پر رحمت الہی کا سکینہ اترتا ہے۔ غالبا اب تو زیدصاحب اپنے تمام وساوس سے باز آکر اپنی قسم پوری کریں گے۔
(۳۰) حدیث مذکور کو زید نے بالجزم رسول خدا کا ارشاد بتایا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ یہ سخت بیباکی وجرأت ہے ۔ وہ حدیث صحیح نہیں ۔ ا س کی سند کا مدار ابوصالح باذام پر ہے ۔ باذام کو ائمہ فن نے ضعیف بتایا۔
تقریب امام ابن حجر عسقلانی میں ہے :
باذام بالذال المعجمۃ ویقال اخرہ نون ابوصالح مولی ام ھانی ضعیف مدلس ۔
باذام ذال معجمہ سے اور کہا جا تا ہے کہ اخرمیں نون— یعنی باذان— ابوصالح— ام ہانی کا آزاد کردہ غلام ضعیف تدلیس کرنے ولا ہے۔ (ت)
(۳۱)یہیں سے ظاہر ہو ا کہ یہ حدیث قابل احتجاج نہیں کہ حدیث ضعیف دربارہ احکام حجت نہیں ہوتی تحسین ترمذی باعتبار ترجمہ باب سے کہ اسے باب ماجاء فی کراھیۃ ان یتخذ علی القبر مسجدا میں وارد کیا اور قبور پر مسجد نہ بنانے میں بیشك احادیث متعدد وارد۔ خود جامع ترمذی میں ہے : وفی الباب عن ابی ھریرۃ وعائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہما ( اس باب میں حضرت ابوہریرہ و حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی روایت ہے ۔ ت) بخلاف چراغ کہ اس کی ممانت میں یہی حدیث ضعیف باذام ہے ۔ اس کا یہ ٹکڑا حسن نہیں۔ خود امام ترمذی اپنی اصطلاح میں فرماتے ہیں :
ماذکرنا فی ھذا الکتاب حدیث حسن فانما اردنا حسن اسنادہ عندنا کل حدیث یروی لایکون
اس کتاب میں ہم نے جسے حدیث حسن بتایا اس سے یہی مراد ہے کہ وہ ہمارے نزدیك حسن ہے جس حدیث کی
تقریب التہذیب حرف الباء الموحدہ ترجمہ ۶۳۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۲۱
جامع الترمذی ابواب الصلٰوۃ باب ماجاء فی کراھیۃ ان یتخذ علی القبر الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۴۳
سند میں کوئی متہم بالکذب نہ ہو نہ ہی وہ حدیث شاذ ہو اور ایسے ہی متعدد طرق سے مروی ہو وہ ہمارے نزدیك حدیث حسن ہے۔ (ت)
(۳۲)حدیث مانعین سے تین۳ جواب ہیں :
پہلا یہ کہ حدیث سرے سے صحیح ہی نہیں اور سب میں اخیر تنزل کا جواب کہ امام نابلسی کے ارشاد سے گزرا۔ اور اوسط جواب یہ ہے کہ حدیث میں لفظ علی ہے اس سے قبر پر چراغ رکھنے کی ممانعت ہوئی اسے ہم بھی تسلیم کرتے ہیں ظاہر کہ علی کے معنی حقیقی یہ ہیں اور حقیقت سے بلا ضرورت عدول نا مقبول وہ عدول ہی تاویل ٹھہرے گا۔ اور اگر وجہ موجہ نہ رکھتا ہو مردود رہے گا۔
تاویل یہ ہے کہ لفظ کو اس کے معنی ظاہر سے پھرا جائے مگر طرفہ یہ کہ زید نے معنی حقیقی مراد لینے کا نام تاویل رکھا او رتاویل بھی کیسی ضعیف اور نہ صرف ضعیف بلکہ معاذ اﷲ حدیث کے ساتھ مضحکہ۔ اس ظلم شدید کی کوئی حد ہے۔ او رنہ دیکھا کہ امام علامہ نابلسی قدس سرہ القدسی اس حدیث کی شرح میں کیا فرماتےہیں :
المتخذین علیھا ای القبور یعنی فوقھا ۔
قبروں پر یعنی ان کے اوپر ۔ (ت)
دیکھو اس معنی حقیقی کی تصریح فرمائی جسے زیدنے معاذ اﷲ مضحکہ بنایا۔
(۳۳) کریمہ لنتخذن علیھم مسجدا میں ضمیر جانب اصحاب کہف ہے اور آدمی کے جسم کے اوپر مسجد بنانے کے کوئی معنی نہیں تو مجاز متعین ہے بخلاف حدیث کہ اس میں ضمیر جانب قبور ہے۔ اور قبر پر چراغ رکھنا ممکن بلکہ بعض جگہ عوام سے واقع ہے تو اسے آیت پر قیاس کرنا محض سوئے فہم ہے۔ وہ چمك کر کہا تھا کہ “ کیا اس کے یہ معنی ہیں اصحاب کہف کے سینہ پر سنگ بنیاد مسجد کا رکھیں گے۔ “ وہ خود اپنے شبہہ کے پاؤں میں تیشہ ہے۔ یہ معنی صحیح نہ ہونا ہی حقیقت سے صاف اور مجاز کا قرینہ ہوا یہاں کہ بے تکلف معنی حقیقی بن رہے ہیں ا ن سے پھیرنے والا کون اور مجاز کے لیے بے قرینہ کیا۔
(۳۴) دوسری مثال قبر پر چڑھاوا چڑھانے کی دی اور نہ سمجھا کہ یہاں مجاز لفظ “ پر “ میں نہیں کہ علی بمعنی عند ہو جس طرح تم حدیث میں لے رہے ہو قبر کے نزدیك کسی چیز کے چڑھانے کے کیا معنی بلکہ مجاز خود یہاں چڑھاوے کے لفظ میں ہے۔ صدقہ کہ جہال کسی مریض وغیرہ کے لیے چورا ہے میں رکھتے ہیں اسے
الحدیقۃ الندیۃ ایقاد الشموع فی القبور مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۳۰
ثم ینھض فیتوجہ الی قبرہ صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم ولا یضع یدہ علی جدار التربۃ فھو اھیب واعظم للحرمۃ ویقف کما یقف فی الصلوۃ اھ قدر الحاجۃ۔
یعنی پھر کھڑا ہو کر قبر اکرم حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف متوجہ ہو اور تربت کریمہ کی دیوار پر ہاتھ نہ رکھے کہ اس میں زیادہ ہیبت وتعظیم حرمت کریمہ ہے اور یوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جیسانماز میں کھڑا ہو تا ہے اھ بقدر ضرورت ۔ (ت)
منسك متوسط اور اس کی شرح مسلك متقسط علی قاری میں ہے :
ولیغتنم ایام مقامہ بالمدینۃ المشرفۃ فیحرص علی ملازمۃ المسجد وادامۃ النظر الی الحجرۃ الشریفۃ ان تیسراو القبۃ المنیفۃ ان تعسر مع المھابۃ والخضوع والخشیۃ و الخشوع ظاھرا وباطنا فانہ عبادۃ کالنظر الی الکعبۃ الشریفۃ ۔
یعنی مدینہ طیبہ میں حاضری کے دنوں کو غنیمت جانے اکثر اوقات مسجد کریم میں حاضر رہے او رہوسکے تومزار اطہر کے حجرہ مقدسہ ورنہ اس کے گنبد مبارك ہی کودیکھتا رہے ۔ خوف وادب اور خشوع وخضوع کے ساتھ کہ اس پر نگاہ ہی عبادت ہے جیسے کعبہ معظمہ پر نظر ۔ (ت)
علامہ القاری فاکہی مکی تلمیذ امام ابن حجر مکی رحمہم اللہ تعالی حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں فرماتے ہیں : ومنھا ان لا یستد بر القبر الشریف ۔ یعنی آداب میں سے ہے :
فتاوٰی ہندیہ خاتمہ فی زیارت قبر البنی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نورانی کتب خانہ پشاور۱ / ۲۶۵
المسلك المتقسط شرح منسك متوسط مع ارشاد الساری فصل ولیغتنم ایام مقامہ دارالکتب العربی بیروت ص ۳۴۱
حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل
اذا اردت صلوۃ فلا تجعل حجرتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وراء ظھرك ولابین یدیك والادب معہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعد وفاتہ مثلہ فی حیاتہ فما کنت صانعہ فی حیاتہ فاصنعہ بعد وفاتہ من احترامہ والا طراق بین یدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
جب تو نما زپڑھنا چاہے توحجرہ مطہر ہ مزار اطہر کوپیٹھ نہ کر نہ نماز میں اپنے سامنے رکھ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ادب بعد وفات بھی ویسا ہی ہے جیسا عالم حیات ظاہر میں تھا تو جیسا تو اس وقت ادب کرتا او رحضور کے سامنے سرجھکا تا ایسا ہی مزاراطہر کے حضور کر۔
یہ سب تعظیم نہیں تو اور کیا ہے۔ اس قسم کے ارشادات ائمہ اگر جمع کئے جائیں تو ایك دفتر ہو ا ور خود اس سے زیادہ اور کیا تعظیم قبر اطہر ہوگی جو حدیث میں ہے کہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے خواب میں جمال جہاں آراکی زیارت سے مشرف ہونے کے لیے تعلیم فرمائی در منظم امام ابوالقاسم محمد لولوی بستی میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من صلی علی روح محمد فی الارواح و علی جسدہ فی الاجساد وعلی قبرہ فی القبور رانی فی منامہ ومن رانی فی منامہ رانی یوم القیامۃ ومن رانی یوم القیامۃ شفعت لہ و من شفعت لہ شرب من حوضی وحرم اﷲ جسدہ علی النار ۔
جو محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی روح اقدس پر ارواح میں اور جسد اطہر پرا جسام میں اور قبرا نور پر قبور میں درود بھیجے وہ مجھے خواب میں دیکھے ا ور جو خواب میں دیکھے مجھے قیامت میں دیکھے گا۔ او رجو مجھے قیامت میں دیکھے گا میں اس کی شفاعت فرماؤں گا۔ اور جس کی میں شفاعت فرماؤں گا وہ میرے حوض کریم سے پئے گا اور ا ﷲ عزوجل اس کے بدن پر دوزخ کوحرام فرمائے گا۔
اللھم ارزقنا بجاھہ عندك امین (ا ے اﷲ ! ہمیں نصیب فرما ان کی اس وجاہت کے طفیل جو تیرے حضور ان کے لیے ہے۔ الہی قبول فرما ۔ ت)
وفاء الوفاء الفصل الرابع من الباب الثامن احیاء التراث العر بی بیروت ۴ / ۱۴۱۰
درمنظم امام ابوالقاسم محمد لولوی بستی
(۳۸) رہی تیسری وجہ کہ وہ آثار جہنم سے ہے۔ والعیاذ باﷲ تعالی۔
اقول : اس کی غایت ایك تفاول ہے وہ ا س قابل نہیں کہ جس کے لحاظ نہ کرنے پر مسلمان لعنت کا مستحق ہو تو یہ اس کی تو جیہ نہیں ہوسکتہی شرع کوا یسی فالوں کا اتنا عظیم لحاظ ہوتا تو میت کو گرم پانی سے نہلانے کا حکم نہ ہوتا کہ وہ بھی آثار جہنم سے ہے۔ قال اﷲتعالی :
یصب من فوق رءوسهم الحمیم(۱۹) ۔
اس ( جہنمی) پر انکے سروں کے اوپر سے گرم پانی بہایا جائے گا۔ (ت)
حالانکہ وہ شرعا مطلوب ہے۔ درمختارمیں ہے :
یصب علیہ ماء مغلی بسدران تیسر والا فماء خالص ۔
اس (میت) پر بیری جوش دیا ہو ا پانی بہایا جائے اگر میسر ہو ورنہ سادہ پانی ۔ (ت)
ردالمحتار ونہر الفائق میں ہے :
افادان الحار افضل سواء کان علیہ وسخ اولا۔
اس سے مستفادہوا کہ گرم پانی بہتر ہے میت کے جسم پر میل ہو یا نہ ہو ۔ (ت)
اور بفرض تسلیم ا س کا محل وہی ہے کہ خاص قبروں پر چراغ رکھیں کہ فال ہے تو اس میں ہے نہ کہ اس کے گرد یا مناروں یا احاطہ کی دیواروں پر “ علماء نے تفاول کے سبب جب پکی اینٹ قبر میں لگانی مکروہ بتائی کہ وہ آگ دیکھے ہوئے ہے والعیاذ باﷲ تعالی تصریح فرمائی کہ یہ اس صور ت میں ہے کہ خاص لحد پر پختہ اینٹیں لگائیں جو قریب میت ہے ورنہ بالائے قبر اس میں حرج نہیں یہ خود آگ ہے۔ اس میں بالائے قبر بھی حرج ہے مگر حول میں حرج
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۲۰
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ۱ / ۵۷۵
یسوی اللبن علیہ والقصب لاالاجر المطبوخ والخشب لو حولہ اما فوقہ فلایکرہ ۔
اس پر کچی اینٹ ا ور بانس چن دیں پکی اینٹ اور لکڑی اس کے گرد نہ رکھیں ہاں اوپر ہو تو حرج نہیں۔ (ت)
ابن ملك بدائع میں ہے :
لانہ مما مستہ النار فیکرہ ان یجعل علی المیت تفاولا ۔
اس لیے کہ اس پر آگ کا اثر پہنچا ہو اہے تو تفاول کے سبب میت پر چننا مکروہ ہے ۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
قال الامام التمرتاشی ھذا اذاکان حول المیت فلوفوقہ لایکرہ ۔
امام تمرتاشی نے فرمایا : یہ اس وقت ہے جب خاص میت کے گرد ہو اوپر ہو تو مکروہ نہیں ۔ (ت)
(۳۹)کس نادانی کا اعتراض ہے کہ علی معنی حقیقی پر لیں تو کوئی شخص قبر کے نیچے یا قبر کے بیچ میں چراغ جلائے تو وہ جائز ہوجائے۔ دربارہ مسجد تو آپ کو بھی مسلم کہ علی معنی حقیقی پر ہے تو کوئی شخص قبرکے نیچے یاقبر کے بیچ میں مسجد بنائے یا نماز پڑھے تو وہ جائز ہوجائے کیونکہ حدیث میں قبر پر کی ممانعت ہے۔ اب بھی کہیے کہ استغفراﷲ ۔ یہ حدیث کے ساتھ مضحکہ کرناہے۔
(۴۰) کثرت چراغاں کا ذکر روشنی روضہ انور میں گزرا او راس کے متعلق احیاء العلوم شریف کی ایك عبارت اور لکھیں کہ موافقین کے دل روشن ہوں اورمخالفین کی آنکھیں چکاچوند سے جلیں امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی قبیل کتاب آداب النکاح میں فرماتے ہیں :
حکی ابوعلی الرودباری رحمہ اﷲ تعالی عن رجل انہ اتخذ ضیافۃ فاوقدفیھا الف سراج وقال لہ رجل قداسرفت فقال لہ ادخل فکلما اوقد تہ لغیر اﷲ
یعنی امام اجل عارف اکمل سند الاولیاء حضرت سید نا امام ابوعلی رودباری رضی اللہ تعالی عنہ (کہ اجلہ اصحاب سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ تعالی عنہ سے ہیں ۳۲۲ ہجری میں وصال شریف ہے
بدائع الصنائع فصل فی سنۃ الحفر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۱۸
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
اما م عارف باﷲ استاذ ابوالقاسم قشیری قدس سرہ نے رسالہ مبارك میں ان کی نسبت فرمایا اظرف المشائخ واعلمھم بالطریقۃ (مشائخ میں سب سے زیادہ عقلمند اور طریقت کے سب سے بڑے عالم ۔ ت)
حکایت فرماتے ہیں کہ ایك بندہ صالح نے احباب کی دعوت کی اس میں ہزار ہا چراغ روشن کیے کسی نے کہا آپ نے اسراف کیا صاحب خانہ نے فرمایا : اندر آئیے جو چراغ میں نے غیر خدا کے لیے روشن کیا وہ گل کردیجئے معترض اندر گئے ہر چند کوشش کی ایك چراغ بھی نہ بجھا سکے آخر قائل ہوگئے وﷲ الحمد۔
بالجملہ حاصل حکم یہ ہے کہ قبور عامہ ناس پر روشنی جب خارج سے کوئی مصلحت مصالح مذکورہ کے امثال سے نہ ہو ضرور اسراف ہے اور اسراف بیشك ممنوع فقہاء اسی کو منع فرماتے ہیں کہ یہی علت منع بتاتے ہیں اور اگر زینت قبر مطلوب ہو تو قبر محل زینت نہیں اب بھی اسرا ف ہوا بلکہ کچھ زائد یوں ہی اگر تعظیم قبر مقصود ہو کہ یہاں تعظیم نسبت نہیں رہے مزارات محبوبان الہ ان میں اگر زینت قبر یا تعظیم نفس قبر کی نیت ہو یہاں بھی وہی ممانعت رہے گی کہ یہ نیتیں شرعا محمود نہیں او ر اگر ان کی روح کریم کی تعظیم وتکریم مقصود ہو اب نہ اسراف ہے کہ نیت صالحیہ موجود ہے نہ تعظیم قبر بلکہ تعظیم روح محبوب اور وہ شرعا بلاشبہہ مطلوب امام اجل تقی الدین سبکی وامام نورالدین سمہودی وامام عبدالغنی نابلسی رحمہم اللہ تعالی اسی کو جائزبتاتے ہیں او رکسی کے قلب پر حکم لگا نا کہ اسے تعظیم قبر ہی مقصود ہے نہ کہ تعظیم روح ولی محض خراف وبدگمانی وحرام بنص قرآنی ہے۔ قال اﷲ تبارك وتعالی :
و لا تقف ما لیس لك به علم-ان السمع و البصر و الفؤاد كل اولىك كان عنه مسـٴـولا (۳۶)
اور اس کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں۔ بیشك کا ن آنکھ ہر ایك سے باز پرس ہوگی ۔ (ت)
وقال اﷲ تبارك وتعالی :
یایها الذین امنوا اجتنبوا كثیرا من الظن-ان بعض الظن اثم ۔
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
اے ایمان والو! زیادہ گمان سے بچو بلاشبہہ بعض گمان گناہ ہیں (ت)
او ر رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
القرآن ۱۷ / ۳۶
القرآن ۴۹ / ۱۲
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔
تو تونے ا س کا دل کیوں نہ چاك کیا (ت)
اور سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : گمان سے بچوکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے (ت)
اور تعظیم روح اور تعظیم قبر میں فرق نہ کرنا سخت جہالت ہے عارف نابلسی کاا رشاد گزرا اور امام سمہودی فرماتے ہیں :
لیس القصد تعظیم بقعۃ القبر بعینھا بل من حل فیھا ۔
خاص زمین قبرکی تعظیم مقصود نہیں بلکہ اس کی تعظیم مقصود ہے جو اس میں فروکش ہے ۔ (ت)
بلکہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالی علیہ مسند شریف میں بسند حسن روایت فرماتے ہیں :
اقبل مروان یوما فوجد رجلا واضعا وجہہ علی القبر فاخذ مروان برقبتہ ثم قال ھل تدری ماتصنع فاقبل علیہ فقال نعم انی لم ات الحجر انما جئت رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولم ات الحجر سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول لاتبکوا علی الدین اذا ولیہ اھلہ ولکن ابکوا علی الدین اذا ولیہ غیر اھلہ۔
یعنی مروان نے اپنے زمانہ تسلط میں ایك صاحب کو دیکھا کہ قبر اکرم سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر اپنا منہ رکھے ہوئے ہیں مروان نے ان کی گرد ن مبارك پکڑ کر کہا : جانتے ہو کیا کررہے ہو اس پر ان صاحب نے اس کی طر ف متوجہ ہوکر فرمایا : ہاں میں سنگ وگل کے پاس نہیں آیا ہوں میں تو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حضور حاضر ہو ا ہوں میں اینٹ پتھر کے پاس نہ آیا میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرماتے سنا دین پر نہ رؤو جب اس کا اہل ا س پر والی ہو ہاں اس وقت دین پر رؤو جبکہ نااہل والی ہو۔
یہ صحابی سیدنا ابو ایوب انصاری تھے رضی اللہ تعالی عنہ __ تو تعظیم قبر وروح مطہر میں فرق نہ کرنا مروان کی جہالت اور اسی کے ترکہ سے وہابیہ کو پہنچی اور تعظیم قبر سے جدا ہو کر تعظیم روح کریم کی برکت لینا
صحیح البخاری باب قول اﷲ تعالٰی من وصیۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۸۴
وفاء الوفاء الفصل الثانی من الباب الثامن داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۱۳۶۶
مسند احمد بن حنبل حدیث ابی ایوب الانصاری دارالفکر بیروت ۵ / ۴۲۲
تنبیہ : سب سے زائد اہم بات یہ ہے کہ زید صاحب سمجھیں تو بہت کچھ حق مانیں ہدایت کے شکر گزار ہوں یہ کہ تحریر زید کا خاتمہ کلمہ سخت شنیع وشتم فظیع پر ہواکہ “ اس قدر وعید کے بعد بھی کوئی شخص اس میں کٹ جحتی کرے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قبر میں تصفیہ کے قابل موسی بدین خود عیسی بدین خود ۔ “ زید نے دو فریق بنائے ایك کہ حق پربتایا ا ور دوسرے کو کٹ حجتی کرنے والا وعید الہی کے مقابل ہٹ دھرمی سے پیش آنے والا۔ اور اس پر مثال وہ ڈھادی کہ موسی بدین خود او رعیسی بدین خود اس تمثیل کی تطبیق کی جائے تو معاذ اﷲ جو حاصل نکلے ا س کے قہر و خباثت کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے ایسی جگہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر سخت جرأت وگستاخی وبد زبانی و دریدہ دہنی ہے۔ توبہ فرض ہے اور اﷲ تعالی ہادی
وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارك وسلم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اﷲ تعالی ہمارے آقا مولی حضرت محمد ان کی آل ان کے اصحاب ان کے فرزند اور ان کی جماعت پر درود وسلام اور برکت نازل فرمائے ا ورخدائے پاك برتر خوب جاننے والا ہے ۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۰ : از بنارس تھانہ بہلوپورہ محلہ احاطہ روہیلہ مرسلہ حافظ عبدالرحمن رفوگر ۲۸ محرم ۱۳۳۲ھ
حضرت کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ بزرگوں کے مزار پر جائیں تو فاتحہ کس طرح سے پڑھا کریں ا ور فاتحہ میں کون کون سی چیزیں پڑھا کریں
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم حافظ صاحب کرم فرفا سلمکم مزار شریفہ پر حاضرہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم ازکم چار ہاتھ کے فاصلے پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز بادب عرض کرے السلام علیك یا سیدی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ پھر درودغوثیہ تین بار الحمد شریف ایك بار آیۃ الکرسی ایك بار سورہ اخلاص سات بار پھر درود غوثیہ سات بار اور وقت فرصت دے تو سورہ یسں او رسورہ ملك بھی پڑھ کر اﷲ عزوجل سے دعا کرے کہ الہی ! اس قرأت پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے نہ اتنا جو میرے عمل کے قابل ہے او راسے میری طرف سے اس بندہ مقبول کو نذر پہنچا پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو ا س کے لیے دعا کرے اورصاحب مزار کی روح کو اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قراردے پھر اس طرح سلام کرکے واپس آئے مزار کو نہ ہاتھ لگائے نہ بوسہ دے
مسئلہ ۱۵۱ و ۱۵۲ : از شہر علی گڑھ محلہ مدار دروازہ مرسلہ عمر احمد سوداگر پارچہ بنارسی ۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱)قبر پر جانے سے مردہ کو معلوم ہوتا ہے کہ میرا کوئی عزیز آیا یاکوئی شخص آیا یا نہیں معلوم ہو تا اور زندہ کو مردہ کی قبر پر جانے سے مردہ کو کسی قسم کی تکلیف یاراحت ہوتی ہے یانہیں اور وہ کچھ پڑھ کر ثواب بخشے تومردہ کو علم ہوتا ہے یا نہیں
(۲) زید قبر پرکسی عزیز کی روز جاتا تھا پھر جانا بند کردیا یہ دریافت طلب ہے کہ اس مردہ کو زید کے آنے اور جانے سے کسی قسم کی تکلیف یا راحت ہوتی تھی یا نہیں
الجواب :
(۱) قبر پر کوئی جائے تو مردہ دیکھتا ہے اور جو کچھ کلام کرے و ہ سنتا ہے اور جو ثواب پہنچائے مردہ کو پہنچتا ہے اگرکوئی عزیز یا دوست جائے تو اس کے جانے سے مردہ کو راحت اور فرحت ملتی ہے جیسے دنیا میں یہ سب مضامین صحاح احادیث میں وارد ہیں وقدفصلنا ھا فی حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات ( ہم نے حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات میں ا ن کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ ت)
(۲) اس کاجواب سوال سابق کے جواب میں آگیا بیشك اعزہ واحباب کے جانے سے اموات کو فرحت ہوتی ہے اور دیرلگانے سے ان کا انتظار رہتا ہے وفیہ حکایۃ نفیسۃ فی شرح الصدور ( اس سلسلے میں شرح الصدور(للسیوطی) کے اندر ایك نفیس حکایت ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۵۳ : ازشہر ممباسہ ضلع شرقی افریقہ دکان حاجی قاسم اینڈ سنز مسئولہ حاجی عبداﷲ حاجی یعقوب ۲۶ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قبرستان میں ماں باپ کی زیارت کرنا بعد نماز فجر افضل یا بعد نماز عصر یا بعد نماز مغرب اور بعد مغرب زیارت کرنا کیا حکم رکھتا ہے بینوا توجروا
الجواب :
زیارت ہر وقت جائز ہے مگر شب میں تنہا قبرستان میں نہ جانا چاہیے۔ او ر زیارت کا افضل وقت روز جمعہ بعد نماز صبح ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۴ و ۱۵۵ : از بہیڑی ضلع بریلی جناب ریاض الدین صاحب کلف حکیم مقیم الدین صاحب مصنف اسلام کھنڈ ۱۰ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
(۲) دوسرے یہ کہ قرآن مجید پڑھ کر بخشنے والے کو بھی کچھ ثواب ملے گا یا نہیں کیونکہ زید کہتا ہے کہ جب پڑھ کر بخش چکے تو پھر ہمارے پاس کیا رہ گیا۔ آیا یہ صحیح ہے یا نہیں اور اﷲ تعالی فرماتا ہے : هل جزآء الاحسان الا الاحسان(۶۰) تو کیا احسان کا بدلہ احسان بھی جاتا رہا۔ توجروا۔
الجواب :
(۱) بلاشبہہ اس صور ت میں جس جس کے لیے جدا فاتحہ پڑھے گا اسے ثواب زائد پہنچے گا اور فرحت زیادہ ہوگی اور والدین واعزہ کی قبر پر جدا جدا جانے سے انس حاصل ہوگا جیسے حیات میں ۔ اور ولی کے مزار پرجدا حاضر ہونے میں اس کی خاص تعطیم ہے جو ایك عام بات میں شامل کرنے سے نہیں ہوسکتی زید کا یہ فعل بہت حسن ہے مگر اس کا لحاظ لازم ہے کہ جس قبر کے پاس بالخصوص جاناچاہتا ہے اس تك قدیم راستہ ہو ا گر قبروں پر سے ہو کر جانا پڑے تو اجازت نہیں سرراہ دور کھڑے ہوکر ایك قبر کی طرف متوجہ ہو کر ایصال ثواب کردے ۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲) زید غلط کہتا ہے وہ دنیا کی حالت پر قیاس کرتا ہے کہ ایك چیزدوسرے کو دے دیں تو اپنے پاس ہی نہ رہے۔ وہاں کی باتیں یہاں کے قیاس پر نہیں۔ صحیح حدیث میں فر مایا کہ جو اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کرے ان کی روحیں شادہوں او ریہ ان کے ساتھ نیکوکار لکھا جائے او ردونوں کو پورے حج کا ثواب ملے اور ا س کے ثواب سے کچھ کم نہ ہو ا سکی نظیر دنیا میں علم ہے کہ جتنا تقسیم کیجئے اوروں کو ملتا ہے اور اپنے پا س سے کچھ نہیں گھٹتا بلکہ بڑھ جاتا ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۶ و ۱۵۷ : از منجان مرسلہ علی محمد عیسی برادرز ۸ رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
(۱) قبرستان میں کلام شریف یا پنج سورہ قبر کے نزدیك بیٹھ کر تلاوت کرنا جائز ہے یا نہیں
(۲) قبر پر سبزی یا پھول یا اگر بتی رکھنا جلانا جائز ہے یا نہیں
(۱) قبر کے پاس تلاوت یاد پر خواہ دیکھ کر ہر طرح جائز ہے جبکہ لوجہ اﷲ ہو اور قبر پر نہ بیٹھے نہ کسی قبرپر پاؤں رکھ کر وہاں پہنچناہو اور اگر بے اس کے وہاں تك نہ جاسکے تو قبرکے نزدیك تلاوت کے لیے جانا حرام ہے بلکہ کنارے ہی سے جہاں تك بے کسی قبر کو روندے جاسکتا ہے تلاوت کرے درمختارمیں ہے :
یکرہ المشی فی طریق ظن انہ محدث حتی اذالم یصل الی قبرہ الابوطی قبر ترکہ لایکرہ الدفن لیلا ولااجلاس القارئین عند القبر وھو المختار ۔ واﷲ تعالی اعلم
قبرستان کے اندر ایسے راستے پر چلنا ممنوع ہے جس کے بارے میں گمان ہو کہ وہ نیا بنالیا گیاہے یہا ں تك کہ جب اپنی میت کی قبر تك کسی دوسری قبرکو پامال کئے بغیر نہ پہنچ سکتا ہوتو وہاں تك جانا ترك کرے۔ رات کو دفن کرنا اور قبر کے پاس تلاوت کرنے والوں کو بٹھانا مکروہ نہیں یہی مختار ہے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
قبر پر سبزی پھول ڈالنا اچھا ہے۔ علمگیری میں ہے : وضع الورد والریاحین علی القبور حسن ۔ قبروں پر گلاب وغیرہ کے پھول رکھنا اچھا ہے (ت) ردالمحتار میں ہے :
یؤخذ من ذلك ( ای من انہ مادام رطبا یسبح اﷲ تعالی فیونس المیت وتنزل بذکرہ الرحمۃ) ومن الحدیث ند با وضع ذلك للاتباع ویقاس علیہ مااعتید فی زماننا من وضع اغصان الآس ونحوہ ۔
پھول جب تك تر رہتا ہے اﷲ تعالی کی تسبیح کرکے میت کا دل بہلاتا ہے اور خدا کے ذکر سے رحمت نازل ہوتی ہے۔ ا س بات سے اور حدیث پاك کے اتباع کے لحاظ سے اس کا مندوب ہونا اخذ ہوتاہے ۔ اسی پر قیاس بھی ہوگا جو ہمارے زمانے میں آس وغیر کی شاخیں رکھنے کا دستور ہے ۔ (ت)
اگر بتی قبر کے اوپر رکھ کر نہ جلائی جائے کہ اس میں سوء ادب اور بدفالی ہے۔ علمگیری میں ہے : ان سقف القبرحق المیت (قبرکی چھت حق میت ہے ۔ ت) ہاں قریب قبر زمین خالی پر رکھ کر سلگائیں کہ خوشبومحبوب ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۳۱
ردالمحتاار مطلب وضع الجدید ونحوالآس علی القبور ادارۃالطباعۃ المصریہ مصر ۱ / ۶۰۷
فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۵۱
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پڑھنا قرآن شریف کا قبر پر بیٹھ کر جائز ہے یا نہیں ونیز قرآن شریف سامنے رکھ کر پڑھنا کیسا ہے
الجواب :
قبر کے سامنے بیٹھ کر تلاوت کی جائے حفظ خواہ قرآن مجید دیکھ کر اس کی رحمت اترتی ہے او رمردہ کا دل بہلتا ہے مگر قبر پر بیٹھنا جائز نہیں کہ میت کی توہین وایذا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۹ تا ۱۶۱ : از موضع بکہ جیبی والا علاقہ جاگل تھانہ بری پور ڈاکخانہ کوٹ نجیب اﷲ خا ں مرسلہ مولوی شیر محمد خان ۲۳ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) بوسہ قبر کا کیا حکم ہے(۲) قبر کا طواف کرنا کیسا ہے(۳) قبرکس قدر بلند کرنی جائز ہے
الجواب :
(۱) بعض علماء اجازت دیتے ہیں اور بعض روایات بھی نقل کرتے ہیں کشف الغطاء میں ہے :
درکفایۃ الشعبی اثرے درتجویز بوسہ دادن قبر والدین را نقل کردہ وگفتہ دریں صورت لاباس است شیخ اجل ہم درشرح مشکوۃ بودآں دربعضے اشارت کردہ بے تعرض بجرح آں ۔
کفایۃ الشعبی میں قبر والدین کو بوسہ دینے کے بارے میں ایك اثر نقل کیا ہے اورکہا ہے کہ اس صور ت میں کوئی حرج نہیں۔ اور شیخ بزرگ نے بھی شرح مشکوۃ میں بعض آثار میں اس کے وارد ہونے کا اشارہ کیا اور اس پر کوئی جرح نہ کی ۔ (ت)
مگر جمہور علماء مکروہ جانتے ہیں تو اس سے احتراز ہی چاہئے اشعۃ اللمعات میں ہے :
مسح نہ کند قبررا بدست وبوسہ نہ دہدآں را۔
قبر کو ہاتھ نہ لگائے نہ ہی بوسہ دے ۔ (ت)
کشف الغطاء میں ہے : کذافی عامۃ الکتب (ایسا ہی عامۃ کتب میں ہے ۔ ت)
اشعۃ اللمعات باب زیارۃ القبور مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۱۶
کشف الغطاء فصل دہم زیارت قبور مطبع احمدی دہلی ص ۷۹
دربوسہ دادن قبر والدین روایت بیہقی می کنند وصحیح آنست کہ لا یجوز است واﷲ تعالی اعلم
قبر والدین کو بوسہ دینے کے بارے میں ایك روایت بیہقی ذکر کرتے ہیں مگر صحیح یہ ہے کہ ناجائز ہے (ت)
(۲)بعض علماء نے اجازت دی ۔ مجمع البرکات میں ہے :
ویمکنہ ان یطوف حولہ ثلث مرات فعل ذلك ۔
گرد قبر تین بار طواف کرسکتا ہے ۔ (ت)
مگر راجح یہ کہ ممنوع ہے۔ مولانا علی قاری منسك متوسط میں تحریر فرماتے ہیں :
الطواف من مختصات الکعبۃ المنیفۃ فیحرم حول قبور الانبیاء والاولیاء ۔
طواف کعبہ کی خصوصیات سے ہے انبیاء واولیاء کی قبروں کے گرد حرام ہوگا ۔ (ت)
مگر اسے مطقا شرك ٹھہرادینا جیسا کہ طائفہ وہابیہ کا مزعوم ہے محض باطل وغلط اور شریعت مطہرہ پر افتراء ہے۔
(۳) ایك بالشت یا کچھ زائد۔
فی الدرالمختار یسنم قدر شبر فی رداالمحتار اواکثر شیئا قلیلا بدائع ۔
ایك بالشت کی مقدار کوہان کی طرح بنادی جائے (درمختار) یا کچھ زیادہ کردی جائے بدائع (ردالمحتار) (ت)
زیادہ فاحش بلندی مکروہ ہے۔ حلیہ میں ہے :
تحمل الکراھۃ علی الزیادۃ الفاحشۃ وعدمھا علی القلیلۃ المبلغۃ لہ مقدار اربع اصابع اوما فوقہ قلیل ۔ واﷲ تعالی اعلم
کراہت بہت زیادہ اونچی کرنے پر محمول ہے اور عدم کراہت قلیل زیادتی پر جوایك بالشت کی مقدار ہو یا اس سے کچھ زائد ۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مجمع البرکات
منسك متوسط مع ارشاد الساری فصل ولیغتنم ایام مقامہ الخ دارالکتب العربی بیروت ص ۳۴۲
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۲۵
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز ادارۃ الطباعۃالمصریۃ مصر ۱ / ۶۰۱
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
پیر مرشد کے مزار کا طواف کرنا اورمزار کی چوکھٹ کو بوسہ دینا اورآنکھوں سے لگا نااور مزار سے الٹے پاؤں پیچھے ہٹ کے ہاتھ باندھے ہوئے واپس آنا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
مزار کا طواف کہ محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص بخانہ کعبہ ہے۔ مزار کوبوسہ دینا نہ چاہئے علماء اس میں مختلف ہیں۔ اور بہتر بچنا او ر اسی میں ادب زیادہ ہے آستانہ بوسی میں حرج نہیں اور آنکھوں سے لگانا بھی جائز کہ اس سے شرع میں ممانعت نہ آئی۔ اور جس چیز کو شرع نے منع نہ فرمایا منع نہیں ہوسکتی قال اﷲ تعالی ان الحكم الا لله- (اﷲ کا ارشاد ہے : حکم نہیں مگر اﷲ کا ۔ ت)ہاتھ باندھے الٹے پاؤں واپس آنا ایك طرز ادب ہے۔ اور جس ادب سے شرع نے منع نہ فرمایا اس میں حرج نہیں ہاں اگر اس میں اپنی یا دوسرے کی ایذاء کا اندیشہ ہو تو اس سے احتراز کیا جائے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۳ : مزارات اولیائے کرام علیہم رحمۃ المنعام کے چومنے کو کفر یا شرك کہنا کیسا ہے
الجواب :
فی الواقع بوسہ قبر میں علماء مختلف ہیں اور تحقیق یہ ہے کہ وہ ایك امر ہے کہ دو چیزوں داعی ومانع کے درمیان دائر داعی محبت ہے او رمانع ادب تو جسے غلبہ محبت ہو اس پر مواخذہ نہیں کہ اکابر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے ثابت ہے۔ اور عوام کے لیے منع ہی احوط ہے ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مزار اکابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہو پھر تقبیل کی کیا سبیل! عالم مدینہ علامہ سید نورالدین سمہودی قدس سرہ خلاصۃ الوفاء شریف میں جدار مزار انور کے لمس وتقبیل وطواف سے ممانعت کے اقوال نقل کرکے فرماتے ہیں :
فی کتاب العلل والمسؤلات لعبد اﷲ بن احمد بن حنبل سألت ابی عن الرجل یمس منبر النبی صلی اﷲ تعالی
یعنی امام احمد بن حنبل کے صاحبزادہ امام عبداﷲ فرماتے ہیں : میں نے اپنے باپ سے پوچھا کوئی شخص نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے منبر کوچھوئے
او ربوسہ دے۔ اور ثواب الہی کی امید پر ایساہی قبر شریف کے ساتھ کرے فرمایا اس میں کچھ حرج نہیں۔ (ت)
امام اجل تقی الملۃ والدین علی بن عبد الکافی سبکی قدس سرہ الملکی شفاء السقام پھر سیدنورالدین خلاصۃ الوفاء میں بروایۃ یحیی بن الحسن عن عمر بن خالد عن ابی بناتۃ عن کثیر بن یزید عن المطلب بن عبداﷲ بن حنطب ذکر فرماتے ہیں کہ مروان نے ایك صاحب کو دیکھا کہ مزار اعطر سید اطہر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے لپٹے ہوئے ہیں اور قبر شریف پر اپنا منہ رکھے ہیں مروان نے ان کی گردن پکڑ کرکہا جانتے ہو یہ تم کیا کررہے ہو انھوں نے ا س کی طرف منہ کیا اور فرمایا :
نعم انی لم ات الحجر انما جئت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول لاتبکوا علی الدین اذا ولیہ اھلہ ولکن ابکوا علی الدین اذا ولیہ غیر اھلہ ۔
ہاں میں کسی پتھرکے پاس نہ آیا میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حضور حاضر ہواہوں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرماتے سنا دین پر نہ رو جب اس کا والی اس کااہل ہو ہاں دین پر رو جب نا اہل اس کا والی ہو۔
سید قدس سرہ فرماتے ہیں : رواہ احمد بسند حسن امام احمد نے یہ حدیث بسند حسن روایت فرمائی۔ نیز فرماتے ہیں :
روی ابن عساکر جید عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ ان بلا لارای النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو یقول لہ ماھذہ الجفوۃ یابلال اما ان لك ان تزورنی فانتبہ حزینا خائفا فرکب راحلتہ وقصد المدینۃ فاتی قبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فجعل یبکی
یعنی ابن عساکر نے بسند صحیح ابود رداء ضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ شام کو چلے گئے تھے ایك رات خواب دیکھا کہ حضورا قدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان سے فرماتے ہیں : اے بلال !یہ کیا جفا ہے کیا وہ وقت نہ آیا کہ ہماری زیارت کو حاضر ہو بلال رضی اللہ تعالی عنہ غمگین اور ڈرتے ہوئے جاگے اور بقصد زیارت اقدس سوار ہوئے مزار پر انوار پر
وفاء الوفا الفصل الثانی فی بقیۃ ادلۃ الزیارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۱۳۵۹
وفاء الوفا الفصل الثانی فی بقیۃ ادلۃ الزیارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۱۳۵۹
حاضرہو کر رونا شروع کیا اور منہ قبر شریف پر ملتے تھے۔
امام حافظ عبدالغنی وغیر ہ اکابر فرماتے ہیں :
لیس الاعتماد فی السفر للزیارۃ علی مجرد منامہ بل علی فعلہ ذلك والصحابۃ متوفرون ولاتخفی عنھم ھذہ القصۃ ۔
یعنی زیارت اقدس کے لیے شدالرحال کرنے میں ہم فقط خواب پر اعتماد نہیں کرتے بلکہ اس پرکہ بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ کیا اور صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم بکثرت موجود تھے اور انھیں معلوم ہوا اور کسی نے اس پر انکار نہیں فرمایا۔
عالم مدینہ (سیدنورالدین سمہودی علیہ الرحمۃ ) فرماتے ہیں :
ذکر الخطیب بن حملۃ ان بلالا رضی اﷲ تعالی عنہ وضع خدیہ علی القبر الشریف وان ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کا ن یضع یدہ الیمنی علیہ ثم قال ولا شك ان الاستغراق فی المحبۃ یحمل علی الاذن فی ذلك والقصد بہ التعظیم والناس تختلف مراتبھم کما فی الحیوۃ فمنھم من لا یملك نفسہ بل یباد رالیہ ومنھم من فیہ اناۃ فیتا خر اھ ونقل عن ابن ابی الصیف والمحب الطبری جواز تقبیل قبور الصالحین وعن اسمعیل التیمی قال کان ا بن المنکدریصیبہ الصمات فکان یقوم فیضع خدہ علی قبرالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فعوتب فی ذلك فقال انہ یستشفی بقبر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
یعنی خطیب بن حملہ نے ذکر کیاکہ بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے قبر انور پر اپنے دونوں رخسارے رکھے اورابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما اپنا دہنا ہاتھ اس پر رکھتے پھر کہا شك نہیں کہ محبت میں استغراق ا س میں اذن پر باعث ہوتا ہے اور اس سے مقصود تعظیم ہے او رلوگوں کے مرتبے مختلف ہیں جیسے زندگی میں تو کوئی بے اختیار انہ اس کی طرف سبقت کرتا ہے اور کسی میں تحمل ہے وہ پیچھے رہتا ہے او رابن ابی الصیف اور امام محب طبری سے نقل کیا کہ مزارات اولیاء کو بوسہ دینا جائز ہے۔ اوراسمعیل تیمی سے نقل کیا کہ المنکدر تابعی کو ایك مرض لاحق ہوتاکہ کلام دشوار ہوجاتاوہ کھڑے ہوتے اور اپنا رخسار قبر انور سید اطہر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر رکھتے کسی نے اس پر اعتراض کیا فرمایا میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مزاراقدس سے شفا حاصل کرتاہوں۔
وفاء الوفا الفصل الثانی فی بقیہ ادلۃ الزیارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۱۳۵۷
وفاء الوفا الفصل الرابع فی آداب الزیارۃ والمجاورۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۰۶ ۱۴
تمریغ الوجہ والخد واللحیۃ بتراب الحفرۃ الشریفۃ واعتابھا فی زمن الخلوۃ المامون فیھا توھم عامی محذور اشرعیا بسببہ امر محبوب حسن لطلابھا وامرہ لاباس بہ فیھا یظھر لکن لمن کان لہ فی ذلك قصد صالح وحملہ علیہ فرط الشوق والحب الطافح ۔
یعنی خلوت میں جہاں اس کا اندیشہ نہ ہو کہ کسی جاہل کا وہم اس کے سبب کسی ناجائز شرعی کی طرف جائے گا ایسے وقت بارگاہ اقدس کی مٹی او رآستانہ پراپنا منہ اور رخسارہ اور داڑھی رگڑنا مستحب او رمستحسن ہے جس میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا مگر اس کے لیے جس کی نیت اچھی ہو او رافراط شوق او رغلبہ محبت اسے اس پر باعث ہو۔
پھر فرماتے ہیں :
علا انی اتحفك بامریلوح لك منہ المعنی بان الشیخ الامام السبکی وضع حروجہ علی بساط دارالحدیث التی مسھا قدم النووی لینا ل برکۃ قدمہ وینوہ بمزید عظمتہ کما اشار الی ذلك بقول وفی دارالحدیث لطیف معنی الی بسط لہ اصبو واوی لعلی ان قال بحروجھی مکانا مسہ قدم النووی وبان شیخنا تاج العارفین امام السنۃ خاتمۃ المجتہدین کان یمرغ وجہہ ولحیتہ علی عتبۃ البیت الحرام بحجر اسمعیل ۔
یعنی علاوہ بریں میں تجھے یہاں ایك ایسا تحفہ دیتاہوں جس سے معنی تجھ پر ظاہر ہوجائیں وہ یہ کہ امام اجل تقی الملۃ و الدین سبکی دارالحدیث کے اس بچھونے پرجس پر امام نووی قدس اﷲ سرہ العزیز قدم مبارك رکھتے تھے ان کے قدم کی برکت لیتے اور ان کی زیارت تعظیم کے شہرہ دینے کو اپنا چہرہ اس پر ملا کرتے تھے جیساکہ خو د فرماتے ہیں کہ دارالحدیث میں ایك لطیف معنی ہیں جن کے ظاہر کرنے کا مجھے عشق ہے کہ شاید میرا چہرہ پہنچ جائے اس جگہ پر جس کوقدم نووی نے چھوا تھا۔ اور ہمارے شیخ تاج العارفین امام سنت خاتمہ المجتہدین آستانہ بیت الحرام حطیم شریف پر جہاں سیدنا اسمعیل علیہ السلام کا مزار کریم ہے اپنا چہرہ اور داڑھی ملاکر تے تھے۔
بالجملہ یہ کوئی امر ایسا نہیں جس پر انکار واجب کہ اکابر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم او راجملہ ائمہ رحمہم اللہ تعالی سے ثابت ہے تو اس پر شورش کی کوئی وجہ نہیں اگر چہ ہمارے نزدیك عوام کو اس سے بچنے ہی میں احتیاط ہے۔
حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل
المسئلۃ متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فی مذھبنا او مذھب غیرنا فلیست بمنکر یجب انکارہ والنھی عنہ وانما المنکر ماوقع الاجماع علی حرمتہ والنھی عنہ ۔ واﷲ تعالی اعلم
جب کسی مسئلہ کا ہمارے مذہب یا دیگر ائمہ کے مذہب پر جواز نکل سکتا ہو تو وہ ایسا گناہ نہیں کہ اس پرانکار اور اس سے منع کرنا واجب ہو۔ ہاں گناہ وہ ہے کہ وہ اس کے حرام ہونے اور اس کے منع ہونے پر اجماع ہو۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۶۴ : ۴ جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قبروں کوبوسہ لینا جائز ہے یا نہیں زیارت قبور کی نشست و برخاست کا طریقہ کیا ہے
الجواب :
قبروں کا بوسہ لینا نہ چاہے ۔ زیارت قبر میت کے مواجہ میں کھڑے ہوکر ہو۔ او راس کی طرف سے جائے کہ اس کی نگاہ کے سامنے ہو سرہانے سے نہ آئے کہ اسے سر اٹھا کر دیکھنا پڑے۔ سلام وایصال ثواب کے لیے اگر دیر کرنا چاہتاہے رو بقبر بیٹھ جائے اور پڑھتا رہے یا ولی کا مزارہے تو اس سے فیض لے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۵ تا ۱۶۶ :
(۱) قبور شہداء یا اولیاء اﷲ رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہم پر جاکر اور قبرشریف ہی پر مالیدہ یا شرینی مع پھول وغیرہ نیاز کرنا کیسا ہے چاہئے یانہیں(۲) جس شہید یا اولیاء اﷲ کے مزار کا حال ہم کو معلوم نہیں ہے کہ آیا کسی کی مزار ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کس کی ہے مرد اہل اسلام یہودی یا نصاری یا عورت یہود یا نصاری یا مسلمان کی تو اس مزار پر فاتحہ پڑھنا یا بطریق مذکور نیاز وغیرہ کرنا کیسا ہے چاہئے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
(۱) قبور مسلمین کی زیارت سنت او رمزارات اولیاء کرام و شہداء رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہم اجمعین کی حاضری سعادت برسعادت اور انھیں ایصال ثواب مندوب وثواب۔ اور مالیدہ وشیرینی خصوصیات عرفیہ میں اگر وجوب
(۲) جس قبر کایہ بھی حال معلوم نہ ہو کہ یہ مسلمان کی ہے یا کافر کی ا س کی زیارت کرنی فاتحہ دینی ہرگز جائز نہیں کہ قبر مسلمان کی زیارت سنت ہے ا ور فاتحہ مستحب اور قبر کافرکی زیارت حرام ہے او راسے ایصال ثواب کاقصد کفر
قال اﷲ تعالی و لا تقم على قبره- وقال تعالی
و ما له فی الاخرة من خلاق(۲۰۰) وقال تعالی ان الله حرمهما على الكفرین(۵۰) ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا اس کی قبرپر کھڑے بھی نہ ہونا۔ اور فرمایا اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور فرمایا بیشك اﷲ نے ان دونوں کو کافروں پر حرام کیا۔ (ت)
مسئلہ ۱۶۷ : کسی اولیاء اﷲ یا شہید رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے مزار شریف پر پھول یا کپڑے کی چادر منت مان کر چڑھانا کیسا ہے۔ چاہئے یا نہیں
الجواب :
یہ منت کوئی شرعی نہیں اذلیس من جنسہ واجب (اس لیے کہ اس کی جنس سے کوئی واجب نہیں ۔ ت) ہا ں پھول چڑھانا حسن ہے کماتقدم ( جیسا کہ گزرچکا ۔ ت) اور قبور اولیائے کرام قدسنا اﷲ باسرارہم پر چادر بقصد تبرك ڈالنا مستحسن ہے ۔ قال اﷲ تعالی :
ذلك ادنى ان یعرفن فلا یؤذین- ۔
وہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچان ہو جائے تو انھیں ایذانہ دی جائے۔ (ت)
امام عارف باﷲ علامہ سیدی عبدا لغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے کشف النور عن اصحاب القبور میں اس کی تصریح فرمائی پھر علامہ شامی نے عقود الدریہ میں اسے نقل کیا اور مقرر رکھا۔
القرآن ۲ / ۱۰۲ و ۲۰۰
القرآن ۷ / ۵۰
القرآن ۳۳ / ۵۹
کشف النور عن اصحابہ القبور مع الحدیقۃالندیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۴
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ نے مرید کو وصیت کی تھی کہ میری قبرکا کل سامان روشنی و قرآن خوانی ولنگر خان عرس وغیرہ کا تم انتظام کرنا۔ چنانچہ مرید نے بموجب وصیت تمام سامان کیا کل اخراجات کا متکفل ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ چادر وشیرینی ونقد جنس مزار پر چڑھاتے ہیں وہ کس کاحق ہے اس مرید کا جس نے یہ سامان اور اخراجات کئے اور جو خادم ہے یا وہ فرزند شیخ کا
الجواب :
چادر جو مزار پر ڈالی جائے وہ کسی کا حق نہیں نہ اس مرید خادم مزار کا نہ فرزند صاحب مزار کا نہ وہ وقف ہو بلکہ وہ ڈالنے والے کی ملك پر رہتی ہے جیسے کفن کہ تبرعا کسی نے میت کو دیا۔ درمختارمیں ہے :
لایخرج الکفن عن ملك المتبرع ۔
کفن تبرع کرنے والے (بطور احسان دینے والے ) کی ملك سے نہیں نکلتا ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لوافترس المیت سبع کان للمتبرع لاللورثۃ نھر ۔
اگر میت کو کسی درندے نے کھا لیا تو کفن جو رہ گیا وہ تبرع کرنے والے کا ہوگا ورثہ کا نہیں۔ نہر۔ (ت)
باقی اور چڑھاوے ا گر چہ وہ چادریں ہو ں جو مزار پرنہ ڈالیں نہ اس پر ڈالنے کو دیں۔ بلکہ دیگر نذور کی طرح سمجھیں ان میں عرف عام یہ ہے کہ خادم مزار ہی ان کا مالك سمجھا جاتا ہے۔ اسی قصد سے لوگ لاتے اور اس کا انتفاع وتصرف دیکھتے جانتے روا رکھتے ہیں والمعروف کا لمشروط( معروف مشروط کی طرح ہے۔ ت)تو وہ خدمت والا ہی ان کا مالك ہے ترکہ نہیں کہ فرزند کو جائے ۔ اور اس قسم کے چڑھاوے شرع میں کہیں مطقا منع نہیں نہ یہ نذور شرعی بلکہ عرف ہے کہ اکابر کے حضور جوکچھ لے جاتے اسے نذرکہتے ہیں جیسے بادشاہ کی نذریں گزریں۔ بعض متاخرین نے منع کیا میت کے لیے منت ماننے کو منع کیا ہے وہ صورت یہاں عام مواقع میں نہیں اکثر چڑھاوے منت ہی نہیں ہوتے نہ یہ نذر شرعی نذر۔ اوریہاں مباحث نفسیہ ہیں کہ ہم نے تعلیقات ردالمحتار میں ذکر کیں معہذا امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی سیدی اسمعیل بن عبدالغنی قدس سرہ القدسی
ردالمحتار باب صلٰوۃالجنائز ادارۃ الطباعۃ المصریۃ ، مصر ۱ / ۵۷۱
ومن ھذا القبیل زیارۃالقبور والتبرك بضرائح الاولیاء والصالحین والنذرلھم بتعلیق ذلك علی حصول شفاء اوقدم غائب فانہ مجاز عن الصدقۃ علی الخادمین بقبورھم کما قال الفقھاء فیمن دفع الزکوۃ لفقیر وسماھا قرضا صحح لانہ العبرۃ بالمعنی لاباللفظ وکذلك الصدقۃعلی الغنی ھبۃ والھبۃ للفقیر صدقۃ ۔
اسی قبیل سے ہے قبروں کی زیارت اور اولیاء وصالحین کے مزارات سے برکت لینا اور کسی بیمار کی شفا یابی یا کسی غائب کی آمد کی شرط کرکے ان کے لیے نذر پیش کرنا کہ دراصل یہ قبروں کے خدام پر صدقہ سے مجازہے جیسا کہ فقہا نے اس شخص کے بارے میں فر مایا جوفقیر کو زکوۃ دے او راسے قرض کہے تو زکوۃ ادا ہوجاتی ہے اس لیے کہ اعتبار معنی کا ہے لفظ کا نہیں اسی طرح غنی پر صدقہ ہو تو ہبہ وعطیہ ہے اورفقیر کو ہبہ ہو توصدقہ ہے ۔ (ت)
نذر اولیاء کانفیس بیان ہمارے فتاوی افریقہ میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۹ تا ۱۷۶ : از پنڈول بزرگ ڈاك خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسائل میں کہ :
(۱) مردہ کے نام کھانا جو امیر وغریب کو کھلاتے ہیں کس کو کھا نا چاہیے او رکس کو نہیں او ریوں بھی کہتے ہیں کہ مردہ کے نام کا کھانا مصلی امیر وغریب سب کو کھلاتے ہیں جائز ہے یا نہیں
(۳) بزرگوں کے مزار سے جو چراغ کی روشنی غیبی سے ہوتی ہے یہ کیسی ہے ا ورا س سے اس صاحب مزار کی بزرگی ثابت ہوتی ہے یا نہیں
(۴) بزرگوں کے مزار پر فاتحہ قرآن پڑھنے اور کھڑے ہوکر وسیلہ چاہنے کے لیے عمارت بنادے اور عرس کرے کرائے تو جائز ہے یانہیں
(۵) قبر پر درخت لگانا دیوار کھینچنا یا قبرستان کی حفاظت کے لیے اس کے چاروں طرف کھود کر جس میں جدید قدیم قبریں بھی ہیں محاصرہ کرنا جائز ہے یا نہیں
(۶) کسی بزرگ کے روضہ کے گرد قبریں اور وسعت جگہ کے لیے اس قبہ سے لگاکر اسی گرد کے قبر پر مثل سائبان کے پایہ زینہ دے کر چھپر ڈالنا جائز ہے یا نہیں
(۷) ظاہر ولی اﷲ یعنی زندہ اور صاحب مزار ولی اﷲ سے ظاہر طریقہ سے ہمکلام ہونے کی کوئی خبرہے یا نہیں
(۸) کوئی شخص اپنی زندگی میں قل کرائے فاتحہ پڑھوائے آیا جائز ہے یا نہیں او راس کا ثواب اپنے لیے بعد وفات رکھے یعنی یہ کہے کہ میرے مرنے کے بعد مجھے اس کا ثواب ملے۔
الجواب :
(۱) مردے کا کھاناصرف فقراء کے لیے ہو عام دعوت کے طور پر جو کرتے ہیں یہ منع ہے غنی نہ کھائے کما فی فتح القدیر ومجمع البرکات (جیسا کہ فتح القدیر اور مجمع البرکات میں ہے ۔ ت)
(۲) عورتوں کو مقابر اولیاء ومزارات عوام دونوں پر جانے کی ممانعت ہے۔ اولیاء کرام کا مزارات سے تصرف کرنا بیشك حق ہے۔ اور وہ بیہودہ دلیل محض باطل ہے۔ اصحاب مزارات دار تکلیف میں نہیں وہ اس وقت محض اہل تکوینیہ کے تابع ہیں سیکڑوں ناحفاظیاں لوگ مسجدوں میں کرتے ہیں اﷲ عزوجل توقادر مطلق ہے کیو ں نہیں روکتا حاضران مزار مہمان ہوتے ہیں مگر عورتیں ناخواندہ مہمان۔
(۳) اگر منجانب اﷲ ہے تو ضرور بزرگی ثابت ہوتی او راگر بزرگی ثابت ہے تو منجانب اﷲ ہے ورنہ امر متحمل ہے۔ شیطان بھی بہت کرشمے دکھاتا ہے حضور سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی ازواج مطہرات سے ایك بی بی جب اندھیرے میں جاتیں ایك شمع روشن ہوجاتی ایك روز حضور نے ملاحظہ فرمایا اسے بجھادیا اور فرمایا کہ یہ شیطان کی جانب سے ہے پھر ایك ربانی نور ان کے ساتھ فرمادیا کما فی بھجۃ الاسرارو معدن الانوار ( جیساکہ بہجۃ الاسرار اور معدن الانوار میں ہے ۔ ت)
(۴) جائز ہے کمافی مجمع بحار الانوار (جیسا کہ مجمع بحار الانوار میں ہے ۔ ت) ہاں منکرات شرعیہ مثل رقص ومزامیر سے بچنا لازم ہے۔
(۵) حفا ظت کے لیے حصار بنانے میں حرج نہیں۔ ا ور درخت اگر سایہ زائرین کے لیے ہوں تو اچھا ہے
(۶) کسی قبر پر کوئی پایہ چننا جائز نہیں۔
(۷) بکثرت ہیں کہ امام جلال الدین (سیو طی) کی شرح الصدور وغیرہ میں مذکور ۔
(۸) جائز ہے اور قبول ہو ا تو ثواب ملے گا۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۷ : ا ز گوالیار مرسلہ مولوی محمود الحسن صاحب ۱۳ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورتوں کوقبروں پر فاتحہ کو جانادرست ہے یا نا درست
الجواب :
اصح یہ ہے کہ عورتوں کو قبروں پر جانے کی اجازت نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۸ : از نصیر آباد تعلقہ جل گاؤں ضلع خانداس مرسلہ بسم اﷲ منشی ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیارت قبور میں عورتوں کے واسطے کیا حکم ہے دیگر کسی کے بزرگوں کے پاس سے پشت درپشت کسی اولیاء اﷲ کی مجاوری او رخدمت گزاری ملی ہے تو فاتحہ دینا اس قبر پر صندل چڑھانا غلاف چڑھانا مجاور مرد لوگ موجود ہوکر عورت کو جائز ہے اس مزارپرہمیشہ مرد مجاور رہا کرتے ہیں وہ عورت مجاور کے خاندان سے ہے مگر نہایت بدچلن ہے۔ اس عورت کو کیا اختیار ہے
الجواب :
عورتوں کو زیارت قبور منع ہے۔ حدیث میں ہے : لعن اﷲ زائرات القبور اﷲ کی لعنت ان عورتوں پرجو قبروں کی زیارت کوجائیں مجاور مردوں کو ہونا چاہئے عورت مجاور بن کر بیٹھے اور آنے جانے والوں سے اختلاط کرے یہ سخت بد ہے عورت کو گوشہ نشینی کا حکم ہے نہ یوں مردوں کے ساتھ اختلاط کا جس میں بعض اوقات مردوں کے ساتھ اسے تنہائی بھی ہوگی اوریہ حرام ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۹ : از پٹنہ مرسلہ ابوالمساکین مولوی ضیاء الدین ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورتوں کے واسطے زیارت قبور درست ہے یا نہیں
الجواب :
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : لعن اﷲ زوارت القبور
(قبروں کی زیارت
مسند احمد بن حنبل حدیث حسّان بن ثا بت دارالفکر بیروت ۳ / ۴۴۲
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور الافزوروھا ۔
میں نے قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا سن لو اب ان کی زیارت کرو۔ (ت)
علماء کو اختلاف ہو اکہ آیا اس اجازت بعد الہی میں عورات بھی داخل ہوئیں یا نہیں اصح یہ ہے کہ داخل ہیں کما فی البحر الرائق (جیساکہ بحرالرائق میں ہے ۔ ت) مگر جو انیں ممنوع ہیں جیسے مساجد سے اور اگرتجدید حزن مقصود ہو تو مطلقا حرام۔
اقول : قبور اقرباء پر خصوصا بحال قرب عہد ممات تجدید حزن لازم نساء ہے او رمزارات اولیاء پر حاضری میں احدی الشناعتین کا اندیشہ یا ترك ادب یا ادب میں افراط ناجائز تو سبیل اطلاق منع ہے ولہذا غنیہ میں کراہت پر جزم فرمایا البتہ حاضری وخاکبوسی آستان عرش نشان سرکار اعظم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اعظم المندوبات بلکہ قریب واجبات ہے۔ اس سے نہ روکیں گے اورتعدیل ادب سکھائیں گے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۰ : ازترپول سولول ڈاکخانہ ہرول ضلع دربھنگہ بلگرام چرسہ مرسلہ عبدالحکیم صاحب ۸ جمادی الآخر ۱۳۳۶ھ
کوئی آدمی کسی قبرستان میں ایك مسلمان قبر پر بزرگ سمجھ کر اس کی قبر پر درگاہ بناکر کوئی تاریخ مقرر کرکے ہر سال میلہ لگاتاہے۔ ہر پیر وجوان عورت واسطے عرض اپنے وہاں جمع ہوتی ہیں بلکہ عورت مرد کا مجمع کثیر ہوتا ہے اور بڑے بڑے عہدہ دار یا ہندو کودعوت دے کر بلاتے ہیں جس میں ڈھول باجے اور فونو گرام وغیرہ بھی بجتا ہے او رعورت لوگ اس بزرگ کی قبر پر پھول خصی مرغے سرنی وغیرہ چڑھاتے ہیں او راس قبرستان پر پیشاب پاخانہ کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا ہے اس درگاہ کی شرکت کرنے والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نا جائز او شرکت کرنے والے کو برا سمجھیں یا اچھا اور اس درگاہ کا متولی چھوٹی قوم ہے مونچھ داڑھی سے زیادہ رکھتاہے او رہاتھ میں لوہے کا مالا پہنتاہے او رہاتھ میں لوہے کا چھرا رکھتا ہے او رلوگوں کو گالی فحش دیتا ہے اورلوگ جو شرکت کرتے ہیں اسے بزرگ اور پیر سمجھتے ہیں ایسے لوگ کی نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز اس لیے دور رہنا چاہئے یانہیں
الجواب :
اولیاء کرام کے مزارات پر ہر سال مسلمانوں کا مجمع ہو کر قرآن مجید کی تلاوت یااور مجالس کرنااور اس کا
___________
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۱۸۱ : مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب مدرس اول مدرسہ قادریہ احمد آباد گجرات محلہ جمال پور ۲۸ صفر ۱۳۳۹ھ
مولانا موصوف نے ایك رجسٹری بھیجی جس میں بحرالرائق وتصحیح المسائل مولانا فضل رسول صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے حوالے سے عورتوں کے لیے زیارت قبور کو جانے کی اجازت پر زور دیاگیا تھا ان کو یہ جواب بھیجا گیا۔
الجواب :
مولانا المکرم مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب زید کر مہم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ آپ کی دو رجسٹریاں آئیں تین مہینے سے زائد ہوئے کہ میری آنکھ اچھی نہیں تھی میری رائے ا س مسئلہ میں خلاف پر ہے مدت ہوئی اس بارے میں میرا فتوی تحفہ حنفیہ میں چھپ چکا میں اس رخصت کو جو بحرالرائق میں لکھی ہے مان کر نظر بحالات نساء سوائے حاضری روضہ انور کہ واجب یا قریب بواجب ہے۔ مزارات اولیاء یا دیگر قبور کی زیارت کو عوررتوں کا جانا باتباع غنیہ علامہ محقق ابراہیم حلبی ہر گز پسند نہیں کرتا خصوصا اس طوفان بے تمیزی رقص ومزامیر وسرود
مولوی صاحب نے دوبارہ رجسٹری بھیجی ۔ جس پر جواب ارسال ہوا۔
مسئلہ : از احمد آباد گجرات محلہ جمال پور مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب ۱۳ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
مخدومی مکرمی معظمی جناب مولانا صاحب دام محبتکم بعدسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ کے واضح رائے عالی ہو کہ محبت نامہ موصول ہو۔ فتوی کو آپ کے دیکھا حضرت مولانا! مجھے آپ اس مسئلہ میں سمجھائے کہ مسجد نبوی میں تین سو مرد او رایك سو ستر عورتیں تھیں یہ منافقین آخری صف میں کھڑے ہوئے تھے اور عورتوں کو جھانکتے تھے نماز فجر وعشاء میں عورتیں توجہ انوار حقیقت محمدی وحقیقت قرآن کے لیے حاضر ہوتی تھیں تو منافقین کی نالائق حرکت کا انتظام خدائے تعالی اور قرآن عظیم نے یہ نہ کیا کہ منافقین اور فیض لینے والی عورتوں کویہ حکم دیا ہوتا کہ دونوں مسجد نبوی میں جمع نہ ہوں او رفیض رسانی عورتوں کی اس بہانے سے بند نہ ہوئی بلکہ انتظام رسانی یہ ہواکہ
و لقد علمنا المستقدمین منكم و لقد علمنا المستاخرین(۲۴)
و ان ربك هو یحشرهم-انه حكیم علیم(۲۵)
بیشك ہمیں معلوم ہیں تم میں کے آگے والے اور پیچھے والے اور بیشك تمھارا رب ان کو جمع کرے گا۔ بلاشبہہ وہ حکمت والا علم والا ہے ۔ (ت)
او رانتظام حضرت نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کیا :
خیر صفوف الرجال اولہا وشرھا اخرھا و خیر صفوف النساء اخرھا وشرھا اولھا ۔
مردوں کی صفوں میں سب سے بڑھ کر اگلی ہے اور سب سے کم تر پچھلی اور عورتوں کی صفوں میں سب سے بہتر پچھلی ہے اور سب سے کم تر اگلی ہے ۔ (ت)
مسجد میں عورتوں کی نماز بند ہوئی اس کو بندہ مانتا ہے فیض حقیقت محمدی وحقیقت قرآن لینے کو باپردہ پانچ دس عورتیں محلہ کی مل کر مرشد کے مکان پر جائیں اور مرشد طریقت مرتعش اور شیخ فانی پردہ میں بٹھاکر ان کو توجہ حقیقت محمدی اور قرآن کی دے ا س پر حکم حرمت لگانا غلط اور فیض محمدی کا مقابلہ اور مورد یریدون ان
القرآن ۱۵ / ۲۵
صحیح مسلم باب تسویۃ الصفوف الخ نور محمد اصح المطا بع کراچی ۱ / ۱۸۲
اور قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم و قل للمؤمنت یغضضن من ابصارهن ( ایمان والے مردوں سے فرماؤ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور ایمان والی عورتوں سے فرماؤ اپنی نظریں پست کریں ۔ ت) و لیضربن بخمرهن على جیوبهن۪- ( اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔ ت) اس پردہ پر احمد آباد کی ذاکرات کاعمل ہے۔ عمدۃ القاری شرح بخاری ج ۴ ص۷۸ :
حاصل الکلام من ھذا کلہ ان زیارۃ القبور مکروھۃ للنساء بل حرام فی ھذا الزمان لاسیما نساء مصر لان خروجھن علی وجہ الفساد والفتنۃ وانما رخصت الزیارۃ لتذکرامرالاخرۃ
حاصل یہ کہ عورتوں کے لیے زیارت قبور مکروہ ہے بلکہ اس زمانے میں حرام ہے خصوصا مصر کی عورتوں کے لیے اس لیے کہ ان کا جانا فتنہ اور خرابی کے طور پر ہوتا ہے زیارت کی رخصت اس لیے ہوئی تھی کہ امر آخرت کو
القرآن ۳۳ / ۷۲
القرآن ۳۳ / ۵۹
القرآن ۲۴ / ۳۰
القرآن ۲۴ / ۳۱
ا لقرآن ۲۴ / ۳۱
یا دکریں وفات پانے والوں سے عبرت لیں اور دنیا سے بے رغبت ہوں ۔ (ت)
یہ حکم مصر کی بغایہ مغنیہ دلالہ کا ہے اس حکم کو نیك بخت عورتوں پر لگانا غلط ہے۔ لوادرك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مااحدثت النساء ( اگررسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وہ دیکھتے جو عورتوں نے اب پید اکیا ۔ ت) کی شرح عمدۃ القاری ج ص ۳۰ میں ہے :
بعضھن یغنین باصوات عالیۃ مطربۃ منھن صنف بغایا
ان میں کچھ ایسی ہوتی ہیں جو طرب انگیز بلند اوازوں سے گاتی ہیں اور کچھ بدکار قسم کی ہیں ۔ (ت)
احمد ا باد میں تین کوس درگاہ حضرت گنج احمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ہے مکان بہت پر فضا ہے اور تالاب سنگین ہے وہاں دھنے کی قوم کی اور لکڑ بیچنے والی قوم کی عورتیں لہنگا ساڑھی پہن کر جاتی ہیں اورگربے گاتی ہیں اور ان کی قوم کی ضیافتیں ہوتی ہیں اس میں وہ عورتیں گربے گاتی ہیں حلقہ عورتوں کا بن جاتا ہے ا ور تالی بجاتی ہیں اور پھرتی جاتی ہیں رنڈیوں کی طرح گیت گاتی جاتی ہیں ا ن پر بل حرام فی ھذا الزمان لاسیما نساء مصر ( بلکہ اس زمانے میں خصوصا زنان مصر کے لیے حرام ہے ۔ ت) کا حکم برابر عمدہ طورپر چسپاں ہے۔ اور غنیۃ المستملی کے صفحہ ۵۹۵ میں وان یکون فی زماننا للتحریم لمافی خروجھن من الفساد اھ( ہمارے زمانے میں تحریم کے لیے ہوگا کیونکہ ان کے جانے میں خرابیاں ہیں اھ ۔ ت)اور جو عورتیں قوالی رنڈیوں کی اور قوالی مردوں کی سننے جاتی ہیں ان کو زیارت القبور کو جانا حرام ہے ان کے حرام ہونے سے ذاکرات اور فیض لینے جانے والی عورتوں کوکیا نقصان اگر چہ ایك عورت ہزاروں میں ایك ہو۔ دس ہزار آدمیوں نے کتے اور خنزیر کے گوشت کی بریانی پکائی ہے اور ایك نے بکری کے گوشت کی بریانی پکائی۔ دونوں بریانوں پر حکم حرمت او رحکم حلت غلط او کتے کی بریانی پر حکم اور بکری کے بریانی پر حکم حلت صحیح دونوں کا حکم جدا مفتی کو بیان کرنا پڑھے گا۔
افمن كان مؤمنا كمن كان فاسقا ﳳ-لا یستون(۱۸)
ام نجعل المتقین كالفجار(۲۸) ۔
توکیا جو مومن ہے فاسق کی طرح ہوگا دونوں برابرنہیں۔ یاپرہیز گار وں کو ہم بدکاروں کی طرح کردیں (ت)
عمدۃ القاری شرح البخاری باب خروج النساء الٰی المساجد حدیث ٢٥٠ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ٦ / ١٥٨
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی لاجنائز البحث الخامس سہیل اکیڈمی لاہور ص ٥٩٤
القرآن ٣٢ / ١٨
القرآن ٣٨ / ٢٨
احطت بما لم تحط به و جئتك من سباۭ بنبا یقین(۲۲) ۔
میں نے وہ دیکھا جو آپ نے نہ دیکھا او ر میں آپ کے شہر سبا سے یقینی خبرلایا ہوں ۔ (ت)
ا لقرآن ٢٧ / ٢٢
ایں دلالت دارد برجواز مرنساء را ۔
اس میں عورتوں کے لیے جواز زیارت کی دلیل ہے۔ (ت)
امام نوی شرح مسلم کی جلد صفحہ میں فرماتے ہیں :
فیہ دلیل لمن جوز للنساء زیارۃ القبور ۔ الخ
اس میں عورتوں کے لیے زیارت قبور جائز ماننے والوں کے لیے دلیل ہے ۔ (ت)
فتح الباری پارہ مطبع انصاری دہلی ص میں ہے :
اختلف فی النساء فقیل دخلن فی عموم الاذن وھوقول الاکثر ومحلہ اذا امنت الفتنۃ ۔
عورتوں کے بارے میں اختلاف ہوا کہا گیا کہ اجازت کے عموم میں یہ بھی داخل ہیں اور یہی اکثر قول ہے۔ اور ا س کا حکم کا موقع فتنہ سے امن کی حالت میں ہے (ت)
اب تطبیق سمجھ لیجئے کہ گربے گانے والی۔ قوالی سننے والی عورتوں کے لیے زیارت قبور اولیاء کو جانا حرام اور فیض الہی لینے والی عورتوں کو باپردہ شریف کے احکام کو بجالاکر ناجائز میں نے مسئلہ اس طرح مشرح بیان کیاہے ۔ اس کو آپ صحیح سمجھتے ہیں یا میری سمجھ میں کوئی غلطی ہے مجھے سمجھائے آپ میرے مربی او ر قبلہ وکعبہ حاجات ہیں خدا تعالی آپ کو صحت کلیہ عاجلہ عطافرمائے آمین ثم آمین!
رقیمہ حکیم عبدالرحیم عفی عنہ مدرسہ قادریہ احمد آباد گجرات دکن جمالپور مسجد کانچ ربیع الاول شریف اور مصطفی میاں کو پاس بٹھا کر جواب ان سے لکھواکر میری تسلی کردیجئے میں غلط سمجھا ہوں تو صحیح سمجھائے اور وہ فتوی جو تحفہ حنفیہ میں عدم جواز زیارت قبور نساء کے بارے میں ہے اس کی نقل بھی کرواکر روانہ فرمائے اس کے دلائل سے بھی واقف ہونا بندہ چاہتا ہے۔
شرح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی الذھاب الٰی زیارۃ القبور نور محمد اصح المطابع کراچ ١ / ٣١٤
فتح الباری شرح البخاری باب زیارۃ القبور مصطفی البابی مصر ٣ / ٣٩
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مولانہ المکرم اکرم وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ آپ کی رجسٹری ربیع الاول شریف کو آئی۔ میں ربیع الاول شریف کی مجلس پڑھ کر شام ہی سے ایسا علیل ہوا کہ کھبی نہ ہوا تھا میں نے وصیت نامہ بھی لکھوا دیاتھا آج تك یہ حالت ہے کہ دروازہ سے متصل مسجد ہے چار آدمی کرسی پر بٹھا کر مسجد لے جاتے اور لاتے ہیں میرے نزدیك وہی دو حرف کہ اول گزارش ہوئے کافی تھے اب قدرے تفصیل کروں
() پہلے گزارش کرچکا کہ عبارات رخصت میری نظر میں ہیں مگرنظر بحال زمانہ میرےنہ میرے بلکہ منافقین کے باعث عورتوں کو مسجد کریم میں حاضری سے اﷲ جل وعلا ورسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ممانعت نہ فرمائی بلکہ منافقوں کو تہدید وترہیب ارو مردوں کو تقدم عورتوں کو تاخر کی ترغیب فرمائی ا ور میں اتنا اور زائد کرتا ہوں کہ صرف یہی نہیں بلکہ نساء کو حضور نے عیدین کی سخت تاکید فرمائی یہاں تك حکم فرمایا کہ برکت جماعت ودعاء مسلمین لینے کو حیض والیاں بھی نکلیں مصلی سے الگ بیٹھیں پر دہ نشین کنواریاں بھی جائیں جس کے پاس چادر نہ ہو ساتھ والی اپنی چادر میں لے لے۔ صحیحین میں ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہے :
امرنا ان نخرج الحیض یوم العیدین وذوات الخدور فیشہدن جماعۃ المسلمین ودعوتھم وتعتزل الحیض عن مصلاھن قالت امرأۃ یارسول اﷲ احدنا لیس لہا جلباب قال لتلبسھا صاحبتھا من جلبابھا ۔
ہمیں حکم دیاگیا کہ عیدین کے دن حیض والی اور پردہ نشین عورتوں کو بھی ساتھ لے جائیں تاکہ یہ بھی مسلمانوں کی جماعت اور دعا میں شریك ہوں اور حیض والیاں نماز کی جگہ سے الگ رہیں ایك عورت نے عرض کیا یا رسول اﷲ ہم میں کوئی عورت ایسی بھی ہوتی ہے جس کے پاس چادرنہیں فرمایا : اس کے ساتھ والی اپنی چادر کا حصہ اڑھا دے ۔ (ت)
اور یہ صرف عیدین میں ہی امر نہیں بلکہ مساجد سے عورتوں کو روکنے سے مطلقا نہی بھی اشاد ہوئی کہ اﷲ کی
لاتمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ ۔
اﷲ کی باندیوں کوا ﷲکی مسجدوں سے نہ روکو۔ (ت)
یہ عــــہ حدیث صحیح بخاری کتاب الجمعہ میں بھی ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا امر وجوب کے لیے ہے اور نہی تحریم کے لیے اور فیض وبرکت لینے کا فائدہ خود حدیث میں ارشاد ہوا۔ باینہمہ آپ ہی لکھتے ہیں کہ مسجد میں عورتوں کی نماز بند ہوئی ا س کو بندہ مانتا ہے ۔ درمختار کی عبارت آپ کے سے مخفی نہ ہوگی کہ :
یکرہ حضور ھن الجماعۃ والجمعۃ وعید ووعظ مطقا ولوعجوز ا لیلا علی المذھب المفتی بہ لفساد الزمان ۔
جماعت میں عورتوں کی حاضری___ اگر چہ جمعہ عید اور وعظ کے لیے ہو___ مطلقا مکروہ ہے اگر چہ بوڑھی عورت رات کو جائے یہی وہ مذہب ہے جس پر فساد زمانہ کے باعث فتوی ہے ۔ (ت)
اسی طرح اور کتب معتمدہ میں ہے۔ ائمہ دین نے جماعت وجمعہ وعیدین درکنار وعظ کی حاضری سے بھی مطلقا منع فرمادیا اگر چہ بڑھیا ہو اگر چہ رات ہو۔ وعظ سے مقصود تو صرف اخذ فیض وسماع امر بالمعروف ونہی عن المنکر وتصحیح عقائد واعمال ہے کہ توجہ مشیخت سے ہزار درجہ اعظم اور اس کی اصل مقدم ہے۔ اس کا فیض بے توجہ مشیخت بھی عظیم مفید ودافع ہر ضرر وشدید ہے۔ اور یہ نہ ہو تو جھ مشیخت کچھ مفید نہیں بلکہ ضرر سے قریب نفع سے بعید ہے۔
عــــہ : غیرانہ لم یصرح فیہ باسم الصحابی فقیل عن عمر کما عند عبدالرزاق واحمد قیل عن ابن عمر کما عند مسلم واحمد واﷲ تعالی اعلم منہ غفرلہ (م)
مگر اس میں صحابی کے نام کی صراحت نہیں کہاگیا کہ یہ روایت حضرت عمر سے ہے جیساکہ مصنف عبدالرزاق اور مسند امام احمد میں ہے۔ اورکہا گیا کہ حضرت ابن عمر سے ہے رضی اللہ تعالی عنہما جیسا کہ صحیح مسلم اور مسند امام احمد میں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم منہ غفرلہ (ت)
درمختار باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٨٣
() صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا ارشاد اپنے زمانہ میں تھا :
لو ادرك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علہ وسلم مااحدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء نبی اسرائیل ۔
اگرنبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں تو ضرور انھیں مسجد سے منع نہ فرمادیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کردی گئیں۔
پھر تابعین ہی کے زمانے سے ائمہ نے ممانعت شروع فرمادی پہلے جو ان عورتوں کو پھر بوڑھیوں کو بھی پہلے دن میں پھر رات کو بھی یہاں تك کہ حکم ممانعت عام ہوگیا کیااس زمانے کی عورتیں گربے والیوں کی طرح گانے ناچنے والیا ں یا فاحشہ دلالہ تھیں اب صالحات ہیں یا جب فاحشات زائد تھیں اب صالحات زیادہ ہیں یا جب فیوض وبرکات نہ تھے اب ہیں یا جب کم تھے اب زائد ہیں حاشہ بلکہ قطعا یقینا اب معاملہ بالعکس ہے۔ اب اگر ایك صالحہ ہے تو جب ہزار تھیں جب اگر ایك فاسقہ تھی اب ہزار ہیں اب اگر ایك حصہ فیض ہے جب ہزار حصے تھا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لا یأتی عام الاوالذی بعدہ شرمنہ ۔
جو سال بھی آئے اس کے بعد والا اس سے برا ہی ہوگا۔ (ت)
بلکہ عنایہ امام اکمل الدین بابرتی میں ہے کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے عورتوں کو مسجد سے منع فرمایا وہ ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس شکایت لے گئیں فرمایا : اگر زمانہ اقدس میں حالت یہ ہوتی حضور عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ دیتے۔
حیث قال ولقد نہی عمر رضی اﷲ تعالی وہ فرماتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے عورتوں کو
صحیح مسلم باب خروج النساء الی المساجد نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ١٨٣
صحیح البخاری باب الایأتی الزمان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ١٠٤٧ ، فتح الباری شرح البخاری باب الایأتی الزمان الخ دارالمعرفۃ بیروت ١٣ / ١٧
مسجد جانے سے روك دیا وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس شکایت لے کر گئیں انھوں نے فرمایا : اگر نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہ دیکھتے جو حضرت عمر نے دیکھا تو وہ بھی مسجدجانے کی اجازت نہ دیتے ۔ (ت)
پھر فامایا :
فاجتمع بہ علماؤناو منعوا الشواب عن الخروج مطلقا امام العجائز فمنھن ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن الخروج فی الظھروالعصر دون الفجر والمغرب والعشاء والفتوی الیوم علی کراھۃ حضور ھن فی الصلوات کلھا الظھور الفساد ۔
اسی سے ہمارے علماء نے استدلال کیا اور جوان عورتوں کو جانے سے مطلقا منع فرمایا۔ رہ گئیں بوڑھی عورتیں ان کے لیے امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ظہر وعصر میں جانے سے ممانعت اور فجر مغرب اور عشاء میں اجازت رکھی اور آج فتوی اس پر ہے کہ تمام نمازوں میں ان کی بھی حاضری منع ہے اس لیے کہ خرابیاں پیدا ہوچکی ہیں۔ (ت)
اسی عینی جلد سوم میں آپ کی عبارت منقولہ سے ایك صفحہ پہلے ہے :
وقال ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ المراۃ عورۃ واقرب ماتکون الی اﷲ فی قعربیتھا فاذا خرجت استشرفہا الشیطان وکان ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما یقوم یحصب النساء یوم المجمعۃ یخرجھن من المسجد وکان ابراہیم یمنع نساءہ الجمعۃ والجماعۃ ۔
یعنی حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں عورت سراپا شرم کی چیز ہے۔ سب سے زیادہ اﷲ عزو جل سے قریب اپنے گھر کی تہ میں ہوتی ہے اور جب باہر نکلے شیطان ا س پر نگاہ ڈالتا ہے۔ اور حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما جمعہ کے دن کھڑے ہوکر کنکریاں مارکر عورتوں کو مسجد سے نکالتے۔ اور امام ابراہیم نخعی تابعی استاذ الاستاذ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی مستورات کو جمعہ وجماعات میں نہ جانے دیتے۔
العنایہ علی ھامش فتح القدیر باب الامامۃ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٣١٧
عمدۃ القاری شرح البخاری باب خروج النساء الی المساجد ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ٦ / ١٥٧
افمن كان مؤمنا كمن كان فاسقا ﳳ-
ام نجعل المتقین كالفجار(۲۸)
کیا جو ایمان والا ہے وہ اس کی طرح ہوگا جو نا فرمان ہے یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں (ت)
تو اب کہ مفسدہ جب سے بہت اشد ہے ۔ اس مصلحت قلیل سے روکنا کیوں لازم ہوگا اور عورتوں کی قسمیں کیونکر چھانٹی جائیں گی۔
(۳) صلاح وفساد قلب امر مضمر ہے اوردعوے کے لیے سب کی زباں کشادہ اور محقق ومبطل نامعلوم معہذا اصلاح سے فساد کی طرف انقلاب کچھ دشوار نہیں خصوصا ہو الگ کرخصوصا عورتوں کے دل کہ قلب کیلئے بہت آمادہ۔ ولھذا رویدك انجشۃ رفقا بالقواریر ( انجشہ! آبگینوں کے ساتھ نرمی کی خاطر سواریاں آہستہ چلاؤ ۔ ت) ارشاد ہوا مرد کہ اپنے نفس پر اعتماد کرے احمق ہے نہ کہ عورت نفس تمام جہاں سے بڑھ کرجھوٹا۔ جب قسم کھائے حلف اٹھائے نہ کہ جب خالی وعدوں پر امیددلائے و ما یعدهم الشیطن الا غرورا(۱۲۰) ( او رشیطان انھیں فریب ہی کے وعدے دیتا ہے ۔ ت)بالخصوص اب کہ قطعا فساد غالب او ر صلاح نادر ہے۔ اس صورت میں مفتی کو تفصیل کیو نکر جائز۔ یہ تفصیل نہ ہوگی بلکہ شیطان کو ڈھیل اور اس کی رسی کو تطویل۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
الفائز بھذا مع السلامۃ اقل قلیل
حرم پاك میں سکونت کرکے گناہ سے سلامت رہ جانیوالے
القرآن ٣٨ / ٢٨
القرآن ٤ / ١٢٠
حضرات کم سے کم تر ہیں فقہی کی بنیاد ان کے اعتبار سے نہ ہوگی نہ ہی ان کا حال حکم جواز کی قید بناکر مذکور ہوگا (بلکہ اکثر کا اعتبار کرکے مطلقا عدم جواز کا حکم دیا جائے گا) اس لیے نفس کا حا ل یہ ہے کہ وہ جھوٹے دعوے کرتا ہے اور وہ جب قسم کھائے اس وقت بھی سب سے زیادہ جھوٹا ہوتا ہے پھر جب صرف دعوی کرے اس وقت کیسا ہوگا!
سادات ثلاثہ علامہ حلبی وعلامہ طحطاوی وعلامہ شامی فرماتے ہیں :
وھو وجیہ فینص علی الکراھۃ ویترك التقیید بالوثوق ۔
یہ کلام عمدہ ہے تو سکونت حرم کو صراحۃ مکروہ بتایا جائے گا اور یہ نہ کہا جائے گا کہ اگر اپنے نفس پر گناہ سے سلامتی کا بھروسہ رکھتا ہو تو مکروہ نہیں ۔ (ت)
منتقی شرح ملتقی میں ہے :
امامن کان بخلافھم فنادر فی ھذا الزمان فلایفرد بحکم دفعا لحرج التمییز بین المصلح والمفسد ۔
اس زمانے میں ایسے طالب علم کا وجود نادر ہے جوان بگڑے ہوئے طالبہ کے برخلاف ہو تو اس کے لیے کوئی الگ حکم نہ ہوگا کیونکہ یہ امتیاز کرنا دشوار ہے کہ مصلح کون ہے اور مفسد کون ہے ! (ت)
شرح لباب میں ہے :
لو کانت الائمۃ فی زماننا وتحقق لھم شأننا لصرحوا بالحرمۃ ۔
اگر ائمہ ہمارے زمانے میں ہوتے او رہماری حقیقت حال ان کے سامنے آتی تو وہ بھی سکونت حرم کو صاف صاف ناجائز ہی بتاتے (ت) ۔
(ان عبارتوں سے استناد یہ ہے کہ فقہی احکام اکثر کے لحاظ سے ہوتے ہیں مترجم)
() زیارت قبور پہلے مطلقا ممنوع تھی پھر اجازت فرمائی علماء کو اختلاف ہو ا کہ عورتیں بھی اس رخصت میں داخل ہوئیں یا نہیں۔ عورتوں کو خاص ممانعت میں حدیث لعن اﷲ زوارات القبور (خدا کی لعنت ہے ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کو جائیں ت) سے قطع نظر کرکے تسلیم کیجئے کہ ہاں عورتوں کو بھی
ردالمحتار کتاب الحج مطلب فی المجاورۃ بالمدینہ الخ اداۃ الطباعۃ المصریہ مصر ٢ / ٢٥٨
منقی شرح الملتقی علی ھامش مجمع لانہر کتاب النکاح فصل نفقہ الطفل الفقیر داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٥٠٠
شرح الباب مع ارشاد الساری فصل اجمعہ اعلٰی الخ دارلکتاب العربی بیروت ص٣٥٢
عمدۃ القاری شرح البخاری باب زیارۃ القبور ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ٨ / ٦٩
ینبغی ان یکون التنزیہ مختصابز منہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حیث کان یباح لھن الخروج للمساجد والاعیاد وغیرہ ذلك وان یکون فی زماننا للتحریم الخ
ممانعت کا تنزیہی ہونا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے عہد پاك سے خاص ہونا چاہئے جبکہ ان کے لیے مسجدوں اور عیدین وغیرہ کی حاضری جائز تھی ہمارے زمانے میں تو تحریمی ہونا ہی مناسب ہے ۔ الخ(ت)
اسی عینی جلد چہارم میں آپ کی عبارت منقولہ سے چند سطریں پہلے امام ابو عمر سے ہے :
ولقد کرھہ اکثر العلماء خروجھن الی الصلوات فکیف الی المقابر وما اظن سقوط فرض الجمعۃ علیہن الا دلیلا علی امساکہن عن خروج فیما عداھا ۔
اکثر علماء نے نمازوں کے لیے عورتوں کاجانا مکروہ رکھا ہے توقبرستانوں میں جانے کا حکم کیا ہوگا میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ ان سے فرض جمعہ ساقط ہوجانا اس بات کی دلیل ہے کہ انھیں اس کے ماسوا سے بھی روکا جائے گا ۔ (ت)
(۵) حکم کتب میں بہت واضح ہے جواز نفس مسئلہ کافی ذاتہ حکم ہے او رممانعت بوجہ عارض غالب تو فتوی نہ ہوگا مگر منع مطلق پر ۔ فقہ میں اس کے نظائر بکثرت ہیں کہ برعایت قیود حکم جواز اور اس کی تصحیح تك کتب میں مصرح اور نظر بحال زمانہ حکم علماء منع مطلقا جیسے جوار حرم ودخول زناں بہ حمام ونفقہ طالب علم ولعب شطرنج وغیرہا۔ اول وسوم کی عبارات گزریں درمختار میں دربارہ دوم ہے۔ فی زماننا لا شك فی الکراہۃ (شہرکے عام حمام میں عورتو ں کا جانا ہمارے زمانے میں بلاشبہہ منع ہے ۔ ت) کافی وجامع الرموز وردالمختار میں دربارہ اخیر ہے :
ھوحرام وکبیرۃ عندنا وفی اباحتہ اعانۃ الشیطان علی الاسلام
ہمارے نزدیك شطرنج کھلینا حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور اسے جائز ٹھہرانے میں اسلام او رمسلمانوں کے
عمدۃ القاری شرح البخاری باب زیارۃ القبور ادارۃا لطباعۃ المنیریہ بیروت ٨ / ٦٩
درمختار باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ١٧٨
خلاف شیطان کو مدد دیناہے ۔ (ت)
(۶) اس تقریر سے ا س کا جواب واضح ہوگیا کہ اگرچہ ایسی عورت ہزاروں میں ایك ہو جیسی ہزاروں میں ہزار ہوں جب بھی معتبر نہیں کہ حکم فقہ باعتبار غالب کے ہوتا ہے نہ کہ ہزاروں میں ایک یہیں سے بریانیوں کا حال کھل گیا دس ہزار بریانیاں مردار مینڈھے دنبے بکرے کی ہوں اور ان میں دس ہزار مذبوح جانوروں کی مختلط ہوں بیس ہزار حرام ہیں یہاں تك کہ ان میں تحری کرکے جس کی طرف علت کا خیا ل جمے اسے کھانا بھی حرام نہ کہ دس ہزار میں ایک درمختار میں ہے :
تعتبر الغلبۃ فی اوان طاھرۃ ونجسۃ وذکیۃ ومیتۃ فان الاغلب طاھر تحری و بالعکس والسواء لا ۔
پاك وناپاك برتنوں او رمردار مذ بوح جانوروں میں کثرت کا اعتبار ہوگا اگر اکثر پاك ہیں توتحری کرے اور جس کی پاکی پر دل جمے اسے استعمال کرے اور ا گرناپاك زیادہ ہوں یا برابر ہوں تو تحری نہ کرے کہ اب کسی کا استعمال جائز نہیں ۔ (ت)
ہاں ایك حلال جدا ممتاز معلوم ہو توکثرت حرام سے اس پر کیا اثر۔ مگر یہاں سن چکے کہ فساد وصلاح قلب مضمر وتمیز متعذر نامیسر او رمنتقی کی عبارت ابھی گزری پھر غلبہ فساد متیقن توقطعا مطلقا حکم ممانعت متعین جیسے وہ بیسیوں ہزار بریانیاں سب حرام ہوئیں حالانکہ ان میں یقینا دس ہزار حلال تھیں یہی مسلك علمائے کرام چلے۔
() عینی شرح بخاری جلد سوم کی عبارت آپ نے نقل کی اس میں نہ زنان مصر سے حکم خاص ہے نہ مغنیہ ودلالہ کی تخصیص۔ اس میں سولہ صنف فساد زناں تو بیان کیں جن میں دو یہ ہیں اور فرمایا اور اس کے سوا اور بہت سے اصناف قواعد شریعت کے خلاف اور بتایا کہ ام المومنین اپنے ہی زمانہ کی عورتوں کو فرماتی ہیں کہ ان میں بعض امور حادث ہوئے کاش ان حادثات کو دیکھتیں کہ جب ان کاہزارواں حصہ نہ تھے اپنی عبارت منقولہ سے ایك ہی ورق پہلے دیکھئے جہاں انھوں نے اپنے ائمہ حنفیہ رضی اللہ تعالی عنہم کامذہب نقل فرمایا ہے کہ حکم مطلق رکھا ہے نہ کہ زنان فتنہ گر سے خاص۔ اورا س کی علت خوف فتنہ بتاتی ہے نہ کہ خاص وقوع یہی بعینہ نص ہدایہ ہے :
یکرہ لھن حضور الجماعات یعنی الشواب
جماعتوں میں عورتوں یعنی جوان عورتوں کی حاضری
درمختار کتاب الخطروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ٣٣٧
مکروہ ہے اس لیے کہ اس میں فتنے کا اندیشہ ہے ۔ (ت)۔
ہاں جن سے وقوع ہورہاہے جیسے زنان مصر ان کے لیے حرام بدرجہ اولی بتایا ہے کہ جب خوف فتنہ پر ہمارے ائمہ مطلقا حکم حرمت فرما چکے توجہاں فتنے پورے ہیں وہاں کا کیا ذکر ۔ عبارت عینی یہ ہے :
قال صاحب الہدایۃ یکرہ لھن حضور الجماعات وقالت عــــہ الشراح یعنی الشواب منھن و قولہ الجماعات یتناول الجمع والاعیاد والکسوف والاستسقاء وعن الشافعی یباح لھن الخروج قال اصحابنالان فی خروجھن خوف الفتنۃ وھو سبب للحرام ومایفضی الی الحرام فھو حرام فعلی ھذا قولھم یکرہ مرادھم یحرم لاسیما فی ھذا الزمان الشیوع الفساد فی اھلہ ۔
صاحب ہدایہ نے فرمایا : عورتوں کے لیے جماعتوں کی حاضری مکروہ ہے۔ بعض شارحین نے کہا یعنی جوان عورتوں کے لیے ___ اور “ جماعتوں “ کالفظ جمعہ عیدین کسوف استسقاء سبھی کو شامل ہے او رامام شافعی سے روایت ہے کہ ان کے لیے جانے کی اجازت ہے ۔ ہمارے مشائخ نے ممانعت کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان کے نکلنے میں فتنے کا اندیشہ ہے ا ور یہ حرام کا سبب ہے اور جو حرام تك لے جانے والاہو وہ حرام ہے__ اس کے پیش نظر لفظ “ مکروہ “ سے ان کی مراد “ حرام “ ہے خصوصا اس زمانے میں اس لیے کہ اب لوگوں میں خرابی او ربرائی عام ہوگئی ہے (ت)
پھر اسی صفحہ پر عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کاجمعہ کے دن عورتوں کو کنکریاں مار کر مسجد سے نکالنا اور امام اجل ابراہیم نخعی تابعی کا اپنے یہاں کی مستورات کو جمعہ وجماعت میں نہ جانے دینا ذکر کیا ۔ کما تقدم (جیسا کہ پہلے گزرا۔ ت) عنایہ سے گزرا کہ امیر المومنین فاروق اعظم نے عورتوں کو حضور مسجد سے منع فرمایا۔ کیا مدینہ طیبہ کی وہ بیبیاں کہ صحابیات وتابعات تھیں۔ اور ان امام اجل تابعی کی مستورات معاذاﷲ فتنہ گروہ اہل فساد تھیں حاشا ہرگز نہیں یا للعجب اگر صحابہ وتابعین کرام کو بھی کہا جائے کہ سب کو ایك
عــــہ : اقول : لابل ھو نفس نص الہدایۃ کما سمعت ۔ منہ غفرلہ (م)
میں کہتاہوں نہیں بلکہ خود ہدایہ کی عبارت ہے جیسا کہ سن چکے۔ منہ غفرلہ (ت)
عمدۃ القاری شرح البخاری باب خروج النساء الی المساجد ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ٦ / ١٥٦
(۸) اسی لیے آپ کی منقولہ عبارت عینی جلدچہارم کا مطلب واضح کردیا کہ حکم یہ بیان فرمایا کہ اب زیارت قبور عورتوں کو مکروہ ہی نہیں بلکہ حرام ہے۔ یہ نہ فرمایا کہ ویسی کوحرام ہے ایسی کو حلال ہے۔ ویسی کو تو پہلے بھی حرام تھا اس زمانہ کی کیا تخصیص ! آگے فرمایا : خصوصا زنان مصر۔ اور اس کی تعلیل کی کہ ان کا خروج بروجہ فتنہ ہے ۔ یہ وہی تحریم کی وجہ ہےنہ کہ حکم وقوع فتنہ سے خاص اور فتنہ گر عورتوں سے مخصوص۔ ہاں یہ مسلك شافعیہ کلا ہے۔ ابھی امام عینی سے سن چکے کہ عن الشافعی یباح لھن الخروج (شافعی سے کہ ان کے لیے مسجدوں اور عیدین وغیرہ کے لیے نکلنا جائز تھا ۔ ت)ولہذا کرمانی پھر عسقلانی پھر قسطلانی کہ سب شافعیہ ہیں شروح بخاری میں اس طرف گئے۔ کرمانی نے قول امام تیمی کہ اس حدیث میں فساد بعض زنان کے سبب سب عورتوں کی ممانعت پر دلیل ہے ۔ نقل کرکے کہا :
قلت الذی یعول علیہ ماقلنا ولم یحدث الفساد فی الکل ۔
میں نے کہا : معتمد وہی ہے جو ہم نے بیان کیا۔ فساد وخرابی سب عورتوں میں نہیں آئی ہے ۔ (ت)
ان کے اس خیال کے دو شافی جواب ابھی گزرے اور تیسرا سب سے اعلی باذنہ تعالی عنقریب آتاہے۔ امام عینی نے یہاں اس سے تعرض نہ فرمایا کہ اسی حدیث کے نیچے ڈیڑھ ہی ورق پہلے اپنے مذہب اور اپنے ائمہ کا ارشاد بتاچکے تھے۔
() عبارت غنیہ کہ آپ نے نقل کی اس سے اوپر کی سطر دیکھیے کہ اجازت ا س وقت تھی جب انھیں مسجدوں میں جانا مباح تھا۔ اب مسجدوں کی ممانعت دیکھئے سب کو ہے یا زنان مصر فتنہ گر کو ۔ اس کے سات سطربعد کی عبارت دیکھیے :
یعضدہ المعنی الحادث باختلاف الزمان الذی بسببہ کرہ لھن حضور الجمع والجماعات الذی اشارت الیہ
اس کی تائید اختلاف زمانہ سے پیدا ہونے والے معنی سے ہوتی ہے جس کے سبب عورتوں کے لیے جمعہ او رجماعتوں کی حاضری مکروہ ہوگئ اس معنی کی جانب
عمدۃ القاری شرح البخاری باب خروج النساء الی المساجد ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ٦ / ١٥٦
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما نے یوں اشارہ فرمایا : اگر رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وہ باتیں دیکھتے جو عورتوں نے ان کے بعد پیدا کرلیں تو انھیں مسجدوں سے روك دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کوروك دیاگیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما یہ جب اپنے زمانے کی عورتوں کے بارے میں فرمارہی ہیں تو ہمارے زمانے کی عورتوں کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے (ت)
دیکھیے اسی منع مساجد سے سندلی جس کاحکم عام ہے تو لما فی خروجھن من الفساد (ان کے نکلنے میں خرابی ہے۔ ت) سے فساد بعض ہی مراد اور اسی کی منع کل مستفاد نہ کہ صرف فساد والیوں پر قصرارشاد۔
() غنیہ نے ان دونوں عبارتوں کے بیچ آپ کی عبارت منقول کردہ متصل بحوالہ تارتارخانیہ تھا یہ شعبی سے جو کچھ نقل فرمایا وہ بھی ملاحظہ ہو :
سئل القاضی عن جواز خروج النساء الی المقابر قال لایسأل عن الجواز الفساد فی مثل ھذا وانما یسأل عن مقدار مایلحقھا من اللعن فیھا واعلم انھا کلما قصدت الخروج کانت فی لعنۃ اﷲ و ملائکتہ واذا خرجت تحفھا الشیاطین من کل جانب واذا اتت القبور یلعنہا روح المیت واذا رجعت کانت فی لعنۃ اللہ ۔
یعنی امام قاضی سے استفتاء ہوا کہ عورتوں کامقابر کو جانا جائز ہے یا نہیں فرمایا : ایسی جگہ جواز وعدم جواز نہیں پوچھتے یہ پوچھو کہ اس میں عورت پر کتنی لعنت پڑتی ہے۔ جب گھر سے قبور کی طرف چلنے کا ارادہ کرتی ہے اﷲ اور فرشتوں کی لعنت میں ہوتی ہے جب گھر سے باہر نکلتی ہے سب طرفوں سے شیطان اسے گھیر لیتے ہیں جب قبر تك پہنچتی ہے میت کی روح اس پر لعنت کرتی ہے جب واپس آتی ہے اﷲ کی لعنت میں ہوتی ہے (ت)
ملاحظہ ہو استفتاء کیا خاص فاسقات کے بارے میں تھا۔ مطلق عورتوں کے قبروں کو جانے سے سوال تھا ا س کا یہ جواب ملا اب جواب میں کہیں فاسقات کی تخصیص ہے۔ غرض یہ تمام عبارات جن سے آپ نے
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز سہیل اکیڈمی لاہور ص ٥٩٤
یہاں ایك نکتہ او رہے جس سے عورتوں کی قسمیں بنانے ان کے صلاح وفساد پر نظر کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے او رقطعا حکم سب کو عام ہوجاتاہے اگر چہ کیسی صالحہ پارسا ہو۔ فتنہ وہی نہیں کہ عورت کے دل سے پیدا ہو وہ بھی ہے اور سخت تر ہے جس کا فساق سے عورت پر اندیشہ ہو۔ یہاں عورت کی صلاح کیا کام دے گی حضرت سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زوجہ مقدسہ صالحہ عابدہ ۔ زاہدہ۔ تقیہ نقیہ حضرت عاتکہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اسی عملی طور سے متنبہ کرکے حاضری مسجد کریم مدینہ طیبہ سے بازرکھا ۔ ان پاك بی بی کو مسجد کریم سے عشق تھا پہلے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح میں آئیں قبل نکاح امیرالمومنین سے شرط کرالی کہ مجھے مسجد سے نہ روکیں اس زمانہ خیر میں محض عورتوں کو ممانعت قطعی جزمی نہ تھی جس کے سبب بیبیوں سے حاضری مسجد اور گاہ گاہ زیارت بعض مزارات بھی منقول۔ صحیحین میں حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے :
نھینا عن اتباع الجنائز ولم یعزم علینا ۔
ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع فرمایا گیا مگر قطعی ممانعت نہ تھی۔
اسی پر غنیہ کی اس عبارت میں فرمایا کہ یہ اس وقت تھا جب حاضری مسجد انھیں جائز تھی اب حرام اور قطعی ممنوع ہے ۔ غرض اس وجہ سے امیر المومنین نے ان کی شرط قبول فرمالی۔ پھر بھی چاہتے یہی تھے کہ مسجد نہ جائیں یہ کہتیں آپ منع فرمادیں میں نہ جاؤں گی امیر المومنین بہ پابندی شرط منع نہ فرماتے امیر المومنین کے بعد حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح ہوا منع نہ فرماتے وہ نہ مانتیں ایك روز انھوں نے یہ تدبیر کی کہ عشاء کے وقت اندھیری رات میں ان کے جانے سے پہلے راہ میں کسی دروازے میں چھپ رہے۔ جب یہ آئیں اس دروازے سے آگے بڑھی تھیں کہ انھوں نے نکل کر پیچھے سے ان کے سرمبارك پر ہاتھ مارا اور چھپ رہے حضرت عاتکہ نے کہا : ان ﷲ فسد الناس ہم اﷲ تعالی کے لیے ہیں لوگوں میں فساد آگیا۔ یہ فرماکر مکان کو واپس آئیں اور پھر جنازہ ہی نکلا۔ تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نھے انھیں یہ تنبیہ فرمائی کہ عورت کیسی ہی صالحہ ہو اس کی طرف سے اندیشہ نہ سہی فاسق مردوں کی طرف سے اس پر خوف کا کیا علاج!اب یہ سب کو ایك پھانسی پر لٹکاناہوا یا مقدس پاك دامنوں کی عزت کو شریروں کے شر سے بچانا ! ہمارے ائمہ
غنیۃ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی الجنائز سہیل اکیڈمی لاہور ص٥٩٥
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ ترجمہ ٦٩٥ عاتکہ بنت زید الخ دارصادر بیروت ٤ / ٣٥٧
لاباس للعجوز ان تخرج فی الفجر والمغرب والعشاء ھذا عند ابی حنیفۃ وقالا یخرجن فی الصلوات کلھا لانہ لافتنۃ لقلۃ الرغبۃ ولہ ان فرط الشق حاصل فتقع الفتنۃ غیر ان الفساق انتشار ھم فی الظھر والعصر والجمعۃ ۔
بوڑھی عورت کے لیے فجر مغرب اور عشاء کے لیے نکلنے میں حرج نہیں اور صاحبین کا قول یہ ہے کہ یہ تمام نمازوں میں جائے کیونکہ اس کی جانب رغبت کم ہونے کی وجہ سے کوئی فتنہ نہیں امام اعظم کی دلیل یہ ہے کہ فاسقوں میں شہوت کی زیادتی انھیں بوڑھی عورت پر بھی برانگیختہ کرے گی اس طرح فتنہ واقع ہوگا مگر یہ ہے کہ فاسقون کا ادھر ادھرچلنا پھرنا ظہر۔ عصر اور مغرب کے وقت ہوتا ہے (اس لیے فجر مغرب اور عشاء میں اسے جانے کی اجازت دی گئی )۔ (ت)
محقق علی لاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا :
بالنظر الی التعلیل المذکور منعت غیر المزنیۃ ایضا لغلبۃ الفساق دلیلا وان کان النص یبیحہ لان الفساق فی زماننا اکثر انتشار رھم و تعرضہم باللیل و عمم المتاخرون المنع للعجائز والشواب فی الصلوات کلھا لغلبۃ الفساد فی سائر الاوقات ۔
دلیل مذکور کے پیش نظر ایسی عورت کے لیے بھی ممانعت ہوئی جو خود بدکار نہیں کیونکہ بدمعاشو ں کا غلبہ ہے اور رات کو بھی ممانعت ہوئی اگر چہ امام اعظم کے نص سے اس کی اباحت ثابت ہے وجہ یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں فاسقوں کاگھومنا پھرنا اور چھیڑ چھاڑ کرنازیادہ تر رات ہی کو ہوتا ہے۔ اور متاخرین نے بوڑھی جوان سب عورتوں کے لیے تمام نمازوں میں عام ممانعت کردی اس لیے کہ سبھی اوقات میں فساد وخرابی کا غلبہ ہے ۔ (ت)
اس مضمون کی عبارات جمع کی جائیں تو ایك کتاب ہو۔ خود اسی عمدۃ القاری جلد سوم میں اپنی عبارت منقولہ سے سوا صفحہ پہلے دیکھیے :
فیہ (ای فی الحدیث) انہ ینبغی (ای للزوج)
اس حدیث میں یہ مضمون ہے کہ جس کام میں عورت کے لیے
الہدایۃ باب الامامۃ المکتبہ العربیہ کراچی ١ / ١٠٥
فتح القدیر باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ /
منفعت ہے اس کے لیے چاہئے کہ شوہر اسے نکلنے کی اجازت دے دے اور منع نہ کرے اور یہ حکم اس صورت میں ہے جب عورت پر اور عورت کے سبب فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اور اس زمانے میں اکثری حالات اطمینان وبے خوفی ہی کی تھی مگر اب ہمارے زمانے میں تو فساد اور برائی عام ہے اور مفسد بہت ہیں ہم نے حالت امن کی جو قید ذکر کی ا سکی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث ہے ۔ (ت)
اس کی جلد چہارم کی عبارت کا مطلب واضح کردیا کہ حکم کیا بیان فرمایا یہ کہ اب زیارت قبور عورتوں کو مکروہ ہی نہیں بلکہ حرام ہے۔ یہ نہ فرمایا کہ ویسی کو حرام ہے ایسی کو حلال ہے ویسی کو توپہلے بھی حرام تھا اس زمانہ کی کیا تخصیص آگے فرمایا خصوصا زنان مصر اور اس کی تعلیل کی کہ ان کا خروج بروجہ فتنہ ہے۔ یہ وہی اولویت تحریم کی وجہ سے سن چکے کہ عن الشافعی یباح لھن الخروج (امام شافعی سے روایت ہے کہ ان کا نکلنا جائز تھا۔ ت)ولہذا کرمانی پھر عسقلانی پھر قسطلانی کہ سب شافعیہ ہیں شروح بخاری میں اس طرف گئے۔ کرمانی نے قول امام تیمی کہ فساد بعض زناں کے سبب سب عورتوں کو ممانعت پر دلیل ہے۔ نقل کرکے کہا :
قلت الذی یعول علیہ ماقلناہ ولم یحدث الفساد فی الکل ۔
میں نے کہا : معتمد وہی ہے جو ہم نے بیان کیا اور فساد و خرابی سب میں نہیں آئی ہے ۔ (ت)
جلد چہارم میں ابو عمر عبدا البر سے دیکھیے :
اماالشواب فال تومن من الفتنۃ علیھن وبھن حیث خرجن ولاشیئ للمرأۃ احسن من لزوم قعربیتھا ۔
لیکن جوان عورتیں تو وہ جہاں بھی نکلیں ان کے سبب اور ان کے اوپر فتنہ سے بے خوفی نہیں۔ اورعورت کے لیے اپنے گھر کے اندر رہنا سب سے اچھا ہے (ت)
عمدۃ القاری شرح البخاری باب خروج النساء الی المساجد ادارۃالطباعۃ المنیریۃ بیروت ٦ / ١٥٧
عمدۃ القاری شرح البخاری باب خروج النساء الی المساجد ادارۃالطباعۃ المنیریۃ بیروت ١ / ١٥٩
عمدۃ القاری شرح البخاری باب زیارت القبور ادارۃالطباعۃ المنیریۃ بیروت ٨ / ٦٩
لاتخرج الالحق لھا اوعلیھا اولزیارہ ابویھا کل جمعۃ مرۃ اوالمحارم کل سنۃ ولکونھا قابلۃ اوغاسلۃ لافیہا عدا ذلك وان اذن کان عاصین ۔
عورت نہ نکلے مگر اپنے حق کے لیے یا اپنے اوپر کسی حق کے سبب یا ہر ہفتہ میں ایك بار والدین کی ملاقات کے لیے۔ یاسال میں ایك بار دیگر محارم کی ملاقات کے لیے۔ یا اس وجہ سے کہ وہ دایہ یا میت کو نہلانے والی ہے۔ ان کے علاوہ صورتوں میں نہ نکلے۔ اگرشوہر نے اجازت دی تو دونوں گنہگار ہوں گے۔ (ت)
نو ازل امام فقیہ ابواللیث وفتاوی خلاصہ وفتح القدیر وغیر ہا میں ہے :
یجوز للخروج ان یأذن لھا بالخروج الی سبعۃ مواضع اذا استأذنتہ زیارۃ الابوین وعیادتھا وتعزیتھما اواحدھما وزیارۃ المحارم فان کانت قابلۃ او غاسلۃ اوکان لہاعلی اخرحق اوکان لاخر علیھا حق تخرج بالاذن ولغیر الاذن والحج علی ھذا وفیما عدا ذلك من زیارۃ الاجانب وعیادتھم والولیمۃ لایأذن لھا لواذن وخرجت کانا عصیین ۔
شوہر عورت کو سات مقامات میں نکلنے کی اجازت دے سکتا ہے : () ماں باپ دونوں یا کسی ایك کی ملاقات (۲) ان کی عیادت (۳) ان کی تعزیت (۴) محارم کی ملاقات (۵) اور اگر دایہ ہو (۶) یامردہ کو نہلانے والی ہو (۷) یا اس کا کسی دوسرے پر حق ہو یا دوسرے کا ا س کے اوپر حق ہو تو اجازت سے اور بلااجازت دونوں طرح جاسکتی ہے۔ حج بھی اسی حکم میں ہے۔ ان کے علاوہ صورتیں جیسے اجنبیوں کی ملاقات عیادت اور ولیمہ ان کے لیے شوہر اجازت نہ دے اور اگر اجازت دی اور عورت گئی تو دونوں گنہگار ہوں گے ۔ (ت)
ملاحظہ ہوں ان میں کہیں زیارت قبور کا بھی استثناء کیا کیا یہ استثناء کسی معتمد کتا ب میں مل سکتا ہے۔
() اقول : وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق
(میں کہتا ہوں__ اور توفیق
خلاصۃ الفتاوٰی المجنس الخامس فی خروج المرأۃ من البیت مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ٢ / ٥٣
حیث قال والاصح ان الرخصۃ ثابتۃ للرجال والنساء جمیعا فقد روی ان عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا کانت تزور قبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی کل وقت وانھا لما خرجت حاجۃزارت قبرا اخیھا عبدرالرحمن ۔
وہ فرماتے ہیں اصح یہ ہے کہ رخصت مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ثابت ہے اس لیے کہ مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ہر وقت قبر رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زیارت کرتی تھیں اور جب حج کو جاتیں تو راہ میں واقع اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبرکی زیارت کرتیں۔ (ت)
بحرالرائق وعا لمگیری وجامع الرموز ومختار الفتاوی وکشف الغطاء وسراجیہ ودرمختار وفتح المنان کی عبارتیں جن سے تصحیح المسائل میں استناد کیا۔ ہمارے خلاف نہیں۔ ہاں مأتہ مسائل پر رد ہیں جس میں مطلق کہاتھا :
زنان را زیارت قبور بقول اصح مکروہ تحریمی ست ۔
عورتوں کے لیے زیارت قبور بقول اصح مکروہ تحریمی ہے۔ (ت)
لاجرم وہی درمختار جس میں تھا۔ لابأس بزیارۃ القبور للنساء ( عورتوں کے لیے زیارت قبور میں کوئی حرج نہیں۔ ت) اسی میں ہے : ویکرہ خروجھن تحریما (عورتوں کا نکلنا مکروہ تحریمی ہے ۔ ت)
مأتہ مسائل
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٤
درمختار باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٤
لاینبغی للنساء ان یخرجن فی الجنازۃ لان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نھا ھن عن ذلك وقال انصر فن مازورات غیر ماجورات ۔
عورتوں کو جنازے میں نہ جانا چاہیے اس لئے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے لیے اس سے ممانعت کی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اگر جائیں تو ثواب سے خالی گناہ سے بھاری ہوکر پلٹیں گی۔ (ت)
اتباع جنازہ کو فرض کفایہ ہے جب اس کے لیے ان کا خروج ناجائز ہوا تو زیارت قبور کہ صرف مستحب ہے اس کے لیے کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ پھر نفس زیارت قبر جس کے لیے عورت کا خروج نہ ہو اس کا جواز بھی عندا لتحقیق فی نفسہ ہے کہ جن شروط مذکورہ سے مشروط ان کا اجتماع نظر بعاوت زنان نادر ہے ا ورنادر پر حکم نہیں ہوتا۔ تو سبیل اسلم اس سے بھی روکنار ہے۔ ردالمحتار و منحۃ الخالق میں ہے :
ان کان ذلك لتجدید الحزن والبکاء والندب علی ماجرت بہ عادتھن فلا یجوز علیہ حمل حدیث لعن اﷲ زائرات القبور وان کان للاعتبار والترحم من غیر بکاء والتبرك بزیارۃ قبور الصالحین فلا بأس اذاکن عجائز ویکرہ اذاکن شواب کحضور الجماعۃ فی المسجد اھ زادفی رد المحتار وھو توفیق حسن اھ وکتبت علیہ
اقول : قد علم ان الفتوی علی المنع مطلقا ولو عجوز اولو لیلا فکذلك فی زیارۃ القبور بل اولی۔
اگر یہ زیارت غم تازہ کرنے اور رونے چلانے کے لیے ہو جیسا کہ عورتوں کی عادت ہے تو ناجائز ہے اور اسی پر یہ حدیث محمول ہے : “ خدا کی لعنت ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کوجائیں “ اور اگر عبرت حاصل کرنے روئے بغیر رحم کھانے اور قبور صالحین سے برکت لینے کے لیے ہو تو جماعت مسجد کی حاضری کی طرح بوڑھیوں کے لیے حرج نہیں اور جوانوں کے لیے مکروہ ہے اھ __ ردالمحتار میں مزید اتنا اور ہے کہ “ یہ عمدہ تطبیق ہے اھ “ ا س پر میں نے (امام احمدرضانے) یہ حاشیہ لکھا ہے : اقول : معلوم ہے کہ فتوی اس پر ہے کہ جماعتوں کی حاضری عورتوں کے لیے مطلقا ممنوع ہے اگرچہ بوڑھی عورت ہو اور اگر چہ رات کو نکلے۔ تو یہی حکم زیارت قبور میں بھی ہوگا بلکہ یہاں بدرجہ اولی ہوگا۔ (ت)
بحرالرائق کتاب الجنائز فصل السلطان احق بصلٰوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٩٢
ردالمحتار مطلب فی زیارۃ القبور ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ١ / ٦٠٤
() مگروہ جو عورت کا خلیفہ ہونا لکھا صحیح نہیں ائمہ باطن کا اجماع ہے کہ عورت داعی الی اﷲ نہیں ہوسکتی۔ ہاں تدابیر ارشاد کردہ مرشد بتانے میں سفیر محض ہو تو حرج نہیں۔ امام شعرانی میزان الشریعۃ الکبری میں فرماتے ہیں :
قد اجمع اھل الکشف علی اشتراط الذکورۃ فی کل داع الی اللہ ولم یبلغنا ان احدا من نساء السلف الصالح تصدرت لتربیۃ المریدین ابد النقص للنساء فی الدرجۃ وان وردالکمال فی بعضھن کمریم بنت عمران واسیۃ امرأۃ فرعون فذلك کمال بالنسبۃ للتقوی والدین لابالنسبۃ للحکم بین الناس وتسلیکھم فی مقامات الولایۃ وغایۃ امرالمرأۃ ان تکون عابدۃ زاھدۃ کرابعۃ العدویۃ رضی اﷲ تعالی عنہا ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔
اہل باطن کا اس پر اجماع ہے کہ داعی الی اﷲ کیلئے مردہونا شرط ہے۔ او رہمیں ایسی کوئی روایت نہیں ملی کہ سلف صالحین کی مستورات میں سے کوئی خاتون تربیت مریدین کے لیے کبھی صدر نشین ہوئی ہو۔ وجہ یہ ہے کہ عورتیں مرتبہ میں ناقص ہیں اور بعض خواتین مثلا حضرت مریم بنت عمران او رحضرت آسیہ زوجہ فرعون کے بارے میں جو کامل ہونے کا ذکر آیا ہے تو یہ کمال تقوی اور دین داری کے لحاظ سے ہے لوگوں کے درمیان حاکم ہونے اور انھیں ولایت کے مقامات طے کرانے کے لحاظ سے نہیں__ عورت کی غایت شان یہ ہے کہ عابدہ زاہدہ ہو جیسے رابعہ عدویہ رضی اللہ تعالی عنہا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فاتحہ بہیئت مروجہ کہ کھانا سامنے رکھ کر درود و قرآن پڑھ کر ثواب اس کا بنام میت کرتے ہیں او روہ کھانا محتاج کو دے دیتے ہیں جائز ہے یا نہیں زید کہتا ہے کہ کھانا محتاج کو دینے سے پہلے ثواب میت کو نہیں پہنچاسکتے لہذا پہلے کھانا دے اس کے بعد ثواب پہنچائے اور کہتاہے کہ کھانا سامنے رکھ کر ناجائز وناروا ہے۔ آیا قول اس کا صحیح ہے یا
الجواب :
فاتحہ بہیئت مروجہ جس طرح سوال میں مذکور بلاریب جائز ومستحسن ہے ۔ اہلسنت کے نزدیك اموات کو ثواب پہنچانا ثابت ہے۔ او راس میں حدیثیں صحیح او ر روایتیں فقہی معتبر بہ کثرت وار۔ باقی رہا طعام اور قرآن کا جمع خود ان کے امام الطائفہ معلم ثانی اسمعیل دہلوی نے صراط مسقیم میں اس اجتماع کو بہتر کہا۔ کما حیث قال :
ہرگاہ ایصال نفع بمیت منظور دارد موقوف براطعام نہ گزارد اگر میسر باشد بہتر ست والا صرف ثواب سورۃ فاتحہ واخلاص بہترین ثوابہا ست ۔
جب میت کو نفع پہنچانا منظور ہو کھا نا کھلانے پر ہی موقوف نہ رکھے اگر میسر ہو تو بہتر ورنہ صرف سورہ فاتحہ واخلاص کا ثواب بہترین ثواب ہے ۔ (ت)
اور قبل اس کے کہ صدقہ محتاج کے ہاتھ میں پہنچے ثواب اس کا میت کو پہنچانا جائز اور حدیث سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہ سنن ابی داؤدو سنن نسائی میں مروی ثابت :
انہ قال یا رسول اﷲ ان ام سعد ماتت فای الصدقۃ افضل قال الماء قال فحفر بیر اوقال ھذہ لام سعد ۔
یعنی انھوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عرض کی کہ یا رسول اﷲ ! میری ماں نے انتقال کیا تو کون ساصدقہ افضل ہے فرمایا : پانی ۔ انھوں نے کنواں کھود کرکہا : یہ مادر سعد کے لیے ہے ۔ (ت)
اس سے صاف متبادریہ کہ کنواں تیار ہوجانے پر یہ الفاظ کہے اورایك دو دن یا دس بیس برس بھی سہی تو صرف اس قدر پانی کا ثواب پہنچانا منظور تھا جو اس وقت آدمیوں جانوروں کے صرف میں آیا حاشا بلکہ جب تك کنواں باقی رہے بحکم ھذہ لا م سعد سب کا ثواب مادر سعد کوپہنچے گا اور سب کا ایصال منظور توتھا تو قبل تصرف ایصال ثواب ہر طرح حاصل ۔ او رخود احادیث مرفوعہ کثیرہ سے ثابت کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ثواب عمل قبول ایصال فرمایا۔ اور فقیر نے انھیں حدیثوں سے کھاناسامنے رکھنے کی اصل استنباط کی جس کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔
سُنن ابی داؤد کتاب الزکٰوۃ باب فی فضل سقی الماء آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٢٣٦ ، سنن النسائی کتاب الوصایا فضل الصدقۃ عن المیّت نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ٢ / ١٣٣
(اسے بیہقی نے حضرت انس سے اور طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت سہل بن سعد سے اور طبرانی وعسکری نے امثال میں نواس بن سمعان سے اور دیلمی نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا اس میں اتنا اور ہے ۔ ت) بیشك اﷲ عزوجل بندہ کو اس کی نیت پر وہ ثواب دیتا ہے جوا س کے عمل پر نہیں دیتا۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ نیت میں ریاء نہیں ہوتی او رعمل کے ساتھ ریا کی آمیزش ہوجاتی ہے۔ یہ حضرت اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے جو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کی ۔ (ت)
زید کہ اسے ناجائز کہتا ہے حدیث کی مخالفت کرتا ہے۔ طرفہ تر یہ کہ خود امام الطائفہ میاں اسمعیل دہلوی ا پنی تقریر ذبیحہ میں اس تقریر وہابیہ کو ذبح کر گئے۔ لکھتے ہیں :
اگرشخصے بزے راخانہ پرور کند تاگوشت او خوب شود اور اذبح کر دوپختہ فاتحہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ خواندہ بخوراند خللے نیست ۔
اگوکوئی شخص کوئی بکری گھر پالے تاکہ اس کا گوشت عمدہ ہو پھر اس کو ذبح کرکے اور پکاکر حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی فاتحہ پڑھ کر کھلائے تو کوئی خلل نہیں ہے۔ (ت)
ان حضرت سے پوچھا ہوتا کہ یہ “ فاتحہ خواندہ بخواندہ “ (فاتحہ پـڑھ کر کھلائے ۔ ت) کیسی “ خوراندہ فاتحہ بخواندہ “ (کھلا کر فاتحہ پڑھے ۔ ت) کہا ہوتا۔
اقول : بات یہ ہے کہ فاتحہ ایصال ثواب کا نام ہے اور مومن کو عمل نیك کا ایك ثواب اس کی نیت کرتے ہی حاصل او ر عمل کیے پر دس ۱۰ ہوجاتا ہے جیسا کہ صحیح حدیثوں میں ارشاد ہوا ۔ بلکہ متعدد حدیثوں میں فرمایا گیا کہ : نیۃالمومن خیر من عملہ مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے فاتحہ میں دو۲ عمل نیك ہوتے ہیں : قرأت
زبدۃ النصائح
الفردوس بماثور الخطاب حدیث ٦٨٤٣ دارالکتاب العلمیۃ بیروت ٤ / ٢٨٦
“ طریق رسانیدن آں دعا بجناب الہی ست “
(اس کے پہنچانے کا طریقہ جناب الہی میں دعا ہے۔ ت)
کیا دعا کرنے کے لیے بھی اس شے کا موجودفی الحال ہونا ضروری ہے۔ مگر ہے یہ کہ جہالت سب کچھ کراتی ہے اور وقت فاتحہ کھانے کا قاری کے پیش نظر ہونا اگر چہ بیکار بات ہے مگر اس کے سبب سے وصول ثواب یا جواز فاتحہ میں کچھ خلل نہیں۔ جو اسے ناجائز وناروا کہے ثبوت اس کا دلیل شرعی سے دے ورنہ اپنی طرف سے بحکم خدا ورسول کسی چیز کو ناروا کہہ دینا خدا ورسول پر افتراء کرنا ہے۔ ہاں اگر کسی شخص کایہ اعتقاد ہے کہ جب تك کھانا سامنے نہ کیاجائے گا ثواب نہ پہنچے گا تویہ گمان اس کا محض غلط ہے۔ لیکن نفس فاتحہ میں اس اعتقاد سے بھی کچھ حرف نہیں آتا۔ ومن ادعی فعلیہ البیان (اور جو دعوی کرے بیان اس کے ذمہ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۳ :
سوم ودہم وچہلم وششماہی وسالیانہ کہ دریں دیار ہند مروہ ست اور بعض علماء بدعت شنیعہ مکروہہ گویند واقوال چند بردرستی اوست وطعامے کہ بعد موتے بہ نیت ثواب می پژند وہردودست برداشتہ فاتحہ ہندآں راعلماء ظواہر غیر مقلدین بباعث فاتحہ مردار وحرام دارنستہ گویند ایں طریقہ درزمانہ نبوی واصحاب کبار مصطفوی وتابعین واتباع تابعین رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین بنود بلکہ طعام وشیرینی کہ نیاز بزرگان دین است مثل مردار پس
تیجہ دسواں چالیسواں چھ ماہی برسی جو دیار ہند میں رائج ہے اسے بعض علماء مکروہ بدعت شنیعہ کہتے ہیں اور کچھ کے اقوال یہ ہیں کہ وہ درست ہے۔ اور کسی موت کے بعد ثواب کی نیت سے جوکھانا پکاتے ہیں اور دونوں ہاتھ اٹھا کر فاتحہ دیتے ہیں اس کو غیر مقلد ظاہری علماء فاتحہ کی وجہ سے مردار اور حرام جانتے ہیں وہ کہتے ہین کہ یہ طریقہ حضور بنی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کے بزرگ اصحابہ تابعین ا ور اتباع تابعین رضوان اﷲ تعالی اجمعین کے زمانے میں
نہ تھا۔ بلکہ بزرگان دین کی نیاز کے لیے جو کھانا او ر شرینی ہے وہ مردار کی طرح ہے ___ تو اس مسئلہ میں جو واجب العمل حکم شرعی ہو کتاب کے حوالہ سے بیان فرمائیں۔ بیان کریں ا ور اجر پائیں۔ (ت)
الجوب :
قول فیصل وسخن مجمل درین باب آنست کہ ایصال ثواب وہدیہ اجر باموات مسلمین باجماع کافہ اہلسنت وجماعت امریست مرغوب ودر شرع مندوب۔ احادیث بسیار از حضور سید الابرار علیہ افضل الصلوۃ من ملك الجبار ودر ترغیب وتصویب ایں کاروارد شد۔ امام علامہ محقق علی الا طلاق در فتح القدیر وامام علامہ فخرالدین زیلعی در نصب الرایہ وامام علامہ جلا الدین سیوطی در شرح الصدور و فاضل علامہ علی قاری درمسلك متقسط وغیرہم فی غیر ہا بذکر برخی ازانہا پر داختہ اند وخود انکار ایں کارنیا ید مگر از سفیہ جاہل یا ضال مطلق مبتد عان زمانہ راکہ خون پنہاں معتزلیت بجوش آمدہ است درپردہ ترخیص نیابت وتخصیص وکالت اہدائے ثواب را انکار کنندہ و پیش خویش اجماع قطعی اہلسنت را برہم زنند بازبشہادت احادیث کثیر وجزم تصحیح جمہور ائمہ وصول ثواب خاص بقربات مالیہ نیست بلکہ مالیہ وبدنیہ ہر دور اعام ہمیں ست مذہب ائمہ حنفیہ و بریں اند بسیارے از محققین شافعیہ وعلیہ الجمھور و ھو الصحیح الرجیح المنصور باز اجماع ایں ہر دو کہ ہم قرآن خوانند وہم تصدق کنند وثواب ہر دو بمسلماناں رسانند نیست مگر اس باب میں قول فیصل او ر اجماع کلام یہ ہے کہ مسلمان مردوں کو ثواب پہنچانا اور اجر ہدیہ کرنا ایك پسندیدہ اور شریعت میں مندوب امر ہے جس پر تمام اہل سنت وجماعت کا اجماع ہے ___ اس عمل کو درست قراردینے او ر اس کی رغبت دلانے سے متعلق حضور سید الابرار علیہ الصلوۃ والسلام سے بہت سی حدیثیں وارد ہیں __ جن میں سے کچھ احادیث امام علامہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں امام علامہ فخرالدین زیلعی نے نصب الرایہ میں امام علامہ جلال الدین سیوطی نے شرح الصدور میں فاضل علامہ علی قاری نے مسلك متقسط میں اور دوسرے حضرات نے دوسری کتابوں میں بیان فرمائی ہیں ___ اس عمل کا انکار وہی کرے گا جو بے وقوف جاہل یا گمراہ صاحب باطل ہو __ اس زمانہ کے بدمذہبوں میں معتزلیت کا چھپا ہوا خون جوش میں آگیا ہے معتزلہ کی نیابت اورخصوصی وکالت کے پردے میں ایصال ثواب کے منکر ہیں اور خود اہلسنت کے اجماع قطعی کے مخالف ہیں ۔ پھر احادیث کثیرہ کی شہادت او ر جمہور ائمہ کے جز م اور تصحیح سے ثابت ہے کہ ثواب پہنچنا قربت مالی سے خاص نہیں بلکہ مالی وبدنی دونوں کو عام ہے __ یہی ائمہ حنفیہ کا مذہب ہے ا ور اسی پر بہت سے محققین شافعیہ بھی ہیں او ر اسی پر جمہور ہیں۔
اس عمدۃ قاعدے کا پورا بیان اہل تدقیق کے پیشوا اہل تحقیق کی مہر حضرت والد قدس سرہ نے کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد میں کیا ہے اور صحاح کی حدیث سے اس معنی کا استنباد فرمایا ہے۔ جو چاہے ا س کے مطالعہ سے مشرف ہو __ خودطائفہ مانعین کے معلم اول مولوی اسمعیل دہلوی کو قرآن اور طعام کی اس یکجائی کا عمدہ ہونا قبول وتسلیم ہے صراط مستقیم میں یوں اقرار و تسلیم کی راہ اختیار کی ہے : “ جب میت کو کوئی فائدہ
احیاء العلوم کتاب آداب السماع والوجد مکتبہ ومطبعہ الشہد الحسینی قاہرہ ٢ / ٢٧٣
صراطِ مستقیم ہدایت ثالثہ دربدعا تیکہ الخ مطبوعہ المکتبہ السلفیہ لاہور ص٦٤
پہنچانامنظور ہو کھانا کھلانے پر موقوف نہ رکھے اگر میسر ہو بہتر ہے ورنہ صرف سورہ فاتحہ واخلاص کا ثواب بہترین ثواب ہے اھ “ ___ ا ور شك نہیں کہ ایصال ثواب کا طریقہ یہی ہے کہ رب الارباب جل جلالہ کی باگاہ میں دعا ہو ۔
امام الطائفہ نے صراط مسقیم میں لکھا ہے : “ جو عبادت کسی مسلمان سے ادا ہو او ر اس کا ثواب گزرے ہوئے لوگوں میں سے کسی کی روح کو پہنچائے ا ور اس کے پہنچانے کا طریقہ جناب الہی میں دعا ہے تویہ خو دبلاشبہ بہتر اور مستحسن ہے الخ “ اور ہاتھ اٹھانا مطلق دعا کے اداب سے ہے ___ حصن حصین میں ہے : “ دعا کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ ہاتھوں کو پھیلائے ( ترمذی مستدرك حاکم) او ربلند کر ے ( صحاح ستہ) ۔ “ معلوم ہواکہ دونوں ہاتھ اٹھانے کا آداب دعا سے ہونا صحاح ستہ کی حدیث سے ثابت ہے۔ ہمارے ائمہ اور علماء کی کیا بات ہے خود طوائف منکرین کے معلم ثانی نے مسائل اربعین میں لکھا ہے : “ وقت تعزیت کی دعا میں ہاتھ اٹھانا ظاہر یہی ہے کہ جائز ہے ا س لیے کہ حدیث شریف سے مطلقا دعا میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے تو اس وقت میں بھی کوئی مضائقہ نہ ہوگا مگر خاص وقت تعزیت کے لیے ہاتھ اٹھانا
حصن حصین آداب الدعاء افض المطابع لکھنؤ ص١٧
مسائل اربعین
اکنوں آمدیم برنقل چندا قوال دیگر از کبراء و عمائد آثار میں منقول نہیں اھ “ دیکھئے خصوصیت کو غیر ماثور بتانے کے باوجود دلیل اطلاق سے جواز کو ظاہر کہا اور ا س کے کرنے میں کبھی بھی کوئی چیز بری نہیں ہوتی اور ان خصوصیات کے صرف وارد نہ ہونے کو مستلزم ممانعت سمجھنا تو ایك کھلی ہوئی غلطی اور شرمناك جہالت ہے۔ فقیرنے رب قدیر کی مدد سے یہ بحث “ البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقۃ “ میں زیادہ روشن طور پر تحریر کی ہے ۔ اور علمائے سنت نے بارہا ان مدعیوں کو گھر تك پہنچایا اور خاك ذلت پر بٹھایا ہے تفصیل و تطویل کی ضرورت نہیں ۔ لیکن امام الطائفہ نے اس باب میں عدم ورود تسلیم کرنے کے باوجود جو کچھ لکھا ہے وہ سننے کے قابل ہے۔ رسالہ “ زبدۃ النصائح “ میں طبع شدہ تقریر ذبحہ میں لکھا ہےـ : “ کنواں کھودنے اور اس جیسے کاموں اور دعا استغفار قربانی کے سوا قرآخوانی فاتحۃ خوانی کھانا کھلانا سب طریقے بدعت ہیں گو خاص بدعت حسنہ ہیں جیسے عید کے دن معانقہ او ر نماز صبح یا عصر کے بعد مصافحہ۔ “ ارباب طائفہ خود اپنے امام سے پوچھیں کہ ان طریقوں کو عموما اور فاتحہ خوانی کوخصوصا بدعت اور نو ایجاد قراردینے کے باوجود “ حسنہ “ کیسے کہتے ہو __ اور ہمارے گروہ کے خلاف کیسے جاتے ہو پھر معانقہ عید کا ذکر تو “ سنگ آمد وسخت آمد “ ان کے لیے بڑی سخت چٹان ہے ___ ا س امام کو تلون مزاجی سے اس کے متبعین کی جان واستخوان پر بن آتی ہے او ر ان کا سارا کام ہی تمام کردیاہے ولاحول ولاقوۃ الاﷲ بااﷲ العلی العظیم ___ اور معلم ثانی کا کلام ابھی گزرا کہ خصوصیت ثابت نہ ہونے کے باوجود کوئی مضائقہ نہ جانا ۔ (ت) اب ہم کچھ اور اقوال امام الطائفہ کے بزرگان و
الحدیث الثانی العشرون اخبرنی سیدی الوالد قال کنت اصنع طعاما صلۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلم یفتح لی سنۃ من السنین شی اصنع بہ طعاما فلم اجد الاحمصا مقلیا فقسمتہ بین الناس فرایتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وبین یدیہ ھذا الحمص مبتھجا بشاشا ۔ “
۲شاہ صاحب مذکور درانتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ نویسند : “ برقدرے شیرینی فاتحہ بنام خواجگان چشت
عمائد اور اساتذہ کے نقل کرتے ہیں تاکہ ان بے باکوں کو پتا چلے کہ شریعت سے ممانعت کے بغیر فاتحہ کو حرام بتانے پر زبان کھولنا اور فاتحہ کے کھانے بزرگوں کی نیاز کی شیرینی کو حرام ومردار کہنا کیسی سخت سزائیں چکھاتا ہے او رکیسے برے دن دکھا تا ہے۔ () شاہ ولی اﷲ انفاس العارفین میں اپنے والد شاہ عبدالرحیم سے نقل کرتے ہیں کہ : “ وہ فرماتے ہیں حضرت رسالت پناہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ایام وفات میں کچھ میسر نہ ہوا کہ آں حضرت کی نیاز کا کھانا پکایا جائے تھوڑے سے بھنے ہوئے چنے او ر قندسیاہ (گڑ ) پر نیاز کیا الخ۔ '
الدرالثمین فی مبشرانت النبی الامین میں اسی بات کو یوں نقل کیا ہے : “ بائسیویں حدیث : مجھے سیدی والد ماجد نے بتایا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نیاز کیلئے کچھ کھانا تیار کراتا تھا ایك سال کچھ کشائش نہ ہوئی کہ کھانا پکواؤں صرف بھنے ہوئے چنے میسر آئے وہی میں نے نقسیم کئے میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ ا ن کے سامنے یہ چنے موجود ہیں او رحضور مسرور شادماں ہیں۔ “ یہی شاہ صاحب انتباہ فی سلاسل الاولیاء اﷲ میں لکھتے ہیں : “ تھوڑی شیرینی پرعموما خواجگان چشت
الدرالثمین مبشرات البنی الامین کتب خانہ علویہ رضویہ فیصل آباد ص٤٠
او شاہ صاحب مسطور در ہمعات گویند : “ از ینجاست حفظ اعراس مشائخ ومواظبث زیارت قبور ایشاں والتزام فاتحہ خواندن وصدقہ دادن برائے ایشاں “
شاہ صاحب مزبور درفتوی مندرجہ زبدۃ النصائح گویند : “ اگر ملیدہ شیربرنج بنا بر فاتحہ بزرگے بقصد ایصال ثواب بروح ایشاں پزند وبخورانند مضائقہ نیست جائز ست وطعام نذر اﷲ اغنیاء راخوردن حلال نیست واگرفاتحہ بنام بزرگے دادہ شد پس اغنیاء راہم خور دن دراں جائز ست ۔ “
۵شاہ صاحب مرحوم در انفاس العارفین نگارند : “ حضرت ایشاں عــــہ درقصبہ ڈاسنہ بزیارت مخدوم اﷲ دیا رفتہ بودند و شب ہنگام بود دراں فرموند مخدوم ضیافت مامی کنند و می گویند کہ چیزے خوردہ روید توقف کرد ند تا آنکہ اثر مردم
کے نام فاتحہ پڑھیں او رخدائے تعالی سے حاجت طلب کریں اسی طرح روز پڑھتے رہیں “ ا ھ شیرینی اور فاتحہ اور ہر روز کے الفاظ ذہن سے نہ نکلیں۔ ۳ یہی شاہ صاحب “ ہمات “ میں فرماتے ہیں : “ یہیں سے ثابت ہے کہ اعراس مشائخ کی نگہداشت اور ان کے مزارات کی زیارت پر مداومت او ران کے لیے فاتحہ پڑھنے اور صدقہ دینے کا التزام ۔ “ ) یہی شاہ صاحب “ زبدۃالنصائح “ میں مندرج فتوی میں لکھتے ہیں : “ اگر کسی بزرگ کی فاتحہ کے لیے ان کی روح مبارك کو ایصال ثواب کے قصد سے ملیدہ اور کھیر پکائیں او رکھلائیں تو مضائقہ نہیں ۔ جائز ہے۔ ا ورخدا کی نذر کا کھانا اغنیاء کے لیے حلال نہیں۔ لیکن اگرکسی بزرگ کے نام کی فاتحہ دی جائے تو اس میں اغنیاء کو کھانا بھی جائز ہے۔ “ یہی شاہ صاحب انفاس العارفین میں لکھتے ہیں : “ حضرت (یعنی ان کے والد مرشد شاہ عبدالرحیم صاحب) قصبہ ڈاسنہ میں مخدوم اﷲ دیا کی زیارت کے لیے گئے تھے رات کا وقت تھا اسی وقت فرمایا کہ مخدوم ہماری دعوت کر رہے ہیں اور فرمارہے ہیں
عــــہ : یعنی والد مرشد ایشاں شاہ عبدالرحیم (م)
یعنی ان کے والد و مرشد شاہ عبدالرحیم (ت)
ہمعات ہمہ ١١ ا کادیمیۃ الشاہ ولی اللہ حیدر آباد سندھ ص٥٨
زبدۃ النصائح
۶مولنا شاہ عبد العزیز صاحب در تحفہ عشریہ فرمایند : “ حضرت امیر وذریۃ طاہرہ اور اتمام امت بر مثال پیران و مرشداں می پر ستند وامور تکو ینہ را وابستہ با یشاں می دانند وفاتحہ و درود و صدقات و نذر و منت بنام ایشاں رائج و معمول گردیدہ چنانچہ ماجمیع اولیاء ہمیں معاملہ است ۔ “ ایں عبارت سراپا بشارت کہ حرف حرفش برسر مخالف برقے ست خالف یا ریحے قاصف حرف حرف بخاطر یابد داشت واز مخالفاں پر سید کہ شاہ صاحب بطور شمار جمیع امۃ را صراحۃ تجویز و تحسین نمودہ کافر ومشرك شدند یانہ۔ برتقدیر اول امام الطائفہ اسمعیل دہلوی کہ غلامان غلام ومرید مرید ایشاں ست در صراط مسقیم بمدح ایشاں
کہ کچھ کھاکر جاؤ تو قف فرمایا یہاں تك کہ لوگوں کی آمد و رفت ختم ہوگئی اور دوستوں پر اکتاہٹ غالب آگئی اس وقت ایك عورت چاول اور شیرینی کا طبق سر پر لیے آئی اور کہا میں نے نذر مانی تھی کہ اگر میرے شوہر آجائیں تو اسی وقت یہ کھانا پکا کر مخدوم اﷲ دیا کی درگاہ کے حاضرین کے پاس پہنچاؤں گی شوہر اسی وقت آئے میں نے نذر پوری کی اور میری آرزو تھی کہ کوئی وہاں موجود ہو جو اسے تناول کرے۔ “
() مولانہ شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثناء عشریہ میں فرماتے ہیں : “ حضرت امیر المو منین علی مرتضی اور ان کی اولاد پاك کو تمام امت پیروں اور مرشدوں کی طرح مانتی ہے اور امور تکوینیہ ان سے وابستہ جا نتی ہے اور ان کے نام فاتحہ و درود اور صدقات کا معمول ہے اور ایسے ہی تمام اولیاء اﷲ کے ساتھ یہی معاملہ ہے ۔ “ یہ عبارات سراپا بشارت جس کا ایك ایك حرف مخالف کے سر پر برق خاطف یا تباہ کن بگولا ہے دل میں محفوظ رکھنا چاہئے اور مخالفین سے پوچھنا چاہئے کہ شاہ صاحب نے تمھارے طور پر ساری امت کو صاف صاف گمراہ اور مشرك بتایا یا نہیں اور خود اس طرح کی باتوں کو جائز اور عمدہ بتا کر کافر و مشر ك ہوئے یا نہیں برتقدیر اول امام الطائفہ اسمعیل دہلوی جو ان کے غلاموں کا غلام او ران کے
تحفہ اثناء عشریہ الباب ہفتم درامامت سہیل اکیڈمی لاہور ص٢١٤
مرید کا مرید ہے “ صراط مسقیم “ کے اندر ان کی مدح میں یوں رطب اللسان ہے “ جناب ہدایت مآب ارباب صدق وصفا کے پیشوا اصحاب فناء وبقاء کے خلاصۃ علماء کے سردار اولیاء کی سند سارے جہاں پر اﷲ کی حجت انبیاء ومرسلین کے وارث ہر ذلت و عزت والے کے مرجع ۔ ہمارے آقا اور ہمارے مرشد شیخ عبدالعزیز ۔ “ ان عظیم وجلیل الفاظ سے معاذاﷲ ایك کافر و مشرك کی تعریف کرکے اور اسے خدا کی حجت انبیاء کا نائب وغیرہ وغیرہ اعتقاد کرکے خود کافر مرتد ہوا یا نہیں پھر تم سب اس کا فر ومرتد کو امام و پیشوا سردار ومقتداء اور مرجع وماوا بنا کر اور ہر مسئلہ و عقیدہ میں اس کے خط فرمان پر سر جھکا کر اس کے قدم بہ قدم چل کر کافر وبے دین اور مرتد ولعین ہوئے یاکچھ اور بینوا توجروا۔ (ت)
باز بمطلب عنان تابیم (اب پھر ہم مقصد کی جانب لگام موڑتے ہیں ۔ ت) مولوی خرمعلی بلہوری معلم ثالث طائفہ حادث درنصیحۃ المسلمین گوید (مولوی خرمعلی بلہوری طائفہ نو کے معلم ثالث نے “ نصیحۃ المسلمین “ میں لکھاہے ۔ ت)
“ حاضری حضرت عباس کی صحنك حضرت فاطمہ کی گیارھویں عبدالقادر جیلانی کی مالیدہ شاہ مدار کا سہ منی بوعلی قلندر کی تو شہ شاہ عبدا لحق کا اگر منت نہیں صرف ان کی روحوں کو ثواب پہنچانا منظور ہے تو درست ہے۔ اس نیت سے ہر گز منع نہیں “ اھ ملخصا ۔
۸ خود امام الطائفہ در تقریر ذبیحہ سراید “ اگر
()خود امام الطائفہ نے تقریر ذبیحہ میں یہ نغمہ سرائی
نصیحۃ المسلمین چند شرکیہ رسمیں سبحانی اکیڈمی لاہور ص٤١
ایں لفظ “ خواندہ بخوراند “ نیزنگاہ داشتن است کہ بسیارے از منکرین ایں راہم مناط انکار سازند وگویند اگر ایں اجتماع اطعام وقراءت جائز بودے تاہم بایستے کہ خوراندہ نہ کہ خواندہ خوراندہ کہ عبث وباطل ست جواب کامل ازیں شبہہ باطل در “ بارقہ شارقہ “ یادکردہ ایم ہمچناں ایں لفظ غوث اعظم بردل نگاہ شتنے کہ برایمان تقویۃ الایمان صراحۃ شرك است طرفہ آنکہ اتباع جہول طعام فاتحہ راحرام ومردار دانند وامام الطائفہ طعام وگوشت گاؤ ند ر اولیا ہمہ راحلال می خواند بشرطیکہ تقرب بذبح بسوئے میت بناشد و سپیدی گوید کہ “ جانور ےکہ نذر اولیا کردہ باشند اگر چہ چنداں نذر بروجہ حرام قبیح ہم کنند ۔ تاہم درحلت جانورے سخنے نیست “ فکیف کہ نذر اولیا بروجہ حسن باشد چہ جائے آنکہ محض بے نذر ایصال ثواب شودچہ محل انکہ از ذبح جانور داراقت دم اثر ے نبود۔ ہمیں قراءت قرآنی وتصدق طعامے بمیان آید مگر درتقریر مذکور چناں می نگارد ۹اگر شخصے نذر کنند کہ اگر فلاں حاجت من برآید ایں قدر نیاز حضرت سید احمد کبیر بکنم وایں قدر طعام نیاز ایشاں مردم ہم رابخور انم اگر چہ دریں نذر کی ہے : “ اگر کوئی شخص کسی بکری کو گھر میں پالے تاکہ اس کا گوشت عمدہ ہو ا س کو ذبح کرکے اور پکاکر حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی فاتحہ پڑھ کر کھلائے تو کوئی خلل نہیں ہے ۔ “
یہ لفظ “ پڑھ کر کھلائے “ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بہت سے منکرین اسے مدار انکار بناتے ہیں ا ور کہتے ہیں اگر کھلانے اور پڑھنے کا اجتماع جائز نہ ہوتا تو بھی چاہئے تھا کہ کھلا کر پڑھے نہ کہ “ پڑھ کر کھلائے “ کہ عبث اور باطل ہے____ اس باطل شبہہ کا کامل جواب ہم نے بارقہ شارقہ میں بیان کیا ہے ۔ اسی طرح یہ لفظ “ غوث اعظم “ بھی دل پرلکھ رکھنے کے قابل ہے کہ “ تقویۃ الایمان “ کی رو سے کھلا ہوا شرك ہے ___ طرفہ تر یہ کہ نادان تبعین تو فاتحہ کے کھانے کو حرام ومردار اور گائے کے گوشت سب کو حلال کہتا ہے بشرطیکہ ذبح سے میت کی جانب تقرب مقصود نہ ہو ___ اورصاف کہتا ہے کہ “ جو جانور اولیا کی نذر کیا ہو اگر چہ ایسی نذر حرام قبیح طور پر بھی کرتے ہیں پھر بھی جانور کے حلال ہونے میں کلام نہیں___ پھر اولیاء کی نذر عمدہ طور پر ہو تو حرمت کیسے ___ پھر بغیر نذرکے محض ایصال ثواب ہو تو وہ حرام کیسے ___ پھر جانور کو ذبح کرنے اور خون بھانے کا کوئی نام ونشان بھی نہ ہو صرف قرآن کی قراءت اور طعام
کا صدقہ درمیان میں آئے تو اس کے حرام ہونے کا کیا موقع ___ تقریر مذکور میں یوں لکھا ہے :
() “ اگر کوئی شخص نذر مانے کہ اگر میری فلاں حاجت برآئے تو اس قدر حضرت سید احمد کبیر کی نیاز کروں گا اورا ن کی نیاز کا اتنا کھانا لوگوں کو کھلاؤں گا ____ اگر چہ اس نذر میں کلام ہے مگر کھانا حلال ہے __ یہی حکم گوشت کا بھی ہے __ مثلا اگر کوئی شخص کہے کہ میں اپنی حاجت برآنے کے بعد سید احمد کبیر کی نذر کا دومن گوشت کھلاؤں گاتو گوشت حلال ہے ___ اور اگر اسی قصد سے گائے کو نذر کرے تو بھی روا ہے __ اس لیے کہ اس کا مقصود گوشت ہے __ اسی طرح اگر زندہ گائے سید احمد کبیر کے نام پر کسی کو دے دے جیسے نقد دیتے ہیں۔ توبھی جائز ہے اور اس کا گوشت حلال ہے ۔ “ اسی میں ہے : “ اسی طرح اگر گرشتہ اولیا اقدس اﷲ اسرارہم کے لیے نذر کرے تو جائز ہے ___ فرق اتنا ہے کہ وہ عالم دنیا سے عالم برزخ میں انتقال کر جانے کے سبب نقد وجنس اور طعام سے نفع اندوز نہیں ہوسکتے بلکہ صرف ان کا ثواب اﷲ تعالی ان کی ارواح پاك کو پہنچاتا ہے ___ تو ان کے احوال بحالت حیات اور بعد وفات برابر ہیں۔ “
() آگے لکھا ہے : “ اگر نذر کرے کہ میری حاجت برآئے تو دوسال کی فربہ گائے حضرت غوث اعظم کی نیاز کروں گا __ تواس کا حکم بھی حکم طعام کی طرح ہے۔
رسالہ زبدۃ النصائح
رسالہ زبدۃ النصائح
سخن گفتن ماندازتعیین اوقات کہ درمردماں رائج ست ہمچوں سوم وچہلم وسرسال وششماہ
اقول : وبحول اﷲ اصول توقیت یعنی کارے راوقت معین داشتن بردوگونہ است شرعی وعادی شرعی آ نکہ شرع مطہر عملے راوقتے تعیین فرمودہ است کہ درغیر او اصلاصورت نہ بند دواگر بجائے آراندآن عمل شرعی نہ کردہ باشند چوں ایام نحرمراضحیہ رایا آنکہ تقدیم و تاخیرش ازاں وقت ناروا باشد چوں اشہر حرم مراحرام حج رایا آنکہ ثوابیکہ درغیر اونیاز بند چوں ثلث لیل مرنمازعشاراو عادی آنکہ از جانب شرع اطلاق است ہر وقتیکہ خواہند بجا ارند ۔ اما حدث را از زمان ناگزیر ست ووقوع درزمان غیر معین محال عقلی کہ وجود وتعین مساوق ہم د گر است ۔ پس از تعین چارہ نیست۔ این ہمہ تعینات بربناء اطلاق علی وجہ البدالیۃ صالح ایقاع بود ازینہا یکے را بربناء مصلحتے اختیار کنند بے آن کہ وقت معین را مبنائے صحت یا مدار حلت یا مناط اثابت دانند پیداست کہ بایں تقیید مقید از فردیت مطلق برنیاید و حکمے کہ مطلق راست درجمیع افرادش ساری باشد مالم یردمنع عن خصوص خصوصا پس ہمچوں جاسبیل نہ آنست کہ ثبوت خصوصیت از مجوز جویند بلکہ آنکہ تصریح بمنع ایں خاص ازشرع برآرند۔ عبارت معلم اب وقت معین کرنے سے متعلق گفتگو کرنی ہے جس کا لوگوں میں رواج ہے جیسے سوم چہلم ایك سال چھ ماہ اقول : و بحول اﷲا صول ( میں کہتا ہوں اور خدا ہی کی دی ہوئی قوت سے حملہ کرتا ہوں) توقیت یعنی کسی کام کے لیے وقت مقرر کرنے کی دو صورتیں ہیں : () شرعی اور () عادی۔ o شرعی یہ کہ شریعت مطہرہ نے کسی کام کے لیے کوئی وقت مقرر فرمایا ہے کہ (i) جواس کے علاوہ وقت میں وہ ہو ہی نہیں سکتا او راگر کریں تو وہ عمل شرعی ادانہ ہوگا۔ جیسے قربانی کے لیے ایام نحر۔ (ii) یا یہ کہ اس وقت سے اس عمل کو مقدم یا مؤخر کرنا ناجائز ہو جیسے احرام حج کے لیے حرمت والے مہینے (شوال ذی قعدہ ذوالحجہ) ۔ (iii )یا یہ کہ اس وقت میں جو ثواب ہو وہ دوسرے وقت میں نہ ملے جیسے نمازعشاء کے لیے تہائی رات o عادی یہ کہ شریعت کی جانب سے کوئی قید نہیں جب چاہیں عمل میں لائیں__ لیکن حدث (کام ہونے) کے لیے زمانہ ضروری ہے۔ اور زمانہ غیر معین میں وقوع محال عقلی ہے اس لیے کہ وجود اور تعین ایك دوسرے کے مساوق(ساتھ ساتھ) ہیں تو تعین سے چارہ نہیں
من باول سخن بازگردم فاقول : باز اگر درین وقت معین مرجحے حامل براختیارش فی نفسہ موجود ست فبہا ورنہ ہنگام یہ سبھی تعینات (اوقات معینہ) اطلاق کی بناہ پر بطور بدیست وہ عمل واقع کیے جانے کے قابل تھے مگر ان ہی میں سے کسی کو کسی مصلحت کی وجہ سے اختیار کرتے ہیں۔ بغیر اس کے کہ وقت معین کو صحت کی بنیاد یا حلت کا مدار یا ثواب دئے جانے کا مناطر جانیں ظاہر ہے کہ اس تقیید کی وجہ سے مقید مطلق کافر د ہونے سے خارج نہ ہوگا اور مطلق کا جو حکم ہے وہ اس کے تمام افراد میں جاری ہوگا تب کہ کسی فرد خاص سے متعلق خاص طور پر ممانعت وارد نہ ہو ___تو ایسے مقام میں راہ یہ نہیں کہ جائز کہنے والے سے خصوصیت کا ثبوت مانگیں بلکہ راہ یہ ہوگی کہ اس فرد خاص سے متعلق ممانعت کی صراحت شریعت سے نکالیں۔ اس طائفہ کے معلم ثانی کی عبارت دعائے تعزیعت میں ہاتھ اٹھانے سے متعلق اوپر گزری اوریہ طائفہ کے معلم اول اور امام معتمد “ رسالہ بدعت “ میں یوں نغمہ سرا ہيں “ دوسرا طریقہ یہ کہ خود ذات مطلق کی جانب نظر کرتے ہوئے اس سے کوئی حکم شرعی متعلق ہو تو مطلق اپنی ذات کے لحاظ سے تمام خصوصیات میں اسی حکم کا مقتضی ہوگا گو بعض افراد میں خارجی عوارض کے اعتبار سے مطلق کا حکم مختلف ہوجائے (اگے لکھا) صورت خاص کے حکم کی تحقیق میں جو شخص زیر بحث خاص صورت کے اندر بھی مطلق کا حکم جاری ہونے کا دعوی رکھتا ہے وہی اصل سے تمسك کرنے والا ہے جسے اپنا دعوی ثابت کرنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ دلیل وہی حکم مطلق ہے اور بس “ الخ حضرت والد قدس سرہ الماجد نے اس اصل اور قاعدے کی کامل اور روشن تحقیق وتنفیح اصول ارشاد میں افادہ فرمائی ہے وہاں سے اسے طلب کرنا چاہئے ۔ (ت)
میں پھر پہلی گفتگو کی طرف پلٹتا ہوں۔ اقول : پھراگر اس وقت معین کی ذات میں خود کوئی ترجیح دینے والی
چیز موجود ہے جوا سے اختیار کرنے کی باعث ہے تو ٹھیك ہے۔ ورنہ جب تمام اوقات یکساں اور برابرہوں توصاحب اختیار کا ارادہ ترجیح دینے کے لیے کافی ہے جیسے دو جام یکساں ہیں اور پیاسا اپنے ارادے سے کسی ایك کو ترجیح دے کر اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح دو راہیں یکساں ہیں اور چلنے والا کسی ایك کواختیار کرلیتا ہے ۔ پہلی صورت میں تو مصلحت خود عیاں ہے ___ اور دوسری صورت میں کم از کم اتنا ضرور ہے کہ اس کو معین کرلینے سے یاد دہانی اور اگاہی ہوگی اور یہ ٹالنے اور فوت کر ڈالنے سے مانع ہوگی ہر عقل والے کا وجدان خود گواہ ہے کہ جب کسی کام کے لیے کوئی وقت معین رکھتے ہیں تو جب وقت آتا ہے وہ کام یاد آجاتا ہے ورنہ بار ہا ایسا ہوتا ہے کہ فوت ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ذاکرین شاغلین عابدین اپنے ذکر وشغل اور عبادت کے لیے اوقات معین کرلیتے ہیں۔ کسی نے نماز صبح سے پہلے سو بار کلمہ طیبہ پڑھنا اپنے ذمہ کرلیا ہے۔ کسی نے نماز عشاء کے بعد سوبار درود پڑھنا مقرر کرلیا ہے ___ اگر اس تعیین وتوقیت کو توقیت شرعی کی تینوں قسموں سے نہ جانیں تو شریعت کی جانب سے ان پر ہر گز کوئی عتاب نہیں __ جان برادر ! اگر شاہ ولی اﷲ کی القول الجمیل امام الطائفہ کی صراط مستقیم اور ان کے علاوہ اس طائفہ کے اکابر و عمائد کی تصنیف کردہ اس فن کی کتابیں دیکھوں تو ان میں از خود لازم کیے ہوئے تعینات سے بہت سی چیزیں پاؤگے جن میں شریعت کی جانب
سے تعیین وتوقیت کا کوئی نام ونشان بھی نہیں ہے۔ دور کیوں جائیے اور تعیین ایام واوقات کی بات کیوں کیجئے وہاں تو دسیوں اعمال واشغال اور ہیات وطرق ایجادی اور اختراعی ایسے موجود ہیں جن کا قرون سابقہ میں کوئی نام ونشان تھا نہ ذکر وخبر۔ ان حضرات کو ان کی ایجاداور ابتداع کا خود اقرار ہے۔ (۱)شاہ ولی اﷲ القول الجمیل میں لکھتے ہیں : “ ہماری صحبت اور ہماری تعلیم آداب طریقت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تك متصل ہے اگر چہ ان آداب اور ان اشغال کی تعیین حضور سے ثا بت نہیں ۔ “ (ت)
() مولوی خرمعلی شاہ صاحب کی مذکورہ بالا عربی عبارت کا ترجمہ یہ لکھتے ہیں : (ت)
“ ہماری صحبت او رطریقت کے آداب سیکھنامتصل ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تک اگر چہ تعین ان آداب کا اور تقرر ان اشغال کا ثابت نہیں “ اھ ملخصا
ہم درشفاء العلیل ترجمہ قول الجمیل گوید ۔
() یہی صاحب القول الجمیل کے ترجمہ شفاء العلیل میں لکھتے ہیں : (ت)
“ حضرت مصنف محقق نے کلام دلپذیر اور تحققیق عدیم النظیر سے شبہات ناقصین کو جڑ سے اکھاڑا۔ بعضے نادان کہتے ہیں کہ قادریہ اور چشتیہ اور نقشبندیہ کے اشغال مخصوصہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں نہ تھے تو بدعت سیئہ ہوئے الخ۔ “
ہمد ران از شاہ عبدالعزیز صاحب آرد۔
() اسی میں شاہ عبدالعزیزصاحب سے نقل کرتے ہیں : (ت)
“ مولانہ حاشیے میں فرماتے ہیں اور اسی طرح پیشوایان طریقت نے جلسات اور ہیات واسطے اذکار مخصوصہ کے ایجاد کیے ہیں مناسب مخفیہ کے سبب سے “ الخ
باز خودمی گوید ۔
() پھر خود لکھاہے : (ت)
“ یعنی ایسے امور کو مخالف شرع یا داخل بدعت سیئہ نہ سمجھنا چاہئے جیسا کہ بعض کم فہم سمجھتے ہیں ۔ “
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل فصل ١١ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ١٠٧
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل فصل ١١ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ١٥١
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل فصل ١١ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ١٥١
سبحان اﷲ ! اینان کہ بر اصل شما صراحۃ احداث فی الدین کروند وقطعا چیز ہابر آور دند کہ قرون سابقہ ازانہا خبرے نہ داشتہ ضال ومبتدع نباشد بلکہ ہمچناں امام و مقتد او عرف و علماء مانند دیگراں بر ہمیں قدر جرم کہ چندا مور محمودہ ثابت فی الشرع را جمع نمودند وفعل آنہارا از جملہ اوقات جائز فی الشرع وقتے معین گرفتند معاذاﷲ گمراہ وبدعتی شوند ﷲ انصاف ایں تحکم بیجا را چہ گفتہ آید مگر شریعت گردانید۔ ہان دہان اے طالب حق ایناں را درطغیان وعدوان اینان بگداز و روئے بآثار و احادیث آرتاچیزے ازتعینات عادیہ برتو خوانیم
ازین قبیل ست انچہ درحدیث آمد کہ حضورپرنور سید عالم
() امام الطائفہ نے صراط مسقیم میں لکھا ہے : “ محققین اکابر نے تجدید اشغال کے طریقے میں بڑی کوشش کی ہیں اسی بنا پر مصلحت اور وقت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس کتاب کا ایك باب اس وقت کے مناسب اشغال جدیدہ کے بیان کے لیے معین کیا جائے او ر اشغال کی تجدید عمل میں لائی جائے ۔ “ اھ ملخصا () اپنے پیر کے حال میں لکھا ہے : “ طریقہ چشتیہ کی تلقین وتعلیم میں بازوئے ہمت کشادہ کیا او ر ان اشغال کی تجدید فرمائی جن پر یہ کتاب مستطاب مشتمل ہے ۔ سبحان اﷲ ! یہ لوگ جو تمھارے قاعدے کے مطا بق صراحۃ “ احداث فی الدین “ اور کھلی ہوئی بدعت جاری کرنے کے مرتکب ہیں اور بلاشبہہ ایسی چیزیں ایجاد کی ہیں جن کی قرون سابقہ میں کوئی خبر نہیں وہ تو گمراہ اور بدعتی نہ ہوں بلکہ ویسے ہی امام ومقتداء اور عرفاء وعلماء رہیں ___ دوسرے صرف اتنے جرم پر کہ انھوں نے شریعت میں ثابت چند پسندیدہ امور کو یکجا کردیا اور ان کو عمل میں لانے کیلئے شریعت میں جائز اوقات میں سے ایك وقت معین کرلیا معاذاﷲ گمراہ اور بدعتی ہوجائیں __ ﷲ انصاف! اس بے جاتحکم اور ناروا زبردستی کو کیا کہا جائے شاید شریعت تمھارے گھر کا کاروبار ہے کہ جیسے چاہو الٹ پھیر کرتے رہو ہوشیار ۔ ہوشیار اے طالبان حق
صراط مسقیم باب چہارم المکتبہ السلفیہ لاہورص١٦٦
ان کو ان کی سرکشی اور زیادتی میں چھوڑ اور اثار واحادیث کی جانب متوجہ ہو تاکہ ہم کچھ تعینات عادیہ تجھے سنائیں :
اسی قبیل سے ہے جو حدیث میں آیا کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے شہدائے احد کی زیارت کے لیے سر سال کا وقت مقرر فرمالیا تھا جیسا کہ آگے ذکر آرہا ہے۔ اور سنیچر کے دن مسجد قبا میں تشریف لانا جیسا کہ صحیحن میں (بخاری ومسلم) میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے۔ () اور شکر رسالت کے لیے دوشنبہ کاروزہ جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے () اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے دینی مشاورت کے لیے وقت صبح وشام کی تعیین جیسا کہ صحیح بخاری میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے۔ () اور سفر جہاد شروع کرنے کے لیے پنچشنبہ کی تعیین جیسا کہ اسی صحیح بخاری میں حضرت کعب بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے ۔ اور(۶) طلب علم
صحیح مسلم باب استحباب صیام ثلاثہ آیام الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٣٦٨
صحیح البخاری باب ہجرۃ النبی واصحابہ الی المدینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٥٥٢
صحیح البخاری با ب من اراد غزوۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٤١٤
الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ٢٣٧ دارلکتب العلمیہ بیروت ١ / ٧٨ ، کنز العمال حدیث ٢٩٣٤٠ موسستہ الرسالۃبیروت ١٠ / ٢٥٠
صحیح البخاری باب من جعل لاہل العلم ایاما معلومۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٦
تعلیم المتعلم فصل فی بدایۃ السبق مطبع علیمی دہلی ص٤٣
کے لئے دو شبہ کی تعیین جیسا کہ ابوالشیخ ابن حبان اور ویلمی نے بسند صالح حضرت انس ابن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی۔ () اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے وعظ وتذکیر کے لیے پنچشنبہ کا دن مقرر کیا جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت ابوا وائل سے مروی ہے۔ () اور علما نے سبق شروع کرنے کے لیے بدھ کا دن رکھا جیساکہ امام برہان الاسلام زرنوجی کی تعلیم المتعلم میں ہے۔ انھوں نے اپنے استاد امام برہان الدین مرغینانی صاحب ہدایہ سے اس کی حکایت فرمائی اور کہا کہ اسی طرح امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کہا کرتے تھے صاحب تنزیہہ الشریعۃ نے فرمایا اوراسی طرح ایك جماعت کےعلماء کا دستور رہا ہے۔ یہ سب توقیت عادی کے باب سے ہیں حاشا کہ سید سرداراں علیہ الصلوۃ والسلام کی مراد یہ ہےکہ انتہائے سال کے علاوہ کسی دوسرے وقت زیارت نہیں یا جائز نہیں یا اس دن بندہ نوازی امت پروری اور قدم مبارك کی خاك پاك سے مزارات شہدائے کرام کو شرف بخشنے پر جو اجر عظیم اس شاہ عالم پناہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو عطا ہوگا وہ دوسرے دن نہ ملے گا۔
تنزیہہ الشریعۃ باب ذکر البلدانج والایام الخ فصل ثانی حدیث٢٤ دارالکتب العلمیہ بیروت ٢ / ٥٦
تعلیم المتعلم فصل فی بدایہ السبق الخ مطبع علیمی دہلی ص٤٣ ، تنزیہی الشریعۃ باب ذکر البلدان والایام الخ فصل ثانی حدیث ٢٤ دارالکتب العلمیہ بیروت ٢ / ٥٦
اینجا کلام مولنا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی کہ امام الطائفہ راعم نسب وپدر وجد طریقت بود شنیدن دارد۔ درتفسیر عزیزی زیر قولہ عز وجل والقمر اذا تسق فرمود۔ واردست کہ مردہ درین حالت مانند غریقے ست کہ از انتظار فریاد رسی می برد۔ وصدقات وادعیہ وفاتحہ درین وقت بسیار بکار او می آید وازین ست کہ طوائف بنی آدم تایکسال و علی الخصوص تایك چلہ ازموت دریں نوع امداد کوشش تمام می نمایند “ اھ
اسی طرح حضرت ابن مسعود کا مقصود یہ نہ تھا کہ پینچ شنبہ کے علاوہ کسی اوردن وعظ نہیں یا دوسرے دن اس کا جواز نہیں یا دوسرے دن یہ اجر فوت ہوجائے گا شرع مطہر نے یہ تعیین فرمائی تھی۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ یہی ایك عادت مقرر کرلی تھی تاکہ ہر ہفتہ میں مسلمانوں کی تذکیر کا کام انجام دیتے ہیں اور دن متعین ہونے کی وجہ سے طالبان خیر آسانی سے جمع ہوجائیں___ اسی طرح باقی امور کو قیاس کرو۔ ہاں ان میں سے بعض میں کوئی الگ مرجح بھی موجود ہے۔ جیسے دوشنبہ کے دن بعثت کا وقود اور علم نبوت کا حصول ___ اور پنجشنبہ کو صبح سویرے نکلنے میں عظیم برکت کا وجود ____ اور چہار شنبہ (بدھ) کو شروع کرنے میں تکمیل کی امید___ کہ یہاں ایك حدیث ذکر کرتے ہیں کہ “ جو کام کی بھی چہارشنبہ کو شروع کیا جائے وہ پورا ہو۔ “ اور بعض دیگر میں یہی ترجیح ارادی ہے جس میں کم از کم یاد دہانی اور آسانی کی مصلحت ضرور کار فرما ہے۔ اسی باب سے سوم چہلم چھ ماہ اور انتہائے سال کے تعینات سے جو لوگوں نے جاری کر رکھے ہیں۔ ان میں سے بعض میں کوئی خاص مصلحت بھی ہے اور بعض دیگر آسانی ویاد دہانی کے خیال سے رائج ومعمول ہیں ۔ اور اصطلاح میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ (ت) یہاں مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی (جو امام الطائفہ کے نسبی چچا علمی باپ اور طریقت میں دادا تھے) کا کام سننے کے قابل ہے۔ تفسیر عزیزی میں قول باری عزوجل “ والقمر اذا اتسق “ کے تحت فرماتے ہیں : “ وارد ہے کہ مردہ اس حالت میں کسی ڈوبنے والے کی طرح فریاد رس کا منتظر ہوتا ہے اور اس وقت صدقے دعائیں اور فاتحہ اسے بہت کام آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ موت سے ایك سال تک خصوصا چالیس دن تك اس طرح کی امداد میں بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ “ اھ (ت)
شاہ صاحب در رسالہ ذبیحہ مطبوعہ مجموعہ زبدۃ النصائح بپاسخ ایں طعن فرمایند قولہ “ عرس بزرگان خود آہ ایں طعن مبنی ست برجہل باحوال مطعون علیہ زیراکہ غیر ازفرائض شرعیہ مقررہ راہیچکس فرض نمیداندآرے زیارت وتبرك بقبور صالحین و امدادایشاں باہدائے ثواب وتلاوت قرآن ودعائے خیر وتقسیم طعام وشیرینی امر مستحسن وخوب است باجماع علماء وتعین روز عرس برائے آن ست کہ آن روز مذکر انتقال ایشامی باشد از
زیادہ پر لطف بات یہ ہے کہ شاہ صاحب موصوف اپنے پیروں اور باپ دادا کا عرس پورے اہتمام سے کرتے تھے اور ان کے سامنے ان کی اجازت سے اور ان کے برقرار رکھنے سے درویشوں کی قبروں پر آدمیوں کا اجتماع فاتحہ خوانی اور طعام وشیرینی کی تقسیم ہوتی تھی جیسا کہ سبھی اہل سجادہ میں جاری وساری ہے۔ مفتی عبدالحکیم پنجابی نے ان ہی بے وزن شبہات کے تحت جو حضرات منکرین پیش کرتے ہیں شاہ صاحب کے ان افعال کے باعث شاہ صاحب زبان لعن طعن دراز کی اور لکھا کہ وہ لوگ جن کے اقوال افعال کے مطابق نہیں اپنے بزرگوں کا عرس اپنے اوپر فرض کی طرح لازم جان کر سال بہ سال مقبرے پر اجتماع کرکے وہاں طعام وشیر ینی تقسیم کرکے ان مقبروں کو بت معبود بناتے ہیں۔ “ اھ ملخصا (ت)
شاہ صاحب “ رسالہ ذبیحہ “ میں جو مجموعہ زبدۃ النصائح میں چھپا ہے اس طعن کے جواب میں فرماتے ہیں “ قولہ عروس بزرگان خود الخ۔ یہ طعن مطعون علیہ کے حالات سے بے خبری پر مبنی ہے اس لیے شریعت میں مقررہ فرائض کے سوا کسی کا م کو کوئی فرض نہیں جانتا۔ ہاں قبور صالحین کی زیارت قرآن دعائے خیر اور تقسیم شرینی وطعام سے ان کی امداد باجماع علماء مستحسن اور اچھا عمل ہے ___ اور
روز عرس کا تعین اس لیے ہے کہ وہ دن دارالعمل سے دارالثواب کی جانب ان کے انتقال فرمانے کی یاد دہانی کرنے والا ہے ورنہ جس دن بھی یہ کام ہو فلاح ونجات کا سبب ہے۔ اور خلف پر لازم ہے کہ اپنے سلف کے لیے اسی طرح کی بھلائی اور نیکی کرتا رہے۔ پھر سال کے تعین اور اس کے التزام کے سلسلے میں احادیث سے سند ذکر فرمائی کہ ابن المنذر اور ابن مردویہ نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہر سال احد تشریف لاتے جب درہ کوہ پر پہنچتے تو شہیدوں کی قبر پر سلام کرتے اور فرماتے : تمھیں سلام ہو تمھارے صبر پر کہ دار آخرت کیا ہی عمدہ گھر ہے اور امام ابن جریر نے اپنی تفسیر میں حضرت محمد بن ا براہیم سے روایت کی ہے کہ سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہر سال کے شروع میں شہداء کی خاك پر قدم رنجہ فرماتے اور کہتے تم پر سلام ہو ___ آخر تك __ حضور کے بعد حضرت صدیق و فاروق اور ذی النورین بھی ایسا ہی کرتے رضی اللہ تعالی عنہم ۔
دمنشور بحوالہ ابن منذر وابن مردویہ زیر آیۃ سلام علیکم الخ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ٤ / ٥٨
جامع البیان (تفسیر ابن جریر) زیر آیۃ سلام علیکم الخ مطبعۃ میمینہ مصر ١٣ / ٨٤
بالجملہ حق آنست کہ تخصیصات مذکورہ ہمہ تعینات عادیہ است کہ زنہار جائے طعن ملامت نیست۔ این قدر احرام وبدعت شنیعہ گفتن جہلے ست صریح و خطائے قبیح۔ شاہ الدین مرحوم دہلوی برادر مولنا شاہ عبدالعزیز صاحب درفتوی خودش چہ خوش سخن انصاف گفتہ عبارتش چناں آور دہ اند۔
سوال : تخصیص ماکولات درفاتحہ بزرگان مثل کھچڑادر فاتحہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ وتوشہ درفاتحہ عبدالحق رحمۃ اللہ تعالی علیہ وغیرہ ذلك وہمچناں تخصیص خورندگان چہ حکم وارد
جواب : فاتحہ وطعام بلاشبہہ از مستحسنات ست وتخصیص کہ فعل مخصص است باختیار اوست کہ باعث منع نمی تواند شد این تخصیصات ازقسم عرف وعادت اند کہ بمصالح ومناسبت خفیہ ابتداء بطہور آمدہ ورفتہ رفتہ شیوع یافتہ الخ
اور تفسیر کبیر میں ہے : حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہر سال شہداء کے مزار پر تشریف لے جاتے اور آیۃ مذکورہ پڑھتے ۔ اور اسی طرح حضرات خلفائے اربعہ بھی کرتے۔ رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین ۔ (ت)
الحاصل حق یہ ہے کہ مذکورہ تخصیصات سبھی تعینات عادیہ سے ہیں جو ہر گز کسی طعن اور ملامت کے قابل نہیں ۔ اتنی بات کو حرام اور بدعت شنیعہ کہنا کھلی ہوئی جہالت اورقبیح خطا ہے ۔
مولانہ شاہ عبدالعزیز صاحب کےبھائی شاہ رفیع الدین دہلوی نے اپنےفتاوی میں کیا ہی عمدہ انصاف کی بات لکھی ہے۔ ان کی عبارت یوں نقل کی گئی ہے :
“ سوال : بزرگوں کی فاتحہ میں کھانوں کو خاص کرنا مثلا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی فاتحہ میں کھچڑا شاہ عبدالحق رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی فاتحہ میں توشہ و غیر ذلک یوں ہی کھانے والوں کوخاص کرنا ان سب کا کیا حکم ہے
جواب : فاتحہ اور طعام بلاشبہہ مستحسن ہیں اور تخصیص جو مخصص (خاص کرنے والے) کا فعل ہے۔
زبدۃ النصائح
فتاوٰی شاہ رفیع الدین
وہ اس کے اختیار میں ہے۔ ممانعت کا سبب نہیں ہوسکتا یہ خاص کرلینے کی مثالیں سب عرف اور عادت کی قسم سے ہیں جو ابتداء میں خاص مصلحتوں اور خفی مناسبوں کی وجہ سے رونما ہوئیں پھر رفتہ رفتہ عام ہوگئیں۔ “ الخ
ثم اقول : بلکہ اگر یہاں خود کوئی دینی مصلحت نہ ہو (تو بھی حرام نہیں ہوسکتا) کیونکہ مصلحت نہ ہونے کا معنی یہ نہیں کہ مفسدہ موجودہ ہے کہ باعث انکار ہوجائے ورنہ مباح کہا جائے گا امام احمد مسند میں بسند حسن ایك صحابیہ خاتون رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی ہے کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ سنیچر کے روزے نہ تیرے لیے نہ تیرے اوپر __ علماء نے اس کی شرح میں فرمایا : نہ تیرے لیے اس میں کسی ثواب کی زیادتی ہے نہ اس میں تجھ پر کوئی عتاب اور ملامت ہے ___ واضح ہوا کہ بے وجہ تخصیص کے خاص کرلینا اگر مفید نہ ہوتو مضربھی نہ ہوگا اور یہی ہمارا مقصود ہے۔ ہاں جو عامی شخص اس تعین عادی کو توقیت شرعی جانے اور گمان کرے کہ ان کے علاوہ دنوں میں ایصال ثواب ہوگا ہی نہیں یا جائز نہیں یا ان ایام میں ثواب دیگرا یام سے زیادہ کامل و وافر ہے تو بلاشبہہ وہ شخص غلط کار اور جاہل ہے اورا س گمان میں خطا کار اور صاحب باطل ہے ___ لیکن اتنا گمان اصل ایمان میں خلل نہیں لاتا نہ ہی کسی قطعی
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر حدیث ٥١٢٠ دارالمعرفت بیروت ٤ / ٣٣٠
عذاب اور حتمی وعیدکا سبب ہوتا ہے جیساکہ امام الطائفہ کا اپنی تقویۃ الایمان میں یہ اعتقاد ہے اور اس کی یہ جہالت فاحشہ اس عامی کی جہالت سے بدرجہا بدتر ہے__ وہ ایك نادانی اور اٹکل سے زیادہ نہیں اور یہ بڑی گمراہی اور شدید اعتزال ہے والاحول والاقوۃ الاباﷲ العزیز الحمد ___۔ یہاں بھی سفاہت۔ سخافت حماقت اور جزافت میں امام الطائفہ کا حصہ نمایا ہے ان سے کہا جائے گا جاننے والا انجان کی طرح نہیں اسی طرح جاہل عوام نے ایصال ثواب کے باب میں جو جو ناپسندیدہ امور پیدا کرلیے ہیں ___ جیسے نمائش ناموری مفاخرت مالداروں کو جمع کرنا محتاجوں کو منع کرنا اور یہ کہ سوم میں ایك جماعت اکٹھا بیٹھی ہے اور سب کے سب بلند آواز سے قرآن پـڑھتے ہیں اور سننے کا فرض ترك کرتے ہیں یہ سب ممنوع وناروا ہے مکروہ اوربرا ہے ___ علماء کو چاہئے کہ ان زائد مفاسد پر سرزنش کریں نہ یہ پوری بے لگامی اور زبان درازی سے خصوصا نوافل میں جنھیں تنہا ادا کرتے ہیں تعدیل ارکان وغیرہ کی عدم رعایت جیسے متعدد ممنوعات کے عادی ہیں یہ حالت اس کو مستلزم نہیں کہ انھیں نماز سے روك دیا جائے بلکہ ان بری عادات سے بچانا اور ڈرانا چاہئے اور نماز اداکرنے کی تشویق وترغیب ہونی چاہئے ___ یہ ہے اجمالی کلام اور قول فیصل جو اس طرف کے خواص اور اس طرف کے بعض عوام دونوں پر گراں گزرے گا مگر کیا کیا جائے کہ حق یہی ہے اور حق سے تجاوز نہیں ہوسکتا ___ اور خدا ہی راہ ہدایت کی جانب ہادی ہے ____ فیاض آقا حضرت محمد اور انکی بزرگ واصحاب پر درود وسلام ہو اور خدائے برتر خوب جاننے والاہے ور اس ذات بزرگ کا علم سب سے کامل ہے ۔ (ت) ÷
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ فاتحہ دلانہ شرع سے جائز ہے یا نہیں کوئی ایسی حدیث لکھ دیجئے جس سے یہ ثابت ہو کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اسی طرح فاتحہ دلائی تھی بینوا توجروا
الجواب :
فاتحہ دلانہ شریعت میں جائز ہے۔ درمختار میں ہے :
الاصل ان کل من ابی بعبادۃ مالہ جعل ثوابہا لغیرہ وان نواھا عند الفعل لنفسہ لظاھر الادلۃ ۔
اصل یہ ہے کہ جو کوئی عبادت کرے اسے اختیار ہے کہ اس کا ثواب دوسرے کے لیے کردے اگر چہ ادائے عبادت کے وقت خود اپنے لیے کرنے کی نیت رہی ہو ظاہر دلائل سے یہی ثابت ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
سواء کانت صلوۃ اوصوما اوصدقۃ اوقراءۃ ۔
خواہ نماز ہو یا روزہ یا صدقہ یا قراءت ۔ (ت)
اور جس طرح مدار اور خانقا ہیں اور مسافر خانے بنائے جاتے ہیں او رسب مسلمان ان کو فعل ثواب سمجھتے ہیں کیا کوئی ثبوت دے سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس طرح بنوائے تھے یا کوئی ثبوت دے سکتا ہے کہ فاتحہ جس طرح اب دی جاتی ہے جس میں قرآن مجید اور کھانے دونو ں کا ثواب میت کو پہنچاتے ہیں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ اور جب ممانعت کا ثبوت نہیں دے سکتا اور بیشك ہر گز نہیں دے سکتا توجس چیز سے اﷲ ورسول نے منع نہ فرمایا دوسرا کہ منع کرے گا اپنے دل سے شریعت گھڑے گا۔
ان الذین یفترون على الله الكذب لا یفلحون(۱۱۶) متاع قلیل۪-و لهم عذاب الیم(۱۱۷) ۔ واﷲ تعالی اعلم
بیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگام تھوڑا برتنا ہے اور ان کے لیے دردناك عذاب ہے۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میت کے تیسرے دن مسلمانوں کا جمع ہوکر قرآن مجید و کلمہ طیبہ پڑھنا اور چنوں وغیر پر کچھ پڑھ کر تقسیم کرنا جسے سوم یا تیجا کہتے ہیں جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
ردالمحتار باب الحج عن الغیر ادارۃ الطباعۃا لمصریۃ مصر ٢ / ٢٣٦
القرآن ١٦ / ١١٦ ۔ ١١۷
صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ نیك اعمال کا مردہ کو ثواب پہنچتا ہے۔ اور یہ بھی حدیثوں میں آیا ہے کہ وہ ثواب پا کر خوش ہوتا ہے اور ثواب کا منتظر ہوتا ہے اور ثواب پہنچنے کا منتظر رہتا ہے تو قرآن شریف وکلمہ طیبہ پڑھ کر ثواب پہنچانا اچھی بات ہے اور تیسرے دن کی خصوصیت بھی مصالح عرفیہ شرعیہ کی بنا پر ہے۔ اس میں بھی حرج نہیں حدیث میں ہے : صوم یوم السبت لالك ولاعلیك (سنیچر کے روزہ میں نہ تیرے لیے کوئی مزید فائدہ ہے نہ کوئی نقصان۔ ت)اور جو کچھ تقسیم کیا جائے محتاجوں کو دیاجائے کہ یہ بھی ثواب کی بات ہے غنی لوگ اس میں سے نہ لیں باقی جوبیہودہ باتیں لوگوں نے نکالی ہیں مثلا اس میں شادی کے سے تکلفات کرنا عمدہ عمدہ فرش بچھانہ یہ باتیں بیجاہیں اور اگر یہ سمجھتا ہے کہ ثواب تیسرے دن پہنچتا ہے یا اس دن زیادہ پہنچے گا اور روزکم تو یہ عقیدہ بھی اس کا غلط ہے۔ اسی طرح چنوں کی کوئی ضرورت نہیں نہ چنے بانٹنے کے سبب کئی برائی پیدا ہو۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از کرہ ڈگسائی ضلع شملہ بمعرفت کمال الدین مرچنٹ مرسلہ حبیب اﷲ شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لوگ جو کہتے ہیں کہ کھانے کے اوپر کلام الہی یعنی الحمد اور قل ھو اﷲ پڑھنا منع ہے اور پڑھنے سے طعام حرام ہوجاتا ہے لہذا امیدوار ہوں کہ کلام الہی سے کھانا کیوں حرام ہوگیا اور کلام الہی کیا ایسا خراب ہے جس کے پڑھنے سے حلال چیز حرام ہوجائے
الجواب :
فاتحہ بیشك جائز ہے ۔ وہ مسلمان میت کو نفع پہنچنا ہے اور فرض کے بعد کوئی چیز مولی تعالی کو اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں کہ مسلمان کو نفع پہنچایا جائے۔ حدیث میں ہے :
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۔
جو اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہو تو چاہئے کہ اسے نفع پہنچائے ۔ (ت)
دوسری حدیث میں ہے :
احب الاعمال الی المولی تعالی بعد الفرائض
اﷲ تعالی کی بارگاہ میں فرائض کے بعد سب سے زیادہ
صحیح مسلم باب استحباب الرقیۃ من العین نور محمد اصح المطابع کراچی ٢ / ٢٢٤
پسندیدہ عمل یہ ہے کہ مسلمان کا دل خوش کرے (ت)
جو لوگ کہتے ہیں کہ قرآن مجید پڑھنے سے کھانا حرام ہوجاتا ہے وہ کذاب ہیں ۔ شرع مطہرہ پر افتراء کرتے ہیں قرآن مجید میں ہے ایسے لوگ فلاح نہ پائیں گے ان کے لیے سخت عذاب ہے ۔ حدیث شریف میں ہے : ان پر زمین و آسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔
من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السماء والارض ۔
جو بغیر علم کے فتوی دے اس پر اسمان و زمین کے فرشتوں کی لعنت ہو۔ (ت)
ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنا جائز نہیں۔ حدیث میں ہے :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔
ان سے دور رہو اور ان کو اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں (ت)
مسئلہ : از الہ آباد مسئولہ محمود مستری صاحب ھ
اپنے بزرگوں وں کے نام پر کھانا پکوا کر اس کو آگے رکھ کر پانی وغیرہ رکھ کر فاتحہ دینا جائز ہے یا نا جائز موافق حدیث شریف نیت گیارھویں شریف کر کے فاتحہ پیران پیر صاحب کی جائز ہے یانہیں کس کا طریقہ ہے یاسنت ہے فقط
الجواب :
اموات مسلمین کے نام پر کھانا پکاکرا یصال ثواب کے لیے تصدق کرنا بالا شبہہ جائز ومستحسن ہے اور اس پر فاتحہ سے ایصال ثواب دوسرا مستحسن ہے اور دو چیزوں کو جمع کرنا زیادت خیر ہے۔ اور پانی سے بھی ایصال ثواب کرسکتے ہیں ۔ بلکہ حدیث میں ہے : افضل الصدقہ سقی الماء ۔ سب سے بہتر صدقہ پانی پلاناہے۔ ایك حدیث میں ہے : جہاں پانی نہ ملتاہو کسی کو پانی پلانا ایك جان کو زندہ کر نے کی مثل ہے اور جہاں پانی ملتا ہو وہاں
کنز العمال بحوالہ ابن دساکر عن علی حدیث ٢٩٠١٨ موسستہ الرسالہ بیروت ١٠ / ١٩٣
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٠
الدار المنشور زیر آیۃ افیضوا علینا من الماء الخ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی قم ایران ٣ / ٩٠
مسئلہ تا : از اودے پور میواڑ محلہ مہاوت دوڑی مرسلہ فتح محمد ورحیم بخش نعلبند رمضان ھ
میرے آقا میرے ہادی حضرت مولنا دام اقبالہ
(۱)متوفی کے نام پر دونوں وقت مساکین کو کھانا کھلانے اور خیرات کرنے سے مرحومہ کو ثواب ملے گا یا نہیں
() مرحومہ کے نام پر ایك پانی کا برتن پرندوں کے پانی کے لیے رکھا ہے اور انھیں اناج بھی ڈالنا اور مرحومہ کے نام پر کتے کو بھی روٹی ڈالنا اس کا ثواب پہنچے گا یا نہیں
() بیس روپے کے ہدیہ میں تیس پارے علیحدہ علیحدہ منگاکر مرحومہ کے نام پر مسجد میں نمازیوں کے پڑھنے کے لیے رکھے ہیں اور فقیر ومساکین کو جوڑا کپڑا بھی دیا جائے تو ان کا بھی مرحومہ کوثواب ہوتا ہے یا نہیں
() مرحومہ کی قبر پر دونوں وقت پھول چڑھانا اور اگر بتی جلانا اور فاتحہ پڑھنا اس سے بھی ثواب ملے گا اور میرے قبر پر جانے کا حال مرحومہ کو معلوم ہوتا ہے یا نہیں
() اور میلاد شریف مرحومہ کے نام سے کرنا اس کا بھی ثواب ملے گا
() ربیع الاول کے ماہ ختم ہونے کی پنجشنبہ چاند رات کی صبح کو انتقال ہوا اور دوبجے دفن ہوئی اور بعد مغرب تك قرآن پڑھنے والے کو جمعہ کو سپرد کرنے کے لیے رکھا او ریہ جمعہ میں شریك ہوئے یا نہیں
() مرحومہ کو شروع نو ماہ کا حمل تھا خون جاری ہوکر انتقال ہوا اور کفن پر بھی خون کا داغ تھا گو میت کو غسل دے دیاتھا مگر وقت دفن بھی خون کا داغ نظر آیا ا س کی نسبت کیا حکم ہے
() مرحومہ میرے خواب میں آئیں ایك کرسی پر بیٹھے ہوئے چھوٹے چھوٹے بچوں کو پڑھاتے ہوئے نظر آئیں اور کسی روز خواب میں بنگلے باغیچے میں بیٹھے ہوئے خرش وخرم دیکھنا ور مجھے صبر کے لیے کہنا اور مجھ سے
الجواب :
اﷲ تعالی مرحومہ کو جنت عطافرمائے او رآپ کو صبر جمیل دے۔ لاحول شریف بار پڑھ کر ایك گھونٹ پانی پر دم کر کے پی لیا کیجئے مساکین کو کھانا کھلانا اور نیك نیت سے خیرات کرنا جس میں نہ محتاج پر احسان رکھا جائے نہ اس کو تکلیف دی جائے پرندوں کے لیے پانی رکھنا دانا ڈالنا حتی کہ روٹی دینا مسکین کو کپڑا دینا میلاد شریف پڑھوانا ۔ یہ سب اجر وثواب کی باتیں ہیں ان کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اور و ہ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے دنیا میں دوستوں کے ہدیے سے۔ ملائکہ ان ثوابوں کے نور طبق میں رکھ کر میت کے پاس لے جاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ اے گہری گور والے ! یہ ثواب تیرے فلاں عزیز یا دوست نے تجھے بھیجا ہے۔ قرآن مجید کے پارے پڑھنے کے لیے مسجد میں رکھنے کا صدقہ جاریہ ہے جب تك وہ رہیں گے اور پڑھے جائیں گے اس ر کھنے والے اور میت کو ثواب پہنچے گا اور کیسا ثواب پہنچے گا ہر حرف پر دس نیکیاں اور صحیح حدیث میں فرمایا :
“ میں نہیں فرماتا الم ایك حرف ہے بلکہ الف الگ حرف ہے لام الگ حرف ہے میم الگ حرف ہے ۔ “
میت کی قبر پر پھول چڑھانا مفید ہے وہ جب تك تر ہے رب العزت کی تسبیح کرتا ہے اور میت کادل بہلتا ہے اگر کوئی بتی جلانا اگر تلاوت قرآن کے وقت تعظیم قرآن کے لیے ہو یا وہاں کچھ لوگ بیٹھے ہوں ان کی ترویح کے لیے ہو تو مستحسن ہے۔ ورنہ فضول اور تضییع مال میت کو اس سے کچھ فائدہ نہیں۔ قبر مسلم پر جو زیارت کے لیے جاتا ہے میت اسے دیکھتا ہے اور اس کی بات سنتا ہے۔ اگر دنیا میں اسے پہچانتا تھا اب بھی پہچانا ہے کہ میرا فلاں عزیز یا دوست میرے پاس آیا۔ اوراگر نہیں پہچانتا تھا تو اتنا جانتاہے کہ ایك مسلمان آیا اور ثواب رسانی کرتا ہے۔ جمہ کو سپرد کرنا کوئی چیز نہیں نہ غیر جمعہ میں مرنے والے کو اس سے جمعہ مل سکے۔ حمل میں انتقال شہادت ہے۔ صحیح حدیث میں فرمایا : المرأۃ تموت بجمع شہیدا (عورت جو حمل کی وجہ سے مرے شہید ہے ۔ ت)خواب بہت اچھا ہے ان شاء اﷲ ان کے لیے دلیل مغفرت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ تا : از چمن سرائے سنبھل مرسلہ احمد خان صاحب جمادی الاولی ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
مؤطا امام مالک النہی عن البقاء علی المیّت میر محمد کتب خانہ کراچی ص٢١٦
() تیجہ دسواں چہلم ششماہی برسی جائز ہے یا نہیں او رروحیں ان ایما میں اتی ہے یا نہیں او راپنے عزیزوں کا ان کو علم ہوتا ہے یا نہیں اور کھانا ان کی فاتحہ کا کس کا حق ہے اور اگر فاتحہ دلانے والا خود محتاج ہے تو فاتحہ دلا کر خود کھالے اور بچوں کو کھلائے تو جائز ہے یا نہیں او رالفاظ ثواب رسانی کیا ادا کرے ا ور اگر غنی فاتحہ دے او رثواب پہنچائے بروح اموات تو ثوا ب کھانے او رفاتحہ کا فورا اس میت کو پہنچے گا یا ایك عبادت کا اگر محتاجین کو کھانا فاتحہ دے تو نیت پر ثواب پہنچایا نہیں اگر محتاج ایسے نہ ملیں جن پرشرائط محتاج ثابت ہوں تو پھر کھانا کسے دے اور کہاں صرف کرے اور حضرت رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اور حضور کے صحابہ نے فاتحہ دی یا نہیں اور تیجہ صحابہ میں ہوتا رہا یا نہیں
() قبر اہل۔ اﷲ پر شامیانہ چڑھانا یا شیرینی نزد قبر رکھ کر ایصال ثواب کرنا یا چراغ نز د قبر جلانا یا عروس کرناجائز ہے یا حرام ہے
الجواب :
() شیرینی وغیرہ پر حضرت شہدائے کرام کی نیاز دینا بیشك باعث اجرو برکات ہے اور عشرہ محرم شریف اس کے لیے زیادہ مناسب اور جبکہ وہ منت مانی ہوئی نہ تو اغنیاء کو بھی اس کا کھانا جائزہے۔ اور وقت فاتحہ کھانا سامنے رکھنے کی ممانعت نہیں مگر اسے ضروری جاننایایہ سمجھنا کہ بے اس کے فاتحہ نہیں ہوسکتی یا ثواب کم ملے گا غلط وباطل خیال ہے ۔ فاتحہ پڑھ کر جب ایصال ثواب کاوقت جس میں دعا کی جاتی ہے کہ الہی! یہ ثواب فلاں کو پہنچا س وقت ہاتھ اٹھا نا چاہئے کہ یہ دعا کی سنت ہے۔ جس وقت تك قرآن مجید کی تلاوت کررہا ہے ہاتھ اٹھانے کی حاجت نہیں۔ ہاں سورۃ فاتحہ شریف خود دعاہے یوں ہی درود شریف حدیث میں فرمایا : افضل الدعاء الحمد اﷲ ( سب سے افضل دعا الحمد اﷲ ہے ت) او ر قل ھواللہ
از اطراف دیار اسلام نذور برائے وے می آوردند ۔
مسلمان علاقوں سے ان کے لے نذریں پیش کی جاتی ہیں (ت)
جو مالك نصاب نہ ہو شرعا اسے محتاج کہتے ہیں جو نذر ونیاز کو حرام بتائے اور شریعت نیاز کی نسبت وہ ناپاك ملعون لفظ وہ نہ ہوگا مگر وہابی اور وہابیہ اصلا مسلمان نہیں اور ان کے پیچھے نماز باطل محض اوراس سے مصافحہ حرام اور اسے سلام کرنا جائز وگناہ۔
() تیجہ دسواں چہلم وغیرہ جائز ہیں جبکہ اﷲ کے لیے او رمساکین کو دیں اپنے عزیزوں کا ارواح کو علم ہوتا ہے او رکاآنا نہ آنا کچھ ضرور نہیں فاتحہ کا کھانا بہتر یہ ہے کہ مساکین کو دے اور اگر خود محتاج ہے تو آپ کھالے اپنے بی بی بچوں کو کھلائے سب اجر ہے۔
حدیث میں ہے :
مااطعمت ولدك فھولك صدقۃ ومااطعمت خادمك فھولك صدقۃ وما اطعمت نفسك فھو لك صدقۃ ۔
جو کچھ تو اپنی اولاد کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے اور جو کچھ تو اپنے خادم کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے او ر جو کچھ تو اپنے نفس کو کھلائے وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہے۔ (ت)
ثواب رسانی میں کہے کہ الہی! جو ثواب تونے مجھ کو عطا فرمایا وہ میری طر ف سے فلاں شخص کو پہنچادے غنی ہو یا فقیر ہو اگرصرف فاتحہ دے گا تو اسی کا ثواب پہنچے گا او رصرف کھانا دے گا تو اسی کا اور دونوں تو دونوں کا اور ثواب پہنچانا صرف نیت ہی سے نہ ہو بلکہ اس کی دعا بھی ہو۔ یہ سوال کہ (اگر محتاج ایسے نہ ملیں جن پر شرائط محتاج شریعت ثابت ہوں) خلاف واقع ہے۔ وہ کون سی جگہ ہے جہاں محتاج نہیں۔
مسند احمد بن حنبل حدیث المقدام بن معدیکرب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دارالفکر بیروت ٤ / ١٣١
() مزار اولیاء پر نفع رسانی زائرین حاضرین کے لیے شامیانہ کھڑا کرنا یونہی ان کے نفع کو چراغ جلانا اور عرس کہ منہات شرعیہ سے خالی ہو اور شرینی پر ایصال ثواب۔ یہ سب جائز ہیں اور نزد قبررکھنے کی ضرورت نہیں نہ اس میں جرم جبکہ لازم نہ جا نے چراغ کی تفصیل ہمارے رسالہ بریق المنار بشموعد المزارمیں ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : ا ز شہر علی گڑھ محلہ مدار دروازہ مسئولہ احمد سوداگر پارچہ بنارسی ربیع الاول ھ
مردہ کو جو پڑھ کر کلام مجید یا درود شریف یا کھانا مساکین کو کھلائیں یا کپڑا خیرات کریں تو اس کا ثواب مردہ کو پہنچتا ہے یانہیں اور وہ کس صور ت میں مردہ کو پہنچتا ہے ا ور مردہ کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس کے فلاں شخص یا عزیز نے بھیجا ہے یا نہیں معلوم ہوتا ہے اگر معلوم ہوتا ہے تو کس طریقہ سے فقط
الجواب :
مسلمان میت کو جو ثواب پہنچایا جائے اسے پہنچتاہے اور اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جیسے حیات میں تحفہ بھیجنے سے اسے معلوم ہوتا ہے کہ میرے فلاں عزیز یا دوست یامسلمان نے بھیجا ہے۔ یہ سب مضامین احادیث میں وارد ہیں بینھا الامام الجلیل الجلال السیوطی فی شرح الصدور (ان کو امام جلیل الدین سیوطی نے شرح الـصدور میں بیان فرمایا ہے ۔ ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : ا زشہرعلی گڑھ محلہ مدار دروازہ مسئولہ احمد سوداگ پارچہ بنارسی ربیع الاول ھ
زید تین مرتبہ یس شریف او رایك مرتبہ سورہ فاتحہ تین مرتبہ سورہ اخلاص او ر ایك سومرتبہ درود شریف او راس کے علاوہ جو کچھ ہوسکتا ہے پڑھ کر بخشتا ہے او ردعا اس کے واسطے مغفرت کے کرتا ہے وہ اس کوپہنچتاہے یا نہیں اور یہ دعا او راس کاپڑھنا اس کی مغفرت کو کافی ہے یا نہیں اگر کافی نہیں ہے تو موافق شرع شریف کے کوئی عمل یا دعا تحریر فرمائے تاکہ اس کے پڑھنے سے ہندہ کے مغفرت کو کافی ہو۔ فقط
الجواب :
ثواب پہنچتا ہے او رمغفرت باختیار خدا ہے قل ھو اﷲ شریف گیارہ بار کرے اور سورہ ملك شامل
مسئلہ تا : از شفا خانہ فرید پور ڈاکخانہ خاص اسٹیشن پتمبر پور ضلع بریلی مسئولہ عظیم اﷲ کمپاونڈر رمضان ھ
() زید کو گیارھویں شریف کس طریقے سے کرنی چاہئے آیا اس کو دل میں یہ نیت یا خیال کر نا چاہئے یا سمجھنا چاہئے کہ یہ کھانا اﷲ تعالی کے لیے کرتا ہوں او رجو کچھ ثواب ملے وہ ثواب گیارھویں والے میاں صاحب کو پہنچے یا اس خیال او ر نیت سے کرے کہ یہ کھانا میں گیارھویں شریف والے میاں صاحب کو کرتا ہوں وہ مجھ سے خوش او رراضی ہوں گے اور اﷲ تعالی سے دعاکریں گے یا مجھ کو اس کا بدلہ دیں گے اس طریقہ سے جائز ہے یا ناجائز
() فاتحہ دینا کس طریقہ سے جائز ہے کھانے کے اوپر سے دعاکریں گے جائز ہے یا نہیں جس کھانے پر زید کوفاتحہ دینا ہے اس کو تناول کرنے کے بعد یعنی کھانا چکنے کے بعد فاتحہ دینا جائز ہے یا ناجائز
() زید کے پاس ایك شخص تین جگہ بتاسے لایا کہ ایك پر اﷲ رسول کے نام پر فاتحہ دے دو دوسری جگہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی تیسری جگہ محلہ میاں صاحب کی بعد فاتحہ کے ان بتاسوں کو کھانا جائز ہے یانہیں
() امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے نام کا شربت کرنا اور پینا جائزہے یا نہیں اور اگر جائز ہے تو کس طریقہ سے کرنا اور پینا چاہئے او رکیا نیت ہونا چاہئے
الجواب :
() یہ دو طریقے نہیں بلکہ ایك ہی طریقہ ہے۔ حضور غوث پاك رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ہونے کے یہ معنی نہیں کہ خود یہ کھانا حضور کے واسطے ہے بلکہ قطعا ثواب ہی مراد اور ان کی رضا جوئی او ران سے حسن جزا اور نیك دعا کی طلب ان میں سے کوئی بات شرعا ممنوع نہیں۔
() کھانے پر فاتحہ جائز ہے قبل کھانے کے بھی اور بعد بھی اور قبل دینے میں ایصال ثواب میں تعجیل ہے اور تعجیل خیر خیر ہے۔
() فاتحہ یعنی ایصال ثوا ب ہے۔ اور اﷲ عزوجل کے نام کی فاتحہ ہونا بے معنی ہے و ہ ثواب سے پاك منزہ ہے۔ باقی یہ تین متفرق فاتحہ ہونے نے بتاسوں کو کیوں ناجائز کردیا۔
() نیت ایصال ثواب کی ہو اور یا وغیرہ کو دخل نہ ہو ا س کے جواز میں کوئی شبہہ نہیں شربت کریں اور عرض کریں کہ الہی! یہ شربت ترویح روح حضرت امام کے لیے کیا ہے۔ اس کا ثواب انھیں پہنچا اور
مسئلہ : از سہسوان ضلع بدایوں مسئولہ سید پرورش علی صاحب یکم ذی القعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مقابر میں ایك شخص سورہ اخلاص وفاتحہ ومعوذتین وغیرہ پڑھ کر ہاتھ اٹھا کر دعا کرتاہے : یا اللہ! ان آیات کا ثواب مقدس حضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور صحابہ تابعین او راولیائے امت اورآدم علیہ الصلوۃ والسلام سے اس وقت تك جو مسلمان مرے ہیں او رجویہاں مدفون ہیں سب کی ارواح کو پہنچے یا پہنچادے اس کی اصلاح فرمائی جائے۔
الجواب :
اس میں اتنا او راضافہ کرنا انسب ہے کہ جتنے مسلمان مردوعورت اب موجود ہیں اور جتنے قیامت تك آنے والے ہیں ان سب کی روح کو پہنچادے اسے تمام مومنین ومومنات اولین وآخرین سب کی گنتی کے برابر ثواب ملے گا ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از کانپور محلہ بوچڑ خانہ مسجد رنگیاں مرسلہ مولوی عبدالرحمن حبشانی طالبعلم مدرسہ فیض عام ربیع الاول شریف ھ
ماجو ابکم ایھا االعلماء رحمکم اﷲ تعالی ( اے علماء کرام رحمکم اﷲ تعالی! تمھارا کیا جواب ہے ۔ ت) اس مسئلہ میں کہ مردہ کا نام لے کر فاتحہ بخش دینا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
ہاں۔ وقد حققناہ فی البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقہ فی المسلك المتقسط للملا علی القاری وعنہ نقل فی ردالمحتار یقرأ مایتسرلہ من الفاتحۃ والاخلاص سبعا او ثلثا ثم یقول اللھم اوصل ثواب ماقرأناہ الی فلان اوالیھم اھ ملخصا وفی الشامیۃ ایضا صرح علماؤنا فی باب الحج عن الغیر بان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ
اور ہم نے اس کی تحقیق البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقۃ میں کی ہے۔ ملا قاری کی المسلك المتقسط میں ہے اور اس کے حوالے سے ردالمحتارمیں بھی نقل ہے کہ سورۃ فاتحہ ا ور سورہ اخلاص سات بار یا تین بار جس قدر میسر ہو پڑھے پھر یہ کہے کہ اے اللہ! ہم نے جو پڑھا اس کا ثواب فلاں کو یاان سب کو پہنچادے اھ ملخصا۔ شامی ہی میں یہ بھی ہے کہ ہمارے عماء نے باب الحج عن الغیر میں صراحت فرمائی ہے
کہ انسان اپنے عمل کا ثواب دوسرے کے لیے کرسکتا ہے نمازہو یاروزہ یاصدقہ یا کچھ اور۔ ایسا ہی ہدایہ میں ہے الخ__اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے (ت)
مسئلہ تا : از رائے بریلی مدرسہ رحمانیہ مرسلہ حافظ نیاز حسین صاحب شعبان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
() بوقت ایصال ثواب فلان بن فلان کہنے کی ضرورت ہوگی یا محض اس کا نام لیناکا فی ہوگا اگر ولدیت کے اظہار کی ضرورت ہوگی او ر اس سے لاعلمی ہے توایصال ثواب کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا
()بروز وفات جو کھانا اہل میت کے یہاں بطریق بھاتی بھیجاجاتا ہے اس کو اہل میت کے اعزاء قریب یاا عزاء پڑوسی خواہ مردہوں یا عورت جو بعض مصروفیت تجہیز وتکفین رہتے ہیں اور بعض اگر چہ اپنے یہاں کھانا پکا کر کھا سکتے ہیں مگر عرفا معیوب سمجھ کر محض بخیال ہمدردی اہل میت اس کے شریك حال رہتے ہیں اس کھانے کو کھاسکتے ہیں یا نہیں بصورت عدم جواز کھانا مکروہ ہوگا یا حرام
(۳) بروز سوم دہم چہلم ششماہی وغیرہ کھانا بغرض ایصال ثواب پکاکر مساکین کو تقسیم کیا جاتا ہے ا س میں بقدر ضرورت اضافہ کرکے علاوہ مساکین کے دیگر اعزہ واحباب کو کھلایا ا و راہل برادری میں تقسیم کیا جاسکتا ہے یا نہیں بصورت جواز کتب فقہ کی اس عبارت کا کیا مطلب ہوگا : التقریب للسرور لاللحزن (تقریب خوشی کے لیے ہوتی ہے غمی کے لیے نہیں ۔ ت) بصورت عدم جواز کھان اس کا مکروہ ہو گا یا حرام
الجواب :
() ایصال ثواب بذریعہ دعاہے اور دعا رب عزو جل سے۔ اور عزوجل بکل شیئ علیم ہے۔ وہ جانتا ہے کہ فلاں سے اس کی مراد وہ شخص ہے ولدیت وغیرہ کی کوئی حاجت نہیں۔
() پہلے دن صرف اتنا کھانا کہ میت کے گھروالوں کو کافی ہے بھیجنا سنت ہے۔ اس سے زیادہ کی اجازت نہیں نہ دوسرے دن بھیجنے کی اجازت نہ اوروں کے واسطے بھیجا جائے نہ اوراس میں کھائیں وبیان ذلك فی فتاونا (اور اس کابیان ہمارے فتاوی میں ہے ۔ ت)
یکرہ اتخاذالضیافۃ من الطعام من اھل المیت لانہ شرع فی السرور لافی الشرور وھی بدعۃ مستقبحۃ۔ روی الامام احمد وابن ماجۃ باسناد صحیح عن جریر بن عبداﷲ قال کنا نعد الاجتماع الی اھل المیت وصنعھم الطعام من النیاحۃ ۔
اہل میت کی طرف سے کھانے کی ضیافت تیار کرنی منع ہے کہ شرح نے ضیافت خوشی میں رکھی ہے نہ کہ غمی میں اور یہ بدعت شنیعہ ہے۔ امام احمد اور ابن ماجہ بسند صحیح حضرت جریر بن عبداﷲ بجلی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہیں ہم گروہ صحابہ اہل میت کے یہاں جمع ہونے اور کھانا تیار کرنے کو مردے کی نیاحت سے شمار کرتے تھے ۔ (ت)
جب علماء نے اسے غیر مشروع وبدعت قبیحہ کہا تو اس کا کھانا بھی غیر مشروع و بدعت قبیحہ ہوا کہ معصیت پراعانت ہے اور معصیت پرا عانت گناہ۔
قال اﷲ تعالی و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- ۔ واﷲ تعالی اعلم
اﷲ تعالی کا فرمان ہے : گناہ او رزیادتی پرا یك دوسرے کی مدد نہ کرو۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از حب والہ ضلع بجنور تحصیل دھانپور مرسلہ منظور صاحب شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میت کا تیجہ دسواں بیسواں چالیسواں متعین کر کے کرنا جائز ہے یا نہیں میں نے ایك اشتہار میں جوآپ کی جانب سے تھا اور مشتہر اس کے لعل خاں تھے دیکھا تھا کہ دسواں بیسواں متعین کرکے کرنا او رمیلاد مروجہ بہتر نہیں ۔ الفاظ اس کے بعینہ مجھے یاد نہیں۔
الجواب :
اموات کو ایصال ثواب قطعا مستحب۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۔
جو اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکے تو چاہیے کہ اسے نفع پہنچائے۔ (ت)
اور یہ تعینات عرفیہ ہیں ان میں اصلا حرج نہیں جبکہ انھیں شرعا لازم نہ جانے یہ نہ سمجھے کہ انہی دنوں ثواب
القرآن ٥ / ٢
صحیح مسلم باب استحباب الرقیۃ من العین الخ نور محمد اصح المطا بع کراچی ٢ / ٢٢٤
صوم یوم السبت لالك ولاعلیك
(روز شنبہ کا روزہ نہ تیرے لیے نہ تیرے اوپر۔ ت)
میرے فتاوی ورسائل مجلس مبارك کے استحباب ا وران اشیاء کے جوا سے مالامال ہیں حامی سنت حاجی لعل خاں نے کوئی اشتہار اس مضمون کا نہ دیا۔ وہابیہ کا کوئی افتراء آپ کی نظر پڑا ہوگا۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از شہر بازار بانس منڈی معرفت عبدالحکیم طالب علم مدرسہ منظرالاسلام محرم الحرام ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص گیارھویں شریف کومنع کرے اور اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں اور گیارھویں شریف کا کرنا سنت ہے یا مستحبا گر ستنت ہے تو زائد ہے یاموکدا ور سنت سے کو ن سی سنت مراد ہوگا آیا سنت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یا سنت صحابہ رضوان علیہم اجمعین اور جیسے گیارھویں شریف کو ہم لوگ گیارہ تاریخ میں ضرور سمجھتے ہیں یہ سمجھنا جائز ہے یا نہیں اور اگرگیارہ تاریخ کے بجائے بارہ یا تیرہ کو کرے توہوگی یا نہیں اور ایسے ہی تیجے کو یا چہلم کو ایك دن یا دو دن آگے پیچھے کریں تو کرسکتے ہیں یانہیں اگر نہیں توجیسے ہم لوگ کرتے ہیں کہ تیسری کو تیجا اور گیارہ تاریخ کو گیارھویں اور چہلم کو چہلم کر نا ضروری ہے یا نہیں اور بتاسے اور ریوڑی وغیرہ سامنے لانے کی ضرورت ہے یا نہیں اور بجز لانے کے نیاز ہوسکتی ہے یا نہیںا ور چند سورہ جو مروجہ ہیں ان کے علاوہ او رکوئی سورہ شریف پڑھ کر فاتحہ ونیازہوسکتی ہے یانہیں بینوا بالدلیل توجروا عندالجلیل باجر جزیل۔
الجواب :
یہاں گیارھویں شریف کو منع کرنے والے نہیں مگر وہابی یا رافضی اور دونوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ گیارھویں شریف اپنے مرتبہ فردیت میں مستحب ہے اور مرتبہ اطلاق میں کہ ایصال ثواب سنت ہے او رسنت سے مراد سنت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ اور یہ سنت قولیہ مستحبہ ہے۔ یہ “ ہم لوگ “ کہنا اپنی تہ میں وہابیت کا فریب رکھتا ہے سنیوں میں کوئی اسے خاص گیارھویں تاریخ ہونا شرعاواجب نہیں جانتا ور جوجانے محض غلطی پر ہے۔ ایصال ثواب ہر دن ممکن ہے او کسی خصوصیت کے سبب ایك تاریخ کا التزام جبکہ ایسے شرعا واجب نہ جانے مضائقہ نہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہرپیر کو نفلی روزہ رکھتے کیا اتوار یا منگل کو رکھتے تو نہ ہوتا یا اس سے یہ سمجھا گیا کہ معاذاﷲ حضورنے پیر کا روزہ واجب سمجھا یہی حال تیجے او ر چہلم کا ہے۔ روٹی کھاتے وقت روٹی کو سامنے لانے کی ضرورت نہیں پیٹھ کے پیچھے بھی رکھ کر کھا سکتے ہیں او رسر پر
مسئلہ : از پیلی بھیت محلہ پکر یا متصل سٹی ڈاکخانہ مسئولہ ملا لطیف احمدسوداگر لکڑی صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آٹا جو روزمرہ پکانے کونکالا جاتا ہے اس میں سے ایك چٹکی نکال کر جمع کی جائے جب تین تیس دین مہینے کے پورے ہوجائیں اور گیارھویں شریف کا دن آئے تو اس آٹے جمع کئے ہوئے پر گیارھویں شریف کی فاتحہ درست ہے یا نہیں او ر روز مرہ ایك چٹکی آٹا برائے فاتحہ گیارھویں شریف جائز ہے یا نہیں اگر روز مرہ چٹکی نکالناجائز ہے تودوسرا طریقہ کون ساہے بینوا توجروا
الجواب :
یہ طریقہ بہت برکت کا باعث ہے اوراس میں آسانی رہتی ہے روز کے آٹے میں سے ایك چٹکی نکالنا معلوم بھی نہیں ہوتا اور وہ مہینہ بھر بعد ایك مقدار معتدبہ ہوجاتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از موضع گہر کھالی تھانہ منگنڈوا بازار ہانچورانہ ضلع ارکان عرف اکباب مسئولہ مولوی ابوالحسن صاحب جمادی الآخر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید مسلم صالح کا انتقال بروز جمعہ بوقت صبح ہوا۔ اب زید کے واسطے قبل نماز جمعہ تسبیح وتہلیل وختم قرآن مجید پڑھ کر ایصا ل ثواب جائزہے یا نہیں برتقدیر اول جب زید قبر کے عذاب سے محفوظ ہے پھر ایصال وثواب کی کیا ضرورت بناء علیہ بعض علماء ان امور مذکورہ کو جائز مانتے ہیں اب قول فیصل کیا ہے بینوا جروا
الجواب :
جائز ہے جبکہ میت کی تجہیز وتکفین میں اس کے باعث تاخیرنہ ہو اس کا اہتمام اور لوگ کرتے ہوں نہ اس کے سبب ان پڑھنے والوں کو جمعہ میں تاخیر ہوجائے اس کے اہتمام کاوقت انے سے پہلے فارغ ہوجائیں ۔ ا ب یہ نفع بلاضرورت اور اس حدیث صحیح کو عموم میں داخل ہے کہ :
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلیفعل رواہ مسلم عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما۔
جو اپنے بھائی کو فائدہ پہنچاسکتا ہو تو چاہئے کہ اسے فائدہ پہنچائے اسے امام مسلم نے حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔ (ت)
قال تعالی للذین احسنوا الحسنى و زیادة- ۔
اﷲ تعالی کا ارشاد ہے : نیکوکاروں کے لیے بھلائی ہے اور مزید بھی ہے ۔ (ت)
سید نا ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی مولی جلا وعلانے اموال عظیمہ عطافرمائے تھے ایك روز نہارہے تھے کہ اسمان سے سونے کی ٹیریاں برسیں ایوب علیہ الصلوۃ والسلام چادر میں بھرنے لگے رب عزوجل نے ندا فرمائی : یا ایوب الم اکن اغنیك عماتری اے ایوب! جو تمھارے پیش نظر ہے کیا میں نے تمھیں اس سے بے پروا نہ کیا تھا عرض کی : بلی وعزتکی ولکن لا غنی عن برکتك ضرو غنی کیا تھا تیری عزت کی قسم مگر مجھے تیری برکت سے توبے نیازی نہیں رواہ البخاری واحمد والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ (اسے امام بخاری وامام احمد ونسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے ۔ ت) جب حق جل وعلا کی دینوی برکت سے بندہ کوغنا نہیں تو اس کی دینی برکت سے کون بے نیاز ہوسکتا ہے۔ صلحاء تو صلحا خود امام اعاظم اولیاء بلکہ حضرات انبیاء خود حضور پر نور نبی الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کو ایصال ثواب زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے اب تك معمول ہے حالانکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام قطعا معصوم ہیں تو موت جمعہ یا صلاح کیا مانع ہوسکتی ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
ان ا بن عمر کان یعتمر عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عمرا بعد موتہ من غیر وصیۃ وحج ابن الموفق (رحمۃ اﷲ تعالی) وھوفی طبقۃ الجنید قدس سرہ) عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سبعین حجۃ وختم ابن السراج عنہ صلی اللہ تعالی
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وصا ل کے بعد بغیر کسی وصیت کے ان کی طرف سے عمرے کیا کرتے تھے ابن موفق رحمہ اﷲ نے (جو حضرت جنید بغدادی قدس سرہ کے طبقہ سے ہیں) حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی
صحیح البخاری کتاب الابنبیاء باب قول اللہ عزوج وایوب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٤٨٠ ، درمنشور بحوالہ احم وبخاری وبہیقی آیہ وایوبیہ اذنادٰی ربہ مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران ٤ / ٣٣٠
طرف سے ستر حج کیے ابن سراج نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف سے دس ہزار ختم سے زیادہ پڑھے اور اسی کے مثل سرکار کی جانب سے قربانی بھی کی۔ اسے امام ابن حجر مکی سے انھوں نے امام اجل تقی الملۃ والدین سبکی سے نقل کیا رحمہما اﷲتعالی آگے علامہ شامی نے لکھا : اسی جیسا مضمون مفتی حنفیہ شہاب الدین احمد الشلبی شیخ صاحب بحر کی قلمی تحریر میں نویری کی شرح طبیہ کے حوالے سے دیکھا رحمہم اﷲ۔ آگے علامہ شامی نے فرمایا اور ہمارے علماء کا یہ قول کہ انسان اپنے عمل کا ثواب دوسروں کے لیے کرسکتا ہے اسی میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بھی داخل ہیں اسی لیے کہ وہ اس سے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ حضور ہی نے ہمیں گمراہی سے نکالاتو اس میں ایك طرح کی شکرگزاری اور حسن سلوك ہے او رصاحب کمال مزید کمال کے قابل ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از موضع سرینا ضلع بریلی تحصیل بریلی مسئولہ عبدالکریم صاحب صفر المظفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید دریافت کرتا ہے کہ کفن میں تہبند ورومال سرمہ کنگھی وغیرہ کم کرنا جائز ہے یا نہیں بلکہ ہو بہتر ہے۔ او ر ہر روز خوراك پہ میت کے فاتحہ دکھانا او رہرجمعرات کو چند مسکین کو دعوت کرکے کھلانا اور چالیس یوم تك ہر روز فاتحہ دلانا اور جمعرات کو فقیروں کو کھلانا اور چالیسویں یوم کو گھڑے یا مٹکے میں پانی بھر کر اس پر چادر رکھتے ہیں کچھ پکا کر فاتحہ دیتے ہیں او راس کو روح نکالنا مکان سے قرار دیتے ہیں اور جریس یعنی چاول میں شکر ڈال کر تقسیم کرتے ہیں او رحلوہ روٹی بہ جریس برادری میں تقسیم کیاجاتا ہے اور شب برات وعرفہ تك اس میت کی فاتحہ علیحدہ ہوتی ہے۔ بعد عرفہ شب برات کے یعنی شب برات کو شامل ہوتی ہے اوربرادری کو دعوت فاتحہ میت میں شامل نہ کریں تو بہت برامانتے ہیں یہ رسمیں جوناجائز ہوں وہ علیحدہ تحریر فرمائی جائیں۔
الجواب :
مرد کے لیے کفن کے تین کپڑے سنت ہیں اور عورت کے لیے پانچ۔ ان کے سوا کفن میں کوئی او ر تہبند یا رومال
مسئلہ تا : از مراد آباد مدرسہ اہلسنت بازار دیوان مرسلہ مولوی عبدالودود صاحب قادری برکاتی بنگالی طالب علم مدرسہ مذکوہ جمادی الاولی ھ
() گھر میں بیٹھ کر فاتحہ پڑھ کر ثواب رسانی کرنے سے زیادہ ثواب ہے یا قبرستان پر اور فاتحہ پڑھنے کا وقت قبر پر پانی ڈالنا ۔
() اکثر مساجد بنگال میں دستور ہے کہ محلہ والے جمعہ کے دن چاول روٹی کھانے کی چیزیں پکاکر فاتحہ کے واسطے اورنمازیوں کو تقسیم کرنے کے لیے مسجدوں میں بھیجا کرتے ہیں ان اشیاء موصوفہ کو کھانمازیوں کے لئے جائز ہے یا نہیں او ران چیزوں کو مسجد کے اندر تقسیم کرنا چاہئے یا باہر یا بالکل ممانعت کردی جائے او ر کہہ دیاجائے کہ مسجدوں میں نہ بھیجا کرو۔
الجواب :
() قبرستان میں جاکے پڑھنے میں زیادہ ثواب ہے کہ زیارت قبور بھی سنت ہے او روہاں پڑھنے میں اموات کا دل بھی بہلتاہے۔ اور جہاں قرآن مجید پڑھا جائے رحمت الہی اترتی ہے۔ قبر اگر پختہ ہے اس پر پانی ڈالنا فضول وبے معنی ہے یونہی اگر کچی ہے اور اس کی مٹی جمی ہوئی ہے۔ ہاں اگرکچی ہے اور مٹی منتشر ہے تو اس کے جم جانے کوپانی ڈالنے میں حرج نہیں جیسا کہ ابتدائے دفن میں خود سنت ہے۔
() بھیجنا جائز ہے۔ اور جبکہ بھیجنے والے عام نمازیوں کے لئے بھیجیں تو اغنیاء کوناجائز ہے۔ اور مسجد کے اندر کسی چیز کے کھانے کی غیر معتکف کو اجازت نہیں بلکہ مسجد سے باہر کھائیں اسی کی تاکید کی جائے اور بھیجنے سے ممانعت نہ کی جائے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ تا : از باگ ضلع الچہرہ ریاست گوالیار مکان منشی اوصاف علی صاحب مرسلہ اشر ف علی صاحب پنشر ریاست کوٹہ جمادی الاولی ھ
() کھانا پانی سامنے رکھ کر اور اس پر ہاتھ اٹھاکر فاتحہ دینا یہ طریقہ سنت ہے یاکیا
() جو کھان بہ نیت خاص برائے ایصال ثواب خواہ بزرگان دین سے ہوں یا عام مسلمان پکوایا جائے تو اس کھانے کو اغنیا کھا سکتے ہیں
الجواب :
() کھانا پانی سامنے رکھ کرفاتحہ دینا جائز ہے۔
() اغنیا بھی کھا سکتے ہیں سوا اس کھانے کے جوموت میں بطور دعوت کیا جائے وہ ممنوع و بدعت ہے۔ اور عام مسلمین کی فاتحہ چہلم برسی ششماہی کاکھانا بھی اغنیاء کو مناسب نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
() حضرت مولانا صاحب! واقعات کو بغور ملا حظہ فرمائیں مسجد کے پیش امام کو محلہ میں ایك جگہ پر فاتحہ و ایصال ثواب کو بلالے گئے چند عورتیں تھیں گھر کا دروازہ بند کر کے کہا بیوی صاحبہ کی فاتحہ پڑھ دو۔ ملاں جی نے کہا کہ پردہ کرکے یا کپڑے سے بند کر کے دلانا یہ عورتو ں کا مسئلہ ہے شریعت میں ایسا نہیں ہے خیر کپـڑا ڈال دو مگر کھانا تو سامنے رکھو۔ خیر بند کرکے بھی کھانا سامنے نہیں رکھا گیا۔ تھوڑا سا دروازہ کھولا گیا پردہ کردیا گیا ملا ں جی نے فاتحہ پڑھ دی عورتیں کہنے لگیں یہ تو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تھی اب بیوی کی پڑھو اور اسی طرح سے علی کی پڑھ دینا ملاں جی ناراض ہو کر بولے کہ تم خلاف قاعدہ اور خلاف اصول شرع فاتحہ دلاتی ہو اس طرح سے میں نہیں دے سکتا میرے عقیدے میں خلل ہوتا ہے اور میں اپنا اسلام نہیں بیچ سکتا ہوں یہ کہہ کر مکان پر چلے آئے۔ بعد میں ایك عورت نے ملاں جی کو بہت سخت وسست کہاا ور لعن طعن کی۔ انھوں نے صبر کیا۔ دلی مطلوب ملاں جی کا یہ تھا کہ سلف سے جو طریقہ فاتحہ خوانی اور ایصال ثواب کا چلا آتا ہے اور تمام بزرگان دین ایصال ثواب کرتے چلے آئے ہیں وہ بات ہونا چاہئے نئے نئے طریقے کیوں نکالتی ہو جس پر اس عورت کے بعض عزیز بھی ملاں جی پر ناراض ہوئے۔ یہ واقعات ہیں۔
() یہ عورتیں حضرت بی بی فاطمہ خاتون جنت کی فاتحہ پردہ ڈال کر یا کپڑا ڈال کر امہات المومنین حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ازواج مطہرات اور جملہ پیغمبروں کی بیویوں سے علیحدہ دلاتی ہیں اور چند قیدیں لگاتی ہیں کہ سوائے شوہر والی بیوہ یا عقد ثانی والی یا مردیہ کھانا نہ کھائیں آیا اس کا ثبوت کہیں شریعت سے بھی ہے یا کیا جیسا ہو ویسا بحوالہ کتب تحریر فرمائیں۔
() یہاں پر اکثرشب براءت یا عید بقرہ یا عید الفطر یا شادی بیاہ دیگر خوشی کے وقت دودھ روٹی یا تھوڑا تھوڑا کھانا الگ الگ رکھ فاتحہ دلاتی ہیں اور کہتی ہیں اس پر میرے دادا کی یا باپ کی یا فلاں کی دے دو ۔ شرع شریف میں یہ بات جائز ہے یا ناجائز
الجواب :
() فاتحہ وایصال ثواب کے لیے کھانے کا پیش نظر ہونا کچھ ضرور نہیں یہ اس پیش امام کی غلطی تھی اور حضرت خاتون جنت کی نیاز کا کھانا پردے میں رکھنا اور مردوں کو نہ کھانے دینا یہ عورتوں کی جہالتیں ہیں انھیں اس سے باز رکھا جائے پیش امام اور عورتیں دونوں اپنی اپنی غلطی سے توبہ کریں اور جس عورت نے پیش امام کو سخت وسست کہا وہ اس سے معافی مانگے۔
() یہ محض بے ثبوت اور نری اختراعی باتیں ہیں مردوں پر لازم ہے کہ ان غلط خیالوں کو مٹائیں۔
() کسی نیاز پر پردہ ڈالنے کا کہیں حکم نہیں اور جو امام ایسا نہ کرے ا س نے اچھا کیا۔ اس وجہ سے اس پرلعن سخت حرام ہے ایسی لعنت خود لعنت کرنے والے پر پلٹتی ہے۔
() ایك جگہ سب کی فاتحہ دلائیں تو جائز اور جدا جدا دلائیں تو جائز جیسے حیات دنیا میں لیس علیكم جناح ان تاكلوا جمیعا او اشتاتا- ( تم پر حرج نہیں کہ مل کر کھاؤ یا جدا جدا ۔ ت) وا ﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از رامپور پور گول بازار ممالك متوسط مرسلہ محمد سلیم خاں کتب فروش جمادی الاخری ھ
ایك شخص ہے وہ کہتا ہے کہ فاتحہ میں ثواب رسانی کے سلسلہ میں ایسا لفظ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ارواح متبر کہ کوا س کا ثواب پہنچے۔ ایسا لفظ حضرت کی شان میں ارواح کا لفظ لانا بے ادبی میں داخل ہے۔ ارواح کا لفظ مت شامل کرو۔ ایسا مت کہو کہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ارواح کو ثواب پہنچے آپ حیات النبی ہیں فقط
الجواب :
روح زندہ کے لیے بھی ہے بلکہ روح ہی سے زندگی ہے اور درود شریف کے صیغوں میں ہے :
كل نفس ذآىقة الموت- (ہر جاندار نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ ت) کے واسطے ہوتی ہے پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ بحیات حقیقی جسمانی دنیاوی زندہ ہیں نمازیں پڑھتے ہیں حج کرتے ہیں مجالس خیرمیں تشریف لے جاتے ہیں کھانا پینا سب کچھ دنیا کی طرح بے کسی آلائش کے جاری ہیں کما نطقت بہ الاحادیث وائمۃ القدیم والحدیث (جیسا کہ اس بارے میں احادیث اورزمانہ قدیم وجدید کے ائمہ کے ارشادات موجود ہیں ۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ : از بہیرہ ضلع شاہ پور ملك پنچاب ملتانی دوازہ مسئولہ فضل حق صاحب چشتی رمضان ھ
بخدمت جناب سلطان العلماء المتبحرین برہان الفضلاء المتصدرین کنز الہدایہ والیقین شیخ الاسلام والمسلمین مولنا المفتی العلامۃ الشاہ محمد احمد رضا خاں صاحب مدظلہ العالی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گیارھویں شریف کس چیز پر دینی افضل ہے۔ چاول یا حلوہ وغیرہ اور کن کن لوگوں میں بانٹنی چاہئے آپ بھی تبرك چکھنا چاہئے یا نہیں اور کس پیر صاحب یا سید کو اس میں سے حصہ دینا یا نہیں ایك مسجد میں چند ایك اصحاب مل کر گیارھویں پکاتے ہیں تو کیا وہ گیارھویں شریف پکی ہوئی مسجد کے نمازیوں میں بانٹنی چاہئے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
نیاز کا ایسے کھانے پر ہونا بہتر ہے جس کا کوئی حصہ پھینکا نہ جائے جیسے زردہ یا حلوا یاخشکہ یا وہ پلاؤ جس میں سے ہڈیاں علیحدہ کرلی گئی ہوں بانٹنے کا اختیار ہے جس سنی مسلمان کو چاہے دے اگر غنی کو ہو اگر چہ سید ہو۔ اور خود بھی تبرك کھائے تو حرج نہیں۔ شاہ عبدالعزیز صاحب نے فتاوی میں لکھا ہے : نیاز کا کھانا تبر ك ہوجاتاہے ہاں اگر شرعی منت مانی ہو توا س میں سے نہ خود کھا سکتا ہے نہ کسی غنی یا سید کو دے سکتاہے وہ غیر ہاشمی فقرائے مسلمین کا حق ہے۔ اور بدمذہبوں خصوصا وہابیوں رافضیوں کو دینا جائز نہیں چندے والے جس نیت سے پکائیں اس میں صرف کریں اگر خاص نمازیوں کے لئے پکائی ہے تو صرف انھیں کو دیں اور سب کے لئے تو سب کو۔ ہاں کافر کو دینا جائز نہیں جیسے بھنگی چمار وہابی رافضی قادیانی۔ ہاں جس کی بدمذہبی حد کفر تك نہ پہنچے جیسے تفضیلہ اسے دینے میں حرج نہیں اور سنی کو دینا افضل ۔ حدیث میں ہے :
تیرا کھانانہ کھائے مگر پر ہیز گار۔ (اسے امام احمد ابوداؤد ترمذی ابن حبان اور حاکم نے صحیح سندوں سے بنی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از شہر محلہ گلاب نگر رجب ھ
تبارك جو کیا جاتا ہے اس کی اصل کیاہے اور کس شیئ پر ادا کیا جانا افضل ہے جس شیئ پر پڑھا جائے وہ شیئ اگر کھانے کی ہے تو کس کو کھلانا بہتر زیادہ ہے اس کا جو رواج ہے اس سے جناب خوب واقف ہیں اس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔ بینوا توجروا
الجواب :
تبارك کی اصل ایصال ثواب ہے جس کا حکم احادیث کثیرہ میں ہے اور خاص سورہ تبارك الذی شریف کی تخصیص اس لیے کی صحیح حدیثوں میں اسے عذاب قبر سے بچانے والی نجات دینے والی فرمایا جس شے پر کرتے ہیں محتاج کی حاجت روائی زیادہ ہو اس میں زیادہ ثواب ہیں ایام قحط میں کھانے پرہونا زیادہ مناسب ہے۔ فقیر کے یہاں کھانے پر ہوتی ہے۔ کپڑے کے جوڑوں کھبی روپوں پر موافق حالت برادران مساکین مسلمین کے جو مناسب سمجھا گیا کیاجاتا ہے۔ کھاناہو یا کپڑے یا دام دنیا سب سے پہلے اپنے عزیزوں قریبوں کا حق ہے جو حاجتمند ہوں پھر ہمسایوں پھر یتیم بیوہ مسکین مسلمانان اہل شہر کا واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ تا : از اجمیر شریف کارخانہ کرتباں علاقہ نمبر لوہار خانہ مرسلہ جمال محمد جمادی الآخر ھ
() مردہ کے ساتھ کھانا لے جانا حلال ہے یا حرام
()گلاب قبر میں چھڑکنا جائز ہے یا ناجائز
() اور قبر سے چالیس قدم جاکر دعا مانگنا
الجواب :
() مردہ کی طرف سے تصدق کرنا چاہئے او رساتھ لے جانا فضول ہے۔ اور علامہ طحطاوی نے اسے بدعت لکھاہے۔ وھو تعالی اعلم
() قبر میں گلاب وقت دفن کے چھڑکنے میں حرج نہیں اور اوپر چھڑکنا فضول اور مال کا ضائع کرنا۔ وھو تعالی اعلم
مسئلہ : از کرتپور ضلع بجنور مرسلہ طفیل احمد صاحب بچڑابونی صفر المظفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں جو اطعام بہ نیت ایصال ثواب بروح مردگان تقسیم کیا جاتا ہے اس کو اغنیاء بھی کھا سکتے ہیں یا نہیں عام اموات مومنین کے لیے جوکھانا وغیرہ دیا جاتا ہے اس میں اور اس طعام میں جو انبیاء عظام اور اولیاء کرام کے ارواح کے لیے ہدیہ کیا جاتا ہے کچھ ذاتی فرق ہے یا نہیں برکت وعدم برکت کے اعتبار سے دونوں حالتوں میں مصروف ایك ہوگا یعنی صرف فقراء کو دینا یا اغنیاء کے لیے بھی کھانا جائز ہوگا۔ فقط بینوا توجروا
الجواب :
طعام تین قسم ہے : ایك وہ کہ عوام ایام موت میں بطور دعوت کرتے ہیں یہ ناجائز وممنوع ہے۔
لان الدعوۃ انما شرعت فی السرور لا فی الشرور کمافی فتح القدیر وغیرہ من کتب الصدور۔
اس لیے کہ دعوت کو شریعت نے خوشی میں رکھا ہے غمی میں نہیں جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ کتب اکابر میں ہے ۔ (ت)
اغنیاء کو اس کاکھانا جائز نہیں۔
دوسرے وہ طعام کہ اپنے اموات کو ایصال ثواب کے لیے بہ نیت تصدق کیا جاتا ہے فقراء اس کے لیے احق ہیں اغنیاء کو نہ چاہئے۔
تیسرے وہ طعام کہ نذور ارواح طیبہ حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والثناء کیاجاتا ہے اور فقراء واغنیاء سب کو بطور تبرك دیا جاتا ہے یہ سب کو بلاتکلف رواہے۔ او روہ ضرور باعث برکت ہے۔ برکت والوں کی طرف جو چیز نسبت کی جاتی ہے اس میں برکت آجاتی ہے۔ مسلمان اس کھانے کی تعظیم کرتے ہیں اور وہ اس میں مصیب ہیں ائمہ دین نے بسندصحیح روایت فرمایا کہ ایك مجلس سماع صوفیاء کرام رضی اللہ تعالی عنہم میں نذر حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا ایك بدرہ زر رکھا ہوا تھا یہ حالت وجد میں ایك صاحب کا پاؤں اس سے لگ گیا فورا رب العزت وعلانے ان کا حال ولایت سلب فرمالیا نسأل اﷲ العفو ولعافیہ۔ واﷲ تعالی اعلم
کیا حکم ہے علمائے اہلسنت والجماعت کا اس مسئلہ میں کہ چنوں پرجو سویم کی فاتحہ کے قبل کلمہ طیبہ پڑھا جاتا ہے اس کے کھانے کو بعض شخص مکروہ جانتے ہیں او رکہتے ہیں کہ قلب سیاہ ہوتا ہے آیا یہ صحیح ہے توان کوکیا کرناچاہئے اسی طرح فاتحہ کو جو عام لوگوں کی ہوتی ہے کہتے ہیں ایك موضع میں ان سوم کے پڑھے ہوئے چنوں کومسلمان اپنا اپنا حصہ لے کر مشرك چماروں کو دے دیتے ہیں وہاں یہی رواج ہمیشہ سے چلاآتا ہے۔ لہذا ان کلمہ طیبہ کے پڑھے ہوئے چنوں کو مشرك چماروں کو دینا جائز ہے یا نہیں کیا یہ گناہ ہے بینوا توجروا
الجواب :
یہ چیزیں غنی نہ لے۔ اور وہ جوان کا منتظر رہتاہے ان کے نہ ملنے سے ناخوش ہوتا ہے اس کا قلب سیاہ ہوتا ہے مشرك یا چمار کو اس کا دینا گناہ گناہ۔ فقیر لے کر خود کھائے اور غنی لے ہی نہیں اور لے لئے ہوں تومسلمان فقیر کو دے دے۔ یہ حکم عام فاتحہ کا ہے نیاز اولیائے کرام طعام موت نہیں وہ تبرك ہے فقیر وغنی سب لیں۔ جبکہ مانی ہوئی نذر بطور نذر شرعی نہ ہو شرعی پھر غیر فقیرکو جائز نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از قصبہ رچھاروڈ ـ ضلع بریلی مسئولہ حکیم محمد احسن شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ سوم کے چنوں کا کھانا علاوہ چھوٹوں کے بڑوں کو بھی جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
یہ چنے فقراء ہی کھائیں غنی کو نہ چاہئے بچہ یا بڑا غنی بچوں کو ان کے والدین منع کریں واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بلگرام ضلع ہردوئی محلہ میدان پورہ مرسلہ سید محمد تقی صاحب قادری ابوالحسینی صفر ھ
اگرمردہ کو اس کا خویش واقارب خواب میں دیکھے تنہا یا اس کو کسی قسم کی چیز طلب کرتے ہوئے دیکھے توا یسی حالت میں مردہ کا فاتحہ کھانے پر دلانا جائز ہے یا نہیں یاوہ چیز جو اس نے خواب میں طلب کی ہے وہ اس کے نام پر فاتحہ دلاکر خیرات کرناجائز ہے یا نہیں اور فاتحہ کے وقت ہمراہ کھانے کے پانی کا رکھنا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
بہتر ہے کہ جو چیز طلب کی محتاج کواس کی طرف سے دی جائے او رکھانے پر فاتحہ اس کے سبب سے منع نہ ہوگی وہ بھی اور پانی رکھنے میں حرج نہیں۔ محتاج کو وہ کھانا کھلائیں اور پانی پلائیں سب کا ثواب پہنچے گا۔
مسئلہ : امانت علی شاہ قصبہ نواب گنج ضلع بریلی رمضان ھ
مٹی کے چراغ میں گھی ڈال کر جلانا چاہئے یا نہیں آٹے کے چراغ میں گھی ڈال کر جلا کرکھانا یا ملیدہ کے اوپر رکھ کر فاتحہ دینا چاہئے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
بلاضرورت گھی جلانا اسراف ہے اور اسراف حرام ہے۔ اور فاتحہ وقرآن خوانی اور درود خوانی کے لئے اگر چراغ کے قرب کی حاجت ہو اور اس خیا ل سے کہ تیل میں کھبی بد بو آتی ہے گھی سے چراغ روشن کرے اور اس لحاظ سے کہ استعمال چراغ صاف نہیں ہوتا او رکورے میں جلائیں توگھی پئے گا اور بےکار جائے گالہذا آٹے کا چراغ بنائیں کہ آٹے پئے توا س کی روٹی پك سکتی ہے تواس میں حرج نہیں مگریہ عادت کرلینی کہ بلا ضرورت بھی فاتحہ کے لیے گھی جلائیں وہی اسراف وحرام ہے اور وہ صورت جواز جو ہم نے لکھی اس میں بھی وہ چراغ کھانے کے اوپر نہ رکھا جائے بلکہ کھانے سے الگ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از ریاست جاورہ مکان عبدالمجید خاں صاحب سہ راستہ دار بتاریخ / ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فاتحہ وغیرہ میں اکثر لوگ گھی کے چراغ کپڑے جوتی وغیرہ رکھتے ہیں یہ اشیاء رکھنا کیساہے فقط
الجواب :
کپڑا جوتے یا جو چیز مسکین کو نفع دینے والی مسکین کی نیت سے رکھیں کوئی حرج نہیں ثواب ہے مگر فاتحہ کے وقت گھی کا چراغ جلانافضول ہے اور بعض اوقات داخل اسراف ہوگا اس سے احتراز چاہئے واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : مرزا باقی بیگ رام پوری محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس فعل نیك کا ثواب چنداموات کو بخشا جائے وہ ان پر تقسیم ہوگا یا سب کو اس پورے فعل کا ثواب ملے گا بینوا توجروا
الجواب :
اﷲ عزوجل کے کرم عمیم وفضل عظیم سے امید ہے کہ سب کو پورا پورا ثواب ملے گا اگر چہ ایك آیت یا درود یا تہلیل کا ثواب آدم علیہ السلام سے قیامت تك کے تمام مومنین ومومنات احیا واموات کے لیے ہدیہ کرے علمائے اہلسنت سے ایك جماعت نے اسی پر فتوی دیا۔ امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :
سئل ابن حجر المکی عما لو قرأ لاھل المقبرۃ الفاتحۃ ھل یقسم الثواب بینھم اویصل لك منھم مثل ثواب ذلك کاملہ فاجاب بانہ فتی جمع بالثانی وھو اللائق بسعۃ الفضل اھ۔
حضرت ابن حجر مکی سے سوال ہوا اگر اہل مقبرہ کے لئے فاتحہ پڑھا توا ب ان کے درمیان تقسیم ہوگا یا ہرایك کو اس کا پور ا ثواب ملے گا انھوں نے جواب دیا کہ جماعت نے دوسری صورت پر فتوی دیا ہے اور وہی فضل ربانی کی وسعت کے شایان ہے اھ (ت)
اورہر شخص کو افضل یہی کہ جو عمل صالح کرے اس کا ثواب اولین وآخرین احیاء واموات تمام مومنین ومومنات کے لیے ہدیہ بھیجے سب کو ثواب پہنچے گا اور اسے ان سب کے برابر اجرملے گا۔
فی ردالمحتار عن التاتارخانیۃ عن المحیط الافضل لمن یتصدق نفلہ ان ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولا ینقص من اجرہ شیئ ا ھ
ردالمحتار میں تارتار خانبیہ سے اس میں محیط سے منقول ہے کہ جو کوئی نقل صدقہ کرے توبہتر یہ ہے کہ تمام مومنین ومومنات کی نیت کرے اس لیے کہ وہ سب کو پہنچے گا او راس کے اجر سے کچھ کم نہ ہوگا اھ (ت)
دارقطنی و طبرانی ودیلمی وسلفی امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے راوی حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من مرعلی المقابر وقرأ قل ھو اﷲ احد احدی عشرۃ مرۃ ثم وھب اجرھا للاموات اعطی اعطی من الاجر بعد دالاموات ۔
جو مقابر پر گزرے اور قل ھواﷲ گیارہ بار پڑ ھ کر اس کا ثواب اموات کو بخشے بعدد تمام اموات کے ثواب پائے۔
رہا ابن قیم ظاہری المذہب کا کتاب الروح میں تقسیم ثواب کو اختیار کرنا یعنی ایك ہی ثواب ان پر ٹکڑے ہو کر بٹ جائے گا حیث قال لواھدی الکل الی اربعۃ یحصل لکل منھم ربعہ اھ( اس کے الفاظ یہ ہیں :
ردالمحتار مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٦٠٥
فتح القدیر عن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ باب الحج عن الغیر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٦٥ ، کنز العمال رافعی عن علی حدیث ٤٢٥٩٦ موسستہ الرسالۃ بیروت ١٥ / ٦٥٥ ، ردالمحتار عن علی مطلب فی اہدا الثواب الاعمال لغیر مصطفی البابی مصر ٢ / ٢٥٧
ردالمحتار بحوالہ کتاب الروح مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ١ / ٦٠٥
اقول : وباﷲ التوفیق علماء کہ سب کو ثواب کامل ملے گا اس قول ابن قیم پر بچند وجہ مرجح ہے :
اولا ابن قیم بد مذہب ہے تواس کا قول علمائے اہلسنت کے مقابل معتبر نہیں۔
ثانیا وہ اسی کا قول ہے اور یہ یك جماعت کا فتوی والعمل بما علیہ الاکثر (اور عمل اس پر ہوتا ہے جس پر اکثر ہوں ۔ ت)
ثالثا وھو الطراز المعلم (اور وہی نقش بانگارہے یعنی زیادہ مضبوط جواب ہے۔ ت) ثواب واحدہ کا سب پر منقسم ہونا ایك ظاہری بات ہے جسے آدمی بنظر ظاہر اپنی رائے سے کہہ سکتا ہے۔ عالم شہود میں یونہی دیکھتے ہیں ایك چیز دس کو دیجئے توسب کو پوری نہ ملے گا ہر ایك کو ٹکڑا ٹکڑا پہنچے گا۔ غالبا اس ظاہری نے اسی ظاہری بات پر نظر اور معقول پر محسوس کو قیاس کرکے تقسیم کا حکم دے دیا۔ نہ کہ حدیث سے اس پر دلیل پائی ہو بخلاف اس حکم کمال کے کہ اگر کروڑوں کو بخشو توہر ایك کو پورا ثواب ملے گا ایسی بات بے سند شرعی اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتے توظاہر کہ جماعت اہل فتوی نے جب تك شرع مطہر سے دلیل نہ پائی ہر گز اس پر جزم نہ فرمایا بلکہ تصریح علماء سے ثابت کہ جوبات رائے سے نہ کہ سکیں وہ اگرچہ علماء کا ارشاد ہو حدیث مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حکم میں سمجھا جائے گا۔ آخرجب یہ عالم متدین ہے اوربات میں رائے کو دخل نہیں تو لاجرم حدیث سے ثبوت ہوگی امام علامہ قاضی عیاض نے سریج بن یونس رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا کہ اﷲ تعالی کے کچھ سیاح فرشتے یہں جن کے متعلق یہی حدیث ہے کہ جس گھر میں احمد یا محمد نام کوئی شخص ہو اس گھر کی زیارت کیا کریں۔ علامہ خفاجی مصری اس کی شرح نسیم الریاض میں فرماتے ہیں :
فھو ظاھر وان کان لسریج فھو فی حکم المرفوع لان مثلہ لایقال بالرای اھ ملخصا۔
یہ اگر چہ سریج کا قول ہے مگر وہ مرفوع کے حکم میں ہے اس لئے کہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جاتی اھ ملخصا (ت)
یہ سریج نہ صحابی ہیں نہ تابعی نہ تبع تابعین میں ہے بلکہ علمائے مابعد سے ہیں بایں ہمہ علامہ خفا جی نے ان کے قول مذکور کو حدیث مرفوع کے حکم میں ٹھہرایا کہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جاتی اسی طرح مانحن فیہ (زیر بحث مسئلہ ۔ ت) میں بھی کہہ سکتے ہیں کہ علماء کا وہ فتوی بھی حدیث مرفوع کے حکم میں ہونا چاہئے
ثم اقول : وباﷲ التوفیق ( میں پھر اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) فقیر غفر اﷲ تعالی لہ
حدیث اول : امام ابوالقاسم اصبہانی کتاب الترغیب اورامام احمد بن الحسین بیہقی شعب الایمان میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من حج عن والد یہ بعد وفاتھما کتب اﷲ لہ عتقا من النار وکان للمحجوج عنہما اجر حجۃ تامۃ من غیر ان ینقص من اجورھما شیئ ۔
جو اپنے ماں باپ کی طرف سے ان کی وفات کے بعد حج کرے اﷲ تعالی اس کے لیے دوزخ سے آزادی لکھے او ران دونوں کے لئے پورے حج کا اجر بغیر اس کے کہ ان کے ثوابوں میں کچھ کمی ہو۔
اگر ثواب نصف نصف ملتا تو اس آدھے میں سے کمی ہوجانے کا کیا احتمال تھا جس کی نفی فرمائی گئی۔ ہاں وہی اجر یہاں اجور ہوجائے۔ ہر ایك پور ا پورا بے کمی پائے یہ خلاف عقل ظاہر تھا۔ تو اسی کا افادہ ضرور مفید واہم ہے۔
حدیث دوم : طبرانی اوسط میں اور ابن عساکر حضرت عبداﷲ بن عمر ابن العاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روای حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ماعلی احد کم اذا ارادان یتصدق اﷲ صدقۃ تطوعا ان یجعلھا عن والدیۃ اذاکانا مسلمین فیکون لوالدیہ اجرھا ولہ مثل اجورھما بعد ان لا ینقص من اجورھما شیئ ۔
یعنی جب تم میں سے کوئی شخص کسی صدقہ نافلہ کا ارادہ کرے تو اس کا کیا حرج ہے کہ وہ صدقہ اپنے ماں باپ کی نیت سے دے کہ انھیں اس کا جواب پہنچے گا اور اسے ان دونوں اجروں کے برابر ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے ثوابوں میں کچھ کمی ہو۔
ان دونوں حدیثوں میں اگر کچھ تشکیك کی جائے تو حدیث سوم گویا نص صریح جس نے بحمدہ تعالی اس امید کمال کو قوی کردیا اور فتوی علماء کی تاکید اکید فرمادی کہ ہر ایك کو کامل ثواب ملے گا۔ اما م دارقطنی اور ا بوعبداﷲ ثقفی فوائد ثقفیات میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت فرماتے ہیں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا حج الرجل عن والدیہ تقبل منہ ومنہما واستبشرت ارواحھما وکتب عند اﷲ برا ۔
جب آدمی اپنے والدین کی طرف سے حج کرے وہ حج اس حج کرنے والے اور ماں باپ تینوں کی طرف سے قبول کیا جائے اور ان کی روحیں خوش ہوں اور یہ
الجامع الصغیر مع فیض القدیر بحوالہ ابن عساکر حدیث ٧٩٤٣ دارالمعرفۃ بیروت ٥ / ٤٥٦
سن الدارقطنی کتاب الحج نشرت السنۃ ملتان ٢ / ٢٦
من حج عن ابویہ لم یحجا اجزاء عنہا وبشرت ارواحھما فی السماء وکتب عند اﷲ برا ۔
جس کے ماں باپ بے حج کئے مرگئے ہوں یہ ان کی طرف سے کرے وہ ان دونوں کا حج ہوجائے اور ان کی روحوں کو آسمان میں خوشخبری دی جائے اور یہ شخص اﷲ تعالی کے نزدیك ماں باپ کے ساتھ نیك سلوك کرنیوالا لکھا جائے۔
ظاہر ہے کہ حج ایك عبادت واحدہ ہے جس کا بعض کافی نہیں نہ وہ کل سے مغنی ہو بلکہ قابل اعتبار ہی نہیں جیسے فجرکی دو رکعتوں سے ایك رکعت یا صبح سے دوپہر تك کا روزہ تو یہ حج کہ ان دونوں کی طرف سے کافی ہو ضرور ہے کہ ہر ایك کی جانب سے پورا حج واقع ہو مگر فقھ میں مبین ومبرہن ہولیا کہ یہ اجزاء بمعنی اسقاط فرض نہیں تولاجرم یہی معنی مقصود کہ دونوں کو کامل حج کاثواب ملے۔ محدث جلیل امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی اس حدیث کی تفسیر فرماتے ہیں :
لااعلم احدا قال بظاھر من الاجزاء عنھا بحج واحدہ وھو محمول علی وقوعہ الاصل فرضا وللفرغ نقلا اھ نقلہ فی التیسیر مع التقریر والحمد اﷲ رب العلمین ھذا واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جہاں تك مجھے علم ہے کوئی ا س کے ظاہر کا قائل نہیں یعنی یہ کہ وہ ایك ہی حج دونوں کی طرف سے کافی ہوجائیگا۔ وہ اس پر محمول ہے کہ اصل کے لئے فرض اداہوگا اورفرع کے لیے نفل ہوگا اھ۔ اسے تیسیر میں نقل کیا اور برقرار رکھا۔ اور ساری خوبیاں اﷲ کے لئے جو سارے جہانوں کے پروردگار ہے۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے اور اس رب بزرگ کا علم سب سے زیادہ کامل اور محکم ہے۔ (ت)
مسئلہ تا : از شہر کہنہ محلہ کوٹ مرسلہ محمود علی صاحب بنگالی ۲ صفر المظفر ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین وفضلائے شریعت امین ان مسئلوں میں :
۱ اول یہ کسی شخص نے ایك کلام مجید تلاوت کر کے ختم کیا ور اس کا ثواب پندرہ شخصوں کی ارواح کو ﷲ بخشا ان روحوں میں تقسیم ہوجائے گا یعنی فی روح دوپارے پہنچے گا یا فی روح کو پورے کلام مجید کا ثواب پہنچے گا
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث من حج عن ابیہ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض سعودیہ ٢ / ٤١٣
دوسرے یہ کہ ثواب کس طرح کہہ کر پہنچائے
تیسرے یہ کہ حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی آلہ واصحابہ واہل بیتہ وسلم کو ثواب پہنچائے تو اس کی شمول میں اور ارواح بھی شامل کرسکتا ہے یا نہیں اور پچھلے اولیاء اور انبیاء کا نام بھی لیا جائے یا نہیں
چوتھے یہ کہ دنیا میں کیا فائدہ او رعقبی میں کیا بدل حاصل ہوگا بینو توجروا
الجواب :
اﷲ عزوجل کے فضل سے امید ہے کہ ہر شخص کو پورے کلام مجید کا ثواب پہنچے گا۔ ردالمحتار میں ہے :
سئل ابن حجرمکی عمالو قرأ لاھل المقبرۃ الفاتحۃ ھل یقسم الثواب بینھم اویصل لکل منھم مثل ثواب ذلك کاملا فاجاب بانہ افتی جمع بالثانی وھو اللائق بسعۃ الفضل ۔
امام ابن حجر مکی سے سوال ہوا : اگر قبرستان والوں کے لیے فاتحہ پڑھی تو ثواب ان کے درمیان تقسیم ہوگا یا ہر ایك کو اسی کے مثل پورا پوراثواب ملے گا۔ انھوں نے جواب دیا کہ ایك جماعت علماء نے دوسری صورت پر فتوی دیا ہے اور وہی فضل الہی کی وسعت کے لائق ہے ۔ (ت)
ا س مسئلہ کی پوری تحقیق فتاوی فقیر میں ہے۔ نتیجہ ملنا اﷲ سبحنہ وتعالی کے اختیار میں ہے مسلمانوں کو نفع رسانی سے اﷲ عزوجل کی رضا و رحمت ملتی ہے او راس کی رحمت دونوں جہان کا کام بنادیتی ہے۔ آدمی کو اﷲ کے کلام میں اﷲ کی نیت چاہئے۔ دنیا اس سے مقصود رکھنا حماقت ہے۔ دعا کرے کہ الہی! یہ جو میں نے پڑھا اس کا ثواب فلاں شخص یا فلاں فلاں اشخاص کو پہنچا اور افضل یہ ہے کہ تمام مسلمین ومسلمات کو پہنچائے۔ مسلك متقسط میں ہے :
یقرأ ماتیسرلہ من الفاتحہ والاخلاص سبعا اوثلثا ثم یقول اللھم اوصل ثواب ماقرأ الی فلان او الیھم ۔
جو میسر آئے پڑھے سورہ فاتحہ سورہ اخلاص سات بار یا تین بار۔ پھر کہے : اے اللہ! ہم نے جو پڑھا ا س کا ثواب فلاں کو یاان سب کو پہنچا۔ (ت)
المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط مع ارشاد الساری فصل یستحب زیارۃ اہل المعلی دارالکتاب العربیہ بیروت ص٣٣٤
الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولا ینقص من اجرہ شیئ ۔
جو کوئی نفل صدقہ کرے اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ تمام مومنین ومومنات کی نیت کرے اس لیے کہ وہ ان سب کو ملے گا اور اس کے اجر سے کچھ نہ گھٹے گا ۔ (ت)
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے طفیل میں تمام انبیاء واولیاء ومومنین ومومنات جو گزرگئے اور جو موجود ہیں اور جو قیامت تك آنے والے ہیں سب کو شامل کرسکتا ہے اور یہی افضل ہے۔ صحیحین میں ہے :
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ضحی بکبشین املحین احدھما عن نفسہ والاخر عن امتہ ۔ وزادا بن ماجۃ ذبح احدھما عن امتہ لمن شھد ﷲ بالتوحید وشھد لہ بالبلاغ وذبح الاخر عن محمد وال محمد ولاحمد وغیرہ عن ابی ھریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قولہ عند التضحیۃ اللھم لك ومنك عن محمد وامتہ ۔
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دو مینڈھوں کی جن کے رنگ سفیدی سیاہی ملے ہوئے تھے قربانی کی ایك کی اپنی طرف سے دوسرے کی اپنی امت کی طرف سے ابن ماجہ میں یہ اضافہ ہے : ایك اپنی امت کی طرف سے قربان کیا ہر اس شخص کی طرف سے جس نے کلمہ طیبہ کی شہادت کی اور حضور اکرم کے لیے تبلیغ رسالت کی گواہی دی ور دوسرا حضرت محمد اور آل محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے نام سے ذبح کیا امام احمد وغیرہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہیں کہ قربانی کے وقت حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یوں کہا تھا : اے اللہ! تیرے لیے اورتجھ سے یہ محمد اور اس کی امت کی جانب سے ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
لافرق بین ان یکون المجعول لہ
اس میں کوئی فرق نہیں کہ جس دوسرے کے لیے اپنا ثواب
فتح القدیر بحوالہ الصحیحین عن الحج عن الغیر نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٦٥ ، مجمع الزوائد باب اضحیۃ رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم دارالکتاب بیروت ٤ / ٢٢
سنن ابن ماجہ ا بواب الاضاحی باب اضاحی رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۲
سنن ابن ماجہ ا بواب الاضاحی باب اضاحی رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳
ہدیہ کرے وہ وفات پاچکا ہو یا زندہ ہو۔ (ت)
جو کچھ اﷲ چاہے قال اﷲ تعالی :
و من یرد ثواب الدنیا نؤته منها-و من یرد ثواب الاخرة نؤته منها-و سنجزی الشكرین(۱۴۵) ۔
جو کوئی دنیا کا عوض چاہے ہم اسے اس میں سے دیں گے اور جو آخرت کا ثواب چاہے ہم اسے اس میں سے عطافرمائیں گے اورقریب ہے کہ ہم شکر کرنے والوں کو جزا بخشیں۔
اور فرماتا ہے عزوجل :
من كان یرید العاجلة عجلنا له فیها ما نشآء لمن نرید ثم جعلنا له جهنم-یصلىها مذموما مدحورا(۱۸) و من اراد الاخرة و سعى لها سعیها و هو مؤمن فاولىك كان سعیهم مشكورا(۱۹) ۔
جو دنیا چاہے ہم اس میں سے جتنا چاہیں یہاں دے دیں پھر اس کے لیے جہنم رکھیں اس میں بیٹھے مذمتیں ہوتا دھکے دیاجاتا اور جو آخرت چاہے اس کی سی کوشش کرے اورہو مسلمان تو ایسے ہی لوگوں کی کو شش ٹھکانے لگتی ہے۔
مسئلہ : از کارا ڈاکخانہ اونیرا ضلع گیا مرسلہ مولوی علی احمد صاحب شعبان ھ
زید کہتا ہے اگر دو چار شخصوں کو اجمالا ایصال ثواب کیا جائے توہر ایك کو پورا پورا پہنچے گا اور بکر تقسیم کا قائل ہے۔ زید اپنے ثبوت میں شامی کی یہ عبارت پیش کرتا ہے :
لکن سئل ابن حجر المکی عمالو قرأ لاھل المقبرۃ الفاتحہ ھل یقسم الثواب بینھم اویصل لکل منھم مثل ثواب ذلك کاملا فاجاب بانہ افتی جمع بالثانی وھو اللائق بسعۃ الفضل ۔
ابن حجر مکی سے سوال ہوا : اگر اہل قبرستان کے لیے فاتحہ پڑھے تو ثواب ان کے درمیان تقسیم ہوگا یا ان میں سے ہر ایك کو اس کا ثواب مثل کامل طور پر پہنچے گا۔ انھوں نے جواب دیا کہ ایك جماعت نے صورت دوم پر فتوی دیا ہے اور وسعت کرم کے لائق وہی ہے۔ (ت)
القرآن ٣ / ١٤٥
القرآن ١٧ / ١٨ و ١٩
ردالمحتار مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٦٠٥
والذی حررہ المتاخرون من الشافعیہ وصول القرأۃ للمیت اذاکانت بحضرتہ اودعی لہ عقبھا والدعاء عقبہا ارجی للقبول ومقتضاہ ان المراد انتفاع المیت بالقرأۃ لاحصول ثوابھالہ ولھذا اختاروا فی الدعاء اللھم اوصل مثل ثواب ماقرأتہ الی فلاں واماعندنا فالو اصل الیہ نفس الثواب ۔
متاخرین شافعیہ نے جو تنقیح کی ہے وہ یہ ہے کہ قرأت میت کو پہنچتی ہے جبکہ قرأت اس کے پاس ہو یا بعد قرأت اﷲ سے دعا کی جائے اس لیے کہ قرأت قرآن کے بعد دعامیں امید قبول زیادہ ہے ۔ اس کا مقتضاء یہ ہےکہ میت کو قراءت سے فائدہ ملتا ہے یہ نہیں کہ قرأت کا ثواب اسے حاصل ہوتا ہے اسی لیے دعامیں وہ یہ الفاظ اختیار کرتے ہیں کہ اے اللہ! میں نے جو پڑھا اس کے ثواب کا مثل فلاں کو پہنچا مگر ہمارے نزدیك خود ثواب اسے پہنچتا ہے۔ (ت)
غرض بموجب مذہب حنفیہ کہ وہ وصول ثواب مقرؤ کے قائل ہیں تقسیم لابدی ہے کیونکہ ہر عمل کا ثواب خواہ بتضاعیف ہی سہی عند اﷲ ایك امر معدود ہے جس کا وصول دوچار شخصوں کو بلاتقسیم کے عقلا ممتنع ہے۔ اور ابن حجر کا قول ثانی کو “ لائق بسعۃ الفضل “ فرمانا بھی اسی کو مقتضی ہے کہ قائلین وصول ثواب قرأت کے نزدیك تقسیم ضروری ہے اگراول صورت بھی وصول کامل ہو تو ثانی لائق بسعۃ الفضل فرمانا بالکل بے معنی ہے لعدم الفرق بینھما (کیونکہ دونوں میں فرق نہ ہوگا ۔ ت) اب علمائے کرام فرمائیں کہ حق بجانب کون شخص ہے زید یا بکر اور بموجب مذہب حنفیہ تقسیم ضروری ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
عبارت فتاوی ابن حجر مکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا مطلب بہت صاف ہے بکر نے بالکل تحویل کردیا۔ امام ابن حجرمکی سے ایك سوال ہے جس میں سائل دریافت کرتاہے کہ متعدد مسلمانوں کے لیے فاتحہ پڑھےتو ثواب ان پر تقسیم ہو گا یا ہرمیت کو کامل ثواب ملے گا مثل لفظ کہ شق ثانی میں سائل شافعی المذہب نے اپنے مذہب کی رعایت سے بڑھایا شق اول میں بھی ان کے طور پر ملحوظ ہے ولھذا ثوابھا نہ کہا بلکہ الثواب بلام عہد یعنی وہی
ثم اقول : وباﷲ التوفیق (میں پھر اﷲ تعالی کی مدد سے کہتاہوں ۔ ت) یہاں تحقیق امر ا ور ہے جو شبہ کو راسا ختم کردے۔ جب نظر عامہ اہل ظاہر پر شے واحد کا دو شخصوں کو بلاتقسیم وصول عقلا ممتنع ہے یعنی عرض واحد دومحل سے قائم نہیں ہوسکے (ورنہ اس تعبیر میں تو صریح منع ہے) تو واجب کہ حنفیہ کے نزدیك جب نفس ثواب قاری میت کو پہنچے قاری کے پاس نہ رہے ورنہ یہ بھی عرض واحد کا دو محل سے قیام ہوگا حالانکہ احادیث وحنفیہ وسائر علماء کرام خلاف پر تصریح فرماہیں محیط پھر تاتار خانیہ پھر ردالمحتار میں ہے :
الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المومنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولا ینقص من اجرہ شیئ ۔
صدقہ نفل کرنے والے کے لیے بہتر یہ ہے کہ تمام مومنین و مومنات کی نیت کرے کہ وہ سب کو پہنچے گا او راس ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا (ت)
تو جب وہی ثواب اس کے پاس بھی رہا اورد وسرے کو بھی پہنچا اور تقسیم نہ ہوا کہ لاینقص من اجرہ شیئ اس کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوا تقسیم ہوتا تو قطعا کم ہوتا توا گر دوسو یا لاکھ یا سب اولین وآخرین مومنین ومومنات کے وہی ثواب پورا پورا پہنچے اور تقسیم نہ ہو کیااستحالہ ہے جیسے دو ویسے کروڑہا کروڑ۔ امام جلال الملۃ والدین سیوطی
ان للروح شانا اخرفیکون فی الرفیق الاعلی وھی متصلۃ بالبدن بحیث اذاسلم المسلم علی صاحبہ ردعلیہ السلام وھی فی مکانھا ھناك وھذا جبریل علیہ السلام راہ النبی صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم ولہ ستمائۃ جناح منھا جناحان سدا الافق وکان ید نو من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حتی یضع رکبتیہ الی رکبتیہ ویدیہ علی فخذیہ وقلوب المخلصین تتسع للایمان بانہ من الممکن انہ کان ھذا الدنو وھو فی مستقرہ من السموت وھذا محمل تنزلہ تعالی الی سماء الدنیا ودنوہ عشیۃ عرفۃ ونحوہ فھو منزہ عن الحرکۃ والانتقال وانما یأتی الغلط ھھنا من قیاس الغائب علی الشاھدفیعتقد ان الروح من جنس مایعھد من الاجسام التی اذا شغلت مکانا لم یمکن ان تکون فی غیرہ وھذا غلط محض فثبت بھذا انہ لا منافاۃ بین کون الروح فی علیین او الجنۃ اوالسماء وان لھا بالبدن اتصالا بحیث تدرك وتسمع وتصلی وتقرء بھا وانما یستغرب ھذالکون الشاھد الدنیوی لیس فیہ مایشاھد بہ ھذا وامور البرزخ والاخرۃ علی نمط غیر المالوف فی الدنیا اھ مختصرا۔
روح کی شان ہی کچھ اورہے وہ ملاء اعلی میں رہ کر بھی بدن سے متصل ہوتی ہے کہ جب مسلمان صاحب قبر کو سلام کرتاہے تو وہ اسے جواب دیتاہے جبکہ روح وہاں اپنے مقام میں ہے___ یہ حضرت جبریل علیہ الصلوۃ والسلام ہیں جنھیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس حالت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں جن میں سے دو پر پورے افق پر چھائے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود وہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قریب آتے ہیں یہاں تك کہ اپنے زانو حضور کے زانوؤں کے متصل اور اپنے ہاتھ حضور کی رانوں پر رکھ دیتے مخلصین کے قلوب اس بات پر ایمان لانے کی وسعت رکھتے ہیں کہ یہ امر ممکن ہے کہ ان کا حضور سے یہ قرب عین اسی حالت میں ہو جب وہ آسمانوں کے اندر اپنے مستقر میں موجود ہوں۔ یہی حال اس کا بھی ہے جو مروی ہے کہ رب تعالی آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور قریب ہوتا ہے عرفہ کی شام کو اور اس کے مثل کیونکہ وہ تو حرکت وانتقال سے منزہ ہے۔ یہاں غلطی غائب کو شاہد پر قیاس کرنے سے ہوتی ہے۔ آدمی یہ اعتقاد کرتاہے کہ روح بھی معہود اجسام کی جنس سے ہے کہ جب ایك مقام میں ہو تو دوسرے مقام میں ہونا ممکن نہیں یہ محض غلط ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اس میں کوئی منافات نہیں کہ روح علیین ا ور جنت اور آسمان میں ہو اور بدن سے بھی اس کا ایسا اتصال ہو کہ ادراک سماعت نماز قرأت سارے کام کرتی ہے۔
یہ بات صرف اس لیے عجیب معلوم ہوتی ہے کہ دنیاوی محسوسات میں ایسی کوئی چیز نہیں پاتے جو اس سے ملتی جلتی ہو مگر برزخ اور آخرت کے معاملات تو دنیا کے طرز مالوف سے جداگانہ شان رکھتے ہیں اھ مختصرا (ت)
شیخ مفرح رحمۃ اللہ تعالی علیہ مصر کے اہل دل حضرات سے ہیں بزرگ رتبہ اور بڑی شان رکھتے تھے ان کے ایك مرید نے عرفہ کے دن انھیں عرفات میں دیکھا اور دوسرے مرید نے اسی دن انھیں اپنے گھر میں دیکھا اور دن بھر ان کے ساتھ رہا جب دونوں مریدوں کی ملاقات ہوئی اور ایك نے جو دیکھا تھا آپس میں بیان کیا توا ن کے درمیان اختلاف ہوا۔ ایك نے کہا : حضرت عرفہ کے دن عرفات میں تھے اور اس کی صداقت پر طلاق کی قسم کھائی۔ دوسرے نے کہا : اس روز دن بھر اپنے گھر میں تھے اس نے بھی طلاق کی قسم کھائی پھر جھگڑتے ہوئے شیخ مفرح کے پاس آئے۔ شیخ نے کہا : دونوں سچ کہتے ہیں کسی کی بیوی کو طلاق نہیں ہوئی اکابر میں سے ایك کا بیان ہے کہ میں نے شیخ مفرح سے پوچھا : ہر ایك کی صداقت دوسرے کی قسم ٹوٹنے کی مقتضی ہے پھر کسی کی قسم کیسے نہیں ٹوٹی___ جس مجلس میں میں نے سوال کیا علماء کی ایك جماعت موجود تھی شیخ نے سب کوا شارہ کیا کہ اس مسئلہ میں کلام کریں ہر شخص نے کچھ نہ کچھ بیان کیا مگر کسی نے شافی وکافی جواب نہ دیا۔ اسی اثناء میں جواب مجھ پر منکشف ہوگیا او رشیخ نے میری طرف اشارہ فرمایا کہ تم اس کا جواب دو___ میں نے عرض کیا کہ جب ولی کی ولایت اس حد تك پہنچ جاتی ہے کہ اس
کی روحانیت کسی صورت سے مصور ہوسکے تو ممکن ہوتا ہے کہ ایك ہی وقت کے اندر مختلف جہتوں میں اپنے کو متعدد صورتوں میں جیسے چاہے دکھائے۔ تو جس شخص نے حضرت کوان صورتوں میں سے کسی ایك صورت میں عرفات میں دیکھا صحیح دیکھا اور اسی وقت دوسرے نے کسی اور صورت میں اپنے گھر کے اندر تشریف فرما دیکھا اس نے بھی سچ دیکھا اور کسی کی قسم نہ ٹوٹے گی شیخ مفرح نے فرمایا : صحیح جواب یہ ہے کہ جوتم نے دیا ____ خدا ان سے راضی ہوا و رہمیں ان سے نفع دے (ت)
حضرت میر سید عبدالواحد قدس سرہ الماجد سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں :
مخدوم شیخ ابوالفتح جونپوری راقدس اﷲ تعالی روحہ درماہ ربیع الاول بجہت عرس رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ازدہ جااستدعا آمدہ کہ بعد از نماز پیشین حاضر شوند ہر دہ استدعا راقبول کردند۔ حاضران پرسیدند اے مخد وم ہر دہ استدعاراقبول فرمود وہرجا بعدا ز نماز پیشین حاضرباید شد چگونہ میسر خواہد آمد۔ فرمود کشن کہ کافر بود چند صد جاحاضرمی شد اگر ابوالفتح دہ جاحاضر شود چہ عجب بعد از نماز پیشین از ہردہ جاچوڈول رسید مخدوم ہربارے از حجرہ بیرون می آمد برچوڈول سوار میشد و می رفت ونیز ودرحجرہ حاضر می ماند۔ خردمند ا تو ایں رابرتمثیل حمل مکن یعنی مپندار کہ تمثیلہائے شیخ بچندیں جاہا حاضر شدہ است۔ لاواﷲ بلکہ عین ذات شیخ بہر جا حاضر شدہ بود ایں خوددریك شہرویك مقام واقع شد۔ وذات ایں موحد خود دراقصائے عالم
ماہ ربیع الاول میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے عرس پاك کی وجہ سے مخدوم شیخ ابوالفتح جونپوری قدس سرہ کی دس جگہ سے دعوت آئی کہ بعد نماز ظہر تشریف لائیں۔ حضرت نے دسوں دعوتیں قبول کیں۔ حاضرین نے پوچھا : حضور نے دسوں دعوتیں قبول فرمائی ہیں اور ہرجگہ نماز ظہر کے بعد پہنچنا ہے یہ کیسے میسر ہوگا فرمایا : کشن جو کافر تھا سیکڑوں جگہ حاضر ہوتا تھا اگر ابوالفتح دس جگہ حاضر ہوتو کیا عجب ہے نماز ظہر کے بعد دسوں جگہ سے پالکی پہنچی مخدوم ہربار حجرہ سے آتے سوار ہوجاتے تشریف لے جاتے اور حجرہ میں بھی موجود رہتے___ اے عقل مند! اسے تمثیل پر محمول نہ کرنا یعنی یہ نہ سمجھنا کہ شیخ کی مثالیں اتنی جگہوں میں حاضر ہوئیں ۔ یہ تو ایك شہر اور ایك مقام میں واقع ہوا خود اس موحد کی ذات عالم
کے سروں میں موجود ہے خواہ علویات ہوں خواہ سفلیات۔ (ت)
جس کا دل ان حقائق کی وسعت نہ رکھے اور امور برزخ وآخرت کو اپنے مشہودات دنیا ہی پر قیاس کرے اس پر یہ ماننا لازم ہو گا کہ حنفیہ کے نزدیك بھی میت کو مثل قاری ثواب پہنچتا ہے کہ قاری کا ثواب تو ا س کے پاس سے نہیں جاتا اور فرق مذہبین اتنا رہے گا کہ حنفیہ کے نزدیك وہ ثواب اثر ہبہ قاری ہے اور شافعیہ کے نزدیك اجابت دعائے قاری بہر حال وہ استبعاد جس کی بنا پر تقسیم ثواب لازم سمجھے تھے باطل ہوگیا۔ لاکھوں ہو تو لاکھوں کوا تنا ہی ثواب پہنچے گا اور قاری کا ثواب کم نہ ہوگا بلکہ بعدد اموات ترقی کرے گا۔ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من قرأ الاخلاص احدی عشر مرۃ ثم وھب اجرھا للاموات اعطی من الاجر بعدد الاموات ۔ رواہ الطبرانی والدارقطنی۔
جو سورہ اخلاص گیارہ بار پڑھ کر اموات مسلمین کو اس کاثواب بخشے بعدد اموات اجر پائے۔ (اسے طبرانی اور دارقطنی نے روایت کیا ۔ ت)
باقی اصل مسئلہ کی تحقیق اور ہر ایك کو پورا ثواب پہنچنے کی توثیق ہمارے فتوی میں ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بندر کراچی محلہ جمعدار گل محمد مکرانی مرسلہ مولوی عبدالرحیم مکرانی شعبان ھ
چہ می فرمایند علمائے کرام ومفتیان عظام رحمکم ربکم اندرین مسئلہ کہ اگر گروہ صبیان قرآن خواندہ یا دیگر اعمال حسنہ کردہ وثواب بموتی بخشد شرعامی رسد یا نہ بینوا الجواب بسند الکتاب وتوجروا عند اﷲ بحسن المآب صاحبا حسبۃ ﷲ تعالی جواب این مسئلہ بعبارت شافی و دلائل کافی از کتب فقہ حنفیہ و حدیث شریفہ مع حوالہ کتب فقہ نوشتہ وبمواہیر علمائے اعلام آنجائے ثبت نمودہ بفرستند کہ عند اﷲ ماجور وعندالناس مشکور خواہند شد چراکہ درباب این علمائے کرام ومفتیان عظام آپ پر خدا کی رحمت ہو اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہے کہ اگر بچوں کی جماعت قرآن پڑھ کر یادوسرے نیك اعمال کرکے اس کا ثواب مردوں کو بخشے توشرعا پہنچتا ہے یا نہیں کتاب کی سند سے واضح جواب دیں اور خدا کے یہاں حسن انجام کا ثواب لیں۔ حضور! خالصا ﷲ اس سوال کا جواب شافی عبارت اورکتب فقہ حنفی وحدیث شریف کے دلائل سے کتب فقہ کے حوالوں کے ساتھ تحریر فرما کر اور
کنز العمال بحوالہ رافعی عن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث ٤٢٥٩٦ موسسۃ الرسالہ بیروت ١٥ / ٦٥٥ ، فتح القدیر عن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ باب الحج عن الغیر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٦٥ ، ردالمحتار باب الحج عن الغیر مصطفی البابی مصر ٢ / ٢٥٧
وہاں کے علمائے اعلام کی مہریں ثبت فرماکر ارسال فرمائیں خدا کے یہاں اجر پائیں گے اور لوگ شکر گزار ہوں گے ا س مسئلہ میں بندر کراچی کے علماء میں مباحثہ اور اختلاف واقع ہوا۔ آخر طرفین نے یہ طے کیا کہ بریلی کے علمائے کرام جو جواب دیں وہ جانبین تسلیم کریں۔ (ت)
الجواب :
اللھم لك الحمد صل علی المصطفی والہ العمد ہر قربتے کہ صبی اہل آنست (نہ ہمچو اعتاق و صدقہ وہبہ مال کہ اصلا از وصور ت نہ بندد) چو از صبی عاقل اداشود برقول جمہو ر ومذہب صحیح ومنصور ثوابش ہم ازان ا وباشد علامہ استروشنی درجامع صغار فرماید حسنات الصبی قبل ان یجری علیہ القلم للصبی لا لا بویہ لقولہ تعالی و ان لیس للانسان الا ما سعى(۳۹) ھذا قول عامۃ مشائخنا ۔ علامہ زین العابدین ابن نجیم مصری دراحکام الصیبان از کتاب الاشباہ فرماید :
تصح عباداتہ وان لم تجب علیہ واختلفوا فی ثوابھا والمعتمد انہ لہ وللمعلم ثواب التعلیم وکذا جمیع حسناتہ ۔
باز علمائے مااصولا وفروعا تصریحات جلیہ دارند کہ
اے اللہ! تیرے ہی لیے حمد ہے حضرت محمد مصطفی اور ان کی آل معتمد پر درود نازل فرما۔ ہر وہ قربت کہ بچہ جس کا اہل ہے (غلام آزاد کرنا صدقہ کرنا مال کا ہبہ کرنا اور اس طرح کی قربتیں نہیں کہ یہ بچے سے واقع ہو نہیں سکتیں) جب عاقل بچے سے وہ ادا ہوگی توقول جمہور اور مذہب صحیح و منصور یہ ہے کہ اس کا ثواب بھی بچے ہی کے لیے ہوگا علامہ استروشنی جامع صغار میں فرماتے ہیں : بچے کی نیکیاں جواس پر قلم جاری ہونے سے قبل ہوں وہ بچے ہی کے لیے ہیں اس کے والدین کے لیے نہیں کیونکہ ارشاد باری ہے : انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کوشش کی___ یہ ہمارے عامہ مشائخ کا قول ہے ۔ (ت)علامہ زین العابدین ابن نجیم مصری کتاب الاشباہ کے احکام الصیبان میں فرماتے ہیں : بچے کی عبادتیں صحیح ہیں اگر چہ اس پر واجب نہیں ان کے ثواب کے بارے میں اختلاف ہے۔ معتمد یہ ہے کہ ثواب بچے ہی کے لیے ہوگا ا ور معلم کو سکھا نے کا ثواب ملے گا۔ اسی طرح اس کی تمام نیکیوں کا حال ہے۔ (ت)پھر کتب اصول وفروع میں ہمارے علماء کی روشن تصریحات
الاشباہ والنظائر احکام الصیبان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٤٢
فی ردالمحتار فی البحر بحثا ان اطلاقھم شامل للفریضۃ اھ وفیہ' عنہ ان الظاھر انہ لافرق بین ان ینوی بہ عند الفعل للغیر اوبفعلہ لنفسہ ثم بعد ذلك یجعل ثوابہ لغیرہ لاطلاق کلامھم اھ
فیہ قلت وقول علمائنا لہ ان جعل ثواب عملہ لغیرہ یدخل فیہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فانہ احق بذلك حیث انقذنا من الضلالۃ اھ۔
موجود ہیں کہ انسان اپنے اعمال کا ثواب دوسرے کے لیے کرسکتاہے۔ جیسا کہ ہدایہ شروح ہدایہ ملتقی درمختار خزانۃ المفتین ہندیہ وغیرہا کتب مذہب میں اس کی صراحت ہے (ت) علمائے کرام نے یہ کلام اسی طرح مرسل ومطلق رکھا ہے۔ کسی تخصیص وتقیید کا اشارہ ونشان نہ دیا___ تو جس طرح اعمال کو مطلق ذکر کرنے سے علماء نے یہ استدلال کیا کہ یہ حکم فرائض کوبھی شامل ہے اوراس عمل کو بھی جسے ابتداء میں اپنے لیے دوسرے کی نیت کے بغیر کیا ہو ___ اور جس طرح “ غیر “ کے عموم سے یہ استدلال کیا کہ اس میں حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والثناء بھی داخل ہیں اسی طرح لفظ “ انسان “ مطلق مذکور ہونااس بات کی کافی دلیل ہے کہ اس میں بچے بھی داخل ہیں جب تك کہ کوئی صحیح برہان ان کے استثناء پر قائم نہ ہوجائے مگر ایسی برہان کہاں ا ور کون (ت)ردالمحتار میں ہے : بحر میں بطور بحث ہے کہ علماء کا اعمال کو مطلق ذکر کرنا فرض کو بھی شامل ہے اھ اور اسی میں اسی بحر کے حوالے سے ہے : ظاہر یہ ہے کہ میرے نزدیك اس میں کوئی فرق نہیں کہ عمل کے وقت دوسرے کے لیے کرنے کی نیت کی ہو یا اپنے لیے کرنے کی نیت کی ہو پھر ا س کا ثواب دوسرے کے لیے کردے۔ اس لیے کہ کلام علماء میں اطلاق ہے ایسی کوئی قید نہیں اھ اسی میں ہے : میں نے کہا : ہمارے علما کا قول ہے کہ “ وہ اپنے عمل کا
ردالمحتار مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٦٠٥
ردالمحتار مطلب فی اہداء ثواب القرأۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٦٠٦ ۔ ٦٠٥
اقول : وباﷲ التوفیق صبی عاقل ازہر گونہ تبرع محجورنیست۔ منشائے حجر ہمیں ضررست ۔ ولو فی الحال کما فی القرض ولوبالا حتمال کمافی البیع آنجا کہ ہیچ ضرر نیست در حجر نظر نیست بنلکہ خلاف نظر وعین اضرار ست کہ بمشابہ الحاق اوبجماد واحجار ست۔ آخر نہ بینی کہ صبی بالاجماع ازاہل ابتداء بسلام است بلکہ مودبش را با ید کہ اگرخود گرنبا شد تعلمیش نماید۔ حالانکہ این نیز از باب تبرع است تاآنکہ درحدیث او را صدقہ نامیدہ اند ابو داؤد عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ فی حدیث قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تسلیمہ علی من لقی صدقۃ ۔ ہمچنان بابرادر خود بکشادہ روی سخن فرمودن وباظہار بشاشت دندان سپیدہ نمودن البخاری فی الادب المفرد والترمذی وابن حبان فی صحیحھما عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تبسمك فی وجہ اخیك لك صدقۃ ۔
ثواب “ دوسرے “ (اپنے غیر) کے لیے کرسکتا ہے “ ___ تو اس میں ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بھی داخل ہیں ا س لیے کہ وہ ا س کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ حضور نے ہی ہمیں گمراہی سے نجات دی اھ (ت)زیادہ سے زیادہ جو شبہ یہاں دل میں گزرسکتا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے علمائے حنفیہ کے نزدیك ____ ان پر اﷲ کی پوشیدہ عنایتیں عام ہوں ___ یہ عمل ثواب کا ہبہ اور ہدیہ ہے اور بچہ تبرع (اپنی طرف سے بھلائی اور احسان کے طور پر کچھ کرنے) کا اہل نہیں ہے ۔ (ت)
اقول : وباﷲ التوفیق (میں کہتا ہوں ا ور توفیق خداہی سے ہے۔ ت) عاقل بچہ ہر طرح کے تصرف سے محجور نہیں (حجر کا معنی تصرف سے روك دینا) حجر کا منشا یہی ضرر ہے اگر چہ فی الحال نقصان ہو جیسے قرض دینے میں یااس کا احتمال ہو جیسے بیع میں ___ جہاں کوئی ضرر نہیں وہاں حجر میں نظر اور بچہ کی رعایت نہیں بلکہ یہ خلاف نظر اور بعینہ ضرر رسانی ہے کہ گویا اسے جماد اور پتھر سے لاحق کردینا ہے۔ دیکھئے کہ بچہ بالاجماع اس کا اہل ہے کہ سلام میں پہل کرے بلکہ ا س کے مربی کو چاہئے کہ اگر خود اس کا عادی نہ ہو تو اسے سکھا ئے حالانکہ یہ بھی تبرع ہی کے باب سے ہے یہاں تك کہ حدیث میں اسے صدقہ کانام دیاگیا ہے۔ ابوداؤد حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے ایك حدیث میں راوی ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : “ جو ملے اس سے سلام کرنا صدقہ ہے۔ “ اسی طرح اپنے بھائی سے کشادہ روئی سے
جامع الترمذی ا بواب البر والصلۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ١٧
ہمچنان کر راسخن شنواند ان الخطیب فی جامعہ عن سہل بن سعد رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اسماع الاصم صدقۃ ۔ ہمچناں کہ باکسیکہ جماعت نیافت اقتداء نمودن احمد وابوداؤد وابن حبان والحاکم عن ابی سعید الخدری رضی ا ﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الارجل یتصدق علی ھذا فیصلی معہ ۔
بات کرنا اور اظہار بشاشت کے ساتھ مسکرانا___ امام بخاری نے ادب المفرد میں اور ترمذی وابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں ان ہی حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : “ اپنے بھائی کے سامنے تیرا تبسم کرنا تیرے لیے صدقہ ہے۔ (ت)اسی طرح راستہ بھول جانے والے کو راہ کے نشانات بتاکر راہنمائی کردینا___ امام احمد اور بخاری و مسلم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : “ راستہ بتانا صدقہ ہے “ ____ اور حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث مذکور میں ہے : “ جہاں کوئی راہ بھٹك جائے اس کی رہنمائی کردینا صدقہ ہے۔ “ (ت)اسی طرح بہرے شخص کو بات سنوانا ___ خطیب اپنی جامع میں سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : “ بہرے کو سنانا صدقہ ہے۔ “ اسی طرح جس شخص نے جماعت نہ پائی اس کی اقتداء کرنا ____ امام احمد ابوداؤد ابن حبان اور حاکم حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : “ ارے کوئی ایسا شخص نہیں جو اس پر صدقہ کردے کہ اس کے ساتھ نماز اداکرے۔ “ (ت)
ہمچناں انواع برکثیر ووافراست ودرآنہائے وبرروئے صبیان مسلمین فراز نیست تازیانے یااندیشہ اونباشد ازیں ہمہ بگز روبالا تر شنو ترامیر سد کہ پسر خود پسران ماذون ہر کرا خواہی کہ بے حاجت با ذن کسے و محجور را از ولی پر سیدہ در خصومات خویش وکیل کنی یامتاع خودت فروختن یاکالائے برائےتوخریدن فرمائی بےا نکہ نام اجر ے درمیان باشد ایں خود خبر تبرع چیست۔ اماروا داشتند کہ زیانے نہ پنداشتند بلکہ تصحیح عبارات او ر اسود نگاشتند درجامع الصغار است فی وکالۃ الذخیرۃ اذا وکل صبیا یبیع عبدہ او وکلہ بان یشتری لہ شیئا فباع واشتری جاز اذاکان یعقل ذلك فلا عھدۃ علی الصبی وانما العھدۃ علی الامر وکذلك لو وکل صبیا بالخصومۃ جاز بعد ان یکون الصبی بحیث یعقل مایقول ومایقال وھذہ المسئلۃ فی الحاصل علی وجہین اما ان یکون صبیہ اوصبی غیرہ فان وکل صبیہ جاز ولایستامر احد ا وان وکل صبی غیرہ فان کان ماذونا لہ فی التجارۃ لایستامرولیہ فان اذن ولیہ جاز لہ ان یوکلہ وھذا لان استعمال صبی الغیر بغیر اذن الولی لایجوز وباذنہ یجوز قالو اوھذہ المسئلۃ روایۃ ان للاب ان یعیرہ ولدہ وقد اتفق علیہ المشائخ وھل لہ ان یعیر مال ولدہ بعض المتاخرین
اس طرح کی بہت سی اور کثیر نیکیاں ہیں ____ اور ان کا دروازہ مسلمان بچوں پر بند نہیں جب تك کہ کوئی نقصان یا اندیشہ نقصان نہ ہو۔ ان سب سے آگے بڑھئے اور بلند تر سنئے ____ انسان اپنے لڑکے کو یا ماذون لڑکوں میں سے جس کو چاہے ____ بغیر اس کے کہ کسی کے اذن کی حاجت ہو ___ اور محجور ہو تو اس کے ولی سے پوچھ کر اپنے مقدمات میں وکیل بناسکتا ہے یا اسے اپنا سامان بیچنے یااپنے لیے کوئی سامان خریدنے کاحکم دے سکتا ہے بغیر اس کے کہ درمیان
جامع الترمذی ابواب البرو الصلۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ١٧
جامع للخطیب مروی از مسند ابی سعید الخدری دارالفکر بیروت ٣ / ٦٤
سنن ابی داؤد باب فی الجمع فی المسجد مرتین آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٨٥ ، مسند احمد بن حنبل مروی ازابوامامہ دارالفکر بیروت ٥ / ٢٥٤
ہمچناں درفصل سی وچہارم از جامع الفصولین در احکام الصبیان ست والعبارۃ الاولی اتم فائدۃ واعظم عائدۃ
پس بوضوع پیوست کہ صبی اگر چہ محجور است ازتبرع بے ضرر محجور نیست ھذہ کبری ولنبین صغری چوں بتوفیقہ تعالی برہنمائی فقہ وحدیث درمانحن فیہ نظر مے کنیم ہبہ ثواب واہدائے اوبمسلمانے رابحمد اﷲ تعالی نفع بے ضرر مے یابیم این نہ ہمچور ہبہ مال ست کہ چو بکسے
سے اجازت ولی کے بغیر کا م لینا جائز نہیں ا ور اس کے اذن سے ہوتو جائز ہے___ علماء نے فرمایا : اس مسئلہ سے متعلق ایك روایت ہے وہ یہ کہ باپ اپنے بچے کو عاریۃ دے سکتا ہے اس پر مشائخ کا اتفاق ہے۔ اپنے بچے کے مال کو عاریۃ دے سکتا ہے یا نہیں بعض متاخرین نے کہا دے سکتاہے ۔ اوراکثر اس پرہیں کہ باپ کواس کا اختیار نہیں ____ پھر جو بچہ محجور ہے وہ اگر دوسرے کے لیے خرید وفروخت کرے تو امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اسے جائز رکھا ہے اور اپنے لیے خرید وفروخت کرے توا س کو جائز نہ قرار دیا اس لیے کہ اپنے لیے اس کی جو خرید وفروخت ہوگی اس میں نفع ونقصان دونوں کا احتمال ہے اور دوسرے کے لیے جب اس طور پر خرید وفروخت ہوگی کہ ذمہ بچے پر نہ آئے تواس میں اس کے لیے محض نفع ہے کیونکہ اس کی تعبیر اور گفتگو صحیح قرار پا جاتی ہے ___اور عاقل بچہ ایسے تصرفات کا اہل ہے جن میں صرف نفع ہو جیسے ہبہ قبول کرنا وغیرہ ____ اورذمہ بچہ پر نہ آئےگا اس لیے اس میں بچہ کا ضرر ہے الخ (ت)اس طرح جامع الفصولین کی فصل میں بچوں کے احکام کے بیان میں ہے ____ مگر عبارت بالازیادہ مفید اور عظیم نفع کی حامل ہے۔
اس کی تفصیل سے واضح ہوگیا کہ بچہ اگر چہ محجور ہو مگر بے ضرر تبرع سے محجور نہیں ہے یہ کبری ہو ا اب ہم صغری بیان کرتے ہیں بتوفیق الہی جب ہم فقہ وحدیث کی رہنمائی میں زیربحث مسئلہ میں غور کرتے ہیں توکسی مسلمان کو ثواب ہبہ وہدیہ کرنے کو بحمدہ تعالی ہم نفع بے ضرر پاتے ہیں____
جامع الفصولین فصل ٣٤ احکام الصبیان مطبعۃ الازہریہ مصر ٢ / ٠٨ ۔ ٢٠٧
درحدیث () : است کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرمود من حج عن میت فللذی حج مثل اجرہ ۔ ہر کہ از جانب مردہ حج کند مراد ر ا مثل ثواب آں میت باشد رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
حدیث () : کہ حضور اقدس صلوات اﷲ تعالی و سلامہ علیہ فرمود اذا تصدق احدکم بصدق تطوعا فلیجعلھا من ابویہ فیکون لھما اجرھا فلا ینقص من اجرہ شیئ ۔
چوں کسے از شما صدقہ نافلہ کردن خواہد باید کہ اورا از مادر وپدر خود گرداند کہ ایشاں راثواب اوباشد واز ثواب ایں کس چیز نکاہد رواہ الطبرانی فی الاوسط وابن عساکر عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔
حدیث () : روی نحوہ الدیلمی فی مسند الفردوس عن معاویۃ بن حیدۃ القشیری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
یہ ہبہ مال کی طرح نہیں کہ مال جب کسی کو دیا تو اپنے پاس سے گیا۔ اور جب تك اپنے پاس ہے دوسرے کے پاس پہنچ جائیگا تو اپنے پاس نہ رہے گا۔ یہاں وسعت فضل الہی اور کمال ربانی سے ہدیہ کرنے والے کا ثواب خود اس کے پاس بھی رہتاہے اور موہوب لہ کے پا س بھی پہنچتا ہے بلکہ اس عمل کی وجہ سے خود اس کا ثواب د س گنا ہوجاتاہے تو یہ ایسا نفع ہے جس میں کوئی کمی نہیں اور ایسی تجارت ہے جس میں ہر گز کوئی خسارہ نہیں۔
حدیث : حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جو کسی وفات یافتہ کی جانب سے حج کرے اس کے لیے بھی ثواب میت کے مثل ثواب ہو اسے طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط کتاب الزکوٰۃ باب الصدقہ علی المیّت دارالکتاب بیروت ٣ / ١٣٨
حدیث : اسی کے ہم معنی دیلمی نے مسند الفردوس میں معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی۔
حدیث () : کہ فرمود صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم من مرعلی المقابر وقرأ قل ھواﷲ احد احدی عشرۃ مرۃ ثم وھب اجرھا للاموات اعطی من الاجر بعدد الاموات ہر کہ بگورستان گزرد وسورہ اخلاص یازدہ بارخواندہ بمردگان بخشد بشمار مردگان ثوابش دادہ شود۔ رواہ الدار قطنی والطبرانی والدیلمی والسلفی عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجھہ۔
حدیث (۵) : کہ فرمود صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اذا حج الرجل عن والدیہ تقبل منہ ومنھما الحدیث چوں کسے ازوالدین خودش حج کند ہم ازقبول کردہ شود وہم ایشاں رواہ الدارقطنی عن زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ ۔
پیداست کہ معنی قبول ہمیں عطائے ثواب ست کما نص علیہ العلماء ولذا قال فی التیسیر ای اثابہ واثابھما علیہ فیکتب لہ ثواب حجۃ مستقلۃ ولھما کذالك ۔
حدیث (۶) : کہ فرمود صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم من حج عن ابیہ اوعن امہ فقد قضی عنہ حدیث ۴ : حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جو قبرستان سے گزرے اور سورہ اخلاص گیارہ بار پڑھ کراس کا ثواب مردوں کو بخش دے اسے مردوں کی تعداد کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ اسے دارقطنی ویلمی اور سلفی نے امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہ سے روایت کی ہے۔
حدیث ۵ : رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی اپنے والدین کی طر ف سے حج کرے تواس کی جانب سے بھی قبول کیا جائے اور ان کی جانب سے بھی ___ اسے دارقطنی نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ظاہر ہے کہ قبول کامعنی یہاں ثواب دینا ہے۔ جیسا کہ علماء نے اس کی تصریح فرمائی۔ اسی لیے تیسیر میں فرمایا : یعنی اس پر اسے بھی ثواب دے اور اس کے ماں باپ کو بھی ثواب دے توا س کے لیے بھی مستقل حج لکھے او ران کے لیے بھی ویسا ہی۔
حدیث ۶ : رسول انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جس نے اپنے باپ یا ماں کی طرف سے حج کیا تو
سنن الدارقطنی کتاب الحج نشر السنۃ ملتان ٢ / ٢٦٠
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ماقبل مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ١ / ۸۹
در ردالمحتار است الثواب لاینعدم کما علمت اھ ای اذا اھدی ثواب علمہ لغیرہ وصل الیہ ولم ینعدم من عندہ۔
وفیہ عن العلامۃ نوح افندی عن مناسك القاضی حج الانسان عن غیرہ افضل من حجہ عن نفسہ الخ
وفیہ عن التاتار خانیۃ عن المحیط الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المومنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولاینقص من اجرہ شیئ اھ قال وہو مذہب اھل السنۃ والجماعۃ الخ۔
بالجملہ اہدائے ثواب ہمچو روشن کردن چراغ از چراغ ست کہ ازیں چراغ چیزے نہ کاہد۔ وہ چراغ دیگر روشنائی یابد وشك نیست کہ صبی ازہمچو تبرع
بے شك اس کی جانب سے حج ادا کردیااور خود دس حج کی فضیلت پائی ___ اسے دارقطنی نے حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔
ردالمحتار میں ہے : ثواب معد وم نہیں ہوجاتا جیساکہ معلوم ہوا اھ___ یعنی جب اپنے عمل کا ثواب دوسرے کو ہدیہ کیا تو اس کے پاس پہنچ گیا اور خود ہدیہ کرنے والے کے پاس سے فنا نہ ہوا۔
اسی ردالمحتار میں علامہ نوح آفندی سے منقول ہے وہ مناسك قاضی سے ناقل ہیں : انسان کا دوسرے کی جانب سے حج کرنا خود اپنی طرف سے حج کرنے سے افضل ہے الخ۔
اور اسی میں تاتار خانیہ سے اس میں محیط سے منقول ہے : جو کوئی نفل صدقہ کرے اس کے لیے افضل یہ ہے کہ تمام مومنین ومومنات کی نیت کرلے کہ وہ ان سب کو پہنچے اور اس کے اجر سے کچھ کم نہ ہوگا اھ ___ فرمایا : یہی اہل سنت وجماعت کا مذہب ہے الخ۔
مختصر یہ کہ ثواب ہدیہ کرنا ایسا ہے جیسے چراغ سے چراغ جلانا کہ اس چراغ سے کچھ کم نہیں ہوتا اور دوسرے چراغ کو روشنی مل جاتی ہے ____ اور بلاشبہہ بچہ اس
ردالمحتار باب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٢٣٦
ردالمحتار باب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٢٤١
ردالمحتار باب مطلب فی القرأۃ للمیّت الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٦٠٥
بمثل فرض کن اگر در محسوس نیز صورتے ہمچناں یافتہ شدے کہ صبی درہمی دہد وآن درہم ہم بموہوب لہ رسد و ہم بدست صبی برقرار ماند و یکے دہ گرد د آیا معقول بود کہ شرع مطہر صبی رااز ہمچوتصرف بازداشتے حاش ﷲ حجر برائے نظر ووضع ضرراست نہ بہر دفع نفع والحاق بحجراین ست دریں مسئلہ طریق نظر۔
ثم اقول : وباﷲ التوفیق ہمانا از کلمات علماء نص جزیہ برآریم علمائے مادر عامہ کتب تصریح فرمودہ اند کہ مسئلہ حج عن الغیر برہماں اصل کلی مبتنی ست کہ انسان رامی رسد کہ ثواب عملش ازاں دیگرے کند۔ فی الہدایہ باب الحج عن الغیر :
الاصل فی ھذا الباب ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوۃ ا او صوما او صدقۃ اوغیرھا عنداھل السنۃ والجماعۃ اھ ومثلہ فی خزانۃ المفتین برمز “ ہ “ لھا۔
و فی الدر باب الحج عن الغیر الاصل ان کل من اتی بعبادۃ مالہ طرح کے تبرع سے ہر گز محجور نہیں ___ بلکہ چراغ جلانا بھی اس کی نظیر نہیں ہوسکتی کہ وہاں اگر چراغ سے کچھ کم نہیں ہوتا تو کچھ زائدبھی نہیں ہوتا۔ اور یہاں ہبہ کرنیوالے کا ثواب ایك کا دس ہوجاتا ہے۔ اور اﷲ جس کیلئے چاہے اورزیادہ کرتاہے۔ اور اﷲ وسعت والا علم والا ہے۔
بطور مثل فرض کیجئے اگر عالم محسوس میں بھی کوئی ایسی صور ت ہوتی کہ بچہ ایك درہم دے وہ درہم موہوب لہ کے پاس بھی پہنچے اور بچے کے ہاتھ میں بھی برقرار رہے اور ایك کا دس ہوجائےے تو کیا یہ متصور تھا کہ شرع مطہر بچے کو ایسے تصرف سے روك دیتی____ حاشاﷲ! حجر ضرر دورکرنے پر نظر کے لیے ہے نفع دورکرنے اور حجر (پتھر) سے لاحق کرنے کے لیے نہیں ہے____ یہ اس مسئلہ میں طریق نظر ہے۔ (ت)
ثم اقول : وباﷲ التوفیق ( پھر میں کہتاہوں اور توفیق خداتعالی ہی سے ہے ۔ ت) کلمات علماء سے ہم خود اس جزءیہ کی صراحت لائیں۔ ہمارے علماء نے عامہ کتب میں تصریح فرمائی ہے کہ دوسرے کی جانب سے حج کی بنیاد اسی قاعدہ کلیہ پر ہے کہ انسان اپنے عمل کا ثواب دوسرے کے لیے کرسکتا ہے ____ ہدایہ باب الحج عن ا لغیر میں ہے : اس باب میں اصل یہ ہے کہ اہلسنت وجماعت کے نزدیك انسان کو حق حاصل ہے کہ اپنے عمل کا ثواب کسی دوسرے کے لیے کردے۔ نماز ہویا روزہ یا صدقہ یا اور کچھ اھ اسی کے مثل خزانۃ المفتین میں ہدایہ کے لیے “ ہ “ کے رمز کے ساتھ ہے۔
درحاشیۃ علامہ طحطاوی است عبر بالصحۃ دون الوجوب لیعم المراھق فانہ اھل للصحۃ دون الوجوب ۔
در درمختار است فجاز حج الصرورۃ والمرأۃ والعبد والمراھق وغیرہم اولی لعدم الخلاف اھ ملخصا۔ ودر ردالمحتار است الشرط ھو الاھلیۃ دون الذکورۃ والحریۃ والبلوغ اھ ملخصا وہم دراں ازلباب درتعداد شرائط آورد
درمختار باب الحج عن الغیر میں ہے : اصل یہ ہے کہ جو شخص بھی کوئی بھی عبادت کرے اسے اختیار ہے کہ اس کا ثواب دوسرے کے لیے کردے اھ ہندیہ میں غایہ کے حوالے سے عبارت ہدایہ کی طرح ایك مفید اضافے کے ساتھ ہے _ ملتقی الابحر باب مذکور کے آخر میں ہے : انسان کوتمام عبادات پراختیار ہے کہ اپنے عمل کا ثواب دوسرے کے لیے کردے اھ اس کی شرح مجمع الانھر میں ہے : یہ عبادت بیان ماقبل کے علت کی منزل میں ہے ____تو ثابت ہوا کہ دوسرے کی جانب سے حج کرنا اہدائے ثواب کے باب سے ہے ___ ورنہ اس تفریع کاکیا موقع ہوتا___ اب دیکھناچاہئے کہ بچہ بھی دوسرے کی جانب سے حج کرسکتاہے یا نہیں ___ کتب مذہب میں روشن تصریحات موجود ہیں کہ کرسکتاہے __تنویر الابصار میں ہے : صحت افعال کے لیے مامور کا اہل ہونا شرط ہے
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے : “ صحت “ سے تعبیر فرمائی “ وجوب “ سے نہیں۔ تاکہ مراہق (قریب البلوغ لڑکے)
ملتقی الابحر باب الحج عن الغیر موسسۃ الرسالہ بیروت ١ / ٢٣٤
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحربا ب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٣١٠
درمختار شرح تنویر الابصار باب الحج عن الغیر مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٨١
طحطاوی علی الدرالمختار باب الحج عن الغیر دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٥٤٩
درمختار باب الحج عن الغیر مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٨٢
ردالمحتار باب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ١٤١
اقول : المراد بالعاقل مایقابل المعتوہ الذی حکمہ حکم الصبی العاقل دون ما یقابل المجنون لان اصل العاقل شرط صحۃ العبادات والکلام ھھنا فی الافضلیۃ وکان الحاصل ان الافضل ان لایکون عبد اولامعتوھا ولا صبیا ممیزا وانما اکثرنا من النقول فی المسئلۃ لما وقع فی بعض نسخ اللباب من تصحیف اوقع الشارح فی بحث مضطرب وقداجبنا بحول اﷲ تعالی فی ما علقنا علی طرقہ بمالا مزید علیہ ولاحاجۃ بنا الی الاطالۃ بایراداہ ھنا ط باز برظاہر الروایۃمو ید بنصوص صراح احادیث صحاح کہ نفس عمل از جانب آمرواقع شود۔ ایں معنی درایں
کو بھی شامل ہو کیونکہ حج کی ادائیگی اس سے صحیح ہے مگر اس پر واجب نہیں درمختار میں ہے : صرورہ ( جس نے اپنا حج اسلام نہ کیا ہو) عورت غلام اور مراہق کا حج جائزہے ا ور ان کے علاوہ (حج بدل کے لیے) ہوں توبہتر ہے تاکہ اختلاف ائمہ نہ رہے اھ ملخصا___ ردالمحتار میں ہے : شرط صرف اہلیت ہے۔ مرد ہونا آزاد ہونا بالغ ہونا شرط نہیں اھ ملخصا اسی میں لباب سے تعداد شرائط میں نقل ہے : انیسویں شرط یہ ہے کہ مامور باتمیز سمجھدار رہو تو ناسمجھ بچے سے حج کرانا صحیح نہیں اور مراہق سے حج کرانا صحیح ہے ____ اسی میں ہے : یہ ساری شرطیں حج فرض میں نفل میں اسلام عقل او ر تمیز کے سوا کوئی شرط نہیں اسی طرح مناسك علا مہ سندی میں ہے___ہندیہ میں غایۃ السروجی از علامہ کرمانی کے حوالے سے ہے : افضل یہ ہے کہ طریقہ حج اور افعال حج سے باخبر ہو اور آزاد عاقل بالغ ہو اھ
اقول : یہاں عاقل سے مراد معتوہ کا مقابل ہے جس کا حکم عاقل بچے کا ہے مجنون کا مقابل مراد نہیں اس لیے کہ نفس عقل توتمام عبادات کی “ صحت “ کے لیے شرط ہے اور یہاں کلام “ افضلیت “ کے بارے میں ہے۔ حاصل یہ ہوا کہ افضل یہ ہے کہ نہ غلام ہو
ردالمحتار بحوالہ اللباب باب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٢٤٠
فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع فی الحج عن الغیر نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ٢٥٧
نہ معتوہ۔ نہ ممیز بچہ___ ہم نے اس مسئلہ میں حوالے زیادہ پیش کئے جس کی وجہ یہ ہے کہ لباب کے بعض نسخوں میں کچھ خطائے کتابت واقع ہوئی جس نے شارح کوایك بااضطراب بحث میں ڈال دیا جس کاجواب بعونہ تعالی ہم نے اس کے حاشیہ میں کامل طور پر دے دیا ہے یہاں اسے ذکر کرکے کلام طویل کرنے کی ضرورت نہیں____ پھر ظاہر الروایہ کی بنیاد پر جو صحیح احادیث کے صریح نصوص سے تائید یافتہ ہے کہ نفس عمل آمر کی جانب سے واقع ہوتا ہے۔ یہ معنی اس کام میں ہمارے لیے زیادہ مؤید ہے کہ جب ممیز بچہ اصل عمل دوسرے کے لیے اور اس کے حق میں کرسکتا ہے اور ثواب ہبہ کرنا بھی اس کے توابع میں سے ایك ہے اور وہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاروایت مذکورہ میں یہ ارشاد ہے کہ “ اس سے اوراس کی ماں باپ دونوں کی جانب سے قبول کیا جائے “ تو ثواب ہدیہ کرنے سے مانع کون ہے اور رکاوٹ کیا ہے کلام یہاں طویل ہے اور فیض الہی کا دروازہ کشادہ مگر ہم اسی قدر پر اکتفا کرتے ہیں اس کے سا تھ اپنے رب کی اس کے جود وکرم پر حمد کرتے ہیں اور اپنے آقا حضرت محمد اور ان کی آل پردرود بھیجتے ہیں اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والاہے او راس ذات بزرگ کا علم زیادہ کامل اور محکم ہے۔ (ت)
مسئلہ : از الہ آباد مدرسہ سبحانیہ دارالطباء مرسلہ محمد سعید الحسن صاحب صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے یہ دستور مقرر کر رکھا ہے کہ ہر ششماہی یا سالانہ یوم معین وتاریخ مقررہ پر اپنے پیر کا عرس ہوا کرے لوگوں کو یہ کہتا ہے کہ جو شخص یہ عرس کرے اور عرس کی نیاز کردہ شیرینی کھائے گا او پر بلا شبہہ جنت مقام دوزخ حرام ہے یہ کہنا شرعا کیا حکم رکھتا ہے بینوا توجروا
الجواب :
یہ کہنا جزاف اور یاوہ گوئی ہے۔ اﷲ جانتا ہے کہ کس کاجنت مقام اور کس پر دوزخ حرام عرس کی شیرینی کھانے پر اﷲ تعالی ورسول کا کوئی وعدہ ایسا ثابت نہیں جس کے بھروسہ پر یہ حکم لگاسکیں تو یہ تقول علی اﷲ (اﷲ تعالی پر اپنی طرف سے لگا کر کچھ بولنا ۔ ت) ہوا اور وہ ناجائز ہے۔ قال اﷲ تعالی :
اطلع الغیب ام اتخذ عند الرحمن عهدا(۷۸)
کیا اس نے غیب دیکھ لیا ہے یا رحمان کے یہاں کوئی عہد کررکھا ہے۔ (ت)
اتقولون على الله ما لا تعلمون(۲۸) ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
کیا تم خدا پر وہ بولتے ہو جس کا تمھیں علم نہیں۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۳ تا ۲۴۴ : از بنگال ضلع سلہٹ موضع شوبید پور مرسلہ مولوی انوارالدین صاحب ربیع الاول شریف۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
() میت کے ثواب رسانی کے لیے قرآن شریف کر ہدیہ کرنایا چندنماز و روزہ وغیرہ کے کفارہ کے عوض میں قرآن شریف کو حیلہ کرنا جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے ہو تو کون کون صورتوں میں یعنی بعض میت کے ثلث مال قدر کفارہ کے ہے اور بعض کے کم اور بعض کے بالکلیہ نہیں۔ اور ان صورتوں میں مع وصیت کے کیا حکم ہے
() بوقت دفن میت کے دعا غیرہ پڑھ کر چھوٹے چھوٹے ڈھیلا وغیرہ پر دم کر کے قبر کے اندر رکھنا جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
() قرآن مجید کسی مسلمان کو دے کر اس کا ثواب میت مسلم کو پہنچانا جائز ہے کفارے کے عوض میں قرآن مجید دے کر جو حیلہ یہاں عوا م میں رائج ہے محض باطل وبے سود ہے بلکہ بحال وصیت ثلث مال یا باجازت ورثہ بالغین ا س سے زائد اور بلا وصیت جس قدر مال پر وارث عاقل بالغ چاہے اگر کفارہ واجبہ کی قدر کو کافی نہ ہو بطریق دور پورا کریں یعنی ایك بار فقیر کو دے دیں ا س قدر کا کفارہ اداہوا۔ فقیر بعد قبضہ پھر اسے اپنی طرف ہبہ کردے۔ وارث پھر فقیر کو کفارہ میں دے یہاں تك کہ الٹ پھیر میں قدر کفارہ تك پہنچ جائے کمانص علیہ فی الدر وغیرہ من الا سفار الغر وقد حققنا ہ فی فتاونا ( جیساکہ درمختار اوراس کے علاوہ کتب مبارکہ میں اس کی تصریح ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)
() کوئی حرج نہیں جبکہ قبر میں جگہ نہ گھیرے لعدم المنع وما لم یمنع لایمنع ( کیونکہ اس سے ممانعت نہ آئی اور جس سے منع وارد نہیں وہ ممنوع نہ ہوگا۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : ا زپوسٹ فراش گنج ضلع نواکھالی ملك بنگالہ جمادی الاولی ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ثواب رسانی کی نیت سے قرآن مجید پڑھ کر اس پر اجرت دینا
الجواب :
ثواب رسانی کے لیے قرآن مجید پڑھنے پر اجرت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہے اور چالیس درہم اجرت محض بے اصل ہے۔
مسئلہ : از بنارس کچی باغ مسئولہ مولوی محمد ابراہیم صاحب ذی القعدہ ھ
دستور ہے کہ اغنیاء قرآن خوانی کے واسطے بلائے جاتے ہیں اور ان کی دعوت دی جاتی ہے کیا ان اغنیاء کو بعد قرآن خوانی دعوت طعام چہلم جائز ہے اور یہ فعل شرعا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب :
موت میں دعوت بے معنی ہے فتح القدیر میں اسے بدعت مستقبحہ فرمایا لان الدعوۃ شرعت فی السرور لافی الشرور ( اس لیے کہ دعوت خوشی میں مشروع ہے غمی میں نہیں۔ ت) اغنیا کا اس میں کچھ حق نہیں اور اگر بنظر المعھود عرفا کالمشروط لفظا (جو عرفا معلوم ہے اسی کی طرح ہے جو لفظا مشروط ہے۔ ت)وہ اجرت قرآن خوانی کی حد تك پہنچ گیا ہو کھلانے والا جانتا ہو ان کی تلاوت کے عوض مجھے کھانا دینا ہے یہ جانتے ہوں ہمیں قرآن پڑھ کر کھانا لینا ہے تو آپ ہی حرام ہے کھانا بھی حرام اور کھلانا بھی حرام و لا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا- (میری آیتوں کے بدلے حقیر مال دنیا نہ لو۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۴۷ : ا ز لکھنؤ محلہ فرنگی محل احاطہ حیدر جان طوائف بردوگان ہیزم سوختنی مسئولہ زین العابدین محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ضلع اعظم گڑھ کے قریب وجوار یہ رسم قدیم میت کے ایصال ثواب کے واسطے جاری تھی کہ ورثاء میت چہلم تك قرآن خوانی کراتے تھے اور بعد اختتام میعاد قرآن خوانی کی اجرت بصورت نقد و پارچہ اور اشارے قرآن خوانی میں کھانا دیاکرتے تھے اب چند لوگوں دیوبند سے تعلیم پا کر اسی ضلع میں آئے اور ہم لوگوں کے طریقہ مستمر ایصال ثواب کو ممنوع وناجائز کہتے اور فعل عبث قرار دیتے ہیں پس علمائے اہلسنت وجماعت سے استدعا ہے کہ طریقہ مروجہ ایصال ثواب عند الشرع جائز ودرست ہے
القرآن ٢ / ٤١
الجواب :
دیوبندی عقیدہ والوں کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالا تفاق تحریر فرمایا ہے کہ یہ لوگ اسلام سے خارج ہیں اور فرمایا : من شك فی عذابہ وکفرہ وفقد کفر جو ان کے کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔ ان کی کوئی بات نہ سنی جائے نہ ان کی کسی بات پر عمل کیا جائے جب تك اپنے علماء سے تحقیق نہ کرلیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
وایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتونکم ۔ ان سے دور بھاگو اور انھیں اپنے سے دور کریں۔ کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
اور ان کا بتایا ہوا کوئی مسئلہ اگر صحیح بھی نکلے توا س سے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ عالم ہیں یا ان کے اور مسائل بھی صحیح ہوں گے۔ دنیا میں کوئی ایسا فرقہ نہیں جس کی کوئی نہ کوئی بات صحیح نہ ہو مثلا یہود ونصاری کی یہ بات صحیح ہے کہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام نبی ہیں۔ کیا اس سے یہودی اور نصرانی سچے ہوسکتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : الکذوب قد یصدق بڑا جھوٹا بھی کبھی سچ بولتا ہے دیوبند ی تو اموات مسلمین کو ثواب پہنچانے ہی سے جلتے ہیں فاتحہ سوم دہم چہلم سب کو حرام کہتے ہیں یہ سب باتیں جائز ہیں میت کو قرآن خوانی وطعام دونوں کا ثواب پہنچتا ہے تیجے وچالیسویں وغیر کا تعین عرفی ہے جس سے ثواب میں خلل نہیں آتا ہاں قرآن خوانی پر اجرت لینا دینا منع ہے اس کا طریقہ یہ کیا جائے کہ حافظ کو مثلاچالیس دن کے لیے نو کر رکھ لیں کہ جو چاہیں کام لیں گے اور یہ تنخواہ دیں گے پھراس سے قبر پر پڑھنے کا کام لیاجائے اب یہ اجرت بلاشبہہ جائزہے کہ اس وقت کے مقابل ہے نہ کہ تلاوت قرآن کے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۸ تا ۲۵۰ : از شہر محلہ بہاری پور مسئولہ عبدالجبار صاحب محرم ھ
() کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ قرآن شریف پڑھ کر یا زیارت قبور وختم تہلیل کرکے جس میں ایصال ثواب مقصود ہوتاہے اجرت لینا جو حرام ہے وہ قطعی حرام ہے یا نہ
() بلا تعین اسی وقت اگر قاری کو کچھ دے دیا جائے وہ بھی حرام ہے یا نہ
مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب فصل اول مطبع مجتبائی دہلی ص٢٨
مجمع بحار الانوار تحت لفظ صدق نولکشور لکھنؤ ٢ / ٢٣٩
الجواب :
() تلاوت وتہلیل میں اجرت لینا ضرور حرام ہے اور گناہ ہونے میں قطعی اور غیر قطعی ہونے کا فرق نہیں گناہ اگر چہ صغیرہ ہوں اسے ہلکا جاننا قطعی حرام ہے۔
() جبکہ عادات ورواج کے مطابق قاری کو معلوم ہے کہ ملے گا اور اسے معلوم ہے کہ دینا ہوگا۔ تو ضرور اجرت میں داخل ہے فان المعروف کالمشروط (معروف مشروط کی طرح ہے۔ ت)
(۳) المعروف کالمشروط قاعدہ کلیہ ہے مگر جب صراحۃ معروف کی نفی کردے تو مشروط نہیں رہے گا۔ مثلا قاری سے صاف کہہ دیا جائے کہ دیا کچھ نہ جائے گا۔ یا وہ کہہ دے کہ میں لوں گا کچھ نہیں اس کے بعد پڑھے پھر جو چاہیں دے دیں وہ اجرت میں داخل نہ ہوگا لان الصریح یفوق الدلالۃ کما فی الخانیۃوغیرھا (اس لیے کہ صریح کا درجہ دلالت سے اوپر ہے جیسا کہ خانیہ وغیرہ میں ہے ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ تا ۲۵۵ : حاجی عبدالغنی صاحب طالب علم مدرسۃ منظرا لاسلام بریلی ربیع الآخر ھ
کیا فرماتے ہیں عالم اہلسنت ناصر ملت اس بارے میں کہ :
() میت کے تابو ت کو لے کردس قدم چلنا پھر جانب بدلنا اسی طرح چاروں جانب چالیس قدم چلنا سنت ہے یا نہیں
() اوراگر قبرستان چالیس قدم سے کم ہو تو میت کو لے کر قبرکے چاروں طرف چالیس قدم گھومنا جائز ہے یا نہیں
() نماز جنازہ پڑھ کر اور قبور کی زیارت کرکے خیرات لینا جائز ہے یا نہیں
()جو شخص اس کوناجائز سمجھ کر اعلان کردے کہ میں اس کوناجائز سمجھتاہوں کوئی صاحب اس کی اجرت ہم کو ہرگز نہ دو پھر اگر کوئی بطور ہدیہ دے تو لینا جائز ہے یا نہیں
() میت کی روح پر ثواب رسانی کے لیے قرآن شریف ومیلاد شریف پڑھ کر خیرات لینا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
() مستحب ہے ()جہالت وممنوع ہے () ناجائز ہے () جائزہے () ناجائز ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بنگالہ ضلع میمن سنگھ موضع مرزا پور مرسلہ منشی آدم غرہ ربیع الاول شریف ھ
ماتقولون یا علماء الفحول فی ھذہ المسئلۃ کافرمات واراد ورثہ ان یطعمو اطعاما للمسلمین
اس مسئلہ میں علمائے کرام کیا فرماتے ہیں ایك کا فر فوت ہوا اب اس کے ورثہ مسلمانو ں کو کھانا کھلانا چاہتے ہیں تو
مسلمانوں کو کھانا جائز ہے یا نہیں (ت)
الجواب :
لا ینبغی لھم ان یجیبوا لانھا ان کانت ضیافۃ فالضیافۃ فی الموت من النیاحۃ روی الامام احمد وابن ماجۃ بسند صحیح عن جریر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ قال کنا نعد الاجتماع الی اھل المیت وصنعۃ الطعام من النیاحۃ وان کانت بزعمہ صدقۃ مع انہ لا صدقۃ من کافر ولالکافر ففیہ ازدراء بالمسلمین لانہ یعد نفسہ الخبیثۃ متفضلۃ علیھم بالتصدق و ایاھم اکلی صدقتہ و الید العلیا خیر من الید السفلی ولاینبغی لید کافر ان تکون علیا بل الاسلام یعلوہ ولایعلی ھذا ماظھر لی و ار جو ان تکون صوابا ان شاء اﷲ تعالی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
انھیں یہ دعوت نہ قبول کرنا چاہئے اس لیے کہ یہ اگر ضیافت ہے توموت میں ضیافت نیاحت سے ہے امام احمد اور ابن ماجہ نے بسند صحیح حضرت جریر بن عبداﷲ بجلی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی : ہم گروہ صحابہ میت کے پاس جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرنے کو نیاحت سے شمار کرتے تھے____اور اگر اس کے خیال میں صدقہ ہو___ جبکہ صدقہ کسی کافر سے اور کسی کافر کے لیے ہو ہی نہیں سکتا___ تو اس میں مسلمانوں کی بے عزتی ہے اس لیے کہ وہ صدقہ کرکے اپنے نفس خبیث کو ان پر احسان کرنے والا اور انھیں صدقہ کھانے والا سمجھا جاتا ہے۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے بہتر ہوتاہے ___ اور کسی کافر کا ہاتھ اونچا نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا ____ یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اور امید کرتاہوں کہ ان شاء اﷲ تعالی درست ہوگا اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ۲۵۷ : از بریلی مسئولہ شیخ عبدالعزیز بساطی دوم ذوالقعدہ ھ
اہل ہنود اگر فاتحہ دلوانا چاہیں تو دینی چاہئے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
فاتحہ ایصال ثواب ہے۔ کافر کی طرف سے یا کافر کے مال کا ثواب پہنچانا کیا معنی کافر اصلا اہل ثواب نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی مسلمان کسی کافر یا مشرك یا رافضی کو قرآن خوانی اور کسی ذریعہ سے ایصال ثواب کرے تو اس کافر یا مشرك یا رافضی کو ثواب پہنچے گا یا نہیں اور ایصال ثواب کرنے والے کی بابت کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب :
کافر خواہ مشرك ہو یا غیر مشرك جیسے آج کل کے عام رافضی کہ منکران ضروریات دین ہیں اسے ہرگز کسی طرح کسی فعل خیر کا ثواب نہیں پہنچ سکتا قال اﷲ تعالی و ما له فی الاخرة من خلاق(۲۰۰) (اﷲ تعالی کا ارشاد ہے : اور ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ ت)اور انھیں ایصال ثواب کرنا معاذ اﷲ خود راہ کفر کی طرف جانا ہے کہ نصوص قطعیہ کو باطل ٹھہرانا ہے۔ رافضی تبرائی کا فقہائے کرام کے نزدیك یہی حکم ہے ہاں جو تبرائی نہیں جیسے تفضیلی انھیں ثواب پہنچ سکتاہے اور پہنچانا بھی حرام نہیں جبکہ ان سے دینی محبت یا ان کی بدعت کو سہل وآسان سمجھنے کی بنا پر نہ ہو ورنہ انکم اذامثلھم یہ بھی انھیں میں شمار ہوگا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از منڈی ہلد وانی ضلع نینی تال مرسلہ حفیظ احمد مستری ربیع الآخر ھ
ہندو میت کے ثواب کے لیے میلاد شریف کے واسطے کچھ روپیہ دے تو اس ہندو کے روپے سے میلاد شریف پڑھوانا کیسا ہے
الجواب :
ہندو سے روپیہ اس واسطے نہ لیا جائے۔ حدیث میں ہے : انی نھیت عن زبدا لمشرکین (مجھے مشرکین کی جھاگ سے منع کیا گیا ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
___________________
سنن ابی داؤد باب فی الامام یقبل ہدایا المشرکین آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ٧٨
مسئلہ : شعبان المعظم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ جس وقت سے روح انسا ن کی جسم سے پرواز کرتی ہے بعد اس کے پھر بھی اپنے مکان پر آتی ہے یا نہیں اور اس سے کچھ ثواب کی خواستگار خواہ قرآن مجید یا خیرات وغیرہ طعام ہو یا روپیہ پیسہ ہوتی ہے یا نہیں اور کون کون دن روح اپنے مکان پر آیا کرتی ہے اور اگر آتی ہے تو منکر اس کا گنہگار ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کس گناہ میں شامل ہے بینوا توجروا
الجواب :
خاتمۃ المحدثین شیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ شرح مشکوۃ شریف باب زیارۃ القبور میں فرماتے ہیں :
مستحب است کہ تصدق کردہ شوداز میت بعد از رفتن اواز عالم تا ہفت روز تصدق ازمیت نفع
میت کے دنیا سے جانے کے بعد سات دن تک اس کی طرف سے صدقہ کرنا مستحب ہے۔ میت کی طرف سے
صدقہ اس کے لیے نفع بخش ہوتا ہے۔ اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں اس بارے میں صحیح حدیثیں وارد ہیں خصوصا پانی صدقہ کرنے کے بارے میں__ اور بعض علما ء کاقول ہے کہ میت کو صرف صدقہ او ردعا کا ثواب پہنچتاہے __ اور بعض روایات میں آیا ہے کہ روح شب جمعہ کو اپنے گھر آتی ہے او رانتظار کرتی ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں یا نہیں واﷲ تعالی اعلم (ت)
شیخ الاسلام ''کشف الغطاء عمالزم للموتی علی الاحیاء'' فصل ہشتم میں فرماتے ہیں :
''درغرائب وخزانہ نقل کردہ کہ ارواح مومنین می آیند خانہ ہائے خودراہر شب جمعہ روز عید وروز عاشورہ وشب برات پس ایستادہ می شوند بیرون خانہائے خود وندامی کند ہریکے بآواز بلند اندوہ گین اے اہل و اولاد من ونزدیکان من مہر بانی کنید برما بصدقہ۔ ''
غرائب اور خزانہ میں منقول ہے کہ مومنین کی روحیں ہر شب جمعہ روز عید روز عاشورہ اور شب برات کو اپنے گھر آکر باہر کھڑی رہتی ہیں اور ہر روح غمناک بلند آواز سے ندا کرتی ہے کہ اے میرے گھر والو اے میری اولاد اے میرے قرابت دارو! صدقہ کرکے ہم پر مہربانی کرو۔ (ت)
اسی میں ہے :
'' شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ در شرح الصدور احادیث شتے در اکثر ازیں اوقات آوردہ اگرچہ اکثرے خالی از ضعف نیست۔ ''
شرح الصدور میں شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ان میں سے اکثر اوقات کے بارے میں مختلف حدیثیں نقل کی ہیں اگر چہ ضعف سے خالی نہیں ہیں۔ (ت)
اکثرے کا لفظ صریح دلالت کررہا ہے کہ بعض بالکل ضعف سے خالی ہیں ۔ تو صاحب مأۃ مسائل کا مطلقا اس کی طرف نسبت کرنا کہ ''این روایات راتضعیف ہم فرمودہ اند۔ '' کذب وافترا ہے یا جہل واجترا۔
کشف الغطاء عمالزم للموتی علی الاحیاء فصل احکام دعا وصدقہ ص٦٦
کشف الغطاء عمالزم للموتی علی الاحیاء فصل احکام دعا وصدقہ ص٦٦
مائۃ مسائل
طرفہ (تعجب ۔ ت) یہ کہ خود صاحب مائۃ مسائل نے اس کتاب اور اربعین میں اور بزرگان خاندان دہلی جناب مولا نا شاہ عبدالعزیز صاحب وشاہ ولی اﷲ صاحب نے اپنی تصانیف کثیرہ میں وہ وہ روایات غیر صحاح وروایات طبقہ رابعہ اوران سے بھی نازل تر (کم مرتبہ ۔ ت) سے استناد کیا ہے جیسا کہ ان کتب کے ادنی مطالعہ سے واضح ومبین ہے ولکن النجدیۃ یجحدون الحق وھم یعلمون (لیکن نجدیہ جان بوجھ کر حق کا انکار کرتے ہیں۔ ت)
امام اجل عبداﷲبن مبارک وابوبکر بن ابی شیبہ استاذ بخاری ومسلم حضرت عبدا ﷲ بن عمر وبن عاص رضی اللہ تعالی عنہم سے موقوفا اور امام احمد مسند اورطبرانی معجم کبیر اور حاکم صحیح مستدرک اور ابونعیم حلیہ میں بسند صحیح حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مرفوعا راوی۔
وھذا لفظ ابن المبارک قال ان الدنیا جنۃ الکافر وسجن المؤمن وانما مثل المؤمن حین تخرج نفسہ کمثل رجل کان فی السجن فاخرج منہ فجعل یتقلب فی الارض یتفسح فیھا ۔
(اور یہ ابن مبارک کے الفاظ ہیں ت) بیشک دنیا کافر کی بہشت اور مسلمان کا قید خانہ ہے جب مسلمان کی جان نکلتی ہے توا س کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص زندان میں تھا اب آزاد کردیا گیا تو زمین میں گشت کرنے اور بافراغت چلنے پھرنے لگا۔
روایت یوں ہے :
فاذ امات المؤمنین یخلی بہ بسرح حیث شاء ۔
جب مسلمان مرتا ہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے جائے۔
مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الزہد حدیث ١٦٥٧١ ادارۃ القرآن کراچی ١٣ / ٣٥٥
نعم اما المومنون فان ارواحھم فی الجنۃ وھی تذھب حیث شاءت ۔
ہاں مسلمان کی روحیں تو جنت میں ہوتی ہیں انھیں اختیار ہوتاہے جہاں چاہیں جائیں۔
ابن المبارک کتاب الزہد وابوبکر ابن ابی الدنیا وابن مندہ سلمان رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
قال ان ارواح المؤمنین فی برزخ من الارض تذھب حیث شاءت ونفس الکافر فی سجین ۔
بیشک مسلمانوں کی روحیں زمین کے برزخ میں ہیں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں اور کافر کی روح سجین میں مقید ہے۔
ابن ابی الدنیا مالک بن انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
قال بلغنی ان ارواح المومنین مرسلۃ تذھب حیث شاءت ۔
فرمایا : مجھے حدیث پہنچی ہے کہ مسلمانوں کی روحیں آزادہیں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں۔
اما م جلال الدین سیوطی شرح الصدور میں فرماتے ہیں :
رجح ابن البران ارواح الشھداء فی الجنۃ وارواح غیرھم علی افنیۃ القبور فتسرح حیث شاءت ۔
امام ابو عمر ابن عبدالبر نے فرمایا : راجح یہ ہے کہ شہیدوں کی روحیں جنت میں ہیں ا ور مسلمانوں کی فنائے قبور پر جہاں چاہیں آتی جاتی ہیں
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں :
ان الروح اذا انخلعت من ھذا الھیکل وانفکت من القیود بالموت تحول الی حیث شاءت ۔
بیشک جب روح اس قالب سے جدا اور موت کے باعث قیدوں سے رہاہوتی ہے جہاں چاہتی ہے جولاں کرتی ہے۔
کتاب الزہد لابن مبارک باب ماجاء فی التوکل حدیث ٤٢٩ دارالکتب العلمیہ بیروت ص١٤٤
شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا باب مقرالا رواح خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص٩٨
شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا باب مقرالا رواح خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۱۰۵
تیسیر شرح جامع صغیر تحتِ حدیث ان روح المو منین الخ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ١ / ٣٢٩
ارواح ایشاں (یعنی اولیائے کرام قدست اسرارہم) از زمین وآسمان وبہشت ہر جاکہ خواہندمی روند ۔ '' اولیائے کرام قدست اسرارہم کی روحیں زمین آسمان بہشت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں (ت)
خزانۃ الروایات میں ہے :
عن بعض العلماء المحقیقین ان الارواح تتخلص لیلۃ الجمعۃ وتنتش فجاؤ الی مقابر ثم جاؤا فی بیوتھم ۔
بعض علماء محققین سے مروی ہے کہ روحیں شب جمعہ چھٹی پاتی اور پھیلتی جاتی ہیں پہلے اپنی قبروں پر آتی ہیں پھر اپنے گھروں میں۔
دستور القضاۃ مسند صاحب مائۃ مسائل میں فتاوی امام نسفی سے ہے :
ان ارواح المومنین یاتونی فی کل لیلۃ الجمعۃ ویوم الجمعۃ فیقومون بفناء بیوتھم ثم ینادی کل و احد منھم بصوت حزین یا اھلی ویا اولادی ویا اقربائی اعطفوا علینا بالصدقۃ و اذکرونا ولاتنسونا وارحمونا فی غربتنا الخ۔
بیشک مسلمانوں کی روحیں ہر روز و شب جمعہ اپنے گھر آتی اور دروازے کے پاس کھڑی ہو کر دردناک آواز سے پکارتی ہیں کہ اے میرے گھر والو! اے میرے بچو! اے میرے عزیزو! ہم پر صدقہ سے مہر کرو ہمیں یا د کرو بھول نہ جاؤ ہماری غریبی میں ہم پر ترس کھاؤ۔
نیز خزانۃ الروایات مستند صاحب مائۃ مسائل میں ہے :
عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما اذا کان یوم عید اویوم جمعۃ اویوم عاشوراء ولیلۃ النصف من الشعبان تاتی ارواح الاموات ویقومون علی ابواب بیوتھم فیقولون ھل من احد یذکرنا ھل من احد یترحم علینا ھل من احد یذکر غربتنا الحدیث۔
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے جب عید یا جمعہ یا عاشورہ کا دن یا شب برات ہوتی ہے اموات کی روحیں آکر اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑی ہوتی اورکہتی ہیں : ہے کوئی کہ ہمیں یاد کرے ہے کوئی کہ ہم پر ترس کھائے ہے کوئی کہ ہماری غربت کی یاد دلائے۔
اسی طرح کنز العباد میں بھی کتاب الروضہ اما م زندویسی سے منقول یہ مسئلہ کہ نہ عقائد کا ہے نہ فقہ کے
خزانۃ الروایات
دستور القضاۃ
خزانۃ الروایات
امام جلال الملۃ والدین سیوطی مناہل الصفافی تخریج احادیث الشفاء زیر رثائے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
لم اجدہ فی شیئ من کتاب الاثر لکن صاحب اقتباس الانوار وابن الحاج فی مدخلہ ذکراہ فی ضمن حدیث طویل وکفی بذلک سند المثلہ فانہ لیس ممایتعلق بالاحکام ۔
یعنی میں نے یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں نہ پائی مگر صاحب اقتباس الانوار اور ابن الحاج نے مدخل میں اسے ایک حدیث طویل میں بے سند ذکر کیا۔ ایسی حدیث کو اتنی ہی سند کافی ہے کہ وہ کچھ احکام سے متعلق نہیں۔
باقی رہا ضلال حال کے شیخ الضلال گنگو ہی کا'' براہین قاطعہ'' میں زعم باطل کہ ارواح کا اپنے گھر آنا یہ مسئلہ عقائد کا ہے اس میں مشہور ومتواتر صحاح کی حاجت ہے قطعیات کا اعتبار ہے نہ ظنیات صحاح کا یعنی اگر صحیح بخاری و صحیح مسلم وصریح حدیثوں میں ہو کہ روحیں آتی ہیں اور وہ حد یثیں بھی ان کے دھرم (مذہب ) میں مردود ہوں گی کہ ان روایات میں عمل نہیں بلکہ علم ہے اور تسلیم بھی کرلیے توفقط عمل ہے نہ فضل عمل براھین قاطعۃ لما امر اﷲ بہ ان یو صل ( اللہ تعالی نے جس چیز کے ملانے کاحکم دیا اسے قطع کرنے والی کتاب۔ ت) میں چار ورق سے زائد پر یہی اعجوبہ اضحوکہ طرح طرح کے مزخرفات سے آلودہ اندودہ (مزین وملمع ) کیا ہے سخت جہالت فاحشہ ہے۔
اقول : اگرچہ ہرجملہ خبر یہ جس میں کسی بات کا ایجاب یا سلب ہو اگر چہ اسے نفیا واثباتا کسی طرح عقاید میں دخل نہ ہو نافی یا مثبت کسی پر اس نفی واثبات کے سبب حکم ضلالت وگمراہی محتمل نہ ہو سب باب عقاید میں د اخل ٹھہرے جس میں احادیث بخاری ومسلم بھی جب تک متواتر نہ ہوں نا مقبول ٹھہریں تو
اولا سیرو مغازی ومناقب یہ علوم کے علوم سب گاؤ خورد و دریا برد ہوجائیں حالانکہ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ان علوم میں صحاح درکنار ضعاف بھی مقبول سیرت انسان العیون میں ہے :
لا یخفی ان السیر تجمع الصحیح والسقیم والضعیف والبلاغ والمرسل والمنقطع والمعضل دون الموضوع وقد قال الامام
مخفی نہیں کہ کتب سیر میں موضوع چھوڑ کر صحیح سقم ضعیف بلاغ مرسل منقطع معضل ہرقسم کی روایتیں ہوتی ہیں امام احمد وغیرہ ائمہ نے
فرمایا ہے : جب ہم حلال وحرام یعنی باب احکام میں روایت کرتے ہیں تو شدت برتتے ہیں اور جب باب فضائل وغیرہ میں روایت کرتے ہیں تو نرمی رکھتے ہیں۔ (ت)
اس مبحث کی تفصیل فقیر کی کتاب منیر العین فی حکم تقبل الابھا مین میں ملاحظہ ہو یہیں دیکھیے رثائے مذکورامیر المؤمنین کیا فضائل اعمال سے تھا وہ بھی باب علم سے ہے۔ جس میں امام خاتم الحفاظ نے بعض علماء کی بے سند حکایت بھی کافی بتائی۔
ثانیا : علم رجال بھی مردود ہوجائے کہ وہ بھی علم ہے نہ عمل وفضل عمل تو غیر قطعیات سب باطل ومہمل۔
ثالثا : دو تہائی سے زائد بخاری ومسلم کی حدیثیں محض باطل ومردود قرار پائیں ۔
رابعا : عقائد واعمال میں تفرقہ جس پر اجماع ائمہ ہے ضائع جائے کہ احکام حلال وحرام میں کیا اعتقاد حلت وحرمت نہیں لگا ہوا ہے اور وہ عمل نہیں بلکہ علم ہے تو کسی شے کے حلال یاحرام سمجھنے کے لیے بخاری ومسلم کی حدیثیں مردود اور جب حلال وحرام کچھ نہ جانیں تو اسے کیوں کریں اس سے کیوں بچیں!
خامسا : بلکہ فضائل اعمال میں بھی احادیث صحیحین کا مردود ہونا لازم ۔ حالانکہ ان میں ضعیف حدیثیں بھی یہ سفیہ خود مقبول مانتا ہے ظاہر ہے کہ اس عمل میں یہ خوبی ہے اس پر یہ ثواب یہ جاننا خود عمل نہیں بلکہ علم ہے اور علم باب عقائد سے ہے اور عقائد میں صحاح ظنیات مردود۔
سادسا : اگلے صاحب نے تو اتنی مہربانی کی تھی کہ حدیث صحیح مرفوع متصل السند مقبول رکھی تھی انھوں نے بخاری ومسلم بھی مردود کردیں جب تک قطعیات نہ ہوں کچھ نہ سنیں گے
قدم عشق پیشتر بہتر
سابعا : ختم الہی کاثمرہ دیکھئے اسی براہین قاطعہ لما امراﷲ بہ ان یوصل میں فضیلت علم محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو باب فضائل سے نکلوا کر اس تنگنائے اعتقادیات میں داخل کرایا تاکہ صحیحین بخاری ومسلم کی حدیثیں بھی جو وسعت علم محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر دال ہیں مردود ٹھہریں اور وہیں وہیں اسی منہ میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے علم عظیم کی تنقیص کو محض بے اصل وبے سند حکایت سے سند لا یا کہ شیخ عبدالحق روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں حالانکہ حضرت شیخ
غرض محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فضائل ماننے کو توجب تک حدیث قطعی نہ ہو بخاری ومسلم بھی مردود اور معاذاﷲ حضور کی تنقیص فضائل کے لیے بے اصل وبے سند وبے سروپا حکایت مقبول ومحمود اور پھر دعوی ایمان و امانت ودین ودیانت بد ستور موجود۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون كذلك یطبع الله على كل قلب متكبر جبار(۳۵) ( اسی طرح اللہ ہر متکبر سخت گیر کے دل پر مہر کردیتا ہے۔ ت)بالجملہ یہ مسئلہ نہ باب عقائد سے نہ باب احکام حلال وحرام سے۔ اسے جتنا ماننا چاہئے کہ اس کے لیے اتنی سندیں کافی ووافی منکر اگر صرف انکار یقین کرے یعنی اس پر جزم ویقین نہیں تو ٹھیک ہے اور عامہ مسائل سیر ومغازی و اخبار وفضائل ایسے ہی ہوتے ہیں اس کے باعث وہ مردود نہیں قرار پاسکتے اور اگر دعوی نفی کرے یعنی کہے مجھے معلوم وثابت ہے کہ روحیں نہیں آتیں تو جھوٹا کذاب ہے بالفرض اگر ان روایات سے قطع نظر بھی تو غایت یہ کہ عدم ثبوت ہے نہ ثبوت عدم اور بے دلیل عدم ادعائے عدم محض تحکم وستم آنے کے بارے تو اتنی کتب علماء کی عبارات اتنی روایات بھی ہیں نفی وانکار کے لیے کون سی روایت ہے کس حدیث میں آیا کہ روحوں کا آنا باطل وغلط ہے تو ادعائے بے دلیل محض باطل وذلیل۔
کیسی ہٹ دھرمی ہے کہ طرف مقابل پر وایات موجودہ بربنائے ضعف مردود اور اپنی طرف روایت کا نام ونشان اورادعائے نفی کا بلند نشان روحوں کا آنا اگر باب عقائد سے ہے تو نفیا واثباتا ہرطرح اسی باب سے ہوگا اور دعوی نفی کے لیے بھی دلیل قطعی درکار ہوگی یا مسئلہ ایک طرف سے باب عقائدمیں ہے کہ صحاح بھی مردود اور دوسری طرف سے ضروریات میں ہے کہ اصلا حاجت دلیل مفقود
ولکن الوھابیۃ لایعقلون ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی خیر خلقہ محمد والہ وصحبہ اجمعین امین واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ فقط
لیکن وہابیہ بے عقل ہوتے ہیں__ اور برائی سے رکنے نیکی کے کرنے کی طاقت نہیں مگر بلند عظیم خدا ہی کی طرف سے ۔ اور خدائے برتر اپنی مخلوق میں سب سے بہتر محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر درود نازل فرمائے۔ الہی! قبول کر۔ اور اللہ تعالی خوب جاننے والا ہے اور اس ذات بزرگ کا علم کا مل اور محکم ہے (ت)
____________________
مرنے کے بعد میت کو اپنے عزیزوں سے کس طرح تعلقات رہتے ہیں
الجواب :
موت فنائے روح نہیں بلکہ وہ جسم سے روح کا جدا ہونا ہے روح ہمیشہ زندہ رہتی ہے حدیث میں ہے انما خلقتم للابد تم ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے بنائے گئے تو جیسے تعلقات حیات دنیوی میں تھے اب بھی رہتے ہیں۔ حدیث میں فرمایا کہ ''ہر جمعہ کو ماں باپ پر اولاد کے ایک ہفتہ کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں برائیوں پر رنجیدہ ہوتے ہیں تواپنے گزرے ہوؤں کو رنجیدہ نہ کرو اے اللہ کے بندو! واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ : ازلاہور مسجد بیگم شاہی اندرون دروازہ مستی مرسلہ صوفی احمد الدین طالبعلم صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ارواح مومنین کی جگہ کون ہے کیا جسد کے ساتھ رہتے ہیں یا علیحدہ
الجواب :
ارواح مومنین برزخ میں اجسام مثالی ہیں جیسے شہداء کے لیے حواصل طیور خضر رمایا سبز پرندوں کے بھیس میں اوران کے مقام حسب مراتب مختلف ہیں قبور پر یاچاہ زمزم میں یا فضائے اسمان میں یا کسی آسمان پر یا عرش کے نیچے نور کی قندیلوں میں کما فصلہ الامام السیوطی فی شرح الصدور (جیسا کہ امام سیوطی نے شرح الصدور میں اسے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۲۶۳ تا۲۶۸ : از کا نپور محلہ مول گنج مرسلہ امام الدین صاحب ربیع الآخر ھ
() عزیزوں پرجو اثر ہوتاہے کیا اس کا اثر میت پر بھی ہوتا ہے یا نہیں
() عذاب وثواب کی کیا شکل ہے جبکہ انسان خاک میں مل جاتا ہے اور روح اپنے مقام پر چلی جاتی ہے۔
() روح کا مقام مرنے کے بعد کہا ں ہے
() خواب میں اپنے کسی مرحوم عزیزکو دیکھتے ہیں کیا اس کا اثر مرحوم پر بھی پڑتاہے یا نہیں
(۵) روح کیا چیز ہے اکثر سنا گیاہے کہ روح تمام دنیاوی کیفیات کا ادراک ہروقت بعد موت کرتی ہے۔
() قبر پر کوئی شخص جانے اس کا علم میت کو ہوتا ہے
() عزیزوں کو اگر تکلیف پہنچتی ہے اس کا ملال میت کو بھی ہوتا ہے اموات پر رونے کی ممانعت میں فرمایا کہ جب تم روتے ہو مردہ بھی رونے لگتاہے تو اسے غمگین نہ کرو۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲) انسان کبھی خاک نہیں ہوتا بدن خاک ہوجاتا ہے اور وہ بھی کل نہیں کچھ اجزائے اصلیہ دقیقہ جن کو عجب الذنب کہتے ہیں وہ نہ جلتے ہیں نہ گلتے ہیں ہمیشہ باقی رہتے ہیں انھیں پر روز قیامت ترکیب جسم ہوگی عذاب وثواب روح وجسم دونوں کے لیے ہے۔ جو فقط روح کے لیے مانتے ہیں گمراہ ہیں روح بھی باقی اور جسم کے اجزائے اصلی بھی باقی او ر جو خاک ہوگئے وہ بھی فنائے مطلق نہ ہوئے بلکہ تفرق اتصال ہوا اور تغیر ہیات۔ پھر استحالہ کیا ہے۔ حدیث میں روح وجسم دونوں کے معذب ہونے کی یہ مثال ارشاد فرمائی کہ ایک باغ ہے اس کے پھل کھانے کی ممانعت ہے۔ ایک لنجھا ہے کہ پاؤں نہیں رکھتا اور آنکھیں ہیں وہ اس باغ کے باہر پڑا ہوا ہے پھلوں کو دیکھتا ہے مگر ان تک جا نہیں سکتا اتنے میں ایک اندھا آیا اس لنجھے نے اس سے کہا : تو مجھے اپنی گردن پر بٹھا کر لے چل میں تجھے رستہ بتاؤں گا اس باغ کا میوہ ہم تم دونوں کھائیں گے یوں وہ اندھا اس لنجھے کو لے گیا اور میوے کھائے دونوں میں کون سزا کا مستحق ہے دونوں ہی مستحق ہیں اندھا اسے نہ لے جاتا تو وہ نہ جاسکتا اور لنجھا اسے نہ بتاتا تووہ نہ دیکھ سکتا وہ لنجھا روح ہے کہ ادراک رکھتی ہے اور افعال جو ارح نہیں کرسکتی ۔ ا ور وہ اندھا بدن ہے کہ افعال کرسکتا ہے اورادراک نہیں رکھتا۔ دونوں کے اجتماع سے معصیت ہوئی دونوں ہی مستحق سزا ہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
(۳) روح کا مقام بعد موت حسب مراتب مختلف ہے۔ مسلمانوں میں بعض کی روحیں قبر پر رہتی ہیں اور بعض کی چاہ زمزم میں اور بعض کی آسمان وزمین کے درمیان اور بعض آسمان اول دوم ہفتم تک ا ور بعض اعلی علیین میں اور بعض سبز پرندوں کی شکلیں میں زیر عرش نور کی قندیلوں میں کفار میں بعض کی روحیں چاہ وادی برہوت میں بعض کی زمین دوم سوم ہفتم تک بعض سجین میں ۔ واﷲ تعالی اعلم
() کبھی پڑتا ہے کبھی نہیں دونوں قسم کے خواب شرح الصدور میں مذکور ہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
() روح میرے رب کے حکم سے ایک شے ہے اور تمھیں علم نہ دیا گیا مگر تھوڑا روح کے ادر اکات علم وسمع و بصر باقی رہتے بلکہ پہلے سے بھی زائد ہوجاتے ہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
() قبر پر آنے والے کو میت دیکھتا ہے۔ ا س کی بات سنتاہے۔ اگر زندگی میں پہچانتا تھا اب بھی پہچانتا ہے اگر اس کا عزیز یا دوست ہے تو اس کے آنے سے انس حاصل کرتا ہے : یہ سب باتیں احادیث
مسئلہ۲۶۴ : جمادی الآخری ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو جمعرات کو انتقال کرے اس پر عذاب قبر ہر جمعرات کو یا دائمی معاف ہے یا نہیں
الجواب :
جمعرات کے لیے کوئی حکم نہیں آیا۔ شب جمعہ اور رمضان مبارک میں ہر روز کے واسطے یہ حکم ہے کہ جو مسلمان ان میں مرے گا سوال نکیرین وعذاب کرم سے محفوظ رہے گا واﷲ اکرم ان یعفو من شیئ ثم یعود فیہ اﷲ اس سے زیادہ کریم ہے کہ ایک شے کو معاف فرما کر پھر اس پر مواخذہ کرے۔ واﷲ تعالی اعلم اصل لفظ قبر ہے
مسئلہ : از عبداللہ صاحب محلہ بہاری پور شہر بریلی صفر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے آج یہ بیان کیا کہ ایک نام کے دوآدمی ہوں توا یسا ہوجاتا ہے کہ بجائے اس کے کہ جس کی قضا آئی ہو دوسرے آدمی کی روح قبض کرلیتے ہیں فرشتے اور یہ بھی بیان کیا کہ یہ وقوعہ میرے روبرو کا ہے کہ ایک کی جان قبض کر لی گئی اور چندمنٹوں کے بعد وہ زندہ ہوگیا اور اس نام کا اس محلہ کے قریب ایک شخص تھا وہ مرگیا۔ جو شخص اول مرگیا تھا جب اس سے حال دریافت کیا تو اس نے بہت کچھ قصہ بیان کیا۔ اس کے بارے میں کیا حکم صادرفرماتے ہیں۔ زیادہ حد ادب
الجواب :
یہ محض غلط ہے اللہ کے فرشتے اس کے حکم میں غلطی نہیں کرتے قال اﷲ تعالی و یفعلون ما یؤمرون۩(۵۰) فرشتے وہ کرتے ہیں جو انھیں حکم ہوتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
_______________
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد اﷲ الذی ارسل نبینا الرحیم الغفور بالرفق والتیسیر واعدل الامور فسن الدعوۃ عند السرور دون الشرور صلی اﷲ
سب خوبیاں اﷲ کے لیے جس نے ہمارے رحم کرنے بخشنے والے نبی کر نرمی وآسانی کے ساتھ بھیجا اور کاموں میں اعتدال رکھا تو دعوت کا طریقہ سرور کے
وقت رکھا نہ کہ شرور کے وقت خدائے تعالی ان پر ان کی معزز آل اور مقدم اصحاب پر درود سلام اور برکت نازل فرمائے۔ (ت)
سبحان اﷲ! اے مسلمان! یہ پوچھتا ہے جائز ہے یا کیا یوں پوچھو کہ یہ ناپاك رسم کتنے قبیح اور شدید گناہوں سخت وشنیع خرابیوں پرمشتمل ہے۔ اولا یہ دعوت خود ناجائز وبدعت شنیعہ قبیحہ ہے۔ امام احمد اپنے مسند اور ابن ماجہ سنن میں بہ سند صحیح حضرت جریر بن عبداﷲ بجلی سے راوی :
کنا نعد الاجتماع الی اھل المیت وصنعۃ الطعام من النیاحۃ ۔
ہم گروہ صحابہ اہل میت کے یہاں جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرانے کو مردے کی نیاحت سے شمار کرتے تھے۔
جس کی حرمت پر متواتر حدیثیں ناطق___ امام محقق علی الاطلاق ۱فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں :
یکرہ اتخاذ الضیافۃ من الطعام من اھل المیت لا نہ شرع فی السرور لافی الشرور وھی بدعۃ مستقبحۃ ۔
اہل میت کی طرف سے کھانے کی ضیافت تیار کرنی منع ہے کہ شرع نے ضیافت خوشی میں رکھی ہے نہ کہ غمی میں۔ اوریہ بدعت شنیعہ ہے۔
اسی طرح علامہ حسن شرنبلالی نے ۲مراقی الفلاح میں فرمایا :
ولفظہ یکرہ الضیافۃ من اھل المیت لانھا شرعت فی السرور لا فی شرور وھی بدعۃ مستقبحۃ ۔
میت والوں کی جانب سے ضیافت منع ہے اس لیے کہ اسے شریعت نے خوشی میں رکھا ہے نہ کہ غمی میں اور یہ بری بدعت ہے۔ (ت)
۳فتاوی خلاصہ و۴فتاوی سراجیہ و۵فتاوی ظہیریہ و۶فتاوی تاتار خانیہ اور ظہیریہ سے ۷خزانۃ المفتین وکتاب الکراہیۃ اور تاترخانیۃ سے ۸فتاوی ہندیہ میں بالفاظ متقاربہ ہے :
والفظ للسراجیۃ لایباح اتخاذ الضیافۃ عند
سراجیہ کے الفاظ ہیں کہ غمی میں یہ تیسرے دن کی دعوت
فتح القدیر فصل فی الدفن مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ١٠٢
مراقی الفلاح علٰی ھامش حاشیۃ الطحطاوی فصل فی حملہا ودفنہانور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٣٣٩
جائز نہیں اھ خلاصہ میں یہ اضافہ کیا کہ دعوت تو خوشی میں ہوتی ہے (ت)
فتاوی ۹امام قاضی خاں کتاب الح و الاباحۃ میں ہے :
یکرہ اتخاذ الضیافۃ فی ایام المصیبۃ لانھا ایام تاسف فلا یلیق بھا مایکون للسرور ۔
غمی میں ضیافت ممنوع ہے کہ یہ افسوس کے دن ہیں تو جو خوشی میں ہوتاہے ان کے لائق نہیں۔
۱۰تبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے :
لاباس بالجلوس للمصیبۃ الی ثلث من غیر ارتکاب محظور من فرش البسط والاطعمۃ من اھل المیت ۔
مصیبت کے لیے تین دن تك بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں جبکہ کسی امر ممنوع کا ارتکا ب نہ کیا جائے۔ جیسے مکلف فرش بچھانے اور میت والوں کی طرف سے کھانے۔
۱۱امام بزازی وجیز میں فرماتے ہیں :
یکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاول والثالث و بعد الاسبوع ۔
یمنی میت کے پہلے یا تیسرے دن یا ہفتہ کے بعد جو کھانے تیار کرائے جاتے ہیں سب مکروہ و ممنوع ہیں۔
۱۲علامہ شامی ردالمحتا رمیں فرماتے ہیں :
اطال ذلك فی المعراج وقال وھذہ الافعال کلھا للسمعۃ والریاء فیتحرز عنھا ۔
یعنی ۱۳معراج الدرایہ شرح ہدایہ نے اس مسئلہ میں بہت طویل کلام کیا اور فرمایا : یہ سب ناموری اور دکھاوے کے کام ہیں ان سے احتراز کیا جائے۔
۱۴جامع الرموز آخر الکراھیۃ میں ہے :
یکرہ الجلوس للمصیبۃ ثلثۃ ایام اواقل فی
یعنی تین دن یا کم تعزیت لینے کے لیے مسجد میں بیٹھنا منع
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکراہیۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ٤ / ٣٤٢
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الکراہیۃ منشی نولکشور لکھنؤ ٤ / ٧٨١
تبیین الحقائق فصل فی تعزیۃ اہل البیت مطبعہ کبرٰی امیریہ مصر ١ / ٢٤٦
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی ہندیہ الخامس والعشرون فی الجنائز نورانی کتب خانہ پشاور ٤ / ٨١
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مطلب فی کراہیۃ الضیافۃ الخ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر ١ / ٢٠٣
ہے اور ان دنوں میں ضیافت بھی ممنوع اور اس کا کھانا بھی منع ہے جیسا کہ ۱۵خیرۃ الفتاوی میں تـصریح کی۔
اور ۱۶فتاوی انقروی اور ۱۷واقعات المفتین میں ہے :
یکرہ اتخاذ الضیافۃ ثلاثۃ ایام واکلہا لانہا مشروعۃ للسرور
تین دن ضیافت اور اس کا کھانا مکروہ ہے کہ دعوت تو خوشی میں مشروع ہوئی ہے۔
۱۸کشف الغطاء میں ہے :
ضیافت نمودن اہل میت اہل تعزیت راوپختن طعام برائے آنہا مکروہ ست۔ باتفاق روایات چہ ایشاں رابہ سبب اشتغال بمصیبت استعداد وتہیہ آن دشوار است ۔
تعزیت کرنے والوں کے لیے اہل میت کا ضیافت کرنا اور کھانا پکانا باتفاق روایات مکروہ ہے اس لیے کہ مصیبت میں مشغولی کی وجہ سے ا س کا اہتمام ان کے لیے دشوار ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
پس انچہ متعارف شدہ از پختن اہل مصیبت طعام را درسوم وقسمت نمودن آن میان اہل تعزیت واقران غیر مباح ونامشروع است وتصریح کردہ بداں در خزانہ چہ شرعیت ضیافت نزد سرور ست نہ نزد شرور وھو المشہور عند الجمہور ۔
تو یہ رواج پڑگیا ہے کہ تیسرے دن اہل میت کا کھانا پکاتے ہیں اور اہل تعزیت اور دوستوں کو بانٹتے کھلاتے ہیں ناجائز وممنوع ہے۔ خزانۃ میں اس کی تصریح ہے اس لیے کہ شرع میں ضیافت خوشی کے وقت رکھی گئی ہے مصیبت کے وقت نہیں اور یہی جمہور کے نزدیك مشہور ہے۔ (ت)
ثانیا غالبا ورثہ میں کوئی یتیم یااور بچہ نابالغ ہوتا ہے۔ یا اور ورثہ موجود نہیں ہوتے نہ ان سے اس کا اذن لیاجاتا ہے جب تو یہ امر سخت حرام شدید پر متضمن ہوتا ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
الذین یاكلون اموال الیتمى ظلما انما یاكلون فی بطونهم نارا-و سیصلون
بیشك جو لوگ یتیموں کے مال ناحق کھاتے ہیں بلاشبہہ وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھرتے ہیں اور قریب ہے
فتاوٰی انقرویہ کتاب الکراہیۃ والاستحسان دارالاشاعت العربیۃ قندھار ١ / ٣٠
کشف الغطاء فصل نہم تعزیت ص٧٤
کشف الغطاء فصل نہم تعزیت ص٧٤
کہ جہنم کے گہراؤ میں جائیں گے۔
مال غیر میں بے اذن غیر تصرف خود ناجائز ہے قال تعالی : و لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل (اپنے مال آپس میں ناحق نہ کھاؤ۔ ت)خصوصا نابالغ کا مال ضائع کرنا جس کا اختیار نہ خود اسے ہے نہ اس کے باپ نہ اسے کے وصی کو لان الولایۃ للنظر لاللضرر علی الخصوص (اس لیے کہ ولایت فائدے میں نظر کے لیے ہے نہ کہ معین طور پر ضرر کے لیے۔ ت) اور اگر ان میں کوئی یتیم ہوا تو آفت سخت تر ہے والعیاذ باﷲ رب العالمین ۔ ہاں اگر محتاجوں کے دینے کو کھانا پکوائیں توحرج نہیں بلکہ خوب ہے۔ بشرطیکہ یہ کوئی عاقل بالغ اپنے مال خاص سے کرے یا ترکہ سے کریں تو سب وارث موجود و بالغ وراضی ہوں خانیہ وبزازیہ وتتارخانیہ وہندیہ میں ہے :
ان اتخذ طعا ماللفقراء کان حسنا اذاکانت الورثۃ بالغین وان کان فی الورثہ صغیر لم یتخذوا ذلك من الترکۃ ۔
اگر فقراء کے لیے کھانا پکوائے تواچھا ہے جب کہ سب ورثہ بالغ ہوں اور اگر کوئی وارث نابالغ ہو تو یہ ترکہ سے نہ کریں۔ (ت)
نیز فتاوی قاضی خاں میں ہے :
ان اتخذ ولی المیت طعاما للفقراء کان حسنا الاان یکون فی الورثۃ صغیر فلا یتخذ ذلك من الترکۃ ۔
ولی میت اگر فقراء کے لیے کھانا تیار کرائے تو اچھا ہے۔ لیکن ورثہ میں اگر کوئی نابالغ ہو تو ترکہ سے یہ کام نہ کرے۔ (ت)
ثالثا یہ عورتیں کہ جمع ہوتی ہیں افعال منکرہ کرتی ہیں مثلا چلا کر رونا پیٹنا بناوٹ سے منہ ڈھانکنا الی غیر ذلک او ر یہ سب نیاحت ہے اور نیاحت حرام ہے ایسے مجمع کے لیے میت کے عزیزوں اور دوستوں کو بھی جائز نہیں کہ کھانا بھیجیں کہ گناہ کی امداد ہوگی قال تعالی : و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- (گناہ اور زیادتی پر ایك دوسرے کی مدد نہ کرو۔ ت) نہ کہ اہل میت کا اہتمام طعام کرنا کہ سرے سے ناجائز ہے تواس
القرآن ٢ / ١٨٨
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی عشرفی الہدایا والضیافات نورانی کتب خانہ پشاور ٥ / ٣٤٤
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ منشی نولکشور لکھنؤ ٤ / ٧٨١
القرآن ٥ / ٢
ساختن طعام در روز ثانی وثالث برائے اہل میت اگر نوحہ گراں جمع باشند است زیرا کہ اعانت است ایشاں را برگناہ ۔
اگر نوحہ کرنے والیا ں جمع ہوں تواہل میت کے لیے دوسرے تیسرے دن کھانا پکوانا مکروہ ہے کیونکہ اس میں گناہ پر اعانت ہے۔ (ت)
رابعا اکثر لوگوں کواس رسم شنیع کے باعث اپنی طاقت سے زیادہ ضیافت کرنی پڑتی ہے یہاں تك کہ میت والے بیچارے اپنے غم کو بھول کر اس آفت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اس میلے کے لیے کھانا پان چھالیا کہاں سے لائیں اور بار ہا ضرورت قرض لینے کی پڑتی ہے۔ ایسا تکلف شرع کو کسی امر مباح کے لیے بھی زنہار پسند نہیں نہ کہ ایك رسم ممنوع کے لیے پھراس کے باعث جو دقتیں پڑتی ہیں خود ظاہر ہیں پھر اگر قرض سودی ملا تو حرام خالص ہوگیا اور معاذ اﷲ لعنت الہی سے پورا حصہ ملے کہ بے ضرورت شرعیہ سود دینا بھی سود لینے کے باعث لعنت ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا۔ غرض اس رسم کی شناعت وممانعت میں شك نہیں اﷲ عزوجل مسلمانوں کو توفیق بخشے کہ قطعا ایسی رسوم شنیعہ جن سے ان کے دین ودنیا کا ضرر ہے ترك کردیں اور طعن بیہودہ کا لحاظ نہ کریں واﷲ الھادی۔
تنبیہ : اگر چہ صرف ایك دن یعنی پہلے ہی روز عزیزوں کوہمسایوں کو مسنون ہے کہ اہل میت کے لیے اتنا کھانا پکوا کر بھیجیں جسے وہ دو وقت کھا سکیں اور باصرار انھیں کھلائیں مگریہ کھانا صرف اہل میت ہی کے قابل ہونا سنت ہے۔ اس میلے کے لیے بھیجنے کا ہر گز حکم نہیں اور ان کے لیے بھی فقط روز اول کا حکم ہے آگے نہیں کشف الغطاء میں ہے :
مستحب است خویشاں وہمسایہائے میت راکہ اطعام کنندطعام رابرائے اہل وے کہ سیر کند ایشاں رایك شبانہ روز والحاح کنند تابخورند ودرخوردن غیر اہل میت ایں طعام رامشہور آنست کہ مکروہ است اھ ملخصا
میت کے عزیزوں ہمسایوں کے لیے مستحب ہے کہ اہل میت کے لیے اتنا کھانا پکوائیں جسے ایك دن رات وہ سیر ہوکر کھاسکیں اور اصرار کر کے کھلائیں غیر اہل میت کے لیے یہ کھانا قول مشہور کی بنیاد پر مکروہ ہے اھ ملخصا! (ت)
عالمگیری میں ہے :
حمل الطعام الی صاحب المصیبۃ والاکل
اہل میت کے یہاں پہلے دن کھانا لے جانا اور ان کے
کشف الغطاءفصل نہم تعزیت ص٧٤
ساتھ کھانا جائز ہے کیونکہ وہ جنازے میں مشغول رہتے ہیں اور اس کے بعد مکروہ ہے۔ ایسا ہی تتارخانیہ میں ہے : واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۲۶۷ تا۲۶۸ : از ایرایاں محلہ سادات ضلع فتحپور مسؤلہ حکیم سید نعمت اﷲ صاحب محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
() سوم ودہم وچہلم میت کے لیے کھانا جو پکتا ہے اس کو برادری کو کھلائے اور خود جاکر کھائے توجائز ہے بعض کہتے ہیں کہ تین روز کے اندر میت کے گھر کا نہ کھائے بعد کو جائز ہے۔ یہ تفریق صحیح ہےاگر صحیح ہے تو وجہ ما بہ الفرق ارشاد ہو ۔
() مقولہ طعام المیت یمیت القلب (طعام میت دل کو مردہ کردیتا ہے۔ ت) مستند قول ہے۔ اگر مستند ہے توا س کے کیا معنی ہیں
الجواب
() سوم دہم وچہلم وغیرہ کا کھانا مساکین کو دیا جائے برادری کو تقسیم یا برادری کے جمع کرکے کھلانا بے معنی ہے۔ کما فی مجمع البرکات (جیسا کہ مجمع البرکات میں ہے۔ ت) موت میں دعوت ناجائز ہے۔ فتح القدیر وغیرہ میں ہے :
انھا بدعۃ مستقبحۃ لانھا شرعت فی السرور لافی الشرور ۔
وہ بری بدعت ہے کیونکہ دعوت کو شریعت نے خوشی میں رکھا ہے غمی میں نہیں۔ (ت)
تین دن تك اس کا معمول ہے۔ لہذا ممنوع ہے۔ اس کے بعد بھی موت کی نیت سے اگر دعوت کرے گا ممنوع ہے۔
() یہ تجربہ کی بات ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ جو طعام میت کے متمنی رہتے ہیں ان کا دل مرجاتا ہے۔ ذکروطاعت الہی کے لیے حیات وچستی اس میں نہیں رہتی کہ وہ اپنے پیٹ کے لقمہ کے لیے موت مسلمین کے منتظر رہتے ہیں اور کھانا کھاتے وقت موت سے غافل اور اس کی لذت میں شاغل۔ واﷲ تعالی اعلم
فتح القدیر فصل فی الدفن مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ١٠٢ ، مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی فصل فی حملہا ودفنہا نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۳۹
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص مرے ا وراس کے گھر والے چہلم کا کھاناپکائیں اور جو برادر یا غیر ہوں ان سے کہیں کہ تمھاری دعوت ہے تووہ دعوت قبول کی جائے یانہیں اور کھانا کیساہے ینوتوجروا
الجواب :
اللھم ہدایۃ الحق والصواب۔ عرف پر نظر شاہد کہ چہلم وغیرہ کے کھانے پکانے سے لوگوں کا اصل مقصود میت کوثواب پہنچانا ہوتا ہے اسی غرض سے یہ فعل کرتے ہیں ولہذا اسے فاتحہ کا کھانا چہلم کی فاتحہ وغیرہ کہتے ہیں شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر فتح العزیز میں فرماتے ہیں :
وارد ست کہ مردہ دریں حالت مانند غریقے است کہ انتظار فریادرسی مے بردو صدقات وادعیہ وفاتحہ درین وقت بسیار بکار اومی اید ازیں ست کہ طوائف بنی آدم تایك سال وعلی الخصوص تایك چلہ بعد موت درین نوع امداد کوشش تمام می نمایند۔
وار د ہے کہ مردہ اس حالت میں کسی ڈوبنے والے کی طرح فریاد رسی کا منتظر ہوتا ہے اور اس وقت میں صدقے دعائیں اور فاتحہ اسے بہت کام آتی ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ مرنے سے ایك سال تك خصوصا چالیس دن تك اس طرح مدد پہنچانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں (ت)
اور شك نہیں کہ اس نیت سے جو کھانا پکایا جائے مستحسن ہے اور عند التحقیق صرف فقراء ہی پر تصدق میں ثواب نہیں بلکہ اغنیاء پر بھی مورث ثواب ہے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : فی کل ذات کبد رطبۃ اجر ہر گرم جگر میں ثواب ہے یعنی زندہ کو کھانا کھلائے گا پانی پلائے گا ثواب پائے گا۔ اخرجہ البخاری ومسلم عن ابی ھریرۃ واحمد عن عبداﷲ بن عمروہ ابن ماجۃ عن سراقۃ بن مالك رضی اﷲ عنہم (اسے بخاری ومسلم نے حضرت ابو ہریرہ سے امام احمد نے حضرت عبداﷲ بن عمرو سے اور ابن ماجہ نے حضرت سراقہ بن مالك سے روایت کیا رضی اللہ تعالی عنہم۔ ت)حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
فیما یاکل ابن آدم اجر وفیما یاکل
جو کچھ آدمی کھا جائے اس میں ثواب ہے اور جو
سنن ابن ماجہ باب فضل صدقہ الماء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٢٧٠
درندہ کھا جائے اس میں ثواب ہے جو پرند کو پہنچے ا س میں ثواب ہے (حاکم نے اسے حضرت جا بر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا اور اس کی سند کو صحیح کہا۔ ت)
بلکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مااطعمت زوجك فھو لك صدقۃ ومااطعمت ولدك فھو لك صدقۃ ومااطعمت خادمك فھو لك صدقۃ وما اطعمت نفسك فھو لك صدقۃ۔ اخرجہ الامام احمد والطبرانی فی الکبیر بسند صحیح عن المقدام بن معدی کرب رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جو کچھ تو اپنی عورت کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے اور جو کچھ تو اپنے بچوں کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے اور جو کچھ تو خود کھائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے (اسے امام احمد نے مسند میں اور طبرانی نے کبیر میں بسند صحیح حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔ ت)
ردالمحتار میں ہے :
صرح فی الذخیرۃ فیھا ولو علی غنی لان المقصود فیھا الفقیر ۔
ذخیرہ میں صراحت ہے کہ غنی پر صدقہ کرناایك طرح کی قربت ہے جس کا درجہ فقیرپر تصدق کی قر بت سے کم ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
الصدقۃ لا رجوع فیھا ولو علی غنی لان المقصود فیھا الثواب ۔
صدقہ سے رجوع نہیں ہوسکتا اگر چہ غنی پر ہو اس لیے کہ اس کا مقصود ثواب ہوتا ہے۔ (ت)
اسی طرح ہدایہ وغیرہ میں ہے____ مجمع بحارالانوار میں توسط شرح سنن ابی داؤد سے ہے :
الصدقۃ ماتصدقت بہ علی الفقراء ای غالب
صدقہ وہ ہے جو تم فقراء پر تصدق کرو یعنی صدقہ کی
المعجم الکبیر مروی از مقدام بن معدی کرب حدیث ٦٣٤ مکتبہ فیصلیہ بیروت ٢٠ / ٢٦٨ ، مسند احمد بن حنبل حدیث المقدام بن معدیکرب دارالفکر بیروت ٤ / ١٣١
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ٣ / ٣٥٧
درمختار فصل فی مسائل متفرقہ من کتاب الھبہ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ١٦٦
اکثر قسمیں فقراء ہی پر ہوتی ہیں کیونکہ ہمارے نزدیك غنی پر بھی صدقہ جائز ہے بلاخلاف ا س پر وہ مستحق ثواب ہے۔ (ت)
اور مدار کار نیت پر ہے انما الاعمال بالنیات۔ تو جوکھانا فاتحہ کے لیے پکایا گیا ہے بلاتے وقت اسے بلفظ دعوت تعبیر کرنا اس نیت کوباطل نہ کرے گا جیسے کسی نے اپنے محتاج بھائی بھتیجوں کو عید کے کچھ روپیہ دل میں زکوۃ کی نیت اور زبان سے عیدی کا نام لے کر کے دئے تو زکوۃ ادا ہوجائے گی عیدی کہنے سے وہ نیت باطل نہ ہوگی کما نصوا علیہ فی عامۃ الکتب ( جیسا کہ عامہ کتب میں علماء نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔ ت) معہذا اپنے قریبوں عزیزوں کے مواسات بھی صلہ رحم وموجب ثواب ہے اگر چہ وہ اغنیاء ہوں وقد عرف ذلك فی الشرع بحیث لا یخفی الاعلی جاھل ( جیساکہ شریعت میں یہ ایسا معروف ہے کہ کسی جاہل ہی سے مخفی ہوگا ۔ ت) او رآدمی جس امر پر خود ثواب پائے وہ فعل کوئی فعل ہو اس کا ثواب میت کو پہنچا سکتا ہے۔ کچھ خاص تصدق ہی کی تخصیص نہیں کما تبین ذلك فی کتب اصحابنا رحمہم اﷲ تعالی ( جیسا کہ ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالی کی کتابوں میں یہ روشن ہوچکا ہے۔ ت) امام عینی بنایہ میں فرماتے ہیں :
الاصل ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوۃ اوصوما اوصدقۃ اوغیرھا ش کالحج وقرا ءۃ القران والاذکار وزیارۃ قبور الانبیاء والشھداء والاولیاء والصالحین وتکفین الموتی وجمیع انواع البر والعبادۃ کالزکوۃ والصدقۃ والعشور والکفارات ونحوھا اوبدنیۃ کالصوم والصلوۃو الاعتکاف وقراءۃ القران و الذکر والدعاء اومرکبۃ منھا کالحج والجھاد وفی البدائع جعل الجھاد من البدنیات وفی المبسوط جعل المال فی الحج
اصل یہ ہے کہ انسان اپنے کسی عمل کا ثواب دوسرے کے لیے کرسکتا ہے نماز ہو یا روزہ یا صدقہ یا اس کے علاوہ ہدایہ۔ جیسے حج تلاوت قرآن اذکار انبیاء شہداء اولیاء اور صالحین کے مزارات کی زیارت مردے کو کفن دینا اور نیکی وعبادت کی تمام قسمیں جیسے زکوۃ صدقہ عشر کفارہ اور ان کے مثل مالی عبادتیں یابدنی جیسے روزہ نماز اعتکاف تلاوت قرآن ذکر دعا یا دونوں سے مرکب جیسے حج اور جہاد ____ اور بدائع میں جہاد کو بدنی عبادتوں سے شمار کیا ہے اور مبسوط میں مال کو حج کے وجوب کی شرط بتایا ہے تو حج مالی وبدنی سے مرکب نہیں بلکہ
صرف بدنی عبادت ہوا۔ کہا گیا یہ درستی سے زیادہ قریب ہے۔ اسی لیے مکی کے حق میں مال کی شرط نہیں جبکہ وہ عرفات تك پیادہ جانے پر قادر ہو تو جب مذکورہ عبادات میں سے اپنی ادا کی ہوئی کسی عبادت کاثواب کوئی شخص دوسرے کے لیے کردے تو وہ اسے پہنچے گا اور اس سے اس کو فائدہ ملے گا۔ جسے ہدیہ کیا ہے وہ زندہ ہو یا وفات پاچکاہو اھ بنایہ۔ ہم نے شرح کی یہ طویل عبارت اس لیے نقل کردی کہ اس میں متعدد فوائد ہیں۔ (ت)
یوں بھی اس نیت محمود میں کچھ خلل نہیں اگرچہ افضل وہی تھا کہ صرف فقراء پر تصدق کرتے کہ جب مقصود ایصال ثواب تو وہی کام مناسب تر جس میں ثواب اکثر و وافر پھر بھی اصل مقصود مفقود نہیں جبکہ نیت ثواب پہنچانا ہے۔ ہاں جسے یہ مقصود ہی نہ ہو بلکہ دعوت و مہمان داری کی نیت سے پکائے جیسے شادیوں کا کھانا پکاتے ہیں توا سے بے شك ثواب سے کچھ علاقہ نہیں نہ ایسی دعوت شرع میں پسند نہ اس کا قبول کرنا چاہئے کہ ایسی دعوتوں کا محل شادیاں ہیں نہ کہ غمی۔ ولہذا علماء فرماتے ہیں کہ یہ بدعت سیئہ ہے جس طرح میت کے یہاں روز موت سے عورتیں جمع ہوتی ہیں اور ان کے کھانے دانے پان چھالیا کا اہتمام میت والوں کو کرنا پڑتا ہے۔ وہ کھانا فاتحہ وایصال ثواب کا نہیں ہوتا بلکہ وہی دعوت ومہمان داری ہے کہ غمی میں جس کی اجازت نہیں کما بیناہ ذلك فی فتاونا (جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ ت)
یوں ہی چہلم یا برسی یا ششماہی پرکھانا بے نیت ایصال ثواب محض ایك رسمی طور پر پکاتے اور شادیوں کی بھاجی کی طرح برادری میں بانٹتے ہیں ۔ وہ بھی بے اصل ہے جس سے احتراز چاہئے ایسے ہی کھانے کو شیخ محقق مولانا عبدالحق صاحب محدث دہلوی مجمع البرکات میں فرماتے ہیں :
آنچہ بعد از سالے یا ششماہی یا چہل روز درین دیار پزند درمیان برادران بخشش کنند چیزے داخل اعتبار نیست بہتر آنست کہ نخورند اھ۔ ھکذا نقل عنہ
وہ جو اس دیارمیں ایك سال یا چھ ماہ پر پکاتے اور برادری میں بانٹتے ہیں کوئی معتبر چیز نہیں بہتر یہ ہے کہ نہ کھائیں اھ ____ اسی طرح ان سے شیخ الاسلام
مجمع البرکات
نے کشف الغطاء میں نقل کیا ہے (ت)
خصوصا جب اس کے ساتھ ریاء وتفاخر مقصود ہو کہ جب تواس فعل کی حرمت میں اصلا کلام نہیں۔ اور حدیث صحیح میں ہے :
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن طعام المتباریین ان یوکل اخرجہ ابوداؤد والحاکم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما باسناد صحیح۔ قال المناوی ای المتعارضین بالضیافۃ فخر ا و ریاء لانہ للریاء لاﷲ ۔
یعنی جو کھانے تفاخر و ریاء کے لیے پکائے جاتے ہیں ان کے کھانے سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے منع فرمایا۔ (اسے ابوداؤد او رحاکم نے بسند صحیح حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنمہا سے نقل کیاہے۔ ت) امام مناوی نے کہا یعنی ضیافت کے ذریعہ ناموری اور دکھاوا مقصود ہو تو یہ اﷲ تعالی کے لیے نہیں دکھاوے کے لیے ہے۔ (ت)
مگر بے دلیل واضح کسی مسلمان کا یہ سمجھ لینا کہ یہ کام اس نے تفاخر و ناموری کے لیے کیا ہے جائز نہیں کہ قلب کا حال اﷲ تعالی جانتاہے اورمسلمان پر بدگمانی حرام۔
ھذا ھو بحمد اﷲ القول الوسط لاوکس فیہ ولاشطط وان خالف من فرط فی الباب و افرط واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
یہ بحمد اﷲ درمیانی قول ہے جس میں نہ کمی ہے نہ زیادتی ۔ اگر چہ اس باب میں تفریط اورافراط کرنے والوں کے خلاف ہو۔ اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے (ت)
مسئلہ ۲۷۰ : ۳ربیع الآخر شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میت کے گھر کا کھانا جو اہل میت سوم تك بطور مہمانی کے پکاتے ہیں اور سوم کے چنوں بتاشوں کالینا کیسا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
میت کے گھر کا وہ کھانا تو البتہ بلا شبہہ ناجائز ہے جیسا کہ فقیرنے اپنے فتوے میں مفصلا بیان کیا اور سوم کے چنے بتاشے کہ بغرض مہمانی نہیں منگائے جاتے بلکہ ثواب پہنچانے کے قصد سے ہوتے ہیں یہ اس حکم میں داخل نہیں نہ میرے اس فتوے میں ان کی نسبت کچھ ذکر ہے۔ یہ اگر مالك نے صرف محتاجوں کے دینے کے لیے منگائے اور یہی اس کی نیت ہے تو غنی کو ان کا بھی لینا نا جائز اور اگر اس نے حاضرین پر تقسیم کے لیے منگائے تو اگر غنی بھی لے لے گاتو گنہگار نہ ہوگا اور یہاں بحکم عرف ورواج عام حکم یہی ہے کہ وہ خاص مساکین کے لیے نہیں ہوتے
فیض القدیرشرح الجامع الصغیر زیرحدیث مذکور ٩٤٩١ دارالمعرفۃ بیروت ٦ / ٣٣٥ ، التیسیر شرح الجامع الصغیر زیر حدیث مذکو ر مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ٢ / ٤٧٤
مسئلہ ۲۷۱ : ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی موت اپنی حیات میں کردی ہے تو اس صورت میں ہندہ کو کب تك دوسرے کے یہاں کی میت کا کھانا نہیں چاہئے اور اگر ہندہ کے گھر میں کوئی مرجائے توا س کا بھی کھانا جائز ہے اور کب تك یعنی برسی تك یا چالیس دن تک۔ اور اگر ہندہ نے شروع سے جمعرات کی فاتحہ نہ دلائی ہو تو چالیس دن کے بعد سات جمعرات کی فاتحہ دلانا چاہئے ہوسکتی ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
میت کے یہاں جو لوگ جمع ہوتے ہیں او ران کی دعوت کی جاتی ہے اس کھانے کی تو ہر طرح ممانعت ہے اور بغیر دعوت کے جمعراتوں چالیسویں چھ ماہی برسی میں جو بھاجی کی طرح اغنیاء کو بانٹا جاتا ہے وہ بھی اگر چہ بے معنی ہے مگر اس کا کھانا منع نہیں بہتر یہ ہے کہ غنی نہ کھائے اور فقیر کو تو کچھ مضائقہ نہیں کہ وہی اس کے مستحق ہیں اور ان سب احکام میں وہ جس نے اپنی موت اپنی حیات میں کردی اور جس نے نہ کی سب برابر ہیں اور اپنی یہاں موت ہوجائے تو اپنا کھانا کھانے کی کسی کو ممانعت نہیں اور چالیس دن کے بعد بھی جمعراتیں ہوسکتی ہیں اﷲ کے لیے فقیروں کو جب او رجو کچھ دے ثواب ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
الحمد ﷲ الذی خلق الانسان٭ علمہ البیان٭ واعطاہ سمعا وبصرا وعلمافزان٭ وجعلہ مظھر الصفات الرحمن٭ ولم یجعلہ معدوما بفناء الابدان٭ والصلوۃ والسلام الاتمان الاکملان٭ علی السمیع البصیر العلیم الخبیر الملك المستعان٭ المولی الکریم الرؤف الرحیم العظیم الشان٭ سیدنا ومولنا محمد النافذ حکمہ فیك عوالم الامکان٭ وعلی الہ وصحبہ وابنہ الغوث الباھر السلطان٭ الحی المنعم فی القبر المکرم
تمام تعریفیں اﷲ کے لیے جس نے انسان کو پیدا کیا۔ اسے بیان سکھایا۔ اسے سماعت بصارت اور علم دے کر سنوارا۔ اسے رحمان کی صفات کا مظہر بنایا۔ اور بدنوں کے فناہونے سے اس کو معدوم نہ فرمایا اورزیادہ تام وکامل تر درود وسلام ہو ان پر جو سننے دیکھنے جاننے خبردینے والے سلطان ہیں جن سے مدد مانگی جاتی ہے۔ جو کریم آقا بڑے مہربان رحم کرنے والے بڑی شان والے ہیں ہمارے سردار اور ہمارے آقا حضرت محمد جن کا حکم امکان کے جہانوں میں نافذ ہے اور ان کی آل واصحاب اور ان کے
فرزند روشن دلیل والے غوث والے پر جو بہت احسان فرمانے والے رب کے فضل سے قبر مکرم میں زندہ انعام یافتہ ہیں اور میں شہادت دیتاہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے جس کا کوئی شریك نہیں ایسی شہادت جس سے جزا دینے والے رب کو تحیت پیش کی جائے۔ اور میں شہادت دیتاہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ایسی شہادت جو ہمیں رضوان کے مقامات میں اتارے۔ توخدا کا درود وسلام اور برکت وانعام ہو اس محبوب پر جو التجا کے لیے قریب منزل ارتقا میں بلند مرتبے والے ہیں اور ان کی آل و اصحاب وعیال اور علم وعرفان والی جماعت پر اور ان کے ساتھ ان کے طفیل ان کے سبب ہم پر بھی اے بزرگ احسان جمیل امتنان والے قبول فرما قبول فرما اے معبود برحق قبول فرما! (ت)
امابعد! یہ معدود سطریں ہیں یا منضود سلکین تنقیح مسئلہ علم وسماع موتی وطلب دعا بمشاہد اولیاء ہیں جنھیں افقرالفقراء احقر الوری عبد المصطفی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی اصلح اﷲ عملہ وحقق املہ نے وائل ماہ رجب ۱۳۰۵ ہجری کی چند تاریخوں میں رنگ تحریر دیا اور بلحاظ تاریخ حیاۃ الموات فی بیان سماع الوصال (۱۳۰۵ھ) سے مسمی کیا اس سے پہلے کہ فقیر غفرلہ نے چند کلمے مسمی بہ الاھلال بفیض الاولیاء بعد الوصال (ھ) جمع کئے تھے ان کے اکثر مطالب ومضامین بھی اس رسالہ کے بعض انواع وفصول میں مندرج ہوئے۔ اب یہ عجالہ نہ صرف علم وسماع موتی کا ثبوت دے گا بلکہ بحول اﷲ تعالی خوب واضح کرے گا کہ حضرات اولیاء بعد الوصال زندہ اور ان کے تصرف وکرامات پایندہ اور ان کے فیض بدستور جاری اور ہم غلاموں خادموں محبوں معتقدوں کے ساتھ وہی امداد واعانت ویاری والحمد ﷲ القدیر الباری۔
یہ رسالہ حق سے متصل باطل سے منفصل مقدمہ وسہ مقصد وخاتمہ پر مشتمل وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ھو مولنا وعلیہ التعویل۔
مقدمہ باعث تالیف میں سلخ جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ھ کو ایك مسئلہ بغرض تصدیق واظہارا دعائے طلب تحقیق فقیر کے پاس آیا صورت سوال یہ تھی :
اس پر بعض اجلہ مخادیم کا جواب مزین بمہر ودستخط جناب تھا۔ جس میں صاف صاف صورت مذکورہ کو شرك اور ادنی درجہ شائبہ شرك قرار دیا اور دلیل میں ایك نئے طور پر اصحاب قبور کے انکار سماع بلکہ استحالہ و امتناع سے کام لیا تحریر شریف یہ ہے : بسم اﷲ الرحمن الرحیم اس میں شك نہیں کہ زیارت قبور مومنین خاصہ بزرگان دین اور پڑھنا درود شریف اور سورہ فاتحہ وغیرہ کا اور ثواب خیرات اموات کو بخشنا مندوب ومسنون ہے۔ جس پر حدیث شریف جناب سید الثقلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور فزورھا ۔
میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا تو اب تم ان کی زیارت کرو۔ (ت)
نص صریح ناطق لیکن بزرگان اہل قبور کو خطاب طلب دعائے حاجت روائی خود کرنا خالی از شائبہ وشبہہ شرك نہیں۔ کیونکہ جب درمیان زائر اور مقبور کے حجب عدیدہ سمع وبصر حائل تو سماع اصوات اور بصارت صورمحال اگر چہ بعض اموات کو بوجہ عــــہ۲ قطع تعلق ازمادہ زیادت عــــہ۳ ادراك بھی حاصل ہو لیکن یہ مستلزم اس کو نہیں بلاتوجہ خاص جس کا
عــــہ۱ : صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
عــــہ۲ : عجیب لطیفہ غیبی اقول : وباﷲ التوفیق ذی علم اگر چہ لغزش کریں پھر بھی سخن حق ان کے کلام میں اپنی جھلك دکھا ہی جاتا ہے یہ بوجہ مولوی صاحب نے ایسے فرمائے جس نے مذہب حق کی وجہ موجہ ظاہر کردی۔ میں عرض کروں جب زیارت ادراك کی وجہ علائق مادی کا انقطاع ہے تو وہ عموما ہر میت کو حاصل (باقی اگلے صفحہ پر)
و ما یؤمن اكثرهم بالله الا و هم مشركون(۱۰۶) ۔
اورا ن میں اکثر خدا کو نہیں مانتے مگر شرك کرتے ہوئے۔ (ت)
اور حدیث شریف میں ہے :
من حلف بغیر اﷲ فقد اشرك ۔
جس نے غیر خدا کی قسم کھائی اس نے شرك کا کام کیا۔ (ت)
اور اس حرمت کا سبب سوائے اس کے نہیں کہ حالف کی اس قسم غیر خدا سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ اپنے عقیدے میں غیر خدا کو بھی ضرر رسان جانتا ہے جو معنی شرك ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
اس جواب کو دیکھ کر زیادہ تر حیرت یہ ہوئی کہ مولوی صاحب کی کوئی تحریر ان خلاف محدثہ میں آج تك نظر سے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)کہ موت خود اسی قطع تعلق مادی کا نام ہے تو بعض اموات کی تخصیص محض بے وجہ بلکہ تمام اموات کو حاصل ہونا چاہئے اور بیشك ایسا ہے۔ اسی لیے اکابر محققین تصریح فرماتے ہیں کہ موت کے بعد کا ادراك بہ نسبت ادراك حیات کے صاف تراور روشن تر ہے۔ مقصد اخیر میں اس کی بعض تصریحیں آئیں گی زیادہ نہیں تو نوع دوم مقصد سوم مقال چہارم میں شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کا قول ملاحظہ ہوجائے۔ منہ
عــــہ۳ : مولوی صاحب اس کلام سے شاہ عبدالعزیز صاحب کے اس قول کی طرف مشیر ہیں جس کاایك پارہ نوع مقصد مقال میں مذکور ہوگا۔ اور تتمہ جس نے آدھی وہابیت کا کام تمام کردیا عنقریب سوال میں آتا ہے ان شاء اﷲ تعالی اس میں شاہ عبدالعزیز صاحب نے شائبہ شبہہ ثابت ماناہے کہ اﷲ تعالی بعض اولیائے کرام کے مدارك کو ایسی وسعت دیتاہے مولوی صاحب کے لفظ یہاں ایسے واقع ہوئے جو اقرار وانکار دونوں کا پہلو دیں خیر اگر شاہ صاحب کوا س قول میں خاطی پائیں اور اپنی اگر چہ کو اساغت یا فرض ہی پر محمول رکھیں تاہم ہمیں مضر نہیں نہ آپ کے کلام کی اصلاح کرسکتاہے کما ستری ان شاء اﷲ تعالی۔ منہ
مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲ بن عمر دارالمعرفہ بیروت ٢ / ٨٧
نوع اول اعتراضات مقصودہ میں___ شاید مولوی صاحب نام اعتراضات سے ناراض ہوں لہذا مناسب کہ پیرایہ سوال میں اعتراض ہوں۔
فاقول : وبہ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق (تو میں کہتا ہوں ا ور خداہی سے توفیق اور اسی کی
عــــہ : اصل مذہب سے کبرائے مذہب مولوی صاحب کی تصریح مراد ہے کہ میت جماد ہے منہ سلمہ ربہ
سوال () : جناب نے قبر کی مٹی حائل دیکھ کر آواز سننی صورت دیکھنی محال ٹھہرائی اس سے مراد محال عقلی یا شرعی یا عادی بر تقدیر اول کا ش کوئی برہان قاطع ا س کے استحالہ پر قائم فرمائی ہوتی۔ میں پوچھتا ہوں کہ اﷲ تعالی قادر ہے کہ یہ حائل مانع احساس نہ ہو اگر کہیے نہ تو ان الله على كل شیء قدیر(۱۰۹) (بیشك اﷲ تعالی ہر شے پر قادر ہے۔ ت) کا کیا جواب____ اورفرمائیے ہاں تو استحالہ کہاں ____ بر تقدیر ثانی آیات قرآنیہ و احادیث صحیحہ سے ثابت کیجئے کہ جب تك یہ حجاب حائل رہیں گے ابصار وسماع نہ ہوسکیں گے الفاظ شریفہ ملحوظ خاطر رہیں___ بر تقدیر ثالث عادت اہل دنیا مراد یا عادت اہل برزخ۔ در صورت اول کیا دلیل ہے کہ مانع دنیوی حائل برزخ بھی ہے۔ کیا جناب کے نزدیك برزخ دنیا کا ایك رنگ ہے اہل دنیا ملائکہ کو نہیں دیکھتے مگر بطور خرق عادت اور برزخ والے عموما دیکھتے ہیں حتی کہ کفار بھی۔ احادیث نکیرین چھپنے کی چیز نہیں درصورت دوم جناب نے یہ عادت اہل برزخ کیونکر جانی اموات نے تو آکر بیان ہی نہ کیا اور طریقے سے علم ہو ا توا رشاد ہو اور مامول کہ دعوی بتمامہا زیر لحاظ رہے۔
سوال () : اسی تشقیق سے احد الشقین الاولین مراد تو آپ ہی کا آخر کلام اس کا اول رادکہ محال عقلی صالح تعلق اذن نہیں اور محال شرعی سے ہر گز اذن متعلق نہ ہوگا وبر شق ثالث ا سکا اعتقاد ممکن کا اعتقاد کہ ہر محال عادی ممکن عقلی ہے اور شرك اعظم محالات عقلیہ کا اعتقاد تو اعتقاد ممکن عقلی کا شرك ہونا محال عقلی بین الفساد وبعبارۃ اخری اوضح واجلی (اور بعبارات دیگر زیادہ واضح وروشن ۔ ت) جناب کی پچھلی عبارت صاف گواہ کہ بعض اموات کوا یسی زیادت ادراك عطا ہوتی ہے کہ وہ تو جہ خاص کریں تو باذن اﷲ دعائے زائرین سن سکتے ہیں___ میں کہتا ہوں کہ اﷲ تعالی قادر ہے یا نہیں کہ یہ قوت انھیں ہروقت کے لیے بخشے____ برتقدیر انکار سخت مشکل افعیینا بالخلق الاول- (توکیا ہم پہلی تخلیق سے تھك گئے۔ ت) در صورت اقرار میت یہ وصف ملنے سے خدا کا شریك ہوگیا یا نہیں میں جانتاہوں ہاں نہ کہئے گا اور جب نہ کہ ٹھہری تو میں عرض کروں وہ وصف جس کے ثبوت سے خد اکی شرکت لا زم نہ آئی اس کے اثبات سے خدا کا شریك ہو نا کیونکر قرار پایا او رجس کی حقیقت شرك نہیں اس کا گویا شائبہ کیونکر ہوا
سوال () : کیا آدمی اسی کام کو حلال جانے جس کے بکار آمد ہونے پر یقین رکھتاہو باقی کو حرام سمجھے یاصرف امید کافی اگر چہ علم نہ ہو درصورت اولی واجب کہ نماز روزہ اور تمام اعمال حسنہ کوحرام جانیں کہ وہ بے قبول وبکار آمد نہیں اور
القرآن ۵۰ / ۱۵
سوال () : یہ تو ظاہر کہ سائل جن کے دروازوں پر سوال کرتے ہیں وہ ہر وقت فراخ دست نہیں ہوتے اب ان سائلوں کو حضرت کے اعتقاد میں ہر شخص کے حال خانہ پر اطلاع و وقوف ہے یا نہیں اگر کہے ہاں توجس طرح جناب کے نزدیك زا ئر بیچاروں نے حضرت اولیاء کو سمیع وبصیر علی الاطلاق مانا یونہی عــــہ۲ آپ نے ان بھیك مانگنے والوں جوگیوں سادھووں کو علیم وخبیر علی الاطلاق جانا۔ والعیاذ باﷲ سبحنہ وتعالی اور اگر فرمائیے نہ توجبکہ سائل بلاحصول علم مرتکب سوال ہوتے ہیں آپ کے طور پر گویا اہل بیوت کو معطی وقدیر علی الاطلاق قرار دیتے ہیں یا نہیں____ بر تقدیر اول واجب ہوا کہ سوال شرك نہ ہو تو ادنی درجہ شائبہ وشبہہ شرك ضرور ہو حالانکہ بہت اکابر علماء اولیاء نے وقت حاجت اس پر اقدام فرمایا ہے حضرت ابوسعید خراز قدس سرہ العزیز جن کی عظمت عرفان وجلالت شان آفتاب نیمروز سے اظہر ہنگامہ فاقہ ہاتھ پھیلاتے اور شیأ ﷲ فرماتے ___ یو نہی سیدالطائفہ جنید بغدادی کے استاد حضرت ابوحفص حداد وحضرت ابراہیم ادھم وامام سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہم اجمعین سے وقت ضرورت شرعیہ سوال منقول نقل کل ذلك العلامۃ المناوی فی التیسیر عــــہ۳ ( یہ سب علامہ مناوی نے تیسیر میں نقل کیا ہے۔ ت)کتب فقہیہ شاہد عادل کہ بعض صور میں علمائے کرام نے سوال فرض بتایا ہے۔ معاذاﷲ ! یہ آپ کے طور پر شرك یا شائبہ شرك فرض ہونا ہوگا۔ برتقدیر ثانی زائر بیچارہ بلا حصول علم
عــــہ : اگر تسلیم تحقیقی ہے توا مرظاہر اور بطور تجویزو تقدیر ہے۔ تویہی عرض کیا جاتا ہے کہ یہ صورت مان کرپھر اس کلام کی کیا گنجائش ہے۔ یہ نکتہ محفوظ رہنا چاہئے منہ
عــــہ۲ : تشبیہ مقصود بالذات ہے کہ یہ سوال نقض اجمالی ہے ورنہ ہمارے نزدیك نہ صرف اتنا علم وخبر مطلق نہ فقط اتنا سمع وبصرمطلق۔ منہ
عــــہ۳ : تحت قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من سأل من غیر فقر فکا نمایا کل الجمر منہ
زیر ارشاد رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : جس نے بغیر احتیاج کے سوال کیا گویا وہ اپنے پیٹ میں انگارے بھرتاہے ۱۲منہ (ت)
سوال () : جو شخص ایك جگہ خاص پر ہو کہ وہاں جاکر جس وقت بات کیجئے سن لے۔ اس قدر سے اسے سمیع علی الاطلاق کہا جائے گایا نہیں۔ اور اگر کہیے ہاں تو اپنے نفس نفیس کو سمیع علی الاطلاق مانیے ہم نے تو ہمیشہ یہی دیکھا ہے کہ دولت خانہ پر جا کر جب کسی نے بات کی ہے آپ کے کا ن تك پہنچی ہے۔ اور فرمائیے نہ۔ تو مزار پر جاکر سمیع علی الاطلاق جانا کیونکر سمجھا گیا!
سوال () : زمانہ وجود مخاطب کے استغراق ازمنہ باوصف خصوص مکان کو جناب نے مثبت سمع علی الاطلاق ٹھہرا یا تواستغراق ازمنہ وجود و امکنہ دنیا بدرجہ اولی موجب ہوگا۔ اب کیا جواب ہے اس حدیث سے کہ امام بخاری نے تاریخ میں اور طبرانی وعقیلی اور ابن النجار و ابن عساکر و ابوالقاسم اصبہانی نے عمار بن یا سر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی۔ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرماتے سنا :
ان ﷲ تعالی ملکا اعطاہ اسماع الخلائق (زاد الطبرانی کلھا) قائم علے قبری (زاد الی یوم القیمۃ) فما من احد یصلی صلوۃ الا ابلغنیھا ۔
بیشك اﷲ تعالی کا ایك فرشتہ ہے جسے خدا نے تمام جہاں کی بات سن لینی عطاکی ہے۔ وہ قیامت تك میری قبر پر حاضر ہے۔ جو مجھ پر درود بھیجتا ہے جو مجھ سے عرض کرتاہے۔ (ت)
علامہ زرقانی شرح مواہب اور علامہ عبدالرؤف شرح جامع صغیر میں اعطاہ اسماع الخلائق کی شرح میں یوں فرماتے ہیں :
ای قوۃ یقتد ربھا علی سماع ماینطق بہ کل مخلوق من انس وجن وغیرھما (زاد ا لمناوی فی ای موضع کان ۔
یعنی اﷲ تعالی نے اس فرشتے کو ایسی قوت دی ہے کہ انسان جن وغیر ہما تمام مخلوق الہی کی زبان سے جو کچھ نکلے اسے سب کے سننے کی طاقت ہے چاہے کہیں کی آواز ہو (ت)
اور دیلمی نے مسند الفردوس میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اکثر واالصلوۃ علی فان اﷲ تعالی وکل لی ملکا
مجھ پر درودبہت بھیجو کہ اﷲ تعالی نے میرے مزار پر
التیسیر شرح جامع الصغیر تحت ان اﷲ ملکا الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ٢ / ۳۳۰
اللھم صلی وبارك علی ھذا الحبیب المجتبی والشفیع المرتجی وعلی الہ واصحابہ واولیاء امتہ وعلماء ملتہ اجمعین صلوۃ تدوم بدوامك وتبقی ببقائك کما ھو اھل لہ وکما انت اھل لہ امین امین الہ الحق امین۔
ایك فرشتہ متعین فرمایا ہے جب کوئی امتی میرا مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ مجھ سے عرض کرتا ہے : یارسول اﷲ ! فلاں بن فلاں نے ابھی ابھی حضور پر درود بھیجی ہے (ت)
اے اﷲ! درود اور برکت نازل فرما اس حبیب پر جو برگزیدہ ہیں اور اس شفیع پر جن سے کرم کی امید ہے او ر ان کی آل اصحاب ان کی امت کے اولیاء ان کی ملت کے علماء سب پر ایسا درود جسے تیرے دوام کے ساتھ دوام اور تیری بقا کے ساتھ بقا ہو ایساد رود جس کے وہ اہل ہیں اور جو تیری شان کے لائق ہو قبول فرما قبول فرما اے معبود برحق قبول فر ما! (ت)
جاں می دہم درآرزو اے قاصد آخر بازگو
درمجلس آں نازنین حرفے گر از مامے رود
(اے قاصد! اس آرزو میں جان دے رہاہوں کہ اس محبوب کی مجلس میں پھر ایك بات پہنچادو اگر پہنچ سکے۔ ت)
بھلا ارشاد ہو۔ اولیاء کرام تو خاص حاضران مزار کی بات سننے پر سمیع علی الاطلاق ہوئے جاتے ہیں یہ بندہ خدا کہ بارگاہ عرش جاہ سلطانی صلوات اﷲ وسلامہ علیہ سے جدا نہیں ہوتا اور وہیں کھڑے کھڑے ایك وقت میں شرقا غربا جنوبا شمالا تمام دنیا کی آوازیں سنتاہے اسے کیا قرار دیا جائے گا۔ آپ کوتو کیا کہوں مگر ان نجدی شرك فروشوں نے نہ خدا کی قدرت دیکھی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو کیا کیا عطا فرماسکتاہے۔ نہ اس کی عظمت صفات سمجھی ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر شر ك کا ماتھا ٹھنکتا ہے۔ ما قدروا الله حق قدره- ( انھوں نے خداکی قدرت نہ جانی جیسا کہ ا س کی قدر کا حق تھا۔ ت)
سوال() : کیابات سننے کے لیے صورت دیکھنی بھی ضرور جب تو واجب کہ تمام اندھے بہرے ہوں اور فرشتہ مذکور آپ کے طور پر بصیر علے الاطلاق بلکہ اس سے بھی کچھ زائد ورنہ فقط خطاب کرنے سے بصیر ماننا کیونکر مفہوم
سوال () : بغرض لزوم سماع کلام کو مطلق بصر درکار۔ جو رویت مخاطب سے حاصل یابصرعلے الاول ملازمت باطل وعلی الثانی لازم کہ تمام مخلوق الہی بہری اور کسی بات کا سننا کسی غیر خدا کے لیے ماننا مطلقا مستلزم شرك ہو تو سب مشرك ہیں یا ہر ذی سمع بصیر علے الاطلاق تو آفت اشد ہے۔ والعیاذ باﷲ۔
سوال () : ان اولیاء کی زیاررت ادراك اگر اسے مستلزم نہیں کہ ہر کلام زائر سن لیں تو اسے بھی نہیں کہ سب کو نہ سنیں آپ خود عدم استلزام فرماتے ہیں نہ استلزام عدم تو دونوں صورت میں محتمل رہیں پھر ایك امر محتمل پر جزم شرك کیونکر ہوسکتا ہے غایت یہ کہ بے دلیل ہو تو غلط سہی کیا ہر غلط بات شرك ہوتی ہے!
سوال () : مجھے نہیں معلوم کہ قرآن عظیم میں ایك جگہ بھی بیان فرمایا ہو کہ مزارات پر جاکر کلام وخطاب کرنا شرك یاحرام ہے۔ یا اتناہی ارشادہو اہو۔ جو ایسا کرتا ہے گویا اصحاب قبور کو سمیع یا بـصیر علے الاطلاق مانتاہے۔ اور حضرات کی صحت استدلال انھیں امور پر مبنی آپ فرماتے ہیں فرقان حمید میں بمقامات متعددہ اس کا بیان بتصریح تام موجود میں مقامات متعدد ہ کی تکلیف نہیں دیتا۔ ایك ہی آیت فرما دیجئے جس میں صاف صاف مضمون مذکور مزبور ہو۔ بینوا توجروا
سوال () : سورہ یوسف کی آیہ کریمہ کہ تلاوت فرمائی اس کا ترجمہ ومطلب میں کیوں عرض کروں مولوی اسمعیل سے سنئے ۔ تقویۃ الایمان میں لکھا ہے : “ نہیں مسلمان ہیں اکثر لوگ مگر کہ شرك کرتے ہیں یعنی اکثر لوگ جو دعوی ایمان کا رکھتے ہیں سو وہ شرك میں گرفتار ہیں “ ا نتھی
خدارا س میں مزارات اولیاء پر جانے یا ان سے کلام و خطاب کرنے کا کون سا حرف ہے۔ استغفراﷲ ! نام کو بو بھی نہیں تصریح تام تو بڑی چیز ہے۔ پھر اس آیت نے جناب کا کون سا دعوی ثابت کیا یا حضار مزار کو کیا الزام دیا۔ اگر ایسے ہی بے علاقہ استناد کا نام صریح تام تو ہر شخص اپنے دعوے پر قرآن عظیم کی آیت پیش کر سکتا ہے مثلا فلسفی کہے : توسیط عقول حق ہے ورنہ لازم آئے کہ تمام اشیاء متکثرہ اس واحد حقیقی سے بالذات صادر ہوئی ہوں اور یہ خدائے عزوجل پر افتراء۔ فان الواحد لایصدر عنہ الا الواحد (کیونکہ واحد سے واحد ہی صادر ہوسکتا ہے۔ ت) اور اﷲ تعالی پر افتراء حرام قطعی۔ قرآن حمید میں بمقامات متعددہ اس کا بیان بتصریح تام موجود ازانجملہ ہے سورہ انعام میں : ان الذین یفترون على الله الكذب لا یفلحون(۱۱۶) (جو لوگ
القرآن ۱۶ / ۱۱۶
صنف اخر من ھذا النوع
اسی نوع کی ایک اور قسم
یہاں ان اکابر خاندان عزیزی کے بعض اقوال رنگ تحریر فرمائیں گے جنھوں نے بے حصول علم ارتکاب سوال جائز رکھا اور مولوی صاحب کے طور پر شرك خالص یا ہارے درجے شائبہ شرك میں گرفتار ہوئے۔
سوال () : شاہ ولی اﷲ ہمعات میں حدیث نفس کا علاج بتاتے ہیں :
بارواح طیبہ مشائخ متوجہ شود وبرائے ایشاں فاتحہ خواند یا بزیارت قبر ایشاں رود ازانجا انجذاب دریوزہ کند ۔
مشائخ کی پاك روحوں کی جانب متوجہ ہو اور ان کے لیے فاتحہ پڑھے یا ان کے مزارات کو جائے اور وہاں سے بھیك مانگے۔ (ت)
اقول اولا جناب کے نزدیك مزار ت اولیاء سے بھیك مانگنے کا کیا حکم ہے۔ وہاں تو ان سے دعا
القرآن ۶۰ / ۱۳
ہمعات ہمعہ ٨ اکادیمیۃ الشاہ ولی اﷲ حیدر آباد ص٣٤
ثانیا کسی سے بھیك مانگنی یونہی معقول کہ وہ اس کی عرض سنے اور اس کی طرف توجہ کرے ورنہ دیواروں پتھروں سے کیا بھیك مانگنا۔ مگر آپ فرماچکے کہ “ توجہ خاص کا انکشاف حال خارج از علم زائر بحیز اختیار پرودگار عالم ہے۔ “ اب یہ جو بھیك مانگنے والا شاہ صاحب کے حکم سے بیحصول علم مرتکب سوا ل کا ہے اس نے گویا اہل قبر کوسمیع وبصیر علی الاطلاق قرار دیا یا نہیں اور شاہ صاحب نے یہ شرك خالص یاشائبہ شرك تعلیم کیایانہیں اور ایسی چیز کا سکھانے والا کافر یامشرك یا بدعتی بد مذہب ہو ایانہیں بینوا توجروا
ثالثا انھوں نے مزارپر جاکر گدائی تو پیچھے بتائی پہلے گھر ہی بیٹھے ارواح طیبہ کی طرف توجہ کرا رہے ہیں اب تو اطلاق کا پانی سر سے اونچا ہوگیا۔
سوال () : انھی شاہ صاحب نے ایك رباعی لکھی :
آنا نکہ زادناس بہیمی جستند بالجہ انوار قدم پیوستند
فیض قدس از ہمت ایشاں می جو دروازہ فیض قدس ایشاں ہستند
(جو لوگ نفس حیوانی کی آلودگیوں سے باہر ہوگئے وہ ذات قدیم کے انوار کی گہرائیوں سے جاملے : فیض قدس ان کی ہمت سے طلب کرو فیض قدس کا دروازہ یہی لوگ ہیں۔ ت)
اور مکتوب شرع رباعیات میں خود اس کی شرح یوں کی :
یعنی توجہ بارواح طیبہ مشائخ درتہذیب روح وسر نفع بلیغ دارد ۔
یعنی مشائخ کی ارواح طیبہ کی جانب توجہ روح اور باطن کو سنوارنے میں نفع بلیغ رکھتی ہے (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں ۔ ت) کیا اچھا نفع بلیغ ہے کہ بلاحصول علم ان کی ہمت سے فیض چاہ کر مشرك ہوگئے۔
سوال () : یہی شاہ صاحب “ قول الجمیل “ میں لکھتے ہیں۔ ان کی عبارت عربی لاکر ترجمہ کروں اس سے یہی بہتر ہے کہ مولوی خرم علی صاحب بلہوری مصنف نصیحۃ المسلمین کا ترجمہ نقل کروں۔ یہ صاحب بھی عمائد و کبرائے منکرین سے ہیں شفاء العلیل میں کہتے ہیں :
“ مشائخ چشتیہ نے فرمایا : قبرستان میں میت کے سامنے کعبہ معظمہ کو پشت دے کر بیٹھے گیارہ بار سورہ فاتحہ پڑھے پر میت سے قریب ہو پھر کہے یا روح اور یا روح الروح کی دل میں ضرب کرے
مکتوبات ولی اﷲ از کلمات طیبات مکتوب بست ودوم درشرح بعض اشعار مطبع مجتبائی دہلی ص۱۹۴
اقول : اولا اس ندائے یا روح کا حکم ارشاد ہو۔
ثانیا یہ سائلان فیض جو تقریر وتسلیم واشاعت و تعلیم شاہ صاحب ومترجم صاحب جب چاہا بلاحصول علم قبور کے سامنے یاروح یا رروح کرنے اور فیض مانگنے بیٹھ گئے۔ آپ کے طور پر اہل قبور کو سمیع وبصیر ومعطی ومفیض علی الاطلاق مان کر اورماتن ومترجم بتا جتاکر مشرك ہوئے یا نہیں
سوال (۱۵) : شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر فتح العزیز میں وہیں جہاں انھوں نے بعض خواص اولیاء کو ایسی زیادت ادراك ملنی لکھی ہے۔ یہ بھی فرماتے ہیں کہ :
“ اویسیان تحصیل مطلب کمالات باطنی ازانہا مے نمایند وارباب حاجات ومطالب حل مشکلات خود ازانہامی طلبند ومے یابند۔ “
اویسی لوگ اپنے کمالات باطنی کا مقصد ان سے حاصل کرتے ہیں اور اہل حاجات ومقاصد اپنی مشکلوں کا حل ان سے مانگتے اور پاتے ہیں (ت)
کہئے زیادت ادراك مسلم مگر توجہ خاص کا انکشاف حال تو خارج از علم بحیز اختیار پروردگار ہے۔ پھر اویسی لوگ جوبلا حـصول علم مرتکب استفادہ ہوتے ہیں کیونکر مصداق ان لفظوں کے نہ ہوئے اور ایسی نسبت کہ معاذاﷲ بذریعہ شرك ملتی ہے۔ کیونکر صحیح ومقبول ٹھہری یہی شاہ صاحب اپنے والد شاہ ولی اﷲ صاحب سے ناقل اویسیت کی نسبت قوی اور صحیح ہے۔ شیخ ابوعلی فارمدی کو ابوالحسن خرقانی سے روحی فیض ہے اور ان کو بایزید بسطامی کی روحانیت سے اور ان کو امام جعفر صادق کی روحانیت سے تربیت ہے اھ نقلہ البلھوری فی شفاء العلیل (اسے مولوی خرم علی لاہوری نے شفاء العلیل میں نقل کیا۔ ت)
ثانیا ذرا شاہ صاحب کے پچھلے لفظ کہ “ اہل حاجت اپنی مشکلوں کا حل ان سے مانگتے اور پاتے ہیں “ ملحوظ خاطر رہیں کس دھوم دھام سے ارواح اولیاء کو حاجت روا مشکل کشا بتایا ہے۔ واﷲ! کہا سچ اگر چہ برامانیں ناواقف
الناس اعداء لما جھلوا
(لوگ جس چیز کو نہیں جانتے اس کے دشمن ہوتے ہیں۔ ت)
تفسیر فتح العزیز پارہ عم بیان صدقات وفاتحہ الخ مسلم بك ڈپو لال کنواں دہلی ٢٠٦
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل گیارھویں فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۷۸
قبلہ دیں مددے کعبہ ایماں مددے
(غوث اعظم! مجھ بے سروسامان کی مدد فرمائیں قبلہ دیں! مدد فرمائیں کعبہ ایمان ! مدد فرمائیں)
سوال () : اسی تفسیر عزیزی میں دفن کو نعمت الہی ٹھہرا کر اس کے منافع وفوائد میں لکھتے ہیں :
ازاولیائے مدفونین انتفاع واستفادہ جاریست ۔
مدفون اولیاء سے نفع پانا اور فائدہ طلب کرنا جاری ہے۔ (ت)
اقول اولا انتفاع تك خیر تھی کہ بے مقصد منتفع بھی ممکن استفادہ نے غضب کردیا کہ وہ نہیں مگر طلب فائدہ پھر کیا اچھا نفع دفن میں نکالا کہ بند گان خدا بے حصول علم مرتکب سوال ہو کر معاذاﷲ مشرك ہوتے ہیں ۔
ثانیا لفظ “ جاری ست “ پر لحاظ رہے کہ اس سے مراد نہیں مگر مسلمانوں میں جاری ہونا اور جو مسلمانوں میں جاری ہر گز شرك نہیں کہ جن میں شرك جاری ہر گز مسلمان نہیں۔
سوال () : مرزا مظہر جانجاناں صاحب جنھیں شاہ ولی اﷲ صاحب اپنے مکاتیب میں قیم طریقہ احمدیہ و داعی سنت نبویہ لکھتے ہیں اور حاشیہ مکتوبات ولویہ پر انھیں شاہ صاحب سے ان کی نسبت منقول ہند و عرب وولایت میں ایسا متبع کتاب وسنت نہیں سلف میں بھی کم ہوئے اھ ملخصا مترجما یہ مرزا صاحب اپنے ملفوظات میں تحریر فرماتے ہیں :
نسبت مابجناب امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ می رسد وفقیر رانیازی خاص بآنجناب ثابت است۔ دروقت عروض عارضہ جسمانی توجہ بآنحضرت واقع می شود وسبب حصول شفامی گردد ۔
امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی بارگاہ تك نسبت پہنچتی ہے اور فقیر کو اس جناب سے خاص نیاز حاصل ہے جب کوئی جسمانی عارضہ لاحق ہوتا ہے تو آنحضور کی جانب میری توجہ ہوتی ہے اور شفایابی کا سبب بنتی ہے۔ (ت)
سوال () : آگے فرماتے ہیں :
یکبار قصیدہ کہ مطلعش اینست ایك بار وہ قصیدہ جس کا مطلع یہ ہے :
مکاتیب مرزامظہر از کلمات طیبات ملفوظات مرزا صاحب مطبع مجتبائی دہلی ص۷۸
زانگشت ید اﷲ ی امیرالمومنین حیدر
بجناب ایشاں عرض نمودم نواز شہا فرمود ند اھ ۔
چشم معرفت کو روشنی عطا ہو اے امیر المومنین حیدر
خدائی ہاتھ والی انگشت سے اے امیرالمومنین حیدر
حضرت کی بارگاہ میں عرض کیا تو بڑی نوازشیں فرمائیں اھ (ت)
اقول : اولا جب جناب مرزا صاحب امراض میں بارگاہ مشکل کشائی کی طرف توجہ کرتے تھے انھیں کیاخبر تھی کہ حضرت مولا علی کرم اﷲ وجہ الاسنی ا س وقت میری طرف متوجہ ہیں یا میری طرف سے التفات فرمائیں گے۔
ثانیا یو نہی جب قصیدہ عرض کرنے بیٹھے کیا جانتے تھے کہ حضرت والا اس وقت سن لیں گے تو ان سب اوقات میں بے حصول علم مرتکب عرض وتوجہ ہو کر انھوں نے جناب اسد اللہی کو سمیع وبصیر علی الاطلاق ٹھہرایا اور حضرت کے طورپر وہ برا لقب پایا یا نہیں۔
ثالثا مزار پر جا کر کلام وخطاب تو وہ آفت تھا مرزا صاحب جو بے حضور مزار ہی توجہیں کرتے قصیدے سناتے ا ن کے لیے حکم کچھ زیادہ سخت ہوگا یا نہیں۔
رابعا اس نیازی خاص پر بھی نظر رہے کہ یہ معالجہ کرے گا ان جہال کے وہم کا جو “ نیاز “ کے لفظ کو خاص بجناب بے نیاز مانتے اور اسی بنا پر فاتحہ فائحہ حضرات اولیاء کو نیاز کہنا شرك وحرام جانتے ہیں
خامسا یہ بڑی گزارش تو باقی ہی رہ گئی کہ دفع امراض کے لئے ارواح طیبہ کی طرف توجہ استمدادبالغیر تو نہیں۔ اور جناب کے نزدیك بھلا ایسا شخص اتباع شریعت میں یکتا وبے نظیر جیسا کہ شاہ ولی اﷲ صاحب نے کہا تھا بالائے طاق سرے سے متبع سنت بلکہ ازروئے ایمان تقویۃ الایمان راسا مسلم وموحد کہاجائے گا یانہیں
سوال () : شاہ ولی اﷲ کے والد شاہ عبد الرحیم صاحب کی نسبت کیا حکم ہے وہ بھی ا س شرك عالمگیر سے محفوظ نہ رہے۔ شاہ ولی اﷲ صاحب قول الجمیل میں لکھتے ہیں : وایضا تادب شیخنا عبدالرحیم علی روح جدہ لامہ الشیخ رفیع الدین محمد ۔
شفاء العلیل میں اس کا ترجمہ یوں کیا : “ اور بھی ہمارے مرشد شاہ عبدالرحیم ادب آموز ہوئے اپنے نانا شیخ رفیع الدین کی روح سے۔ “ اور حاشا یہ فیض یوں نہ تھا کہ ادھر سے بے طلب آیا ہو بلکہ یہی جاکر قبر پر متوجہ ہوا کرتے۔ خود شاہ ولی اﷲ
القول الجمیل مع شفاء العلیل گیارھویں فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۹۔ ۸۰
می فرمودند مرادر مبد ءحال بمزار شیخ رفیع الدین الفتے پیداشد۔ آں جاہی رفتم وبقبر شاں متوجہ می شدم الخ
فرماتے تھے مجھے ابتدائے حال میں شیخ رفیع الدین کے مزار سے ایك الفت پیدا ہوگئی۔ وہاں جاتا اور ان کی قبر کی طرف متوجہ ہوتا تھا الخ (ت)
یارب! جب مولوی اسمعیل کے اساتذہ ومشائخ سب گرفتار شرك ہوئے یہ انھیں کے خوشہ چین انھیں کے نام لیوا ان کے مداح ان کے مقلد کیونکر مومن موحد رہے
وحسن نبات الارض من کرم البذر
(زمین کا پودہ عمدہ جب ہی ہوتا ہے کہ بیج اچھاہو۔ ت)
صنف اخر من ھذا النوع
اسی نوع کی ایک اور قسم
اس میں وہ سوالات مذکور ہوں گے جو مولوی صاحب کے استدلال دوم یعنی تمسك بحدیث من حلف الخ سے متعلق ہیں :
سوال () : حدیث من حلف بغیر اﷲ فقد اشرك کی جو عمدہ شرح افادہ فرمائی
ذرا کتب ائمہ حدیث و فقہ پر نظر کرکے ارشاد ہوجائے کہ کلمات علماء سے کہاں تك موافق ہے فقیر بہت ممنون احسان ہوگا اگرایك عالم معتمد کی تحریر سے بھی آپ نے اپنا بیان مطابق کر دکھایا۔ الفاظ شریفہ پیش نظر رہیں کہ “ اس حرمت کا سبب سوا اس کے نہیں “ الخ
سوال () : اعتقاد نفع وضر ر پر قسم کی دلالت کسی قسم کی دلالت آیا لغۃ اس کے معنی سے یہ امر مفہوم یا عقلا خواہ عرفا لازم وملزوم کہ آدمی اسی کی قسم کھائے جس سے نفع وضرر کی امید رکھے۔
صدر اسلام میں جو صحابہ کرام کعبہ معظمہ کی قسم کھاتے کما رواہ النسائی وغیرہ (جیساکہ نسائی
مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲابن عمر دارالفکر بیروت ٢ / ٨٧
سُنن نسائی الحلف بالکعبۃ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ۲ / ۱۴۳
سوال () : غیر خدا کو کسی طرح نافع یا ضارجاننا مطلقا شرك ہے یا خاص اسں صورت میں کہ اسے نفع وضرر میں مستقل بالذات مانے۔ برتقدیر اول یہ وہ شرك ہے جس سے عالم میں کوئی محفوظ نہیں۔ جہان شہد کو نافع اور زہر کو مضر جانتا ہے۔ سچے دوست سے نفع کی امید پکے دشمن سے ضرر کا خوف رکھتا ہے۔ عالم کی خدمت حاکم کی اطاعت اسی لیے کرتے ہیں کہ دینی یا دنیاوی نفع کی توقع ہے۔ مخالف مذہب سے احتیاط سانپ سے احتراز اسی لیے رکھتے ہیں کہ روحانی یا جسمانی ضرر کا اندیشہ ہے۔ خود قرآن عظیم ارشاد فرماتا ہے :
ابآؤكم و ابنآؤكم لا تدرون ایهم اقرب لكم نفعا- ۔
تمھارے باپ اوت تمھارے بیٹے تم نہیں جانتے ان میں کون تمھیں نفع دینے میں زیادہ نزدیك ہے۔
اور فرماتا ہے :
و ما هم بضآرین به من احد الا باذن الله- ۔
اور وہ اس سے کسی کو ضرر نہ پہنچائیں گے بے حکم خدا کے۔
صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی : حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من استطاع منکم ان ینع اخاہ فلینفعہ ۔
تم میں جو اپنے بھائی مسلمان کو نفع دے سکے نفع دے۔
امام احمد و ابوداؤد وترمذی ونسائی و ابن ماجہ بسند حسن مالك بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من ضار ضار اﷲ بہ ومن شاق شق اﷲ علیہ ۔
جو کسی کو ضرر دے گا اﷲ تعالی اسے نقصان پہنچائے گا اور جو کسی پر سختی کرے گا اﷲ تعالی اسے مشقت میں ڈال دے گا۔
عــــہ : ذکر نسخ نافع نہ ہوگا۔ کیا شرك و توحید میں بھی نسخ جاری ہے منہ (م)
القرآن ٢ / ۱۰۲
صحیح مسلم باب استحباب الرقیہ من العین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٢٢٤
جامع الترمذی باب ماجاء فی الخیانۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ٢٨٧
بلی یا امیرالمومنین یضروینفع ۔
کیوں نہیں اے امیرا لمومنین! یہ پتھر نقصان دے گا اور نفع پہنچائے گا۔ (الحدیث)
بر تقدیر ثانی واقع ونفس الامر اس گمان کے خلاف پر شاہد عادل لاکھوں آدمی اپنے یا اپنے محبوب کے سر یا آنکھوں یا جان کی قسم کھاتے ہیں اور ہر گز ان کے خواب میں بھی یہ خیال نہیں ہوتا کہ یہ چیزیں بالاستقلال ہمارے نفع وضرر کی مالك ہیں۔ نہ ہرگز سامع کا ذہن اس طرف جاتا ہے۔ بھلا حضرت نابغہ جعدی رضی اللہ تعالی عنہ کے اس قول کے کیا معنی ہیں :
لعمری وما عمری علی بھین
لقد نطقت بطلا علی الاقارع
(میری زندگی کی قسم اور میری زندگی کوئی معمولی چیز نہیں__ بلاشبہہ اژدہوں (دشمنوں) نے مجھ پر جھوٹ باندھا ہے۔ ت)
اور جناب کے نزدیك اس سے کیا اعتقاد ظاہر ہوتا ہے__ اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اور ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا وغیرھما پیشوایان دین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے اپنے باپ اور اپنی جان کی قسم کھانی کہ خادم حدیث پر مخفی نہیں۔
سوال () : خیر قسم غیرسے توآپ کے نزدیك یہ صرف ظاہر ہی ہوتا تھا کہ وہ اپنے عقیدے میں غیر خدا کو بھی نفع وضرر رسان جانتا ہے۔ بگمان جناب اتنی ہی بات پر شرع مطہر میں بنائے تحریم ہوئی حالانکہ اس کے دل کا حال خدا جانے۔ اب ان کی نسبت حکم ارشاد ہو۔ جو صاف صاف بالتصریح غیر خدا کو نہ فقط نفع وضرر رسان بلکہ مالك نفع وضرر بتائیں اور وہ بھی کسے۔ اس شقی کو جو مدعی الوہیت رہا ہو۔ اور برسوں خران بے عقل نے اسے پوجا ہو۔ وہ کون فرعون بے عون۔ نسأل اﷲ عن حالہ الصون (خدا سے دعا ہے کہ ہمیں اس کی حالت سے بچائے۔ ت) شاہ عبد العزیز صاحب اس امر کے ثبوت میں کہ سامری والوں کی گوسالہ پرستی قبطیوں کی فرعون پرستی سے بدتر تھی تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں :
تعظم بادشاہ صاحب اقتدار کہ مالك نفع وضرر باشد
ایسے صاحب اقتداربادشاہ کی تعظیم جو نفع وضرر کا
مالك ہو فی الجملہ ایك وجہ معقولیت رکھتی ہے مگر بے عقلی گائے کا بچھڑا جو بلادت اور بیوقوفی میں ضرب المثل ہے کسی طرح قابل تعظیم نہیں۔ (ت)
سوال () : یہ تو آیندہ عرض کروں گاکہ طلب دعا کو اعتقاد نفع وضرر سے کتنا تعقل۔ بالفعل اسے یونہی فرض کرکے گزارش کرلوں کہ دعا منگوانے میں تووہ اعتقاد نفع وضرر نکلا جو معنی شرک۔ حالانکہ وہ خود ان سے کسی حاجت کی خواستگار ی نہیں۔ پھر :
() ان کے مزارات عظیمہ البرکات پر حاضر ہوکر خود ان سے بھیك مانگنا۔
() یا روح یا روح پکار کر ان کے فیض کا منتظر رہنا۔
() اپنی مشکلوں کا ان سے حل چاہنا۔
() بیمار پڑیں تو شفاء ملنے کوان کی طرف توجہ کرنا کہ ابھی صنف سابق میں منقول ہوئے ان میں کتنا اعتقاد نفع و ضرر ثابت ہوتاہے ۔ اور
()لفظ انتفاع واستمداد خود بمعنے نفع یافتن وفائدہ خواستن اس کا قصد بے اعتقاد نفع کس عاقل سے معقول ہاں ہاں انصا ف کیجئے تودعا طلبی سے دریوزہ گری وحاجت خواہی کہیں زیادہ ہے اس میں صرف نیت سائل پر مدار تفرقہ ہے۔ اگر سبب ظاہری ومظہر عون باری جا نا تو خالص حق اور معاذاﷲ مستقل مانا تونرا شرک بخلاف طلب دعا کہ وہاں نفس کلام مطلوب منہ کی غلامی وبندگی اور حضرت غنی جل جلالہ کی طرف محتاجی پر دلیل واضح ۔ یہاں تك کہ توہم استقلال سے اس کا اجتماع محال کما لا یخفی علی اولی النہی (جیسا کہ اہل عقل پر مخفی نہیں۔ ت) بااینہمہ اگر یہ شرك ہے تو اس کے لیے تو کوئی لفظ مجھے شرك سے بدتر ملتا بھی نہیں جس کا مصداق ٹھہراؤں ع
ضاق عن وصفکم نطاق البیان
(آپ کے وصف سے بیان کا دائرہ تنگ ہے۔ ت)
سوال () : اگر مان بھی لیں کہ غیر خدا کی قسم اس لیے حرام ہوئی تو اس کو مسئلہ دائرہ سے کیا علاقہ۔ کیا کسی سے دعا کے لیے کہنے میں بھی اسی طرح کے نفع وضرر کا اعتقاد ظاہر ہوتا ہے جو معنا شرك ہے۔
() خود مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے دعا چاہی
سنن ابی داؤد باب الدّعا آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٢١٠
لاتنسنا یا اخی من دعانك ۔ رواہ ابوداؤد عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اے بھائی! اپنی دعا میں ہمیں نہ بھول جانا ( اسے ابوداؤد نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
احمد وابن ماجہ کی روایت میں ہے۔ فرمایا :
اشرکنا یا اخی فی صالح دعائك ولاتنسنا ۔
بھائی! اپنی نیك دعا میں ہمیں بھی شریك کرلینا اور بھول نہ جانا۔
() حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عادت کریمہ تھی جب دفن میت سے فارغ ہوتے تو قبر پر ٹھہر کر صحابہ کرام سے ارشاد فرماتے :
استغفر والاخیکم واسئلو الہ التثبیت فانہ الان یسأل ۔ رواہ ابوداؤد والحاکم والبیھقی بسند حسن عن عثمان الغنی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے ثابت رہنے کی دعا مانگو کہ اب اس سے سوال ہوگا (اسے ابوداؤد حاکم اور بہیقی نے بسند حسن حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
(۳) امام احمد عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہماسے راوی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ۔
اذالقیت الحاج فسلم علیہ وصافحہ ومرہ ان یستغفرلك قبل ان یدخل بیتہ فانہ مغفورلہ ۔
جب توا حاجی سے ملے سلام ومصافحہ کراورقبل اس کے کہ وہ اپنے گھرمیں جائے اپنی مغفرت کی دعااس سے منگواکہ وہ بخشاہواہے ۔
(۴) حضورالحضور نے اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر کرکے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کو حکم دیا :
فمن لقیہ منکم فلیامرہ فلیستغفرلہ ۔
تم میں جو اسے پائے اپنے لیے اس سے دعائے بخشش
سنن ابن ماجہ باب فضل دعاء الحاج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٢١٣
سنن ابی داؤد باب الاستغفار آفتاب علم پریس لاہور ٢ / ١٠٣
مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲ ابن عمر دارالفکر بیروت ٢ / ٦٩
صحیح مسلم فضائل اویس قرنی قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٣١١
کرائے۔ اسے مسلم اور بیھقی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے رروایت کیا ۔ (ت)
ایك روایت میں ہے حضرت فاروق کو بالتخصیص بھی حکم ہوا ان سے دعا کرانا کہ وہ اﷲ کے حضور عزت والے ہیں ا خرجہ الخطیب وابن عساکر (اسے خطیب اور ابن عساکر نے روایت کیا۔ ت)
() حسب الحکم امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سے دعا چاہی ۔
اخرجہ ابن سعد والحاکم وابو عوانہ و الرویانی والبیھقی فی الدلائل وابو نعیم فی الحلیۃ کلھم من طریق اسیربن جابر عن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اسے بطریق اسیربن جابر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ابن سعد حاکم ابوعوانہ رویائی دلائل میں بیھقی اور حلیہ میں ابونعیم نے روایت کیا۔ (ت)
() ایك روایت میں ہے امیر المومنین فاروق وامیر المومنین مرتضی رضی اللہ تعالی عنہما دونوں کو حضرت اویس سے طلب دعا کا حکم تھا۔ دونوں صاحبوں نے اپنے لیے دعاکرائی ۔ اخرجہ ابن عساکر (اسے ابن عساکر نے روایت کیا ۔ ت)
()امام ابوبکر بن ابی شیبہ استاذ امام بخاری ومسلم اپنے مصنف اور امام بیھقی دلائل النبوۃ کی مجلد یازدہم میں بسند صحیح عــــہ۲ بطریق ابومعویۃ عن الاعمش عن ابی صالح عن مالك الدار رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں :
قال اصاب الناس قحط فی زمن عمر بن الخطاب فجاء رجل عــــہ۲ الی قبر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یا رسول اﷲ استسق اﷲ
یعنی عہد معدلت مہد فاروقی میں ایك بار قحط پڑا۔ ایك صاحب یعنی حضرت بلال بن حارث مزنی صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے مزار اقدس حضور ملجاء بیکساں صلی اللہ
عــــہ۱ : نص علی صحتہ الاما م القسطلانی فی المواھب ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : ھو بلال بن الحارث المزنی الصحابی کما عند سیف فی کتاب الفتوح۱۲ زرقانی شرح مواھب (م)
امام قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں اس کے صحیح ہونے کی تصریح فرمائی۔ (ت)
وہ بلال بن حارث مزنی صحابی ہیں جیسا کہ سیف کی کتاب الفتوح میں ہے۱۲ زرقانی شرح مواہب (ت)
تعالی علیہ والہ وسلم پر حاضر ہو کر عرض کی : یارسول اﷲ! اپنی امت کے لیے اﷲ تعالی سے پانی مانگئے کہ وہ ہلاك ہوئے جاتے ہیں۔ رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان صحابی کے خواب میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا عمر ( رضی اللہ تعالی عنہ ) کے پاس جا کر اسے سلام پہنچا اور لوگوں کو خبر دے کہ پانی آیا چاہتا ہے۔ الحدیث (ت)
شاہ ولی اﷲ قرۃ العینین میں یہ حدیث نقل کرکے کہتے ہیں : رواہ ابو عمر فی الاستیعاب (اسے ابو عمر بن عبدالبر نے استیعاب میں روایت کیا۔ ت)
تنبیہ نبیہ : یہ چند حدیثیں ہیں احیائے حقیقی سے طلب دعا میں۔ اور اموات سے طلب کی قدر ے بحث کہ اصل مسئلہ مسئولہ سائل ہے ان شاء اﷲ تعالی مقصدسوم میں مذکور ہوگی۔ یہاں ایك نکتہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو بات شرك ہے اس کے حکم میں احیاء واموات وانس وجن وملائك وغیر ہم تمام مخلوق الہی یکساں ہیں کہ غیر خدا کوئی ہو خدا کا شریك نہیں ہوسکتا تو امور شرك میں حیات وموت تفرقہ جیسا کہ اس طائفہ جدیدہ کا شیوہ قدیمہ ہے۔ دائرہ عقل وشرع دونوں سے خروج کیا زندے خدا کے شریك ہوسکتے ہیں صرف شراکت اموات ہی ممنوع ہے۔ مولوی صاحب اپنی مقیس علیہ یعنی قسم غیر کو ملاحظہ کریں کہ حلال نہیں تو مردے زندے کسی کے لیے حلال نہیں یو نہی اگر طلب دعامیں شرك ہوتو ہرگز یہ حکم فقط اموات سے خاص نہ ہوگابلکہ یقینا احیاء سے دعا کرانی بھی حرام ٹھہرے گی کہ خدا کا شریك نہ ہوسکنے میں زندے مردے سب ایك سے۔ ولہذا شیخ الشیوخ علمائے ہند مولنا وبرکتنا سیدی شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی قدس اﷲ سرہ العزیز نے شرح مشکوۃ شریف میں فرمایا :
اگر ایں معنی کہ درامداد و استمداد ذکر کر دیم موجب شرك و توجہ بماسوائے حق باشد چنانکہ منکر زعم می کہ کند پس باید کہ منع کردہ شود توسل وطلب دعا ازصالحان و دوستان خدا درحالت حیات نیز وایں ممنوع نیست بلکہ مستحب ومستحسن است باتفاق وشائع است
یہ معنی جو ہم نے امداد اور مدد طلبی میں بیان کیا اگر شرك کا موجب اور غیر کی طرف توجہ قرار پائے جیسا کہ منکر خیال رکھتا ہے تو چاہئے کہ صالحین اور اولیاء اﷲ سے زندگی میں بھی توسل اور دعا طلبی سے منع کیا جائے حالانکہ یہ ممنوع نہیں بلکہ بالاتفاق مستحب و
قرۃ العینین نوع چہلم المکتبۃالسلفیہ ، لاہور ص١٩
مستحسن اور دین میں عام ہے۔ (ت)
عزیز! یہ نکتہ بہت کار آمد ہے اور اکثر اوہام وشبہات کا رد۔ فاحفظ تحفظ وتحظی من الرشد با وفی حظ (اسے یاد رکھو گے تومحفوظ رہوگے اور ہدایت سے بھر پور حصہ پاؤگے۔ ت)
نوع دوم : مخالفات مولوی صاحب وہم مذہبان مولوی صاحب میں۔ یہان اس امرکا ثبوت ہوگا کہ مولوی صاحب کی تحریر مذہب منکرین سے بھی موافق نہیں۔ بوجوہ عدیدہ واصول وفروع طائفہ جدیدہ سے صریح مخالفت اور مذہب مہذب اہل حق سے بعض باتوں میں گونہ موافقت فرمائی ہے۔ پھر یہی نہیں کہ صرف ہم مذہبوں ہی سے خلاف ہوں اور خود مولوی صاحب ان مخالفات کا بخوشی التزام فرمالیں۔ نہیں نہیں بلکہ بہت وہ بھی ہیں جونا دانستہ سرزد ہوگئیں کہ ظاہر ہوئے پر خود بھی آپ کو گوارا نہ ہوں۔ اور اگر تسلیم فرمالیں توا س سے کیا بہتر۔ دیکھئے تو یہیں کتنے مسائل نزاعیہ طے ہوئے جاتے ہیں۔
مخالفت () : مولوی صاحب فرماتے ہیں : زیارت قبور مومنین خاصۃ بزرگان دین مندوب ومسنون ہے۔ یہ خصوصیت ہمارے طور پر بیشك حق مگر صاحب مائۃ مسائل کے بالکل خلاف۔ انھوں نے جو قسم زیارت شرعا بلا کراہت جائز مانی اس میں مزارات عالیہ حضرات اولیا اور ہر شرابی زنا کار کی قبر یکساں جانی۔ حیث قال (ان کے الفاظ یہ ہیں) :
دریں قسم زیارت کر دن قبر ولی وغیر ولی وشہید و غیر شہید وصالح وفاسق وغنی وفقیر برابراسست ۔
اس قسم میں ولی غیرو لی شہید غیر شہید صالح فاسق غنی اور فقیر سب کی قبر کی زیارت یکساں ہے۔ (ت)
پھر اس برابری پر بھی صبر نہ آیا۔ آگے الٹی ترقی معکوس کرکے فرمایا :
بلکہ زیارت قبور اغنیاء وملوك زیادہ ترعبرت حاصل می گردد۔
بلکہ مالداروں اور بادشاہوں کی قبر وں کی زیارت سے زیادہ عبرت حاصل ہوتی ہے۔ (ت)
مطلب یہ کہ جس عــــہ فائدہ کے لیے شرع نے زیارت قبور جائز کی ہے وہ مزارات اولیاء میں ہر گز ایسا نہیں
عــــہ : اقول : وباﷲ التوفیق ان مرد عاقل محرر مائۃ مسائل سے پوچھنا چاہئے کہ اگر(باقی برصفحہ ائندہ)
مائۃ مسائل سوال سیزدہم مکتبہ توحید وسنۃ پشاور ص٢٤۔ ٢٣
مائۃ مسائل سوال سیزدہم مکتبہ توحید وسنۃ پشاور ص۲۳۔ ۲۴
مخالفت () : مولوی صاحب وقت زیارت قبور درود و فاتحہ پڑھ کر اموات کو ثواب بخشنا مند وب ومسنون فرماتے ہیں۔ بہت اچھا قرآن وحدیث سے درود فاتحہ کی خصوصیت ثابت کردکھائیں یا قرون ثلاثہ میں اس تخصیص کا رواج بتائیں ورنہ ندب واستنان درکنار اصول طائفہ پر کل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار میں داخل ٹھہرائیں۔
مخالفت () : سوال سائل میں درود وفاتحہ دونوں کامعا پڑھنا مذکورتھااور اسی پرحضرت کا جواب وراد۔ بالفرض اگر فرد ا فردا ان کا پڑھنا ثابت بھی فرمالیں تواصول طائفہ پرہیأت اجتماعیہ محل میں کلام رہیں گے۔ اس بناپر آپ کو حکم بدعت دینا تھا۔ یا تسلیم فرمائیے کہ بعد حسن احادحسن مجموعہ میں کلام نہیں جب تك خصوصی اجتماع میں کوئی مفسدہ نہ ہو۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) تمھا رابیان حق ہے تو واجب تھا کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اگر قبور احد و بقیع پر سوباررونق افروز ہوئے تو باد شاہوں جباروں کے مقابر پر دو سو بار تشریف لے گئے ہوتے تا کہ امت کو اختیار نفع وافضل کی طرف ارشاد فرمائے یا نہ سہی۔ برابرہی سہی کم ہی سہی کبھی ہی سہی ایك ہی بار ثابت کردو کہ حضور اقدس صلی ﷲ تعلی علیہ وسلم کسی بادشاہ کی خاك پر تشریف فرما ہوئے ہوں یا قبرغنی کی بوجہ غناء تخصیص فرمائی ہوپھرسخت عجب ہے کہ جس خاص امرکے لیے حضورنے زیارت قبورجائز فرمائی اس کا حصول جہاں بیشتر اور منفعت شرعیہ اتم واوفر اسی کو دائما ترك فرمائیں نہ وہ صحابہ کرام میں ہر گز رواج پائے۔ پھر ہرقرن وطبقہ کے اہل اسلام ہمیشہ زیارت مزارات صلحاء کا اہتمام واعتنا رکھیں نہ یہ کہ فلاں بادشاہ یاسیٹھ کی گور پر چلو وہاں نفع زائد ملے گا۔ حق یہ ہے کہ مزارات عالیہ حضرات اولیاء کرام قدست اسرارہم پر امر عبرت میں بھی ترجیح ممنوع او رمشروعیت زیارت کی غرض اس میں منحصر ہونا قطعا باطل و مدفوع خود انھیں حضرت کی مظاہر الحق ترجمہ مشکوۃ کی بعض عبارات مقصد سوم میں ملیں گے۔ جوظاہر کردیں گی کہ صاحب مائۃ مسائل نسی ماقدمت یداہ ( پہلے جو کچھ لکھ چکے اسے بھول گئے۔ ت) واﷲ سبحانہ وتعالی علم ۱۲ منہ سلمہ اﷲ تعالی (م)
مخالفت () : مولوی اسحاق مائۃ مسائل میں لکھتے ہیں :
اذان دادن بعد از دفن بدعت ومکروہ است زیر اکہ معہود از سنت نیست وانچہ معہود از سنت نیست بموجب روایات کتب فقہ مکروہ می باشد۔
وعبارۃ الکتب ھذا یکرہ عند القبر مالم یعھد من السنۃ والمعھود منھا لیس الازیارتہ والدعاء عندہ قائما کما فی فتح القدیر والبحر الرائق والنھر الفائق والفتاوی العالمگیری ۔
دفن کے بعد اذان دینا بدعت اور مکروہ ہے اس لےے کہ سنت سے معہود نہیں۔ اور جو کچھ سنت سے معہود نہ ہو کتب فقہ کی روایات کے مطابق مکروہ ہوتا ہے اور کتابوں کی عبارت یہ ہے قبر کے پاس جو سنت سے معہود نہیں مکروہ ہے۔ ا ور سنت سے معہود صرف یہ ہے کہ زیارت اور وہاں کھڑے ہو کر دعا ہو جیساکہ فتح القدیر البحرالرائق النہر الفائق اور فتاوی عالمگیری میں ہے (ت)
اگر چہ ان عبارات کا مطلب جو صاحب مائۃ مسائل نے ٹھہرایا انھیں کتابوں کی بہت عبارتوں سے مردود۔ مگر عجب ہے کہ جناب نے اس کلیہ پر عمل فرما کر وقت زیارت درود وفاتحہ پڑھ کر ثواب بخشنے کو کیوں نہ مکروہ فرمایا :
مخالفت () : جناب نے امتناع رویت وسماع کوان حجب عدیدہ کی حیلولت پر مبنی فرمایا یہ ابتنی باعلی ندامنادی کہ اموات کو فی انفسہم قوت سمع وابصار حاصل ہے مگر ان حائلوں کے سبب باہر کی صوت وصورت کا ادراك نہیں ہوتا ورنہ اگر خود ان میں راسا یہ قوتیں نہ ہوتیں تو بنائے کار حیلولت پر رکھنی محض بے معنی دیوار بیت کی نسبت کوئی نہ کہے گا کہ باہرکی چیزیں اس وجہ سے نہیں دیکھتے کہ بیچ میں آڑ ہے۔ اب متکلمین طائفہ سے استفسار ہوجائے کہ وہ اس تخصیص کے مقرہوں گے یا راسا منکر۔ معلم ثانی منکرین ہند یعنی مولوی اسحاق دہلوی سے سوال ہوا : سماعت موتی سوائے سلام جائزاست (سوائے سلام کے مردے کا سننا جائز ہے۔ ت) جواب دیا ثا بت نیست ( ثابت نہیں۔ ت) کیا آدمی اسی وقت میت ہوتا ہے جب قبر میں رکھ کر مٹی دے دیں۔
مائۃ مسائل سوال بست وششم مکتبہ توحید وسنت پشاور ص۵۰ ، ۵۱
مخالفت () : الحمد اﷲ کہ جناب کا طرز کلام اول سے آخرتك شاہد عدل کہ آیت کریمہ انك لا تسمع الموتى کو نفی سماع سے کچھ علاقہ نہیں نہ ہر گز اس سے یہ مفہوم۔ ورنہ کلام جناب کلام اﷲ کے صریح خلاف ہوگا۔
اولا آیہ کریمہ یقینا عام پس اگر اس سے نفی سماع مستفاد ہو توقطعا سلب کلی پردلالت کرے گی ۔ پھر آپ ارشاد ربانی کے خلاف بعض اموات کے لیے ایجاب کیونکر کہہ سکتے ہیں۔
ثانیا اس تقدیر پر مفاد آیت یہ ہو گاکہ نفس موت منافی سماع ہے۔ نہ یہ کہ موتی کو اصل قوت حاصل اور عدم ادراك بوجہ حائل۔ پھر آپ کیونکر برخلاف قرآن حیلولت حجب پر بنائے کار رکھتے ہیں۔
لا جرم واضح ہوا کہ آیہ کریمہ کے صحیح معنی ذہن سامی میں ہیں اور آپ خوب سمجھ چکے ہیں کہ اس میں نفی سماع کا اصلا ذکر نہیں کما ھوا الحق الناصع (جیسا کہ یہی حق خالص ہے۔ ت) اور عجب نہیں کہ اسی لیے آپ نے آیہ کریمہ کا ذکر نہ فرمایا ورنہ اسی کے ہوتے بیگانہ باتوں کی کیا حاجت ہوتی۔ لہذا فقیر نے بھی اس بحث کو بشرطیکہ مولوی صاحب جواب میں اس کی طرف رجعت فرمائیں جو اب الجواب پرمحمول رکھا۔ واﷲ الموفق۔
مگر از انجا کہ مقام خالی نہ رہے بتو فیقہ تعالی بعض جوابوں کی طرف اشارہ کروں۔ فاقول وباﷲ استعین (میں تو کہتا ہوں اور خدا ہی سے مدد کا طالب ہوں۔ ت)
جواب اول : آیت کا صریح منطوق نفی اسماع ہے۔ نہ نفی سماع پھرا سے محل نزاع سے کیا علاقہ۔ نظیر اس کی آیہ کریمہ انك لا تهدی من احببت ہے۔ اسی لیے جس طرح وہاں فرمایا و لكن الله یهدی من یشآء- یعنی لوگوں کا ہدایت پانانبی کی طرف سے نہیں خدا کی طرف سے ہے۔ یو نہی یہاں بھی ارشاد ہوا :
القرآن ٢٨ / ٥٦
القرآن ٢ / ٢٧٢
الایۃ من قبیل انك لا تهدی من احببت و لكن الله یهدی من یشآء- ۔
یہ آیت اس آیت کی قبیل سے ہے۔ بیشك تم ہدایت نہیں دیتے مگر خدا دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ (ت)
جواب دوم : نفی سماع ہی مانو تو یہاں سے سماع قطعا بمعنی سمع قبول وانتفاع ہے۔ باپ اپنے عاق بیٹے کو ہزار بار کہتا ہے وہ میری نہیں سنتا۔ کسی عاقل کے نزدیك اس کے یہ معنی نہیں کہ حقیقۃ کان تك آواز نہیں جاتی۔ بلکہ صاف یہی کہ سنتا توہے مانتا نہیں اور سننے سے اسے نفع نہیں ہوتا آیہ کریمہ میں اسی معنے کے ارادہ پر ہدایت شاہدکہ کفار سے انتفاع ہی کا انتفا ہے نہ کہ اصل سماع کا ۔ خود اسی آیہ کریمہ انك لا تسمع الموتى کے تتمہ میں ارشاد فرماتا ہے عزو جل :
ان تسمع الا من یؤمن بایتنا فهم مسلمون(۸۱) ۔
تم نہیں سناتے مگر انھیں جو ہماری آیتوں پر یقین رکھتے ہیں تو وہ فرمانبردار ہیں۔
اورپر ظاہر کہ پندو نصیحت سے نفع حاصل کا وقت یہی زندگی دنیا ہے۔ مرنے کے بعد نہ کچھ ماننے سے فائدہ نہ سننے سے حاصل قیامت کے دن سہی کافر ایمان لے آئیں گے پھر اس سے کیا کام ﰰ لــٴـن و قد عصیت قبل (کیااب جبکہ اس سے پہلے نافرمان ہے۔ ت) توحاصل یہ ہو کہ جس طرح اموات کو وعظ سے انتفاع نہیں یہی حال کافروں کا ہے کہ لاکھ سمجھائیے نہیں مانتے۔ علامہ حلبی نے سیرت انسان العیون میں فرمایا :
السماع المنفی فی الایت بمعنی السماع النافع وقد اشار الی ذلك الحافظ الجلال السیوطی بقولہ
سماع موتی کلام الخلق قاطبۃ حق
قد جاءت بہ عندنا الا ثار فی الکتب
آیت میں جس سننے کی نفی کی گئی ہے وہ سماع نافع کے معنی میں ہے اور اس کی طرف حافظ جلال الدین السیوطی نے اپنے اس کلام سے اشارہ فرمایا ہے :
مردوں کاکلام مخلوق سننا حق ہے اس سے متعلق ہمارے پاس کتابوں میں آثار وارد ہیں۔
مرقاۃ المصا بیح باب حکم الاسراء مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ٧ / ٥١٩
القرآن ۲۷ / ۸۱
القرآن ١٠ / ٩١
اور آیت نفی کامعنی سماع ہدایت ہے یعنی وہ قبول نہیں کرتے اور ادب کی بات پر کان نہیں دھرتے۔ (ت)
امام ابوالبرکات نسفی نے تفسیر مدارك التنزیل میں زیر آیہ سورہ فاطر میں فرمایا :
شبہ الکفار بالموتی حیث لا ینتفعون بمسموعھم ۔
کفار کو مردوں سے تشبیہ دی اس لحاظ سے کہ وہ جو سنتے ہیں اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ (ت)
مولانا علی قاری نے شرح مشکوۃ میں فرمایا :
النفی منصب علی نفی النفع لاعلی مطلق السمع ۔
مطلق سننے کی نفی نہیں بلکہ معنی یہ ہے کہ ان کاسننا نفع بخش نہیں ہوتا۔ (ت)
جواب سوم : مانا کہ اصل سماع ہی منفی مگر کس سے موتی سے موتی کون ہے ابدان کہ روح تو کبھی مرتی ہی نہیں اہل سنت وجماعت کا یہی مذہب ہے جس کی تصریحات بعونہ تعالی تمہید وفصلہ اول ودوم نوع اول مقصد سوم میں آئیں گی۔ ہاں کسی سے نفی فرمائی من فی قلبور سے یعنی جو قبر میں ہے۔ قبر میں کون ہے جسم کہ روحیں تو علیین یا جنت یا آسمان یا چاہ زمزم وغیرہا مقامات عزوکرام میں ہیں جس طرح ارواح کفار سجین یا نار وادی برہوت وغیرہا مقامات ذلت واآلام میں۔ امام سبکی شفاء السقام میں فرماتے ہیں :
لاندعی ان الموصوف بالموت موصوف بالسماع انما السماع بعد الموت لحی وھو الروح ۔
ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ جو موت سے متصف ہے وہی سننے سے بھی متصف ہے مرنے کے بعد سننا ایك ذی حیات کا کام ہے جو روح ہے۔ (ت)
شاہ عبدالقادر صاحب برادر حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب موضح القرآن میں زیر کریمہ وما انت بمسمع من القبور فرماتے ہیں : حدیث میں آیا ہے کہ “ مردوں سے سلام علیك کرو سنتے ہیں بہت جگہ مردوں کوخطاب کیاہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ مردے کی روح سنتی ہے اور قبر میں پڑا ہے دھڑ و ہ نہیں سن سکتاہے ۔
تفسیر مدارك التنزیل تحت سورہ ٣٥ آیت ٢٢ دارالکتاب العربیۃ بیروت ٣ / ٣٣٩
مرقاۃ المصابیح باب حکم الاسراء مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ٧ / ٥١٩
شفاء السقام الباب التاسع الفصل الخامس نوریہ رضویہ سکھر ص٢٥٩
موضح القرآن تحت سورہ ٣٥ آیت ٢٢ ناشران قرآن مجید لمٹیڈ ، اردو بازار لاہور ص٦٩٧
وفیما ذکرنا کفایۃ لمن القی السمع وھو شہید ان اﷲ یسمع من یشاء ویھدی الی صراط الحمید۔
اور جو ہم نے بیان کیا وہ کافی ہے اس کے لیے جو کان لگائے اور متوجہ ہو۔ بیشك اﷲ جسے چاہتا ہے سناتا ہے اور ذات حمید کے راستے کی ہدایت دیتا ہے (ت)
مخالفت () : سائل نے مطلق کہا تھا ایك بزرگ کے مزار شریف پر واسطے زیارت کے گیا جو اپنے ارسال و اطلاق سے شہر میں جانے اور سفر کرکے جانے دونوں کو شامل کما لایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) اور آپ نے بھی یو نہی برسبیل اطلاق زیارت قبور کی تحسین فرمائی او سند میں حدیث بھی وہ ذکر کی جس میں امربزیارت مطلق وارد۔ یہ اطلاقات مذہب جمہور اہل حق سے تو بیشك موافق مگر مشرب طائفہ میں آپ پر لازم تھا کہ بلاسفر کے قید لگادیتے ورنہ سائل ودیگر ناظرین اگر اطلاق دیکھ کر زیارت مزارات کو جانا مطلق جائز سمجھے تو مانعین کے نزدیك ان کا یہ وبال اطلاق فتوی کے ذمہ رہے گا۔
المقصد الثانی فی الاحادیث
(مقصد دوم احادیث میں)
اگرچہ حیات و ادراك وسماع وابصار ارواح میں احادیث وآثار اس درجہ کثرت ووفور سے وارد جن کے استیعاب کو ایك مجلد عظیم ودفتر ضخیم درکار اورخود ان کے احاطہ واستقصا کی طرف راہ کہاں مگر یہاں بقدر حاجت صرف ساٹھ حدیثوں پر اقتصار اور مثل مقصد اول اس میں بھی دونوں پر انفسام گفتار۔
نوع اول : بعد موت بقائے روح وصفات وافعال روح میں یہاں وہ حدیثیں مذکو ر ہوں جن سے ثابت کہ روح فنا نہیں ہوتی اور اس کے افعال وادر اکات جیسے دیکھنا بولنا سننا آنا جانا چلنا پھرنا سب بدستور رہتے ہیں بلکہ اس کی قوتین بعد مرگ اور صاف وتیز ہوجاتی ہیں حالت حیات میں جو کام ان آلات خاکی یعنی آنکھ کان ہاتھ پاؤں زبان سے لیتے تھے اب بغیر ان کے کرتی ہے۔ اگر چہ جسم مثالی کی یاد آوری سہی ہر چند اس مطلب نفیس کے ثبوت میں وہ بے شمار احادیث وآثار سب حجۃ کا فیہ دلائل شافیہ جن میں :
() بعد انتقال عقل وہوش بدستور رہنا۔ () روح کا پس ازمرگ آسمانوں پر جانا۔
() ان کی باتیں سننا۔ () ان سے باتیں کرنا۔
() اپنے منازل جنت کا پیش نظر رہنا۔ () نیك ہمسایوں سے نفع پانا۔
() بدہمسایوں سے ایذا اٹھانا۔ () ملائکہ کا ان کے پا س تحفے لانا۔
() ان کی مزاج پرسی کو آنا۔ () ان کا منتظر صدقات رہنا۔
() قبر کا ان سے بزبان فصیح باتیں کرنا۔ () ان کے منتہائے نظر تك وسیع ہونا۔
() زندوں کے اعمال انھیں سنائے جانا۔ () نیکیوں پرخوش ہونا برائیوں پرغم کرنا۔
() پسماندوں کے لیے دعائیں مانگنا۔ () ان کے ملنے کا مشتاق رہنا۔
() روحوں کاباہم ملنا جلنا۔ () ہر گونہ کلام کے دفتر کھلنا۔
() منزلوں کی فصل سے آپس کی ملاقات کو جانا () اگلے اموات کامردہ نوکے استقبال کو آنا۔
() اس کا گزرے قریبوں کو دیکھ کر پہچاننا ان سے مل کر شاد ہونا۔
() ان کا اس سے باقی عزیزوں دوستوں کے حال پوچھنا۔ () آپس میں خوبی کفن سے مفاخرت کرنا۔
() برے کفن والے کا ہم چشموں میں شرمانا۔ () اپنے اعمال حسنہ یا سیئہ کو دیکھنا۔
() ان کی صحبت سے انس وفرحت یا معاذ اﷲ خوف ووحشت پانا۔
() عالم دین کا علم شریعت () اہلسنت کا مذہب سنت
() مسلمان کے دل خوش کرنے والے کا اس سرور و فرحت سے صحبت دلکشا رکھنا۔
() تالی قرآن کاقران عظیم کی پاکیزہ طلعت سے صحبت دلکشا رکھنا
() دشمنان عثمان کا اپنی قبروں میں عیاذا باﷲ دجال پر ایمان لانا۔
() نیك بندوں کا خدمت اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وعباد اﷲ الصالحین میں حاضر ہونا۔
() اپنی قبور میں نمازیں پڑھنا۔ ()حج کرنالبیك کہنا
(۳۷) تلاوت قرآن میں مشغول رہنا۔ () بلکہ ملائکہ کا انھیں تمام وکمال قرآن عظیم حفظ کرانا۔
() اپنے رب جل جلالہ سے باتیں کرنا۔ () رب تبارك وتعالی کا ان سے کلام جانفزا فرمانا۔
() بیل اور مچھلی کا لڑتے ہوئے ان کے سامنے آنا تماشا دیکھ کر جی بہلانا
() جنت کی نہروں میں غوطے لگانا۔
() دودھ پیتے شہزادے کا انتقال ہوا جنت کی دائیاں مقرر ہونا مدت رضاعت تمام فرمانا۔
() نیکوں کا شوق قیامت میں جلدی کرنا۔ () بدوں کا نام قیامت سے گھبرانا۔
() مقتولان راہ خدا کے دل میں دوبارہ قتل کی آرزو ہونا۔
() مسلمانوں کا سبز یا سپید پرندوں کے روپ میں جہاں چاہنا اڑتے پھرنا۔
() جنت کے پھل پانی کھانا پینا۔
(۵۰) سونے کی قندیلوں میں عرش کے نیچے بسیرا لینا۔ اللھم ارزقنا۔
اور ان کے سوا بہت سے امور وارد ہوئے۔ جوا ن کے علم وادراك وسمع وبصر وکلام سیر وغیرہا صفات و احوال حیات پر برہان ساطع بلکہ تمام آیات واحادیث عذاب قبرو نعیم قبر اس مدعا پرحجت قاطع جسے ان تمام باتوں پر اطلاع تفصیل منظور ہو تصانیف ائمہ دین خصوصا کتاب مستطاب شرح الصدور بکشف حال الموتی والقبور تصنیف لطیف امام اجل خاتمہ الحفاظ المحقیقین امام علامہ جلال الملۃ والدین سیوطی قدس سرہ المکین کی طرف رجوع کرے۔ مگرمیں ا س نوع میں صرف چند حدیثیں ذکر کروں گا جن میں ارواح کا بعد انتقال اہل دنیا کو دیکھنا ان سے باتیں کرنا ان کی باتیں سننا اوراسی قسم کے امور متعلقہ بدنیا مذکور ہیں اور ان میں بھی وقائع جزئیہ نہ لکھوں گا کہ کوئی کہے واقعۃحال لا عموم لھا (ایك واقعہ ہے جو عام نہیں ہوتا۔ ت) اگر چہ دقیق النظر کو ان سے دلیل کی ترتیب اور اتمام تقریب دشوار نہ ہو۔ معہذا پھر ان میں وہ اکثر جن کا ایراد موجب اطالت لہذا صرف انھیں بعض امور کلیہ کی روایت پر اقتصار چاہتا ہوں جو ایك عام طور پر حال ارواح میں وارد ہوئے۔ میرے لیے ان احادیث نوع اول میں دو غرضیں ہیں :
اولا جب بعد فراق بدن ان کا علم وادراك وسمع وبصر ثابت ہو ا تویہ بعینہ مسئلہ مقصودہ کا ثبوت ہے کہ اسی وقت سے نام میت ان پر صادق ہوتاہے۔ قبر میں بند ہونےنہ ہونے کواس میں دخل نہیں تو عام منکرین پر حجت ہوں گے۔
ثانیا جب ان سے ثابت ہوگا کہ روح بعد موت اپنے صفات وافعال پر باقی۔ او ران آلات جسمانیہ سے مستغنی توا س وقت خاس مولوی صاحب کے مقابل یوں گزارش ہو سکتی ہے کہ جس پر جناب مٹی وغیرہ کے حائل وحجاب دیکھ رہے ہیں وہ جسم خاکی ہے نہ کہ روح پاك ا ور سمع وبصر وعلم وخبر جس کے اوصاف ہیں وہ جان پاك ہے نہ کہ یہ تو دہ خاک۔ حسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
حدیث () : امام اجل عبدا ﷲ بن مبارك وا بوبکر بن ابی شیبہ عبداﷲ عــــہ بن عمر وبن عاص رضی اللہ تعالی عنہما
عــــہ : صحابی ابن صحابی رضی اللہ تعالی عنہما منہ (م)
والموقوف ابسط لفظا واتم معنی وانت تعلم انہ فی الباب کمثل المرفوع وھذا لفظ امام ابن المبارك قال ان الدنیا جنۃ الکافر وسجن المؤمن وانما مثل المؤمن حین تخرج نفسہ کمثل رجل کان فی سجن فاخرج منہ فجعل یتقلب فی الارض ویتفسح فیھا ۔ ولفظ ابی بکر ھکذا الدنیا سجن المومن وجنۃ الکافر فاذا مات المومن یخلی سربہ یسرح حیث شاء ۔
(اور حدیث موقوف لفظا زیادۃ مبسوط اور معنا زیادہ تام ہے۔ اور معلوم ہے کہ اس باب میں موقوف بھی مرفوع کا حکم رکھتی ہے۔ اور یہ روایت امام ابن مبارك کے الفاظ ہیں۔ ت) بیشك دنیا کافر کی جنت اور مسلمان کی زندان ہے اور ایمان والے کی جب جان نکلتی ہے توا س کی کہاوت ایسی ہے جیسے کوئی قید خانہ میں تھا اب اس سے نکال دیا گیا کہ زمین میں گشت کرتاا ور بافراغت چلتا پھرتا ہے۔ (اور روایت ابوبکر کے الفاظ یہ ہیں۔ ت) دنیا مسلمان کا قید خانہ او رکافر کی بہشت ہے۔ جب مسلمان مرتاہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے سیر کرے۔
حدیث () : سیدی محمد علی ترمذی انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ماشبھت خروج المومن من الدنیا الامثل خروج الصبی من بطن امہ من ذلك الغم والظلمۃ الی روح الدنیا ۔
یعنی دنیا سے مسلمان کا جانا عــــہ ایسا ہے جیسے بچے کا ماں کے پیٹ سے نکلنا اس دم گٹھنے اور اندھیری کی جگہ سے اس فضائے وسیع دنیا میں آنا۔
عــــہ فائدہ : اسی کے موید دو حدیثین اور ہیں مرسل سلیم بن عامر و بن دینار سے اخرجھا ابن ابی الدنیا (ابن ابی الدنیا نے ان دونوں کو روایت کیا ہے۔ ت) (م)
المصنف لا بن ابی شیبۃ حدیث ١٦٥٧١ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی١٣ / ٣٥٥
نوادر الاصول الاصل الثالث والخمسون فی ان الکبائر لاتجامع دارصادر بیروت ص٧٥
حدیث () : صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا وصف الجنازہ واحتملھا الرجال علی اعناقھم فان کانت صالحۃ قالت قد مونی وان کانت غیر صالحۃ قالت لاھلہا یا ویلھا ان تذھبو بھا بسمع صوتھا کل شیئ الا الانسان ولو سمع الانسان لصعق ۔
جب جنازہ رکھا جاتا ہے اور مرد اسے اپنی گردنوں پر اٹھا تے ہیں اگر نیك ہوتا ہے کہتا ہے مجھے آگے بڑھاؤ اور اگر بد ہوتاہے کہتا ہے ہائے خرابی اس کی کہاں لیے جاتے ہو ہرشے اس کی آواز سنتی ہے مگر آدمی کہ وہ آدمی وہ سنے تو بیہوش ہوجائے۔ (ت)
اقول : اگر چہ اہلسنت کا مسلك ہے کہ نصوص ہمیشہ ظاہر پر محمول ہوں گے۔ جب تك کہ اس میں محذور نہ ہو۔ لہذا ہم اس کلام جنازہ کو یوں بھی کلام حقیقی پر محمول کرتے ہیں مگر بحمد اﷲ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان پچھلے لفظوں سے نص کر مفسر فرمادیا کہ ہر شے اس کی آواز سنتی ہے اب کسی طرح مجال تاویل وتشکیك باقی نہ رہی وﷲ الحمد!
حدیث () : ابو داؤد طیالسی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعا روایت کیا : اذا وضع المیت علی سریرہ ۔ الحدیث مانند حدیث ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ ۔
حدیث () : امام احمد وابن ابی الدنیا وطبرانی ومروزی وابن مندہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ان المیت یعرف من یغسلہ ویحملہ ومن یکفنہ ومن یدلیہ فی حفرتہ ۔
بیشك مردہ پہچانتا ہے اسے کو غسل دے اور جو اٹھائے اور جو کفن پہنائے او رجو قبر میں اتارے۔ (ت)
مسند ابی داؤد الطیالسی حدیث ٢٣٣٦ دارالفکر بیروت ص٣٠٧
مسند احمد بن حنبل مروی از ابو سعید خدری دارالفکر بیروت ٣ / ٣
مامن میت یموت الاوھو یعرف غاسلہ وینا شد حاملہ ان کان بشر بروح وریحان وجنۃ نعیم ان یجعلہ وان کان بشر بنزل من حمیم وتصلیۃ جحیم ان یحبسہ ۔
ہر مردہ اپنے نہلانے والے کو پہچانتاا ور اٹھانے والے کو قسمیں دیتا ہے اگر اسے آسائش اور پھولوں اور ارام کے باغ کا مژدہ ملا تو قسم دیتا ہے مجھے جلد لے چل اور اگر آب گرم کی مہمانی اور بھڑکتی آگ میں جانے کی خبر ملتی ہے قسم دیتا ہے مجھے روك رکھ۔
حدیث () : ابن ابی الدنیا کتاب القبور میں حضرت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
مامن میت یوضع عیل سریرہ فیخطی بہ ثلچ خطوات الاتکلم بکلام یسمع من شاء اﷲ الا الثقلین الجن والانس یقول یا اخوتاہ ویاحملۃ نعشاہ لاتغر نکم الدنیا کما غرتنی ولا یلعبن بکم الزمان کما لعب بی خلفت ما ترکت لورثتی والدیان یوم القیمۃ یخاصمنی ویحاسبنی وانتم تشیعونی وتدعونی ۔
جب مردے کو جنازہ پر رکھ کرتین قدم لے چلتے ہیں ایك کلام کرتاہے جسے سب سنتے ہیں جنھیں خدا چاہے سوا جن وانس کے کہتا ہے اے بھائیو! اے نعش اٹھانے والو! تمھیں دنیا وفریب نہ دے جیسا مجھے دیا اور تم سے نہ کھیلے جیسا مجھ سے کھیلی اپنا تر کہ تو میں وارثوں کے لیے چھوڑ چلا اور بدلہ دینے ولاقیامت میں مجھ سے جھگڑے گا اور حساب لے گا۔ تم میرے ساتھ چل رہے اور اکیلا چھوڑ آؤ گے۔
حدیث () : ابن مندہ راوی حبان بن ابی جبلہ عــــہنے فرمایا :
بلغنی ان رسول اﷲ صـلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ان الشھید اذا استشھد انزل
مجھے حدیث پہنچی کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : شہید کے لیے جسم نہایت خوبصورت
عــــہ : یہ تابعی ثقہ ہیں رجال بخاری سے کتاب الادب المفرد میں منہ (م)
شرح الصدور کتاب القبور لا بن ابی الدنیا باب معرفۃ المیّت من یغسلہ خلافت اکیڈمی سوات ص٤٠
یعنی اجسام مثالیہ سے اتر تاہے اور اس کی روح کو کہتے ہیں اس میں داخل ہو پس وہ اپنے بدن کو دیکھتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں اور کلام کرتا ہے اور اپنے ذہن میں سمجھتاہے کہ لوگ اس کی باتیں سن رہے ہیں اور آپ جو انھیں دیکھتا ہے تو یہ گمان کرتا ہے کہ لوگ بھی اسے دیکھ رہے ہیں یہاں تك کہ حور عین میں سے اس کی بیبیاں آکر اسے لے جاتی ہیں (ت)
حدیث () : ابن ابی الدنیا وبہیقی سعید بن مسیب سے راوی :
ان سلمان الفارسی وعبداﷲ بن سلام التقیا فقال احدھما لصاحبہ ان لقیت ربك قبلی فاخبرنی فی ماذا لقیت فقال اوتلقی الاحیاء الاموات قال نعم اماالمومنون فان رواحہ فی الجنۃ وھی تذھب حیث شاءت ۔
سلمان فارسی وعبداﷲ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہما ملے ایك صاحب نے دوسرے سے فرمایا : اگر آپ مجھ سے پہلے انتقال کریں تو مجھے خبر دیں کہ وہاں کیا پیش آیا دوسرے صاحب نے پوچھا کہ کیا زندے اور مردے بھی آپس میں ملتے ہیں فرمایا : ہاں مسلمانوں کی روحیں توجنت میں ہوتی ہیں اور انھیں اختیار ہوتا ہیے جہاں چاہے جائیں۔
مغیرہ بن عبدالرحمان کی روایت میں تصریح آئی کہ یہ ارشاد فرمانے والے حضرت سلمان عہ فارسی تھے رضی اللہ تعالی عنہ۔ سعید بن منصور اپنے سنن اور ابن جریرطبری کتاب الادب میں ان سے راوی :
قال لقی سلمان الفارسی عبداﷲ بن سلام فقال لہ ان مت قبلی فاخبرنی بما تلقی وان مت قبلك اخبرتك الحدیث ۔
یعنی سلمان فارسی نے عبداﷲبن سلام سے فرمایا : اگر تم مجھ سے پہلے مرو تو مجھ خبردینا کہ وہاں کیا پیش آیاا ور اگر میں تم سے پہلے مروں گا تومیں تمھیں خبردونگا۔
عــــہ : صحابی عظیم الشان الجلیل القدر صحابی ان چاروں میں سے جن کی طرف جنت مشتاق ہے منہ سلمہ (م)
شعب الایمان حدیث ١٣٥٥ دارالکتب العلمیہ بیروت ٢ / ١٢١
شرح الصدو ر بحوالہ کتاب الادب لابن جریر خلافت اکیڈمی سوات ص٩٨
لا یقبض المومن حتی یری البشری فاذا قبض نادی فلیس فی الدار دابۃ صغیرۃ ولاکبیرۃ الاﷲ وھی تسمع صوتہ الا الثقلین الجن والانس تعجلو ابی الی ارحم الراحمین فاذا وضع علی سریرہ قال ما ا بطاء ماتمشون ۔ الحدیث
مسلمانوں کی روح نہیں نکلتی جب تك بشارت نہ دیکھ لے۔ پھر جب نکل چکتی ہے تو ایسی آواز میں جسے انس وجن کے سوا گھر کا ہر چھوٹا بڑا جانور سنتا ہے۔ ندا کرتی ہے مجھے لے چلو ارحم الراحمین کی طرف پھر جب جنازے پر رکھتے ہیں کہتی ہے کتنی دیر لگارہے ہو چلنے میں۔ الحدیث۔
حدیث () : امام احمد کتاب الزہد میں ام الدرداء عــــہ۲ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ فرماتیں :
ان المیت اذا وضع عی سریرہ فانہ ینادی یااھلاہ ویاجیراناہ ویا حملۃ سریراہ لاتغرنکم الدنیا کما غرتنی الحدیث۔
بیشك مردہ جب چا رپائی پر رکھا جاتاہے پکارتا ہے اے گھروالو اے ہمسایوں اے جنازہ اٹھانے والو! دیکھو دنیا تمھیں دھوکا نہ دے جیسا مجھے دیا۔
حدیث () : ابن ابی الدنیا امام مجاہد عــــہ۳ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے راوی :
اذامات المیت فملك قابض نفسہ فما من شیئ الا وھویراہ عند غسلہ وعند حملہ حتی یوصلہ الی قبرہ ۔
جب مردہ مرتا ہے ایك فرشتہ اس کی روح ہاتھ میں لیے رہتا ہے نہلاتے اٹھاتے وقت جو کچھ ہوتا ہے وہ سب دیکھتا جاتاہے یہاں تك کہ فرشتہ اسے قبر تك پہنچا دیتا ہے۔
عــــہ۱ : صحابی جلیل القدرر فیع الذکر ہیں جن کی عام شہرت ان کی تعریف سے مغنی منہ (م)
عــــہ۲ : یہ دو خاتونو ں کی کنیت ہے دونوں حضرت ابودرداء صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیبیاں ہیں پہلی کبری کہ صحابیہ ہیں خیرہ نام دوسری صغری تابعیہ ثقہ فقیہ مجتہدہ رواۃ صیاح ستہ سے ہجمیہ نام رضی اللہ تعالی عنہا ۱۲ منہ (م)
عــــہ۳ : تابعی جلیل الشان امام مجتہد مفسر ثقہ علماء مکہ معظمہ واجلہ تلامذہ عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے سب صحاح میں ان سے روایت ہے منہ (م)
شرح الصدو ر بحوالہ کتاب الزہد لاحمد باب معرفۃ المیّت خلافت اکیڈمی سوات ص٤٠
شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا باب معرفۃ المیّت خلافت اکیڈمی سوات ص ۳۹
مامن المیت یموت الا وھو یعلم مایکون فی اھلہ بعدہ وانھم یغسلونہ ویکفونہ وانہ لینظر الیھم ۔
ہر مردہ جانتا ہے کہ اس کے بعد اس کے گھر والوں میں کیا ہورہا ہے لوگ اسے نہلاتے ہیں کفناتے ہیں اور وہ انھیں دیکھتا جاتا ہے۔
حدیث () : ابو نعیم انہیں سے راوی :
مامن میت یموت الاروحہ فی ید ملك ینظر الی جسدہ کیف یغسل وکیف یکفن وکیف یمشی بہ ویقال لہ وھو علی سریرہ اسمع ثناء الناس علیك ۔
ہر مردے کی روح ایك فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے کہ اپنے بدن کو دیکھتی جاتی ہے کیونکرغسل دیتے ہیں کس طرح کفن پہناتے ہیں کیسے لے کر چلتے ہیں اور وہ جنازے پر ہوتا ہے کہ فرشتہ اس سے کہتا ہے سن تیرے حق میں بھلا یا برا کیا کہتے ہیں۔
حدیث () : امام ابوبکر عبداﷲ بن محمد بن عبید ابن ابی الدنیا کہ امام ابن ماجہ صاحب سنن کے استاد ہیں امام اجل بکر عــــہ۲ بن عبداﷲ مزنی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے راوی کہ انھوں نے فرمایا :
بلغنی انہ مامن میت یموت الاوروح فی ید ملك الموت فھم یغسلونہ ویکفنونہ وھو یری مایصنع اھلہ فلم یقدر علی الکلام لینھا ھم عن الرنۃ والعویل ۔
مجھے حدیث پہنچی کہ جو شخص مرتا ہے اس کی روح ملك الموت کے ہاتھ میں ہوتی ہے لوگ اسے غسل وکفن دیتے ہیں اور وہ دکھتا ہے کہ اس کے گھر والے کیا کرتے ہیں وہ ان سے بول نہیں سکتا کہ انھیں شور وفریاد سے منع کرے۔
اقول : اس نہ بولنے کی تحقیق زیر حدیث مذکور ہوگی ان شاء اﷲ تعالی۔
عــــہ۱ : یہ بھی تابعی جلیل ثقہ ثبت ہیں علماء مکہ معظمہ ورجال صحاح ستہ سے منہ (م)
عــــہ۲ : تابعی جلیل ثقہ ثبت ہیں رواۃ صحاح ستہ سے منہ سلمہ ربہ (م)
حلیۃ الاولیاء مترجم نمبر ٢٤٦ دارالکتاب العربی بیروت ٣ / ٣٤٩
شرح الصدو ر بحوالہ ابن ابی الدنیا باب معرفۃ المیّت خلافت اکیڈمی سوات ص٤٠۔ ٣٩
ان المیت لیعرف کل شی حتی انہ لینا شد غاسلہ باﷲ الاخففت علی قال ویقال لہ وھو علی سریرہ اسمع ثناء الناس علیك ۔
بیشك مردہ ہر چیز کو پہچانتا ہے یہاں تك کہ اپنے نہلانے والے کو خدا کی قسم دیتا ہے کہ آسانی سے نہلانا اور یہ بھی فرمایا کہ اس سے جنازے پر کہا جاتا ہے کہ سن لوگ تیرے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
حدیث () : یہی عبدالرحمن بن ابی لیلی عــــہ۲ علیہ رحمۃ اﷲ وسبحانہ وتعالی سے راوی :
الروح بید ملك بمشی بہ مع الجنازۃ یقول لہ اسمع ما یقال لك الحدیث ۔
روح ایك فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے کہ اسے جنازہ کے ساتھ لے کر چلتااور اس سے کہتا ہے سن تیرے حق میں کیا کہا جاتا ہے۔
حدیث () : یہی ابن ابی نجیح عــــہ۲ سے راوی :
مامن میت یموت الاروحہ فی یدر ملك ینظر ال جسد ہ کیف یغسل وکیف یکفن وکیف یمشی بہ الی قبرہ الحدیث۔
جو مردہ مرتا ہے اس کی روح ایك فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے کہ اپنے بدن کو دیکھتی ہے کیونکر نہلایا جاتا ہے کیونکر کفن پنایا جاتا ہے کیونکر قبر کی طرف لے کر چلتے ہیں۔
حدیث () : یہی ا بو عبداﷲ بکر مزنی عــــہ۴ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے راوی :
حدثت ان المیت لیستبشر بتعجیلہ
مجھ سے حدیث بیان کی گئی ہے کہ دفن میں جلدی کرنے
عــــہ۱ : تبع تابعین ومجتہدان کو فہ ورجال ستہ سے ہیں امام ثقہ حجت محدث مجتہد عارف باﷲ منہ (م)
عــــہ۲ : یہ تابعی عظم القدر جلیل الشان میں رجال صحاح ستہ سے منہ (م)
عــــہ۳ : تبع تابعین وعلمائے مکہ ورواۃ صحاح ستہ سے منہ (م)
عــــہ۴ : تابعی جلیل القدر کمامر منہ (م)
شرح الصدو ر بحوالہ ابن ابی الدنیا باب معرفۃ المیّت خلافت اکیڈ می سوات ص٤٠
شرح الصدو ر عن ابن نجیح باب معرفۃ المیّت خلافت اکیڈ می سوات ص٤٠
جعلنا اﷲ بمنہ وکرمہ من السرورین المستبشرین برحمۃ المسریحین بالموت بجودہ وسابغ نعمتہ امین بجاہ النبی الکریم الرؤف الرحیم والہ وصحبہ واولیاء امۃ افضل الصلوۃ والتسلیم عــــہ ۔
سے مردہ خوش ہوتا ہے۔
اﷲ اپنے فضل وکرم سے ہمیں ان لوگوں میں سے بنائے جو اس کی رحمت سے شاداں وفرحاں ہوتے اس کے وجود وانعام کا مل کے سبب موت سے راحت پاتے ہیں الہی! قبول فرما نبی کریم رؤف ورحم کی وجاہت کے صدقے ان پر ان کی آل واصحاب اور ان کی میت کے اولیاء پر بہترین درود وسلام ہو۔
نوع دوم : احادیث سمع وادراك اہل قبور میں اور اس میں چند فصلیں ہیں :
فصل اول اصحاب قبور سے حیاکرنے میں :
حدیث () : ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ ما کا ارشاد جو مشکوۃ شریف میں بروایت امام احمد منقول اور اسے حاکم نے بھی صحیح مستدرك میں روایت کیا اور بشرط بخاری ومسلم صحیح کہا کہ فرماتیں :
کنت ادخل بیت الذی فیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وانی واضع ثوبی واقول انما ھو زوجی وابی فلما دفن عمر معھما فواﷲ مادخلتہ الا وانا مشدودۃ علی ثیابی حیاء من عمر ۔
میں اس مکان جنت آستان میں جہان حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مزار پاك ہے یونہی بے لحاظ ستر وحجاب چلی جاتی اور جی میں کہتی وہاں کون ہے۔ یہی میرے شوہر یامیرے باپ صلی اﷲ تعالی علے زوجہاثم ابیہا ثم علیہا وبارك وسلم۔ جب سے عمر دفن ہوئے خداکی قسم میں بغیر سراپا بدن چھپائے نہ گئی عمر سے شرم کے باعث رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔
فرمائیے اگر ارباب مزارات کو کچھ نظر نہیں آتا اس شرم کے کیامعنی تھے اور دفن فاروق سے پہلے ا س لفظ کا کیا منشاء تھا کہ مکان میں میرے شوہر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سوا میرے باپ ہی تو ہیں غیر کون ہے!
عــــہ : اس نوع کی بعض احادیث بوجہ مناسبت نوع دوم میں مذکور ہوئیں واﷲ تعالی اعلم ۱۲منہ (م)
مشکوۃ المصابیح زیارۃ القبور فصل ثالث مطبع مجتبائی دہلی ص١٥٤ ، مستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابہ دارالفکر بیروت ٤ / ٧
ماابالی فی القبور قضیت حاجتی اما فی السوق والناس تنظرون ۔
یعنی میں ایك سا جانتاہوں کہ قبرستان میں قضائے حاجت کو بیٹھوں یا بیچ بازار میں کہ لوگ دیکھتے جائیں۔
مقصد ثالث میں اس کے مناسب سلیم بن عمیر سے مذکور ہوگا کہ شرم اموات کے باعث مقابر میں پشاب نہ کیا حالانکہ سخت حاجت تھی۔
فصل دوم : احیاء کے آنے پاس بٹھنے بات کرنے سے مردون کے جی بہلنے میں ____ ظاہر ہیں کہ اگر دیکھتے سنتے سمجھتے نہیں تو ان امور سے جی بہلنا کیسا!
حدیث () : شفاء السقام امام سبکی واربعین طائیہ پھرشرح الصدور میں ہے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مروی :
انس مایکون المیت فی قبرہ اذازارہ من کان یحبہ فی دارلدنیا ۔
قبر میں مردے کا زیادہ جی بہلنے کا وقت وہ ہوتاہے جب اس کا کوئی پیارا زیارت کوآتاہے۔
حدیث () : ابن ابی الدنیا کتاب القبور میں اور امام عبدالحق کتاب العاقبہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
مامن رجل یزور قبر اخیہ ویجلس عندہ الا استانس وردعلیہ حتی یقوم ۔
جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی زیارت قبر کو جاتا ہے اور وہاں بیٹھتا ہے میت کا دل اس سے بہلتا ہے اور جب تك وہاں سے اٹھے مردہ اس کا جواب دیتا ہے۔
حدیث () : صحیح مسلم شریف میں ہے عمر وبن العاص رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے صاحبزادے عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہ وہ بھی صحابی ہیں نزع میں فرمایا :
اذا دفنتمونی فشنوا علی التراب شنا ثم اقیموا حول قبری قدرما تنحر جزور ویقسم لحمھا حتی استانس بکم وانظر ماذا ا راجع
جب مجھے دفن کر چکو مجھ پر تھم تھم کر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا پھر میر قبر کے گرد اتنی دیر ٹھہرے رہنا کہ ایك اونٹ ذبح کیا جائے اور اس کا گوشت تقسیم ہو
شرح الصدور بحوالہ اربعین طائیہ باب زیارۃ القبور خلافت اکیڈمی سوات ص٨٥
شرح الصدور بحوالہ کتاب القبور ابن ابی الدنیا باب زیارۃ القبور خلافت اکیڈمی سوات ص٨٤
یہاں تك کہ میں تم سے انس حاصل کروں اور جان لوں کہ اپنے رب کے رسول کوکیا جواب دیتاہوں ۔
فصل سوم : احیاء کی بے اعتدالی سے اموات کے ایذا پانے میں____ ظاہر ہے کہ افعال واحوال احیاء پر انھیں اطلاع نہیں تو ایذا پانی محض بے معنی۔
حدیث () : امام احمد بسند حسن عمارہ بن جزم رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مجھے ایك قبر سے تکیہ لگائے دیکھا فرمایا : لا تؤذ صاحب ھذا القبر یعنی اس قبر والے کو ایذا نہ دے۔ یا فرمایا : لاتؤذہ اسے تکلیف نہ پہنچا۔ یاصاحب القبر انزل من علی القبر لا تؤذی صاحب القبر ولایؤذیك ( اوقبر والے! قبر سے اترآ نہ تو صاحب قبرکو ایذا دے نہ ہو تجھے)
مقصد سوم : میں اس حدیث کی شرح امام اجل حکیم ترمذی سے منقول ہوگی۔
روایت مناسبہ : ابن ابی الدنیا ابو قلابہ بصری عــــہ۱سے راوی : میں ملك شام سے بصرہ کو جاتا تھا رات کو خندق میں اترا وضو کیا دور کعت نماز پڑھی پھر ایك قبر پر سر رکھ کر سوگیا جب جاگا تو صاحب قبر کو دیکھا کہ مجھ سے گلہ کرتا ہے اور کہتا ہے : لقد اذیتنی منذ اللیلۃ اے شخص تونے مجھے رات بھر ایذا دی۔
روایت دوم : امام بیہقی دلائل النبوۃ میں اورا بن ابی الدنیا حضرت ابو عثمان عــــہ۲ نہدی سے وہ ابن مینا تابعی سے راوی :
میں مقبرے میں گیا دو۲ رکعت پڑھ کر لیٹ رہا خدا کی قسم میں خوب جاگ رہاتھا کہ سنا کہ کوئی شخص قبر میں سے کہتا ہے : قم فقد اذیتنی اٹھ کہ تونے مجھے اذیت دی۔ پھر کہا کہ تم عمل کرتے ہو اور ہم نہیں کرتے
عــــہ۱ : تابعی ثقہ فاضل رجال صحاح ستہ سے منہ (م)
عــــہ۲ : اجلہ اکابر تابعین سے ہیں زمانہ رسالت پائے ہوئے ثقہ ثبت عمائد رجال صحاح ستہ سے منہ (م)
مشکوٰۃالمصابیح بحوالہ احمد کتاب الجنائز باب دفن المیّت مطبع مجتبائی دہلی ص١٤٩
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی الکبیر باب البناء علی القبور الخ دارالکتاب بیروت ۳ / ۶۱
روایت سوم : حافظ بن مندہ امام قاسم عــــہ بن مخیمرہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے راوی :
اگرمیں تپائی ہوئی بھال پر پاؤں رکھوں کہ میرے قدم سے پار ہوجائے تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے ا س سے کہ کسی قبر پر پاؤں رکھوں پھر فرمایا : ایك شخص نے قبر پر پاؤں رکھا جاگتے میں سنا الیك عنی یا رجل ولاتؤذنی اسے شخص! الگ ہٹ مجھے ایذا نہ دے۔
حدیث () : امام مالك واحمد وابوداؤد وابن ماجہ وعبدالرزاق وسعید بن منصور وابن حبان ودارقطنی ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : واللفظ لا حمد کسر عظم المیت واذاہ ککسرہ حیا مردے کی ہڈی توڑنی اور اسے ایذا دینی ایسی ہے جیسی زندہ کی ہڈی توڑنی۔ بعض روایات دارقطنی میں لفظ فی الالم اور زائد درد پہنچنے میں زندہ ومردہ برابر ہیں ذکرہ فی مقا صد الحسنۃ (اسے مقاصد حسنہ میں ذکر کیا گیا۔ ت) ____ مقصد سوم میں ا س کے متعلق امام ابوعمر کا قول آئے گا۔
حدیث () : دیلمی و ا بن مندہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
احسنوا الکفن ولاتؤذو اموتاکم بعویل ولا بتاخیر وصیۃ ولا بقطعیۃ وعجلوا قضاء دینہ واعدلو عن جیران السوء ۔
کفن اچھادو اور اپنی میت کو چلا کر رونے یا اس کی وصیت میں دیر لگانے یا قطع رحم کرنے سے ایذا نہ پہنچا اور اس کا قرض جلد ادا کرو اور برے ہمسایہ سے الگ رکھو یعنی قبور کفار واہل بدعت وفسق کے پاس فن نہ کرو۔
عــــہ : تابعی ثقہ فاضل رواۃ صحاح ستہ سے غیرانہ عندخ فی التعلیقات (البتہ امام بخاری نے تعلیقات میں اس کا ذکر کیا ہے۔
شرح الصدو ر بحوال ابن مندہ باب تأذیہ بسائر وجوہ الاذٰی خلافت اکیڈمی سوات ص١٢٦
مسند احمد بن حنبل مرویات حضرت عائشہ دارالفکر بیروت ٦ / ١٠٥
المقاصد الحسنہ حدیث ٨٠١ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص٢١٦
الفردوس بماثور الخطاب حدیث ٨٠١ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ٩٨
کنت مع ابن عمر فی جنازۃ فسمع صوت انسان یصیح فبعث الیہ فاسکتہ فقلت لم اسکتہ یا ابا عبدالرحمن قال انہ یتاذی بہ المیت حتی یدخل فی قبرہ ۔
میں عبداﷲا بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے ساتھ ایك جنازہ میں تھا کسی کے چلانے کی آواز سنی آد می بھیج کر اسے خاموش کرادیا میں نے عرض کی : اے ابوعبدالرحمن! آپ نے اسے کیوں چپایا فرمایا : اس سے مردے کو ایذا ہوتی ہے یہاں تك کہ قبر میں جائے۔
حدیث () : امام سعید بن منصور اپنے سنن میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
انہ رأی نسوۃ فی جنازۃ فقال ارجعن مازورات غیر مأجورات ان کن لتفتن الاحیاء وتؤذین الاموات ۔
یعنی انھوں نے ایك جنازے میں کچھ عورتیں دیکھیں اورا رشاد فرمایا پلٹ جاؤ گناہ سے بوجھل ثواب سے اوجھل۔ تم زندوں کو فتننے میں ڈالتی اور مردوں کو اذیت دیتی ہو۔
تنبیہ : سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جو حدیث صحیح مشہور میں فرمایا : المیت یعذب ببکاء الحی علیہ زندوں کے رونے سے مردے پر عذاب ہوتا ہے ۔ جسے امام احمد وشیخین نے ۱عمر فاورق و۲عبداﷲ بن عمر و۳ مغیرہ بن شعبہ اور ابو یعلی نے ۴ابوبکر صدیق و ۵ابوہریرہ اور ابن حبان نے ۶انس بن مالك و۷عمران بن حصین اور طبرانی نے ۸سمرہ بن جندب سے روایت کیا۔ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ایك جماعت ائمہ کے نزدیك اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ زندوں کے چلانے سے مردوں کو صدمہ ہوتا ہے۔ امام اجل سیوطی نے شرح الصدور میں اس معنی کو ایك حدیث مرفوع سے مؤید کرکے فرمایا امام ابن جریر کا یہی قول ہے اور اسی کوایك گروہ ائمہ نے اختیار فرمایا پھر اس کی تائید میں یہ دو۲ حدیثیں ابن مسعود وابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم کی کہ ہم نے بیان کیں۔ ذکرفر مائیں اس تقدیر پر اراشاد اقدس المیت یعذب الحدیث کی آٹھوں روایتیں بھی یہاں شمار کے قابل تھیں مگر ازانجا کہ علماء کو اس کے معنی میں بہت اختلاف ہے۔ نہ ہمارا قصد وحصر واستیعاب۔ لہذا انہیں معد ود نہ کیا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حدیث (۳۰) : ابن ابی شیبہ اپنے مصنف میں سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
اذی المؤمن فی موتہ کاذاہ
مسلمان کو بعد موت ایذ دینی ایسی ہے جیسے زندگی میں
سنن سعید بن منصور
صحیح مسلم کتاب الجنائز قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٣٠٢
اسے تکلیف پہنچائی۔
حدیث () : سعید بن منصور اپنے سنن میں راوی کسی نے اس جناب سے قبر پر پاؤں رکھنے کا مسئلہ پوچھا فرمایا :
کما اکرہ اذی المومن فی حیاتہ فانی اکرہ اذاہ بعد موتہ ۔
مجھے جس طرح مسلمان زندہ کی ایذا ناپسند ہے یونہی مردہ کی۔
حدیث (۳۲) : طبرانی عبدالرحمن بن علابن لجلاج سے ان کے والد علا(عہ) رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ان سے فرمایا :
یابنی اذا وضعتنی فی لحدی فقل بسم اﷲ وعلی ملۃ رسول ثم شن لی التراب شناثم اقرأعند راسی بفاتحہ القبرۃ وخاتمہا فانی سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول ذلک۔
اے میرے بیٹے!جب مجھے لحدمیں رکھے بسم اﷲ وعلی ملتہ رسول اﷲ کہنا۔ پھر مجھ پر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا پھر میرے سرہانے سورہ بقرہ کا شروع یعنی مفلحون تك اور خاتمہ یعنی امن الرسول سے پڑھنا کہ میں نے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے سنا۔
اور حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد صحیح مسلم سے ابھی گزرا کہ مجھ پر مٹی تھم تھم کر بہ نرمی ڈالنا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ وترجمہ مشکوۃ میں ا س حدیث کے نیچے لکھتے ہیں :
چہ می دفن کنید مراپس بنرمی وبسہولت بیندا زید برمن خاك رایعنی اندك اندك زید واین اشارت است بآں کہ میت احساس می کند ودروناك می شود بانچہ دردناك مے شود بآن زندہ ۔
جب مجھے دفن کرنا مجھ پر مٹی نرمی وسہولت سے یعنی ذرا ذرا کرکے ڈالنا یہ اشارہ ہے اس بات کا کہ مردے کو احساس ہوتاہے اور جس چیز سے زندہ کو تکلیف ہوتی ہے ا سے بھی ہوتی ہے۔
عــــہ : تابعی ثقہ ہیں اور ان کے بیٹے عبدالرحمان تبع تابعین مقبول الروایۃ سے دونوں صاحب رجال جامع الترمذی میں ہیں ۱۲منہ (م)
شرح الصدو ر بحوالہ سنن سعید بن منصور باب تاذی المیّت خلافت اکیڈمی سوات ص١٢٦
مجمع الزوائد بحوالہ طبرانی باب مایقول عند ادخال المیّت قبر دارالکتب العربی بیروت ٣ / ٤٤
اشعۃ اللمعات کتاب الجنائز باب دفن المیّت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۹۷
حدیث () : امام ابو عمر ابن عبدالبرکتاب الاستذکار والتمہید میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
مامن احدیمر بقبرا خیہ المؤمن کان یعرفہ فی الدنیا فیسلم علیہ الاعرفہ ورد علیہ السلام ۔
جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی قبر پر گزرتا اور ا سے سلام کرتا ہے اگر وہ اسے دنیا میں پہچانتا تھا اب بھی پہچانتا اور جواب سلام دیتا ہے۔
امام ابو محمد عبدالحق کہ اجلہ علمائے حدیث سے ہیں ا س حدیث کی تصحیح کرتے ہیں ذکرہ الامام السیوطی فی شرح الصدور والفاضل الزرقانی فی شرح المواھب (اسے امام سیوطی نے شرح الصدور میں اور علامہ زرقا نی نے شرح مواہب میں ذکر کیا۔ ت) اسی طرح امام ابوعمر سید علامہ سمہودی نے ا س کی تصحیح فرمائی ذکرہ الشیخ المحقق فی جامع البرکات وجذب القلوب (اسے شیخ محقق نے جامع البرکات اور جذب القلوب میں ذکر فرمایا ہے۔ ت) امام سبکی شفاء السقام میں یہ حدیث لکھ کر فر ماتے ہیں :
ذکرہ جماعۃ وقال القرطبی فی التذکرۃ ان عبد الحق صححہ ورویناہ فی الخلعیات من حدیث ابی ھریرۃ ایضا انتہی
اسے ایك جماعت نے ذکر کیا اور اما م قرطبی نے تذکرہ میں لکھا ہےکہ امام عبد الحق نے اسے صحیح کہا اور خلعیات میں اسے ہم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بھی بیان کیا ہے انتہی (ت)
قلت وستسمع ذلك (میں نے کہا : وہ حدیث آگے سنو گے)
حدیث () : ابن ابی الدنیا وبیہقی وصابونی وابن عساکر وخطیب بغدادی وغیرہم محدثین ا بوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
اذا مر الرجل بقبر یعرفہ فسلم علیہ رد علیہ السلام وعرفہ
جب آدمی ایسی قبر پر گزرتاہے جس سے دنیا میں شناسائی تھی اور اسے سلام کرتا ہے میت جواب سلام دیتا
شرح الصدور بحوالہ التمہید لابن عبدالبر باب زیارت القبور خلافت اکیڈمی سوات ص٨٤
شفاء السقام الباب الخامس مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص٨٨
اور اسے پہچانتا ہے اورجب ایسی قبر پر گزرتا جس سے جان پہچان نہ تھی اور سلام کرتاہے میت اسے جواب سلام دیتا ہے عــــہ ۔
حدیث () : امام عقیلی ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
قال قال ابوزرین یا رسول اﷲ ان طریقی علی الموتی فھل من کلام اتکلم بہ اذا مررت علیھم قال قل السلام علیکم یا اھل القبور من المسلمین والمؤمنین انتم لنا سلفا ونحن لکم تبع تبعا وانا ان شاء اﷲ بکم لاحقون قال ابوزرین یا رسول اﷲ یسمعون قال یسمعون ولکن لایستطیعون ان یجیبوا ۔
یعنی ابو زرین رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی یا رسول اﷲ ! میرا راستہ مقابر پر ہے۔ کوئی کلام ایسا ہے کہ جب ان پر گزروں کہا کروں فرمایا : یوں کہہ سلام تم پر اے قبر والو! اہل اسلام اور اہل ایمان سے تم پر ہمارے آگے ہو ااورہم تمھارے پیچھے اورہم ان شاء اﷲ تعالی تم سے ملنے والے ہیں ابوزرین رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی یارسول اﷲ ! کیا مردے سنتے ہیں فرمایا سنتے ہیں مگر جواب نہیں دے سکتے۔
تنبیہ نبیہ : امام جلال الدین سیوطی شرح الصدور میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
ای جوابا یسمعہ الحی والا فھم یردون حیث لایسمع ۔
یعنی حدیث کی یہ مراد ہے کہ مردے ایسا جواب نہیں دیتے جو زندے سن لیں ورنہ وہ ایسا جواب تو دیتے ہیں جو ہمارے سننے میں نہیں آتا۔
اقول : یہ معنی خود اسی فصل کی دو حدیث سابق سے واضح کہ ان میں تصریحا فرمایا مردے جواب سلام دیتے ہیں اور اس کی نظیر وہ ہے جو حدیث میں بکر بن عبداﷲ مزنی سے گزرا کہ روح سب کچھ دیکھتی ہے مگر
عــــہ : سمہودی گوید کہ احادیث درینمعنی بسیار است وایں معنی درآحادست وعموم مومنین متحقق منہ (م)
علامہ سمہودی فرماتے ہیں اس معنی میں احادیث بہت ہیں اور یہ معنی ہونا خود ہی ثابت ہے افراد امت اورعام مومنین میں متحقق ہے۔ (ت)
کتاب الضعفاء الکبیر مترجم ١٥٧٣ دارالکتب العلمیۃ بیروت ٤ / ١٩
شرح الصدور باب زیارۃ القبور خلافت اکیڈمی سوات ص٨٤
تنبیہ دوم : فقیر کہتا ہے پھر یہ ہمارا نہ سننا بھی دائمی نہیں صدہا بندگان خدا نے اموات کا کلام و سلام سنا ہے۔ جن کی بکثرت روایات خود شرح الصدور وغیرہ میں مذکور ۔ اور بعض اسی مقصد میں فقیر نے بھی نقل کیں ا ور عجب نہیں کہ ان شاء اﷲ تعالی اپنے محل پر اور بھی مذکور ہوں۔
تنبیہ سوم : بس نافع ومہم۔
اقول : وباﷲ التوفیق طرفہ یہ ہے کہ جواب سوال نوز دہم میں صاحب مائۃ مسائل نے بھی اس حدیث کو عن القاری عن السیوطی عن العقیلی نقل کیا اور اموات کے لیے سلام احیاء کاسننا مسلم رکھا ۔ اسی قدرے اپنی وہ سب جولانیاں جو زیر سوال کے ہیں باطل مان لیں کہ وہاں جن پانچ عبارتوں سے استناد کیا ان سب میں نفی مطلق ہے۔ اسی طرح آیہ کریمہ بفرض غلط نافی سماع ہو تووہاں بھی سلام وکلام کچھ تخصیص نہیں اور عبارت دوم میں تو صاف منافات موت وافہام مذکور کیا بعض جگہ متنا فیین بھی جمع ہوجاتے ہیں اور عبارت پنجم میں صریحا لفظ جمادات موجود پھر پتھروں کے آگے سلام کلام سب ایك سا۔ غرض اگر آیت اور ان عبارات کا وہی مطلب تو سماع سلام کی تسلیم میں ان سب استنادوں کو دفعتا سلام ہواجاتا ہے۔ پھر ناحق اپنے یہاں حدیث عقیلی سے استناد اور کلمات قاری وسیوطی کی سنئے گا تو بہت کچھ ماننا پڑے گا۔ ان کی تحقیقات قاہرہ وتصریحات باہرہ عنقریب ان شاء اﷲ تعالی مقصد ثالث میں جگر شگاف مکابرہ واعتسفاف ہوتے ہیں ادھر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حدیثوں پر کان رکھا اور ارواح گزشتگان کو جماد وسنگ ماننے کا دھرم گیا۔ ذرا خدا لگتی کہنا ایك عقیلی کی حدیث سے آپ نے سماع سلام تو تسلیم کیا بخاری ومسلم وغیرہ کی احادیث صحیحہ سے جو توں کی پہچل اور ہاتھ جھاڑنے کی اواز اورسلام کے سوا اور انواع کلام بھی سننا اورا ن پتھروں کا اپنے زائروں کوپہچاننا ان کا جواب سلام دینا اور ان سے انس حاصل کرنا اور ان کے سوا صدہا امور جو ثابت ومذکورہ وہ کس جی سے مانئے گا یا وہاں پھر فالف بعض الحدیث وکان ببعض(کسی حدیث کا الف اور کسی حدیث کا کاف لیجئے گا۔ ت) کی ٹھہرے گی علاوہ بریں خود یہ حدیث عقیلی اس تخصیص سلام کے رد کو کیا تھوڑی ہے۔ یہاں بھی اموات سے فقط السلام علیکم
سچ فرمایا مولوی معنوی قدس سرہ نے : ع
ماسمیعیم وبصیریم وخوشیم باشمانا محرماں ماخامشیم
( ہم سمیع وبصیر ہیں اور خوش ہیں مگر تم نامحرموں کے سامنے مہر بہ لب ہیں۔ ت)
حدیث () : طبرانی معجم اوسط میں عبداﷲ بن عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مصعب بن عمیر اور ان کے ساتھیوں کے قبور پر ٹھہرے اور فرمایا :
والذی نفسی بیدہ لایسلم علیہم احد الا ردوا الی یوم القیمۃ ۔
قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت تك جو ان پرسلام کرے گا جواب دیں گے
حدیث () : بعینہ اسی طرح حاکم نےصحیح مستدرك میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کر کے تصحیح کی۔
حدیث (۳۸) : حاکم مستدرك میں با فادہ تصحیح اور بیہقی دلائل النبوۃ میں بطریق عطاف بن خالد مخزومی عبد الاعلی بن عبد اﷲ سے وہ اپنے والد ماجد عبداﷲ بن ابی فروہ سے راوی حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم زیارت شہدائے احد کو تشریف لے گئے اور عرض کی :
الھم ان عبدك ونبیك یشھد ان ھؤلاء شہداء وانہ من زارھم اوسلم علیھم الی یوم القیمۃ ردوا علیہ ۔
الہی! تیرا بندہ اورتیرا نبی گواہی دیتا ہے کہ یہ شہید ہیں اور قیامت تك جو ان کی زیارت کو آئے گا اور ان پر سلام کرے گا یہ جواب دیں گے۔
تتمہ حدیث : عطاف کہتے ہیں میری خالہ مجھ سے بیان کرتی تھیں میں ایك بار زیارت قبور شہداء کوگئی میرے
شرح الصدور بحوالہ المعجم الاوسط باب زیارۃ القبو ر خلافت اکیڈمی سوات ص ٨٥
المستدرك للحاکم کتاب المغازی دارالفکر بیروت ٣ / ٢٩
روایت دوم مناسب او : امام بیہقی نے ہاشم بن محمد عمری سے روایت کی : مجھے میرے باپ مدینہ سے زیارت قبور احد کو لے گئے جمعہ کا روز تھا صبح ہوچکی تھی آفتاب نہ نکلا تھا میں اپنے باپ کے پیچھے تھا جب مقابر کے پاس پہنچے انھوں نے بآواز کہا : سلام علیکم بماصبر تم فنعم عقبی الدار۔ جو اب آیا : وعلیکم السلام یا ابا عبد اﷲ۔ باپ نے میری طرف مڑ کر دیکھا اور کہا کہ اے میرے بیٹے! تو نے جواب دیا میں نے کہا : نہ۔ انھوں نے میر اہاتھ پکڑ کر اپنی داہنی طرف کرلیا اور کلام مذکور کا اعادہ کیا دوبارہ ویسا ہی جواب ملا سہ بارہ کیا پھر وہی جواب ہوا۔ میرے باپ اﷲ تعالی کے حضور سجدہ شکر میں گر پڑے ۔
روایت سوم : ابن ابی الدنیا اور بیہقی دلائل میں انھیں عطاف مخزومی کی خالہ سے راوی : ایك دن میں نے قبر سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس نماز پڑھی اس وقت جنگل بھر میں کسی آدمی کا نام ونشان نہ تھا۔ بعد نماز مزار مطہر پر سلام کیا۔ جواب آیا اور اس کے ساتھ یہ فرمایا :
من یخرج من تحت القبر ا عرفہ کما اعرف ان اﷲ خلقنی وکما اعرف اللیل والنھار ۔
جو میری قبر کے نیچے سے گزرتا ہے میں اسے پہچانتا ہوں جیسا یہ پہچانتاہوں کہ اﷲ تعالی نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس طرح رات اور دن کو پہچانتا ہوں۔
حدیث (۳۹) : ابن ابی الدنیا اور بیہقی شعب الایمان میں حضرت محمد بن واسع عــــہ سے راوی :
قال بلغنی ان الموتی یعلمون بزوار ھم یوم الجمعۃ ویوما قبلہ ویوما بعدہ ۔
مجھے حدیث پہنچی ہے کہ مردے اپنے زائروں کو جانتے ہیں جمعہ کے دن اور ایك دن اس سے پہلے اور ایك دن اس سے بعد۔
عــــہ : یہ تابعی ہیں ثقہ عابد عارف باﷲ کثیر المناقب رجال صحاح ستہ سے الاالطرفین منہ (م)
دلائل النبوۃ باب قول اﷲ لاتحسین الذین دارالکتب العربیہ بیروت ٣ / ٣٠٩
دلائل النبوۃ باب قول اﷲ لاتحسین الذین دارالکتب العربیہ بیروت ٣ / ٣٠٨
شعب الایمان حدیث ٩٣٠١ دارالکتب العربیہ بیروت ٧ / ١٨
فصل پنجم : میں وہ جلیل حدیثیں جن سے ثابت کہ سماع اہل قبور سلام ہی پر مقصود نہیں بلکہ دیگر کلام و اصوات بھی سنتے ہیں :
حدیث () : بخاری ومسلم و ابوداؤد وترمذی ونسائی اپنے صحاح اور امام احمد مسند میں انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور پر نور سید العالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
واللفظ لمسلم ان المیت اذا وضع فی قبرہ انہ یسمع خفق نعالھم اذا انصرفوا۔
(مسلم کے الفاظ یہ ہیں۔ ت) مردہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور لوگ دفن کرکے پلٹتے ہیں بیشك وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتاہے۔
حدیث (۴۱) : احمد و ابوداؤد بسند جید براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ان المیت یسمع خفق نعالھم اذاولو امدبرین ۔
بیشك مردہ جوتیوں کی پہچل سنتا ہے جب لوگ اسے پیٹھ دے کر پھرتے ہیں۔
حدیث (۴۲) : بیہقی وطبرانی عبداﷲ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان المیت اذا دفن یسمع خفق نعالھم اذا ولوا عنہ منصرفین ۔
بیشك جب مردہ دفن ہوتاہے اور لوگ واپس آتے ہیں وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے۔
حدیث بیہقی کو امام سیوطی نے شرح الصدور میں فرمایا : باسناد حسن (اس کی سند حسن ہے۔ ت)اور سند
مسندا حمد بن حنبل مرویات البراء ابن عاذب دارالفکر بیروت ٤ / ٢٩٦
کنز ا لعمال بحوالہ طبرانی حدیث ٤٢٣٧٩ مکتبۃ التراث الاسلامی مصر ١٥ / ٦٠٠
شرح الصدور باب فتنۃ القبر خلافت اکیڈمی سوات ص٥٠
حدیث () : ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف اور ابن حبان نے صحیح مسمی بالتقاسیم والانواع اور حاکم نیشاپوری نے الصحیح المستدرك علی البخاری ومسلم اور بغوی نے شرح السنہ اور طبرانی نے معجم اوسط اور ہنادنے کتاب الزہد اور سعیدبن السکن نے اپنی سنن اور ابن جریر وابن منذر وابن مردویہ وبیہقی نے اپنی اپنی تصانیف میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
والذی نفسی بیدہ ان المیت اذا وضع فی قبرہ انہ لیسمع خفق نعالھم حین یولون عنہ ۔
قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب مردہ قبرمیں رکھا جاتا ہے کفش پائے مردم کی آوازسنتاہے جب اس کے پاس سے پلٹتے ہیں۔
حدیث () : جویبر نے اپنی تفسیر میں عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے ایك حدیث طویل روایت کی جس میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
فانہ یسمع خفق نعالھم ونقض ایدیکم اذا ولیتم عنہ مدبرین ۔
بیشك وہ یقینا تمھارے جوتوں کی پہچل اور ہاتھ جھاڑنے کی آواز سنتا ہے جب تم اس کی طرف سے پیٹھ پھیر کر چلتے ہو۔
حدیث (۴۵) : طبرانی و ابن مردویہ ایك حدیث طویل میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بسندحسن راوی :
قال شھد نا جنازۃ مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی وسلم فلما فرغ من دفنھا وانصرف الناس قال انہ الان یسمع خفق نعالکم ۔ الحدیث
فرمایا : ہم ایك جنازہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ہمراہ رکاب حاضر تھے۔ جب اس کے دفن سے فارغ ہوئے اور لوگ پلٹے حضور نے ارشاد فرمایا : اب وہ تمھاری جوتیوں کی آواز سن رہا ہے۔
فائدہ جلیلہ : چالیس سے پینتالیس تك جو چھ حدیثیں مذکور ہوئیں پہلے ہی لاجواب ٹھہر چکی ہیں آج تك کوئی جواب معقول ان سے نہ ملا نہ ملے۔ غایت سعی ان کی طرف سے یہ ہے کہ سماع مذکور کو اول
المستدرك للحاکم المیّت یسمع خفق نعالہم دارالفکر بیروت ١ / ٣٨٠
شرح الصدو ر بحوالہ جویبر باب فتنۃ القبر خلافت اکیڈمی سوات ص٥١
شرح الصدو ر بحوالہ طبرانی اوسط باب فتنۃ القبر خلافت اکیڈمی سوات ص٥٤
اولا یہ تخصیص ظاہر حدیث کے خلاف جس پر کوئی دلیل قائم نہیں۔ حدیثیں صاف صاف ارشاد فرمارہی ہیں کہ میت کی قوت سامعہ قبر میں اس درجہ تیز اور قوی ہے کہاں سے جانا کہ یہ اسی وقت کے لیے ملتی ہے اور پھر جاتی رہتی ہے۔
ثانیا مقدمہ سوال کے لیے پیشتر سے حواس مل جانا کیا معنی کیا فورا وقت سوال نہ مل سکتی تھی یا عطائے الہی میں معاذاﷲ کچھ دیر لگتی ہے کہ پہلے سے اہتمام ہو رہنا ضرور ہوا۔
یہ دونوں اعتراض شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مدارج النبوۃ میں افادہ فرمائے :
حیث قال ایں تخصیص خلاف ظاہر است ودلیلے نیست برآن وظاہر حدیث آنست کہ ایں حالت حاصل ست میت دارد قبر و زندہ گر دانیدن میت در وقت سوال است وپیش ازاں زندہ گردانیدن برائے مقدمہ سوال چہ معنی دارد۔
یہ تخصیص ظاہر کے خلاف ہے۔ اس پر کوئی دلیل بھی نہیں ظاہر حدیث یہ ہے کہ قبر کے اندر میت کی یہ حالت ہوتی ہے __ میت کو زندہ کرنا سوال کے وقت ہے تو اس سے پہلے مقدمہ سوال کے لیے زندہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔ (ت)
وثالثا کما اقول سلمنا (جیسے کہ میں کہتاہوں ہم تسلیم ہم کرتے) کہ پہلے ہی سے ہوش وحواس مل جانا ضروری تھا مگر حاجت اسی قدر تھی جس میں وہ نکیرین کی بات سن سمجھ لیتا اس قدر قوت عظیمہ کی کیا ضرورت تھی کہ باوجود اتنے حائلوں کے ایسی ہلکی آوازیں بے تکلف سنے۔ خود یہی حضرات مسئلہ یمین فی الضرب (مارنے کے بارے میں قسم) کی یہی توجیہ کرتے ہیں کہ ہمارے مارے سے مردے کو تکلیف یا ایذا عــــہ نہیں ہوتی اس کا ادراك عذاب الہی کے واسطے ہے ۔ یونہی چاہیے تھا کہ اس کا سماع سوال نکیرین کے لیے ہو نہ اصوات خارجہ کے واسطے۔
ورابعا کما اقول ایضا اگر مسئلہ یمین فی الکلام عدم سماع پر مبنی ہو کما زعموا۔ اور اب آپ نے بھی
عــــہ : تنبیہ : یہ بات بھی خلاف تحقیق ہے کہ بیشك ایذا ہوتی ہے۔ دیکھو اس مقصد کی فصل سوم اور مقصد سوم کی پنجم منہ سلمہ اﷲ تعالی۔
وخامسا کما اقول ایضا موت کو تمام احواس وادراکات ودیگر اوصاف حیات سے یکساں نسبت ہے۔ معاذ اﷲ اگر پتھر ہونا ٹھہرا تو سننا دیکھنا سمجھنا بولنا سب کا بطلان لازم ۔ اور یہ حضرات کرام خود فرما چکے کہ موت منافی فہم ہے۔ اب کیا جواب ہے ان حدیثوں سے جو فصل اول و دوم و سوم میں گزریں جن سے ثابت کہ اموات ہمیشہ اپنے زائروں کو پہچانتی ہے او ران سے انس حاصل کرتی اوران کے سلام کا جواب دیتی اور ان کی بے اعتدالیوں سے ایذا پاتی ہیں الی غیر ذلك من المامور المذکورۃ (امور مذکورہ جیسے دیگر امور۔ ت) _____ بھلا یہاں تو مقدمہ سوال کی تخصیص نکلی تھی ان مقدمات میں کونسی خصوصیت آئے گی۔
تنبیہ : میرا یہ سب کلام حقیقتا ان حضرات منکرین سے ہے جو عبارات علماء کے یہ معنی سمجھے ورنہ فقیر کے نزدیك ان کے ارشاد کا وہ محل ممکن جو عقیدہ اہل حق سے مخالف نہ ہو۔ مولوی صاحب اگر جواب فقیر میں ان عبارات کو یاد کریں گے اس وقت انشاء اﷲ تعالی وہ تحقیق تدفیق انیق حاضر کروں گا۔ اور عجب نہیں کہ مقصد سوم میں اس کی بعض کی طرف عودہو۔ والعود احمد ( اور عود کرنا اچھا ہے۔ ت) وباﷲ سبحنہ وتعالی التوفیق۔
حدیث () : صحیح بخاری شریف وغیرہ میں عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سےمروی :
اطلع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی اھل القلیب فقال وجدتم ما وعد ربکم حقافقیل لہ اتدعوا مواتا فقال ما انتم باسمع منہم
یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم چاہ بدر پر تشریف لے گئے۔ جس میں کفار کی لاشیں پڑیں تھیں۔ ۔ پھر فرمایا : تم نے پایا جو تمھارے رب نے تمھیں سچا وعدہ دیاتھا۔ یعنی عذاب ۔ کسی نے عرض کی : حضور مردہ کو پکارتے
ہیں ارشادفر مایا : تم کچھ ان سے زیادہ نہیں سننے والے پر وہ جواب نہیں دیتے۔
حدیث (۷) : صحیح مسلم شریف میں امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یرینا مصارع اھل بدر و ساق الحدیث الی ان قال فانطلق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حتی انتھی الیھم فقال یا فلان بن فلان ویا فلان بن فلان ھل وجہتم ما وعدکم اﷲ ورسولہ حق فانی قد وحدت ماوعدنی اﷲ حقا قال عمر یا رسول اﷲ کیف تکلم اجسادا لا ارواح فیھا قال ما انتم باسمع لما اقول منھم غیر انھم لایستطیعون ان یردوا علی شیئا ۔
یعنی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمیں کفار بدر کی قتل گاہیں دکھاتے تھے کہ یہا ں فلاں کافر قتل ہوگا اوریہاں فلاں جہاں جہاں حضور نے بتایا تھا وہیں وہیں ان کی لاشیں گریں۔ پھر بحکم حضور وہ جیفے ایك کنویں میں بھردئےگئے۔ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وہاں تشریف لے گئے اور نام بنام ان کفار لیام کو ان کا اور ان کے باپ کا نام لے کر پکارا۔ اور فرمایا : تم نے بھی پایا جو سچا وعدہ خدا ا ور رسول نے تمھیں دیا تھا کہ میں نے تو پالیا جو حق وعدہ اﷲ تعالی نے مجھے دیاتھا۔ امیرالمومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی یا رسول اﷲ ! حضور نے ان جسموں سے کیونکر کلام کرتے ہیں جن میں روحیں نہیں۔ فرمایا : جو میں کہہ رہاہوں کسے کچھ تم ان سے زیادہ نہیں سنتے مگر انھیں یہ طاقت نہیں کہ مجھے لوٹ کر جواب دیں ۔
حدیث () : یونہی صحیح مسلم وغیرہ میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی اور اس میں ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تین دن بعد اس کنویں پر تشریف لے گئے اور عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے جواب میں فرمایا :
والذی نفسی بیدہ ما انتم باسمع لما اقول منھم ولکنھم لایقدرون ان یجیبوا ۔
قسم اس کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں جو فرما رہاہوں اس کے سننے میں تم اور وہ برابر ہو مگر وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔
صحیح مسلم باب ماجاء مقعد المیّت قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٣٨٧
صحیح مسلم باب ماجاء مقعد المیّت قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٣٨٧
اما البخاری فساقہ بطالہ واما مسلم فاحالہ علی حدیث انس رضی اﷲ تعالی عنہ ۔
امام بخاری نے تو اسے تفصیل سے ذکر کیا مگر امام مسلم نے تفصیل حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالہ سے کی۔ (ت)
حدیث () : طبرانی نے بسند صحیح عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
یسمعون کما تسمعون ولکن لا یجیبون ۔
جیسا تم سنتے ہو ویسا ہی وہ بھی سنتے ہیں مگر جواب نہیں دیتے۔
حدیث (۵۱) : اسی طرح امام سیلمان بن احمد مذکور نے حدیث عبداﷲ بن سیدان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی۔
تنبیہ نبیہ : ان چھ حدیثوں کے جواب میں جو کچھ کہا گیا تخصیص بے مخصص و دعوی بے دلیل سے زیادہ نہیں۔ مثلا یہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا خاص اعجاز تھا۔ یا یہ امر صر ف ان کفار کے لئے ان کی حسرت و ندامت بڑھانے کو واقع ہو ا حالانکہ ان کی تخصیصوں پر اصلا کوئی دلیل نہیں۔ ایسی گنجائش ملے تو ہرنص شرعی جیسے چاہیں مخصص ہوسکے۔ اور ان سے بڑھ کر یہ رکیك تاویل ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ خطاب حقیقۃ اموات سے خطاب نہ تھا بلکہ زندوں کو عبرت و نصیحت تھا حالانکہ نفس حدیث اس کے رد پر حجت کافیہ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے امیر المومنین فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے جواب میں صاف ان کا سننا ارشاد فرمایا نہ یہ کہ ہمارا یہ کلام صرف تنبیہ احیاء کے لیے ہے۔ جیسے مر ثیہ سیدنا امام حسین (رضی اللہ تعالی عنہ ) میں کسی کا مصرع :
اے آب خاك شو کہ ترا آبرو نماند
( اے آب! خاك ہو جا کہ تیری آبرو نہ رہی ۔ ت)
باقی ا س کے متعلق ابحاث فتح البخاری و ارشاد الساری وعمدۃ القاری شروح صحیح بخاری و
فتح االباری بحوالہ عبداﷲ بن سیدان باب قتل ابی جہل دارالمعرفہ بیروت ۸ / ۲۵۹
حدیث (۵۲) : ابو الشیخ عبید بن مرزوق سے راوی :
کانت امرأۃ تقم المسجد فماتت ولم یعلم بھا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فمر علی قبرھا فقال ما ھذا القبر قالوا ام محجن قال التی کانت تقم المسجد قالوا نعم فصف الناس فصلی علیھا ثم قال ای العمل وجدت افضل قالوا یارسو ل اﷲ اتسمع قال ما انتم باسمع منھا فذکر انھا اجابتہ ان اقم المسجد ۔
یعنی ایك بی بی مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ان کا انتقال ہوگیا۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو کسی نے خبر دی حضور ان کی قبر پر گذرے ۔ دریافت فرمایا یہ قبر کیسی ہے لوگوں نے عرض کی : ام محجن کی ۔ فرمایا وہ ہی جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی عرض کی ہاں ۔ حضور نے صف باندھ کر نماز پڑھائی پھر ان بی بی کی طرف خطاب کرکے فرمایا توں نے کون سا عمل افضل پایا صحابہ نے عرض کیا یار سول اﷲ ! کیا وہ سنتی ہے فرمایا کچھ تم اس سے زیادہ نہیں سنتے پھر فرمایا اس نے جواب دیا کہ مسجد میں جھاڑو دینی ۔
حدیث ( ۵۳) : طبرانی معجم کبیر و کتاب الدعاء میں اور ابن مندہ اور امام ضیائی مقدسی کتاب الاحکام اور ابراہیم حربی کتاب اتباع الاموات اور ابوبکر علماء الخلال کتاب الشافی اور ابن زہیرہ وصایا العلماء عند الموت اور ابن شاہین کتاب ذکر الاموت ویگر علماء محدثین اپنی تصانیف حدیثیہ میں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اﷲ تعالے عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا مات احد من اخوانکم فسویتم التراب علی قبرہ فلیقم احدکم علی راس قبرہ ثم لیقل یافلان بن فلانۃ فانہ یسمعہ
جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی مرے اور اس کی قبر پر مٹی برابر کر چکو تم میں سے کوئی اس کے سرہانے کھڑا ہو اور فلاں بن فلانہ عــــہ کہہ کر پکارے بیشك وہ سنے گا
عــــہ : یعنی اسے اس کی ماں کی طرف نسبت کرکے مثلا اے زید بن ہندہ اور اگر ماں کانام نہ معلوم ہو تو بن حوا کہے کہ وہ سب کی ماں ہیں ۔ خود اسی حدیث میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے یہ معنی مروی ۱۲منہ
اور جواب نہ دے گا دوبارہ پھر یوں ہی ندا کرے وہ سیدھا ہوبیھٹے گا سہ بارہ پھر اسی طرح اواز دے اب وہ جواب دے گا کہ ہمیں ارشاد کہ اﷲ تجھ پر رحم کرے مگر تمہیں اس کےجواب کی خبر نہیں ہوتی اس وقت کہے یاد کر وہ بات جس پر توں دنیا سے نکلا تھا گواہی اس کی کہ اﷲ کے سوا ء کوئی سچا معبود نہیں اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ توں نے پسند کیا اﷲ تعالی کو پروردگار اور اسلام کو دین اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو نبی اور قران کو پیشوا منکر و نکیر ہر ایك دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہے گے چلو ہم کیا بھیٹے اس کے پاس جسے لوگ اس کی حجت سکھا چکے ۔
فائدہ : امام ابن الصلاح وغیرہ محدثین اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں :
اعتدت بشواہد وبعمل اھل الشام قدیما نقلہ العلامۃ ابن امیر الحاج فی الحلیۃ
یعنی اس کو دو وجہ سے قوت ہے ایك تو حدیث اس کی موید دوسرے زمانہ صلف سے علماء شام اس پر عمل کرتے ائے ( علامہ ابن امیر الحاج نے اسے حلیہ میں نقل کیا ۔ ت)
اسی طرح امام نقاد الحدیث ضیائی مقدسی و امام خاتم الحفاظ حافظ الشان ابو الفضل احمد بن حجر عسقلانی نے اس کی تقویت اور امام شمس الدین سخاوی نے اس کی تقریر فرمائی اور اس باب میں خاص ایك رسالہ تالیف فرمایا اور امام احمد رضی اللہ تعالی عنہ نے اس پر عمل کرنا علماء شام سے نقل فرمایا اور امام ابوبکر ابن العربی نے اھل مدینہ اور بعض دیگر علماء میں اھل قرطبہ وغیرہ سے اس کا عمل نقل کیا میں کہتا ہوں یہ عمل زمانہ صحابہ وتابعین سے ہے حضرت ابو امامہ صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے خد اپنے لئے تلقین کی وصیت فرمائی ۔
حاشیہ الطحطاوی علی المراقی الفلاح فصل فی حملہا و دفنہا نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۳۸
شرح الصدور باب مایقال عند الدفن و التلقین خلاف اکیڈمی سوات ص ۴۴
جیسا کہ ابن مندہ نے دوسرے طریق سے ا س کی روایت کی اسے امام سیوطی نے شرح الصدور میں ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں بلکہ طبرانی نے بھی اسے روایت کیا ہے جیسا کہ علامہ بدر الدین محمود عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں اس کے الفاظ ذ کر کیے ہیں۔ (ت)
اور تین تابعیوں سے عنقریب منقول ہوگا کہ اسے مستحب کہا جاتا تھا۔ ظاہر ہے ان کی یہ نقل نہ ہوگی مگر صحابہ یا اکابر تابعین سے جو ان سے پہلے ہوئے۔ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔ علامہ ابن حجر مکی کی شرح مشکوۃ میں ہے : اعتضد بشواھد یرتقی بھا الی درجۃ الحسن ( یہ حدیث بوجہ شواہد درجہ حسن تك ترقی کیے ہے) اسی طرح ذیل مجمع بحار الانوار میں تصریح کی کہ اس نے شواہد سے قوت پائی۔ واﷲ تعالی اعلم
حدیث (تا ) : امام سعید بن منصور شاگرد امام مالك واستاذ امام احمد اپنے سنن میں راشد عــــہ۱ ۱ بن سعد وضمرہ بن حبیب عــــہ۲ وحکیم بن عمیر عــــہ۳سے راوی ان سب نے فرمایا :
اذا سوی علی المیت قبرہ وانصرف الناس عنہ کان یستحب ان یقال للمیت عندہ قبرہ یافلان قل لا الہ الا اﷲ ثلث مرات یافلان قل ربی اﷲ ودینی الا سلام ونبی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
جب میت پر مٹی دے کر قبر درست کر چکیں اور لوگ واپس جائیں تو مستحب سمجھا جاتا تھا کہ مردے سے اس کی قبر کے پاس کھڑے ہوکر کہا جائے : اے فلاں ! کہہ لا الہ الا اﷲ تین بار اے فلاں! کہ میرا رب اﷲ ہے اور میرا دین اسلام اور میرے نبی محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
وصل اخر من ھذا الفصل : فصل پنجم کی حدیثوں نے جس طرح بحمد اﷲ سماع موتی کی
عــــہ۱ : تابعی ثقہ رجال سنن اربعہ سے ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : تابعی ثقہ رجال صحاص ستہ سے ۱۲ منہ (م)
عــــہ۳ : تابعی صدوق رجال ابوداؤد و ابن ماجہ سے ۱۲منہ (م)
شرح الصدور بحوالہ سن سعید بن منصور باب مایقال عند الدفن خلافت اکیڈمی سوات ص٤٤
حدیث () : ابن ماجہ بسند عــــہ حسن صحیح عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی :
قال جائز اعرابی الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فذکرالحدیث الی ان قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حیثما مررت بقبر مشرك فبشرہ بالنار قال فاسلم الاعرابی بعد وقال لقد کلفنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تعبا مامررت بقبرکافر الا بشرتہ بالنار ۔
یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك اعرابی سے فرمایا : جہاں کسی مشرك کی قبر پرگزرے اسے آگ کا مژدہ دینا ___ اس کے بعد وہ اعرابی مسلمان ہوگیا تو وہ صحابی فرماتے ہیں مجھے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس ارشاد سے ایك مشقت میں ڈالا کسی کافر کی قبر پر میراگذر نہ ہوا مگر یہ کہ اسے آگ کا مژدہ دیا۔
ہر عاقل جانتا ہے کہ مژدہ دینا بے سماع محال اور صحابی مخاطب نے ارشاد اقدس کو معنی حقیقی پر حمل کیا ولہذا عمر بھر اس پر عمل فرمایا فتبصر
حدیث () : ابن ابی الدنیا کتاب القبور میں امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
انہ مربالبقیع فقال السلام علیکم یا اھل القبور اخبار ما عندنا ان نساء کم قد تزوجن و دیارکم قد سکنت واموالکم قد فرقت فاجابہ ھا تف یاعمر ابن الخطاب اخبار ماعندنا ان ما قدمناہ فقد وجدناہ وما انفقنا فقد ربحناہ وما خلفناہ فقد
یعنی ایك بار امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ بقیع پر گزرے اہل قبور پر سلام کرکے فرمایا : ہمارے پاس کی خبریں یہ ہیں کہ تمھاری عورتوں نے نکاح کرلیے اور تمھارے گھروں میں اور لوگ بسے تمھارے مال تقسیم ہوگئے۔ اس پر کسی نے جواب دیا : اے عمر بن الخطاب! ہمارے پاس کی خبریں یہ ہیں کہ ہم نے جو اعمال کئے تھے یہاں پائے اور
عــــہ فائدہ : یہ حدیثیں طبرانی نے معجم الکبیر میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ۱۲ منہ (م)
جو راہ خدا میں دیا تھا اس کا نفع اٹھایا اور جو پیچھے چھوڑا وہ ٹوٹے میں گیا ۔
حدیث () : امام احمد تاریخ نیشاپورا ور بہیقی اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں سعید بن المسیب سے راوی :
قال دخلنا مقابر المدینۃ مع علی ابن ابی الطالب فنادی یا اھل القبور السلام علیکم ورحمۃ اﷲ تخبرونا باخبارکم تریدون ان نخبرکم قال فسمعت صوتا و علیك السلام ورحمہ اﷲ وبرکاتہ یا امیر المومنین اخبرنا عماکان بعدنا فقال علی رضی اﷲ تعالی عنہ اما ازواجکم فقد تزوجن واما اموالکم فقد اقتسمت و اولاد فقد حشر وا فی زمرۃ الیتامی والبناء الذی شیدتم فقد سکن اعداء کم فھذہ اخبار ما عندنا فما عندکم فاجابہ میت فقد تخرفت الاکفان وانتثرت الشعور و تقطعت الجلود وسالت الاحداق علی الخدود وسالت مناخیر بالقیح والصدید وماقدمناہ ربحناہ وماخلفناہ خسرنا ونحن مرتھنون بالاعمال ۔
وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم سبحن من تفرد بالبقاء وقھر عبادہ بالموت سبحان
یعنی ہم مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کے ہمرکاب مقابر مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے۔ حضرت مولا علی نے اہل قبر پر سلام کرکے فرمایا : تم ہمیں اپنی خبریں بتاؤ گے یا یہ چاہتے ہو کہ ہم تمھیں خبردیں سعد بن مسیب فرماتے ہیں : میں نے آواز سنی کسی نے حضرت مولی کو جواب سلام دے کر عرض کی : امیرالمومنین! آپ بتائیے ہمارے بعد کیا گذری امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ نے فرمایا : تمھاری عورتوں نے تو نکاح کرلیے اور تمھارے مال سو وہ بٹ گئے اورا ولاد یتیموں کے گروہ میں اٹھی اور وہ تعمیر جس کا تم نے استحکام کیا تھا اس میں تمھارے دشمن بسے ہمارے پاس کی خبریں تو یہ ہیں اب تمھارے پاس کیا خبر ہے ایك مردے نے عرض کی کہ کفن پھٹ گئے بال جھڑ پڑے کھالوں کے پرزے پرزے ہوگئے آنکھوں کے ڈھیلے بہہ کر گالوں تك آئے نتھنوں سے پیپ اور گندا پانی جاری ہے اور جو آگے بھیجا تھا اس کا نفع ملا اور جو پیچھے چھوڑا ا سکا خسارہ ہوا اور اپنے اعمال میں محبوس ہیں
ہمیں اﷲ کافی ہے اور وہ کیاہی اچھا کارساز ہے طاقت و قوت نہیں مگر عظمت وبلندی والے خدا ہی سے پاك ہے وہ جو اکیلا باقی رہنے والا ہے اور اپنے
شرح الصدور بحوالہ کتاب القبور الابن ابی الدنیا تاریخ ابن عساکر خلافت اکیدمی سوات ص ۸۷
بندوں کو موت کے تابع فرمان کردیا ہے۔ پاك ہے وہ حیات والا جسے کبھی موت نہیں اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ (ت)
تنبیہ : جن صاحبوں نے جواب حدیث چہلم میں اس خطاب جناب ولایت مآب کرم اﷲ وجہہ کو محض وعظ وتنبیہ احیاء کے لیے قرار دیا کما نقلہ فی مائۃ مسائل (جیسا کہ مائتہ مسائل میں اسے نقل کیا گیا۔ ت)غالبا انھوں نے پوری حدیث ملاحظہ نہ فرمائی ورنہ اس کے لفظ اول سے آخر تك پکار رہے ہیں کہ یہاں حقیقۃ اموات ہی سے خطاب مقصود تھا۔ اسی قدر کو دیکھ لیجئے کہ جناب مولا نے ابتداءیہ لفظ ارشاد نہ کئے بلکہ اول ان سے استفسار فرمایا کہ پہلے تم اپنی خبریں بتاؤ گے یاہم شروع کریں کہئے بے ارادہ خطاب حقیقی اس دریافت کرنے اور اختیار دینے کے کیا معنی تھے پھران کی درخواست پر حضرت نے اخبار دینا ارشاد فرما کر انھیں حکم دیا : ا ب تم اپنی خبریں بتاؤ۔ چنانچہ انھوں نے عرض کیں۔ پھر مخاطبہ حقیقی میں کیاشك ہے! واﷲ الموفق۔
حدیث () : ابن عساکر نے ایك طویل حدیث روایت کی جس کا حاصل یہ ہے کہ عہد معدلت مہد فاروقی میں ایك جوان عابد تھا۔ امیرالمؤمنین اس سے بہت خوش تھے دن بھر مسجد میں رہتا بعد نماز عشاء باپ کے پاس جاتا راہ میں ایك عورت کا مکان تھا اس پر عاشق ہوگئی ہمیشہ اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی جوان نظر نہ فرماتا ایك شب قدم نے لغزش کی ساتھ ہولیا دروازے تك گیا جب اندر جانا چاہا خدا یاد آگیا اور بے ساختہ یہ آیہ کریمہ زبان سے نکلی :
ان الذین اتقوا اذا مسهم طىف من الشیطن تذكروا فاذاهم مبصرون(۲۰۱) ۔
ڈر والوں کو جب کوئی جھپٹ شیطان کی پہنچتی ہے خدا کو یاد کرتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
آیت پڑھتے ہی غش کھا کر گرا عورت نے اپنی کنیز کے ساتھ اٹھا کر اس کے دروازے پر ڈال۔ باپ منتظر تھا۔ آنے میں دیر ہوئی دیکھنے نکلا دورازے پر بیہوش پڑا پایا۔ گھر والوں کو بلا کر اندر اٹھوایا رات گئے ہوش آیا باپ نے حال پوچھا کہا خیر ہے کہا بتادے ناچار قصہ کہا۔ باپ بولا جان پدر ! وہ آیت کو ن سی ہے جوان نے پھر پڑھی پڑھتے ہی غش آیا جنبش دی مردہ پایا رات ہی کو نہلا کفنا کر دفن کردیا صبح کو امیر المؤمنین نے خبر پائی باپ سے تعزیت اور خبر نہ دینے کی شکایت فرمائی عرض کی : یا امیرالمومنین! رات تھی پھر امیرالمؤمنین ہمراہیوں
القرآن ۷ / ۲۰۱
فقال عمر یافلان ولمن خاف مقام ربہ جنتن فاجابہ الفتی من داخل القبر یا عمر قد اعطانیہا ربی فی الجنۃ مرتین ۔
نسأل اﷲ الجنۃ لہ الفضل والمنۃ وصلی اﷲ تعالی علی نبی الانس والجنۃ والہ وصحبہ واصحابہ السنۃ امین امین امین!
یعنی امیر المومنین نے جوان کا نام لے کر فرمایا : اے فلان! جو اپنے رب کے پاس کھڑے ہونے کا ڈر کرے اس کے لیے دو باغ ہیں جوان نے قبر میں سے آواز دی اے عمر! مجھے میرے رب نے یہ دولت عظمی جنت میں دو بار عطا فرمائی۔
ہم اﷲ سے جنت کے خواستگار ہیں اسی کے لیے فضل و احسان ہے۔ اور خدائے برتر کا درود سلام ہو انس و جن کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کی آل واصحاب اور اہل سنت پر۔ الہی! قبول فرما قبول فرما قبول فرما! (ت)
المقصد الثالث فی اقوال العلماء
(مقصد سوم علماء کے اقوال میں)
قال الفقیر محرر السطور غفرلہ المولی الغفور اس مسئلہ میں ہمارے مذہب کی تصریح وتلویح وتنقیص وتلمیح و تائید وترجیح وتسلیم وتصحیح میں ارشادات متکاثرہ واقوال متوافرہ ہیں حضرات عالیہ صحابہ کرام وتابعین فخام و اتباع اعلام ومجتہدین اسلام وسلف وخلف علمائے عظام سے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین وحشرنا فی زمرتھم یو م الدین امین (اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو ا ور ہمیں روز قیامت ان کے زمرے میں اٹھائے۔ الہی قبول فرما۔ ت) فقیر غفرلہ اﷲ تعالی اگر بقدر قدرت ان کے حصر واستغفار کا ارادہ کرے موجز عجالہ حد مجلد سے گزرے لہذا اولا صرف سو ائمہ دین وعلماء کاملین کے اسماء طیبہ شمار کرتاہوں جن کے اقوال اس وقت میرے پیش نظر اور اس رسالہ کے فصول ومقاصد میں جلوہ گر وفضل اﷲ سبحانہ او سمع و اکثر (اور اﷲ سبحانہ کا فضل او ر زیادہ وسیع افروز تر ہے۔ ت) پھر دس نا م ان عالموں کے بھی حاضر کروں گا جن پر اعتماد میں مخالف مضطر وھذا لدیھم ادھی وامرو الحمد اﷲ العلی الاکبر ( اور یہ ان کے نزدیك سخت اور تلخ ہے۔ اور سب خوبیاں بلندی وکبریائی والے خداہی کے لیے ہیں۔ ت)
فمن الصحابۃ رضوان اﷲ تعالی اجمعین علیھم اجمعین : () امیر المؤمنین عمرفاروق اعظم
() حضرت سلیمان فارسی () عمروبن عاص
() عبداﷲ بن عمر (۷) ابوھریرہ
() عبداﷲ بن عمرو (۹) عقبہ بن عامر
() ابوامامہ بابلی () صحابی اعرابی صاحب حدیث حیثما مررت وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم ۔
اور میں ان کے سوا ان صحابہ کرام کے نام یہاں شمار نہیں کرتا جنھوں نے سماع وادراك موتی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا یا حضور کی زبان پاك سے سنا مثل عبداﷲ بن عباس وانس بن مالك و ابوزرین وبراء بن عازب وابو طلحہ وعمارہ بن حزم وابو سعید خدری و عبداﷲ بن سیدان و ام سلمہ وقیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ تعالی عنہم ا گر چہ معلوم کہ ارشاد والا حضور اعلی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سن کر ان کے خلاف پر اعتقاد حضرات صحابہ سے معقول نہیں نہ مقام مقام احکام کہ احتمال خلاف بعلم ناسخ ہو تاہم جب قصد استیعاب نہیں تو انھیں پر اقتصار جن کے خود اقوال و افعال دلیل مسئلہ ہیں وباﷲ التوفیق۔
ومن التابعین رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین : (۱۲) مجاہد مکی (۱۳)عمرو بن دینار (۱۴) بکرمزنی (۱۵) ابن ابی لیلی (۱۶)قاسم بن مخیمرہ (۱۷) راشد بن سعد(۱۸) ضمرہ بن حبیب (۱۹) حکیم بن عمیر(۲۰)علاء بن لجلاج(۲۱)بلال بن سعد(۲۲)محمد بن واسع(۲۳) ام الدرداء وغیرہم رحمہم اﷲ تعالی۔
ومن تبع تابعین لطف اﷲ بھم یوم الدین : () عالم قریش سیدنا ابو محمد بن ادریس شافعی () عالم کوفہ فقیہ مجتہد امام سفیان () عبدالرحمن بن العلاء وغیرہم روح اﷲ تعالی ارواحہم۔
ومن اعاظم السلف واکارم الخلف نور اﷲ تعالی مراقدھم : () عالم اہلبیت رسالت حضرت ۱اما م علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی وبتول بنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیھم وبارك وسلم (۲۸) ۲امام اجل عارف باﷲ محمد بن علی حکیم ترمذی () ۳ امام محدث جلیل کبیر اسمعیل ()۴امام فقیہ عابد وزاہد احمد بن عصمہ ابوالقاسم صفار حنفی بدو واسطہ شاگرد امام ابو یوسف وامام محمد رحمہم اللہ تعالی ()۵امام ابوبکر احمد بن حسین بہیقی شافعی (۳۲) ۶امام ابو عمر یوسف بن عبدالبر مالکی (۳) ۷امام ابوالفضل محمد بن احمد حاکم شہید حنفی صاحب کافی () ۸امام ابوالفضل قاضی عیاض یحصبی مالکی () ۹امام حجۃ السلام مرشد الانام ابو حامد محمد محمد محمد غزالی () ۱۰امام ابو عبداﷲ محمد بن احمد بن
تنبیہ : فقیر غفراﷲ تعالی لہ نے ان ائمۃ سلف وعلمائے خلف سے صرف سے انھی اکابر کے اسمائے طیبہ گنے جن کے کلام میں خاص سماع وادراك وعلم و شعور اہل قبور کے نصوص خاص قاہرہ یادلائل باہرہ ہیں پھر ان میں بھی حصر استتیعاب کا قصد نہ کیا کہ اس کی راہ میں بلاد شاسعہ و برابری واسعہ وجبال شاہقہ وبحار زاخرہ ہیں بلکہ حاشا وہ بھی بالتمام عــــہ ذکر نہ کیے جن کے اقوال ہدایت اشتمال اس وقت میرے سامنے جلوہ فرما و
عــــہ:قولہ وہ بھی بالتمام ذکر نہ کیے اقول ا س دعوی کی صحت پر خود یہی رسالہ دلیل کافی ہے۔ ناظر اول تا اخر اس کے مقامات کو مطالعہ کرے گا تو ائمہ مذکورین کے سوا بہت علماء ومشائخ کے اسماء دیکھے گا۔
(باقی برصفحہ ائندہ)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
میں اتمام کلام کو ان کے نام بھی شمار کرتا اورعدد کو پونے دوسو نام تك پہنچاتا ہوں متن میں سو ائمہ سلف وخلف اور دس معتمدین مخالف کے اسماء گنائے کہ سب ایك سو دس۱۱۰ ہوئے۔ آگے چلئے من الصحابۃ والتابعین واتباعھم : () حضرت عبداﷲ بن سلام ()حضرت ام المومنین صدیقہ ()حضرت امام زین العابدین علی بن حسین بن علی مرتضی ()حضرت امام حسن مثنی ابن حسن مجتبی ابن مولی مشکل کشا صلی اﷲ علی سیدہم وبارك وسلم دائما ابدا () افضل التابعین امام سعید بن المسیب () حبان بن ابی حیلہ () ابن مینا (۱۸) ابوقلابہ بصری () سلیم بن عمیر () عبداﷲ بن ابن نجیح مکی من العلماء والاولیاء من کلا النوعین المذکورین فی المتن () امام محدث مفسر مجتہد ابن جریر طبری () امام محدث اجل ابو محمد عبدالحق صاحب احکام کبری واحکام صغری () امام ابو عمرو بن الصلاح محدث () امام قاضی مجدد الشریعۃ کرمانی () امام اجل ابوالبرکات عبداﷲ نسفی صاحب تصانیف مشہورہ (۱۲۶) امام علامہ بدالدین محمود عینی احمد عینی حنفی صاحب عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری () علامہ ابن ملك شارح مشارق الانوار () علامہ فضل اﷲ بن الغوری حنفی ()امام فخر الدین ابو محمد عثمان بن علی زیلعی صاحب تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق () محمد بن محمد حافظ بخاری صاحب فصل الخطاب () امام شہاب الدین شارح منہاج استاذ ابن حجر مکی (۱۳۲) حضرت سیدی علی قرشی قدس سرہ العرشی () امام جلیل نورالدین ابوالحسن علی مصنف بہجۃ الاسرار () امام مجدالدین عبداﷲ بن محمود موصلی حنفی صاحب مختار و اختیار () صاحب مطالب المومنین () صاحب خزانۃ الروایات () صاحب کنز العباد ہرسہ از مستندان متکلمین طائفہ () علامہ جمہوری صاحب تصانیف کثیرہ ()علامہ زیادی ()علامہ داؤدی شارح منہج () علامہ حلبی محشی صاحب درمختار () شیخ احمد نخلی () شیخ احمد شناوی () شیخ احمد قشاشی () مولانا ابراہیم کردی استاذ الاستاذ شاہ ولی اﷲ صاحب ()مولنا ابوطاہر مدنی خاص استاذ شاہ ولی اﷲ () مولانا محمد بن حسین کبتی حنفی مکی () مولانا حسین ابراہیم مالکی مکی ()حضرت مولنا شیخ الحرم احمد زین دھلان شافعی مکی مصنف سیرت نبویہ ورد وہابیہ وغیرہما تصانیف علیہ () مولانا محمد بن غرب شافعی مدنی () مولنا عبدلجبار حنبلی بصری مدنی () مولنا ابراہیم بن خیار شافعی مدنی ()عبد صالح ہاشم بن محمد () ان کے والد ماجد محمد عمری مدنی (باقی برصفحہ ائندہ)
اولئك ساداتی فجئنی بمثلھم اذ اجمعتنا یا جریر المجامع
(یہ ہیں میرے سردار پس توان کی مثل پیش کر اے جریر جب محفلیں ہم سب کو اکھٹا کریں)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
() حضرت سیدی ابویزید بسطامی ()حضرت سیدی ابوالحسن خرقانی () حضرت سیدی ابوعلی فارمدی () حضرت سیدی ابوسعید خراز () حضرت ستاد امام ابوالقاسم قشیری۔ ()حضرت عارف باﷲسیدی ابی علی ()حضرت سیدی ابراہیم بن شیبان ()حضرت سیدی ابویعقوب () حضرت سیدی علی خواص شیخ امام شعرانی ()حضرت میر ابولعلی اکبر ا بادی سردار سلسلہ نقشبندیہ ابوالعلائیہ () شاہ محمد غوث گوالیاری صاحب جواہر خمسہ () مولانا وجیہ الدین علوی شیخ حضرت مولناعبدالحق محدث دہلوی () حضرت سیدصبغتہ اﷲ بروجی () شیخ بایزید ثانی () مولنا عبدالملك () شیخ اشرف لاہوری () شیخ محمد سعید لاہوری کہ ساتوں صاحب مشائخ شاہ ولی اﷲ سے ہیں۔ () جناب شیخ مجدد الف ثانی () شیخ عبدالاحد پیر سلسلہ مجددیہ () شیخ ابوالرضا محمد جد شاہ ولی اﷲ () سید احمد بریلوی پیر میاں اسمعیل دہلوی کہ صراط مستقیم جن کی ملفوظات قرار دی گئی۔ یہ مجموعہ پونے دو سو ۱۷۵ ہوا من بعضھم صریح البیان ومن بعضھم افادۃ البرھان ومن بعضھم التقریر والاذعان ولبعضھم لیس الخبر کالعیام والحمد ﷲ فی کل حین وان (بعض کا صریح بیان ہے۔ بعض کی جانب سے افادہ برہان ہے۔ بعض سے تقریر اور اذعان ہے۔ اور بعض کا حال یہ ہے کہ خبر مشاہدے کی طرح نہیں اور اﷲ ہی کی حمد ہے ہر وقت اور ہر آن۔ ت) اور ہنوز اس کتاب میں اور باقی ہیں اور جو حصرواستیعاب کی طرف راہ کیا ہے بلکہ استقصائے تام قدرت خامہ و وسعت کاغذ کے ورا آخر نوع اول مقصد سوم میں ارشاد ان علماء سے مذکور ہوگا کہ علم و سمع وبصر موتی پر تمام اہلسنت وجماعت کا اجماع ہے۔ تو آج تك جس قدر عمائداہلسنت گزرے سب کے نام اسی فہرست میں اندراج کے قابل پھر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ کتنے لاکھ ہے والحمد ﷲ رب العلمین۔ اور لطف یہ کہ ان مذکورین میں گنتی کے بعض ایسے ہیں جن کے دو ایك ظواہر کلمات سے وہابیہ اس مسئلہ میں استناد کرتے اور انھیں کے باقی اقوال کو پس پشت ڈال کرمقام تحقیق و مرام توفیق ونظام تطبیق اور موافق ومبائن جمہور کی تفریق سے محض غافل یا اغوائے عوام کو متغافل گزرتے ہیں واﷲ من یشاء الی صراط مستقیم (اور اﷲ جسے چاہتاہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے۔ ت) ۱۲ منہ دامت فیوضہ (م)
اب انھیں لیجئیے جن پر اعتماد مخالف کو ضرور : (۱)شاہ ولی اﷲ صاحب (۲)ان کے والد ماجد شاہ عبدالرحیم صاحب () ان کے فرزند ارجمند مولنا شاہ عبدالعزیز صاحب () ان کے برادر مولنا شاہ عبدالقادر صاحب () ان کے ممدوح جناب میرزا مظہر جانجاناں () ان کے مرید رشید قاضی ثناء اﷲ صاحب پانی پتی() مولوی اسحاق صاحب دہلوی (۸) ان کے شاگرد نواب قطب الدین خاں دہلوی () مولوی خرم علی صاحب بلہوری تجاوز اﷲ عنا و عن کل من صح ایمانہ فی النشاتین ورحم کل من یشھد صدقا بالشھاد تین (اﷲ درگزرے فرمائے ہم سے اور ہر اس شخص سے جس کا ایمان دونوں نشأتوں میں صحیحح ہے اور ان سب پر رحم فرمائے جو سچائی سے دونوں شہادتوں کی گواہی دینے والے ہیں۔ ت) (۱۰) ان سب سے قوی مجتہد نو میاں اسمعیل دہلوی واﷲ الھادی منھج السوی وھو المستعان علی کل غوی ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ الغالب العلی ( اور خدا ہی راہ راست کی ہدایت دینے والا ہے ا وراسی سے ہر گمراہ کے خلاف استعانت ہے۔ اور کوئی طاقت وقوت نہیں مگر خدا ئے غالب وبرتر سے۔ ت)
واضح ہو کہ ارشادات علیہ صحابہ وتابعین رضوان اﷲ علیہم اجمعین مقصد احادیث میں مذکور ہوئے کہ حدیث اصطلاح عــــہ۱ محدثین میں انھیں شامل معہذا امور قبور واحوال ارواح مفارقہ میں رائے کو دخل نہیں تو یہاں عــــہ۲ موقوف
عــــہ : علامہ سید شریف رحمۃ اللہ تعالی علیہ مقدمہ مصطلحات الحدیث میں فرماتے ہیں :
الحدیث اعم ان یکون قول الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والصحابی والتابعی وفعلھم وتقریرھم۔
حدیث رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور صحابی و تابعی سب کے قول فعل اور تقریر کو شامل ہے۔ (ت)
امام علامہ سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی ارجوزہ مسمی بالثبیت عند التثبیت میں فرماتے ہیں :
یکرر السوال للانام ٭ فی مارو دا فی سبعۃ ایام٭ کذا رواہ احمد بن حنبل٭ فی الزھد عن طاؤس البحر العلی٭ وحکمہ الرفع کما
() روایت محدثین کے مطابق مخلوق سے سوال سات دنوں کے اندر مکرر ہوگا (۲) امام احمد بن حنبل نے زہد میں متبحر بلند رتبہ تابعی امام طاؤس سے ایسا ہی
درخانہ اگرکس است یکحرف بس است
(اگر خانہ عقل میں شعور ہو تو اشارہ ہی کافی ہے)
تنبیہ : عدت قول جدت مقول یا تعدد مقول سے ہے ابتدا خواہ تقریرا اور درصورت اخیر ہر عالم کی عبارت جدا جدا لکھنا باعث طول۔ لہذا انھیں ایك ہی سرخی میں گن کر اسامی علماء پر ہندسہ لگادیا جائے گا۔ یہ مقصد بھی مثل اپنے دوبرادر پیشیں کے دونوں پر منقسم واﷲ سبحنہ ھوالموفق للحق والصواب فی کل مھم(اور خدائے پاك ہی ہر مہم میں ثواب کی توفیق دینے والا ہے۔ ت)
نوع اول : ا قوال علماء سلف وخلف میں ایك تمہید اور پندرہ ۱۵ فصل پر مشتمل۔
() ابن عساکر تاریخ دمشق میں امام محمد بن وضاح سے راوی امام اجل سحنون بن سعید قدس سرہ سے کہا گیا ایك شخص کہتا ہے بدن کے مرنے سے روح بھی مرجاتی ہے۔
فرمایا :
معاذاﷲ ھذا من قول اھل البدع
خدا کی پناہ یہ بدعتیون کا قول ہے۔
() امام ابن امیرالحاج خاتمہ حلیہ میں دربارہ فوائد غسل میت فرماتے ہیں :
اذا اعتنی المولی بتطھیر جسد یلقی فی التراب
یعنی جب بندہ دیکھے گا کہ مولی تبارك وتعالی نے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قد قالوا٭ اذالیس للرأی فیہ مجال٭ ولیس للقیاس فی ذاالباب٭ من مدخل عند ذوی الالباب٭ وانما التسلیم فیہ اللائق٭ والنقیاد حیث أبنا الصادق منہ (م)
روایت کیا ہے () وہ حسب ارشاد علمائے مرفوع کے حکم میں ہے۔ ا س لیے کہ اس بارے میں رائے کا گذر نہیں () اور قیاس کا اس باب میں ارباب عقول کے نزدیك کوئی دخل نہیں () جب صادق نے خبر دی ہے تو اس میں تسلیم وقبول اور تابعداری ہی مناسب ہے ۔ (ت)
ہم پر اس بدن کی تطہیر فرض کی جو خاك میں ڈالا جائیگا تو متنبہ ہو گا کہ اس کی تطہیر اور بھی ضرور ہے جو باقی رہنے والا ہے یعنی روح کہ اہل سنت وجماعت کے نزدیك فنا نہیں ہوتی۔
() امام غزالدین بن عبدالسلام عــــہ۱ فرماتے ہیں کہ :
لا تموت ارواح الحیاۃ بل ترفع الی السماء حیۃ ۔
روحیں مرتی نہیں بلکہ زندہ آسمان کی طرف اٹھالی جاتی ہیں۔
() امام جلال الحق والدین سیوطی شرح الصدور میں ناقل باقیۃ بعد خلقھا بالاجماع روحیں پیدائش کے بعد بالاجماع جاوداں رہتی ہیں۔ () خودا مام ممدوح اس امرکی تائید کہ شہداء کی زندگی صرف روحانی بلکہ روح وبدن دونوں سے ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں :
لوکان المرادحیات الروح فقط لم یحصل لہ تمیز عن غیرہ لمشارکۃ سائرا لاموات لہ فی ذلك ولعلم المومنین باسرھم حیاۃ کل الارواح فلم یکن لقولہ تعالی ولکن لاتشعرون ۔
یعنی اگر آیت کریمہ میں حیات شہید سے صرف زندگی روح مراد ہوتی ہے تو اس میں اس کی کیا خصوصیت تھی یہ بات تو ہر مردے کو حاصل ہے اور تمام مسلمان جانتے ہیں کہ سب کی روحیں بعد موت زندہ رہتی ہیں۔ حالانکہ حیات شہداء کی نسبت آیت میں فرمایا کہ تمھیں خبرنہیں
یہاں سے اجماع صحابہ ثابت ہوا۔
فصل اول : موت صرف ایك مکان سے دوسرے مکان میں چلا جاتا ہے نہ کہ معاذ اﷲ جماد ہوجانا۔
قول () : ابو نعیم حلیہ میں بلال عــــہ۲ بن سعد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے راوی کہ اپنے وعظ میں فرماتے :
عــــہ۱ : نقلہ فی شرح الصدور وعن امالیہ۱۲ منہ (م) اسے شرح الصدور میں ان کے امالی سے نقل کیا ۔ ت
عــــہ۲ : تابعی جلیل عابد فاضل ثقہ رجال نسائی وغیرہ سے ۱۲منہ (م)
شرح الصدور بحوالہ عزالدین بن عبدالسلام خاتمہ فی فوائد تتعلق بالروح خلافت اکیڈمی سوات ص١٣٤
شرح الصدور بحوالہ کتاب ابن قیم خاتمہ فی فوائد تتعلق بالروح خلافت اکیڈمی سوات ص ١٣٥
شرح الصدور باب زیارۃ القبور خاتمہ فی فوائد تتعلق بالروح خلافت اکیڈمی سوات ص٨٥
اے ہمیشگی والو! اے بقا والو! تم فنا کو نہ بنے بلکہ دوام وہمیشگی کے لیے بنے ہو ہاں ایك گھر سے دوسرے گھر میں چلے جاتے ہو ۔
قول () : شرح الصدور میں ہے :
قال العلماء الموت لیس بعدم محض ولافناء صرف وانما ھو انقطاع تعلق الروح بالبدن ومفارقۃ وحیلولۃ بینھما وتبدل حال وانتقال من دارالی دار ۔
علماء نے فرمایا موت کے یہ معنی نہیں کہ آدمی نیست ونابود ہوجائے بلکہ وہ تویہی روح وبدن کے تعلق چھونے اور ان میں حجاب وجدائی ہوجانے اور ایك طرح کی حالت بدلنے اور ایك گھر سے دوسرے گھر چلے جانے کا نام ہے۔
تنبیہ : تعلق چھوٹنے کے یہ معنی کہ وہ علاقہ معہودہ جو عالم حیات تھا جاتا رہا۔ اور اس طرح حجاب و جدائی ہوجانے سے یہ مراد کہ ویسا اتصال تام باقی نہیں ورنہ مذہب اہلسنت میں روح کو بعدموت بھی بدن سے ایك تعلق واتصال رہتا ہے جیسا کہ فصول آئندہ کے اقوال کثیرہ میں آئے گا ان شاء اﷲ تعالی۔ قول (۳) : جامع البرکات میں فرمایا :
موت عدم محض میت چنانکہ وہریاں وطبعیان گویند بلکہ انتقال ست از حالے بحالے واز دارے بدارے ۔
موت نیست ونابود ہوجانے کا نام نہیں جیسا کہ دہریہ اور طبعیین کہتے ہیں بلکہ ایك حال سے دوسرے حال اور ایك گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہوجانے کا نام ہے۔ (ت)
قول () : اشعۃ المعات شرح مشکوۃ میں فرمایا کہ :
اولیائے خدا نقل کردہ شد ندازیں دارفانی بہ دار بقا و زندہ اند نزد پروردگار و مرزوق اند خوشحال اند ومردم را ازاں شعور نیست ۔
اولیاء اس دارفانی سے دار بقاء میں منتقل کردئے جاتے ہیں وہ اپنے پرورگار کے یہاں زندہ ہیں انھیں رزق ملتا ہے اور خوشحال رہتے ہیں او رلوگوں کو اس کی خبر نہیں۔ (ت)
شرح الصدور بحوالہ حلیہ باب فضل الموت خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص٥
جامع البرکات
اشعۃ المعات باب حکم الاسراء فصل مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٤٠٢
لافرق لھم فی الحالین ولذا قیل اولیاء اﷲ لایموتون ولکن تنتقلون من دار الی دار ۔
اولیاء کی دونوں حالت و ممات میں اصلا فرق نہیں ا سی لیے کہا گیا کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایك گھر سے دوسرے گھر تشریف لے جاتے ہیں ۔
روایت مناسبہ عــــہ : امام عارف باﷲ استاذ ابوالقاسم قشیری قدس سرہ اپنے رسالہ میں بسند خود حضرت ولی مشہور سیدنا ابو سعید خراز قدس سرہ الممتاز سے راوی کہ میں مکہ معظمہ میں تھا باب بنی شیبہ پر ایك جوان مردہ پڑا پایا۔ جب میں نے اس کی طرف نظر کی مجھے دیکھ کر مسکرایا اور کہا :
یا ابا سعید اماعلمت ان الاحباء احیاء و ان ماتوا وانما ینقلون من دار الی دار ۔
اے ابو سعید! کیا تم نہیں جانتے کہ اﷲ کے پیارے زندہ ہیں اگر چہ مرجائیں وہ تو یہی ایك گھر سے دوسرے گھر میں بلائے جاتے ہیں ۔
روایت دوم : وہی عالی جناب حضرت سیدی ابو علی قدس سرہ سے راوی میں نے ایك فقیر کو قبر میں اتارا جب کفن کھولا اور ان کا سر خاك پر رکھ دیا کہ اﷲ ان کی غربت پر رحم کرے فقیر نے آنکھیں کھول دیں اور مجھ سے فرمایا :
یا اباعلی أتذلنی بین یدی و من دللنی ۔
اے ابو علی ! مجھے اس کے سامنے ذلیل کرتے ہو جو میرے ناز اٹھاتا ہے۔
میں نے عرض کی : ا ے سردار میرے! کیا موت کے بعد زندگی فرمایا :
بلی اناحی وکل محب اﷲ حی لا یضرنك بجاھی غدا یاروذباری ۔
میں زندہ ہوں اور خدا کا ہر پیارا زندہ ہے بیشك وہ جاہت وعزت جو روز قیامت میں ملے گی اس سے تجھے کوئی ضرر نہ پہنچے گا بلکہ میں تیری مدد کروں گا اے روذ باری۔
روایت سوم : وہی جناب مستطاب حضرت ابراہیم بن شیبان قدس سرہ سے راوی میرا ایك مرید جوان مرگیا مجھے سخت صدمہ ہوا نہلانے بیٹھا گھبراہٹ میں بائیں طرف سے ابتداء کی جوان نے وہ کروٹ ہٹا کر اپنی داہنی کروٹ میری طرف کی میں نے کہا : جان پدر ! تو سچا ہے مجھ سے غلطی ہوئی۔
عــــہ : ھذہ والاربعۃ بعدھا کل ذلك فی شرح الصدور ۱۲ منہ (م)
یہ روایت اور اسکے بعد کی دوچاروں روایتیں سب شرح الصدور میں ہیں۔ (ت)
الرسالۃ القشیریۃ باب احوالھم عند الخروج من الدنیا مصطفی البابی مصر ص١٤٠
الرسالۃ القشیریۃ باب احوالھم عند الخروج من الدنیا مصطفی البابی مصر ص١٤٠
الرسالۃ القشیریۃ باب احوالھم عند الخروج من الدنیا مصطفی البابی مصر ص ١٤٠
روایت پنجم : جناب ممدوح انہی عارف موصوف سے راوی مکہ معظمہ میں ایك مرید نے مجھ سے کہا پیر ومرشد! میں کل ظہر کے وقت مرجاؤں گا حضرت! یہ اشرفیاں لیں اور آدھی میں میرا دفن آدھی میں میرا کفن کریں جب دوسرا دن ہوا اور ظہر کاوقت آیا مرید مذکور نے آکر طواف کیا۔ پھر کعبہ سے ہٹ کر لیٹا تو روح نہ تھی میں نے قبر میں اتارا آنکھیں کھول دیں میں نے کہا : موت کے بعد زندگی کہاں اناحی وکل محب اﷲ حی میں زندہ ہوں اوراﷲ کا ہر دوست زندہ ہے۔ اس قسم کی صدہا روایات کلمات ائمہ کرام میں مذکور و من لم یجعل الله له نورا فما له من نور(۴۰) (اور خدا جسے نور نہ دے اس کے لیے کوئی نور نہیں۔ ت)
فصل دوم : موت سے روح میں اصلا تغیر نہیں آتا اور اس کے علوم وافعال (عہ)بدستور رہتے ہیں بلکہ زیادہ ہوجاتے ہیں پھر جمادیت کیسی اوراثبات تخصیص ادراک۔ ذمہ مخصص۔
قول () : اما م سبکی شفاء السقام میں فرماتے ہیں :
النفس باقیۃ بعد موت البدن عالمۃ باتفاق المسلمین بل غیرالمسلمین من الفلاسۃ وغیرھم ممن یقول ببقاء النفوس یقولون بالعلم بعد الموت ولم
یعنی مسلمان کا اجماع ہے کہ روح بعد مرگ باقی اور علم وادراك رکھتی ہے۔ بلکہ فلاسفہ وغیرہم کفار بھی علم مانتے ہیں اور بقائے روح میں کسی نے خلاف
عــــہ : امام سیو طی شرح الصدور میں مذہب اہلسنت کتاب الروح سے یوں نقل فرماتے ہیں :
ان الروح ذات قائمہ بنفسھا تصعد وتنزل وتتصل وتنفصل وتذھب وتجیئ وتتحرك وتسکن وعلی ھذا اکثرمن مائۃ دلیل مقررۃ ۔
یعنی روح ایك مستقل ذات ہے کہ چڑھتی اترتی ملتی جدا ہوتی آتی جاتی حرکت کرتی ساکن ہوتی ہے اور اس پر سو سے زیادہ دلائل ثابت ہوتے ہیں۔ (م)
الرسالۃ القشیریۃ فصل فان قیل فما الغالب علی الولی فی حال الخ مصطفی البابی مصر ص ۱۷۱
القرآن ٢٤ / ٤٠
شرح الصدور خاتمہ فی فوائد تتعلق بالروح خلافت اکیڈمی سوات ص١٣٦
نہ کیا مگر ایسوں نے جو کسی گنتی شما ر میں نہیں اھ ملتقطا۔
قول () : تفسیر بیضاوی میں ہے :
فیھا دلالۃ علی ان الارواح جواھر قائمۃ بانفسھا مغائرۃ لما یحس بہ من البدن تبقی بعد الموت دراکۃ وعلیہ جمہور الصحابۃ والتابعین وبہ نطقت الایات والسنن ۔
یہ آیۃکریمہ دلیل ہے کہ روحیں جوہر قائم بالذات میں یہ بدن جو نظر آتی ہے اس کے سوا اور چیز ہیں موت کے بعد اپنے اسی جوش ادراك پر رہتی ہیں جمہور صحابہ وتابعین کایہی مذہب ہے اور اس پر آیات و احادیث ناطق۔
قول (۸) : امام غزالی احیاء ف میں فرماتے ہیں :
لاتظن ان العلم یفارقك بالموت فالموت لایھدم محل العلم اصلا ولیس الموت عدما محضا حتی تظن انك اذا عدمت عدمت صفتک ۔
یہ گمان نہ کرنا کہ موت سے تیرا علم تجھ سے جدا ہوجائیگا کہ موت محل علم یعنی روح کا توکچھ نہیں بگاڑتی نہ وہ نیست ونابود ہوجانے کا نام ہے کہ تو سمجھے جب تو نہ رہا تیرا وصف یعنی علم وادراك بھی نہ رہا۔
قول (۹ ) : امام نسفی عمدۃ الاعتقاد پھر علامہ نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں : ا لروح لا یتغیر بالموت ۔ مرنےسے روح میں کچھ نہیں آتا۔
قول () : علامہ تورپشی فرماتے ہیں :
الروح الانسانیۃ متمیرۃ مخصوصۃ بالادراکات بعد مفارقۃ البدن ۔ نقلہ المناوی
فراق بدن کے بعد بھی روح انسانی متمیز ومخصوص بہ ادراکات ہے۔ (اسے علامہ مناوی نے نقل کیا ۔ ت)
تفسیر بیضاوی تحت آیۃ بل احیاء ولکن لایشعرون مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٧
التیسیر بحوالہ الغزالی تحت حدیث من طلب العلم الخ مکتبہ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ٢ / ٤٢٩
الحدیقۃ الندیۃ الباب الثانی فی الامور الھمۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ١ / ٢٩٠
التسیر شرح جامع صغیر بحوالہ التورپشی تحت ان ارواح الشہداء الخ مکتبہ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ١ / ٣١٠
ف : سعی بسیار کے باوجود حوالہ احیاء العلوم سے دستیاب نہیں ہوسکا ، تیسیر میں بحوالہ الغزالی بعینہٖ یہ عبارت موجود ہے اس لیے تیسیر سے یہ حوالہ نقل کیا ہے۔ نذیر احمد
الموت لیس بعدم محض والشعور باق حتی بعد الدفن ۔
موت بالکل عدم نہیں اور شعور باقی ہے یہاں تك کہ بعد دفن بھی۔
قول () : اسی میں ہے :
ان الروح اذا انخلعت من ھذا الھیکل و انفکت من القبور بالموت تجول الی حیث شاءت ۔
بیشك روح جب اس قالب سے جدا اور موت کے باعث قیدوں سے رہاہوتی ہے جہاں چاہتی ہے جولان کرتی ہے۔
قول () : شرح الصدور میں منقول کہ دلائل قرآن وحدیث لکھ کر کہا :
فصح ان الارواح اجسام حاملۃ لاعراضھا من التعارف والتناکر وانھا عارفۃ متمیزہ ۔
ان سے ثابت ہوا کہ روحیں اجسام ہیں اپنے اوصاف شناخت وناشناخت وغیرہ کی حامل جو بذات خودا دراك و تمیز رکھتی ہے۔
یہاں وہ تقریر یاد کرنی چاہئے جو زیر حدیث دوم گزری۔
قول () : مقاصد وشرح مقاصد علامہ تفتازانی میں ہے :
عند المعتزلۃ وغیرھم البدنیۃ المخصوصۃ شرط فی الادراك فعند ھم لایبقی ادراك الجزئیات عند فقد الالات وعندنا یبقی و ھوالظاھر من قواعد الاسلام ۔
معتزلہ وغیرہم کے مذہب میں یہ بدن شرط ادراك ہے توان کے نزدیك جب اس کے آلات نہ رہے ادراك جزئیات بھی نہ رہا اور ہم اہل سنت وجماعت کے مذہب میں باقی رہتاہے اور یہی ظاھر ہے قواعد دین اسلام سے۔
قول () : لمعات شرح مشکوۃ میں ہے :
سیبیہ الحواش للاحساس وللادراك عادیۃ
حواس کا سبب احساس وادراك ہونا اك امر عادی ہے
التیسیر شرح جامع صغیر تحت حدیث ان روحی المومنین مکتبہ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ١ / ٣٢٠
شرح الصدور باب مقرالارواح خلافت اکیڈمی سوات ص۹۹
شرح المقاصد المبحث الرابع مدر ك الجزئیات دارالمعارف النعمانیہ لاہور ٢ / ٤۳
جیساکہ مذہب اہل سنت میں ثابت ہوچکا اور علم توروح سے ہے وہ باقی ہے اھ مختصرا۔
قول () : امام سیوطی فرماتے ہیں :
ذھب اھل الملل من المسلمین وغیر ھم الی ان الروح تبقی بعد موت البدن و خالف فیہ الفلاسفۃ دلیلتا ماتقدم من الایات والاحادیث فی بقائھا وتصرفہا الخ (ملخصا)
تمام اہل ملت مسلمین اور ان کے سوا سب کا یہی مذہب ہے کہ روحیں بعد موت بدن باقی رہتی ہیں فلاسفہ یعنی بعض مدعیان حکمت نے اس میں خلاف کیا ہماری دلیل۔ وہ آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے ثابت کہ روح بعد موت باقی رہتی اور تصرفات کرتی ہے۔ الخ
قول () : ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ہے :
قد انکرعذاب القبر بعض المعتزلۃ والروافض محتجین بان المیت جماد لاحیاۃ لہ ولاادراك الخ۔
بعض معتزلہ اور روافض عذاب قبر سے منکر ہوئے یہ حجت لا کر کہ مردہ جماد ہے نہ اس کے لیے حیات ہے نہ ادراك الخ۔
قول () : کشف الغطاء مستند مولوی اسحق دہلوی میں ہے :
مذہب اعتزال است کہ گویند میت جماد محض است ۔
میت کو جماد محض بتانا معتزلہ کا مذہب ہے۔ (ت)
قول (۲۰) : اسی میں ہے :
فرقے نیست در ارواح کا ملان درحین حیات و بعدا ز ممات مگر بترقیہ کمال ۔
اہل کمال کی روحوں میں حالت حیات وموت میں کوئی فرق نہیں ہوتا سوا اس کے کہ بعد موت کمالات میں ترقی ہوجاتی ہے۔ (ت)
فصل سوم : ان تصریحوں میں کہ اموات کے علم وادراك دینا و اہل دینا کو بھی شامل۔
شرح الصدور خاتمہ فی فوائد تتعلق بالروح خلافت اکیڈمی سوات ص١٣٥
ارشاد الساری شرح البخاری باب قتل ابی جہل دارالکتب العربی بیروت ٦ / ٢٥٥
کشف الغطاء فصل در احکام دفن میت مطبع احمدی دہلی ص ۵۷
کشف الغطاءفصل در احکام دفن میت مطبع احمدی دہلی ص ۵۷
یعرف من یغسلہ ویحمل ویبلس الاکفان ومن ینزل
(مردہ اپنے نہلانے والے اٹھانے والے کفن پہنانے والے قبر میں اتارنے والے سب کو پہچانتا ہے)
قول (تا ) : امام ابن الحاج مدخل اور۲۳ امام قسطلانی مواہب اور ۲۴علامہ زرقانی شرح میں تقریرا فرماتے ہیں :
واللفظ لاحمد من انتقل الی عالم البرزخ من المؤمنین یعلم احوال الاحیاء غالبا وقد وقع کثیر من ذلك کما ھو مسطور فی مظنۃ ذلك من الکتب ۔
احمد کے الفاظ ہیں جو مسلمان برزخ میں ہیں اکثر احوال احیاء پر رکھتے ہیں اور یہ امر بکثرت واقع ہے جیسا کہ کتابوں میں اپنے محل پر مذکور ہے۔
قول () : اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں علم وادراك موتی کی تحقیق وتفصیل لکھ کر فرماتے ہیں :
بالجملہ کتاب وسنت مملو ومشحون اند باخبار و آثار کہ دلالت مے کند بر وجود علم موتی بدنیا واہل آں پس منکر نہ شود آں را مگر جاہل باخبار ومنکر دین ۔
الحاصل کتاب و سنت ایسے اخبار وآثار سے لبریز ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ مردوں کو دینا واہل دنیا کا علم ہوتا ہے تو اس کا انکار وہی کرے گا جو اخبار و احادیث سے بے خبر اور دین منکر ہو۔ (ت)
فصل چہارم : اموات سے حیا کرنے میں۔
قول () : ابن ابی الدنیا کتاب القبور میں سلیم بن عمیر سے راوی وہ ایك مقبرہ پر گزرے پیشاب کی حاجت سخت تھی کسی نے کہا یہاں اتر کر قضائے حاجت کر لیجئے فرمایا :
سبحان اﷲ واﷲ انی لایستحیی من الاموات کما استحیی من الاحیاء ۔
سبحان اﷲ ! خدا کی قسم میں مردوں سے ایسی ہی شرم رکھتا ہوں جیسی زندوں سے۔
المواہب اللدنیہ من آداب الزیارت المکتب الاسلامی بیروت ٤ / ٥٨١ ، زرقانی علی مواہب اللدنیہ المقصد العاشر المطبعۃ العامرہ مصر ٨ / ٣٤٩ ، المدخل فصل فی الکلام علٰی زیارت سیدا لاولین دارالکتب العربیہ بیروت ١ / ٢٥٣
اشعۃ اللمعات کتاب الجہاد فصل اول نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٤٠١
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ بحوالہ ابن ابی الدنیا زیارت القبور مکتبہ امدادیہ ملتان ٤ / ١١٧
کیف اقنت بحضرۃ الامام وھو لایقول بہ ۔ ذکرہ سیدی علی الخواص والامام الشعرانی فی المیزان و نحوہ العلامۃ ابن حجر مکی فی خیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان فی اولہا واعادہ فی اخرھا عن بعض شراح منہاج الامام النووی وعن غیرہ ونحوہ فی عقود الجمان فی مناقب النعمان عن شیخ شیوخہ الامام الزاھد الولی شہاب الدین شارح المنہاج
میں امام کے سامنے کیونکر قنوت پڑھوں حالانکہ وہ اس کے قائل نہیں (اسے سیدی علی خواص نے اور امام شعرانی نے میزان الشریعۃ الکبری میں ذکر کیا اور اسی کے ہم معنی علامہ ابن حجر نے “ الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان “ کے شروح میں ذکر کیا او راس کے آخر میں دوبارہ منہاج امام نووی کے بعض شارحین وغیرہ کے حوالہ سے ذکر کیا۔ اسی طرح عقود الجمان فی مناقب النعمان میں اپنے شیخ الشیوخ امام زاہد ولی اﷲ شہاب الدین شارح منہاج سے نقل کیا۔ (ت)
بعض روایات میں آیا بسم اﷲ شریف بھی جہر سے نہ پڑھی
نقلہ الفاضل الشامی فی ردالمحتار عن بعض العلماء وکذا الامام ابن حجر فی الخیرات الحسان ۔
اسے فاضل شامی نے ردالمحتار میں بعض علماء سے نقل کیا ایسے ہی امام ابن حجر نے الخیراب الحسان میں ذکر کیا۔ (ت)
بعض میں ہے تکبیرات انتقال میں رفع یدین نہ فرمایا سبب دریافت ہوا جواب دیا :
ادبنا مع ھذا الامام اکثر من ان نظھرخلافہ بحضرتہ ۔ ذکرہ علی القاری فی المرقاۃ ۔
اس امام کے ساتھ ہمارا ادب اس سے زائد ہے کہ ان کے حضور ان کا خلاف ظاہر کریں (اسے ملا علی قاری نے مرقاۃ میں ذکر کیا۔ ت)
شرح لباب میں خاص بلفظ استحیا نقل کیا کہ امام شافعی نے فرمایا :
استحیی ان اخالف مذہب الامام
مجھے شرم آتی ہے کہ امام کے سامنے ان کے
مرقاہ شرح مشکوٰۃ تذکرہ امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مکتبہ امدادیہ ملتان ١ / ٣٠
مذہب کے خلاف کروں (اسے علامہ قاری نے شرح لباب باب زیارت فصل اقامت مدینہ منورہ میں ذکر کیا۔ ت)
سبحان اﷲ اگر اموات دیکھتے سنتے نہیں تو جہر واخفاء یارفع وترك ومکث قنوت وتعجیل سجود میں کیا فرق تھا ﷲ انصاف اگر بنائے قبر حجاب مانع ہو توا مام ہمام کا سامنا کہاں تھا اور اس ادب ولحاظ کا کیا باعث تھا۔
قول (تا ) : علامہ فضل اﷲ بن غوری حنفی وغیرہ ایك جماعت علماء نے تصریح فرمائی کہ زیارت بقیع شریف میں قبہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے ابتدا کرے کہ پہلے وہی ملتا ہے ہے تو بے سلام کے وہاں سے گزر جانا بے ادبی ہے۔ اسی طرح اس بقعہ پاك میں جو مزار پہلے آتا جائے اس پر سلام کرتا جائے کہ جو ذرا بھی عزت و عظمت رکھتا ہے اس کے سامنے سے بے سلام چلے جانا مروت و ادب سے بعید ہے۔ مولانا علی قاری نے شرح لباب میں اسے نقل فرما کر مسلم رکھا ۳۰شیخ محقق نے جذب القلوب میں بعض دیگر علما سے اس کی تحسین نقل کی ہے کہ یہ ایك عمدہ مقصد ہے جس کے ساتھ افضل واشرف کی رعایت نہ کرنی کچھ مضائقہ نہیں مسلك مقتسط میں ہے۔
ذکر العلامۃ فضل اﷲ بن الغوری من اصحابنا ان البدائۃ بقبۃ العباس والختم بصفیۃ رضی اﷲ تعالی عنہما اولی لان مشہد العباس اول مایلقی الخارج من البلد عن یمینہ فمجاوزتہ من غیر سلام علیہ جفوۃ فاذاسلم علیہ وسلم علی من یمر بہ اولا فیختم بصفیۃ رضی اﷲ تعالی عنہا فی رجوعہ کما صرح بہ ایضا کثیر من مشائخنا الخ۔
علامہ فضل اﷲ بن غوری حنفی وغیرہ ایك جماعت علماء نے تصریح فرمائی کہ زیارت بقیع شریف میں قبہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے ابتداء کرے اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مزار پر ختم کرے یہ بہتر ہے کیونکہ باہر والا جب دائیں طرف سے شروع کرے تو پہلے وہی ملتا ہے تو ان کو سلام کئے بغیر گزرجانا بے ادبی ہے جب ان پر گزرے اور جو مزار پہلے آتا جائے سلام کرتا جائے تو واپسی مزار حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا پر ختم کرے جیساکہ بہت سے ہمارے مشائخ نے تصریح فرمائی الخ (ت)
مسلك متقسط مع ارشاد الساری فصل ولیغتنم ایام مقامہ بالمدینۃ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۳۴۵
متاخیرین علماء اختلاف کردہ اند کہ ابتداء بزیارت کہ کند طائفہ برآنند کہ ابتداء بہ زیارت حضرت عباس کند وہرکہ باوے دریك قبہ آسود انداز ائمہ اہل بیت رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین زیرا کہ اسہل و اقرب است و از پیش ایشاں در گزشتن وبزیارت دیگراں متوجہ شدن نوعے ازجفا وسوئے ادب باشد الخ ۔
علمائے متاخرین نے اختلاف کیا ہے کہ زیارت میں ابتداء کسی سے کرے۔ ایك جماعت کے ہاں حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھ قبہ میں جو اہلبیت ائمہ کرام رضوان علیہم آرام فرماہیں سے شروع کرے کیونکہ یہ آسان اورا قرب ہے اور ان کے آگے سے بغیر سلام گزرجانا اور دوسروں کی زیارت میں متوجہ ہوجانا ایك قسم کی لاپروائی اور بے ادبی ہے۔ الخ (ت)
اسی میں ہے :
محصل کلام بعضے از علماء آں است کہ ابتداء قبہ عباس کند رضی اللہ تعالی عنہ وعمن معہ وبعد ازاں بہر کہ پیش آیا زیرا کہ ہر ابادنی جلالت شان بود بے سلام از پیش وے گزشتن وجائے دیگر رفتن از عالم مروت وحفظ طریقہ ادب بغایت دو راست قال بعضھم وھو مقصد صالح لا یضرمعہ عدم ریایۃ الافضل والاشرف الخ
بعض علماء کے کلام کا ماحاصل یہ ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ اور قبہ میں ان کے ساتھ والوں سے ابتداء کرے اور اس کے بعدہر پہلے آنے والے کو سلام کرتا جائے کیونکہ کسی ادنی شان والے سے بے سلام گزرنا اور دوسری جگہ چلے جانا بھی مروت اور حفظ ادب سے بعید ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ مقصد صالح ہے جس کی وجہ سے افضل واشرف کی عدم رعایت مضر نہیں ا لخ (ت)
فصل پنجم افعال احیاء سے تاذی اموات میں :
قول (۳۲تا ۳۴) : مراقی الفلاح میں فرمایا :
اخبرنی شیخ العلامۃ محمد بن احمد الحموی رحمہم اﷲ تعالی بانھم یتاذون بخفق النعال ۔
مجھے میرے استاذ علامہ محمد بن احمد حنفی رضی اﷲ تعالی نے خبر دی کہ جوتی کی پہچل سے مردے کو ایذا ہوتی ہے۔
جذب القلوب باب درفضائل مقبر بقیع منشی نولکشور لکھنؤ ص١٨٧
مراقی الفلاھ علی ھامش حاشیۃ الطحطاوی فصل فی زیارۃ القبور نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۴
قول () : حدیث میں جو تکیہ قبر پر لگانے سے ممانعت فرمائی اور اسے ایذائے میت ارشاد ہوا جیسا کہ حدیث میں گزرا شیخ محقق رحمہ اﷲ ا س پر شرح مشکوۃ میں لکھتے ہیں :
شاید کہ مراد آنست کہ روح وے ناخوش می دارد و راضی نیست بہ تکیہ کردن بر قبرے از جہت تضمن وے اہانت واستخفاف رابوی واﷲ اعلم
ہوسکتا ہے کہ یہ مراد ہو کہ اس کی روح کو ناگوار ہوتا ہے اور وہ اپنی قبر پر تکیہ لگانے سے راضی نہیں ہوتی اس لیے کہ اس میں اس کی اہانت اور بے وقعتی پائی جاتی ہے اور خدا خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
قول (تا ) : عارف باﷲ حکیم ترمذی پھر علامہ نابلسی حدیقہ میں فرماتے ہیں :
معناہ ان الارواح تعلم بترك اقامہ الحرمۃ والاستہانۃ فتاذی بذلك ۔
اس کے یہ معنی ہیں کہ روحیں جان لیتی ہیں کہ اس نے ہماری تعظیم میں قصور کیا لہذا ایذا پاتی ہیں۔
قول ( تا ) : حاشیۃ طحطاوی و ردالمحتار وغیرہ میں ہے :
مقابر میں پیشاب کرنے کو نہ بیٹھے لان المیت یتاذی بما یتاذی بہ الحی
اس لیے کہ جس سے زندو ں کو اذیت ہوتی ہے اس سے مردے کو بھی ایذا پاتے ہیں ۔
اقول : بلکہ دیلمی نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اس کلیہ کی صراحتا روایت کی کہ سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
المیت یؤذیہ فی قبرہ مایؤذیہ بہ فی بیتہ ۔
میت کو جس بات سے گھر میں ایذا ہوتی تھی قبر میں بھی اس سے اذیت پاتا ہے۔
قول ( تا ) : حدیث کے نیچے اشعہ میں امام ابوعمر عبدالبر سے نقل کیا :
از ینجا مستفاد می گردد کہ میت متالم می گردد بجمیع انچہ متالم می گردد بدان حی ولازم این ست کہ متلذذ گردد
یہاں سے معلوم ہوا کہ میت کو ان تمام چیزون سے تکلیف ہوتی ہے جس سے زندوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس کو
نوادر الاصول الاصل التاسع والمائتان دارصادر بیروت ص٢٤٤
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر باب صلٰوۃ الجنازۃ دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٣٨١
شرح الصدور بحوالہ دیلمی باب تأذی المیّت الخ خلافت اکیڈمی ، سوات ص١٢٤
لاز م یہ ہے کہ اسے ان تمام چیزوں سے لذت بھی حاصل ہو جن سے زندوں کو لذت ملتی ہے۔ (ت)
تذئیل : مسئلہ ہے کہ دارالحرب کے جن جانوروں کو اپنے ساتھ لانا دشوار ہو انھیں زندہ چھوڑیں کہ اس میں حربیوں کا نفع ہے نہ کونچیں کاٹیں کہ اس میں جانوروں کی ایذا ہے بلکہ ذبح کرکے جلادیں تاکہ وہ ان کے گوشت سے بھی انتفاع نہ کرسکیں
درمختار میں ہے :
حرم عقردابۃ شق نقلھا الی دار نا فتذبح وتحرق بعدہ اذلا یعذب بالنار الا ربھا۔
جس جانور کو دارالاسلام تك لانا دشوار ہو اس کی کونچیں کاٹنا حرام ہے پہلے ذبح کریں اس کے بعد جلادیں ا س لیے کہ زندہ آگ میں ڈالنے کا عذاب دینا رب نار ہی کاکام ہے۔ (ت)
اس پر علامہ حلبی محشی درمختار نے شبہ کیا کہ یہاں سے لازم کہ مردے کے جسم کو صدمہ پہچائیں اس سے اسے تکلیف نہ ہو حالانکہ حدیث میں اس کا خلاف وارد ہے۔ علامہ طحطاوی و علامہ شامی نے جواب دیا کہ یہ بات بنی آدم کے ساتھ خاص ہے کہ وہ اپنی قبور میں ثواب وعذاب پاتے ہیں تو ان کی ارواح کی ابدان سے ایسا تعلق رہتا ہے جس کے سبب ادراك واحساس ہوتاہے ۔ جانوروں میں یہ بات نہیں ورنہ ان کی ہڈی وغیرہ سے انتفاع نہ کیا جاتا۔ ردالمحتار میں ہے :
او رد المحشی علی جواز احراقھا بعد الذبح انہ یقتضی ان المیت لا یتألم مع انہ ورد انہ یتألم بکسر عظمہ قلت قد یجاب بان ھذا خاص ببنی آدم لانھم یتنعمون ویعذبون فی قبورھم بخلاف غیرھم من الحیوانات والالزم ان لاینتفع بعظمھا ونحوہ ثم رأیت ط ذکر نحوہ انتہی۔
محشی نے جانوروں کو ذبح کرکے جلانے پر یہ شبہ پیش کیا اس سے لازم آتا ہے کہ مردے کو اذیت نہیں ہوتی حالانکہ حدیث میں اس کا خلاف ہے کہ میت کی ہڈی توڑنے سے اس کو اذیت ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ بات بنی آدم کے ساتھ ہے کیونکہ وہ اپنی قبروں میں خوشی اور تکلیف پاتے ہیں جانوروں میں یہ بات نہیں ورنہ ان کی ہڈی وغیرہ سے انتفاع نہ کیا جاتا پھر میں نے طحطاوی کو دیکھا تو انھوں نے ایسا ہی فرمایا انتہی (ت)
درمختار با ب المغنم وقسمتہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٣٤٢
ردالمحتار با ب المغنم وقسمتہ مصطفی البابی مصر ٣ / ٢٥٢
فصل ششم : ملاقات احیاء وذکر خدا سے اموات کا جی بہلتا ہے۔
قول () : امام سیوطی نے انیس الغریب میں فرمایا :
ویانسون ان اتی المقابر
(جب زائرین مقابر پر آتے ہیں مردے ان سے انس حاصل کرتے ہیں۔ ت)
قول () : امام اجل نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اقسام زیارت میں فرمایا ایك قسم زیارت اس غرض سے ہے کہ مقابر پر جانے سے اموات کا دل بہلائیں کہ یہ بات حدیث سے ثابت ہے۔ وسیاتی نقلہ فی النوع الثانی ان شاء اللہ تعالی (یہ بات ان شاء اﷲ تعالی نوع ثانی میں نقل ہوگا۔ ت) قول () : جذب القلوب میں فرمایا :
زیارت گاہی از جہت ادائے حق اہل قبور باشد درحدیث آمدہ مانوس ترین حالتیکہ میت رابود در وقت کریکے از آشنایان او زیارت قبر اوکند وا حادیث دریں باب بسیار است ۔
زیارت کبھی قبروالوں کے حق کی ادائیگی کے لیے ہوتی ہے حدیث میں آیا ہے کہ میت کے لیے سب سے زیادہ انس کی حالت وہ ہوتی ہے جب اس کا کوئی پیارا آشنا اس کی زیارت کے لیے آتاہے۔ اس باب میں احادیث بہت ہیں۔ (ت)
قول (۴۵ تا ۴۶) : فتاوی قاضی خاں پھر فتاوی علمگیری میں ہے :
ان قرأ القران عند القبور نوی ذلك ان یونسہ صوت القران فانہ یقرأ ۔
مقابر کے پاس قرآن پڑھنے سے اگر یہ نیت ہوکہ قرآن کی آواز سے مردے کا جی بہلائے تو بیشك پڑھے۔
قول (تا ) : ردالمحتار میں غنیہ شرح منیہ سے اور طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں تلقین میت کے مفید ہونے میں فرمایا :
ان المیت یستانس بالذکر علی ما ورد
بیشك اﷲ تعالی ذکر سے مردے کا جی بہلتا ہے
جذب القلوب باب پانزدہم منشی نولکشور لکھنؤ ص٢١٣
فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور نورانی کتب خانہ پشاور ٥ / ٣٥٠
جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے۔
قول (تا ) : امام قاضی خاں فتاوی خانیہ ۵۱ شرنبلالی نورالایضاح ومراقی الفلاح وامداد الفتاح پھر ۵۲علامہ ابوالسعود و۵۳ فاضل طحطاوی حاشیہ مراقی میں استنادا وتقریرا او ر۵۴شامی حاشیہ در میں استنادا اور ۵۵خزانۃ الروایات میں۵۶ فتاوی کبری سے اور۵۷ امام بزازی فتاوی بزازیہ اور۵۸شیخ الاسلام کشف الغطاء میں اور ان کے سوا اور علماء فرماتے ہیں :
واللفظ للخانیۃ یکرہ قطع الحطب والحشیش من المقبرۃ فان کان یابسا لا باس لانہ مادام رطبا یسبح فیونس المیت ۔
چوب وگیاہ سبز کا مقبرہ سے کاٹنا مکروہ ہے اور خشك ہو تو مضائقہ نہیں کہ وہ جب تك تررہتی ہے تسبیح خدا کرتی ہے اور اس سے میت کا جی بہلتا ہے۔
علامہ شامی نے اسی حدیث سے مدلل کرکے فرمایا : اس بناء پر مطلقا کراہت ہے اگر چہ خورد رو ہو کہ قطع میں حق میت کا ضائع کرنا ہے۔
تنبیہ : فقیر کہتا ہے غفراﷲ تعالی لہ علماء کی ان عبارات اور نیز چار قل آئندہ ودیگر تصریحات رخشندہ سے دو جلیل فائدے حاصل :
اولا نباتات وجمادات وتمام اجزائے عالم میں ہر ایك کے موافق ایك حیات ہے کہ اس کی بقا تك ہرشجر و حجر زبان قال سے اس رب ا کبر جل جلا لہ کی پاکی بولتا ہے اور سبحان اﷲ یا اس کے مثل اور کلمات تسبیح الہی کہتا ہے نہ کوئی ان میں صرف زبان حال ہے جیسا کہ ظاہر بینی کا مقال ہے کہ اس تقدیر پر تر وخشك میں تفرقہ پر برہان قاطع کہ اس میں فرمایا :
و لكن لا تفقهون تسبیحهم- تم اس کی تسبیح نہیں سمجھتے ظاہر کہ تسبیح حالی تو ہر شخص عاقل سمجھتاہے یہاں تك کہ شعراء بھی کہہ گئے :
ہر گیاہے کہ از زمین روید
وحدہ لاشریك لہ گوید
(جو گھاس بھی زمین سے اگتی ہے کہتی ہے وہ ایك ہے اس کا کوئی شریك نہیں۔ ت)
فتاوٰی قاضی خاں باب احکام الجنائز نولکشور لکھنؤ ١ / ١٩٥
القرآن ١٧ / ٤٤
عــــہ۱ : مرقاۃ شرح مشکوۃ کے باب فضل الاذان میں ہے :
الصحیح ان للجمادات و النباتات والحیوانات علما وادارك وتسبیحا قال البغوی وھذا مذھب اھل سنت وتدل علیہ الاحادیث و الآثار یشھد لہ مکاشفۃ اھل المشاھدۃ والاسرار التی ھی کالانوار والمعتمد فی المعتقدان شہادۃ الاعضاء بلسان القال وما ورد عن الشارع یحمل علی ظاھرہ مالم یصرف عنہ صارف ولاصارف ھنا کما لایخفی ملتقطا۱۲۔ (م)
صحیح یہ ہے کہ جمادات نباتات اور حیوانات کو بھی ایك قسم کاعلم وادراك اور عمل تسبیح حاصل ہے۔ امام بغوی نے فرمایا یہی اہلسنت کا مذہب ہے جس پر احادیث وآثار سے دلیلیں موجود ہیں۔ اہل مشاہدہ اور انوار جیسے اسرار والوں کا مکاشفہ بھی اس پر شاہد ہے اور عقیدہ میں معتمد یہ ہے کہ اعضاء کی گواہی زبان قال سے ہوگی شارع سے جو بھی وارد ہے وہ اپنے ظاہر پر محمول ہوگا جب تك ظاہر سے پھیرنے والی کوئی دلیل نہ ہو اور یہاں ایسا کچھ نہیں جیسا کہ واضح ہے۔ (ت)
عــــہ۲ : فقیر نے اپنے فتاوی میں ایك جملہ صالحہ ذکر کیا اور صدہا کا پتادیا وباﷲ التوفیق۔ (م)
عــــہ۳ : مثلا وہ حدیثیں جن میں صاف ارشاد ہوا کہ نہ کوئی جانور شکار کیاجائے نہ کوئی پیڑ کاٹا جائے جب تك تسبیح الہی میں غفلت نہ کرے۔ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ما صید صید ولا قطعت شجرہ الابتضییع التسبیح ۔ رواہ ابونعیم فی الحلیۃ بسند حسن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
نہ کوئی جانور شکار کیا جاتا ہے اور نہ کوئی درخت کاٹا جاتا ہے جب تك تسیبح الہی نہ ترك کرے۔ اسے ابونعیم نے حلیہ میں بسند حسن ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)(باقی برصفحہ ائندہ)
کنز العمال بحوالہ ابی نعیم عن ابی ھریرہ حدیث ١٩١٩ مؤسستہ الرسالۃ بیروت ١ / ٤٤٥
ثانیا اقوال مذکورہ سے یہ بھی منصہ نبوت پر جلوہ گر ہوا کہ اہل قبور کی قوت سامعہ اس درجہ تیز و صاف وقوی تر ہے کہ بناتات کی تسبیح جسے اکثر احیاء نہیں سنتے وہ بلا تکلف سنتے اور اس سے انس حاصل کرتے ہیں۔ پھر انسان کا کلام تو واضح اور اظہر ہے واﷲ تعالی الہادی۔
قول (تا ) : مجمع البرکات میں مطالب المومنین سے ا ور کنز العباد و فتاوی غرائب وغیرہا میں ہے :
وضع الورد والریاحین علی القبور حسن لانہ مادام رطبا یسبح ویکون للمیت انس بتسبیحہ ۔
گلاب وغیرہ کے پھول قبروں پر ڈالنا خوب ہے کہ جب تك تازہ رہیں گے تسبیح الہی کریں گے۔ تسبیح سے میت کو انس حاصل ہوگا۔
فائدہ : مطالب المؤمنین و جامع البرکات دونوں کتب مستندہ مخالفین سے ہیں اس سے مولوی اسحق نے مائتہ مسائل میں اس سے متکلم قنوجی وغیرہ نے استناد کیا۔
فصل ہفتم : وہ اپنے زائرین کو دیکھتے پہچانتے اور ان کی زیارت پر مطلع ہوتے ہیں :
قول (و ) : مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری مسلك متقسط شرح منسك متوسط پھر فاضل ابن عابدین حاشیہ شرح تنویر میں فرماتے ہیں :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) ابو الشیخ نے روایت کی :
ما اخذ طائر ولاحوت الا بتضییع التسبیح ۔
کوئی پرندہ اور مچھلی نہیں پکڑی جائی مگر تسبیح الہی چھوڑدینے سے۔ (ت)
ابن اسحق بن راہویہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ان کے پاس ایك زاغ لایا گیا جس کے شہپر سالم وکالم تھے۔ دیکھ کر فرمایا میں نے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سنا :
ماصید صید ولاعضدت عضباء ولاقطعت شجرۃ الابقلۃ التسبیح ۔ ۱۲منہ (م)
نہ کوئی جانور شکار ہوا نہ کوئی ببول کٹی نہ کسی پیڑ کی جڑیں چھانٹی گئیں مگر تسبیح کی کمی کرنے سے۔
درمنثور بحوالہ ابی شیخ عن ابی الدرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وان من شیٌ الاّ یسبح بحمدہ کے تحت مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ٤ / ١٨٤
کنز العمال بحوالہ ابن راہویہ عن ابی بکر حدیث ١٩٢٠ مؤسستہ الرسالۃ بیروت ١ / ٤٤٥
زیارت قبور کے ادب سے ایك بات یہ ہے جو علماء نے فرمائی ہے کہ زیارت کو قبر کی پائنتی سے جائے نہ کہ سرہانے سے کہ اس میں میت کی نگاہ کو مشقت ہوگی یعنی سراٹھا کر دیکھنا پڑھے گا پائنتی سے جائے گا تو اس کی نظر کے خاص سامنے ہوگا۔
قول () : مد خل میں فرمایا :
کفی فی ھذا بیانا قولہ علیہ الصلوۃ والسلام المومن ینظر بنور اﷲ انتھی ونوراﷲ لایحجبہ شیئ ھذا فی حق الاحیاء من المومنین فکیف من کان منھم فی الدار الاخرۃ ۔
اس امر کے ثبوت میں کہ اہل قبورکو احوال احیاء پر علم وشعور ہے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ فرمانا بس ہے کہ مسلمان خدا کے نور سے دیکھتا ہے اور خدا کے نور کو کوئی چیز پردہ نہیں ہوتی جب زندگی کایہ حال ہے تو ان کا کیا پوچھنا جو آنحضرت کے گھر یعنی برزخ میں ہیں :
قول () : شیخ محقق جذب القلو ب میں امام علامہ صدر الدین قونوی سے نقل فرماتے ہیں :
درمیان قبور سائر مؤمنین وارواح ایشاں نسبت خاصی است مستمر کہ بدان زائرین رامی شناسند و ردسلام برایشاں می کنند بدلیل استحباب زیارت درجمیع اوقات ۔
تمام مؤمنین کی قبروں اور روحوں کے درمیان ایك خاص نسبت ہوتی ہے جو ہمیشہ موجود رہتی ہے اسی سے زیارت کے لیے آنے والوں کو پہچانتے ہیں اور ان کے سلام کا جواب دیتے ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ زیارت تمام اوقات میں مستحب ہے۔
قول () : انیس الغریب میں فرمایا : ع
ویعرفون من اتاھم زائرا
(جو زیارت کو آتا ہے مردے اسے پہچانتے ہیں۔ ت)
المدخل فصل فی الکلام علی زیارۃ سید المرسلین الخ دارالکتاب العربی بیروت ١ / ٢٥٣
جذب القلوب باب چہارم دہم منشی نولکشور لکھنؤ ص٢٠٦
انیس الغریب
الشعور باق حتی بعدالدفن حتی انہ یعرف زائرہ ۔
شعور باقی ہے یہاں تك کہ بعد دفن بھی یہاں تك کہ اپنے زائر کو پہچانتا ہے۔
قول () : لمعات و اشعۃ اللمعات وجامع البرکات میں ہے :
واللفظ للوسطی در روایات آمدہ است کہ دادہ می شود برائے میت روز جمعہ علم وادراك پیشتر از انچہ داداہ می شوددر روز ہائے دیگر تاآنکہ می شناسد زائر رابیشتر از روز دیگر ۔
الفاظ اشعۃ اللمعات کے ہیں : روایات میں آیا ہے کہ میت کو جمعہ کے دن دوسرے دنوں سے زیادہ علم وادراك دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ روز جمعہ زیارت کرنے والے کو دوسرے دن سے زیادہ پہچانتا ہے
شرح سفر السعادۃ میں مفصل ومنقح تر فرمایا کہ :
خاصیت سی ام آنکہ روز جمعہ ارواح مومناں بقبور خویش نزدیك می شوند نزدیك شدن معنوی وتعلق و اتصال روحانی نظیر ومشابہ اتصال کہ ببدن دارد و زائران راکہ نزدیك قبر می آیند می شناسد وخود ہمیشہ می شناسند ولیکن دریں روز شناختن زیادت برشناخت سائر ایام ست ازجہت نزدیك شدن بقبور لابد شناخت از نزدیك پیشتر وقوی تر باشد از شناخت ودور دربعض روایات آمد کرایں شناخت دراول روز پیشتر است از آخر آں ولہذا ازیارت قبور درین وقت مستحب تراست وعادت درحرمین شریفین ہمیں است ۔
تیسویں ۳۰ خاصیت یہ ہے کہ جمعہ کے دن مومنین کی روحیں اپنی قبروں سے نزدیك ہوجاتی ہیں یہ نزدیکی معنوی ہوتی ہے اور روحانی تعلق و اتصال ہوتاہے جیسے بدن سے قرب واتصال ہوتا ہے۔ اس دن جو زائرین قبر کے پاس آتے ہیں انھیں پہچانتی ہیں اور یہ پہچاننا ہمیشہ ہوتا ہے مگر اس دن کی شناخت دیگر ایام کی شناخت سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے ضروری بات ہے کہ نزدیك سے جو شناخت سے زائد ہوتی ہے وہ دور والی شناخت سے زائد قوی ہوتی ہے ____ اور بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ شناخت جمعہ کی شام کو بہ نسبت اور زیادہ ہوتی ہے اسی لیے وقت زیارت قبور کا استحباب زیادہ ہے اور حرمین شریفین کا دستور بھی یہی ہے۔ (ت)
اشعۃ اللمعات باب زیارۃ القبور فصل ١ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٧١٦
شرح سفر السعادۃ فصل دربیان تعظیم جُمعہ نوریہ رضویہ سکھر ص١٩٩
قول (و) : شیخ و شیخ الاسلام نے فرمایا : واللفظ للشیخ فی جامع البرکات (جامع البرکات میں شیخ کے الفاظ ہیں۔ ت) :
تحقیق ثابت شدہ است بآیات واحادیث کہ روح باقی است واو راعلم وشعور بزائران و احوال ایشاں ثابت است وایں امریست مقرر در دین ۔
آیات واحادیث سے بہ تحقیق ثابت ہوچکا ہے کہ روح باقی رہتی ہے اور اسے زائرین اور ان کے احوال کا علم وادراك ہوتا ہے۔ یہ دین میں ایك طے شدہ امر ہے۔ (ت)
قول () : تیسیر میں زیر حدیث من زار قبر ابویہ (جس نے اپنے باپ کی قبر کی زیارت کی۔ ت) نقل فرمایا :
ھذا نص فی ان المیت یشعر من یزورہ والا لما صح تستمیتہ زائرا واذا لم یعلم المزور بزیارۃ من زارہ لم یصح ان یقال زارہ ھذا ھوالمعقول عند جمیع الامم ۔
یہ حدیث نص ہے اس بات میں کہ مردہ زائر پر مطلع ہوتا ہے ورنہ اسے زائر کہنا صحیح نہ ہوتا کہ جس کی ملاقات کو جائیے جب اسے خبر ہی نہ ہو تو یہ نہیں کہہ سکتے کہل اس سے ملاقات کی تمام عالم اس لفظ سے یہی معنی سمجھتا ہے۔ (ت)
قول (و ) : اشعۃ اللمعات آخر باب الجنائز شرح مشکوۃ امام ابن حجر مکی سے زیر حدیث ام ا لمومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کہ آغاز نوع دوم مقصد دوم میں گزری نقل فرمایا :
دریں حدیث دلیلے واضح ست برحیات میت وعلم وے آنکہ واجب است احترام میت نزد زیارت وے خصوصا صالحان ومراعات ادب بر قدر مراتب ایشاں چنانکہ درحالت حیات ایشاں ۔
اس حدیث میں اس پر کھلی ہوئی دلیل موجو دہے کہ وفات یافتہ کو حیات و علم حاصل ہوتا ہے اور وقت زیارت اس کا احترام واجب ہے خصوصا صالحین کا احترام اور ان کے مراتب کے لحاظ سے رعایت ادب حیات دنیوی کی طرح ضروری ہے۔ (ت)
تیسیر شرح جامع صغیر تحت من زار قبر ابویہ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ٢ / ٤٢٠
اشعۃ اللمعات باب زیارۃ القبور فصل ٣ تیج کمار لکھنؤ ١ / ٧٢٠
فصل ہشتم : وہ اپنے زائروں سے کلام عــــہ کرتے اور ان کے سلام وکلام کا جواب دیتے ہیں۔
قول (۷۵ تا۷۸) : امام یافعی پھر ا مام سیوطی امام محب طبری شارح تنبیہ سے ناقل ہیں امام اسمعیل حضرمی کے ساتھ مقبرہ زبیدہ میں تھے فقال یامحب الدین اتؤمن بکلام الموتی قلت نعم فقال ان صاحب ھذا القبریقول لی انامن حشوالجنۃ انھوں نے فرمایا : اے محب الدین! آپ اعتقاد رکھتے ہیں کہ مردے کلام کرتے ہیں میں نے کہا ہاں کہاں اس قبر والا مجھ سے کہہ رہاہے کہ میں جنت کی بھرتی سے ہوں ۔
تنبیہ : اس روایت کے لانے سے یہ غرض نہیں کہ اس میت نے امام اسمعیل سے کلام کیا کہ ایسی روایات تو صدہا ہیں اور ہم پہلے کہہ آئے کہ وقائع جزئیہ شمار نہ کریں گے بلکہ محل استدلال یہ ہے کہ وہ دونوں امام احیاء سے اموات کے کلام کرنے پر اعتقاد رکھتے تھے اور ان دونوں اماموں نےا سے استنادا نقل فرمایا۔
تذییل : امام یافعی امام سیوطی انہی اسمعیل قدس سرہ الجلیل سے حاکی ہوئے بعض مقابر یمن پر ان کا گزر ہوا بہ شدت روئے اور سخت مغموم ہوئے پھر کھلکھلا کر ہنسے اور نہایت شاد ہوئے کسی نے سبب پوچھا فرمایا : میں نے اس قبر والوں کو عذاب قبر میں دیکھا رویا اور جنا ب الہی سے گڑا گڑا کر عرض کی حکم ہوا : فقد شفعناك فیھم ہم نے تیری شفاعت ان کے حق میں قبول فرمائی اس پر یہ قبر والی مجھ سے بولی : وانا معھم یا فقیہ اسمعیل انا فلانۃ المغنیۃ مولانا اسمعیل! میں بھی انھیں میں سے ہوں میں فلانی گائن ہوں میں نے کہا : وانت معھم تو بھی ان کے ساتھ ہے۔ اس پر مجھے ہنسی آئی اللھم اجعلنا ممن رحمتہ باولیائك امین (اے اﷲ ہمیں بھی ان میں شامل فرما جن کو اپنے اولیاء کے طفیل رحمت سے نوازا الہی قبول فرما ت)
قول () : زہرالربی شرح سنن نسائی میں نقل فرمایا :
ان للروح شانا اخرفتکون فی الرفیق الاعلی وھی متصلۃ بالبدن بحیث اذا سلم المسلم
محض روح کی شان جدا ہے با آنکہ ملاء اعلی میں ہوتی ہے پھر بھی بدن سے ایسی متصل ہے کہ جب سلام
عــــہ : تنبیہ : جواب سلام کا ایك قول فصل ہفتم میں علامہ قونوی سے گزرا ۱۲ منہ (م)
شرح الصدور باب فی زیارۃ القبور الخ خلافت اکیڈمی منگوہ سوات ص٨٦
شرح الصدور باب فی زیارۃ القبور الخ خلافت اکیڈمی منگوہ سوات ص٨٦
کرنے والا سلام کرے جواب دیتی ہے۔ لوگوں کو دھوکا میں یوں ہوتا ہے کہ بے دیکھے چیز کو محسوسات پر قیاس کرکے روح کا حال جسم کا سا سمجھتے ہیں کہ جب ایك مکان میں ہو اسی وقت دوسرے میں نہیں ہوسکتی حالانکہ یہ محض غلط ہے۔
قول () : علا مہ زرقانی شرح مواہب میں نقل فرماتے ہیں :
ردالسلام علی المسلم من الانبیاء حقیقی بالروح والجسد بجملتہ ومن غیر الانبیاء والشھداء باتصال الروح بالجسد اتصالا یحصل بواسطتہ التمکن من الرد مع کون ارواحھم لیست فی اجساد ھم وسواء الجمعۃ وغیرھا علی الاصح لکن لامانع ان الاتصال فی الجمعۃ والیومین المکتنفین بہ اقوی من الاتصال فی غیرھا من الایام اھ ملخصا۔
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا جواب سلام سے مشرف فرمانا تو حقیقی ہے کہ روح وبدن دونوں سے ہے اور انبیاء وشہداء کے سوا اور مومنین میں یوں ہے۔ کہ ان کی روحیں اگرچہ بدن میں نہیں تاہم بدن سے ایسا اتصال رکھتی ہیں جس کے باعث جواب سلام پر انھیں قدرت ہے اور مذہب اصح یہ ہے کہ جمعہ وغیرہ سب دن برابر ہیں ہاں اس کا انکار نہیں کہ پنجشنبہ وجمعہ وشنبہ میں اور دونوں کی نسبت اتصال اقوی ہے۔ اھ ملخصا
قول ( و) : شرح الصدور وطحطاوی حاشیہ مراقی میں نقل فرمایا :
الاحادیث والاثار تدل علی ان الزائرمتی جاء علم بہ المزور وسمع سلام وانس بہ ورد علیہ وھذا عام فی حتی الشھداء وغیرھم وانہ لا توقیت
احادیث و آثار دلیل ہیں کہ جب زائر آتا ہے مردے کو ا س پر علم ہوتا ہے کہ اس کا سلام سنتاہے ا ور اس سے انس کرتا ہے اوراس کو جواب دیتا ہے اور یہ بات شہداء و غیر شہداء سب میں عام ہے نہ اس میں کچھ وقت کی خصوصیت عــــہ
عــــہ : انھیں امام جلیل نے انیس الفریب میں فرمایا : وسلموا ردا علی المسلم٭ فی ای یوم قالہ ابن القیم مردے سلام کے جواب میں سلام کرتے ہیں کوئی دن ہو جیسا کہ ابن قیم نے تصریح کی ۱۲ (م)
الزرقانی شرح المواہب المقصدا لعاشر فی اتمام نعمۃ الطبعۃ العامرہ مصر ٨ / ٣٥٢
کہ بعض وقت ہو اور بعض وقت نہیں۔
قول () : بنایہ حاشیہ ہدایہ میں دربارہ حدیث تلقین موتی فرمایا :
عند اھل السنۃ ھذا علی الحقیقۃ لان اﷲ تعالی یجیب علی ماجاءت بہ الاثار ۔
اہل سنت کے نزدیك یہ اپنی حقیقت پر ہے اس لیے کہ مردہ تلقین کا جواب دیتا ہے جیسا کہ حدیث میں ا یا۔
فصل نہم : اولیاء کی کرامتیں اولیاء کے تصرف بعد وصال بھی بدستور ہیں۔
قول () : امام نووی نے اقسام زیارت میں فرمایا : ایك زیارت بغرض حصول برکت ہوتی ہے یہ مزارات عــــہ اولیاء کے لیے سنت ہے اور ان کے لیے برزخ میں تصرفات وبرکات بے شمار ہیں وستقف علی ذلك ان شاء اﷲ تعالی (ان شاء اﷲ تعالی عنقریب اس سے اگاہی ہوگی۔ ت)
قول ( و ) : اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں فرمایا :
تفسیر کردہ است بیضاوی آیہ کریمہ والنازعات غرقا الآیۃ رابصفات نفوس فاضلہ درحال مفارقت ازبدن کہ کشیدہ می شوند از ابدان و نشاط میکنند بسوئے عالم ملکوت وسیاحت میکنند دران پس سبقت میکنند بحظائر قدس پس می گردند بشرف و قوت از مد برات ۔
قاضی بیضاوی نے آیۃ کریمہ والنازعات غرقا الخ کی تفسیر میں بتایا ہے کہ یہاں بدن سے جدائی کے وقت ارواح طیبہ کی جو صفات ہوتی ہے ان کا بیان ہے کہ وہ بدنوں سے نکالی جاتی ہیں اور عالم ملکوت کی طرف تیزی سے جاتی اور وہاں سیر کرتی ہیں پھر مقامات مقدس کی طرف سبقت کرتی ہیں اور قوت وشرف کے باعث مدبرات امر یعنی نظام عالم کی تدبیر کرنیوالوں سے ہوجاتی ہیں۔ (ت)
قول () : علامہ نابلسی قدس سرہ نے حدیقہ ندیہ میں فر مایا :
کرامات الاولیاء باقیۃ بعد موتھم ایضا ومن زعم خلاف ذلك فھو جاھل متعصب
اولیاء کی کرامتیں بعدا نتقال بھی باقی ہیں جو اس کے خلاف زعم کرے وہ جاہل ہٹ دھرم ہے
عــــہ : زیارت گاہی از جہت انتفاع بہ اہل قبور بود چنانکہ در زیارت قبور صالحین آثار آمدہ ۱۲ جذب القلوب
کبھی زیارت اہل قبور سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہوتی ہے جیسا کہ قبور صالحین کی زیارت کے بارے میں ہیں احادیث آتی ہیں۔ (ت)
البنایۃ شرح الہدایۃ باب الجنائز مکتبہ امدادیہ مکۃ المکرمہ ١ / ١٠٧٣
اشعۃ اللمعات با ب حکم الاسراء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٤٠١
ہم نے ایك رسالہ خاص اسی امر کے ثبوت میں لکھا ہے اھ ملخصا (ت)
قول ( و ) : شیخ مشائخنا رئیس المدرسین بالبلد الامین مولنا جمال بن عبداﷲ بن عمر مکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں :
قال العلامۃ الغنیمی وھو خاتمۃ محققی الحنفیۃ اذاکان مرجع الکرامات الی قدرۃ اﷲ تعالی کما تقرر فلا فرق بین حیاتھم ومماتھم (الی ان قال) قد اتفقت کلمات علماء الاسلام قاطبۃ علی ان معجزات نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تحصر لان منھا ما اجرہ اﷲ تعالی ویجریہ لاولیائہ من الکرامات احیاء وامواتا الی یوم القیمۃ ۔
علامہ غنیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے کہ محققین حنفیہ کے خاتم ہیں فرمایا جب ثابت ہوچکا کہ مرجع کرامات قدرت الہی کی طرف سے تو اولیاء کی حیات و وفات میں کچھ فرق نہیں تمام علماء اسلام ایك زبان فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے معجزے محدود نہیں کہ حضور ہی کے معجزات سے ہیں وہ سب کرامتیں جو اولیائے زندہ و مردہ سے جاری کیں اور قیامت تك ان سے جاری فرمائے گا۔
قول () : اس میں امام شیخ الاسلام شہاب رملی سے منقول ہوا :
معجزات الانبیاء وکرامات الاولیاء لاتنقطع بموتھم ۔
ابنیاء کے معجزے اور اولیاء کی کرامتیں ان کے انتقال سے منقطع نہیں ہوتیں۔
قول (و ) : امام ابن الحاج مدخل میں امام ابو عبداﷲ بن نعمان کی کتاب مستطاب سفینۃ النجاء لاہل الالتجاء فی کرامات الشیخ ابی النجاء سے ناقل :
تحقق لذ وی البصائر والاعتباران زیارۃ قبور الصالحین محبوبۃ لاجل التبرك مع الاعتبار فان برکۃ الصالحین جاریۃ بعد مماتھم کما کانت فی حیاتھم ۔
اہل بصیرت واعتبار کے نزدیك محقق ہوچکا ہے کہ قبور صالحین بغرض تحصیل برکت وعبرت محبوب ہے کہ ان کی برکتیں جیسے زندگی میں جاری تھیں بعد وصال بھی جاری ہیں۔
فتاوٰی جمال بن عمر مکی
فتاوٰی جمال بن عمر مکی
المدخل فصل فی زیارۃ القبور دارالکتاب العربی بیروت ١ / ٢٤٩
اولیاء راکرامات وتصرفات دراکوان حاصل است وآن نیست مگر ا رواح ایشاں راچون ارواح باقی است بعد از ممات نیزیاشد ۔
اولیاء کو کائنات میں کرامات وتصرفات کی قوت حاصل ہے اور یہ قوت ان کی روحوں کو ہی ملتی ہے تو روحیں جب بعد وفات بھی باقی رہتی ہیں تو یہ قوت بھی باقی رہتی ہے۔ (ت)
قول () : کشف الغطاء میں ہے :
ارواح کمل کہ درحین حیات ایشاں بہ سبب قرب مکانت ومنزلت از رب العزت کرامات وتصرفات وامداد داشتند بعد از ممات چوں بہماں قرب باقیند نیز تصرفات دارند چنانچہ درحین تعلق بجسد داشتند یا بیشتر ازاں ۔
کا ملین کی روحیں ان کی زندگی میں رب العزت سے قرب مرتبت کے باعث کرامات وتصرفات اور حاجتمنددوں کی امداد فرمایا کرتی تھیں بعد وفات جب وہ ارواح شریفہ اسی قرب واعزاز کے ساتھ باقی ہیں تو اب بھی ان کے تصرفات ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے جسم سے دنیاوی تعلق کے تھے یا اس سے بھی زیادہ۔ (ت)
قول ( و ) : شرح مشکوۃ میں فرمایا :
یکے از مشائخ عظام عــــہ۱ گفتہ است دیدم چہار کس را از مشائخ تصرف می کنند درقبور خود مانند تصرفہائے شاں درحیات خود یا بیشتر شیخ معروف و عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہما و دوکس عــــہ۲دیگر راز اولیاء
ایك عظیم بزرگ فرماتے ہیں میں نے مشائخ میں سے چار حضرات کو دیکھا کہ اپنی قبروں میں رہ کر بھی ویسے ہی تصرف فرماتے ہیں جیسے حیات دنیا کے وقت فرماتے تھے یا اس سے بھی زیادہ () شیخ معروف کرخی
عــــہ۱ : یعنی سیدی علی قرشی قدس سرہ العزیز کما روی عنہ الامام نورالدین ابوالحسن علی فی بھجۃ الاسراء بسندہ ۱۲منہ(م)
عــــہ۲ : یعنی شیخ عقیل بسہی وحضرت شیخ حیاۃ ابن قیس الحرانی قدس اﷲ تعالی اسرارہما کما فی البہجۃ ۱۲منہ (م)
یعنی سیدی علی قرشی قدس سرہ العزیز جیسا کہ بہجۃ الاسرار میں ان سے نورالدین ابوالحسن علی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے منہ (م)
یعنی شیخ عقیل منجبی بسہی اور شیخ حیات ابن قیس حرانی رحمہم اللہ تعالی جیسا کہ بہجۃ الاسرارمیں ہے ۱۲منہ (م)
کشف الغطاء فصل دہم زیارت القبور مطبع احمدی دہلی ص٨٠
() سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہما اور دو اولیاء اور کو شمار کیا (شیخ عقیل منجبی بسہی اور شیخ حیاۃ ابن قیس حرانی رحمہم اللہ تعالی ان کا مقصد حصر نہیں بلکہ خود جو دیکھا او رمشاہدہ فرمایا وہ بیان کیا۔ ت)
فصل دہم : الحمد ﷲ برزخ میں بھی ان کا فیض جاری اور غلاموں کے ساتھ وہی شان امداد ویاری ہے۔
قول () : امام اجل عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبری میں ارشاد فرماتے ہیں :
جمیع الائمۃ المجتہدین یشفعون فی اتباعھم ویلا حظونھم فی شدائھم فی الدنیا والبرزخ ویوم القیامۃ حتی یجاوز الصراط ۔
تمام ائمہ مجتہدین اپنے پیرووں کی شفاعت کرتے ہیں اور دنیا و برزخ وقیامت ہر جگہ کی سختیوں میں ان پر نگاہ رکھتے ہیں یہاں تك کہ صراط سے پار ہوجائیں۔
اسی امام اجل نے اسی کتاب اجمل میں فرمایا :
قد ذکرنا فی کتاب الاجوبۃ عن ائمۃ الفقھاء و الصوفیۃ کلھم یشفعون فی مقلدیھم و یلاحظون احدھم عند طلوع روحہ وعند سوال منکر و نکیر لہ وعند النشر والحشر والحساب والمیزان و الصراط والا یغفلون عنھم فی موقف من المواقف و لما مات شیخنا شیخ الاسلام الشیخ ناصرالدین اللقانی رآہ بعض الصالحین فی المنام فقال لہ مافعل اﷲ بك فقال لما اجلسنی الملکان فی القبر لیسئلافی اتاھم الامام مالك فقال مثل ھذا یحتاج الی سوال فی ایمانہ باﷲ ورسولہ تنحیاعنہ فتحیا عنی اھ واذا کان مشائخ الصوفیۃ یلاحظون اتباعھم و مریدیھم
ہم نے کتاب الاجوبہ عن الفقہاء والصوفیہ میں ذکر کیا ہے کہ تمام ائمہ فقہاء وصوفیہ اپنے اپنے مقلدوں کی شفاعت کرتے ہیں اور جب ان کے مقلد کی روح نکلتی ہے جب منکر نکیر اس سے سوال کو آتے ہیں جب اس کا حشر ہوتا ہے جب نامہ اعمال کھلتے ہیں جب حساب لیاجاتا ہے جب عمل تلتے ہیں جب صراط پر چلتا ہے غرض ہر حال میں اس کی نگہبانی فرماتے ہیں اور کسی جگہ اس سے غافل نہیں ہوتے ہمارے استاد شیخ الاسلام امام ناصرالدین لقانی مالکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا جب انتقال ہوا بعض صالحوں نے انھیں خواب میں دیکھا پوچھا اﷲ تعالی نے آپ کے ساتھ کیا کیا کہا جب منکر نکیر نے مجھے سوال کے لئے بٹھایا امام مالك تشریف لائے اور ان سے فرمایاایسا شخص بھی اس کی حاجت رکھتا ہے کہ اس سے خدا و رسول
المیزان الکبرٰی مقدمۃ الکتاب مصطفی البابی مصر ١ / ٩
پر ایمان کے بارے میں سوال کیا جائے الگ ہو اس کے پاس سے یہ فرماتے ہیں نکیرین مجھ سے الگ ہوگئے اور جب مشائخ کرام صوفیہ قدست اسرارہم ہول وسختی کے وقت دنیا وآخرت میں اپنے پیرووں اور مریدوں کا لحاظ رکھتے ہیں تو ا ن پیشوایان عذاب کاکہنا ہی کیا جو زمین کی میخیں ہیں اور دین کے ستون او ر شارع علیہ السلام کی امت پر اس کے امین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔
ﷲا کبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد
حسبی من الخیرات ما اعددتہ یوم القیامۃ فی رضی الرحمن
دین النبی محمد خیرالوری ثم اعتقادی مذھب النعمن
وارادتی وعقیدتی ومحبتی للشیخ عبدالقادر الجیلانی
( میرے لیے نیکیوں سے وہ کافی ہے جو روز قیامت خوشنودی الہی کی راہ میں میں نے تیار کررکھا ہے۔ نبی اکرم مخلوق میں سب سے افضل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا دین پاک پھر مذہب نعمان امام اعظم ابوحنیفہ پر اعتقاد اور سیدی شیخ عبدالقادر جیلانی سے ارادت اور عقیدت ومحبت۔ ت)
وی بخاك رضا شدم گفتم کہ تو چونی کہ ماچناں شدہ ایم
ہمہ روز از غمت بفکر فضول ہمہ شب درخیال بہیدہ ایم
خبری گو بماز تلخی مرگ سنیت را گدائے میکدہ ایم
شیر بودیم و شہد افروزند ما سراپا حلاوت آمدہ ایم
(ایك دن میں نے رضا خاکی خاك پر جاکرکہا تمھارا کیا حال ہے ہمارا حال تو یہ ہے کہ دن رات تمھارے غم میں بیکار سوچتے اور فکر کرتے رہتے ہیں بتاؤ کہ موت کی تلخی کا حال کیسا رہا عرض کیا : یہ تلخ جام ہم نے تو کم ہی چکھا قادریت ہمارا مشرب رہا اور سنیت ہمارا میکدہ۔ ہم دودھ تھے ہی اس پر شہد کا اضافہ ہوا ہم تو سراپا حلاوت نکلے۔ ت)
فقیر غفراﷲ تعالی لہ نے اپنے قصیدہ اکسیر اعظم (ھ)کی شرح مجیر معظم (ھ) میں غلامان سرکار قادری کے فضائل اور ان کے لیے جو عظیم امیدیں لکھ کر گزارش کی :
اماہوس کاراینکہ رنزد ایشاں اتباع ہوائے نفس کمال تصوف ورداحکام شرع تمغائے تعرف مناہی وملاہی موصل الی اﷲ وتباہی ودواہی ریاضت این راہ روزہا دارنداما برگرد و نماز ہا گزار ند برمعنی ترك کردن ونہ آنکہ ازینہابا کے دارند یاسرے خارند بلکہ فارغ زیند وحسابے ندارند و خود ازینہاچہ حکایت و ازبدعت چہ شکایت کہ متہوران ایشاں ضروریات دین راخلاف کنند وبدعوی اسلام برعقائد اسلام خندہ زنند من وخدائے من کہ ایناں نہ قادری باشند و نہ چشتی بلکہ غادری باشند وزشتی
سایہ مادور باد از مادور الخ اھ ملخصا
مگر وہ ہوس کار جن کے نزدیك ہوائے نفس کی پیروی کمال تصوف اور احکام شرع کو رد کرنا تمغہ امتیاز ممنوعات اور لہو کی چیزیں خدا رسی کا ذریعہ تباہی اور مصیبت کی چیزیں اس راہ کی ریاضت روزے رکھیں مگر ذمہ میں رہیں نمازیں پڑھیں مگر نہ پڑھنے کی طرح اس پر بھی یہ نہیں کہ کچھ خوف یا فکر ہو بلکہ چین سے جیتے ہیں اور کوئی حساب نہیں رکھتے ان کی کیا بات اور اس بد مذہبی کی کیا شکایت جبکہ ا ن کے بے باکوں کا حال یہ ہے کہ ضروریات دین کا خلاف کریں اور اسلام کا دعوی کرکے عقائد السلام پر خندہ زن ہو واﷲ یہ نہ قادری ہیں نہ چشتی بلکہ غادری ہیں اور ز شتی ان کا سایہ ہم سے دور ہو دور الخ ملخصا(ت)
معہذا بالفرض اگر ایك فریق منکرین باعتبار فروع مقلدین سہی تاہم جب ان کے نزدیك ارواح گزشتگان
عــــہ۱ : حبل بفتحتین بمعنی غضب ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : جنف بفتحتین میل وجور ۱۲منہ (م)
انا عند ظن عبدی بی ۔ رواہ البخاری۔
میں بندہ سے وہ کرتاہوں جو بندہ مجھ سے گمان رکھتا ہے۔ اسے بخاری نے روایت کیا۔
جب ان کے گمان میں امداد محال تو ان کے حق میں ایسا ہی ہوگا۔
گر بہ تو حرام است حرامت بادا
سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حدیث متواتر میں فرماتے ہیں :
شفاعتی یوم القیمۃ حق فمن لم یؤمن بھا لم یکن من اھلھا ۔ رواہ ابن منیع عن زید بن ارقم وبضعۃ عشر من الصحابۃ رضوان اﷲ تعالی اجمعین ۔
میری شفاعت قیامت کے روز حق ہے جو اس پر ایمان نہ لائے گا اس کے اہل نہ ہوگا۔ (اسے ابن منیع نے حضرت زید بن ارقم اور تیرہ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین سے روایت کیا۔ ت)
اﷲ تعالی دنیا واخرت میں ان کی شفاعتوں سے بہرہ مند فرمائے امین اللھم امین۔
قول ( تا ) : امام غزالی قدس سرہ العالی پھر شیخ محقق پھر شیخ الاسلام فرماتے ہیں :
واللفظ لشرح المشکوۃ حجۃ الاسلام امام غزالی گفتہ ہر کہ استمداد کردہ مے شود بوی درحیات استمداد مے شود بوی بعدازوفات ۔ الفاظ شرح مشکوۃ کے ہیں : حجۃ الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں جس سے زندگی میں مدد مانگی جائے اس سے بعد وفات بھی مدد مانگی جائے۔ (ت)
قول (و ) : امام ابن حجر مکی پھر شیخ نے شروح مشکوۃ میں فرمایا :
صالحاں رامدد بلیغ است بہ زیارت کنند گان خود رابر اندازہ ادب ایشاں ۔
صالحین اپنے زائرین کے ادب کے مطابق ان کی بے پناہ مدد فرماتے ہیں۔ (ت)
جامع صغیری مع فیض القدیر حدیث ٤٨٩٦ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ٤ / ١٦٣
اشعۃ اللمعات باب زیارۃ القبور مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٧١٥
اشعۃ اللمعات باب زیارۃ القبور مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٧١٥
ولھذا ینتفح بزیارۃ قبور الابرار والاستعانۃ من نفوس الاخبار ۔
اسی لیے قبور اولیاء کی زیارت اور ارواح طیبہ سے استعانت نفع دیتی ہے۔
قول ( و ) : ردالمحتار میں امام غزالی سے ہے :
انھم متفاوتون فی القرب من اﷲ تعالی ونفع الزائرین بحسب معارفھم واسرارھم ۔
ارواح طیبہ اولیائے کرام کا حال یکساں نہیں بلکہ وہ متفاوت ہیں اﷲ سے نزدیکی اور زائروںکو نفع دینے میں موافق اپنے معارف واسرار کے۔
قول () : امام ابن حجر مکی مدخل میں فرماتے ہیں :
ان کانت المیت المزار ممن ترجی برکتہ فیتوسل الی اﷲ تعالی بہ یبدأ بالتوسل الی اﷲ تعالی بالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذھو العمدۃ فی التوسل والاصل فی ھذا کلہ والمشروع لہ ثم یتوسل باھل تلك المقابر اعنی بالصالحین منھم فی قضاء حوائجہ ومغفرۃ ذنوبہ ویکثر التوسل بھم الی اﷲ تعالی لانہ سبحانہ تعالی اجتباھم وشرفھم وکرمھم فکما نفع بھم فی الدنیا ففی الاخرہ اکثر فمن ارادحاجۃ فلیذھب
یعنی اگر صاحب مزار ان لوگوں میں ہے جن سے امید برکت کی جاتی ہے تو اسے اﷲ تعالی کی طرف وسیلہ کرے پہلے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے توسل کرے کہ حضور ہی توسل میں عمدہ اور ان سب باتوں میں اصل اور توسل کے مشروع فرمانے والے ہیں صالحین اہل قبور سے اپنی حاجت روائی وبخشش گناہ میں توسل اور اس کی تکرار و کرامت بخشی تو جس طرح دنیا میں ان کی ذات سے نفع پینچایا یونہی بعد انتقال اس سے زیادہ پہنچائے گا تو جسے کوئی حاجت منظور ہو انکے مزارات عــــہ پر حاضر
عــــہ : قصد زیارت مقریان آں درگاہ ومنتسبان آں اس بار گارہ کے قرب یافتہ اوراس جناب سے تعلق(باقی برصفحہ ائندہ)
رداالمحتار مطلب فی زیارۃ القبور ادارۃ الطباعۃ العربیہ مصر ١ / ٢٠٤
ہو اور ان سے توسل کرے کہ یہی واسطہ ہیں اﷲ تعالی اورا س کی مخلوق میں اور بیشك شرع میں مقرر ومعلوم ہوچکا کہ اﷲ تعالی کو ان پر کیسی عنایت ہے اور یہ خود بکثرت وشہرت ہے اور ہمیشہ علمائے اکا بر خلف و سلف مشرق ومغرب میں ان کی زیارت قبور سے تبرك کرتے اور ظاہر وباطن میں اس کی برکتیں پاتے رہے ہیں اھ ملخصا۔
قول ( تا ) : اشعۃ میں فرمایا :
سیدی احمد بن زروق کہ از عاظم فقہاء وعلماء ومشائخ دیار مغرب است گفت روزے شیخ ابوالعباس حضرم از من پرسید امدادحی قوی ست یا امداد میت قوی ست من گفتم قوی می گویند کہ امداد حی قوی تر است ومن می گویم کہ امداد میت قوی تراست پس شیخ گفت نعم زیرا کہ وی دربساط است ودر حضرت اوست (قال) ونقل دریں معنی ازیں طائفہ بیشتر ازان ست کہ حصر و احصار کردہ شود یافتہ نمی شود درکتاب و سنت اقوال سلف صالح چیزے کہ منافی ومخالف
سیدی احمد بن زروق جودیار مغرب کے عظیم ترین فقہاء اور علماء ومشائخ سے ہیں فرماتے ہیں کہ ایك دن شیخ ابوالعباس حضرمی نے مجھ سے پوچھا زندہ کی امداد قوی ہے یاوفات یافتہ کی میں نے کہا کچھ لوگ زندہ کی امداد زیادہ قوی بتاتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ وفات یافتہ کی امداد زیادہ قوی ہے۔ اسی پر شیخ نے فرمایا : ہاں ! اس لیے کہ وہ حق کے دربار اور اس کی بارگارہ میں حاضر ہے (فرمایا) اس مضمون کا کلام ان بزرگوں سے اتنا زیادہ منقول ہے کہ حد وشمار سے باہر ہے اور کتاب و
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)جناب واستفاضہ خیرات وبرکات ازایشاں نماید موجب مزید خیر وزیارت ثواب خواہد بود والسلام۱۲ منہ جذب القلوب (م)
رکھنے والوں کی زیارت کا قصد کرے اور ان سے درخواست کرے کہ اپنی برکات وخیرات کا فیض عطا کریں یہ مزیدخیر وخوبی اور ثواب میں زیادتی کا باعث ہوگا والسلام ۱۲منہ جذب القلوب (ت
جذ ب القلوب باب دہ از دہم مکتبہ نعیمہ چوك دالگراں۔ لاہور ص١٣٨
سنت اور سلف صالحین کے اقول میں ایسی کوئی بات موجود نہیں جو اس کے منافی ومخالف اور اسے رد کرنے والی ہو۔ الخ۔ (ت)
قول () : اسی میں ہے :
بسیارے رافیوض وفتوح ازارواح رسیدہ وایں طائفہ را در اصطلاح ایشاں اویسی خوانند ۔
بہت سے لوگوں کو فیض وکشف ارواح سے حاصل ہوا ہے اور اس جماعت کوا ن کی اصطلاح میں اویسی کہتے ہیں۔ (ت)
قول (و ) : شیخ الاسلام امام فخرالدین رازی سے ناقل :
چوں می آید زائر نزد قبر حاصل می شودا ورا تعلقے خاص بقبر چنانچہ نفس صاحب قبر را وبسبب ایں در تعلق حاصل مے شود میان ہر دونفس ملاقات معنوی وعلاقہ مخصوص پس اگر نفس مزوری قوی ترباشد نفس زائر مستفیض مے شود واگر برعکس بود برعکس شود ۔
جب زائر قبر کے پاس آتا ہے توا سے قبر سے اور ا یسے ہی صاحب قبر کو اس سے ایك خاص تعلق حاصل ہوتا ہے اور ا ن دونوں تعلقات کی وجہ سے دونوں کے درمیان معنوی ملاقات اور ایك خاص ربط حاصل ہوجاتا ہے۔ اب اگر صاحب قبر زیادہ قوت والا ہے تو زائر مستفیض ہوتا ہے اور برعکس ہے تو برعکس ہوتا ہے۔ (ت)
قول (و ) : مولنا جامی قدس سرہ السامی حضرت سیدی امام اجل علاء الدولہ سمنانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ناقل :
درویشے از شیخ سوال کرد کہ چوں بدن را درخاك ادراك نیست و در عالم ارواح حجاب نیست چہ احتیاج است بسر خاك رفتن۔ چہ دہر مقامیکہ توجہ کند بروح بزرگے ہماں باشد کہ بسر خاك شیخ فرمود فائدہ بسیار داردیکے آنکہ چون بزیارت کسے مے رود چند انکہ می رود توجہ اوزیادہ می شود
ایك درویش نے شیخ سے سوال کیا کہ جب قبر کے اندر ادراك بدن کو نہیں بلکہ روح کو ہے اور عالم ارواح میں کوئی حجاب نہیں ہے تو قبر کے پاس جانے کی کیا ضرورت جہاں سے بھی توجہ کرے بزرگ کی روح سے وہی فائدہ ہوگا جو قبر کے پاس ہوگا۔ شیخ نے فرمایا : اس میں بہت فوائد ہیں ایك یہ کہ جب آدمی کسی کی زیارت
اشعۃ اللمعات باب زیارۃ القبور مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٧١٦
کشف الغطاء فصل دہم زیارت قبور مطبع احمدی دہلی ص٧٠
کو جاتا ہے تو جس قدر آگے بڑھتا ہے اس کی توجہ بڑھتی جاتی ہے جب قبر کے پاس پہنچتا ہے تو حواس سے اس قبر کا ادراك اور مشاہدہ کرتاہے ا ب اس کے حواس بھی اس کے ساتھ مشغول ہوجاتے ہیں اور وہ پورے ظاہر وباطن کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے جس کا فائدہ فزوں ترہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر چہ ارواح کے لیے حجاب نہیں ہے اورسارا جہان ان کے لیے ایك ہے مگر اس مقام سے تعلق زیادہ ہوتا ہے۔ اھ بہ تلخیص (ت)
قول ( تا ) : سید جمال مکی کے فتاوی میں امام شہاب الدین رملی سے منقول :
للانبیاء والرسل والاولیاء والصالحین اغاثہ بعد موتھم ۔
انبیاء ورسل واولیاء وصالحین بعد رحلت بھی فریاد رسی کرتے ہیں۔
فصل یازدہم : تصریحات علماء میں کہ سلام قبور دلیل قطع سماع وفہم وعلم وشعور ہے۔
قول () : امام عزالدین بن عبدالسلام اپنی امالی میں فرماتے ہیں :
لانا امرنا بالسلام علی القبور ولولاان الارواح تدرك کان فیہ فائدۃ ۔
ہمیں حکم ہوا کہ قبور پر سلام کریں اگر روحیں سمجھتی نہ ہوتیں تو بیشك ا س میں کچھ فائدہ نہ ہوتا۔
قول () : امام ابو عمر ابن عبدالبر نے فر مایا :
احادیث زیارۃ القبور والسلام علیھا وخطابھم مخاطبۃ الحاضر العاقل دالۃ علی ذلک اھ ملخصا۔
زیارت قبور اور ان پر سلام اور ان سے حاضر عاقل کی طرح خطاب کی حدیثیں اس پر دلیل ہیں اھ ملخصا
قول () : شرح الصدور میں مثل قولین سا بقین منقول :
قد شرح صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لامتہ ان یسلموا علی اھل القبور سلام من یخاطبونہ
بیشك نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنی امت کے لیے اہل قبور پر ایسا مشروع فرمایا ہے جیسے سننے
فتاوٰی جمال بن عمر مکی
شرح الصدور بحوالہ عزالدین ا بن عبدالسلام باب مقرالارواح خلافت اکیڈمی سوات ص١٠٣
شرح الصدور حوالہ ابن عبدالبر باب مقرالارواح خلافت اکیڈمی سوات ص١۰
سمجھنے والوں سے خطاب کرتے ہیں۔
قول () : امام علامہ نووی منہاج میں امام قاضی عیاض کا قول دربارہئ وسماع موتی نقل کرکے فرماتے ہیں :
ھوالظاھر المختار الذی یقتضیہ احادیث السلام علی القبور ۔
یہی ظاہر ومختار ہے جسے سلام قبور کی حدیثیں اقتضاء کرتی ہے۔
قول () : علامہ مناوی نے اسی امر پر دلیل یوں نقل فرمائی ہے : فان السلام علی من لایشعر محال کہ جو نہ سمجھے اس پر سلام اصلا معقول نہیں۔
قول () : شیخ محقق مدارج النبوۃ میں سلام اموات کو حدیث سے نقل کرکے فرماتے ہیں :
خطاب باکسیکہ نہ شنود ونہ فہمد معقول نیست ونزدیك ست کہ شمار کردہ شود از قبیلہ عبث چنانچہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ گفت ۔
جو نہ سنے نہ سمجھے اس سے خطاب معقول نہیں اور قریب ہے کہ عبث کے دائرے میں شمار ہو جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا۔ (ت)
قول () مولانا علی قاری شرح اللباب میں دربارہ سلام زیارت میں فرماتے ہیں :
من غیر رفع صوت ولا اخفاء بالمرۃ لفوت الاسماع الذی ھو السنۃ ۔
نہ بلند آواز سے ہو نہ بالکل آہستہ جس میں سنانا کہ سنت ہے فوت ہوجائے۔
فصل دو از دہم : اہل قبور سے سوائے سلام اور انواع خطاب وکلام میں
قول ( تا ) : منسك متوسط و مسلك متقسط واختیار شرح مختار و فتاوی عالمگیری میں ہے : واللفظ للاخیرین فانہ ابسط (الفاظ اخیرین کے ہیں اس لیے کہ یہ زیادہ مبسوط ہیں۔ ت) کہ بعد زیارت سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہاتھ بھر ہٹ کر سر اقدس صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے مقابل ہو اور بعد سلام عرض کرے :
جزاك اﷲ عنا افضل ماجزی اماما عن امۃ آپ کو اﷲ تعالی ہم سے جزا وعوض نیك دے بہتر
منہاج للنووی شرح صحیح مسلم مع مسلم باب عرض مقعد المیّت من الجنۃ والنار الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٣٨٧
التیسیر شرح الجامع الصغیر تھت من زار قبرابویہ الخ مکتبۃ الامام شافعی الریاض السعودیہ ٢ / ٤٢٠
مدارج النبوۃ فصل درسماعت میّت نوریہ رضوریہ سکھر ٢ / ٩٥
مسلك متقسط مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم دارالکتاب العربی بیروت ص٣٣٨
اس عوض کا جو کسی کو اس کے نبی کی امت سے عطا فرمایا ہو بیشك آپ نے بہترین خلافت سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نیاحت کی اور بہترین روش سے حضور کی راہ وطریقہ پر چلے آپ نے اہل ارتداد وبدعت سے قتال کیا آپ نے اسلام کو اراستگی دی آپ نے صلہ رحم فرمایا آپ ہمیشہ حق گو اور اہل حق کے ناصر رہے یہاں تك کہ آپ کو موت آئی۔
پھر ہٹ کر قبر مبارك حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے محاذی ہو اور بعد سلام عرض کرے۔
جزاك اﷲ عنا افضل الجزاء ورضی عمن استخلفك فقد نصرت للاسلام والمسلمین حیا ومیتا فکفلت الایتام و وصلت الارحام وقوی بك الاسلام و کنت للمسلمین اماما مرضیا وھادیا مھدیا جمعت شملھم واغنیت فقیرھم وجبرت کسیرھم ۔
اﷲ تعالی نے آپ کو بہتر بدلہ دے اور ان سے راضی ہو جنھوں نے آپ کو خلیفہ کیا یعنی صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کہ آپ نے اپنی زندگی اور موت دونوں حال میں اسلام ومسلمین کی مدد فرمائی آپ نے یتیموں کی کفالت اور رحم کا صلہ کیا۔ اسلام نے آپ سے قوت پائی آپ مسلمانوں کے پسندیدہ پیشوا اور رہنما راہ یاب ہوئے آپ نے ان کا جتھا باندھا اور ان کے محتاجوں کو غنی کردیا اور ان کی شکستہ دلی دورفرمائی۔
اسی طرح کتب مناسك میں بہت تصریحیں اس کی ملیں گی۔
قول ( تا۰ ) : امام خطابی نے دربارہ تلقین فرمایا :
لاباس بہ اذلیس فیہ الاذکر اﷲ تعالی و عرض الاعتقاد علی المیت (الی قولہ) وکل ذلك حسن نقلہ القاری فی المرقاۃ ۔
اس میں کچھ حرج نہیں کہ وہ ہے کیا مگر اﷲ تعالی کی یاد اور میت پرعرض اعتقاد۔ یہ سب خوب ہیں (اسے ملا علی قاری نے مرقاۃ میں نقل کیا۔ ت)
بعینہ اسی طرح ذیل مجمع البحار میں مذکور۔
فتاوٰی ہندیہ مطلب زیارہ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ٢٦٦
مرقاۃ المفاتیح بحوالہ الخطابی باب اثبات عذاب القبر حدیث ١٣٣ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ١ / ٣٥٦
تکملہ مجمع البحار تحت لفظ ثبت منشی نولکشور لکھنؤ ص٢٥
ہمیں عزت ومغفرت والاخدا کافی ہے اور اﷲ تعالی ہمارے آقا ومولا حضرت محمد اورا ن کی آل واصحاب پر تا حشر درود و حمت بھیجے۔ (ت)
فصل سیز دہم : بعد دفن میت کو تلقین اورا سے عقائد اسلام یاد دلانے میں یہ فصل فصل دواز دہم کی ایك صنف ہے کہ اس میں بھی میت سے سوائے سلام اور قسم کا خطاب وکلام ہے کما لا یخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ ت) میں یہاں صرف علمائے حنفیہ کے اقوال شمار کروں گا کہ شافعیہ تو قاطبتہ قائل تلقین ہیں الا من شاء اﷲ ۔
قول (۱۳۱تا ۱۳۳) : امام زاہد صفار نے کتاب مستطاب تلخیص الادلہ میں تصریح فرمائی کہ تلقین موتی مسلك اہلسنت ہے اور منع تلقین مذہب معتزلہ پر مبنی کہ وہ میت کو جماد مانتے ہیں امام حاکم شہید نے کافی اور امام خبازی نے خبازیہ میں ان سے نقل فرمایا :
ان ھذا (ای منع التلقین) علی مذھب المعتزلۃ لان الاحیاء بعد الموت عندھم مستحیل اما عنداھل السنہ فالحدیث ای لقنوا واتاکم لا الہ الا اﷲ محمد علی حقیقۃ۔ لان اﷲ تعالی یحییہ علی ماجائت بہ الاثارت وقدروی عنہ علیہ الصلوۃوالسلام انہ امر بالتلقین بعدا لدفن الخ ذکرہ فی ردالمحتار عن معراج الداریۃ۔
تلقین سے ممانعت معتزلہ کامذہب ہے اس لیے کہ موت کے بعد زندہ کرنا ان کے نزدیك محال ہے لیکن اہلسنت کے نزدیك حدیث تلقین (اپنے مردوں کو لا الہ الا اﷲ سکھاؤ) اپنے حقیقی معنی پر محمول ہے اس لیے کہ اﷲ تعالی مردے کو زندہ فرمادیتا ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ سرکار نے دفن کے بعد تلقین کا حکم دیا الخ۔ اسے ردالمحتار میں معراج الدرایہ کے حوالے سے ذکر کیا۔ (ت)
قول ( تا ) : درمختار میں جوہرہ نیرہ سے ہے :
انہ مشروع عند اھل السنۃ
بیشك تلقین اہل سنت کے نزدیك مشروع ہے۔
قول () : نہایہ شرح ہدایہ میں ہے :
درمختار باب صلٰوۃ الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٩
تلقین کیونکر نہ کی جائےگی حالانکہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مروی ہوا حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بعد دفن تلقین کاحکم دیا۔
اور ان کا قول فصل ہشتم میں گزرا کہ اہلسنت کے نزدیك تلقین اپنی حقیقت پر ہے۔
قول ( و ) : امام اجل شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا :
لایومربہ ولاینھی عنہ ۔ نقلہ فی النھایۃ وغیرہا۔
تلقین کا حکم نہ دیں نہ اس سے منع کریں اسے نہایہ وغیرہ میں نقل کیا۔ ت)
حلیہ میں اسے نقل کرکے فر مایا : ظاھرہ انہ یباح
اس قول سے ظاہر اباحت ہے۔
قول () : امام فقیہ النفس قاضی خاں نے فرمایا :
ان کان التلقین لاینفع لایضر ایضا فیجوز ۔ اثرہ المذکوران۔
تلقین میں اگر کوئی نفع نہ ہو تو ضرر بھی نہیں پس جائز ہوگی (اسے دونوں مذکور حضرات نے ذکر کیا ہے)
اورظاہر ہے کہ نفی نفع برسبیل تنزل ہے۔
قول (تا ) : صاحب غیاث فر ماتے ہیں :
انی سمعت استاذی قاضی خان انہ یحکی عن الامام ظہیر الدین انہ لقن بعض الائمۃ و اوصانی بتلقینہ فلقنتہ فیجوز ۔ نقلہ فی شرح النقایۃ۔
میں نے اپنے استاذ قاضی خاں کو سنا کہ اما اجل ظہیر الدین مرغینانی سے حکایت فرماتے تھے بعض ائمہ نے تلقین فرمائی اور مجھے اپنی تلقین کرنے کی وصیت کی تو میں نے انھیں تلقین کی پس جواز ثابت ہوا۔ (اسے شرح نقایہ میں نقل کیا۔ ت)
البدایہ فی شرح الہدایہ بحوالہ الحلوانی المکتبہ الامدادیۃ فیصل آباد جلد اول جز ثانی ص۱۰۷۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
البدایۃ فی شرح الہدایۃ بحوالہ قاضی خاں المکتبۃ الامدادیہ فیصل آباد جلد اول جزء ثانی ص١٠٧٣
جامع الرموز فصل فی الجنائز مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٢٧٨
نحن نعمل بھما عندالموت وعند الدفن ۔ نقلہ فی الھندیۃ ۔
ہم دونوں تلقینوں پر عمل کرتے ہیں وقت نزع بھی اور وقت دفن بھی اسے ہندیہ میں نقل کیا گیا۔ ت)
قول () : ذیل مجمع البحار میں ہے : اتفق کثیر علی التلقین بہت علماء کا تلقین پر اتفاق ہے۔
قول () : نورالایضاح میں ہے : تلقینہ فی القبر مشروع مردے کو تلقین کرنا مشروع ہے۔
قول(و) : علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں کتاب التجنیس والمزید سے ناقل : التلقین بعد الموت فعلہ مشائخنا ہمارے بعض مشائخ نے موت کے بعد تلقین فرمائی ہے۔
قول ( ۱۵۰و ۱۵۲) : جامع الرموز میں جواہر سے منقول :
سئل القاضی مجدا لدین الکرمانی عنہ قال ما راہ المسلمون حسنا فھو عند اﷲ حسن و روی فی ذلك الحدیثن ۔
قاضی مجدالدین کرمانی سے دربارہئ تلقین سوال ہوا فرمایا جوبات مسلمان اچھی سمجھیں خدا کے نزدیك اچھی ہے۔ اور اس بارے میں دو حدیثیں روایت کیں ۔
عــــہ : یہ معنی خود لفظ اوصانی سے مستفاد مگر اس میں صریح تر ہے کہ لقن بعض الائمۃ بعد دفنہ واوصانی بتلقینہ فلقنتہ بعد مادفن ۱۲منہ (بعض ائمہ نے بعد دفن میت کو تلقین فرمائی اور مجھے میت کو تلقین کرنے کی وصیت کی تو میں نے بعد از دفن میت کو تلقین کی۱۲ منہ (ت)
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ المضمرات الباب الحادی والعشرون فی الجنائز نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٥٧
تکملہ مجمع بحارالانوار تحت لفظ ثبت نولکشور لکھنؤ ص ٢٥
نورالایضاح باب احکام الجنائز مطبع علیمی لاہور ص٥٤
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنائز دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٣٢٤
جامع الرموز فصل فی الجنائز مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٢٧٩
حاشیۃ الشبلی علی التبیین بحوالہ الحقائق با ب الجنائز مطبعہ کبرٰی بولاق مصر ١ / ٢٣٤
کیف لایفعل مع انہ لاضرر فیہ بل فیہ نفع للمیت ۔
تلقین کیونکر نہ کی جائے گی حالانکہ اس میں کوئی نقصان نہیں بلکہ میت کا فائدہ ہے۔
قول (۱۵۴) : کشف الغطاء میں ہے : بالجملہ بمقتضائے مذہب اہل سنت وجماعت تلقین مناسب پھر امام صفار کا ارشاد کہ :
سزا وار آن ست کہ تلقین کردہ شود میت برمذہب امام اعظم وہرکہ تلقین نمی کند ونمے گوید بآن پس اوبر مذہب اعتزال ست کہ گویند میت جماد محض است و روح در قبر معاد نمی شود۔
مذہب امام اعظم میں میت کو تلقین مناسب ہے اورجو تلقین کا تارك اور منکر ہے وہ معتزلہ کا مذہب رکھتا ہے جو میت کو جماد محض کہتے ہیں اور قبر میں پھر روح کا اعادہ نہیں مانتے۔ (ت)
نقل کرکے فرمایا :
وانچہ درکافی گفت کہ اگر مسلمان مردہ است محتاج نیست بہ سوئے تلقین وے بعد از موت وگرنہ فائدہ نمی کند ناتمام است چہ باوجود اسلام احتیاج بسوئے تلقین برائے ثابت داشتن دل باقی ست چنانچہ درحدیث آمدہ کہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بعد از دفن فرمودی استغفار کنید برا درخود را و سوال کنید برائے وے تثبت رابدر ستیکہ الآن سوال کردہ مے شود ازوے الی اخرہ۔ وہ جو کافی ہیں کہا کہ “ اگر بحالت اسلام مرا ہے تو وہ موت کے بعد تلقین کا محتاج نہیں اور اگر ایسا نہیں تو تلقین بے سود ہے “ ناتمام ہے اس لیے کہ اسلام کے باوجود دل کوثابت رکھنے کے لیے تلقین کی حاجت ثابت ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دفن کے بعد فرماتے اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو کہ اس وقت اس سے سوال ہورہا ہے۔ الخ (ت)
قول (و ۱۵۶) : علامہ زیلعی نے تبیین الحقائق میں دربارہ تلقین پہلے استحباب پھر جواز پھر منع تینوں قول نقل کرکے استحباب پر دلیل قائم کی اور بے شك تعلیل دلیل اختیار و تعویل ہے علامہ حامد آفندی نے مغنی المستفتی عن سوال المفتی میں فرمایا : ھو المرجح اذا ھو المحلی بالتعلیل (اس کی
کشف الغطاء
مغنی المستفتی عن سوال المفتی
نکتہ جلیلہ تتمیم کلام و ازالہ اوہام میں
اقول : وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق طائفہ جدیدہ ان اقول کے مقابل براہ تلبیس و مغالطہ منع تلقین کے اقوال پیش کردیتے ہیں حالانکہ یہ محض جہالت بے مزہ ہے ہم یہاں نفس مسئلہ تلقین کی بحث میں نہیں ہیں بلکہ غرض یہ ہے کہ ان علمائے مجوزین نے ادراك وسمع موتی مانا اور یہ امر اقوال مذکورہ سے یقینا ثابت ذرا آنکھیں مل کر دیکھیں کہ ائمہ نے کیا چیز جائز مانی تلقین میت۔ پھر یہ سیکھیں کہ تلقین کے معنی کیا ہیں تفہیم و تذکیر یعنی سمجھانا اور یاد دلانا کما فی حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی (جیساکہ حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی الفلاح میں ہے ۔ ت) پھر کسی ذی عقل سے پوچھیں کہ تفہیم وتذکیر جماد و دیوار کو ہوتی ہے یا سامع فہیم وہوشیارکو حاشا وکلا ہر سمجھ والابچہ جانتا ہے کہ سمجھانا اور یاد دلانا ہر گز متصور نہیں جب تك مخاطب سنتا سمجھتا نہ ہو اور جس کے اعتقاد میں ہو کہ مخاطب نہ عقل وفہم رکھتا ہے نہ میرا کہا سنے پھر اس کے آگے بقصد تفہیم وتذکیر بات کرے وہ قطعا مجنون ودیوانہ ہوگا لہذا یقینا واجب کہ جو ائمہ وعلماء استحباب خواہ جواز تلقین کے قائل ہوئے انھوں نے بلاشبہ اموات کو بعد دفن بھی کلام احیاء سننے والا مانا اور اسی قدر مقصود تھا بخلاف اقوال منع کہ وہ نہار نہ مخالف کو مفید نہ ہمیں مضر کہ ترك تلقین کی علت کچھ انکار فہم وسماع ہی میں منحصر نہیں جس سے خواہی نخواہی سمجھا جائے کہ جو تلقین نہیں مانتا وہ میت کو سمیع و فہیم بھی نہیں جانتا کیا ممکن نہیں کہ اس کی وجہ بعض کے نزدیك عدم ثبوت ہو جیسا کہ حلیہ میں ہے :
شیخ عزالدین بن عبدالسلام نے اس کے بدعت ہونے پر نص کی ہے۔ (ت)
دیکھو امام عزالدین شافعی اس وجہ سے قائل تلقین نہ ہوئے کہ ان کے نزدیك بدعت تھی حالانکہ یہ وہی امام عزالدین ہیں جن کا ارشاد قول ۱۱۷میں گزرا کہ مردے ہمارا کلام نہ سمجھتے ہوتے تو سلام قبور محض لغو تھا۔ یوں ہی کیا ممکن نہیں کہ وجہ ان کی رائے میں عدم فائدہ ہوں بایں معنی کہ مردہ باایمان گیا تو خود رحمت الہی اسے بس ہے۔ وہ بتوفیق ربانی آپ ہی صحیح جواب دے گا۔
قال اﷲ تعالی یثبت الله الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوة الدنیا و فی الاخرة- ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا : اﷲ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور اخرت میں (ت)
اور جو عیاذ باﷲ نوع دیگر ہے اسے لاکھ تلقین کیجئے کیا فائدہ ! دیکھو امام حافظ الدین نسفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے کافی شرح وافی میں انکار تلقین اسی پر مبنی کیا۔
حیث قال ولقن الشہادۃ لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام لقنوا موتاکم شہادۃ ان لا الہ الا اﷲ وارید بہ من قرب من الموت وقیل ھو مجری علی حقیقتہ وھو قول الشافعی لانہ تعالی یحییہ وقد روی انہ علیہ السلام امر بتلقین المیت بعد دفنہ و زعموا انہ مذہب اھل السنۃ والاول مذھب المعتزلہ الا ان نقول لافائدۃ بالتلقین بعد الموت لانہ مات مومنا فلاحاجۃ الیہ وان مات کافرا فلا یقید التلقین اھ ببعض تلخیص۔
ان کی عبارت یہ ہے : وقت نزع شہادت یاد دلائے اس لیے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہے اپنے مردوں کو کلمہ شہادت کی تلقین کرو۔ اس سے مراد وہ ہیں جو قریب الموت ہوں اور کہا گیا کہ یہ اپنے حقیقی معنی میں ہے۔ یہی امام شافعی کا قول ہے۔ اس لیے کہ اﷲ تعالی اسے زندہ کردے گا اور مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دفن کے بعد تلقین کا حکم دیا لوگ کہتے ہیں کہ یہ مذہب اہلسنت ہے اور اول معتزلہ کا مذہب ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ موت کے بعد تلقین کا کوئی فائدہ نہیں اس لیے کہ اگر بحالت ایمان مرا ہے تو تلقین کی کوئی ضروت نہیں اور ا گر کافر مرا ہے تو تلقین کارگر نہ ہوگی اھ (ختم قدرے تلخیص کے ساتھ) ۔ (ت)
القرآن ١٤ / ٢٧
کافی شرح وافی
قال اﷲ تعالی الا بذكر الله تطمىن القلوب(۲۸) ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا : سن لو خدا کی یاد سے ٹھہر جاتے ہیں دل ۔
اسی لیے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بعد دفن حکم دیتے میت کے لیے خدا سے تثبت مانگو کہ اب اس سے سوال ہوگا ۔ کما مرفی المقصد الاول (جیسا کہ مقصد اول میں گزرا۔ ت) شیخ الاسلام کا کلام قول ۱۵۴میں سن چکے اور علامہ شربنلالی مراقی الفلاح میں فرماتے ہیں :
(نفی صاحب الکافی فائدۃ مطلقا ممنوع ) بان فیہ فائدۃ التثبیت للجنان) نعم الفائدۃ الاصلیۃ (و ھی تحصیل الایمان فی ھذا الوقت) منتفیۃ ویحتاج الیہ لتثبیت الجنان للسوال فی القبر اھ موضحا بحاشیۃ الطحطاوی ۔
صاحب کافی کا مطلقا فائدے سے انکار ہمیں تسلیم نہیں (کیونکہ اس میں دل کو ٹھہرانے اور ثبات دینے کا فائدہ ہے) ہاں فائدہ اصلیہ (اس وقت اسے ایمان بخشنا) نہیں اور تلقین کی ضروت قبر میں سوال کے وقت دل کی تقویت اور ثبات کے لیے ہے اھ (عبارت مراقی ختم حاشیہ الطحطاوی سے توضیح کے ساتھ) (ت)
علامہ ابراہیم حلبی کا جواب اسی مقصد میں گزرا کہ تلقین میں میت کا فائدہ ہے کہ ذکر خدا سے اس کا جی بہلے گا فقیر کہتا ہے غفراﷲ تعالی اگر عدم فائدہ میں ایسی ہی تقریر کریں تو دعاء و دوا تمام کا رخانہ اسباب سب مہمل و معطل رہ جائے کہ تقدیر الہی میں حصول مراد ہے تو آپ ہی ملے گی ورنہ کیا حاصل غرض جب واضح و بین کہ تلقین بے فہم وسماع میت کے محال اور اس کا انکار کچھ نفی سماع میں منحصر نہیں تو یقینا ثابت کہ اقوال جواز ہمارے مذہب پر دلائل ساطع اور اقوال ترك ومنع اصلا مضر نہیں پھر ان کے مقابل ان کا پیش کرنا کیا کہا جائے کہ کس درجہ کی سفاہت ہے اور یہ قدیم چالاکی ان حضرات کی ہے جہاں کسی امر کے اثبات کو بعض علماء کے وہ اقوال جن کا مبنی اس امر کا ماننا ہو پیش کیئجے اور وہ مسئلہ مختلف فیہا ہو تو فورا دوسری طرف کے قول نقل کر لائیں گے یہ نہیں دیکھتے کہ
مشکوٰۃ المـصابیح بحوالہ ابی داؤد باب اثبات عذاب القبر مطبع مجتبائی دہلی ص ٢٦
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب احکام الجنائز نور محمد اصح کارخانہ کتب کراچی ص ٣٠٧
فائدہ جمیلہ تنقیح مسئلہ تلقین میں
اقول : وباﷲاستعین۔ نفس مبحث تلقین کی نسبت استطرادا اتنی بات سمجھ لیجئے کہ ظاہر الروایۃ میں اگر لایلقن یا غیر مشروع آیا بھی ہو تو وہ ممانعت وعدم جواز کے لیے متعین نہیں۔ آخر نہ سنا کہ امام مجتہدین برہان الدین محمود نے ذخیرہ میں بروایت امام محررالمذہب حضرت محمد بن الحسن امام الائمہ مالك الازمہ حضرت اما م اعظم رضی اللہ تعالی عنہم سے نقل کیا کہ سجدہ شکر مشروع نہیں۔ اور علماء نے اس کے معنی عدم وجوب لیے اشباہ میں ہے :
سجدۃ الشکر جائزۃ عند ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ لاواجبۃ وھو معنی ماروی عنہ انھا لیست مشروعۃ ای وجوبا اھ واقرہ علیہ العلامۃ السید الحموی فی غمز العیون والسیدان الفاضلان احمد الطحطاوی و محمد الشامی فی حواشی الدر۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك سجدہ شکر جائز ہے واجب نہیں یہی اس کا معنی ہے جو امام صاحب سے مروی ہے کہ سجدہ شکر مشروع نہیں یعنی وجوبا مشروع نہیں اھ۔ اسے علامہ سیدی حموی نے غمز العیون میں اور علامہ سیداحمد طحطاوی وعلامہ سید محمد شامی نے حواشی درمختار میں برقرار رکھا۔ (ت)
۱فتاوی حجہ میں فرمایا :
عندی انی قول الامام محمول علی الایجاب وقول محمد علی الجواز والاستحباب فیعمل بھما لا یجب بکل نعمۃ سجدۃ شکرا کما قال ابوحنیفہ ولکن یجوزان یسجد سجدۃ الشکر فی وقت سربنعمۃ او ذکر نعمۃ فشکرھا بالسجدۃ وانہ غیر خارج عن حد
میرے نزدیك یہ ہے کہ امام اعظم کا قول ایجاب پر اور امام محمد کا قول جواز پر واستحباب پر محمول ہے تودونوں قولوں پر عمل کیا جائیگا ہر نعمت پر سجدہ شکر واجب نہیں جیسا کہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے لیکن جب کسی نعمت سے مسرت ہو تو سجدہ شکر کرنا جائز ہے اسی طرح جب کسی نعمت کی یاد ہو تو اس کے شکر یہ میں سجدہ کرلینا یہ دائرہ استحباب سے
باہر نہیں اھ اسے حاشیۃ مراقی میں اور اس سے پہلے حلبی نے غنیہ میں نقل کیا۔ (ت)
اسی ۲ذخیرہ میں فرمایا :
لایتعوذ التلمیذ اذا قرأ علی استاذہ ۔
شاگرد استاد کے پاس درس کے وقت تعوذ نہ پڑھے۔ (ت)
درمختار میں اسے نقل کرکے کہا : ای لا یسن ( یعنی یہ مسنون نہیں ۔ ت)نہر میں کہا :
لیس مافی الذخیرۃ فی المشرو عیۃ وعدمھا بل فی الاستنان وعدمہ ۔
ذخیرہ کی عبارت مشروعیت اور عدم مشروعیت سے متعلق نہیں بلکہ سنیت اور عدم سنیت سے متعلق ہے۔ (ت)
۳یوں ہی ہمارے ائمہ سے دربارہ عقیقہ لایعق عن الغلام (لڑکے کی طرف سے عقیقہ نہ کرے۔ ت)
منقول علمائے کرام فرماتے ہیں اس کے معنی نفی وجوب واستنان ہیں اور اباحت ثابت ہے۔ فتاوی خلاصہ میں ہے :
لا یعق عن الغلام وعن الجاریۃ یرید انہ لیس بواجب ولاسنہ لکنہ مباح ۔
لڑکے اور لڑکی کی طرف سے عقیقہ نہ کرے اس سے مراد یہ ہے کہ یہ واجب وسنت نہیں۔ لیکن مباح ہے۔ (ت)
۴اسی طرح عامہ کتب میں مثلا ۱ہدایہ و۲قایہ و۳نقایہ و۴ بدائع و ۵منیہ و۶ ملتقی و ۷تنویر و۸ جوہرہ وغیرہ فاتحہ وسورت کے درمیان بسم اﷲ پڑھنے کے بارے میں امام اعظم و امام ابویوسف رحمہ ا ﷲ تعالی علیہما کا قول بلفظ لایاتی و لایسمی (تسمیہ نہ لائے۔ بسم اﷲ نہ پڑھے۔ ت) ذکر کیا۔ پھرمحققین نے تصریح فرمائی کہ اس سے مراد نفی سنیت ہے بخلاف امام محمد کہ قائل استنان ہیں رہی کراہت وممانعت وہ کسی کا مذہب نہیں کہ پڑھنا بالاجماع بہتر ہے جیسا کہ ۱ذخیرہ و۲ مجتبی و۳ بحر و ۴نہر و حاشیہ ۵درر للعلامۃ الشرنبلالی و ۶شرح علائی و ۷حواشی شامی و۸طحطاوی وغیرہا سے واضح۔ علامہ غزی تمرتاشی نے فرمایا : لابین الفاتحۃ والسورۃ (فاتحہ وسورت کے درمیان
الدرالمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٧٥
الدرالمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٧٥
ردالمحتار بحوالہ نہر الفائق باب صفۃ الصلٰوۃ ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر ١ / ٣٢٩
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکراھیۃالفصل التاسع فی المتفرقات مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ٤ / ٣٧٧
الدرالمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٧٥
الخلاف فی الاستنان اماعدم الکراہۃ فمتفق علیہ ولہذا صرح فی الذخیرۃ والمجتبی بانہ ای سمی بین الفاتحہ والسورۃ کان حسنا عند ابی حنیفۃ ۔ الخ
اختلاف مسنون ہونے میں ہے اور مکروہ نہ ہونے پر تو اتفاق ہے۔ اسی لیے ذخیرہ اور مجتبی میں تصریح ہے کہ اگر فاتحہ اور سورہ کے درمیان بسم اﷲ پڑھا تو امام ابوحنیفہ کے نزدیك اچھا ہے۔ الخ (ت)
پھرا مام صفار کا ارشاد سن چکے کہ مذہب اما م میں تلقین مناسب ہے یہ امام علام صرف دو واسطہ سے شاگرد صاحبین ہیں امام نصیر بن یحیی سے اخذ علم کیا وھو عن ابن سماعہ عن ابی یوسف ح وعن ابی سلیمان الجوز جانی عن محمد (انھوں نے ابن سماعہ سے انھوں نے امام ابویوسف سے اور امام نصیر نے ابوسلیمان جوزجانی سے اخذ کیا انھوں نے امام محمد سے۔ ت) یہ بالیقین اعرف بمذہب امام ومعنی ظاہرالروایۃ پھر اس سے ہزار درجہ زائد اس جناب کا وہ ارشاد ہے کہ تلقین مذہب اہلسنت اور اس کا معنی مشرب معتزلہ ہے۔ اور وہ واقعی مشائخ مذہب میں اس فرقہ ضالہ کا اختلاط اور نقول مذہب میں اس کے اقوال و تخاریج کا اندراج بعض جگہ سخت لغزشوں کا باعث ہوتا ہے۔ یہاں تك کہ کبھی حقیقت کا رماہروں پر ملتبس ہو جاتی ہے۔ وباﷲ العصمۃ جیسے بشر مریسی معتزلی کا قول والرحمن الاافعل کذا (رحمن کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا۔ ت)اگر سورۃ رحمن مرادلی یمین نہ ہوگی صاحب ولو الجیہ وخـلاصہ وغیرہما نے یوں نقل کردیا کہ گویا یہی مذہب ہے حالانکہ وہ اس معتزلی کا قول ہے۔ اور مذہب مہذب ائمہ کرام کے بالکل خلاف کما حققہ فی البحرالرائق (جیسا کہ البحرالرائق میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) ردالمحتار میں کہا : ھـذا التفصیل فی الرحمن قول بشر المریسی (الرحمن میں بہ تفریق بشر مریسی کا قول ہے۔ ت)ایسا
حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار باب صفۃ الصلٰوۃ دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٢١٩
البحرالرائق فصل واذا اراد الدخول ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٣١٢
ردالمحتار کتاب الایمان مصطفی البابی مصر ٣ / ٥٥
ردالمحتار کتاب الایمان مصطفی البابی مصر ٣ / ٥٥
مبناھا علی الاعتزال الصریح والعجب ان المصنف لم یتفطن لہ مع ظہورہ من القنیۃ ۔
اس کا مبنی اعتذال پر ہے اور عجب نہ ہوا کہ مصنف کوا س پر تنبیہ نہ ہوا باآنکہ صاحب قنیہ کا معتزلی ہونا کھلا ہواہے۔
بالجملہ روایت کا تویہ حال ہے۔ رہی روایت مقصد دوم میں دیکھ چکے کہ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اس حدیث میں وارد جسے امام ابن الصلاح وامام ضیا ء وامام امیرا الحاج وصاحب مجمع وغیرہم نے بوجہ شواہد وعواضدحسن وقوی کہا پھر سیدنا ابوامامہ باہلی صحابی اور راشد وضمرہ وحکیم وغیرہم تابعین کے اقوال اس میں مروی پھر اورصحابہ سے اس کا غلاف ہر گز ثابت نہیں باایں ہمہ قول صحابی قبول نہ کرنا اصول حنفیہ پر کیونکر مستقیم ہوا تقلید عــــہ صحابی ہمارے امام کا مذہب معلوم ہے۔
میزان الشیریعۃ الکبری میں امام ابو مطیع بلخی سے منقول :
قلت للامام ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ارأیت لو رأیت رأیاو رأی ابوبکر رأیا اکنت تدع رأیك لرأیہ فقال نعم فقلت لہ ارأیت لو رأیت رأیا و رأی عمر رأیا اکنت تدع رأیك لرأیہ فقال نعم وکذلك کنت ادع رائی لرأی عثمان و
میں نے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کی : بھلا ارشاد فرمائے اگر آپ کی ایك رائے ہو اور صدیق اکبر کی رائے اس کے خلاف ہو کیا آپ اپنی رائے ان کی رائے کے آگے چھوڑدیں گے فرمایا : ہاں میں نے عمر فاروق کی نسبت پوچھا فرمایا : ہاں اور یونہی میں اپنی رائے عثمان غنی و
عــــہ : مولانا علی قاری مرقاۃ شرح مشکوۃ کتاب الصلوۃ باب الخطبہ میں فرماتے ہیں :
قول الصحابی حجۃ فیجب تقلیدعندنا اذا لم ینفہ شیئ اخر من السنۃ انتھی اقول وھذا لایختص بقول الصحابی فان کل دلیل یترك لدلیل اقوی من ۱۲ منہ (م)
صحابی کا قول حجت ہے تو اسکی تقلید ہمارے یہاں واجب ہے جبکہ کوئی حدیث اس کی نفی نہ کرتی ہو انتہی اقول یہ قول صحابی سے ہی خاص نہیں اس لیے کہ ہر دلیل اپنے سے قوی تر دلیل کے باعث متروك ہوگی ۱۲منہ (ت)
مرقاۃا لمفاتیح باب الخطبہ تحت حدیث ۴۱۱ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ٣ / ٥٠٥
علی المرتضی باقی تمام صحابہ کی رائے کے اگے ترك کردوں گا سوا ابوہریرہ و انس بن مالك و سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہم کے اھ ۔
بلکہ علامہ ابن امیر الحاج تو حلیہ میں فرماتے ہیں : جب کسی مسئلہ میں ایك صحابی کا قول مروی ہو اور دیگر صحابہ سے اس کا خلاف نہ آئے وہ مسئلہ اجماعی ٹھہرئے گا۔
حیث قال الصحیح قولنا لما روی عن علی رضی اﷲ تعالی عنہ انہ قال فی مسافر جنب یتأخر الی اخرالوقت ولم یر و عن غیرہ من الصحابۃ خلافہ فیکون اجماعا ۔
ان کی عبارت یہ ہے : صحیح ہمارا قول ہے اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے جنابت والے مسافر کے بارے میں مروی ہے کہ وہ اخر وقت تك پانی کا اتنظار کرے اس کے خلاف کسی اور صحابی سے مروی نہیں تو یہ ان کا اجماع مسئلہ قرار پائےگا (ت)
بہر حال انکار اگر عدم ثبوت پر مبنی تو ثبوت حاضر اور نفی نفع پر مبنی تو نفع ظاہر ہاں یہ رہ گیا کہ فہم و سماع موتی کا انکار کیجئے یہ بیشك اصول معتزلہ ہی پر درست ہوگا ولہذا بحرالعلوم نے فرمایا اس بنا پر کہ مردہ نہیں سنتا تلقین نہ ماننا مذہب باطل ہے کما سیأتی نقلہ ان شاء اﷲ تعالی (آگے ان کی عبارت ان شاء اﷲ تعالی نقل ہوگی۔ ت) لاجرم عمائد حنفیہ سے یہ علمائے دین وائمہ ناقدین جن میں امام صفار وحاکم شہید وشمس الائمہ وظہیر کبیر و فقیہ النفس وغیرہم ائمہ مجتہدین ہیں رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہم اجمعین جواز واستحباب تلقین کے قائل ہوئے اور بالیقین وہ ہم سے زیادہ روایات ودرایات مذہب پر آگاہ تھے اور قطعا اس کے خلاف پر اصلا کوئی دلیل نہیں اور بیشك اس میں احیاء و اموات مسلمین کا نفع ہے۔ ذکر خدا ہے رغم اعدا ہے۔ پھر وجہ انکار کیا ہے۔ تنزلی درجہ اتنا سہی کہ لایؤمربہ و لاینھی عنہ ( جائز ومباح ہو نہ حکم ہو نہ ممانعت۔ ت) باقی عدم جواز یا ممانعت حاش اﷲ محض بے حجت
ومن ادعی فعلیہ البیان ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی واﷲ تعالی اعلم و جو اس کا مدعی ہو بیان اس کا ذمہ۔ یہ وہ ہے جو میرے علم میں ہے اورحق کا علم میرے رب کے
حلیۃ المحلی شرح منیہ المصلی
یہاں ہے۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم زیادہ کامل ومحکم ہے۔ اسد کا مجد جلیل ہے۔ (ت)
فصل چہاردہم : اصل مسئلہ مسئولہ سائل میں یعنی ارواح کرام کو ندا اور ان سے توسل وطلب دعا۔ یہ فصل بھی فصل دوازدہم کا ایك حصہ ہے کہ یہاں بھی کلام سلام کے سوا ہے مگر مثل فصل تلقین بوجہ مہتم بالشان ہونے کے فصل جدا گانہ قرار پائی واﷲ التوفیق ۔
قول (تا ۱۵۹) : سیدی خواجہ حافظی فصل الخطاب پھر۱۵۸ شیخ محقق جذ ب القلوب میں ناقل :
قیل لموسی الرضا (۱۵۹) رضی اﷲ تعالی عنہ علمنی کلاما اذا زرت واحدا منکم فقال ادن من القبر وکبراﷲ اربعین مرۃ ثم قل السلام علیکم یا اھل بیت الرسالۃ انی مستشفع بکم ومقدمکم امام طلبی وارادتی ومسأتی وحاجتی واشہد اﷲ انی مومن بسرکم وعلانیتکم وانی ابرأ الی اﷲ من عدم محمد وال محمد من الجن ولانس (ملخصا)
یعنی امام ابن الامام الی ستۃ آباء کرام علی موسی رضا رضی اللہ تعالی عنہ وعنہم جمیعا سے عرض کی گئی مجھے ایك کلام تعلیم فرمائے کہ اہل بیت کرام کی زیارت میں عرض کروں فرمایا : قبر سے نزدیك ہو کر چالیس بارتکبیر کہہ پھر عرض کر سلام آپ پر اے اہلبیت رسالت! میں آپ سے شفاعت چاہتاہوں اور آپ کو اپنی طلب وخواہش وسوال وحاجت کے آگے کرتا ہوں خدا گواہ ہے مجھے آپ کے باطن کریم و ظاہر طاہر پر سچے دل سے اعتقاد ہے اور میں اﷲ کی طرف بری ہوتا ہوں ان سب جن وانس سے جو محمد وآل محمد کے دشمن ہوں صلی اﷲ تعالی علی محمد وآل محمد وبارك وسلم آمین !
قول (تا ) : سیدی جمال مکی قدس سرہ کے فتاوی میں ہے :
سئلت عمن یقول فی حال الشدائد یارسول اﷲ اویا علی اویاشیخ عبدالقادر مثلا ھل ھو جائز شرعا ام لا فاجیت نعم الاستغاثۃ بالاولیاء ونداؤھم والتوسل بھم امرمشروع ومرغوب لاینکرہ الامکابر
مجھ سے سوال ہو ا اس شخص کے بارے میں جو سختیوں کے وقت کہتا ہے یا رسول اﷲ یا علی یا شیخ عبدالقادر مثلا آیا یہ شرعا جائز ہے یا نہیں میں پکارنا اور ان کے ساتھ توسل کرنا امر مشروع وشئے
مرغوب ہے جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم دشمن انصاف ا وربیشك وہ برکت اولیائے کرام سے محروم ہے۔ شیخ الاسلام شہاب رملی انصاری شافعی سے استفتاء ہو اکہ عام لوگ جو سختیوں کے وقت مثلا یا شیخ فلاں کہہ کر پکارتے ہیں اور انبیاء واولیاء سے فریاد کرتے ہیں اس کاشرح میں کیا حکم ہے امام ممدوح نے فتوی دیا کہ انبیاء ومرسلین واولیاء علماء صالحین سے ان کے وصال شریف کے بعد بھی استعانت واستمداد جائز ہے۔
قول () : علامہ خیرالدین رملی حنفی استاذ صاحب درمختار رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہما فتاوی خیریہ میں فرماتے ہیں :
قولھم یا شیخ عبدالقادر نداء فی الموجب لحرمتہ اھ ملخصا۔
لوگوں کا کہنا یا شیخ عبدالقادر یہ ایك نداء ہے پھر اس کی حرمت کا سبب کیا ہے۔
قول () : سید احمد زروق رضی اللہ تعالی عنہ کہ اکابر علماء و اولیائے دیار مغرب سے ہیں اپنے قصیدہ میں ارشاد فرماتے ہیں :
انا لمریدی جامع لشتاتہ
اذا ماسطا جورالزمان بنکبتہ
وان کنت فی ضیق وکرب و وحشۃ
فناد بیازروق ات بسرعتہ ۔
میں اپنے مرید کی پریشانیوں میں جمیعت بخشنے والاہوں جب ستم زمانہ اپنی نحوست سے اس پر تعدی کرے اور اگر تو تنگی وتکلیف ووحشت میں ہو تو یوں نداء کر : یازروق میں فورا آموجود ہوں گا۔
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی صاحب اس شیر الہی کا حال اپنی کتاب بستان المحدثین میں یوں لکھتے ہیں :
شیخ اوسیدی زیتون رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ درحق او
ان کے شیخ سیدی زیتون رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ان کے
فتاوٰی خیریۃ کتاب الکراھیۃ والاستحسان دارالمعرفۃ بیروت ٢ / ١٨٢
بستان المحدثین بحوالہ زروق حاشیہ بخاری زروق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٣٢٢
حق میں بشارت دی کہ وہ ساتوں ابدال میں سے ایك ہیں علم باطن میں بلند رتبہ کے ساتھ ظاہری علوم میں بھی ان کی کثیر تصانیف موجود ہیں جو نافع ومفید ہیں۔ (ت)
پھر شمار تصانیف کے بعد لکھا :
بالجملہ مردے جلیل القدر یست کہ مرتبہ کمال اوفوق الذکر است واواز آخر محققان صوفیہ است کہ بین الحقیقۃ والشریعت جامع بودہ اند وبشاگردی اواجلہ علماء مفتخر ومباہی بودہ اند مثل شہاب الدین قسطلانی کہ سابق حال او مذکور شدہ وشمس الدین لقانی الخ۔
مختصر یہ کہ وہ ایك جلیل القدر شخصیت ہیں جن کا رتبہ کمال بیان سے بالاتر ہے وہ ان آخر صوفیہ محققین سے ہیں جو حقیقت وشریعت کے جامع ہوئے ان کی شاگردی پر اجلہ علماء فخر ومباہات کرتے ہیں جیسے علامہ شہاب الدین قسطلانی جن کا حال پہلے ذکر ہوا اور شمس الدین لقانی الخ۔ (ت)
پھر کہا :
واو را قصیدہ ایست برطور قصیدہ جیلانیہ کہ بعضے ابیات او این ست
قصیدہ غوثیہ کے طرز پر ان کا ایك قصیدہ بھی ہے جس کے بعض اشعار یہ ہیں۔ (ت)
اور وہی دو بیت مذکور نقل کیے ۔
قول ( تا ) : امام ابن الحاج امام ابن النعمان کی سفینۃ النجاء سے ناقل :
الدعاء عند القبور الصالحین والتشفع بھم معمول بہ عند علمائنا المحققین من ائمۃ الدین ۔
قبور صالحین کے پاس دعا اور ان سے شفاعت چاہنا ہمارے علمائے محققین ائمہ دین کا معمول ہے۔
قول ( تا ) : لباب۱۶۶ و شرح لباب۱۶۷ و اختیار۱۶۸ و فتاوی ہندیہ۱۶۹ میں ہے : واللفظ للاولین فانہ اتم (الفاظ پہلی دونوں کتابوں کے ہیں کیونکہ وہ زیادہ کامل ہیں۔ ت) بعد زیارت فاروقی بقدر ایك بالشت کے
بستان المحدثین مع اردو ترجمہ حاشیہ بخاری سید زروق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٣٢١
بستان المحدثین مع اردو ترجمہ حاشیہ بخاری سید زروق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۱
المدخل فصل فی زیارۃ القبور دارالکتاب العربی بیروت ١ / ٢٤٩
جزا کم اﷲ عن ذلك مرافقتہ فی جنتہ وایانا معکما برحمۃ انہ ارحم الراحمین وجزا کم اﷲ عن الاسلام واھلہ خیر الجزاء جئنا یا صاحبی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم زائرین لنبینا وصدیقنا وفاروقنا ونحن نتوسل بکما الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لیشفع لنا الی ربنا ۔
اﷲ تعالی آپ دونوں صاحبوں کو ان خوبیوں کے عوض اپنی جنت میں اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رفاقت عطا فرمائے اور اپ کے ساتھ ہمیں بھی بیشك وہ ہر مہر والے سے زیادہ مہر والا ہے۔ اﷲ آپ دونوں کو اسلام واہل اسلام کی طرف سے بہتر بدلہ کرامت فرمائے اے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دونوں یارو! ہم اپنے نبی اور اپنے صدیق اور اپنے فاروق کی زیارت کو حاضر ہوئے اور ہم نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف آپ دونوں سے توسل کرتے ہیں تاکہ حضور ہمارے رب کے پاس ہماری شفاعت فرمائیں۔
اسی طرح مدخل میں ہے :
یتو سل بھما الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویقد مھما بین یدیہ شفیعین فی حوائجہ ۔
یعنی حضرات شیخین رضی اللہ تعالی عنہما سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف توسل کرے اور انھیں اپنی حاجتوں میں شفیع بناکر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے آگے کرے ۔
قول () : اشعۃ اللمعات میں فرمایا :
لیت شعری چہ می خواہند ایشاں باستمداد وامداد کہ این فرقہ منکر ند آں را آنچہ مامی فہمیم ازاں این ست کہ داعی دعاکنند خدا وتوسل کند بروحانیت این بندہ مقرب را کہ اے بندہ خدا و ولی وے شفاعت کن مراد بخواہ از خدا کہ بدہد مسئول ومطلوب مرا
نہ معلوم وہ استمداد وامداد سے کیاچاہتے ہیں کہ یہ فرقہ اس کامنکر ہے۔ ہم جہاں تك سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ دعا کرنے والا خدا سے دعا کرتا ہے او ر اس بندہ مقرب کی روحانیت کو وسیلہ بناتا ہے یا اس بندہ مقرب سے عرض کرتا ہے کہ اے خدا کے بندے اور
المدخل فصل فی احکام علٰی زیارت سید الاولین الخ دارالکتاب العربی بیروت ١ / ٢٥٨
اس کے دوست ! میری شفاعت کیجئے اور خدا سے دعا کیجئے کہ میرا مطلوب مجھے عطا فرمادے ____ اگر یہ معنی شرك کا باعث ہو جیسا کہ منکرکا خیال باطل ہے تو چاہئے کہ اولیاء اﷲ کو ا ن کی حیات دنیا میں بھی وسیلہ بنانا اور ان سے دعا کر انا ممنوع ہو حالانکہ یہ بالاتفاق مستحب ومستحسن اور دین معروف ومشہور ہے۔ ارواح کاملین سے استمداد اور استغفار کے بارے میں مشائخ اہل کشف سے جو روایات و واقعات وارد ہیں وہ حصر و شمار سے باہر ہیں اور ان حضرات کے رسائل وکتب میں مذکور اور ان کے درمیان مشہور ہیں ہمیں ان کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں اور شائد ہٹ دھرم منکر کے لیے ان کے کلمات سود مند بھی نہ ہو ____ خدا ہمیں عافیت میں رکھے ___ اس مقام میں کلام طویل ہوا اور منکرین کی تردید وتذلیل کے پیش نظر جو ایك فرقہ کے روپ میں آج کل نکل آئے ہیں اور اولیاء اﷲ سے استمداد واستعانت کا انکار کرتے ہیں اور ان حضرات کی بارگاہ میں توجہ کرنے والوں کو مشرك و بت پرست سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں جو کہتے ہیں اھ (ت)
اور شرح عربی میں اس مضمون اخیر کو یوں ادا فرمایا :
انما اطلنا الکلام فی ھذا المقام رغما الانف لمنکرین فانہ قد حدث فی زماننا شرذمۃ ینکرون الاستمداد من الاولیاء ویقولون مایقولون ومالھم علی ذلك من علم ان ھم الایخرصون ۔
ہم نے اسد مقام میں کلام طویل کیا منکروں کی ناك خاك پر رگڑنے کو کہ ہمارے زمانے میں معدودے چند ایسے پیدا ہوئے ہیں کہ حضرات اولیاء سے مدد مانگنے کے منکر ہیں اور کہتے ہیں جو کہتے ہیں اور انھیں اس پر کچھ علم نہیں یونہی اپنے سے اٹکلیں لڑاتے ہیں۔
لمعات التنقیح باب حکم الاسراء فصل ١ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۴۰۱
و ورود نص قطعی دروے حاجت نیست بلکہ عدم نص برمنع آں کافی ست ۔
اس بارے میں نص قطعی کی ضرورت نہیں بلکہ اس کی ممانت پر نص نہ ہونا ہی کافی ہے۔ (ت)
قول () : شیخ الاسلام جنھیں مائتہ مسائل میں علمائے محدیثین سے شمار کیا اورا ن کی کتاب کشف الغطاء پر جابجا اعتماد واعتبار کیا اسی کشف الغطاء میں فرماتے ہیں :
انکار استمداد درا وجہے صحیح نمی نماید مگر انکہ از اول امر منکر شوند تعلق روح وبدن را بالکلیہ وآں خلاف منصوص است وبرین تقدیر زیارت درفتن بقبور ہمہ لغو وبے معنی گردد و ایں امرے دیگر است کہ تمام اخبار وآثار دال برخلاف آنست ونیست صورت استمداد مگر ہمیں کہ محتاج طلب کند حاجت خود را از جناب عزت الہی بتوسل روحانیت بندہ مقرب یا ندا کند آں بندہ راکہ اے بندہ خدا و ولی وے شفاعت کن مراد بخواہ از خدائے تعالی مطلوب مرا و دروے ہیچ شائبہ شرك نیست چنانچہ منکر وہم کردہ اھ بالالتقاط۔
استمداد سے انکار کی کوئی صحیح وجہ نظر نہیں آتی مگریہ کہ سرے سے روح وبدن کے تعلق کاہی بالکل انکار کردیں اور ___ یہ نص کے خلاف ہے___ اس تقدیر پر تو قبروں کے پاس جانا اور زیارت کرنا سب لغو اور بے معنی ہواجاتا ہے اور یہ ایك دوسری بات ہے جس کے خلاف تمام آثار واحادیث دلیل ہیں اور استمداد کی صورت کیا ہے یہی کہ حاجت مند اپنی حاجت خدائے عزوجل سے بندہ مقرب کی روحانیت کو وسیلہ کرکے طلب کرتا ہے۔ یا ا س بندے کو ندا کرتا ہے اور عرض کرتا ہے کہ اے خدا کے بندے اور اس کے دوست! میری شفاعت کیجئے اور میرے مطلوب کے لیے خدا سے دعا کیجئے اس میں تو شرك کاکوئی شائبہ بھی نہیں جیسا کہ منکر کا وہم وخیال ہے اھ ملتقطا (ت)
قول (۱۷۳) : سیدی محمد عبدری مدخل میں دربارہ زیارت قبور انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم فرماتے ہیں :
یاتی الیھم الزوائر ویتعین علیہ قصد ھم من الاماکن البعیدۃ فاذا جاء الیھم
زائر ان کے آگے حاضر ہو اور اس پر متعین ہے کہ دور دراز مقاموں سے ان کی زیارت کا قصد کرے
کشف الغطاء فصل دہم زیارت قبور مکتبۃ احمد دہلی ص ۸۱ ۔ ۸۰
پھر جب حاضری سے مشرف یاب ہو تو لازم ہے کہ ذلت و انکسار ومحتاجی وفقر وفاقہ وحاجت وبے چارگی و فروتنی کو شعار بنائے اور ان کی سرکار میں فریاد کرے اور ان سے اپنی حاجتیں مانگے اور یقین کرے کہ ان کی برکت سے اجابت ہوگی کہ وہ اﷲ تعالی کے درکشادہ ہیں اور سنت الہی جاری ہے کہ ان کے ہاتھ پر ان کے سبب سے حاجت روائی ہوتی ہے۔ والحمد ﷲ رب العلمین۔
فصل پانزدہم : بقیہ تصریحات سماع اموات میں ۔
قول ( تا ) : امام خاتمۃ المجتہدین تقی الملۃ والدین سبکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے شفاء السقام کے باب تاسع فی حیاۃ الابنیاء میں ایك فصل “ ماور فی حیاۃ الانبیاء “ دوسری فصل حیات شہداء میں وضع کرکے فصل ثالث تمام اموات کے سماع وکلام وادراك وحیات میں وضع کی اور اس میں احادیث صحیحہ بخاری و مسلم وغیرہما سے علم وسماع موتی ثابت کرکے فرمایا :
وعلی الجملۃ ھذہ الامور ممکنۃ فی قدرۃ اﷲ تعالی وقد وردت بھا الاخبار والصحیحۃ فیجیب التصدیق بھا ۔
بالجملہ یہ سب امور قدرت الہی میں ممکن ہیں اور بے شك ان کے ثبوت میں یہ حدیثیں وارد ہوئیں تو ان کی تصدیق واجب ہے۔
فصل اول میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی حیات تحقیق کرکے آخر میں فرمایا :
اما الادراکات کالعلم والسماع فلا شك ان ذلك ثابت لسائر الموتی فکیف بالانبیاء ۔
رہے اور اکات جیسے علم وسماع یہ تو یقینا تمام اموات کے لیے ثابت ہیں پھر انبیاء تو انبیاء ہیں علیہم الصلوۃ والسلام۔
امام جلال الدین سیوطی نے شرح الصدور میں اس جناب کا یہ قول نقل کرکے تقیر فرمائی امام زین الدین مراغی جنھیں شرح مواہب میں المحدث العالم النحریر کہا ا جناب کی یہ تحقیق انیق نقل
شفاء السقام الفصل الثالث فی سائر الموتٰی نوریہ رضویہ فیصل آباد ص٢٠٣
شفاء السقام الفصل الاول نوریہ رضویہ فیصل آباد الباب التاسع ص۱۹۲۔ ۱۹۱
انہ مما یعز وجودہ فی مثلہ فلینا فس المتنا فسون ۔
یہ نایاب تحقیق ہے اور چاہئے کہ ایسی ہی چیزیں نہایت رغبت کریں رغبت کرنے والے۔
امام احمد قسطلانی نے مواہب شریف میں امام سبکی کا وہ ارشاد مبین اورا مام زین الدین کی جلیل تحسین استنادا نقل کی پھر علامہ عبدالباقی زرقانی نے شرح مواہب میں اس کی تقریر وتائید میں حدیثیں نقل کیں عــــہ ۔
قول () : امام ممدوح نے باب مذکور کی فصل خامس میں فرمایا :
کان المقصود بھذا کلہ تحقیق السماع و نحوہ من الاعراض بعد الموت فانہ قد یقال ان ھذہ الاعراض مشروطۃ بالحیاۃ فکیف تحصل بعد الموت وھذا خیال ضعیف لان لا ندعی ان الموصوف بالموت موصوف بالسماع وانما ندعی ان السماع بعد الموت حاصل لحی وھو اما الروح وحدھا حالۃ کون الجسد میتا او متصلۃ بالبدن حالۃ عود الحیاۃ الیہ ۔
اس سبب سے مقصود موت کے بعد سماع وغیرہ صفات کی تحقیق تھی کہ بعض لو گ کہنے لگتے ہیں ان اوصاف کے لیے زندگی شرط ہے تو بعد موت کیونکر حاصل ہوں گے حالانکہ یہ پوچ خیال ہے ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ جو چیز مردہ ہے وہ سنتی ہے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ بعد مرگ سماع اس کے لیے ثابت ہے جو زندہ ہے یعنی روح یا تو تنہا وہی جب بدن مردہ ہو یا جسم سے متصل ہوکرجب حیات بدن کی طرف عود کرے۔
قول () : علامہ قونوی سے جذب القلوب میں ہے کہ انھوں نے بہت احادیث ذکر کرکے فرمایا :
جمیع ایں احادیث دلالت دارد برآنکہ اموات را ادراك وسماع حاصل ست وشك نیست کہ سمع از اعراضی است کہ مشروط است بحیات پس ہمہ حی اند ولیکن حیات ایشاں در مرتبہ کمتر از حیات
ان تمام احادیث میں اس بات پر دلیل موجود ہیں کہ مردوں کو ادراك وسماع حاصل ہے اور بلاشبہ سماعت ایسا وصف ہے جس کے لیے زندگی شرط ہے تو سب زندہ ہیں لیکن ان کی زندگی حیات
عــــہ : یونہی شیخ محقق نے مدارج میںیہ قول علماء سے نقل فرمایا ۱۲منہ (م)
شفاء السقام الباب التاسع الفصل الخامس مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص ٢٠٩
شہداء سے کم درجہ کی ہے اور حیات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام حیات شھداء سے زیادہ کامل ہے۔ (ت)
قول ( و ) : امام قرطبی پھر امام سیوطی قبر کے پاس قرآن مجید پڑھنے کے مسئلہ میں فرماتے ہیں :
وقد قیل ان ثواب القرائۃ للقاری وللمیت ثواب الاستماع ولذلك تلحقہ الرحمۃ قال اﷲ تعالی واذاقرئ القران فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون ولایبعد من کرم اﷲ تعالی ان یلحقہ ثواب القرأۃ والاستماع معا۔
بہ تحقیق کہا گیا کہ پڑھنے کا ثواب قاری کو ہے او رمیت کے لیے اس کا اجر ہے کہ اس نے کان لگا کر قرآن سنا اور اس لیے ا س پر رحمت ہوتی ہے کہ اﷲ تعالی فرماتا ہے جب قرآن پڑھاجائے تو کان لگا کر سنو اور چپ رہو شاید تم پر مہر ہو اور کچھ یہ بھی خدا کے کرم سے دور نہیں کہ مردے کو قرآن و استماع دونوں کا ثواب پہنچائے۔
اقول : ثواب قرأت پہنچنے پر جزم نہ کرنے کا باعث یہ کہ وہ شافعی المذہب ہیں اور سید نا امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك عبادات بدنیہ کا ثواب نہیں پہنچتا مگر جمہور اہلسنت قائل اطلاق و عموم ہیں اور یہی مذہب ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے یہاں تك کہ خود محققین شافعیہ نے اس کی ترجیح وتصحیح کی منھم السیوطی فی انیس الغریب (ان میں سے ایك امام سیوطی نے انیس الغریب میں اسکی وضاحت کی ہے) تو ہمارے نزدیك شك نہیں کہ میت کو تلاوت کابھی ثواب پہنچتا ہے۔
قول () : مرقاۃ میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے علم وسماع کا ذکر کرکے فرماتے ہیں :
سائر الاموات ایضا یسمعون السلام والکلام
سب مردے سلام وکلام ستنے ہیں پھر فرمایا : یہ سب مسائل احادیث صحیحہ و آثار صریحہ سے ثابت ہیں۔
قول () : علامہ حلبی سیرۃ انسان العیون میں امام ابوالفضل خاتم الحقائق سے ناقل :
سماع موتی کلام الخلق حق قد جائت بہ عند نا الاثار فی الکتب ۔
اموات کا کلام مخلوق کو سننا حق ہے بیشك اس باب میں ہمارے پا س کتابوں میں حدیثیں آئیں۔
قول () : ملك العلماء بحرالعلوم مولنا عبدالعلی لکھنوی مرحوم ارکان اربعہ میں فرماتے ہیں :
شرح الصدور باب فی قرأۃ القرآن للمیّت الخ خلافت اکیڈمی سوات ص١٣٠
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب الجمعہ فصل ٢ مکتبہ امدادیہ ملتان ٣ / ٢٣٨
انسان العیون باب بدءِ الاذان مصطفی البابی مصر ٢ / ٤٣٥
اس بناء پر کہ بعض نے کہا مردہ نہیں سنتا تلقین سے انکار مذہب باطل ہے۔
قول () : زہرالربی شرح سنن نسائی میں بعد تحقیق وتفصیل نقل فرمایا :
فثبت بھذا انہ لامنا فات بین کون الروح فی علیین او الجنۃ اوالسماء وان لھا بالبدن اتصالا بحیث تدرك وتسمع وتصلی وتقرء وانما یستغرب ھذا لکون الشاھد الدینوی لیس فیہ مایشاھد بہ ھذا و امور البرزخ والاخرۃ علی نمط غیرالمالوف فی الدنیا ۔
تو ثابت ہو ا کہ کچھ منافات نہیں اس میں کہ روح علیین یا جنت یا آسمانوں میں ہوتی ہو ا ور اس کے ساتھ بدن سے ایسا اتصال رکھے کہ سمجھے سنے نماز پڑھے قرآن مجید کی تلاوت کرے اس سے تعجب یو ں ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی بات اس کے مشابہ نہیں پاتے حالانکہ برزخ و آخرت کے کام اس روش پر نہیں جو دنیا میں دیکھی بھالی ہے۔
قول (۱۸۷تا۱۸۹) : علامہ عبدالروف تیسیر میں قائل اور مولانہ علی قاری مرقاۃ میں قاضی سے ناقل :
واللفظ للمناوی النفوس القدسیۃ اذا تجردت عن العلائق البدنیۃ اتصلت بالملاء الاعلی ولم یبق لہا حجاب فتری وتسمع الکل کالمشاھد ۔
(اور الفاظ مناوی کے ہیں۔ ت) پاك جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا ہوتی ہیں ملاء اعلی سے مل جاتی ہیں اور ا ن کے لیے کوئی پر دہ نہیں رہتا سب کچھ ایسا دیکھتی سنتی ہیں جیسے سامنے حاضر ہے۔
قول () : مرقاۃ شرح مشکوۃ میں زیر حدیث : لایسمع مدی صوت المؤذن جن ولاانس ولاشی الاشہدا لہ یوم القیمۃ محدث علامہ ابن ملك سے منقول تنکیر ھما فی سیاق النفی لتعمیم الاحیاء والاموات یعنی حدیث شریف کا یہ مطلب ہے کہ زندہ جن اور زندہ آدمی اور مردہ جن اور مردہ آدمی جنتے لوگوں کو مؤذن کی آواز پہنچتی ہے اور وہ اس کی اذان ستنتے ہیں سب روز قیامت اس کے لیے گواہی دیں گے۔ یہاں تصریح ہوئی کہ بعد موت علم وسماع کا باقی رہنا کچھ بنی آدم سے خاص نہیں جن کے لیے بھی حاصل ہے
زہرالربٰی حاشیہ علی سنن النسائی کتاب الجنائز نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ١ / ٢٩٣
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث حیث ما کنتم فصلوا علی مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ١ / ٥٠٢
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب فصل الاذان فصل ١ مکتبہ امدادیہ ملتان ٢ / ١٦٠
قول (تا ) : امام اسمعیل پھر امام بیہقی پھرا مام سہیلی پھرامام قسطلانی پھر امام علامہ شامی پھر علامہ زرقانی نے سماع موتی کا اثبات کیا اور دلیل انکار سے جواب دئے کما یظھر بالمراجعۃ الی الارشاد والمواھب وشرحہا وغیر ذلك من اسفار لعلماء (جیسا کہ ارشاد الساری شرح بخاری و مواہب لدینہ شرح مواہب لدینہ اور ان کے علاوہ کتب علماء کے مطالعہ سے معلوم ہوگا۔ ت) مواہب میں امام ابن جابر سے بھی اثبات سماع نقل کیا امام کرمانی امام عسقلانی امام عینی امام قسطلانی نے شروح صحیح بخاری اور امام سخاوی امام سیوطی علامہ حلبی علی قاری شیخ محقق وغیرہم نے اس کی تخصیص فرمائی از انجا کہ یہ اقوال ان مباحث سے متعلق جنھیں اس رسالہ میں دور آئندہ پر محمول رکھا ہے لہذا ان کی نقل عبارات ملتوی رہی وﷲ الموفق۔ قول () : جذب القلوب شریف میں ہے :
تمام اہل سنت وجماعت اعتقاد دارند بہ ثبوت ادراکات مثل علم وسماع مرسائر اموات را۔
تمام اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ علم اور سماعت جیسے ادراکات تمام مردوں کے لے ثابت ہیں (ت)
قول () : جامع البرکات میں ہے :
سمہودی می گوید کہ تمام اہل سنت وجماعت اعتقاد دارند بہ ثبوت ادراك مثل علم وسمع وبصر مرسائر اموات راز آحاد بشر انتہی ۔ والحمد اﷲ رب العلمین۔
امام سمہودی فرماتے ہیں کہ تمام اہل سنت وجماعت کاعقیدہ ہے کہ عام افراد بشر میں سے تمام مردوں کے لیے ادراك جیسے علم اور سننا دیکھنا ثابت ہے۔ انتہی۔ والحمد ﷲ رب العالمین (ت)
فقیر غفراﷲ تعالی نے جن سو ائمہ وعلماء کے اسماء طیبہ گنائے تھے بحمداﷲ ان کے اور ان کے علاوہ اوروں کے بھی اقوال عالیہ دو سو شمار کردئے اور ایفائے وعدہ سے سبك دوش ہوا۔
تنبیہ : ناظرین گمان نہ کرے کہ ہمارے تمام دلائل بس اسی قدر بلکہ جو نقل نہ کیا وہ بیشتر واکثر پھر فقیر غفراﷲ المولے القدیر نے اس رسالہ میں یہ التزام بھی رکھا کہ جو آثار واحادیث اقوال علمائے قدیم وحدیث خاص حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حی باقی روح مجسم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حیات عالی و علم عظیم وسمع جلیل وبصر کریم میں وارد انھیں ذکر نہ کرے تین وجہ سے :
جامع البرکات
ثانیا واﷲ فقیر کو حیا آتی ہے کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا نام پاك ایسی بحث “ لا “ “ ونعم “ میں بطور خود شامل کرے ہاں دوسرے کی طرف سے ا بتداء ہو تواظہار حق میں مجبوری ہے۔
ثالثا وہاں دلائل کی وہ کثرت کہ نطاق نطق بیان سے عاجز پھر انھیں اقوال پرقناعت بس کہ جس سرکار کے غلام ایسے “ العظمۃللہ “ اس کا پوچھنا ہی کیا آخر انھیں یہ مدارج ومعارج کس نے عطا کئے اسی سرکار ابد قرار نے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ وابنہ الاکرم سیدی ومولائی الغوث العظم والحمد ﷲ رب العلمین ۔
نوع دوم : اقوال اکبر وعمائد خاندان عزیزی میں یہاں اقوال مختلط مذکور ہوں گے ناظر ان کے مطالب کو فصول نوع اول پر تقسیم کرلے سردست سو() مقال ان کے بھی حاضر کرتا ہوں وباﷲ التوفیق۔
وصل اول ____ مقال () : شاہ ولی اﷲ فیوض الحرمین میں لکھتے ہیں :
اذا انتقلوا الی البرزخ کانت تلك الاوضاع والعادات والعلوم معھم لاتفارقھم ۔
جب برزخ کی طرف انقال کرتے ہیں یہ وضعیں اور عادتیں اور علم سب ان کے ساتھ ہوتے ہیں جدا نہیں ہوتے۔
مقال () : اسی میں ہے :
اذا مات ھذا البارع لایفقد ھوولا براعتہ بل کل ذلك بحالہ ۔
جب یہ بندہ کامل اتنقال فرماتا ہے نہ وہ گمتا ہے نہ اس کا کمال بلکہ بدستور اسی حال پر رہتے ہیں ۔
مقال () : اسی میں ہے :
کل من مات من الکمل یخیل الی العامۃ انہ فقد من العالم ولا واﷲ مافقد بل
جس کامل کا انتقال ہوتا ہے عوام کے خیال میں گزرتا ہے کہ وہ عالم سے گم گیا حالانکہ خدا کی قسم وہ
فیوض الحرمین معہ ترجمہ اردو تحقیق شریف محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل کراچی ص١١٣
گما نہیں بلکہ اور جوہر دار قوی ہوگیا۔
مقال () : شاہ عبدالعیزیز صاحب تفسیر عزیز ی میں فرماتے ہیں :
چوں آدمی میرد روح راصلا تغیر نمی شود چنانچہ حاطل قوی بود حالا ہم ست شعور و ادراك کے کہ داشت حالاہم دارد بلکہ صاف تر و روشن تر اھ ملخصا۔
جب اسدمی مرتا ہے روح میں بالکل کوئی تغیر نہیں ہوتا جس طرح پہلے حامل قوی تھی اب بھی ہے اور جو شعور وادراك اسے پہلے تھا اب بھی ہے بلکہ اب زیادہ صاف اور روشن ہے۔ اھ ملخصا (ت)
مقال () : تحفہ اثنا عشریہ میں فرماتے ہیں :
چون روح از بدن جدا شد قوائے بناتی از وجدا می شوند نہ قوائے نفسانی وحیوانی واگر وجود قوائے نفسانی وحیوانی فیضانا یا بقا مشروط باشد بوجود قوائے نباتی ومزاج الزم آید کہ ملائکہ را شعور و ادراك وحسے وحرکتے و غضب ودفع منافر نباشد پس حال ارواح درعالم قبر مثل حال ملائکہ است کہ بتوسط شکلے وبدنے کارمی کنند و مصدر رافعال حیوانی ونفسانی می گر دند بے آنکہ نفس نباتی ہمراہ داشتہ باشند ۔
جب روح بدن سے جدا ہوتی ہے قوائے نباتی اس سے جدا ہوجاتے ہیں مگر قوائے نفسانی و حیوانی باقی رہتے ہیں اوراگر قوائے نفسانی وحیوانی کے فیضان یا بقا کے لیے قوائے نباتی اور مزاج کا وجود شرط ہو تو لازم ہے آئے گا کہ ملائکہ میں شعور وادراك حس و حرکت غضب ودفع نا موافق کچھ بھی نہ ہو تو عالم برزخ میں روحوں کاحال یسا ہی ہے جیسے ملائکہ کا حال ہے کہ کسی شکل اور بدن کی وساطت سے کام کرتے ہیں اور شکل اور نفس نباتی کے بغیر ان سے حیوانی ونفسانی افعال وصادر ہوتے ہیں۔ (ت)
مقال () : قاضی ثناء اﷲ پانی پتی جن سے مولوی اسحاق نے مائتہ مسائل واربعین میں استناد کیا اور جناب مرزا صاحب ان کے پیر و مرشد وممدوح عظیم شاہ ولی اﷲ صاحب نے مکتوب میں انھیں فضیلت ولایت مآب مروج شریف ومنور طریقت و نور مجسم وعزیز ترین ومجودات ومصدر انوار فیوض وبرکات لکھا اور منقول کہ شاہ عبدالعزیز صاحب انھیں بہیقی وقت کہتے رسالۃ تذکیرۃ الموتی میں لکھتے ہیں :
اولیاء گفتہ اند ار واحنا اجساد نا یعنی ارواح ایشاں
اولیاء فرماتے ہیں ہماری روح ہمارا جسم ہے۔
تفسیر عزیزی آیت ولاتقولو المن یقتل الخ اخفانی دارالکتب لال کنواں دہلی ١ / ٥٥٩
تحفہ اثناعشریہ باب ہشتم درمعاد الخ سہیل اکیڈمی لاہور ص٤٠۔ ٣٣٩
یعنی ان کی روحیں جسموں کا کام کرتی ہیں اور کبھی اجسام انتہائی لطافت کی وجہ سے روحوں کے رنگ میں جلوہ نما ہوتے ہیں___ اولیاء بتاتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا سایہ نہ تھا___ ان کی روحیں زمین آسمان اور جنت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں____ اور اسی وجہ سے قبر میں ان کے جسم کو مٹی نہیں کھاتی بلکہ کفن بھی سلامت رہتا ہے ابن ابی الدنیا امام مالك سے راوی ہے کہ “ مومنوں کی روحیں جہاں چاہتی ہے سیر کرتی ہیں۔ “ مومنین سے مراد کاملین ہیں حق تعالی انکے اجسام کو روحوں کی قوت عطا فرماتا ہے وہ قبر وں میں نماز ادا کرتے ہیں ذکر کرتے ہیں قرآن پڑھتے ہیں۔ (ختم بتلخیص)۔ (ت)
مقال () : تفسیر عزیزی میں ارواح انبیاء واولیاء عام وصلحا علی سید ہم وعلیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کرکے کہ بعض علیین اور بعض آسمان اور بعض درمیان آسمان و زمین اور بعض چاہ زمزم میں لکھتے ہیں :
تعلقے بقبر نیز ایں ارواح رامے باشد کہ بحضور زیارت کنند گان واقارب ودیگر دوستاں بر قبر مطلع ومستانس مے گردند وزیراں کہ روح راقرب و بعدمکانی مانع ایں دریافت نمی شود ومثال آں در وجود انسان روح بصری ست کہ ستارہائے ہفت آسمان رادر دن چاہ مے تواند دید۔
ان روحوں کو قبر سے بھی ایك تعلق رہتا ہے جس کے سبب زائرین اور عزیزوں دوستوں کی آمد کا انھیں علم ہوتا ہے اور ان سے انہیں انس حاصل ہو تا ہے اس لیے کہ مکان کی دوری ونزدیکی روح کے لیے اس ادراك سے مانع نہیں ہوتی انسان کے وجود میں اس کی مثال رو ح بصر ہے جو ہفت آسمان کے ستارے کنویں کے اندر سے دیکھ سکتی ہے۔ (ت)
یہ پچھلا جملہ زیادہ قابل لحاظ ہے۔
تفسیر عزیزی پارہ عم تحت ان کتاب الابرار لفی علیین مسلم بك ڈپو لال کنوان دہلی ص١٩٣
یك بار قصیدہ درمدح ایشاں گفتہ بودم عنایت بیسار بحال فقیر نمودہ ازروئے تواضع فرموند مالائق اینہمہ ستائش نیستم ۔
ایك بار ان کی مدح میں ایك قصیدہ عرض کیا تھا۔ اس فقیر کے حال پر بہت عنایت فرمائی اور تواضعا فرمایا کہ ہم اس ساری ستائش کے لائق نہیں۔ (ت)
مقال () : اسی میں حضرت مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کی نسبت کہا :
یك بار قصدہ بجناب ایشا ں عرض نمودم ا لخ۔
ایك بار ان کی بارگاہ میں ایك قصیدہ عرض کیا۔ الخ (ت)
مقال () : شاہ ولی اﷲ حجۃ اﷲ البالغہ میں لکھتے ہیں :
اذا مات الانسان کان للنسمۃ نشأۃ اخری فینشی فیض الروح الالھی فیھا قوۃ فیما بقی من الحس المشترك تکفی کفایۃ السمع والبصر والکلام ۔
جب آدمی مرتا ہے روح حیوانی کے لیے ایك اور اٹھان ہوتی ہے تو روح الہی کا فیض اس کے بقیہ حس مشترك میں ایك وقت ایجاد کرتا ہے جو سننے اور دیکھنے اور کلام کرنے کا کام دیتی ہے۔
مسائل اربعین معہ اردو ترجمہ مسئلہ ٣٩ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٩٦
ملفوظات مرزا مظہر جان جاناں از کلمات طیبات مطبع مجتبائی دہلی ص٧٨
ملفوظات مرزا مظہر جان جاناں از کلمات طیبات مطبع مجتبائی دہلی ص٧٨
حجۃاﷲ البالغہ باب حقیقۃ الروح الکمتبہ اسلفیہ لاہور ص ١٩
وصل دوم : بقائے تصرفات وکرامات اولیاء بعد الوصال میں۔ مقال () : شاہ ولی اﷲ ہمعات میں لکھتے ہیں :
در اولیائے امت واصحاب طریق اقوی کسیکہ بعدہ تمام راہ جذب باکد وجوہ باصل ایں نسبت میل کردہ ودر آنجا بوجہ اتم قدم است حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی اند ولہذا گفتہ اندکہ ایشاں درقبور خود مثل احیاء تصرف مے کند۔
اولیائے امت واصحاب طریقت میں سب سے زیادہ قوی شخصیت ___ جس کے بعد تمام راہ عشق مؤکد ترین طور پر اسی نسبت کی اصل کی طرف مائل اور کامل ترین طور پر اسی مقام پر قائم ہوچکی ہے حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی ہیں اسی لیے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ یہ اپنی قبروں میں رہ کر زندوں کی طرح تصرف کرتے ہیں۔ (ت)
مقال () : حجۃ اﷲ البالغہ میں اہل برزخ کو چار قسم کرکے لکھا :
اذا مات انقطعت العلاقات فلحق بالملئکۃ وصارمنھم والھم کالھامھم وسعی فیما یسعون فیہ و ربما اشتغل ھؤلاء باعلام کلمۃ اﷲ ونصر حزب اﷲ و ربما کان لھم لمۃ خیربابن آدم ۔ ملخصا۔
جب مرتے ہیں علائق بدنی منقطع ہو کہ ملائکہ سے ملتے اور انھیں میں سے ہوجاتے ہیں جس طرح فرشتے آدمیوں کے دل میں نیك بات کا القاء کرتے ہیں یہ بھی کرتے ہیں اور جن کاموں میں ملائکہ سعی کرتے ہیں یہ بھی کرتے ہیں اور کبھی یہ پاك روحیں خدا کا بول بالا کرنے اور اس کے لشکر کو مدد دینے یعنی جہاد وقتل کفار و امداد مسلمین میں مشغول ہوتی ہیں اور کبھی بنی آدم سے نزدیك وقریب ہوتی ہیں کہ ان پر افاضہ خیر فرمائیں۔
مقال () : تفسیر عزیزی میں ہے :
بعض خواص اولیاء راکہ جارجہ تکمیل و ارشاد بنی نوع خودگرد انند دریں حالت (یعنی بحالت عالم برزخ) بعض خواص اولیاء جنھیں اپنے دوسرے بنی نوع کی تکمیل وارشاد کا ذریعہ بنایا ہے ان کو اس حالت میں
ہمعات ہمعہ ١١ اکادیمی شاہ ولی اﷲ حیدر آباد ص٦١
حجۃ اﷲ البالغۃ باب اختلاف احوال الناس فی البرزخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص٣٥
تصرف در دنیا (یعنی عالم برزخ کی حالت میں) دنیا کے اندرتصرف بخشا ہے اور مشاہدہ الہی میں ان کا استغراق اس جانب توجہ سے مانع نہیں ہوتا اس لیے کہ ان کے مدارك بہت زیادہ وسعت رکھتے ہیں۔ (ت)
یہی وہ عبارت ہے جس کے سبب مولوی منکر صاحب نے بھی بعض اموات کے لیے زیارت وادراك گوارا کی تھی۔
مقال () : مرزا مظہر صاحب اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں :
بعض ارواح کاملاں رابعد ترك تعلق اجساد آنہا دریں نشاۃ تصرفے باقی است الخ
جسموں سے ترك تعلق کے بعد بھی بعض ارواح کاملین کا تصرف اس دنیا میں باقی ہے الخ (ت)
مقال () : میاں اسمعیل دہلوی صراط مستقیم میں حضرت جناب مولی مشکل کشا کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کی نسبت خدا جانے کس دل سے یوں ایمان لاتے ہیں :
درسلطنت سلاطین وامارات امراء ہمت ایشاں را دخلے ہست کہ برسیا حان عالم ملکوت مخفی نیست ۔
سلاطین کی سلطنت اور حکام کی حکومت میں حضرت علی (کر م اﷲ تعالی وجہہ الکریم) کی ہمت کو ایسا دخل ہے جو عالم ملکوت کی سیاحت کرنیوالوں پر مخفی نہیں۔ (ت)
مقال () : اسی میں شوکت وعظمت جناب مرتضوی لکھ کرکہا :
شان جناب شیخین بس بلند بہ نسبت ابہت وجلال مذکور ست تمثیلیش بظاہر مرتبہ امیر کبیر ست کہ فارغ از امورسیاست گردیدہ ملازم بادشاہ گشتہ بہ نسبت کیسکہ قائم برخدمات ومشغول بکار پردازی است اگر چہ شوکت ظاہر یہ وکثرت اتباع درحق ایں مصاحب بہ نسبت آں میراعظم قائم بخدمات اقل قیل است لیکن درعزت ووجاہت فوق است چہ فی الحقیقۃ
مذکور شوکت وجلال کی نسبت حضرات شیخین کی شان بلند ہے عالم ظاہر میں اس کی مثال اس امیر کبیر کا مرتبہ ہے جو امیر سیاست سے فارغ ہو کہ بادشاہ کی خدمت میں رہتا ہے بہ نسبت دوسرے امیر کے جو امور مملکت سے وابستہ اور کارپردازی میں مشغول ہے اگر چہ ظاہری شوکت اور تابعداروں کی کثرت امور مملکت سے وابستہ اس امیر اعظم کی
مکتوبات مرزا مظہر جانجاناں مع کلمات طیبات مکتوب ١٤ مطبع مجتبائی دہلی ص٢٧
صراط مستقیم ہدایہ ثانیہ درذکر بدعاتیکہ الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص٥٨
بہ نسبت ا س مصاحب کے حق میں کم سے کم تر ہے لیکن عزت و وجاہت میں یہ اس سے بالاتر ہے۔ اس لیے کہ وہ امیر اپنی تمام تر شوکت وحشمت اور تابعداروں کے باوجود گویا اس مصاحب کا ایك تابعدار ہے اس لیے کہ اس کا مشورہ اور اس کی تدبیر بادشاہ کے تمام تابعداروں میں جاری وساری ہے۔ (ختم بتلخیص)۔ (ت)
مقال () : مظاہر الحق میں ہے : تیسری قسم زیارت کی برکت حاصل کرنے کے لیے وہ زیارت اچھے لوگوں کی قبروں کی ہے اس لیے کہ ان کے لیے برزخ میں تصرفات وبرکات بے شمار ہیں وعزاہ للامام النووی (اسے امام نووی کے حوالے سے لکھا ہے۔ ت)وصل سوم : بعد وصال اولیاء کے فیض وامداد میں۔
مقال (تا ) : شاہ ولی اﷲ و مولوی خرم علی نے کہا : منتظر رہے اس کا جس کا فیضان صاحب قبر سے ہو ۔ عزیزی میں فرمایا :
ارباب حاجات حل مشکلات خود از انہامی یابند ۔
اہل حاجات اپنی مشکلوں کا حل ان سے پاتے ہیں (ت)
دونوں شاہ صاحبوں پھر مولوی خرم علی نے کہا : اویسیت کی نسبت وقوی وصحیح ہے روحی فیض ہے اور وہ روحانیت سے تربیت ہے ملخصا۔ عزیزی میں لکھا ہے : ازاولیائے مدفونین انتفاع جاری است ۔ (دفن شدہ اولیاء سے نفع یابی جاری ہے۔ ت)۲۹مرزا مظہر صاحب مولی علی کرم اﷲ وجہہ کی نسبت مظہر : قصیدہ عرض نمودم نوازشہا فرمودند ( میں نے
مظاہر حق باب زیارت القبور دین محمد اینڈ سنز لاہور ١ / ٧١٦
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل کشف قبور واستفاضہ بداں ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٧٢
تفسیر عزیزی پارہ عم تحت والقمر اذا اتسق مسلم بك ڈپو لال کنواں دہلی ص٢٠٦
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل فصل ۱۱ سلسلہ طریقت مصنف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص١٧٨
تفسیر عزیزی پارہ عم استفادہ از اولیائے مدفونین مسلم بك ڈپو لال کنواں دہلی ص١٤٣
ملفوظات مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات ملفوظات حضرات ایشاں مطبع مجتبائی دہلی ص٧٨
مقال () : مرزا صاحب موصوف نے اپنے ملفوظات میں فرمایا :
از فرط محبت کہ فقیر رابجناب امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ثابت است و سرمنشا نسبت علیہ نقشبندیہ ایشان اند بمقتضائے بشریت غشاوہ برنسبت باطنی عارض مے شود خود بخود رجوع بآنجناب پیدا گشتہ بالتفات ایشاں رفع کدورت مے شود ۔
اس فرط محبت کے سبب جو فقر کے لیے امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی بارگاہ میں ثابت رکھا۔ اور بلند نسبت نقشبندیہ کا سرمنشا وہی ہیں یہ تقاضائے بشری نسبت باطنی پر ایك پردہ سا عارض ہوجاتا ہے خود بخود اس بارگاہ کی طرف رجوع پیدا ہوتا ہے اور ان کیوجہ سے کدورت دور ہوجاتی ہے۔ (ت)
مقال (۳۳تا ۳۶) : ۳۳اسی میں ہے :
التفات غوث الثقلین بحال متوسلان طریقہ علیہ ایشاں بسیار معلوم شدہ باہیج کس از ایں طریقہ ملاقات نشد کہ توجہ مبارك آنحضرت بحالش مبذول نیست ۔
اپنے عالیہ کے متوسلین پر حضرت غوث الثقلین کا التفات زیادہ معلوم ہو ا اس طریقہ والوں میں سے ایك شخص بھی ایسا نہ ملا جس کے حال پر حضرت کی توجہ مبارك مبذول نہ ہو۔ (ت)
۳۴پھر کہا :
عنایت حضرت خواجہ نقشبندیہ بحال معتقدان خود مصروف است مغلان درصحرا یا وقت خوب اسباب واسپان خود بحمایت حضرت خواجہ مے سپارند وتائیدات از غیب ہمراہ ایشاں می شود دریں باب حکایات بسیار است تحریر اں باطالت می رساند ۔
اپنے معتقدین کے حال پر حضرت خواجہ نقشبندیہ کی عنایت کا ر فرما ہے۔ مغل لوگ صحراؤں میں سونے کے وقت اپنے سامان اور گھوڑوں کو حضرت کی حفاظت کے سپرد کرتے ہیں اور غیبی تائیدات ان کے ہمراہ ہوتی ہیں اس باب میں واقعات بہت ہیں جنھیں لکھنے میں طول ہوگا۔ (ت)
ملفوظات مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات ملفوظات حضرت ایشاں مطبع مجتبائی دہلی ص٧٨
ملفوظات مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات ملفوظات حضرت ایشاں مطبع مجتبائی دہلی ص۸۳
ملفوظات مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات ملفوظات حضرت ایشاں مطبع مجتبائی دہلی ص۸۳
سلطان المشائخ نظا الدین اولیاء اﷲ علیہ بحال زائران مزار خود عنایت بسیارمی فرمایند۔
سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنے مزار کی زیاترت کرنے والوں کے حال پر بڑی عنایت فرماتے ہیں۔ (ت)
۳۶پھر کہا :
ہمچنیں شیخ جلال پانی پتی التفا ت ہامے نمایند ۔
اس طرح شیخ جلال پانی پتی بھی بہت التفات فرماتے ہیں۔ (ت)
مقال () : قاضی ثناء اﷲ پانی پتی جن کی مدح مقال میں گزری تذکرۃ الموتی میں لکھتے ہیں :
اولیاء اﷲ دوستان ومعتقدان را دردنیا وآخرت مددگاری می فرمایند ودشمناں راہلاك می نمایند واز ارواح بطریق اویسیت فیض باطنی می رسد ۔
اولیاء اﷲ اپنے دوستوں اور عقیدت مندوں کی دنیا وآخرت میں مدد فرماتے ہیں ا ور دوشمنوں کو ہلاك کرتے ہیں___ اور روحوں سے اویسیت کے طریقے پر باطنی فیض پہنچاتے ہے۔ (ت)
مقال ( تا ) : یہی قاضی صاحب سیف المسلول میں مرتبہ قطبیت ارشاد کو یوں بیان کرکے کہ :
فیوض وبرکات کا رخانہ ولایت کہ از جناب الہی براولیاء اﷲ نازل مے شود اول بریك شخص نازل مے شود وازاں شخص قسمت شہد بہریك ازاوالیائے عصر موافق مرتبہ وبحسب استعداد می رسد وبہ ہیچ کس از اولیاء اﷲ بے توسط اوفیضی نمی رسد وکسے از مردان خدا بے وسیلہ اور درجہ ولایت نمی یابد اقطاب جزئی و اوتاد وابدال و نجیاء ونقباء وجمیع اقسام ازاولیائے خدا بوے محتاج می باشند صاحب این منصب عالی راامام و
کارخانہ ولایت کے فیوض وبرکات جو خدا کی بارگاہ سے اولیاء اﷲ پر نازل ہوتے ہیں پہلے ایك شخص پر اترتے ہیں اور اس شخص سے تقسیم ہو کر اولیائے وقت میں سے ہر ایك کو اس کے مرتبہ واستعداد کے مطابق پہنچتے ہیں اور کسی ولی کو بھی اس کی وساطت کے بغیر کوئی فیض نہیں پہنچتا۔ اور اہل اﷲ میں سے کوئی بھی اس کے وسیلہ کے بغیر درجہ ولایت نہیں پاتا۔ جزئی اقطاب اوتادہ ابدال نجبا نقباا ور تمام اقسام کے اولیاء اﷲ اس کے
ملفوظات مرزا مظہر جانجاناں مع کلمات طیبات ملفوظات حضرت ایشاں مطبع مجتبائی دہلی ص٨٣
تذکرۃ الموتٰی والقبور اردو ترجمہ مصباح القبور باب روحوں کے ٹھہرنے کی جگہ کیے بیان میں نوری کتب خانہ لاہور ص٧٦
محتاج ہوتے ہیں اس منصب بلند والے کو امام اور قطب الارشاد بالاصالۃ بھی کہتے ہیں__ اور یہ منصب عالی ظہور آدم علیہ السلام کے زمانے سے حضرت علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ کی روح پاك کے لیے مقرر تھا۔ (ت)
پھر ائمہ اطہار رضوان اﷲ تعالی علیہم کو بترتیب اس منصب عظیم کا عطا ہونا لکھ کر کہتے ہیں :
بعد وفات ۳۸عسکری علیہ السلام تاوقت ظہور سید الشرفا غوث الثقلین محی الدین عبدالقادرالجیلی ایں منصب بروح حسن عسکری علیہ السلام متعلق بود ۔
حضرت عسکری کی وفات کے بعد سید الشرفا غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر جیلانی کے زمانہ ظہور تك یہ منصب حضرت حسن عسکری کی روح سے متعلق رہے گا۔ (ت)
۳۹پھر کہا :
چوں حضرت غوث الثقلین پیدا شد ایں منصب مبارك بوے متعلق شدوتا ظہور محمد مہدی این منصب بروح مبارك غوث الثقلین متعلق باشد ۔
جب حضرت غوث الثقلین پیدا ہوئے یہ منصب مبارك ان سے متعلق ہوا اور امام محمد مہدی کے ظہو رتك یہ منصب حضرت غوث الثقلین کی روح سے متعلق رہے گا۔ (ت)
۴۰پھر کہا :
چوں امام محمد مہدی ظاہر شود ایں منصب عالی تاانقراض زمان بوے مفوض باشد ۔
جب امام مہدی ظاہر ہو ں گے یہ منصب بلند اختتام زمانہ تك ان کے سپر د رہے گا۔ (ت)
اخیر میں کہا :
استنباط ایں مدعا ا ز کتاب اﷲ واز حدیث می توانیم کرد۔ اھ ملخصا۔
ہم اس مدعاکا استنباط کتاب اﷲ اور حدیث پاك سے کرسکتے ہیں اھ ملخصا (ت)
اصل ان سب اقوال ثلثہ کی جناب ۴۱شیخ مجد الف ثانی سے ہے جیسا کہ جلد سوم ۴۲مکتوب نمبر ۴۳ صفحہ۱۲۳ میں مفصلا مذکور ۴۴ان کے کلام میں اس قدر امرا اور زائد ہے کہ :
بعدا ز ایشان (یعنی حضرت مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ الاسنی) بہریکے از ائمہ اثنا عشر علے الترتیب
حضرت مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ کے بعد بارہ اماموں میں سے ہر ایك کے لیے ترتیب وتفصیل کے ساتھ
سیف المسلول مترجم اردو خاتمہ کتاب فاروقی کتب خانہ ملتان ص٥٢٧ تا ٥٢٩
سیف المسلول مترجم اردو خاتمہ کتاب فاروقی کتب خانہ ملتان ص٥٢٧ تا ٥٢٩
سیف المسلول مترجم اردو خاتمہ کتاب فاروقی کتب خانہ ملتان ص٥٢٧ تا ٥٢٩
سیف المسلول مترجم اردو خاتمہ کتاب فاروقی کتب خانہ ملتان ص٥٢٧ تا ٥٢٩
قرارپذیر ہوا۔ ان بزگوں کے زمانے میں اسی طرح ان کی رحلت کے بعد جسے بھی فیض وہدایت پہنچتی انہی بزرگوں کے توسط سے تھی اور سب کا ملجا یہی حضرات تھے یہاں تك کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ تك نوبت پہنچی الخ(ت)
اور انھوں نے جلد ثانی میں خود اپنے لیے بھی اس منصب کاحصول مانا اور اس اعتراض سے کہ پھر اس دورے میں منصب مذکور کا حضور پر نور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے اختصاص کب رہا۔ جلد ثالث میں یوں جواب دیا کہ :
مجدد الف ثانی دریں مقام نائب مناب حضرت شیخ است وبنیا بت حضرت شیخ ایں معاملہ باو مربوط است چنانکہ گفتہ اند نور القمر مستفاد من نور الشمس فلا محذور ۔
مجدد الف ثانی اس مقام میں حضرت شیخ کا قائم مقام ہے اور حضرت شیخ کی نیابت سے یہ معاملہ ا س سے وابستہ ہے جیسا کہ کہا گیا ہے۔ ماہتاب کا نور آفتاب کے نور سے مستفاد ہے ۔ تو اگر کوئی اعتراض نہ رہا۔ (ت)
مقال (تا ) : شاہ ولی اﷲ اتنباہ میں اور ا ن کے بارہ اساتذہ و مشائخ کہ عرب و ہند وغیرہما بلاد کے علماء واولیاء میں حضرت مولا علی کرم اﷲ وجہہ کو وقت مصیبت مدد گار مانتے ہیں اور ع
تجدہ عونا لك فی النوائب
( انھیں مصائب میں اپنا مددگارہ پاؤ گے۔ ت)
کو حق جانتے وسیاتی نقلہ فی الوصل الاتی ان شاء اﷲ تعالی (وصل آئیندہ میں یہ کلام نقل ہوگا اگر خدا نے چاہا۔ ت)
مقال () : شاہ ولی اﷲ نے ہمعات میں لکھا :
از جملہ نسبت ہائے معتبرہ نزدیك قوم نسبت اویسیہ است خواہ ایں مناسبت بہ نسبت ارواح انیباء باشد یا اولیائے امت یا ملائکہ وبساست کہ
اہل طریقت کے نزدیك معتبر نسبتوں میں سے ایك نسبت اویسی بھی ہے خواہ یہ مناسب ارواح انبیاء کی نسبت سے ہو یا اولیائے امت یا ملائکہ کی نسبت
مکتوبات امام ربانی مکتوب ووصدو بست وسوم مطبع نولکشور لکھنؤ ٣ / ۲۴۸۔ ۲٤٧
سے ہو اور ایسابھی بہت ہوتا ہے کہ کسی روح سے مناسب پیدا ہوگئی اس لیے کہ اس کے فضائل سن کر ایك خاص محبت بہم پہنچائی ___ وہ محبت اس روح اور اس شخص کے درمیان ایك راہ کھلنے کا سبب ہوجاتی ہے ____ یا اس وجہ سے کہ وہ اس کے مرشد یا مرشد کے مرشد کی روح ہے اس کے اندر اپنے منتسبین کی رہنمائی کی ہمت خود قرار پذیر ہے۔ الخ (ختم التقاط کے ساتھ)۔ (ت)
مقال () : اسی میں ہے :
از ثمرات ایں نسبت (یعنی اویسیہ) رویت آں جماعت است درمنام وفائدہ از ایشاں یافتن ودر مہالك ومضائق صورت آں جماعت پدیر آمدن وحل المشکلات وے بآں صورت منسوب شدن ۔
اس نسبت اویسی کے ثمرات سے ہے خواب میں اس جماعت کا دیدار ہونا ان سے نفع پانا ہلاکت و مصیبت کی جگہوں میں اس جماعت کی صورت کا نمودار ہونا اور مشکلات کا حل اس صورت سے منسوب ہونا (ت)
مقال () : اسی میں ہے :
امروز اگر کسے رامناسبت بروح خاص پیدا شود واز نجا فیض برادر وغالبا بیرون نیست از آنکہ ایں معنی بہ نسبت پیغمبر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم باشد یا بہ نسبت حضرت امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ یا بہ نسبت حضرت غوث اعظم جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ عنہ وآنکہ مناسبت بہ سائر ارواح دارند باعث خصوص آں اسباب طاریہ شدہ اند مثل آنکہ وے حجت آں بزرگ بسیار دارد وبر قبروے بسیار می رود واین معنی سلسلہ جنبان از جہت۔
آج اگر کسی کو کسی خاص روح سے مناسبت پیدا ہو اور وہاں سے فیض یاب ہو غالبا اس سے باہر نہ ہوگا یہ معنی حضرت رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نسبت سے ہو یا حضرت امیر المومنین علی مرتضی کرم اﷲ وجہ کی نسبت سے یا حضرت غوث اعظم جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کی نسبت سے ہو اور جو لوگ تمام ارواح سے مناسبت رکھتے ہیں ان کی خصوصیت کا باعث عارضی اسباب ہوتے ہیں مثلا یہ کہ وہ اس بزرگ سے زیادہ محبت رکھتا ہے اور اس
ہمعات ہمعہ ١١ اکادیمۃ الشاہ ولی اﷲ حیدر آباد باکستان ص٥٩
کی قبر پر زیادہ جاتا ہے۔ یہ معنی قابل کی جانب سے محرك بنا ___ اور اپنے منتسبین کی تربیت میں اس بزرگ کی ہمت قوی تھی اور وہ ہمت روح میں اب بھی باقی ہے ___ یہ معنی فاعل کی جانب سے محرك ہو (ت)
مقال () : حجۃ اﷲ البالغہ میں ہے :
قدا ستفاض من الشرع ان اﷲ تعالی عباداھم افاضل الملئکۃ وانھم یکونون سفراء بین اﷲ وبین عبادۃ انھم یلھمون فی قلوب بنی ادم خیرا وان لھم اجتماعات کیف شاء اﷲ وحیث شاء اﷲ یعبر عنھم باعتبار ذلك بالملاء الاعلی وان ارواح افاضل الادمین دخول فیھم ولحوقا بھم کما قال اﷲ تعالی یایتھا النفس المطئنۃ ارجعی الی ر بك راضیہ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی فی جنتی والملاء الاعلی ثلثۃ اقسام قسم ھم نفوس انسانیہ مازالت تعمل اعمالا منجیہ تفید اللحوق بھم حتی طرحت عنھا جلابیب ابدانھا فانسلکت فی سلکھم وعدت منھم اھ ملخصا۔
یعنی بے شك شرع سے بدرجہ شہرت ثبوت کو پہنچا کہ مقرب فرشتے خدا اور اس کے بندوں میں واسطہ ہوتے اور آدمیوں کے دلوں میں نیك بات کا القاء کرتے ہیں ا ور ان کے لیے اجتماع ہیں جس طرح خدا چاہے اور جہاں چاہے اسی لحاظ سے انھیں ملاء اعلی کہتے ہیں اور یہ بھی اسی طرح شرع سے بشہر ت ثابت کہ بزرگان دین کی روحیں بھی ان میں داخل ہوتی اور ان سے ملتی ہیںجیسا کہ اﷲ تعالی نے فرمایا : “ اے اطمینان والی جان! چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے خوش پس داخل ہو میرے بندوں میں اور آ میری جنت میں ۔ “ اور ملاء اعلی کی ایك اور قسم وہ ارواح انسانی ہیں کہ ہمیشہ رستگاری کے کام کرتے رہے جن کے باعث ان ملائکہ سے ملے یہاں تك کہ جب بدن کی نقابیں پھینکیں ملاء اعلی میں داخل ہوئے اور انھیں سے شمار کئے گئے۔
مقال ( ) : عزیزی میں فرمایا :
حجۃ اﷲ البالغہ باب ذکر الملاء الاعلٰی المکتبۃ السلفیہ لاہور ١ / ١٦۔ ١٥
دفن کرنے میں بدن کے تمام اجزاء ایك جگہ جمع ہوجاتے ہیں اور نظر عنایت سے روح کا تعلق بدن سے ہوجاتا ہے اور زائرین اور انس اور استفادہ کرنے والوں کی طرف توجہ آسان ہوجاتی ہے۔ (ت)
مقال () : میاں اسمعیل صراط مسقیم میں لکھ گئے :
حضرت مرتضوی راك نور تفضیل برحضرات شیخین ہم ثابت وآں تفضیل بجہت کثرت اتباع ایشاں و وساطت مقامات ولایت بل سائر خدمات است مثل قطبیت وغوثیت وابدالیت وغیرہما از عہد کرامت مہد حضرت مرتضی تا انقراض دینا ہمہ بواسطہ ایشاں است۔
حضرت مرتضی کویك گونہ فضیلت حضرات شیخین پر بھی ثابت ہے اور وہ فضیلت متبعین کی کثرت اور مقامات ولایت بلکہ تمام خدمات__جیسے قطبیت غوثیت ابدالیت وغیرہا___ میں وساطت کے لحاظ سے ہے۔ سب حضرت مرتضی کے عہدکریم سے اختتام دینا تك ان ہی کے واسطے سے ہے۔ (ت)
مقال () : اسی میں ہے :
حق جل وعلا بذات پاك خود یا بواسطہ ملائکہ عظام یا ارواح مقدسہ بسبب برکت توسل قرآن محافطت طالب خواہد نمود ۔
حق جل وعلا بذات خود یا ملائکہ عظام یا ارواح مقدسہ کے واسطہ سے قرآن سے توسل کی برکت کے سبب طالب کی حفاظت فرمائے گا۔ (ت)
مقال() : مولوی اسحاق کی مائۃ مسائل میں ہے :
سوال : شخصیکہ منکریاشد فیض روح مبارك محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم را در عالم برزخ وشخصے کہ منکر باشد از فیض ارواح مقدسہ انبیاء دیگر علیہم الصلوۃ ولسلام و شخصے کہ منکران باشد از فیض ارواح اولیاء اﷲ درعالم برزخ حکم او چیست
جو شخص عالم برزخ میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی روح مبارك کے فیض کا اور جو دیگر انبیاء علیہم الصلوۃو السلام کی ارواح مقدسہ کے فیض کا اور عالم برزخ میں جوا ولیاء اﷲ کی ارواح کے فیض کا منکر ہو اس کا حکم کیا ہے
صراط مسقیم ہدایت ثانیہ در ذکر بدعاتیکہ الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص٥٨
صراط مسقیم باب چہارم دربیان طریق سلوك راہ نبوت الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص١٤٨
جس فیض شرع کا ثبوت احادیث میں متواترہ سے ہو اس کا منکر کافر ہے اور جس فیض کا ثبوت احادیث مشہورہ سے ہو اس کا منکر گمراہ ہے اور جس فیض کا ثبوت خبر واحد سے ہو اس کا منکر ترك قبول کی وجہ سے گنہ گار ہوگا بشرطیکہ اس کا ثبوت بطریق صحیح یا بطریق حسن ہو۔ (ت)
ہر چند یہ جواب سراپا عیاری پر مبنی ہے مگر سب نے دیکھا کہ سوال فیض برزخ سے تھا واجب کہ جواب اسے بھی شام ہو اوس قدر امر نفی جنون کے لے ضروری یاان کی دیانت وللہیت سے انکار اور
اخفائے حق تلبیس بالباطل کا اقرار کیا جائے۔
مقال () : جناب شیخ مجدد الف ثانی اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں :
بعدا ز رحلت ارشاد پناہی قبلہ گاہی (یعنی خواجہ باقی اﷲ علیہ رحمۃ اﷲ ) بتقریب زیارت مزار شریف بہ بلدہ محروسہ دہلی اتفاق عبود افتاد روز عید بزیارت مزار شریف ایشاں رفتہ بود درا ثنائے توجہ بہ مزار متبرك التفاتے تمام از روحانیت مقدسہ ایشاں ظاہر گشت وازکمال غریب نوازی نسبت خاصہ خود را کہ بحضرت خواجہ احرار منسوب بود مرحمرت فرموند ۔
حضرت ارشاد پناہی قبلہ گاہی (خواجہ باقی اﷲ علیہ رحمۃ اﷲ ) کی رحلت کے بعد مزار شریف کی زیارت کی تقریب سے شہر دہلی میں گزرنے کا اتفاق ہوا عید کے دن حضرت کے مزار پاك کی زیارت کے لے گیا مزار پاك کی جانب توجہ کے دوران حضرت کی مقدسی روحانیت سے کام التفات رونما ہوا اور کمال غریب نوازی سے اپنی خاص نسبت جو حضرت خواجہ احرار کی جانب تھی مجھے مرحمت فر مائی۔ (ت)
تنبیہ : لفظ “ بتقریب زیارت مزار شریف الخ “ ملحوظ رہے ار یونہی “ غریب نواز “ بھی کہ حضرت خواجہ اجمیری رضی اللہ تعالی عنہ کی نسبت کہے جس سے متعصبان طائفہ چڑتے ہیں۔
مقال () : شاہ ولی اﷲ انفاس العارفین میں اپنے استاذ محدث ابراہیم کردی علیہ الرحمۃ کا حال لکھتے ہیں :
دوسال کم و بیش دربغداد ساکن بوہ برقہر سید عبدالقادر
کم وبیش دو سال تك آپ بغداد میں مقیم رہے اس دوران آپ
مکتوبات اما ربانی مکتوب ٦٩٧ منشی نولکشور لکھنؤ ١ / ٤١٣
اکثرسید عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کے مزار مبارك کو مرکز توجہ بنایا کرتے تھے اور یہیں سے آپ کو راہ معرفت کا ذوق پیدا ہوا (ت)
مقال () : اسی میں حضرت میر ابو العلی قدس سرہ کے ذکر مبارك میں لکھا :
بمزار فیض الانوار حضرت خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہ متوجہ بودند واز آنجناب دل ربائہا یا فتند و فیضاں گرفتند ۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہ کے مزار فائض الانوار کی طرف متوجہ ہوئے اس بارگاہ سے خاص لطف و کرم پایا اور فیوض حاصل کئے۔ (ت)
مقال (۷۰ و ۷۱ ) : اسی میں اپنے نانا ۷۱ابو الرضا محمد سے نقل کیا :
می فرمودند یك بارحضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ را دریقظہ ویدوم اسرار عظیم دراں محل تعلیم فرمودند ۔
فرماتئے تھے ایك بار حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو بیداری میں دیکھا اس مقام میں عظیم اسرار تعلیم فرمائے۔ (ت)
مقال() : اسی میں شیخ مذکور کے حالات میں لکھا :
عجوزہ راز مخلصان بعد وفات ایشاں تپ لرزہ گرفت بغایت نزارگشت شبے بنو شیدن آب وپوشیدن لحاف محتاج شد وطاقت آں نداشت وکسے حاضر نبود ایشاں متمثل شدند وآب دادند ولحاف پوشانیدند آں گاہ غائب شدند۔
مخلصین میں سے ایك بڑھیا حضرت کی وفات کے بعد تب لرزہ میں گرفتار ہوئی انتہائی لاغر ہوگئی ایك رات اسے پانی پینے اور لحاف اوڑھتے کی ضرورت تھی اس کے اندر طاقت نہ تھی اور دوسرا کوئی موجو د نہیں تھا حضرت متمثل ہوئے پانی دیا لحاف اڑھایا پھر اچانك غائب ہوگئے۔ (ت)
مقال(تا) : القول الجمیل میں ہے :
تادب شیخنا ۷۳عبدالرحیم من روح الائمۃ الشیخ ۷۴عبدالقادر الجیلانی والخواجہ بھاء الدین محمد
یعنی ہمارے مرشد شیخ عبدالرحیم نے ائمہ کرام حضور غوث اعظم وخواجہ نقشبند وخواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالی
انفاس العارفین میرابوالعلی شیخ ابراہیم کردی اسلامك بك فاؤنڈیشن لاہور ص۶۹
انفاس العارفین حصہ دوم شیخ ابوالرضا محمد اسلامك بك فاؤنڈیشن لاہور ص ١٩٤
انفاس العارفین امداد اولیاء اسلامك بك فاؤنڈیشن لاہور ص ۳۶۹
عنہم کی ارواح طیبہ سے آداب طریقت سیکھے اور ان سے اجازتیں لیں اور ہر ایك کی نسبت جو ان سرکاروں سے ان کے دل پر فائز ہوئی جدا جدا پہچانی اور ہم سے اس کی حکایت بیان کرتے تھے اﷲ تعالی ان سب حضرات اور ان سے راضی ہوا۔
مولوی خرم ۷۵علی صاحب نے اگر چہ راھم کے ترجمہ میں لفظ “ خواب میں دیکھا “ اپنی طرف سے بڑھا دیا جس پر کلام شاہ ولی اﷲ میں اصلا دال نہیں مگر ارواح عالیہ کا فیض بخشنا اجازتیں دینا نسبتیں عطا فرمانا مجبورانہ مسلم رکھا۔
مقال ( و ) : مرزا جانجاناں صاحب فرماتے ہیں :
از حضرت شیخ ۷۶عبدالاحد رحمۃ اللہ تعالی علیہ دوکس طریقہ گرفتہ یکے طریقہ قادری اخذ کرد ودیگرے طریقہ نقشبندیہ اختیار نمودا یشاں فرمودند کہ روح مبارك حضرت غوث اعظم تشریف آوردوہ صورت مثالی مرید خاندان خود راہمراہ روند حضرت خواجہ نقشبند تشریف فرماشدہ صورت مثالی متعقد خود راباخود بروند رحمۃ اللہ تعالی علیہم ۔
حضرت شیخ عبدالاحد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے دو آدمیوں نے طریقت حاصل کی ایك نے طریقہ قادری لیا دوسرے نے طریقہ نقشبندیہ اختیار کیا حضرت فرماتے ہیں کہ حضرت غوث اعظم کی روح مبارك تشریف لائی اور اپنے خاندان کے مرید کی صورت مثالی کو ساتھ لے گئی اور حضرت خواجہ نقشبند تشریف فرما ہوکر اپنے عقیدت مند کی صورت مثالی کو اپنے ساتھ لے گئے رحمۃ اللہ تعالی علیہم اجمعین۔ (ت)
مقال () : اسمعیل نے صراط مستقیم میں اپنے پیر کا حال لکھا :
روح مقدس جناب حضرت غوث الثقلین وجناب حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند متوجہ حال حضرت ایشاں گردیدہ تا قریب یك ماہ فی الجملہ تنازع در مابین روحیں مقدسین درحق حضرت ایشاں ماندہ
حضرت غوث الثقلین اور حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند کی روحیں حضرت کے حال پر متوجہ ہوئیں اور قریب ایك ماہ تك دونوں مقدس روحوں کے درمیان حضرت کے حق میں تنازع رہا اس لیے دونوں
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل فصل ١١ سند سلسلہ قادریہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص١٨٢
ملفوظات مرزا مظہر از کلمات طیبات مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص٨٣
ماموں میں سے ہر ایك حضرت کو پورے طور سے اپنی طرف کھینچنے کا تقاضا کر رہے تھے یہاں تك کہ زمانہ تنازع کے ختم ہونے اور شرك پر مصالحت واقع ہوجانے کے بعد ایك دن دونوں مقدس روحیں حضرت پر جلوہ گر ہوئیں ایك پہر کے قریب دونوں امام حضرت کے نفس نفیس پر قوی توجہ اور پر زور تاثیر ڈالتے رہے یاں تك کہ اسی ایك پہر کے اندر دونوں طریقتوں کی نسبت حضرت کو نصیب ہوگئی۔ (ت)
مقال ( ) : اسی میں ہے :
روزے حضر ت ایشاں بسوئے مرقد منور حضرت خواجہ خواجگان خواجہ قطب الاقطاب بختیار کا کی قدس سرہ العزیز تشریف فرما شد ند برمرقد مبارك ایشاں مراقب نشستند دریں اثناء بروح پر فتور ایشاں توجہی جس قوی فرمودند کہ بسبب آں توجہ ابتدائے حصول نسبت چشتیہ متحقق شد ۔
ایك دن حضرت خواجہ خواجگان خواجہ قطب الاقطاب بختیار کاکی قدس سرہ العزیز کے مرقد انور کی طرف حضرت تشریف لے گئے ان کے مرقد مبارك پر مراقبہ میں بیٹھے اس دوران حضرت کی روح پر فتوح پر علامات تحقیق ہوئیں ا ور آں حضور نے حضرت پر بہت قوی توجہ فرمائی جس کے سبب نسبت چشتیہ کے حصول کی ابتداء متحقق ہوئی۔ (ت)
وصل چہارم ___ اصل مسئلہ مسئولہ مسائل یعنی اولیائے کرام سے استمداد والتجا اور اپنے مطالب میں طلب دعا اور حاجت کے وقت ان کی ندا میں ۔
مقال( تا ) : شاہ ولی اﷲ نے ہمعات میں کہا :
بزیارت قبر ایشان رو دو از آں جا انجذاب دریوزہ کند ۔
ان کی قبروں کی زیارت کو جائے اور وہاں بھیك مانگے۔ (ت)
صراط مستقیم باب چہارم دربیان سلوك راہِ ثبوت الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص ١٦٦
ہمعات ہمعہ ٨ اکادیمیہ شاہ ولی اﷲ حیدر آباد ص٣٤
فیض قدس از ہمت ایشاں میجو
( ان کے ہمت سے فیض قدس کے خواستگار رہو۔ ت)
۸۲وہ پھر مولوی ۸۳خرم علی کہتے ہیں : میت سے قریب ہو پھر کہے یاروح ۔ ۸۴عزیزی میں فرمایا :
اویسیان تحصیل مطلب کمالات باطنی از آنہا می نمایند ۔
اویسی لوگ باطنی کمالات کا مقصد ان سے حاصل کرتے ہیں۔ (ت)
اور فرمایا :
ارباب حاجات حل مشکلات خود ازآنہامے طلبند ۔
اہل حیات اپنی مشکلوں کا حل ان سے طلب کرتے ہیں (ت)
۸۶اسی میں ہے : از اولیائے مدفونین استفادہ جاری است مدفون اولیاء سے استفادہ جاری ہے۔ ت)۸۷مرزا صاحب نے مولی علی کرم اﷲ وجہہ کی نسبت کہا : درعارضہ جسمانی توجہ بآنحضرت واقع می شود (عارضہ جسمانی میں آں حضرت کی طرف توجہ ہوتی ہے۔ ت) کہ یہ سب اقوال مقصد اول میں گزرے۔ ۸۸شاہ عبدالعزیز نے سید احمد زروق رضی اللہ تعالی عنہ کی نسبت کہا : مردے جلیل القد ریست کہ مرتبہ کمال اوفوق الذکراست ( ایك جلیل القدر شخصیت ہیں جن کا رتبہ کمال ذکر سے بالا تر ہے۔ ت) پھر ان سے نقل کیا : “ مصیبت میں یا زروق کہہ کر پکار میں فورا مدد کو آؤں گا “ ۔ یہ اسی مقصد میں گزرا۔
مقال () : مرزا صاحب کے وصایا میں ہے : بزیارت مزارات ولیاء دریوزہ فیض جمیعت کن الخ(مزارات اولیا ء کے فیض سے دل جمعی کے فیض کی بھیك مانگو ۔ (ت)
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل کشف قبور واستفاضہ بدان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٧٢
تفسیر عزیزی زیرآیہ والقمر اذاا تسق مسلم بك ڈپو لال کنواں دہلی ص١٤٣
تفسیر عزیزی استفادہ ازاولیائے مدفونین مسلم بك ڈپو لال کنواں دہلی ۵ / ۱٤٣
تفسیر عزیزی استفادہ ازاولیائے مدفونین مسلم بك ڈپو لال کنواں دہلی ۵ / ۱۴۳
ملفوظات مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات مطبع مجتبائی دہلی ص ٧٨
بستان المحدثین حاشیۃالبخاری للزروق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ٣٢١
بستان المحدثین حاشیۃالبخاری للزروق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٣٢١
کلمات طیبات نصائح و وصایا مرزا صاحب مطبع مجتبائی دہلی ص ٨٩
ایں فقیر خرقہ از شیخ ابو طاہر کردی پوشیدہ وایشاں بعمل آنچہ درجواہر خمسہ است اجازت دادند ۔
اس فقیر نے شیخ ابو طاہر کردی جسے خرقہ پہنا اور انھوں نے جواہر خمسہ میں جو کچھ ہے اس کے عمل کی اجازت دی۔ (ت)
پھر کہا :
وایضا فقیر در سفر حج چوں بہ لاہور رسید و دست بوس شیخ محمد سعید لاہوری دریافت ایشاں اجازت ودعائے سیفی دادند بل اجازت جمیع اعمال جواہر خمسہ ۔
فقیرسفر حج میں جب لاہور پہنچا شیخ محمد سعید لاہوری کی دست بوسی پائی انھوں نے دعائے سیفی کی اجازت دی بلکہ جواہر خمسہ کے تمام عملیات کی اجازت دی۔ (ت)
یہ شیخ ابو طاہر کردی مدنی شاہ ولی اﷲ کے شیخ حدیث وپیر سلسلہ ہیں مدینہ طیبہ میں مدتوں ان کی خدمت میں رہ کر سلاسل حدیث حاصل کئے کہ وہی ان سے شاہ عبدالعزیز صاحب اور ان سے مولوی اسحق کو پہنچے اور شیخ محمد سعید کی نسبت انتباہ میں لکھا :
یکے از اعیان مشائخ طریقہ بودند شیخ معمر ثقۃ ۔
ممتازشیخ مشائخ طریقت میں سے ایك عمر رسیدہ شیخ تھے (ت)
اسی میں دونوں مشائخ سے سلاسل اجازت بیان کیے جن سے ثابت کہ شیخ ابراہیم کردی والد شیخ ابوطاہر مدنی اور ان کے استاد شیخ احمد قشاشی اور ان کے استاد شیخ احمد شناوی اور شاہ ولی اﷲ کے استاذ الاستاذ احمد نخلی کہ یہ چاروں حضرات بھی شاہ ولی اﷲ کے اکثر سلاسل حدیث میں داخل ہیں کما یظھر من المسلسلات وغیرھا (جیسا کہ مسلسل احادیث وغیرہا کی سند سے ظاہر ہے۔ ت) اور ان شیخ معمر ثقہ کے پیر شیخ محمداشرف لاہوری اور ان کے شیخ مولانا عبدالملك اور ان کے شیخ بایزید ثانی اور شیخ شناوی پیر حضرت سید صبغۃ اﷲ بروجی اور ان دونوں صاحبوں کے پیر مولنا وجیہ الدین علوی ان سب علماء ومشائخ نے سیفی وغیرہ اعمال جواہر خمسہ کی اجازتیں اپنے اساتذہ سے لیں اور تلامذہ کو عطا کیں اور جناب شاہ محمد غوث گوالیاری تو ان سلاسل کے منتہی اور جواہر خمسہ کے مولف ہیں رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ اجمعین۔ اب ملاحظہ ہو کہ اسی جواہر خمسہ میں اسی دعائے سیفی کی ترکیب میں کیا لکھا ہے :
ناد علی ہفت بار یاسہ بار یا یك بار بخواندہ و آں ایں است ۔ سات بار یاتین بار یا ایك بارنادعلی پڑھے اور وہ یہ ہے :
الانتباہ فی سلاسل اولیاء طریقہ شطاریہ برقی پریس دہلی ص١٣۸
الانتباہ فی سلاسل اولیاء طریقہ شطاریہ برقی پریس دہلی ص١٣٧
تجدہ عونالك فی النوائب
کل ھم وغم سینجلی
بولایتك یا علی یا علی یا علی
حیرت زاد چیزوں کے مظہر حضرت علی کو ندا کر انھیں ناگہانی آفتوں مصیبتوں میں اپنا مدد گار پائے گا ہر رنج وغم دور ہوجائے گا آپ کی ولایت سے اے علی اے علی اے علی! (ت)
اگر مولا علی کو مشکل کشا ماننا مصیبت کے وقت مددگار جاننا ہنگام غم وتکلیف اس جناب کو ندا کرنا یا علی یا علی کا دم بھرنا شر ك ہو تو معاذ اﷲ تمھارے نزدیك حضرات مذکورین سب کفار ومشرکین ٹھہریں اور سب سے بڑھ کر بھاری مشرك کٹر کافر عیاذا باﷲ شاہ ولی اﷲ ہوں جو مشرکوں کو اولیاء اﷲ جانتے اپنا شیخ و مرشد ومرجع سلسلہ مانتے احادیث نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سندیں ان سے لیتے مدتوں ان کی خدمتگاری و کفش برداری کی داد دیتے انھیں شیخ ثقہ وعادل بتلاتے ان کی ملاقات کو بلفظ دست بوس تعبیر فرماتے ہیں محدثین کا تمغا حدیث کی سندیں یوں برباد ہوئیں کہ اتنے مشرکین ان میں داخل پھر شاہ عبدالعزیز صاحب کو شاہ ولی اﷲ صاحب سے یہی نسبت خدمت وارادت وتلمیذ وبیعت ومدح عقیدت حاصل اورا ن کی سب سندوں میں تمھارے طور پر یہ مشر ك اعظم وکافر اکبر شامل کہاں کی شاہی کیسی محدثی اصل ایمان کی سلامتی مشکل انا اﷲ وانا الیہ راجعون ۔ پھر مولوی اسحاق ومیاں اسمعیل بیچارے کس گنتی میں کہ انکی تو ساری کرامات اسی شرکستان کی بھٹی میں مشرکوں کی نسل مشرکوں کی اولاد مشرك ہی پیر مشرك ہی استاد ۔ آنکھ کھلتے ہی مشرك نظر پڑے ہوش سنبھلتے ہی مشرکوں میں بگڑے مشرکوں کی گود مشرکوں کی بغل مشرکوں کا دودھ مشرکوں کا عمل مشرکوں میں پلے مشرکوں میں بڑھے مشرکوں سے سیکھے مشرکوں سے پڑھے مشرك دادا ۔ مشرك نانا عمر بھر مشرکوں کو جانا مانا العیاذ باﷲ رب العلمین ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ الحق المبین مسلمان دیکھیں کہ یا علی یا علی کو شرك ٹھہرانے کی کیا سزا ملی نہ ناحق مسلمانوں کو مشرك کہتے نہ اگلوں پچھلوں کے مشرك بننے کی مصیبت سہتے اس سے یہی بہتر کہ راہ راست پر آئیں سچے مسلمانوں کو مشرك نہ بنائیں ورنہ اپنوں کے ایمان کی فکر فرمائیں کہ کرد کہ نیافت کوبھول نہ جائیں
دیدی کہ خون ناحق پر وانہ شمع را
چنداں اماں نہ داد کہ شب راسحر کند
نسأ ل اﷲ العافیۃ وحسن العاقبۃ امین۔
دیکھا کہ پروانہ کے خون ناحق نے شمع کو اتنی بھی اماں نہ دی کہ شب کو سحر کرے (ت)ہم خدا سے عافیت اور انجام کی خیریت کے خواستگار ہیں الہی قبول فرما! (ت)
اول دو رکعت نفل بعد ازاں یك صد ویازدہ بار درود بعد ازاں یك صد ویازدہ بار کلمہ تمجید و یك صدویازدہ بار شیئا ﷲ یا شیخ عبدالقادر جیلانی الخ ۔
پہلے دو رکعت نفل پڑھے اس کے بعد ایك سوگیار بار درود پھر ایك سوگیارہ بار کلمہ تمجید اور ایك سو گیارہ بار شیئا ﷲ یا شیخ عبدالقادر جیلانی الخ (خدا کے لیے کچھ عطا ہو سے شیخ عبدالقادر جیلانی) (ت)
مقال ( ) : شاہ عبدالعزیز تحفہ اثنا عشریہ میں فرماتے ہیں :
کاش اگر قتلہ عثمان دہ دوازدہ سال دیگر ہم تن بصیر مے دادند وسکوت کردہ مے نشستند سند وہند و ترك و چین نیز مثل ایران وخراسان یا علی یا علی می گفتند الخ
کاش اگر قاتلاں عثمان دس بارہ سال اور صبر کرتے اور خاموش بیٹھتے تو سندھ ہند ترکستان اور چین بھی ایران وخراسان کی طرح یا علی یا علی کہتے الخ (ت)
مقال () : رسالہ فیض عام مزارات اولیاء سے استعانت میں شاہ صاحب کا یہ ارشاد ہے :
طریق استمداد ازایشاں آنست کہ بزبان گوید اے حضرت من برائے کار فلاں درجناب الہی التجامی کنم شمانیز بدعا وشفاعت امداد من نماید لکن استمداد از مشہور ین باید کرد ( ملخصا)
ان حضرات سے استمداد کا طریقہ یہ ہے کہ زبان سے کہے : اے میرے حضور! فلاں کام کے لیے میں بارگاہ الہی میں التجا کررہاہوں آپ بھی دعا وشفاعت سے میری امددکیجئے۔ لیکن استمداد مشہور حضرات سے کرنا چاہئے (ت)
یہ خاص صورت کامسئولہ کاجواب ہے واﷲ الھادی الی سبیل الصواب (اور اﷲ ہی راہ راست کی ہدایت دینے والا ہے۔ ت) الحمد ﷲ کہ یہ نوع بھی اپنے منتہی کو پہنچی سو ۱۰۰ مقال کا وعدہ تھا ایك سو پانچ گنے اس کی وجہ یہ ہے کہ مقصد او ل میں پنتیس سوال تھے مقصد دوم میں ساٹھ حدیثیں ادھر نوع اول میں دوسو ۲۰۰ قول اب یہ ایك سو پانچ مقال مل کر چارسو کا عدد کامل اور فقیر کا وہ مدعا حاصل ہوگیا کہ مولوی صاحب سددہ اﷲ
تحفہ اثنا عشریہ مطاعن عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ الخ سہیل اکیڈمی لاہور ص٣١٤
فتاوٰی عزیزی رسالہ فیض عام مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٧٧
اقول : تحکیم بے قبول طرفین معقول نہیں ۔ مولوی صاحب ماشاء اﷲ فاضل ہیں یہیں کیوں نہ تصفیہ ہوجائے طالبان تحقیق کو اظہار حق سے کیوں باك آئے رسالہ فقیر کو ملاحظہ فرمائیں اگر حق واضح ہوجائے تسلیم واجب ورنہ جواب مناسب ہاں تحریر جواب میں استعداد و استعانت کا اختیار ہے بھوپالیوں سے ہو یا بنگالیوں سے اور اگر اوروں ہی پر رکھنا صلاح وقت ہے تو اہل ہند میں جسے دیکھئے گا بلا مرجح خود احدالفریقین ہے۔ بھوپالیوں کو مثلا مصطفی آبادیوں پر کیا وجہ ترجیح ہے۔ لہذا سب سے قطع نظر کرکے علمائے عرب کو حکم کیجئے کہ دین وہیں سے نکلا اور وہیں کو پلٹ جائےگا اور وہاں کے جمہور علماء پر ان شاء اﷲ تعالی شیطان ہر گز قابو نہ پائے گا۔ جناب مولنا اگر اس رائے کو پسند فرمائیں توا ن اکا برکرام کا مہری دستخطی فتوی بالفعل فقیر کے پاس اصل موجود جس میں اکثر مسائل وہابیت کا رد واضح فرمایا اور طائفہ جدیدہ کو ضال مضل مبتدع مبطل ٹھہرایا فقیر غفراﷲ تعالی لہ اس میں سے چند سطریں متعلق مسئلہ سماع مع شرح ودستخط علماء بتلخیص والتقاط حاضر کرتا ہے واﷲ الہادی اس سوال کے جواب میں کہ وہابیہ عدم علم وعدم سماع موتی کا ادعا واعتقاد رکھتے ہیں فرمایا :
ھذا الادعاء افتراء قبیح وھذا الاعتقاد اعتداء صریح فان العلماء المحققین من الحنفیۃ و الشافعیۃ وغیرہم قد اثبتوا اطلاع الانسان فی البرزخ وسماعہ لسلام الزائر وکلامہ ومعرفتہ و الانس بہ بالاحادیث الصحیحۃ والاثار الصریحۃ و تلك المسئلۃ مع دلائلھا مصرحۃ فی المرقاۃ شرح مشکوۃ لعلی القاری الحنفی وشرح الصدور للحافظ السیوطی وشفاء السقام
یعنی وہابیہ کا یہ ادعاء افترائے قبیح اور یہ اعتقاد ظلم صریح ہے۔ حنفیہ وشافعیہ وغیرہم کے علمائے محققین نے صحیح حدیثوں اور صریح خبروں سے ثابت کیا ہے کہ آدمی برزخ میں علم رکھتا اور زائر کا سلام وکلام سنتا ہے اور اسے پہچانتا ہے اور اس سے انس حاصل کرتا ہے۔ مرقاۃ شرح مشکوۃ علی قاری حنفی وشرح الصدور حافظ سیوطی شافعی وشفار امام سبکی وغیرہا جمہور محققین کی کتب مشہورہ میں اس مسئلہ اور اس کے دلائل کی تصریح ہے یہاں تك
کہ علماء نے عقائد کی مشہور کتابوں میں اس کی طرف اشارہ کیا مقاصد وشرح مقاصد میں تصریح فرمائی کہ معتزلہ وغیرہم کے نزدیك یہ بدن شرط ادراك ہے تو ا ن کے مذہب میں جب آلات بدنی نہ رہے ادراك جزئیات بھی نہ رہا اور ہم اہل سنت کے نزدیك ادراك باقی رہنا ہے قواعد اسلام اسی کی تائید کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قبور ابرار کی زیارت اور ارواح اولیاء سے استعانت نفع دیتی ہے۔ غرض روح انسانی کے ادراك باقی اور اسے موضع دفن سے بہت تعلقات ہیں احادیث و آثار اس پر گواہ ہیں جنھیں جان بوجھ کر انکار نہ کریگا مگر باطل کوش دشمن حق۔ (ت)
اس کے بعد شبہات منکرین کا نصوص علماء سے ردکیا اور عمائد علماء حرمین طیبین نے اس پر مہر و دستخط ثبت فرمائے۔
شرح دستخط حضرت مولنا محمد بن حسین کتبی حنفی مفتی مکہ
لاکلا فیہ ولا شك یعتریہ اس میں نہ کلام کی گنجائش نہ شك کی خلش ۔
امر برقمہ محمد بن حسین الکتبی الحنفی مفتی مکۃ المکرمۃ عفی عنہ بمنہ امین۔
شرح دستخط حضرت مولنا وشیخ مشائخنا رئیس المدرسین بالمسجد الحرام
مولنا جمال ابن عبداﷲ بن عمر مکی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
لا یلتفت المفید الا الیہ ولایعول المستفید الا علیہ مفید التفات نہ کرے مگر
اسی طرف اور مستفید اعتماد نہ کرے مگر اسی پر امربرقمہ رئیس المدرسین الکرام
yahan do images bhi hain.
شرح دستخط مولنا حسین بن ابراہیم مالکی مفتی مکہ مبارکہ
لاریب فیہ ولاشك یعتریہ المالکیۃ بمکۃ کتبہ الفقیر حسین بن ابراہیم مفتی المشرقیۃ المحمیۃ
شرح دستخط حضرت مولنا وشیخنا وبرکتنا زین الحرم عین الکرم مولنا احمد زین دحلان شافعی مفتی مکہ مکرمہ قدس سرہ العزیز
رأیت ھذاالمؤلف الشریف الھاوی کل برھان لطیف فرأیتہ قد نص علی عقائد اھل الحق المؤیدین وابطل عقاید اھل الضلال المبطلین میں نے یہ شریف تالیف جامع ہر دلیل لطیف دیکھی تو میں نے اسے پایا کہ اہل حق وار باب تائید کے عقیدے صاف واضح لکھے ہیں اور باطل پر ست گمراہوں کے مذہب باطل کیے ہیں رقمہ بقلمہ المرتجی من
ربہ الغفران احمد بن زین دحلان ۔
شرح دستخط حضرت مولنا محمد بن غرب شافعی مدنی مدرس مسجد مدینہ طیبہ
تاملت فی ھذا المؤلف فرأیت مؤلف قد اجاد و ولکل نص سنی صریح افاد میں نے یہ رسلہ بغور دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کے مصنف نے جید کلام لکھا اور ہر نص روشن کا افادہ کیا۔
کتبہ الفقیر الی اﷲ تعالی محمد بن محمد الغریب الشافعی خادم العلم بالمسجد النبوی۔
شرح دستخط مولنا عبدالکریم حنفی از علمائے مدینہ منورہ
لما تاملت فی ھذا الرسالۃ وجدتھا کالسیف الصارم للمعاند الضلال لا یطعن فیھا الامن اختل عقلہ وقبحت سیرتہ فی جمیع الاجال جب میں نے یہ رسالہ غور سے دیکھا اسے معاند اگمراہ کے حق میں مثل تیغ برآں پایا۔ نہ طعنہ کرے گا مگر وہ جس کی مت کٹی اور عادت بد ہوئی ہر زمانہ میں۔ من خدام طلبۃ العلم “ المتوکل علی اﷲ العظیم عبدالکریم بنعبدالحکیم “ بالمسجد نبوی۔
yahan 4 images hain
وقفت علی ھذا المجموع فالفیتہ مھندا سل علی من شق عصاالجماعۃ معزا لا عن السنۃ میں اس تالیف پر واقف ہوا تو اسے ایك تیغ ہندی پایا کھینچی گئی اس پر جس نے جماعت کا خلاف کیا اور سنت سے کنارہ کش ہوا۔ اشار برقمہ الی الشیخ الاجل الورع الفقیہ الزاھد مولنا عبدالجبار الحنبلی البصری نزیل المدینۃ المنورۃ متع اﷲ المسلمین ببقائہ امین۔
شرح دستخط حضرت مولنا السید ابراہیم بن الخیار شافعی مفتی مدینہ امینہ
کم طالعت بعد ما اطلعت ردوالعلماء الاجلۃ علی الفرقۃ الضالۃ المضلۃ فما رأیت مثل ھذا الرسالۃ میں نے جب سے اطلاع پائی اس فرقہ گمراہ پر علمائے جلیل کے بہت رد دیکھے مگر اس رسالہ کا مثل نظر سے نہ گزرا۔ قال بفمہ ورقمہ بقلمہ خادم العلم بالحرم النبوی الشافعی ابراھیم ابن المرحوم محمد خیار الحسنی الحرمی۔
الحمد اﷲ علی حصول المسئول وبلوغ نھایۃ المامول فقیر عبدالمصطفی احمد رضا سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی نے اس رسالہ کا مسودہ اوائل رجب ۱۳۰۵ھ میں کیا پھر بوجہ عروض بعض اعراض و اہتمام دیگر اغراض مثل تحریر مسائل وتصنیف بعض دیگر رسائل جن کی ضرورت اہم نظر آئی اس کی تبییض نے تاخیر پائی اب بحمد اﷲ بعنایت الہی واعانت حضرت رسالت پناہی علیہ افضل الصلوۃ والسلام وعلی آلہ وصحبہ الکرام سلخ شعبان سند مذکورہ کو وقت عصریہ مسودہ مبیضہ ہوا اور اثنائے تبییض میں سرکار مفیض سے فیوض تازہ کا افاضہ ہوا۔
والحمد اولا واخرا وباطنا وظاھرا وصلی اﷲ تعالی سیدنا مولنا محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وعلینا بھم وبارك وسلم تسلیما کثیرا نسأل اﷲ تعالی ان یتقبل سعینا ویغفرلنا ذنوبنا ویرحم فاقتتنا ویحیینا مسلمین ویمیتنا مومنین ویحشونا فی زمرۃ
اور اول و آخر باطن وظاہر میں خدا ہی کے لیے حمد ہے۔ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد ان کی آل واصحاب ان کے فرزند ان کی جماعت پر اور ان کے طفیل ہم پر بھی خدا کا درود برکت اور بکثرت سلام ہو اﷲ تعالی سے ہماری دعا ہے کہ ہماری کوشش قبول فرمائے ہمارے گناہ بخشے۔ ہماری محتاجی پر رحم فرمائے۔ ہمیں اسلام کے ساتھ زندگی اور ایمان کے ساتھ موت نصیب
الصالحین وان ینفع بھذا التالیف وسائر تصانیفی جمیع اخوانی فی الدین۔ انہ سمیع قریب قدیر مجیب والحمد ﷲ رب العلمین۔
کرے صالحین کی جماعت میں ہمارا حشر فرمائے اور اس تالیف سے اور میں دوسری تصانیف سے میرے تمام دینی بھائیوں کو فائدہ پہنچائے۔ بیشك وہ سننے والا قریب قدرت والا مجیب ہے اور سب خوبیاں خدا کے لیے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ (ت)
تمت وبالخیر عمت
(رسالہ تمام ہوا اور خیرکے ساتھ عام ہوا۔ ت)
yahan aik image hai
تکمیل جمیل وتسجیل جلیل چند فوائد عالیہ کی یاد دہانی میں
حامدا ومصلیا ومسلما
ہر چند یہ فوائد وہی ہیں جن کا ثبوت مباحث رسالہ میں گزرا مگر کتاب میں ان کے لیے کوئی فصل معین نہ تھی متفرق مواقع پر واقع ہوئے لہذا ان کے مہتم بالشان ہونے نے چاہا کہ یہاں ان کے مواضع پر مطلع کردیا جائے۔
فائدہ اولی : اس مسئلہ میں خلاف کرنے والے بدعتی گمراہ ہیں دیکھو (قول ۱۵ / ۱) کہ ادراکات موتی کا انکار مذہب معتزلہ ہے (قول۱۸ / ۲) کہ بعض معتزلہ رافضی جمادیت موتی سے سند لائے (قول۱۹ / ۳ ) کہ میت کا جماد ہونا مذہب اعتزال ہے (قول۲۵ / ۴) کہ علم موتی کا منکر نہ ہوگا مگر حدیثوں سے جاہل ہے اور دین سے منکر (قول ۱۹۹ / ۵ و ۲۰۰ / ۶) کہ علم وسمع وبصر موتی پر تمام اہل سنت وجماعت کا اجماع ہے۔ پرظاہر کہ ان کے اجماع کا مخاطب نہ ہوگا بد مذہب گمراہ۔
فائدہ ثانیہ : اہل قبور کے زائروں کو دیکھتے پہچانتے ان کا کلام سنتے سلام لیتے جواب دیتے ہیں یہ بات ہمیشہ ہے اس میں کسی دن کی تخصیص نہیں جمعہ وغیر جمعہ سب یکساں نہ کسی وقت کی خصوصیت ہاں جمعہ کے دن خصوصا صبح کو معرفت ترقی پر ہوتی ہے۔ دیکھو (قول ۶۶ / ۱ و ۶۹ / ۲ و ۸۰ / ۳ و ۸۱ / ۴ و ۸۲ / ۵ و حاشہ قول ۸۱ / ۶) اور خود وہ تمام احادیث اور صدہا اقوال کہ فصول مقاصد دوم سوم میں اس مطلب پر منقول ہوئے کہ اپنے اطلاق وارسال سے اس عموم واطلاق کی دلیل کافی ہیں کما مرت الاشارۃ الیہ فی الکتاب (جیسا کہ کتاب میں اس کی طرف اشارہ گزرا۔ ت)
عــــہ : ھذا جبریل علیہ السلام راہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولہ ست مائۃ جناح منہا جناحان سدا الافق وکان یدنو من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حتی یضع رکبتیہ علی رکبتیہ ویدیہ علی فخذیہ وقلوب المخلصین تتسع للایمان بانہ من الممکن انہ کان ھذا الدنو و ھو فی مستقرہ من السموت وفی الحدیث فی رؤیۃ جبریل فرفعت راسی فاذا جبریل صاف قدمیہ بین السماء والارض یقول یا محمد انت رسول اﷲ وانا جبریل فجعلت لا اصرف بصری الی ناحیۃ الا رأیتہ کذالك ۱۲ (م)
یہ جبریل علیہ السلام ہیں جنھیں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس حالت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں جن میں سے دو پروں نے سارا افق بھر دیا ہے اور وہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قریب آتے یہاں تك کہ اپنے زانوں حضور کے زانوؤں سے ملا کر اور اپنے ہاتھ حضور کی رانوں پر رکھتے ۔ اور مخلصین کے دل اس بات پر ایمان کی وسعت رکھتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ یہ قرب اسی حال میں ہو جب وہ آسمان کے اندر اپنے مستقر میں موجود ہوں اور حدیث میں حضرت جبریل کو دیکھنے کے بارے میں ہے : میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ جبریل آسمان وزمین کے درمیان اپنے قدموں پر صف بستہ کہہ رہے ہیں اے محمد! آپ اﷲ کے رسول ہیں اور میں جبریل ہوں پھر جس طرف بھی نگاہ پھیرتا انھیں اسی کیفیت میں دیکھتا۔ (ت)
اولا : وہ روح کا جسم پر قیاس اور زندان وہم میں سلطان عقل کا احتباس۔
ثانیا : ہوشمندوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ روحیں تو عوام مومنین کی بھی قبور میں محبوس نہیں رہتیں بلکہ اپنے اپنے مراتب کے لائق علیین یا جنت یا آسمان یا چاہ زمزم وغیرہ میں ہوتی ہیں جسے علمائے کرام یہاں تك کہ شاہ عبدالعزیز صاحب نے بھی تفسیر عزیزی عــــہ میں مفصلا ذکر کیا :
ثالثا یہ اعتراض بعینہ ان احادیث کثیرہ پر بھی وارد جن میں صریح تصریح کہ ارواح مومنین بعد انتقال جہاں چاہیں سیر کرتی ہیں لازم کہ جب وہ سیر کو جائیں قبریں خالی رہ جائیں اور قیامت سے پہلے حشر ہوجائے مگر جہل و تعصب جو نہ کرائیں وہ غنیمت ہے چند سال ہوئے فقیر کے پاس ایك سوال آیا زید کہتا ہے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم روضہ انور سے جہاں چاہتے ہیں تشریف لے جاتے ہیں عمرو منکر ہے انا ﷲ ونا الیہ راجعون فقیر غفراﷲ تعالی لہ نے اس کے جواب میں مفصل فتوی لکھا اور وہاں اس سیر و اختیار کو شہداء وغیر شہداء عام مومنین کی ارواح کے لیے بہت حدیثوں سے ثابت کیا اور کلمات علمائے دین سے اس کے وقائع کئے۔ یہ
عــــہ : مقام علیین بلائے ہفت آسمان است و پائیں آن متصل بہ سدرۃ المنتہی وبالائے آن متصل بپایہ راست عرش مجید است و ارواح نیکاں بعد از قبض در آن جا می رسند ومقربان یعنی انبیاء واولیاء درآن مستقرمی مانند و عوام صلحا را بعد از نویسا نیدن نام و رسانیدنامہائے اعمال بر حسب مراتب در آسمان دنیا یا درمیان آسمان و زمین یا در چاہ زمزم قرار می دہند و تعلقے بقبر نیز ان ارواح رامی باشند ۔ آخر عبارتك کہ مقال میں گزری ۱۲ از تفسیر عزیزی (م)
علیین ساتوں آسمان کے اوپر ہے اس کا زیریں حصہ سدرۃ المنتہی سے متصل ہے اور بالائی حصہ عرش مجید کے دائیں پائے سے متصل ہے نیکوں کی روحیں قبض ہونے کے بعد وہاں پہنچتی ہیں اور مقربین یعنی انبیاء واولیاء اس مستقر میں رہتے ہیں اور عام صالحین کو درج کرانے اور اعمال نامے پہنچ جانے کے بعد حسب مراتب آسمان دنیا یا درمیان آسمان و زمین یا چاہ زمزم میں جگہ دیتے ہیں اور ان کو قبر سے بھی ایك تعلق رہتا ہے۔ (ت)
فائدہ رابعہ بغایت نافعہ : ارواح طیبہ کے نزدیك دیکھنے سننے میں دور و نزدیك سب یکساں ہے یہ ایك مطلب نفیس وجلیل وعظیم الفائدہ ہے جس کی طرف توجہ خاص لازم۔ دیکھو (قول۶۵ / ۱) کہ اولیاء احیاء نور خدا سے دیکھتے ہیں اور نور خدا کو کوئی چیز حاجب نہیں پھر اموات کا کیا کہنا (قول۶۹ / ۲) کہ قبر سے نزدیکی تو جمعہ کو ہوتی ہے اور ادراك وشناخت دائمی (قول۷۸ / ۳ و ۸۶ / ۴) کہ روح جنت یا آسمان یا علیین میں رفیق اعلی میں ہوتی ہے اور وہیں سے زائر کی آواز سنتی ہے جواب دیتی ادراك کرتی اپنے بدن سے کام لیتی ہے۔ پھر کون بتا سکتا ہے کہ زمین سے جنت تك کے لاکھ کے کروڑ منزل کا فاصلہ ہے نہ کہ بریلی سے بغداد یا ہند سے مدینہ صلی اﷲ تعالی علی مالکہا وآلہ وبارك وسلم (قول۱۱۳ / ۵ و ۱۱۴ / ۶) ارواح کے آگے کچھ پردہ نہیں اور انھیں سارا جہاں یکساں ہے (قول۱۸۷ / ۷ و ۱۸۸ / ۸ و۱۸۹ / ۹) کہ ارواح قدسیہ سب کچھ ایسا دیکھتی سنتی ہیں جیسے سامنے حاضر ہے (مقال۷ / ۱۰) شاہ عبدالعزیز صاحب کا قول کہ ر وح کو قرب وبعد مکانی اس دریافت کا حاجب نہیں اس کا حال نگاہ کے سامنے کہ کنویں کے اندر سے ساتوں آسمان کے ستارے دیکھ سکتی ہے۔ یہی معنی ہیں ارشاد عالی دو امام اہلبیت طہارت دو فرزند ریحانین رسالت حضرت امام اجل زین العابدین علی بن حسین شہید کرب وبلاو حضرت امام حسن مثنی ابن امام اکبر سیدنا حسن مجتبی صلوات اﷲ وسلامہ علی ابیہم الکریم وعلیہم کے کہ زائرین مزار اقدس سے فرمایا :
تم اور جو اندلس میں بیٹھے ہیں برابر ہیں (اسے جذب القلوب وغیرہ میں بیان کیاگیا ہے۔ ت) انتم ومن فی الاندلس سواء۔ حکاہ فی جذب القلوب وغیرہ۔
سوال ۶ میں حدیث گزری کہ اﷲ تعالی کا ایك فرشتہ ہے جو روضہ اقدس پر کھڑا تمام جہانوں کی آوازیں سنتا ہے معلوم ہوا کہ یہ خاصہ ملزومہ الوہیت نہیں بلکہ بندے کو اس کا حصول ممکن اور زیر قدرت الہی داخل پھر کسی کے لیے اس کا اثبات شرك ہونا عجب تماشا ہے۔ فقیر غفراﷲ تعالی لہ نے اس کی تحقیق تام اپنے رسالہ سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری میں ذکر کی وباﷲ التوفیق۔
فائدہ خامسہ : ولہذا ان کی امداد ہر جگہ جاری کچھ نزدیکوں پر منحصر نہیں اور اسی لیے ان سے استمداد اور ان کی ندا میں بھی حضور مزار غیر مشروط بلکہ جہاں سے چاہو صحیح و درست ہے اگر چہ حضور مزارات میں نفع اتم و زائد ہے دیکھو (قول۱۳ / ۱ و ۱۱۴ / ۲) غور کرو ائمہ مجتہدین کے پیر و تمام ملك خدا میں کہاں سے کہاں تك پھیلے ہیں پھر وہ کیونکر ہر شخص کی ہر مشکل وآفت میں مدد فرماتے اور دائما خبر گیراں رہتے ہیں اس طرح حضرات اولیائے کرام
دیکھو (مقال۸۸ / ۵) شاہ ولی اﷲ کہتے ہیں گھر بیٹھے ارواح طیبہ کی طرف توجہ کرو دیکھو (سوال۱۲ / ۶) مزرا مظہر صاحب عارضہ جسمانی میں حضرت مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کی طرف اور مشکل باطنی میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی جانب توجہیں کرتے ادھر سے امداد فرمائی جاتی دیکھو (سوال۱۷ / ۷ و مقال۳۲ / ۸) گھر بیٹھے قصائد سناتے ارواح عالیہ سے نوازشیں پاتے دیکھو (سوال۱۸ / ۹ و مقال۱۰ / ۱۰) حضور پر نور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی نسبت کہا حضور کے جس متوسل سے ملاقات ہوئی توجہ والا اس کے حال پر مبذول پائی دیکھو (مقال۳۳ / ۱۱) مغلوں کا بیان کہ جنگل میں سوتے وقت اپنا مال حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ العزیز کی حمایت میں سونپتے ہیں اس پر غیب سے مدد پاتے ہیں دیکھو (مقال۳۴ / ۱۲ ) ہر شہر میں بندگان خدا ولایت قطبیت کے مراتب پاتے ہیں پھر کیونکر ان سب کو وہ فیض حضرت ائمہ اطہار و حضور غوث الثقلین رضی اللہ تعالی عنہم عطافرماتے ہیں۔ دیکھو
عــــہ : فائدہ جلیلہ : علامہ زیادی پھر علامہ اجہوری پھرعلامہ داؤدی پھر علامہ شامی فرماتے ہیں : جس کی کوئی چیز گم جائے مکان بلند پر رو بقبلہ کھڑ ے ہوکر فاتحہ پڑھے اور اس کا ثواب حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نذر کرے پھر اس کا ثواب سیدی احمد بن علوان یمنی قدس سرہ العزیز کی خدمت میں ہدیہ کرے ا سکے بعد یوں عرض سا ہو کہ : یا سیدی احمد یا ابن علوان! میری گمی ہوئی چیز مجھے مل جائے الخ۔ ردالمحتار حاشیہ درمختار کے منہیہ میں ہے :
قررالزیادی ان الانسان اذا اضاع لہ شیئ و ارادان یرد اﷲ سبحانہ علیہ فلیقف علی مکان عال مستقبل القبلۃ ویقرء الفاتحۃ ویہدی ثوابھا للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثم یھدی ثواب ذلك لسیدی احمد بن علوان ویقول یا سیدی احمد یا ابن علوان ان لم ترد علی ضالتی و الا نزعتك من دیوان الاولیاء فان اﷲ تعالی یرد علی من قال ذلك ضالہ ببرکتہ اجہوری مع زیادۃ کذا فی حاشیۃ شرح المنھج للداؤدی رحمہ اﷲ تعالی انتھی ۱۲ (م)
زیادی نے بیان کیا ہے کہ جب کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے تو کسی اونچی جگہ پر قبلہ رو کھڑا ہوجائے فاتحہ پڑھے اور اس کا ثواب نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ہدیہ کرے پھر اس کاثواب سیدی احمد بن علوان کو ہدیہ کرے اور عرض گزار ہو کہ سیدی احمد یاابن علوان ! اگر آپ نے میری گم شدہ چیز واپس نہ کرائی تو دفتر اولیاء سے آپ کا نام نکلوا دوں گا اﷲ تعالی یہ کہنے والے کو اس کی گم شدہ چیز ان کی برکت سے واپس دلادے گا ____ اجہوری باضافہ اس طرح داؤدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی شرح منہج میں ہے ۱۲(ت)
تنبیہ : یہ مواضع بعیدہ سے استمداد کا مسئلہ بجائے خود ایك مستقل تالیف کے قابل ہے جس کی تائید میں خود حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بہت احادیث اور خاص تصریح میں حضرت عبداﷲ بن عباس و عبداﷲ بن عمر و عثمان بن حنیف وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم کے آثار اور علاوہ ان چھیالیس مصرحوں تیرہ۱۳ مویدوں کے جن کی طرف فائدہ خامسہ و رابعہ میں ایما ہوا بہت ائمہ دین وعلمائے معتمدین و کبرائے خاندان عزیزی کے اقوال اس وقت میرے پیش نظر جلوہ گر رہے ہیں عجب نہیں کہ حضرت جل وعلا کا ارادہ ہو تو فقیر اپنے رسائل کثیرہ کی تتمیم وتبییض سے فارغ ہو کر خاص اسباب میں ایك جامع رسالہ ترتیب دے اور ان سب احادیث و اقوال ماضیہ وآیۃ کو فراہم کرکے تحقیقات سلطنۃ المصطفی وغیرہا میں اقامت تازہ کا اضافہ کرے واﷲ الموفق وبہ نستعین والحمد ﷲ رب العلمین (اور خدا ہی توفیق دینے والا ہے۔ اور اسی سے ہم مدد مانگتے ہیں اور تمام تعریف اﷲ کے لیے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ ت)
تذییل
نواب صدیق حسن خان بہادر شوہر ریاست بھوپال رسالہ تقصار جیود الاحرار میں تصریح کرتے ہیں کہ غوث الثقلین وغوث اعظم وقطب الاقطاب کہنا شرك سے خالی نہیں میں کہتا ہوں نواب بہادر نے یہاں خدا جانے کس خیال سے ایسا گرا ہوا لفظ لکھا ورنہ بیشك تمام وہابیہ پر فرض قطعی کہ صرف لفظ غوث کہنے پر خالص شرك جلی کاحکم لگائیں غوث اعظم و غوث الثقلین تو بہت اجل و اعظم ہے اخر غوث کے کیا
برخے از اولیاء مسجود خلائق ومحبوب دلہا گشتہ اند مثل حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ وسلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء قدس اﷲ تعالی سرہما۔
کچھ اولیاء خلائق کے مسجود اور دلوں کے محبوب ہوگئے ہیں جیسے حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ اور سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء قدس اﷲ تعالی سرھما (ت)
تنبیہ : ذرا یہ “ مسجود خلائق “ کا لفظ بھی پیش نظر رہے جس نے شرك کا پانی سر سے گزاردیا میاں اسمعیل نے صراط مستقیم میں کہا :
طالبان نافہم میدانندکہ مانیزہم پائیہ حضرت غوث الاعظم شدیم ۔
نافہم طالب یہ سجھتے ہیں کہ ہم بھی غوث الاعظم کے ہم پایہ ہوگئے۔ (ت)
انھیں بزرگوار نے حضرت خواجہ قطب الحق والدین بختیار کاکی قدس سرہ العزیز کو قطب الاقطاب لکھا دیکھو (مقال) اور ہاں مولوی اسحق صاحب تو رہے ہی جاتے ہیں جنھوں نے مائۃ مسائل کے جواب سوال دہم کہا : “ ولایت وکرامت حضرت غوث الاعظم قدس سرہ “ غرض مذہب کوطائفہ عجب مذہب ہے جس کی بناء پر تمام ائمہ وعمائد طائفہ بھی سو سو طرح مشرك کافربنتے ہیں لاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم ۔
تنبیہ مہم واجب الملاحظہ ہر مسلم
الحمد ﷲ کلام نے ذروہ منتہی لیا اور بیان نے مسئلے کو اس کا حق دیا ذلك من فضل اﷲعلینا
صراط مستقیم تکملہ دربیان سلوك ثانی راہ ولایت مکتبہ سلفیہ لاہور ص١٣٢
مائۃ مسائل جواب سوال دہم مسئلہ٩ مکتبہ توحید وسنت پشاور ص٢٠ و ٢١
اب حضرات وہابیہ سے اتنا پوچھ لینا چاہیئے کہ اس مختصر رسالہ کے مقصد سوم نے علماء کے تین سو پانچ قول اپ کے گوش گزار کئے جن میں ایك سو انچاس علم و سمع وبصر موتی کے متعلق خاص اور پانچ میں یہ کہ اولیاء کی کرامتیں بعد وصال بھی باقی ہیں ان ایك سو چون۱۵۴ پر تو آپ کی سرکار سے شاید صرف حکم بدعت وضلالت ہو اگر چہ وہ بھی بتصریح امام الطائفہ مثل محل اصل ایمان ہے۔ باقی کنتے رہے ایك سو اکاون۱۵۱ اور تین قول ابھی ابھی اسی تکملہ کے فائدے میں تازہ مذکور ہوئے۔ یہ پھر ایك سو چون ہوگئے جن کے مفاد مقاصد کی تفصیل اس جدول سے ظاہر۔
اب ان کی نسبت ارشاد ہو وہ ایك سو چون۱۵۴ بدعت تھے یہ ایك سو چون آپ کے مذہب میں خالص شرک اور ان کے قائل ائمہ و افاضل عیاذا باﷲ پکے مشرك ٹھہریں گے یا نہیں اگر کہئے نہ (خدا کرے ایسا ہی ہو) تو الحمد ﷲ کہ ہدایت پائی اور کفر و شرك کی تیز وتند کہ مدتوں سے بیرنگ چڑھی تھی اتار پر آئی رب قدیر کو ہدایت فرماتے کیا دیر لگتی ہے۔ آخر کلمہ پڑھتے ہو شاید پاس اسلام کچھ جھلك دکھا جائے اور محبوبان خدا و ائمہ ہدی کو معاذاﷲ کافر و مشرك کہتے جگر تھرائے ان ذلك علی اﷲ یسیر ان اﷲ علی کل شیء قدیر ( بیشك وہ خدا پر آسان ہے یقینا اﷲ سب کچھ کر سکتا ہے۔ ت) اور اگر شاید اصرار مذہب وتعصب مشرب آڑے آئے اور بے دھڑك آپ کے منہ سے ہاں نکل جائے توآپ صاحبوں سے تو اتنا عرض کروں گا کہ حضرات! جنھیں آپ نے مشرك کہہ دیا ذرا نگاہ رر برو ان میں شاہ ولی اﷲ و شاہ عبدالعزیز صاحبان اور ان کے اسلاف واخلاف یہاں تك کہ خود بانی مذہب امام اطائفہ مولوی اسمعیل دہلوی بھی ہیں اب ان کی نسبت تصریحا استفسار اگر یہاں جھجکے تو کہوں گا کیوں صاحب! اسی بات پر ائمہ ہدی تو پناہم بخدا چنین وچناں ٹھہریں اور یہ حضرات مطلق العنان
yahan aik image hai
ﰰ لله اذن لكم ام على الله تفترون(۵۹) كیف تحكمون(۳۶) ام لكم كتب فیه تدرسون(۳۷) ان لكم فیه لما تخیرون(۳۸)
کیا خدا نے تم کو اس کا اذن دیا ہے یا اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہو تمھیں کیا ہوا تم کیسا حکم لگاتے ہو یاتمھارے لیے کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ اس میں تمھارے لیے وہ ہے جو تم پسند کرتے ہو۔ (ت)
اور اگر شاید بات کی پچ ایسی ہی آپڑی کہ یہاں بھی کھل کر شرك کی جڑی
شادم کہ از قیباں دامن کشاں گزشتی گومشت خام ماہم برباد رفتہ باشد
(میں خوش ہوں کہ تم رقیبوں سے دامن کھینچ کر نکل گئے گو اس میں ہماری خاك بھی برباد ہوگئی۔ ت)
غرض اس تقدیر پر اپ سے زیادہ عرض کا کیا محل ہوگا جز این کہ سلام علیکم لا نبتغی الجهلین(۵۵) (سوائے اس کے کہ تم پر سلام ہم نادانوں کو نہیں چاہتے۔ ت)
ہاں عوام اہلسنت کو بیدار کروں گا کہ بھائیوں! اب بھی وضوح حق میں کچھ باقی ہے جس نامہذب ناپاك مشرب کی روح سے صحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین وعلمائے دینوی و اولیائے کاملین قرون ثلثہ سے لے کر آج تك سب کے سب معاذا ﷲ مشرك کافر بدعتی خاسر ٹھہریں ع
مذہب معلوم واہل مذہب معلوم ظاہر ہے کہ وہ طائفہ تالفہ کیسا ہوگا اور اسے سنت وجماعت سے کتنا علاقہ سبحان اﷲ سنت جماعت کو شرك بتائیں جماعت سنت کو مشرك ٹھہرائیں پھر سنی ہونے کا دعوی بجا۔
کلا ورب العرش الاعلی قل جاء الحق وزھق الباطن ان الباطن کان زھوقا والحمد ﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد والہ وصحبہ اجمعین سبحانك الھم وبحمدك اشھد ان لا الہ الا انت استغفرك واتوب الیك والحمد ﷲ رب العالمین
عرش اعلی کے رب کی قسم ہر گز نہیں! فرمادو حق آیا اور باطل مٹا بیشك باطل مٹنا ہی تھا ساری تعریف خدا کے لیے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ اور درود سلام رسولوں کے سردار حضرت محمد اور ان کے آل واصحاب پر اے اﷲ ! تیری حمد کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتاہوں ۔ میں گواہی دینا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے مغفرت کا طالب اور تیری بارگاہ میں تائب ہوں اور سب خوبیاں سارے جہانون کے مالك اﷲ کے لیے ہیں (ت)
القرآن ۶۸ / ۳۶ تا ۳۸
القرآن ٢٨ / ٥٥
اللھم لك الحمد وبك استعین صل وسلم وبارك علی الامان الامین المبارك الیمین حبیبك والہ وصحبہ اجمعین ما بربار او حنث حانث فی یمین ۔
اے اﷲ تیرے ہی لیے حمد ہے اور میں تجھ سے مدد کا طالب ہوں امانت دار امان یمین وبرکت والے اپنے حبیب اور ان کی تمام آل واصحاب پر درود و سلام نازل فرما جب تك کوئی قسم پوری کرنے والا قسم پوری کرے یا قسم توڑنے والا قسم توڑے۔ (ت)
عائدہ جزیلہ تحقیق مسئلہ یمین میں : حضرات منکرین کی غایت سعی وتمام مایہ ناز اس باب میں جو کچھ ہے وہ یہی مسئلہ یمین ہے جسے دکھا کر عوام بلکہ کم علموں کو متزلزل کردیتے ہیں یا کیا چاہتے ہیں مائتہ مسائل میں کافی شرح وافی وفتح القدیر وکفایہ حواشی ہدایہ و مستخلص وعینی شروح کنز سے طولانی عبارتیں کچھ قطع وبرید کچھ بیگانہ مزید پر مشتمل نقل کیں کہ عوام بڑی بڑی عبارات عربیہ دیکھ کر ڈر جائیں۔ اور اگر سماع موتی سے منکر نہ ہوں تو لااقل تردد تو کر جائیں مگر بحمدﷲ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ سب نری ملمع کاری ہے ورنہ وہ عبارات اور ان جیسی سو یا ہزار جتنی اور ہوں نہ ہمیں مضر نہ منکرین کو مفید نہ اہل سنت وجماعت کا اجماعی مسئلہ جو نصوص صریحہ احادیث صحیحہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت کسی مشکك کی تشکیکات بے معنی سے متزلزل ہوسکے فقیر غفراﷲ المولی القدیر اس کی تحقیق و تنقیح میں بھی کچھ کلمات چند نافع وسود مند گزارش کرے کہ باذنہ تعالی موافق کو ثبات و استقامت مخالف منصف کو رشاد و ندامنت مکابر متعسف کو وبال و غرامت دیں
قال اﷲ تعالی جعل لكم الارض فراشا وقال اﷲ تعالی و جعل فیها سرجا و قمرا منیرا(۶۱) وقال اﷲ تعالی و جعلنا السمآء سقفا محفوظا - ۔
اﷲ تعالی فرماتا ہے : تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور فرماتا ہے : اس میں ایك چراغ اور ایك روشن چاند بنایا۔ اور فرماتا ہے : ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا (ت)
یو ہی قسم کھائی کسی گھر میں نہ جائے گا تو مسجد وغیرہ معابدہ میں جانے سے حانث نہ ہوگا اگر چہ لغتہ ان پر بھی گھر کا لفظ صادق وجہ وہی ہے کہ اگر چہ شرعا یا لغتہ یہ اشیاء ان الفاظ میں داخل مگر ایمان میں عرفا شمول درکار ہے وہ یہاں غیر حاصل بعینہ اسی وجہ سے مسئلہ مذکورہ میں بعد موت بولنے سے حنث زائل کہ کسی سے نہ بولنا عرفا اس کی موت کے بعد سلام وکلام کو غیر شامل اس سے یہ تراش لینا کہ ہمارے اصل ائمہ مذہب کے نزدیك میت سے کلام حقیقۃ یا شرعا کلام نہیں محض باطل اور ایسا گمان کرنے والا اصل مبنائے مسئلہ سے جاہل یا ذائل ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم نے جس طرح یہ تصریح فرمائی یوں ہی یہ بھی کہ صورت مذکورہ میں اگر قسم کھانے والا اور زید دونون نماز میں تھے اور زید نے سلام پھیرنے میں ہمراہیوں پر سلام کی نیت کی حانث نہ ہوگا اور بیرون نماز اگر زید کسی مجمع میں ہو اور قسم کھانے والا السلام علیکم کہے حانث ہوجائے گا یو نہی اگر زید امام تھا اور یہ مقتدی زید نماز میں کچھ بھولا اس نے بتایا قسم نہ ٹوٹے گی اور نماز سے باہر بتایا ٹوٹ جائے گی بحرالرائق وردالمحتار وغیرہ کتب کثیرہ میں ہے :
لو سلم علی قوم فیھم حنث الا ان
اگر کسی جماعت کو سلام کیا جس میں وہ بھی موجود ہے
القرآن ٢٥ / ٦١
القرآن ٢١ / ٣٢
( جس سے کلام نہ کرنے کی قسم کھائی تھی) تو حانث ہوجائےگا۔ لیکن اگر سلام میں اس کا قصد نہ کیا تو دیانۃ اس کا بیان مانا جائے گا اور اگر نماز کا سلام پھیرا اور وہ جس سے متعلق قسم کھائی تھی اس کے بائیں موجود ہے تو بھی قسم نہ ٹوٹی یہی صحیح ہے۔ اس لیے کہ دونوں سلام بھی ایك طرح داخل نماز ہیں۔ اور اگر وہ امام تھا یا مقتدی سہو پر اس کے لیے سبحان اﷲ کہا یا قرأت میں غلطی پر لقمہ دیا تو حانث نہ ہوگا اور بیرون نماز ایسا ہوا تو حانث ہوجائے گا۔ (ت)
اب اس سے یہ قرار دے لینا کہ نمازی پھتر ہیں نمازی کچھ سنتے نہیں نمازیوں سے کلام حقیقۃ کلام ہی نہیں۔ اس جہالت کی کچھ بھی حد ہے خواہ انھیں کی کتب مستندہ کی عبارتیں سنئے۔ کافی میں ہے :
الاصل ان الالفاظ المستعملۃ فی الایمان مبنیۃ علی العرف عندنا (الی ان قال) قلنا ان غرض الحالف ما ھو المتعارف فیتقید بماھو غرض الابری ان من خلف ان لایستضی بالسراج اولا یجلس علی البساط فاستضاء بالشمس او جلس علی الارض لایحنث وان سمی فی القرآن الشمس سراجا والارض بساطا رجل حلف ان لایدخل بیتا لا یحنث بدخل الکعبۃ والمسجد و البیعۃ والکنیسۃ الخ۔
اصل یہ ہے کہ ہمارے نزدیك قسم میں استعمال ہونے والے الفاظ کی بناء عرف پر ہے (آگے فرمایا) ہم یہ کہتے ہیں قسم کھانے والے کا مقصد وہی ہوتا ہے جو عرف میں جاری ہے تو ا س کی قسم اس کے مقصود سے مقید رہے گی۔ دیکھے اگر کسی نے قسم کھائی کہ چراغ سے روشنی نہ لے گا یا بچھونے پر نہ بیٹھے کا اور سورج سے روشنی لی یا زمین پر بیٹھا تو حانث نہ ہوگا اگر چہ قرآن میں سورج کو چراغ اور زمین کو بچھونا فرمایا ہے۔ کسی نے قسم کھائی گھر میں نہ جائے گا توکعبہ ومسجد یا کلیسا اور گرجا میں جانے سے حانث نہ ہوگاالخ۔ (ت)
اسی فتح القدیر میں ہے :
الاصل ان الایمان مبینۃ علی العرف عندنا لاعلی الحقیقۃ اللغویۃ کما نقل عن الشافعی
اصل یہ ہے کہ ہمارے نزدیك قسم کی بنا پر عرف پر ہے حقیقت لغویہ پر نہیں۔ جیسا کہ امام شافعی سے منقول
کافی شرح وافی
ہے ___ نہ ہی قرآن کے استعمال پر ___ جیسا کہ امام مالك کے یہاں ہے ___ نہ ہی مطلقا نیت پر ____ جیسا کہ امام احمد کے یہاں ہے۔ (ت)
اسی کفایہ میں ہے :
الاصل ان لالفاظ المستعملۃ فی الایمان مبنیۃ علی العرف عندنا وعند الشافعی علی الحقیقۃ لان الحقیقۃ بان یراد وعند مالك علی معانی کلام القران لانہ علی اصح اللغات وافصحھا ولنا ان غرض الحاف ماھو والمتعارف فینعقد بغرضہ ۔
اصل یہ ہے کہ قسم میں جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں ہمارے نزدیك ان کی نبا عرف پر ہے۔ اور امام شافعی کے یہاں حقیقت پر ہے اس لیے کہ حقیقت اس قابل ہے کہ مراد ہو اور امام مالك رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے یہاں الفاظ قرآن کے معانی پر ہے اس لیے کہ قرآن سب سے زیادہ صحیح اور فصیح زبان پر وارد ہے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ قسم کھانے والے کی غرض وہ ہی ہوتی ہے جو عرف میں ہے تو اس کی غرض سے منعقد ہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے :
رجحنا العرف علی الحقیقۃ لان مبنی الایمان علی العرف ۔
ہم نے عرف کو حقیقت پر ترجیح دی اس لیے کہ قسم کی نبا عرف ہی ہوتی ہے۔ (ت)
اسی مستخلص شرح کنز میں کفایہ کا پہلا کام بعینہ نقل کرکے لکھا :
کذا فی الکفایۃ وقد ذکر فخر الاسلام فی اصول ان من جملۃ ماترك بہ الحقیقۃ خمسۃ انواع وعدمن جملتھا استعمال العرف الغالب ۔
اسی طرح کفایہ میں ہے۔ اور فخر الاسلام نے اصول میں بیان فرمایا ہے کہ جن امور سے حقیقت متروك ہوجاتی ہے وہ پانچ قسم کے ہیں ان میں اکثر عرف کے استعمال کو بھی شمار کیا۔ (ت)
اسی عینی شرح کنز میں ہے :
الکفایۃ مع فتح القدیر باب الیمین فی الدخول والسکنی نورانی کتب خانہ پشاور ٤ / ٣٧٧
الکفایۃ مع فتح القدیر مسائل متفرقہ نورانی کتب خانہ پشاور ٤ / ٣٧٣
مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق ، کتاب الایمان ، باب الیمین فی الدخول والسکنی دلی پرنٹنگ پریس دہلی ٢ / ٣٣٧
ہمارے نزدیك قسم عرف پر مبنی ہوتی ہے اور امام شافعی وامام احمد کے نزدیك حقیقت پر اور امام مالك کے نزدیك کلمات قرآن کے معانی پر۔ (ت)
بلکہ اسی فتح القدیر میں خاص ہمارے مسئلہ دائرہ کے مبنی علی العرف ہونے کی تصریح کی فرماتے ہیں :
یمینہ لاتنعقد الا علی الحی لان المتعارف ھوا لکلام معہ ۔
یعنی یہ قسم خاص حالت زندگی ہی پر منعقد ہوگی کہ عرف میں کسی سے بولنا اس کی زندگی ہی میں بات کرنے کوکہتے ہیں ۔
علامہ علی قادری مکی حنفی مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں اسی مسئلہ کو ذکر کرکے فرماتے ہیں :
ھذا منھم مبنی علی ان مبنی الایمان علی العرف فلا یلزم نفی حقیقۃ السماع کما قالوا فیمن حلف لا یاکل اللحم فاکل السمکۃ مع انہ تعالی سماہ لحماطریا ۔
یعنی ہمارے علماء کا یہ ارشاد کہ بعد موت کے کلام سے قسم نہ ٹوٹے کی اس پر مبنی ہے کہ قسم کی بناء عرف پر ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مردے حقیقتا نہیں سنتے جس طرح ہمارے علماء نے فرمایا کہ جو گوشت کھانے کی قسم کھائے مچھلی کھانے سے حانث نہ ہوگا حالانکہ اﷲ عزوجل نے قرآن عظیم میں اسے تروتازہ گوشت فرمایا۔
اسی طرح شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث حنفی اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں بعد ذکر مسئلہ کہ :
اگر کیے سوگند خورد کہ کلام نہ کنم پس کلام کرد اور رابعد مردن اوحانث نمی گردد ۔
اگر کسی نے قسم کھائی کہ فلاں سے بات نہ کروں گا پھر اس کے مرنے کے بعد اس سے کلام کیا حانث نہ ہوگا۔ (ت)
اس کی وجہ ارشاد فرماتے ہیں :
مبنائے ایمان برعرف وعادت است نہ برحقیقت ۔
قسم کی بنیاد عرف وعادت پر ہے حقیقت پر نہیں (ت)
فتح القدیر باب الیمین فی الکلام نوریہ رضویہ سکھر ۴ / ۴۱۷
مرقاۃ المفاتیح باب حکم لاسراء فصل اول مسئلہ سماع الموتٰی مکتبہ امدادیہ ملتان ٨ / ١١
اشعۃ اللمعات باب حکم لاسراء فصل اول مسئلہ سماع الموتٰی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٢٩٩
اشعۃ اللمعات اب حکم لاسراء فصل اول مسئلہ سماع الموتٰی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٢٩٩
و منهم من یلمزك فی الصدقت-فان اعطوا منها رضوا و ان لم یعطوا منها اذا هم یسخطون(۵۸) ۔
ان میں کوئی وہ ہے جو صدقات کے بارے میں تم پر عیب لگاتا ہے۔ اگر انھیں ان میں سے کچھ دے دیا جائے تو راضی ہوجائیں اور نہ دیا جائے تو ناراض ہوجائیں۔ (ت)
ارشادات حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے زعم میں ان کے ہوسات کو جگہ دی تو خوش ہیں
القرآن ۹ / ٥٨
فاقول : وبحول اﷲ تعالی اصول تقریر جوابات سے پہلے مقدمات مفید دلائل تمہید والتوفیق من اﷲ العزیز الحمید :
مقدمہ اولی : فصول سابقہ میں ثابت ہوا کہ اہلسنت کے نزدیك روح کے لیے فنا نہیں موت سے روحوں کا مرجانا بد مذہبوں کا قول ہے۔ کتب عقائد مثل مقاصد ومواقف وطوالع اور ان کی شروح غیرہا اس کی تصریحات سے مالا مال ہیں یہ مسئلہ بلکہ خود روح جسم کے علاوہ ایك شی ہونا ہی اگر چہ بنظر بعض الناس منجملہ نظریات تھا جس کے سبب امام اجل فخر الدین رازی کو تفسیر کبیر میں زیر کریمہ و یســٴـلونك عن الروح- اس پر سترہ۱۷ حج قاہرہ عــــہ کا قائم کرنا پڑا مگر قرآن وحدیث پر اتنے نصوص واضحہ قاطعہ عطا نہیں فرماتے جن کا حصر وشمار ہوسکے اور اب توبحمدﷲ تعالی یہ باتیں اہل اسلام میں بدیہات سے ہیں جان کا جاننا ہر ایك جان نہیں مگر انجان جان کا جانا جسم سے نکلنا ضرور جانتاہے اور ساتھ ہی فاتحہ وخیرات وایصال ثواب حسنات و صدقات سے بتادیتاہے کہ وہ روح کو باقی وبرقرار مانتاہے تو موت حقیتا صفت بدن ہے نہ کہ وصف روح ولہذا علامہ الوجود مفتی ابوالسعود محمد نے تفسیرات ارشاد العقل السیلم میں زیر قول تعالی بل احیاءعند ربھم (بلکہ وہ اپنے رب کے یہاں زندہ ہیں۔ ت)فرمایا :
فیہ دلالۃ علی ان روح الانسان جسم لطیف لایفنی بخراب البدن ولایتوقف علیہ ادراکۃ وتالمہ والتذاذہ ۔
اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کی روح ایك جسم لطیف ہے جو بدن کے ہلاك ہونے سے فنا نہیں ہوتی اور س کا ادراك اور لذت والم پانا بدن پر موقوف نہیں۔ (ت)
عــــہ : ان میں بعض دلائل کا خلاصہ قریب آتا ہے جن سے موت بدن حیات روح بھی ثابت ۱۲منہ (م)
ارشاد العقل السلیم تحت آئیہ مذکورہ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ١١٢
اللھم رب الارواح الفانیۃ والاجساد البالیۃ الحدیث ولفظہ عند ابن السنی عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا دخل الجبانۃ یقول السلام علیکم ایتھا الارواح الفانیۃ والابدان البالیۃ والعظام النخرۃ التی خرجت من الدنیا وھی باﷲ المؤمنۃ اللھم ادخل علیھم روحامنك وسلاما منا ۔
اے اﷲ فانی ارواح اور بوسیدہ اجسام کے رب الحدیث۔ ابن السنی کے یہاں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی روای سے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں وہ فرماتے ہیں : رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب قبرستان میں داخل ہوتے تو فرماتے : تم پر سلام ہو اے فانی ارواح اور بوسیدہ اجسام اور گلی ہوئی ہڈیو ! جو دنیا سے خدا پر ایمان کے ساتھ نکلے۔ اے اللہ! ان پر اپنی جانب سے اسائش اور ہماری طرف سے سلام پہنچا۔ (ت)
علامہ عزیزی اس حدیث کے نیچے سراج المنیر میں فرماتے ہیں : (الارواح الفانیۃ) ای الفسانی اجسادھا ۔ (ارواح فانی کا مطلب یہ ہے کہ جن کے جسم فانی ہیں۔ ت)علامہ زین العابدین مناوی تیسیر میں فرماتے ہیں : یعنی الارواح التی اجسادھا فانیۃ ولا فالارواح لاتفنی (یعنی وہ ارواح جن کے جسم فانی ہیں ورنہ ارواح تو فنا نہیں ہوتیں۔ ت)علامہ حفنی حاشیہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں :
قولہ الفانیۃ ای الفانیۃ اجسادھا اذا الارواح لا تقضی ولذا اتی بالجملۃ بعدھا مفسرۃ لذالك اعنی والابدان البالیۃ ای فی غیر نحو الشھداء ۔
ا س قول “ الفانیۃ “ یعنی جن روحوں کے جسم فانی ہیں کیونکہ روحیں فنا نہیں ہوتی اس لیے اس کی تفسیر کرنیوالا جملہ بعد میں لائے ۔ میری مراد الابدان البالیہ (بوسیدہ اجسام) یعنی شہداء کے ماسوا اجسام بوسیدہ ہیں (ت)
کتاب عمل الیوم واللیلۃ باب مایقول اذا خرج الی المقابر حدیث ٥٩٣ نور محمد اصح المطابع کراچی ص ۱۹۸
السراج المنیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث مذکورہ مطبعۃ ازہریۃ مصریۃ مصر ٣ / ١٢٥
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث مذکورہ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیۃ۲ / ۲۴۸
حواشی الحفنی علی ھامش السراج المنیر شرح الجامع الصغیر مطبعۃ ازہریۃ مصریۃ مصر ٣ / ١٢٥
فیہ ان الاموات یسمعون اذ لا یخاطب الامن یسمع ۔
یعنی اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہو کہ مردے سنتے ہیں خطاب اس سے کیا جاتا ہے جو سنتا ہو۔
احادیث نوع اول مقصد اول پر نظر تازہ کیجئے تو وہ ایك ساتھ ان کو مطالب کو ادا کر رہی ہیں کہ بدن و روح دونوں پر میت کا اطلاق ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتی ہیں کہ حقیقت موت بدن کے لیے ہے روح اس سے پاك و مبرا ہے مثلا حدیث پنجم میں ارشاد ہو اکہ جو شخص مردے کو نہلا تا کفناتا اٹھا تا دفناتا ہے مردہ اسے پہچانتا ہے پر ظاہر کہ یہ افعال بدن پر وارد ہیں نہ کہ روح پر اور پہچاننا کہ روح پر اور پہچاننا کام روح کا ہے۔ اور جب وہ اپنے ادراك پر باقی ہے تو اسے موت کہا! موت کی چھوٹی بہن نیند میں تو پہچان رہتی نہیں موت میں کیونکر رہتی یونہی حدیث ۶ و۷ و احادیث تا وغیرہ سب اسی طرح ان جملہ مطالب کی معا مودی ہیں کما لا یخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) لاجرم شاہ عبدالعزیز صاحب نے تفسیر عزیزی میں فرمایا :
موت بمعنی عدم حس وحرکت و عدم ادراك وشعور جسد را رومی دہد روح را اصلا تغیر نمی شود چنانچہ حامل قوی بود حالاہم ہست وشعورے وادراکے کہ داشت حالاہم دارد بلکہ صاف تر و روشن تر پس ارواح رامطقا خواہ روح شہید باشد یا روح عامہ مومنین یا روح کافر وفاسق بایں معنی مردہ نتواں گفت مردگی صفت بدن است کہ شعور وادراك و حرکات وتصرفات کہ سبب تعلق روح باوی ازوی ظاہر می شدند حالانمی شوند آری روح را بدو معنی موت لاحق می شود اول آنکہ از مفارقت بدن
موت کا یہ معنی کہ حس و حرکت ختم ہوجائے اور ادراك و شعور مفقود ہوجائے۔ صرف جسم کے لیے ہوتا ہے۔ اور روح میں بالکل کوئی تغیر نہیں ہوتا وہ جیسے پہلے حامل قوی تھی اب بھی ہے۔ پہلے جو شعور و ادراك ا سکے پاس تھا وہ اب بھی ہے بلکہ اب زیادہ صاف اور روشن ہے۔ تو اس معنی کرکے روح کو مردہ نہیں کہہ سکتے مطلقا خواہ شہید کی روح ہو یا عام مومن کی روح یا کافر فاسق کی روح موت بدن کی صفت ہے کہ روح کے تعقل کی وجہ سے جو شعور وادراك اور حرکات تصرفات بدن سے
ظاہر ہوتے تھے اب نہیں ہوتے___ ہاں روح کو دو معنی میں موت لاحق ہوتی ہے__ ایك یہ کہ بدن سے جدا ہوجانے کے بعد اس کی ترقی رك جاتی ہے دوسرے یہ کہ کھانے پینے جیسی لذتیں اس کے قبضے سے نکل جاتی ہے۔ اس لیے کہی شریعت میں اس کے لیے بھی موت کا حکم دیتے ہیں لیکن وہ بھی صرف ان باتوں میں__ مگر خدا کی راہ میں شہید ہونے والوں کے لیے حقیقت میں یہ دونوں معنی بھی نہیں بلکہ یہ حضرات زندہ ہیں اور ان کی ترقی ہمیشہ جاری ہے۔ اور جسمانی لذتیں بھی ان سے موقوف نہیں الخ (ت)
اسی میں ہے :
جان آدمی ہر چند درشدائد ومصائب گرفتار شود بحفظ الہی محفوظ است شکستہ شدن وفنا پذیر فتن آں از محالات است ولہذا درحدیث شریف وارد است انما خلقتم لابد یعنی جان آدمی کہ درحقیقت ادمی عبارت از آنست ابدی است ہر گز فنا پذیر نیست وآنچہ در عرف مشہور است کہ موت ہلاك جاں می کنہ محض مجاز است نہایت کاموت آن ست کہ جان از بدن جدا شود بدن بسبب نایافت مربی و محافظ از ہم باشد والاجان رافنا متصور نیست واثبات علم برزخ ومکان حشر ونشر مبنی برہمیں مسئلہ است الخ۔
آدمی جس قدر بھی سختیوں اور مصیبتوں میں گرفتار ہو مگر اس کی روح خدا کی حفاظت کے باعث محفوظ ہے اس کا ٹوٹنا پھوٹنا اور فنا ہونا محال ہے۔ اس لیے حدیث میں آیاہے : تم ہمیشہ کے لیے پیدا کئے گئے ہو__ یعنی تمھاری جان اور روح __کہ حقیقت میں انسان اسی سے عبارت ہے ___ ابدی اور جاودانی ہے۔ وہ کبھی فنا نہیں ہونے والی۔ اور وہ جو عرف میں ہمیشہ میں مشہور ہے کہ موت جان کا ہلاك کردیتی ہے محض مجاز ہے۔ موت کا زیادہ سے زیادہ اثر یہ ہے کہ جان بدن سے جدا ہوتی ہے اور بدن اپنے مربی ہے ومحافظ کو کھودینے کی وجہ سے بکھر کر رہ جاتا ہے۔ ورنہ جان کے لئے فنا متصور نہیں عالم برزخ اور امکان حشر ونشر کے اثبات کی بنیاد اسی مسئلہ پر ہے۔ الخ (ت)
بالجملہ موت بہ معنی حقیقی کہ بدن ہی کو عارض ہوتی ہے وہی ایسی چیز ہے کہ جسے لاحق ہو مہمل ومعطل و
تفسیر عزیزی پارہ عم سورہ الطارق آیت ولاتقولو المن یقتل الخ مسلم بك ڈپو لال کنواں دہلی ص٢٢٦
ما كذب الفؤاد ما راى(۱۱) علی القول المختار ان المرا دبالرؤیۃ بحاسۃ البصر ۔
دل نے غلط نہ کہا اسے جو آنکھ نے دیکھا۔ یکہ معنی قول مختار کی بنیا د پر ہے کہ یہاں رؤیت سے مراد حاسہ نگاہ سے دیکھنا ہے۔ (ت)
تفسیر کبیر میں ہے :
ان الانسان شیئ واحد وذلك الشی ھوالمبتلی بالتکالیف الالھیۃ والامورالربانیۃ وھو الموصوف بالسمع والبصر ومجموع البدن لیس کذلك ولیس عضو من اعضاء البدن کذلك فالنفس شی مغائر لجملۃ البدن ومغائر الاجزاء البدن وھو موصوف بکل ھذہ الصفات ۔
انسان ایك شی واحد ہے۔ اسی شی کا تکلیفات شرعیہ اور احکام ربانیہ سے ابتلا ہے۔ وہی سننے دیکھنے سے متصف ہے۔ اور پورا بدن یہ صفت نہیں رکھتا نہ ہی اعضائے بدن میں سے کوئی عضو اس وصف کا ہے۔ تو روح پورے بدن کے مغایر اور ہر جزو بدن کے مغایر ایك شے ہے۔ وہی ان تمام صفات سے متصف ہے۔ (ت)
اس میں بعد اقامت حج کے لکھتے ہیں :
فثبت بما ذکرنا ان النفس الانسانیۃ شیئ واحد وثبت ان ذلك الشی ھو المبصر والسامع والشام و الذائق واللامس والمتخیل والمتفکر والمتذکر و المشتھی والغاضب وھوالموصوف بجمیع الادراك لکل المدرکات وھو موصوف بجمیع
یہاں مذکور سے ثابت ہوا کہ روح انسانی ایك شی واحد ہے۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ وہی شی دیکھنے سننے سونگھنے چکھنے چھونے خیال کرنے سوچنے یاد کرنے خواہش کرنے غصہ کرنے والی ہے۔ وہی تمام ادراکات سے متصف ہے۔
المصابیح المنیر کتاب الباء منشورات درالجہرۃ قم ایران ١ / ٢٤٧
التفسیر الکبیر تحت ویسئلونك عن الروح المطبعۃ البھیۃ العربیۃ الازہر مصر ٢١ / ٥٢
اور وہ تمام افعال اختیاریہ اور حرکات ارادیہ سے متصف ہے۔ (ت)
پھر فرمایا :
لما کانت النفس شیئاواحدا امتنع کون النفس عبارۃ عن البدن وکذا القوۃ السامعۃ وسائر القوی فانا نعلم بالضرورۃ انہ لیس فی البدن جز واحد ھو بعینہ موصوف بالابصار والسماع والفکر فثبت ان النفس الانسانیۃ شیئ واحد موصوف بجملۃ ھذہ الادراکات وثبت بالبداھۃ ان البدان و شیئامن اجزاء البدن لیس کذلک ولنقرر ھذا البرھان بعبارۃ اخری فنقول نعلم بالضرورۃ انا اذا بصرنا شیئاعرفناہ واذا عرفناہ اشتھیناہ واذا اشتھیناہ حرکنا ابداننا الی القرب منہ فوجب القطع بان الذی البصر ھو الذی عرف ھو الذی اشتھی ھوالذی حرك الی اخرما اطال اوطاب ھذا مختصر ملتقط۔
جب روح شی واحد ہے تو محال ہے کہ روح بدن سے یا قوت سامعہ یا دیگر قوی سے عبارت ہو اس لیے کہ ہمیں بدیہی طور پر معلوم ہے کہ بدن میں کوئی ایك خاص جز ایسا نہیں کہ وہی دیکھنے سننے اور فکر کرنے سے متصف ہو تو ثابت ہو کہ روح انسانی وہ شی واحد ہے جو ان تمام ادراکات سے متصف ہے ___ اور بدیہی طور پر یہ بھی ثابت ہے کہ بدن اور اجزائے بدن میں کوئی جز ایسا نہیں۔ اس دلیل کی تقریر ہم دوسرے الفاظ میں یوں کرتے ہیں کہ دیہی طور پر ہم جانتے ہیں کہ جب ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو اس کو پہچان لیتے ہیں اور جب اسے پہچان لیتے ہیں تو ہم اس کی خواہش کرتے ہیں اور جب اس کی خواہش کرتے ہیں تو اپنے بدن کو اس سے قریب ہونے کے لیے حرکت دیتے ہیں تو اس بات کا قطعی طور پر حکم کرنا ضروری ہے کہ جس نے دیکھا اس نے پہچانا اسی نے خواہش کی اسی نے حرکت دی امام رازی نے اس کی مزید تفصیل اور عمدہ تقریر فرمائی ہے یہاں اختیار کے ساتھ جگہ جگہ کی عبارتوں کا انتخاب نقل ہوا۔ (ت)
تفسیر عزیزی میں ہے :
جزو اعظم جان است وشعورو ادراك وتلذذ وتألم
جزو اعظم جان ہے اور شعور وادراك اور احساس
التفسیر الکبیر تحت یسئلونك عن الروح المطبعۃ البہیۃ العر بیۃ بمیدان الازہر مصر ۲۱ / ۴۸و۴۷
لذت والم اس کا خاصہ ہے اھ بتلخیص (ت)
اقول اس معنی پرشرع سے بھی دلائل قاطعہ قائم قرآن عظیم واجماع عقلاء دو شاہد عدل ہیں کہ انسان سمیع وبصیر ہے۔
قال اﷲ تعالی انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج ﳓ نبتلیه فجعلنه سمیعا بصیرا(۲) ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا : بیشك ہم نے آدمی کو ملے ہوئے نطفے سے پیدا کیا تا کہ اسے جانچیں پھر ہم نے اسے سننے دیکھنے والا بنادیا۔ (ت)
اور عقلا ونقلا بدیہات سے ہے کہ انسان کی انکھ کان انسان نہیں تو یقینا ثابت کہ یہ جسے سمیع وبصیر فرمایا چشم وگوش نہیں اور باقی اعضاء کا سمع وبصر سے بے علاقہ ہونا واضح تر تو وہ نہیں مگر روح۔ ولہذا قرآن مجید فرماتا ہے :
الهم ارجل یمشون بها-ام لهم اید یبطشون بها- ام لهم اعین یبصرون بها-ام لهم اذان یسمعون بها- ۔
کیا ان کے پاس پاؤں جن سے وہ چلتے ہیں یا ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں یا آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں یا کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں (ت)
افعال وسمع وبصر کی اضافت صاحب جو ارح کی طر ف فرمائی اور جوارح پر بائے استعانت آئی ثابت ہوا کہ فاعل و سامع وبصیر روح ہے۔ اور بدن صرف آلہ اسی طرح تمام نصوص احوال برزخ کہ بعد فنائے بدن بقائے ادراکات پر شاہد ہیں جن سے جملہ کثیر فصول سابقہ میں گزرا سب سے ثابت کہ مدرك غیر بدن ہے۔ ہاں کبھی مجاذا بدن کی طرح بھی بوجہ آلیت نسبت ادراکات ہوتی ہے قال اﷲ تعالی و تعیها اذن واعیة(۱۲) (اﷲ تعالی فرماتاہے : اور کوئی سمجھ والا کان سے سمجھے۔ ت) معالم میں ہے : قال قتادۃ اذن سمعت وعقلت ماسمعت (حضرت قتادہ نے فرمایا : کوئی کان جو سنے اور سنی ہوئی بات کو سمجھے۔ ت)مدارك میں ہے :
قال قتادہ اذن عقلت من اﷲ تعالی و انتفعت بماسمعت ۔
حضرت قتادہ نے فرمایا : کوئی کان جس نے خدا تعالی سے کلام کو سمجھا اور سنی ہوئی بات سے فائدہ اٹھایا۔ (ت)
القرآن ٧٦ / ٢
القرآن ٧ / ١٩٥
القرآن ۶۹ / ١٢
معالم التزیل علی ھامش تفسیر الخازن تحت آیہ مذکورہ مصطفی البابی مصر ٧ / ١٤٣
تفسیر النسفی المعروف بہ مدارك التنزیل تحت آیہ مذکورہ درالکتاب العربی بیروت ٤ / ٢٨٦
التحقیق ان الانسان جوھر واحد وھو الفعال وھو الدراك وھو المؤمن وھو الکافر وھو المطیع وھوالعاصی وھذہ الاعضاء الات لہ وادوات لہ فی الفعل فاضیف الفعل فی الظاھر الی الایۃ وھو فی الحقیقۃ مضاف الی جوھر ذات الانسان ۔
تحقیق یہ ہے کہ انسان ایك جوہر ہے وہی کام کرنے والا ہے وہی سمجھنے والا ہے وہی ایمان لانے والا ہے وہی اطاعت کرنے والا ہے وہی نافرمانی کرنے والا ہے ۔ اور یہ اعضاء کام میں اس کے آلات واسباب ہیں تو ظاہر میں کام کی نسبت آلہ کی طرف کی گئی اور حققیت میں وہ اسی جوہر ذات انسان کی طرف منسوب ہے۔ (ت)
مقدمہ ثالثہ : جب باجماع اہل حق روح کے لیے موت نہیں اور تمام کتب عقائد میں تصریح اور شرح مقاصد کی عبارت فصل دوم نوع اول مقصد سوم میں گزری کہ اہل سنت کے نزدیك جسم شرط حیات نہیں معتزلہ اس میں خلاف کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ادراکات تابع حیات ہیں کما نص علی فی شرح طوالع الانوار اللعلامۃ التفتازانی وللاصفھانی وشرح الموافق للسید الجرجانی (جیسا کہ علامہ تفتازانی واصفہانی کی شروح طوالع الانوار اور سید شریف جرجانی کی شرح مواقف میں اس کی تصریح ہے۔ ت) ولہذا ہمارے نزدیك روح موت سے متغیر نہیں ہوتی اس کے کلام وادراك بدستور رہتے ہیں جس کا بیان شافی درجہ کافی فصل مذکور میں مسطور تو روح بعد دفن فتنہ وسوال یا نعیم ونکال کسی امر میں ہرگز اعادہ حیات کی محتاج نہیں کہ حیات وادراکات اس سے جدا ہی کب ہوئے تھے ہاں بدن ضرور محتاج ہے۔ وجہ یہ کہ اہل سنت کے نزدیك قبر کی تنعیم یا معاذاللہ
مسند احمد بن حنبل مروی از ا بوہریرہ دارالفکر بیروتٍ ٢ / ٣١٣
صحیح مسلم باب الضیافۃ ونحوھا قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٨١۔ ٨٠
التفسیر الکبیر سورہ انفال تحت ایہئ ذلك بما قدمت ایدیکم مطبعہ بہیہ مصریہ مصر ١٥ / ١٧٩
عذاب القبر محلہ الروح والبدن جمیعا باتفاق اھل السنۃ وکذا القول فی التنعیم ۔
باتفاق اہل سنت عذاب قبر اور اسائش قبر کا محل روح اور بدن دونوں میں ہیں (ت)
اور اس پر شرع مطہرہ سے نصوص کثیرہ وشہیرہ متواتر دال ہیں جن کے استقصا کی طرف راہ نہیں اسی کتاب کی احادیث مذکورہ میں بکثرت اس کے دلائل ہیں کما تری اسی طرح سوال نکیرین بھی روح وبدن دونوں سے ہے۔ شرح فقہ کبر میں ہے :
لیس السوال فی البرزخ للروح وحدھا کما قال ابن حزم وغیرہ منہ قول من قال انہ للبدن بلاروح والاحادیث الصحیحۃ ترد الاقولین ۔
برزخ میں تنہا روح سے سوال نہیں جیسے ابن حزم وغیرہ کا قول ہے اور اس سے زیادہ فاسد اس کا قول ہے جو کہتا ہے کہ سوال صرف بدن بے روح سے ہے۔ صحیح احادیث دونوں قولوں کی تردید فرماتی ہیں۔ (ت)
اور جماد میں حیث ہو جماد سے سوال یا اسے لذت خواہ الم کا ایصال بداہۃ محال لاجرم وقت سوال بدن کو ایك نوع حیات کی عود سے چارہ نہیں اگر چہ ہم اس کی کیفیت جزمانہ جانیں امام اجل ابوالبرکات نسفی عمدۃ الکلام میں فرماتے ہیں :
عذاب القبر للکفار ولبعض العصاۃ من المؤمنین والانعام لاھل الطاعۃ باعادۃ الحیاۃ فی الجسد وان توقفنا فی اعادۃ الروح حق ۔
کفار اور بعض گنہگار مومنین کے لیے عذاب قبر اور اہل طاعت کے لیے اسائش وانعام حق ہے اس طرح کہ جسم میں زندگی لوٹادی جائے اگر چہ روح کے لوٹانے میں ہمیں توقف ہو۔ (ت)
امام الائمہ مالك الازمہ سید نا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فقہ اکبر میں فرماتے ہیں :
سوال منکر ونکیر فی القبر حق واعادۃ الروح الی العبد فی قبر حق ۔
قبر میں منکر نکیر کا سوال حق ہے اور قبر میں بندے کی طرف روح کا اعادہ حق ہے۔ (ت)
شرح فقہ الاکبر تعلق الروح بالبدن علی خمسۃ انواع مطبع قیومی کانپور بھارت ص١٥٤
عمدۃ الکلام للنسفی
فقہ اکبر ملك سراج الدین اینڈ سنز لاہور ص١٨
(اعادۃ الروح) ای ردھا وتعلقھا (الی العبد) ای جسدہ بجمیع اجزانہ او ببعضھا مجتمعۃ او متفرقۃ (فی قبرہ حق) والواولمجرد الجمعیۃ فلا ینا فی ان السوال بعد اعادۃ الروح وکمال الحال ۔
(روح کا اعادہ) یعنی اسے لوٹا نا اور اس کا تعلق ہونا (بندے کی طرف) یعنی اس کے بدن کی طرف جو اپنے تمام اجزاء کے ساتھ ہو یا بعض کے ساتھ ہو یہ مجتمع ہوں یا منتشر ہوں (اس کی قبر کے اندر حق ہے) اور “ واو “ محض جمیعت کے لئے ہوتا ہے تو اس کے منافی نہیں کہ سوال روح لوٹانے اور حالت کامل ہوجانے کے بعد ہوگا۔ (ت)
اسی میں ہے :
اعلم ان اھل الحق اتفقوا علی ان اﷲ تعالی یخلق فی المیت نوع حیاۃ فی القبر قدر مایتألم ویتلذذ ولکن اختلفوا فی انہ ھل یعاد الروح الیہ والمنقول عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ التوقف الا ان کلامہ ھنا یدل علی اعادۃ الروح اذ جواب الملکین فعل اختیاری فلا یتصور بدون الروح وقیل قد یتصور الخ
جان لو کہ اہل حق کا اس پر اتفاق ہے کہ اﷲ تعالی میت کے اندر قبر میں ایك طرح کی زندگی پیدا کردیتاہے ۔ اتنی کہ وہ لذت و الم کا احساس کرے مگر اس میں ان کا اختلاف ہے کہ اس کی جانب روح لوٹائی جاتی ہے یا نہیں اور امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول یہ ہے کہ توقف کیا جائے۔ مگر یہاں پر ان کا کلام اعادہ روح پر دال ہیے اس لیے کہ نکیرین کا جواب ایك فعل اختیاری ہے تو وہ بغیر روح کے متصور نہیں اور کہا گیا کہ متصور ہے۔ (ت)
امام ابن الہمام اسی فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
الحق ان المیت المعذب فی قبرہ توضع فیہ الحیاۃ بقدر ما یحس الالم والبدنیۃ لیست بشرط عند اھل السنۃ حتی لوکان متفرق الاجزاء بحیث لاتتمیز الاجزاء بل ھی مختلطۃ بالتراب فعذب جعلت الحیاۃ
حق یہ ہے کہ قبر میں عذاب دئے جانے والے مردے کے اندر اتنی زندگی رکھی جاتی ہے کہ وہ الم کا احساس کرے اور یہ بدن اس کے لئے شرط نہیں یہاں تك کہ اگر اس کے اجزء اس طرح بکھر چکے ہوں کہ امتیاز نہ ہوسکے بلکہ مٹی سے خلط ملط ہو گئے ہوں پھر عذاب دیا جائے
شرح فقہ اکبر تحت عبارت ما بعد مطبع قیومی کانپور بھارت ص١٢٢
تو حیات ان ہی اجزاء میں کردی جائے گی جو نظر نہیں آتے اور بلا شبہہ اﷲ اس پر قادر ہے۔ اس سے اختلاف اگر عذاب قبر سے انکار کی بنا پر ہو تو ہو سکتاہے ورنہ کسی عاقل سے متصور نہیں کہ وہ اس کا قائل ہو کہ بغیر احساس کے عذاب ہوگا۔ (ت)
پھر روح کی نسبت تو اوپر واضح ہوچکا کہ اس کی حیات مستمرہ غیر منقطعہ ہے۔ مگر بدن کے لیے بعد عود بھی استمرار ضروری نہیں کہ وہ ایك تعلق خاص بمقصد خاص ہوتاہے جس کے انصرام پر اس کا انقطاع بجا ہے۔
امام بدر الدین عینی عمدۃ القاری شرح البخاری میں بجواب معتزلہ دلائل اثبات عذاب قبر میں فرماتے ہیں :
لنا ایات احدھا قولہ تعالی النار یعرضون علیھا غد وا وعشیا فھو صریح فی التعذیب الموت الثانیۃ قولہ تعالی ربنا امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین فان اﷲ تعالی ذکر الموتۃ مرتین وھما لا تتحقان الا ان یکون فی القبر حیاۃ وموت حتی تکون احدی الموتتین ما یتحصل عقیب الحیاۃ فی الدنیا والاخری مایتحصل عقیب الحیاۃ التی فی القبر ۔
ہماری دلیل میں متعدد آیتیں ہیں ایك باری تعالی کا یہ ارشاد “ وہ (فرعون اور اس کے ساتھی) صبح و شام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں “ یہ بعد موت عذاب دئے جانے کے بارے میں صریح ہے دوسری آیت ارشاد باری : “ اے ہمارے رب! تو نے دوبار ہمیں موت دی اور دوبار حیات دی “ اﷲ تعالی نے دو بار موت کاذکر فرمایا ہے۔ یہ اسی وقت ہوگا جب قبر میں موت وحیات ہو کہ ایك موت تو وہ ہے جو دنیا کی زندگی کے بعد ہوتی ہے اور دوسری وہ جو قبر والی زندگی کے بعد ہوتی ہے۔ (ت)
شرح الصدور میں بدائع سے ہے :
نقلت من خط القاضی ابی یعلی فی تعالیقہ لابد من انقطاع عذاب القبر لانہ من عذاب الدنیا والدنیا وما فیہا منقطع فلابد ان
قاضی ابویعلی کی قلمی تحریر جو ان کی تعلیقات میں ہے اس سے میں نے نقل کیا ہے کہ عذاب قبر کا منقطع ہونا ضروری ہے اس لیے کہ وہ عذاب دنیا کی جنس سے ہے
عمدۃ القاری شرح بخاری باب المیّت یسمع خفق النعال ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر ٨ / ٤٦۔ ١٤٥
اور دنیا اور دنیا کے اندر جو کچھ ہے سب منقطع ہے تو انھیں فنا اور بوسیدگی لاحق ہونا ضروری ہے اور اس مدت کی مقدارمعلوم نہیں (ت)
پھرفرمایا :
قلت ویؤید ھذا ماا خرجہ ھنادبن السری فی الزھد عن مجاھد قال للکفار ھجعۃ یجدون فیھاطعام النوم حتی یوم القیامۃ فاذا صیح باھل القبور یقول الکافر یویلنا من بعثنا من مرقدنا فیقول المؤمن الی جنبیہ ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون ۔
میں نے کہا : ا س کی مؤید وہ ہے جو ہناد بن سری نے زہد میں امام مجاہد سے روایت کیا فرمایا کفار کیلئے ایك خوابیدگی ہوگی جس میں نیند کا مزہ پائیں گے قیامت تك جب قبر والوں کو پکارا جائے گا کافر بولے گا : ہائے ہماری خرابی! کس نے ہمیں ہماری خواب گاہ سے اٹھایا توا س کے پہلو سے مومن بولے گا : یہی وہ جس کا رحمن نے وعدہ دیا اور رسولوں نے سچ فرمایا۔ (ت)
مقدمہ رابعہ : سمع وبصر لغۃ وعرفا ادراك الوان واضواء واصوات بحاسہ چشم وگوش کا نام ہے۔ قاموس میں ہے : السمع حس الاذن (سماعت کان کی جس کانام ہے۔ ت)اسی میں ہے : “ البصر “ محرکۃ حس العین (بصر ___ صاد کی حرکت کے ساتھ___ آنکھ کے احساس کا نام ہے ۔ ت) اسی طرح تاج العروس میں محکم سے ہے۔ صحاح جوہری و مختار رازی میں ہے : البصر حاسۃ الرئویۃ (بصر حاسہ رؤیت ہے۔ ت)المصباح المنیر میں ہے : البصر النور الذی تدرك بہ الجارحۃ (بصر وہ نور ہے جس سے عضو کو ادراك ہوتاہے۔ ت)اسی میں ہے : ورأیت الشیئ رؤیت بحاسۃ البصر (میں نے شیئ کو دیکھا یعنی میں نے اسے حاسہ بصر سے دیکھا) اسی معنی پر مواقف و شرح مواقف میں فرمایاا نما یحصل الادراك السمعی بوصل الھواء الی الصماخ (سمعی ادراك
شرح الصدور آخرباب عذاب القبر خلافت اکیڈ می منگورہ سوات ص ٧٦
لقاموس المحیط باب العین فصل السین مصطفی البابی مصر ٣ / ٤١
لقاموس المحیط باب الراء فصل الباء مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۸۷
الصحاح للجوہری تحت لفط “ بصر “ دارالعلم للملایین بیروت ٢ / ٥٩١
المصباح المنیر کتاب الباء منشورات دارالہجرۃ قم ایران ١ / ٥٠
المصباح المنیر کتاب الراء منشورات دارالہجرۃ قم ایران ١ / ٢٤٧
شرح المواقف المر صدالخامس فی النظر منشورات الشریف الرضی ایران ١ / ٢٠١
الادراك بالبصر یتوقف علی امور ثلثۃ مواجہۃالبصر عــــہ۱ و تقلیب الحدقۃ نحوہ طلبا لرؤیتہ عــــہ۲ و
نگاہ سے ادراك تین امور پر موقوف ہے : نظر کا رو برو ہونا آنکھ کی پتلی کو اس کی جانب اسے دیکھنے کی طلب
عــــہ۱ : ای للمبصر نفسہ اوشجہ المنطع فی نحو مرأۃ علی القول بالانطباع ام علی القول بخروج الشعاع فمقابلۃ المبصر حاصلۃ فی الوجہین لاجل الانعکاس اقول ومیل ائمتنا الفقھاء الی القول بالانطباع ھو ان یقولو ا کون الابصاربہ وبذالك بانھم صرحوا ان الرجل اذا رأی فرج امرأۃ وھی فی الماء تثبت حرمۃ المصاھرۃ ولو رای فرجھا فی الماء لامنہ وھی خارجۃ لم تثبت لانہ علی الاول رأی فرجھا وعلی الثانی انما رای شجہ لانفسہ کما فی الخانیۃ وغیرھا فلو قالوا بالانعکاس لکان رای نفس الفرج فی الصور تین “ فلیحفظ “ فانی لم ار من نبہ علی ثم رأیت المحقق نبہ علی فی فتح القدیر وﷲ الحمد ۱۲منہ (م)
عــــہ۲ : اقول : قید الطلب خرج وفاق فلیس من شرط الرؤیئۃ طلبھا والمراد بالازالۃ العدم اصلیا او طاری بافعل الرائی اوغیرہ ۱۲منہ (م)
یعنی نگاہ کا خود مرئی کے سامنے ہونا یا اس کی مثال کہ جو آئینہ وغیرہ میں منطبع ہو یہ اس قول پر کہ آئینہ میں شیئ کی صورت مطبع ہوتی ہے او شعاع بصری نکلنے والے قول پر تو مرئی کا سامنا انعکاس کی وجہ سے دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔ اقول ہمارے ائمہ فقہا کا میلان قول انطباع کی طرف ہے کہ رؤیت انطباع سے واقع ہوتی ہے۔ وہ میلان یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات نے تصریح فرمائی ہے کہ جب عورت پانی کے اندر ہو اور کوئی مرداس کی شرمگاہ دیکھے تو حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے اور جب عورت پانی سے باہر ہے اور مرد نے پانی سے نہیں بلکہ پانی میں اس کی شرمگاہ دیکھی تو حرمت نہ ثابت ہوگی اس لیے کہ پہلی صورت میں اس نے خود شرمگاہ دیکھی اور دوسری صورت میں خود شرمگاہ نہیں بلکہ اس کی مثال دیکھی جیسا کہ خانیہ وغیرہ میں ہے ___ تو یہ فقہاء ا گر انعکاس کے قائل ہوتے تو خود شرمگاہ کی رؤیت دونوں صورت میں قرار پاتی اسے یاد رکھنا چاہئے اس لیے کہ اس پر تنبیہ میں نے کہیں نہ دیکھی ___ پھر حضرت محقق کو دیکھا کہ انھوں نے فتح القدیر میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے۔ اور حمد اﷲ ہی کے لئے ہے ۱۲منہ (ت)
اقول : طلب کی قید اتفاقی ہے اس لئے کہ دیکھنے کی طلب شرط نہیں اور ازالہ سے مراد یہ ہے کہ پردہ نہ ہو خواہ سرے سے نہ رہا ہو یا بعد میں دیکھنے والے یا کسی اور کے عمل سے زائل ہوگیا ہو ۱۲منہ (ت)
میں گردش دینا دیکھنے سے مانع پردہ کا ازالہ (ت)
اور ا س کا اطلاق بے واسطہ جو ارواح وآلات ادراك تام جزئیات مذکورہ خواہ غیر مذکورہ بروجہ جزئی مخصوص پر بھی کیا جاتا ہے یہاں نہ مدرك بالفتح میں صورت ولون وضو کی تخصیص ہے نہ مدرك بالکسر میں آلات جسمانیہ کی قید روز قیامت مومنین اپنے رب عزوجل کو دیکھیں گے اور اس کا کلام سنیں گے اور وہ اور اس کی صفات اعراض سے پاك ہیں اور مولی عزوجل سمیع وبصیر علی الاطلاق ہے اور آلات وجوارح سے منزہ مصباح میں ہے : سمع اﷲ قولك علمہ (خدانے تیری بات سنی یعنی اسے جانا۔ ت) مجمع البحار میں ہے :
البصیر تعالی یشاھد الا شیاء ظاھرھا وخافیھا من غیر جار حۃ والبصر فی حقہ تعالی عبارۃ عن صفۃ ینکشف بھا کمال نعوت المبصرات ۔
خدائے بصیر بغیر کسی عضو کے اشیاء کا مشاہدہ فرماتا ہے ان کے ظاہر کا بھی اور باطن کا بھی او رباری تعالی کے حق میں بصر ایك ایسی صفت سے عبارت ہے جس سے مرئیات کی صفات کا کامل طور پر منکشف ہوجاتی ہیں۔ (ت)
منح الروض میں ہے :
السمع صفۃ تتعلق بالمسموعات والبصر صفۃ تتعلق بالمبصرات فیدرك ادراکا تاما لاعلی سبیل التخیل والتوھم ولاعلی طریق تاثیر حاسۃ ووصول ھواء ۔
سمع ایك صفت ہے جس کا تعلق مسموعات سے ہے اور بصر ایك صفت ہے جس کا تعلق مبصرات سے ہے تو اسے ادراك تام ہوتا ہے مگر خیال ووہم کے طور پر نہیں نہ ہی حاسہ کی تاثیر اور ہوا پہنچنے کے طور پر ۔ (ت)
اسی اطلاق پر مواقف وشرح میں فرمایا :
الثانیۃ شبھۃ المقابلۃ وھی ان شرط الرؤیۃ کما علم بالضرورۃ من التجربۃ المقابلۃ او مافی حکمھا نحوالمرئی فی المراۃ وانھا مستحیلۃ فی حق اﷲ تعالی لتنزھہ عن المکان
دوسرا شبہہ مقابلہ کا ہے۔ وہ یہ کہ رؤیت کی شرط یہ ہے کہ مرئی مقابل ہو جیسا کہ بداھت تجربہ سے معلوم ہے یا مقابلہ کے حکم میں ہو جیسے وہ جو آئینے میں نظر آتا ہے۔ اور مقابل ہونا اﷲ تعالی کے حق میں محال ہے۔
مصباح المنیر تحت لفظ سمع منشورات دارالہجرۃ قم ایران ۱ / ۲۸۹
مجمع البحار باب الباء مع الصاد مطبع عالی منشی نولکشور لکھنؤ ١ / ٩٦
شرح فقہ الاکبر شرح الصفات الذاتیہ مصطفی البابی مصر ص١٩۔ ١٨
اس لیے کہ وہ جہت اور مکان سے پاك ہے۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ مقابلہ کا شرط رؤیت ہونا ہم نہیں مانتے۔ (ت)
امام نسفی مصنف کافی مذکور نے عمدۃ الکلام میں فرمایا :
ماقالوا من اشتراط المقابلۃ وغیرہ یبطل برؤیۃ اﷲ تعالی ایانا ۔
یہ جو کہا گیا کہ رویت کے لئے مقابلہ وغیرہ شرط ہے۔ اس دلیل سے باطل ہے کہ خدائے تعالی ہمیں دیکھتا ہے اور مقابلہ وغیرہ بالکل نہیں۔ (ت)
روح ملاصق بالبدن کا سمع وبصر بروجہ اول ہے اور مفاق کا از قبیل دوم
کل ذلك علی الاغلب و الافربما یحس الملاصق بنورہ کما فی کشوف الاولیاء والمفارق بالالات الباقیۃ الدائمۃ کما فی الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ومعنی المفارقۃ فیھم طریان الفراق انی تحقیقا للوعد الربانی ۔
یہ سب حکم اکثری ہے ورنہ بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کہ بدن سے متعلق روح اپنے نور کے ذریعہ احساس کرتی ہے جیسا کہ اولیاء کرام کے کشف میں ہوتا ہے۔ اور بدن سے مفارق روح ان آلات کے ذریعہ احساس کرتی ہے جو باقی ودائم ہوتے ہیں جیسے حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے احساسات میں ہوتا ہے اور ان کے حق میں بدن سے روح کی مفارقت کا معنی بس ایك آن کے لئے جدائی کا طاری ہونا تا کہ وعدہ الہیہ (ہرنفس کے لئے موت) کا تحقیق ہوجائے۔ (ت)
اور اس معنی سے انکار کی منکران سماع موتی کو بھی گنجائش نہیں کہ آخر رؤیت جنت و نار ونعیم وعذاب و سماع وکلام ملائکہ ماننے سے چارہ کہا اور جب جسم معطل اور آلات مختل تو یہی ظاہر و عیاں وسیأتی تفصیلہ عنقریب انشاء القریب (ان شاء اﷲ اس کی تفصیل عنقریب آئیگی۔ ت) اور یہاں ایك تیسرے معنی مجازی اور ہیں یعنی رائی ومرئی و سامع وسموع میں بروجہ آلیت واسطہ ہونا اور صور جزئیہ کا مدرك تك پہنچانا یہ اس وقت مراد ہوتے ہیں جب سمع وبصر بدن کی طرف مضاف ہو کما بیناہ فی المقدمۃ الثانیۃ (جیسا کہ دوسرے مقدمہ میں ہم نے اسے بیان کیا۔ ت) خواہ بروجہ اثبات اور یہ ظاہر ہے خواہ بہ ضمن سلب جہاں سلب مقتصر نامستمر ہے لتضمنہ الاثبات کما لا یخفی (اس لئے کہ وہ اثبات کو متضمن ہے جیسا کہ واضح ہے۔ ت)
مقدمہ خامسہ : قرآن واحادیث نصوص شرعیہ ومحاورات عرفیہ سب میں ا نسان طرف صفات روح وجسم
عمدۃ الکلام للنسفی
قال اﷲ تعالی و لقد خلقنا الانسان من سللة من طین(۱۲) ثم جعلنه نطفة فی قرار مكین۪(۱۳) “ الی قولہ سبحانہ “ فتبرك الله احسن الخلقین(۱۴) وقال عزوجل : و اذ قال ربك للملىكة انی خالق بشرا من صلصال من حما مسنون(۲۸) فاذا سویته و نفخت فیه من روحی فقعوا له سجدین(۲۹) وقال تبارك اسمہ انا خلقنهم من طین لازب(۱۱) وقالك جل جلا لہ یایها الناس ان كنتم فی ریب من البعث فانا خلقنكم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم من مضغة مخلقة و غیر مخلقة لنبین لكم-و نقر فی الارحام ما نشآء الى اجل مسمى الایۃ۔
اﷲ تعالی فرماتا ہے : بیشك ہم نےانسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا فرمایا پھر اسے ایك عزت والی قرار گاہ میں ٹھہرایا تاارشاد باری تعالی : تو بڑی برکت والا ہے اﷲ سب سے بہتر بنانے والا اور فرماتا ہے : یاد کرو جب تمھارے رب نے فرشتہ سے فرمایا : بیشك میں بدبودار گارے کی بجتی ہوئی مٹی سے انسان بنانے والا ہوں تو جب میں اسے ٹھیك کرلوں اور اس میں اپنی طرف کی معزز روح پھونك دوں تو تم اس کے لیے سجدہ میں گرجانا اور فرماتا ہے : بیشك ہم نے ان کو چپکتی ہوئی مٹی سے بنایا۔ اور فرماتا ہے : اگر تمھیں بعث سے متعلق کچھ شك ہے تو بیشك ہم نے تم کو مٹی سے بنایا پھر پانی کی بوند سے پھر خون بستہ سے پھر پارہ گوشت سے مکمل اور نامکمل تاکہ تم پر ہم روشن کردیں اور جسے چاہیں ایك مقررہ میعاد تك رحموں میں ٹھہرائیں۔ الآیۃ (ت)
پر ظارہر کہ کھنکھناتی چپکتی خمیر کی ہوئی مٹی پھر پانی کے قطرے پھر خون کی بوند پھر گوشت کے لوتھڑے سے بننار حم میں ایك مدت معین تك ٹھہرنا ٹھیك ہونے کے بعد اس میں روح کا پھونکا جانا یہ سب احوال واطوار عــــہ بدن کے ہیں ۔ اور انسان کی طرف نسبت فرمائی ۔
وقال عزمجد و حملها الانسان-انه كان ظلوما جهولا(۷۲) ۔ و
خدائے عزوجل فرماتا ہے : اور انسان نے اس امانت کو اٹھالیا بے شك وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا
عــــہ : خصوصااخیر کہ غیر بدن کے لیے کسی طرح محتمل نہیں ۱۲منہ (م)
القرآن ١٥ / ۲۸و ۲۹
القرآن ٣٧ / ١١
القرآن ٢٢ / ٥
القرآن ٣۳ / ٧٢
بڑا نادان ہے اور فرماتا ہے : کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہدیاں جمع نہ کریں گے کیوں نہیں ہم قادر ہیں کہ اس کے پور برابر کردیں بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اس کے آگے بے حکمی کرے پوچھتا ہے کب ہے قیامت کا دن (تا ارشاد : ) انسان کہتا ہے اس دن مفر کہاں ( تا ارشاد ربانی : ) اس دن انسان کو بتادیا جائے گا جو اس نے آگے کیا اور پیچھے کیا بلکہ انسان اپنے نفس کو خوب دیکھنے والا ہے اگر چہ اپنے عذر سامنے لائے۔ (ت)
واضح ہے کہ تکالیف شرعیہ سے مخاطب ہونا اور ظلم وجہل وحسبان وارادہ سوال وکلام واعلام ومعرفت ومعذرت یہ سب صفات وافعال روح سے ہیں یو نہی فجور بھی۔
قال عزمجدہ
و نفس و ما سوىهاﭪ(۷) فالهمها فجورها و تقوىهاﭪ(۸) ۔
اﷲ تعالی فرماتا ہے : قسم ہے نفس کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیك بنایا پھر اس کے دل میں اس کی نافرمانی اور پر ہیزگاری ڈالی ۔
انھیں بھی انسان کی جانب اضافت فرمایا بلکہ ایك ہی آیت میں دونوں قسم کے امور اس کے لیے مذکور۔
قال عزشانہ انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج ﳓ نبتلیه فجعلنه سمیعا بصیرا(۲) ۔
باری تعالی فرماتا ہے : بے شك ہم نے انسان کو ملے ہوئے نطفہ سے بنایا کہ اسے آزمائیں پھر ہم نے اسے سننے والا دیکھنے والا بنایا۔
مرد و زن کے ملے ہوئے نطفے سے بدن بنا اور تکلیف وآزمائش روح کی ہے اور وہی شنوا وبینا۔
قال تعالی ذکرہ او لم یر الانسان انا خلقنه من نطفة فاذا هو خصیم مبین(۷۷) و ضرب لنا مثلا و نسی خلقه- الایۃ۔
ارشاد باری تعالی ہے : اور کیا انسان نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ کھلا جھگڑنے والا ہے اور اس نے ہمارے لئے مثل بنائی اور اپنی تخلیق کو بھول گیا۔ (ت)
القرآن ٧٥ / ۱۳ تا۱۵
القرآن ٩١ / ٧ ، ٨
القرآن ٧٦ / ٢
القرآن ٣٦ / ٧٧ ، ٧٨
اما القائلون بان الانسان عبارۃ عن ھذہ البنیۃ المخصوصۃ وعن ھذا الجسم المحسوس فھم جمھور المتکلمین وھذا القول عندنا باطل (وذکر علی حججان الی ان قال) الحجۃ الخامسۃ ان الانسان قد یکون حیا حال مایکون البدن میتا والدلیل قولہ تعالی ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اﷲ امواتا بل احیاء فھذا النص صریح فی ان اولئك المقتولین احیاء والحس یدل علی ان ھذا الجسد میت الحجۃ السادسۃ قول تعالی النار یعرضون علیھا وقولہ اغرقوا فادخلوا نارا وقول علیہ الصلوۃ والسلام من حفرالنار کل ھذہ النصوص تدل علی ان الانسان یبقی بعد موت الجسد الحجۃ السابعہ قول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذاحمل المیت علی بعشہ رفرف روحہ فوق النعش ویقول یا اھلی یا ولدی (الحدیث) ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صرح
اس مخصوص ساخت اور اس محسوس جسم کو انسان بتانے والے جمہور متکلمین ہیں اور یہ قول ہمارے نزدیك باطل ہے (اس پر دلائل ذکر کئے یہاں تك کہ فرمایا : ) پانچویں دلیل یہ ہے کہ انسان کبھی زندہ ہوتا ہے جبکہ بدن مردہ ہوتاہے اور اس کی دلیل یہ ارشاد باری ہے کہ انھیں جوا ﷲ کی راہ میں مارے گئے ہر گز مردہ نہ سمجھنا بلکہ وہ زندہ ہیں یہ صریح نص ہے کہ وہ شہید زندہ ہیں اور احساس یہ بتاتا ہے کہ بدن مردہ ہے ___ چھٹی دلیل : باری تعالی کا ارشاد : فرعون اور اس کے ساتھی آگ پر پیش کیے جاتے ہیں اور یہ ارشاد : وہ غرق کیے گئے پھر آگ میں ڈالے گئے۔ اور رسول اکر م صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان : قبر جنت کے باغو ں میں سے ایك باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایك گھڑا ہے۔ یہ تمام نصوص اس پر دلیل ہیں کہ انسان بدن کی موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے ___ ساتویں دلیل : رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کایہ ارشاد : جب میت کو اس کی چارپائی پر اٹھا یا جاتا ہے اس کی روح جنازے کے اوپر پھڑ پھڑاتی ہے اور کہتی ہے اے میرے لوگو! اے میری اولاد! (الحدیث) نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صراحت فرمادی
کہ جس وقت بدن چارپائی پر ہوتاہے اس وقت ایك شی باقی رہتی ہے جو ندا دیتی ہے اور کہتی ہے : میں نے مال جائز وناجائز طریقوں سے جمع کیا اور معلوم ہوا کہ اہل جس کے اہل تھے اور جو مال جمع کرنے والا تھا اور جس کی گردن پر وبال رہ گیا وہ نہیں مگر وہ انسان ___ تو یہ اس بات کی تصریح ہے کہ جس وقت بدن مردہ ہے اسی وقت انسا ن زندہ باقی اور سمجھنے والا ہے ___ آٹھویں دلیل : اﷲ تعالی کا ارشاد : اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف لوٹ جا اس حالت میں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ___ یہ خطاب بعد موت ہی ہے تو معلوم ہوا کہ بدن موت کے بعد جو اﷲ کی طرف لوٹنے والا ہے وہ زندہ راضی ہوتا ہے اور وہ انسان ہی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ انسان جسم کی موت کے بعد بھی زندہ رہا ___ دسویں دلیل : ہندوستان روم عرب عجم کے رہنے والے تمام اہل عالم اور یہود نصاری مجوس مسلمان تمام ادیان ومذاہب والے اپنے مردوں کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں۔ ان کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں اور ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں اگر وہ جسم کی موت کے بعد زندہ نہ رہتے تو صدقہ دعا ا ور زیارت ایك عبث اور بے فائدہ کام ہوتا __ ا س میں دلیل ہے کہ ان کی اصل فطرت اس پر شاہد ہے کہ انسان نہیں مرتا بلکہ جسم مرتا ہے___ سترھویں دلیل : ضروری ہے کہ انسان علم رکھنے والاہو او رعلم کا حصول قلب ہی میں ہوتا ہے تو لازم ہے کہ انسان اس شے سے عبارت ہو جو قلب میں موجود ہے یا اس شیئ سے جو قلب سے
متعلق ہے (ختم تلخیص اور متعدد جگہوں سے اقتباس کے ساتھ)۔ (ت)
اما م الطریقۃ بحر الحقیقۃسیدنا شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رضی اللہ تعالی عنہ فتوحات مکیہ شریف میں فرماتے ہیں :
لیس فی العلوم اصعب تصورا من ھذہ المسئلۃ فان الارواح طاھرۃ بحکم الاصل والاجسام وقواھا کذلك طاھرۃ بمافطرت علیہ من تسبیح خالقھا وتوحیدہ ثم باجتماع الجسم والروح حدث اسم الانسان وتعلق بہ التکالیف وظھر منہ الطاعات والمخالفات الخ۔
علوم میں اس مسئلہ سے زیادہ عسیر الفہم کوئی نہیں اس لیے کہ ارواح بحکم اصل پاك ہیں اسی طرح اجسا م اور ان کے قوی اپنے خالق کی تسبیح وتو حید کی جس فطرت پر پیدا ہوئے ہیں پاك ہیں پھر جسم اور روح کے ملاپ سے نام انسان رونما ہوا اس سے تکلیفات و احکام وابستہ ہوئے اور اس سے فرمانبرداری وخلاف و رزی ظہور پذیر ہوئی۔ (ت)
امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب الیواقیت والجواہر میں امام ابوطاہر رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے نقل فرماتے ہیں :
الانسان عند اھل البصائر ھذا المجموع من الجسد والروح بما فیہ من المعانی ۔
ارباب بصیرت کے نزدیك انسان جسم وروح کا یہ مجموعہ ہے ان تمام معانی کے ساتھ جو اس میں ہیں۔ (ت)
امام فخرا لدین رازی تفسیر کبیر میں زیر قولہ تعالی فی سورۃ النحل خلق الانسان من نطفة فاذا هو خصیم مبین(۴) فرماتے ہیں :
اعلم ان الانسان مرکب من بدن ونفس فقولہ تعالی (خلق الانسان من نطفة) اشارۃ الی الاستدلال ببد نہ علی وجود
معلوم ہو کہ انسان بدن اور روح سے مرکب ہے تو ارشاد باری تعالی (انسان کو نطفے سے پیدا کیا) بدن انسان سے صانع حکیم کے وجود پر استدلال کی جانب
الیواقیت والجواہر المبحث السادس والستون مصطفی البابی مصر ٢ / ١٥٠
الیواقیت والجواہر بحوالہ شیخ محی الدین مصطفی البابی مصر ٢ / ١٥٤
القرآن ١٦ / ٤
اشارہ ہے۔ اور ارشاد باری (پھر جبھی وہ کھلا جھگڑنے والا ہے) روح انسان کے احوال سے صائع حکیم کے وجود پر استدلال کی جانب اشارہ ہے۔ الخ (ت)
اقول : وباﷲ التوفیق ( میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ ت) آیات کریمہ قران اعظم و محاورات عامہ شائعہ تمام عالم کے ملاحظہ سے بنگاہ اولین ذہین میں منقش ہوتاہے کہ جسے انسان کہتے ہیں اور زید عمر و اعلام یا من وتوضمائر یا این وآن اسمائے اشارہ سے تعبیر کرتے ہیں اس میں روح وبدن دونوں ملحوظ ہیں ایك یکسر معزول ہو ایسا ہر گز نہیں اب خواہ یوں ہو کہ ہر ایك نسخ حقیقت انسانی میں داخل وجزو حقیقی ہو یا یوں کہ ایك سے تجوہر حقیقت اور دوسرے کو معیت وشرطیت مگر ساتھ ہی عقل ونقل کی طرف نظر کیجئے تو ان کا اجماع و اطباق دیکھتے ہیں کہ انسان ایك شیئ مدرك عاقل فاہم مرید مکلف من اﷲ تعالی ہے اور یہ صفات اس کے لیے حقیۃ ثابت ہیں کہ نہ موصوف بالذات کوئی شئی غیر ہو اور اس کی طرف بالتبع بالعرض نسبت کئے جاتے ہوں اس بین و واضح امر کی طرف التفات کرتے ہیں منجلی ہوگیا کہ جس طرح قولین اولین میں تجرد وتمخص بہ معنی بشرط لاشیئ مراد لینا کسی عاقل سے معقول نہیں اگر ہے تو لابشرط اوریہ معنی منقول نہیں کہ روح بدن میں کوئی لحاظ سے بلکل معزول نہیں ا ور قول اول تو اس کا قابل نہیں کہ انسان عاقل ہے اور ابدان ذوی العقول نہیں انسان مالك و متصرف ہے بدن کی طرح آلہ ومعمول نہیں یوں ہی یہ بھی روشن ہوگیا کہ قول اخیر میں مجموع سے مراد بشرط شیئ ہے نہ ترکب نفس حقیقت ورنہ انسان عاقل ومدرك نہ رہے کہ مجموع مدرك ونامدرك نامدرك ہے اور لازم آئے کہ آیات ومحاورات عامہ خواہ مدنیات ہو ں جن میں موصوف بصفات جسم کو انسان کہا گیا یا روحیات جن میں صفات نفس سے انسان کو متصف کیا۔ خواہ جامعات جن میں دونوں کو اجتماع دیا سب یکسر حقیقت سے معزول اور مجاز پر محمول ہوں کہ اب انسان نہ روح نہ بدن بلکہ شی ثالث ہے لاجرم مجموع کا محمل اول مراد نہیں ہوسکتا۔
ومن الدلیل علیہ قول الامام ابی طاھر “ بما فیہ من المعانی “ فما کان لعا قل ان یتوھم دخول الاعراض فی قوام جوھر وانما المراد الدخول فی اللحاظ وکذا تنصیص الامام الرازی علی الترکیب مع اعطائہ مرارا
اس کی ایك دلیل امام ابو طاہر کے یہ الفاظ ہیں (ان تمام معانی کے ساتھ جو اس میں ہیں) کہ اسے کوئی عاقل یہ وہم نہیں کرسکتا کہ اعراض ایك جوہر کی حقیقت میں داخل ہیں مراد صرف لحاظ میں داخل ہونا ہے اسی طرح مرکب ہونے پر امام رازی کی تصریح جب کہ ان کے کلام سے
بہت سی جگہ مستفاد ہے کہ انسان__ وہی انسان روح ہے (ت)
رہا محمل دوم اس میں بھی دو احتمال ہیں قوام روح سے ہو اور بدن شرط یعنی انسان روح متعلق بالبدن کا نام ہو یا بالعکس یعنی بدن متعلق بالروح کا ثانی بھی اس مقدمہ مذکورہ واضحہ سےمدفوع کہ انسان عاقل مخاطب بالاصالۃ ہے نہ بالتبع تو بفضل اﷲ تعالی عرش تحقیق مستقر ہوگیا کہ مختار ومنصور وہی قول اخیر بایں معنی و تفسیر ہے۔ اور قول ثانی بھی اس سے بعید نہیں کہ جب قوام جوہر میں صرف روح ہے انسان روح ہی کا نام ہوا بلحاظ تعلق ہونا اسے روح ہونے سے خارج نہیں کرتا نہ ان عبارات میں لحاظ تعلق سے قطع نظر مذکور تو اس کا اسی قول منصور کی طرف ارجاع میسور ولہذا امام اجل فخر الدین رازی نے بآنکہ بار ہاروح ہی کے انسان ہونے پرتسجیل و تنقیح فرمائی خود ہی انسان کے روح وبدن سے مرکب ہونے کی تصریح فرمائی اسی طرح شاہ عبدالعزیز صاحب نے تفسیر عزیزی میں جہاں وہ عبارت لکھی کہ جان آدمی کہ درحقیقت آدمی عبارت از ان است (آدمی کی جان کہ حقیقت میں آدمی اس سے عبارت ہے۔ ت) وہیں اس کی شرح یوں ارشاد کی :
تفصیل این اجمال آنکہ آدمی مرکب از دو چیز است جان و بدن جزو اعظم جان است کہ تبدل وتغیر دراں راہ نمی یابد وبدون بمنزلہ لباس است کہ اختلاف بسیار در وے راہ می یابد اھ مخصرا
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ آدمی دو چیزوں سے مرکب ہے جان اور بدن __ جزو اعظم جان ہے جس میں تبدل وتغیر کو راہ نہیں __ اور بدن بمنزلہ لباس ہے کہ اس میں بہت تبدیلی ہوا کرتی ہے اھ مختصرا (ت)
پھر روح کا بدن سے تعلق چار قسم ہے : ایك تعلق دنیوی بحال بیداری دوسرا بحال خواب کہ من وجہ متعلق من وجہ مفارق تیسرا برزخی چوتھا اخروی ۔
وجعلھا فی شرح الصدور عن ابن القیم خمسۃ قال للروح بالبدن خمسۃ انواع من التعلق متغائرۃ الاول فی بطن الام الثانی بعد الولادۃ الثالث فی حال النوم فلھا بہ تعلق من وجہ و مفارقۃ من وجہ۔ الرابع فی البرزخ فانھا و ان کانت قد فارقتہ بالموت فانھا لم تفارق فراقا کلیا بحیث لم یبق لھا الیہ التفات
اور شرح الصدور میں ابن قیم کے حوالہ سے پانچ قسم قرار دی ___ عبارت یہ ہے : بدن سے روح کے پانچ الگ الگ قسم کے تعلق ہیں ___ پہلا شکم مادر ہیں__ دوسرا بعد ولادت __ تیسرا حالت خواب میں کہ ایك طرح سے روح بدن سے متعلق ہے اور دوسری طرح سے جدا ہے چوتھا برزخ ہے ___ کہ روح موت کے باعث اگر چہ بدن سے جدا ہوچکی ہے مگر بالکل جدا نہیں ہوئی ہے کہ
اقول : الکلام فی الانواع المتغائرۃ ولا یظھر للتعلق الرحمی تـغایر مع الذی بعد الولادۃ فان کلیھما تعلق الاتصال المحـض والتدبیر والتصرف الناقص بخلاف النومی فلایتمخص للاتصال والبرزخی فلیس مع ذلك تعلق التدبیر و الاخروی فلانقص فیہ اصل فیتحصل التقسیم ھکذا التعلق اما ممتمحض للاتصال اولا الاول ان کمل بحیث لایقبل الفراق فاخروی والا فدنیوی یقظی والثانی ان کان تعلق تدبیر فنومی اولا فبرزخی فان قیل لیس یستعمل الجنین الاتہ وجوارحہ فی الاعمال و الادراك مثل المولود قلت لایستعملھا المولود من ساعتہ کالفطیم ولا الفطیم کالیافع ولا الیافع کمن بلغ اشدہ ولاکمثلہ الشیخ الھرم ثم الفانی فلیجعل عامۃ ذلك تعلقات متغائرۃ فافھم۔
بدن کی طرف اسے کوئی نہ رہ گیا ہو__ پانچواں روز بعث کا تعلق۔ وہ سب سے زیادہ کامل تعلق ہے جس سے ماقبل کے تعلقات کو کوئی نسبت نہیں اس لئے کہ اس تعلق کے ساتھ بدن موت خواب اور فساد تغیر قبول نہیں کرتا اھ اور منح الروض میں علامہ قاری نے بھی اسی اتباع کیا ___
اقول : گفتگو الگ الگ اور جداگانہ تعلقات کے بارے میں ہے ___ جب کہ شکم مادر والے تعلق کی بعد ولادت والے تعلق سے کوئی مغایرت ظاہر نہیں___ اس لئے کہ دونوں صورتوں میں خالص اتصال اور تدبیر وتصرف کا ناقص تعلق ہے۔ اس کے برخلاف حالت خواب کے تعلق میں خالص اتصال نہیں۔ من وجہ فراق بھی ہے۔ اور برزخ والے تعلق میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ تدبیر کا تعلق نہیں___ اور آخرت والے تعلق میں بالکل کوئی نقص نہیں__ تو تقسیم اس طرح حاصل ہوگی تعلق یا تو خالص اتصال رکھتا۱ہے یا۲نہیں ___ اول اگر ایسا کامل ہے کہ جدائی قبول نہ کرے تو اخروی ___ ورنہ دنیوی جو بیداری میں ہو___ اور ثانی اگر تدبیر کا تعلق ہے تو خواب والا ہے اور تدبیر والا نہیں تو برزخی ہے ___ اگر یہ اعتراض ہو کہ شکم کا بچہ افعال اور ادراك میں اپنے آلات وجوارح کو پیداشدہ بچے کی طرح استعمال نہیں کرتا (اس فرق کی وجہ سے دونوں کو دو۲ شمار کیا گیا) ہمارا جواب یہ ہوگا کہ اس وقت مولود بچہ بھی اپنے اعضاء وجوارح کوا س بچے کی طرح استعمال نہیں کر تا جو ۱دودھ چھوڑ چکا ہو اور دودھ چھوڑنے والا ۲نوجوان یا قریب البلوغ کی طرح اور
الیواقیت والجواہر المبحث السادس والستون الخ مصطفی البابی مصر ٢ / ١٥٤
ان میں جس طرح اعلی واکمل تعلق اخروی ہے جس کے بعد فراق کا احتمال ہی نہیں یوں ہی ادون واقل تعلق برزخی ہے کہ با وصف فراق ایك اتصال معنوی ہے مگر قرآن عظیم وحدیث کریم کے نصوص قاطعہ شاہد عدل ہیں کہ اس قدر تعلق بھی بقائے انسانیت کے لئے بس ہے___ ہدیۃ معلوم کہ قبر تنعیم بامعاذاﷲ تعذیب جو کچھ اسی انسان ہی کے واسطے ہے جو اپنی حیات دینوی حیات دنیوی میں مومن ومطیع یا معاذ اﷲ کا فر و عاصی تھا نہ یہ کہ طاعت و ایمان توانسان نے کئے اور نعمت مل رہی ہے کسی غیر انسان کو یا کافر وعصیان انسان سے ہوئے اور عذاب ہو تا ہو کسی غیر انسان پر اسی طرح وہ تمام حجج واضحہ جو ابھی تفسیر کبیر سے بعد موت و بقا وحیات انسان پر گزریں مع اپنے نظائر کثیرہ کی اس مدعا کی کفیل ہیں تو ثابت ہو اکہ حقیقت انسانیہ میں جو تعلق ملحوظ ہے مطلق ومرسل ہے کسی وقت کا ہو۔
اماما قال الامام ابوطاھر بعدما اسلفنا نقلہ من انہ اذا بطلت صورۃ جسدہ بالموت وزالت عنہ المعانی بقبض روحہ لایسم انسانا فاذا جمعت ھذہ الاشیاء الیہ بالاعادۃ ثانیا کان ھو ذلك الانسان بعنیہ الا تری ان الجسد الفارغ من الروح والمعانی یسمی شبحا و جثۃ ولایسمی انسانا وکذلك الروح المجرد لایسمی انسانا الخ
فاقول : لیس یرید رحمہ اﷲ تعالی ان الانسان یبطل بالموت وان الذی فی البرزخ من لدن الموت
رہا وہ جو امام طاہر نے سابقا نقل شدہ عبارت کے بعد فرمایا کہ : جب موت سے آدمی کے جسم کی صورت باطل ہوجاتی ہے اور روح قبض ہوجانے کی وجہ سے معانی اس سے زائل ہوجاتے ہیں تو اسے انسان نہیں کہا جاتا۔ پھر جب دوبارہ یہ چیزیں اس کے ساتھ جمع کردی جاتی ہیں تو بعینہ وہی انسان ہوجاتا ہے۔ دیکھو کہ روح اور معانی سے خالی جسم کو شیخ اور جثہ ڈھانچہ اور لاشہ کہا جاتا ہے انسان نہیں کہا جاتا اس طرح مجرد روح کو انسان نہیں کہا جاتا الخ
فاقول : (میں کہتا ہوں۔ ت) امام موصوف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی مراد یہ نہیں کہ انسان موت سے نیست ونابود ہوجاتا ہے اور عالم برزخ میں ازدم موت
تا وقت بعث جو ہوتا ہے وہ انسان نہیں___ اﷲ کی پناہ کہ یہ ان کی مراد ہو__ جب کہ یہ بد مذہبوں کا قول ہے اور قطعی دلائل سے متصادم ہے___ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ روح برزخی انسان نہ ہو جو بدن سے فراق کے ساتھ ایك اتصال بھی رکھتی ہے___ اور یہ قطعا معلوم ہے کہ انسان وہی ہے جس سے ایمان وکفر اور نیکی وبدی کا صدور ہوا___ اور بدیہی ہے کہ غیر انسان غیرانسان ہے تو کیا انعام اسے ہوتا ہے جس نے عمل نہ کیا اور عذاب اسے ہوتا ہے جس نے معصیت نہ کی ___ حالانکہ اﷲ تعالی ان کے متعلق بیان فرماتا ہے کہ وہی کہیں گے : ہائے ہماری خرابی! کس نے ہماری خواب گاہ سے ہمیں اٹھایا اس سے افادہ ہوا کہ حشر میں جو اٹھا ئے جانے والے ہیں وہی قبر میں سونے والے ہیں___ اور معلوم ہوا کہ آخرت میں جو اٹھائے جائیں گے وہ وہی ہیں جو دنیا میں تھے__ تو انسان تینوں مقامات میں وہی انسان ہے۔ کسی وقت میں وہ انسانیت سے جدا اور اپنی حقیقت سے خارج نہ ہوا___ اور باری تعالی فر ماتا ہے : وہ آگ پر پیش کئے جاتے ہیں___ ضمیران ہی لوگون کی طرف لوٹائی جو مذکور ہوئے تو آگ پر پیش کیے جانے والے وہی ہیں غیر نہیں۔ اور ارشاد باری ہے : انسان مارا جائے کتنا بڑا ناشکرا ہے (تا ارشاد باری : ) پھر اسے موت دی پھر اسے قبرمیں رکھا__ تو قبر میں رکھنا موت دینے کے بعد ہوا اور ضمیر
القرآن ٤٠ / ٤٦
القرآن ٨٠ / ١٧
القرآن ٨٠ / ٢١
وانما اراد التنبیہ علی ان الانسان لیس بمعزول اللحاظ عن شیئ من الروح و البدن فالجسد اذا ابطلت صورتہ بالموت وزالت عنہ المعانی لخروج الروح عنہ لایسمی ذلك لجسد الفارغ انسانا وقد کان یسمی قبلہ عرفا لمکان الاتصال کما سیأتی وکذا الروح المجرد من حیث ھو مجرد لایسمی انسانا و انما الانسان المجموع اعنی الروح الملحوظ بلحاظ الاتصال اعم ان یکون دنیویا او اخرویا اوبرزخیا ھکذا ینبغی ان یفھم ھذا المقام واﷲ سبحانہ ولی الانعام۔
اس میں بھی انسان ہی کی طرف لوٹائی تو ثابت ہو اکہ میت جو قبر میں ہوتا ہے وہ انسان ہی ہے___ بالجملہ دلائل اس بارے میں بہت ہیں جن کا احاطہ کرنے کی طمع نہیں۔
امام موصوف نے بس اس بات پر تنبیہ فرمانا چاہا ہے کہ روح اور بدن دونوں میں کسی سے بھی انسان لحاظ میں جدا نہیں__ تو جسم کی صورت جب موت کی وجہ سے باطل ہوجائے اور اس سے روح نکل جانے کے باعث معانی اس سے زائل ہوجائیں تو اس خالی جسم کو انسان نہیں کہا جاتا جبکہ اس سے پہلے عرفا کہا جاتا تھا کیونکہ اتصال تھا جیسا کہ آگے آرہا ہے ___ اسی طرح روح بھی مجر د کو اس حقیقت سے کہ وہ مجرد ہے انسان نہیں کہا جاتا____ انسان تو مجموع روح و بدن ہے __ یعنی وہ روح جس کے ساتھ بدن سے اتصال کا لحاظ ملحوظ ہے خواہ وہ اتصال دنیوی ہو یا اخروی یا برزخی __ اسی طرح اس مقام کو سمجھنا چاہئے اورخداء پاك ہی مالك انعام ہے (ت)
یہ تحقیق حققیت ومصداق انسان میں کلام تھا اب آیات ومحاورات مذکورہ کی طرف چلئے جب انسان و روح ہر ایك کا انسان جداگانہ ہونا بداہۃ باطل ہوچکا توا ب اقوال ثلاثہ سے کوئی قول لیجئے آیات ومحاورات بدنیہ و روحیہ سے ایك میں تجوز اور جامعہ میں استخدام ماننے سے گریز نہ ہوگی کما لا یخفی ۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ نہ مفسرین ان میں کہیں استخدام عــــہ مانتے ہیں
عــــہ : بل قال بعض العلماء ان الاستخدام بھذا المعنی لم یقع فی القرآن العظیم اصلانقلہ الامام السیوطی فی الاتقان قال وقد استخرجت بفکری ایات وذکر ثلثا الاولی “ اتی امراﷲ فلاتستعجلوہ “
[اصطلاح بلاغت میں استخدام یہ ہے کہ کسی لفظ کے متعدد معنی ہوں اور ایك جگہ لفظ یا اس کی ضمیر سے ایك معنی مراد لیا جائے اور وہی دوسری جگہ ضمیر سے دوسرا معنی مراد لیا جائے ۱۲منہ مترجم] بلکہ بعض علماء نے فرمایا : استخدام اس معنی میں قرآن عظیم میں بلکل کہیں وارد نہیں (باقی اگلے صفحہ پر)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
امراﷲ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما اخرج ابن مردویۃ من طریق الضحاك عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما والضمیر لہ مراد بہ قیام الساعۃ او العذاب والثانیۃ “ ولقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین “ المراد بہ آدم ثم اعاد الضمیر علیہ مراد بہ ولدہ فقال : “ ثم جعلنہ نطفۃ “ قال وھی اظھرھا والثالثۃ لا تسئلوا عن اشیاء ان تبدلکم تسؤکم “ ثم قال قد سألھا قوم من قبلکم ای اشیاء اخرھذا ملخص کلام السیوطی۔
اقول : وقد استخرجت مثالین اخرین الاول قولہ عزوجل احصنت فرجہا فنفخنا فیہ “ الفرج فرج المرأۃ والضمیر للفرج بمعنی فرج الجیب علی ماعلیہ المحققون والاخر ذکرتہ فی رسالتی الزلال الاتقی من بحر سبقۃ الاتقی التی ذکرت فیھا تفسیر قولہ عزوجل وسیجنبھا الاتقی ۱۲منہ (م)
اسے امام سیوطی نے اتقان میں نقل فرمایا وہ فرماتے ہیں میں نے اپنی فکر سے چندآیات میں استخدام نکالا ہے تین آیتیں ذکر فرما ئیں ایك (اﷲ کا امر آیا تو اس کی جلدی نہ مچاؤ) اﷲ کا امر محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جیسا کہ ابن مردویہ نے بطریق ضحاك حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا اور اس کی ضمیر سے ( “ جو اس کی جلدی نہ مچاؤ “ میں ہے) قیام قیامت یا عذاب مراد ہے___ دوسری : ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا۔ انسان سے مراد حضرت آدم ہیں۔ پھر ہم نے اسے نطفہ کیا یہاں انسان کی طرف راجع ضمیر “ اسے “ سے مراد اولاد آدم ہے فرمایا : یہ سب سے زیادہ ظاہر ہے ___ تیسری : ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمھیں بری لگیں۔ پھر ارشاد ہوا تم سے پہلے کچھ لوگوں نے انھیں پوچھا__ یعنی کچھ دوسری چیزوں کو پوچھا__ یہ امام سیوطی کے کلام کی تلخیص ہے۔
اقول : میں نے دومثالیں اور نکالیں ہیں اول : ارشاد باری عزوجل مریم نے اپنی شرمگاہ محفوظ رکھی تو ہم نے اس میں پھونك ماری شرمگاہ سے مراد شرمگاہ زن ا ور اس کی ضمیر سے مراد چاك گریبان اس قول کی بنیاد پرجو محققین کا مختار ہے __ یہ دوسری مثال میں نے اپنے رسالہ “ الزلال الا نقی من بحر سبقۃ الاتقی “ (ھ) میں ذکرکی ہے جس میں میں نے ارشاد باری عزوجل “ و سیجنبها الاتقى “ کی تفسیر بیان کی ہے۔ (ت)
قال تعالی انه لحق مثل ما انكم تنطقون(۲۳) ۔
باری تعالی فرماتا ہے : بے شك وہ حق ہے اس کے مثل جو تم بولتے ہو۔ (ت)
اب نہ تجوز ہے نہ استخدام نظیر اس کی “ رأیت زیدا “ ہے زید را دیدم زید کو دیکھا حالانکہ زید اگرچہ اس سے بدن ہی مراد لیجئے ہر گز ہمیں مرئی نہیں مرئی صرف رنگ و سطح بالائی ہے اور وہ قطعا نہ روح زید ہے نہ بدن مگر شدت اتصال کی باعث اسے رؤیت زید کہتے ہیں اور ہر گز اس میں تجوز و مخالفت حقیقت کا توہم بھی نہیں کرتے یہاں تك کہ اگر کوئی زید کے رنگ و سطح کو یونہی دیکھے اور قسم کھا ئے میں زید کو نہ دیکھا قطعا کاذب سمجھا جائے گا لاجرم تفسیر کبیرمیں روح کے غیر جسم ہونے پر کلام واسع ومشبع لکھ کر فرماتے ہیں :
اعلم ان اکثر العارفین المکاشفین من اصحاب الریاضات وارباب المکاشفات والمشاھدات مصرون علی ھذ القول جاز مون بھذا المذھب واحتج المنکرون بقولہ تعالی من ای شیئ خلقہ من نطفۃ خلقہ ھذا تصریح بان الانسان مخلوق من نطفۃ وانہ یموت ویدخل القبر ولو لم یکن عبارۃ عن ھذہ الجنۃ لم تکن الاحوال المذکورۃ صحیحۃ والجواب انہ لما کان الانسان فی العرف والظاھر عبارۃ عن ھذہ الجثۃ اطلق علیہ اسم الانسان فی العرف اھ مختصرا
معلوم ہو ا کہ اہل ریاضت اور ارباب کشف ومشاہدہ میں سے اکثر عرفاء مکاشفین اس قول پر اصرار اور اس مذہب پر جزم رکھتے ہیں__ اور منکرین نے باری تعالی کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے اسے کس چیز سے پیدا کیا نطفہ سے یہ اس بات کی تصریح ہے کہ انسان نطفہ سے پیدا کیاگیا ہے اور وہی مرنے والا اور قبر میں جانے والا ہے اگر انسان جسم وجثہ سے عبارت نہ ہو تومذکورہ احوال صحیح نہ ہوں گے جواب یہ ہے کہ نہ عرف اورظاہر میں انسان اس بدن سے عبارت تھا تو عرفا ا س پر لفظ انسان اطلاق ہوا۔ (ختم باختصار)
عــــہ : عرف تو عرف اس شدت اختلاط وعدم تمایز بحد اتحاد نے سفہائے فلاسفہ کو دھوکا دیا جو ہمیشہ تدقیق کے نام پر جان دیتے اور فضول تعمقات کو تحقیق جانتے ہیں۔ وہ بھی کہاں خاص مقام تحدید میں انسان کی تعریف کر بیٹھے حیوان ناطق حالانکہ حیوانیت بدن کے لئے ہے کہ وہی جسم نامی اور ناطق ومدرك روح بلکہ خود حیوان ہی کی تعریف میں خلط ہے جسم نامی متحرك بدن ہے اور حساس ومدید روح ۱۲منہ (م)
تفسیر کبیر زیر آیہ ویسئلونك عن الروح مطبعۃ بہیہ مصریہ بمیدان الجامع الازہر مصر ٢١ / ٥٣۔ ٥٢
اقول یہ جواب اس سے بہتر ہے جو اس سے پہلے ذکر فرمایا ہے کہ اگر وہ کہیں کہ یہ آیت تمھارے خلاف حجت ہے اس لیے کہ اﷲ تعالی نے فرمایا : بے شك ہم نے انسان کو پیدا کیا ایك خلاصہ سے جو مٹی سے ہے۔ کلمہ من (سے) تبعیض کے لئے ہے۔ اور یہ بتاتا ہیے کہ انسان مٹی کا ایك جز اور بعض ہے ___ ہم جواب دیں گے کہ کلمہ من کی اصل ابتدائے غایت کے لئے ہے جیسے تم کہتے ہو میں بصرہ سے کوفہ گیا تو ارشاد باری (ہم نے انسان کو پیدا کیا ایك خلاصہ سے جو مٹی سے ہے) اس کا مقتضی ہے کہ تخلیق انسان کی ابتداء اس خلاصے سے ہوتی ہے (ختم) قلت اس جو اب کے لئے اس ارشاد سے استیناس ہوتاہے : اور انسان کی تخلیق مٹی سے شروع کی تو اسے سمجھو۔ (ت)
بالجملہ خلاصہ مبحث یہ ہوا کہ اطلاق انسان کے لیے دو حقیقتیں ہیں : ا یك حقیقت اصلیہ دقیقہ یعنی روح متعلق بالبدن اگر چہ تعلق برزخی د وم۲ حقیقت مشہور عرفیہ یعنی بدن اور اکثر متکلمین کے زعم میں یہی حقیقت اصلیہ ہے اور اگر غرابت فن سے قطع نظر کرکے ان کا کلام انسان عرفی پر محمول کریں تو وہ بھی صحیح ۔
مقدمہ سادسہ : اقول : صفات بدن دو۲ قسم ہیں : ۱اصلیہ کہ خود بدن کے لئے حاصل اور ۲ تبعیہ کہ حقیقۃ صفات روح ہیں اور بوجہ اتحاد مذکور بدن کی طرف منسوب جیسے علم و سمع وبصر و ارادہ و فاعلیت افعال اختیاریہ وغیرہا عر ف میں اگرچہ انسان نام بدن ٹھہرا مگر صفات تبعیہ کی اس کی طرف اضافت مشروط بشرط حیات ہے بعد موت بے عود حیات بدن خالی کو عرفا لغۃ کسی طرح سمیع وبصیر مرید فاعل عامل نہیں کہتے کہ یہ نسبتیں اس اتصال سریانی پر مبنی تھیں جس نے روح وبدن کو عرفا امر و حدانی کردیا تھا جب وہ مسلوب ہو ا کشف محجوب ہوا صفات تبعیہ حق بہ حقدار رسید ہوکر اپنے مرکز کو گئیں اور اس تودہ خاك کو اپنی اصلی حالتیں ظاہر ہوئیں نظیر اس کی وہی
القرآن ٣٢ / ٧
ماشارك المیت فیہ الحی یقع الیمین فیہ علی الحالتین وما اختص بحالۃ الحیاۃ تقید بھا ۔
جس امر میں میت زندہ کا شریك ہو اس میں قسم دونو ں حالتوں پر واقع ہوگی اور جو حالت حیات سے خاص ہو اس میں قسم حالت زیست سے مقید رہے گی۔ (ت)
مقدمہ سابعہ : اقول : مناظرات میں وقت و اطاعت کہ راہ پاتی ہے بیشتر اصل مقصد ومورد نزاع سے غفلت کے باعث منہ دکھاتی ہے فریقین اس کے پابند رہیں یہ تو معلوم ہو کہ اہل باطل اکثر اصل مطلب سے فرار ہی میں مفر مگر اہل حق پرا س کا خیال لازم ہر وقت پیش نظر رکھیں کہ بحث کیاتھی اور چلے کدھر اس میں باذن اﷲ تعالی تخفیف مؤنت او ر مخالف کے عجز و سکوت جلد ظاہر ہونے پر معونت ہوتی ہے اس مسئلہ دائرہ سماع موتی میں مقصود اہلسنت کچھ اس پر موقوف نہیں کہ تمام اموات کیے بدن ہی قبر میں ہمیشہ زندہ رہیں زائروں کے سلام وکلام وہ انہی کا نوں کے ذریعہ سے سنیں ہوائے متموج متکیف بالصوت انہی کے پٹھوں کو کرے اسی طریقے پر سماع ہو یونہی رؤیت عامہ اموات میں ہماری اس سے کوئی غرض متعلق نہیں کہ وہ انہی انکھوں سے
قال المولی تبارك وتعالی
النار یعرضون علیها غدوا و عشیا-و یوم تقوم الساعة- ادخلوا ال فرعون اشد العذاب(۴۶) ۔
مولی تبارك وتعالی کا ارشاد ہے : وہ صبح وشام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں اور قیامت کے دن فرعون والوں کو زیادہ سخت عذاب میں ڈالیں گے۔ (ت)
سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
فرعونیوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے پیٹ میں ڈال کر انھیں روزانہ دوبار نار پر پیش کیا جاتا ہے صبح وشام کو نار کی طرف جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے اے فرعون والو! یہ تمھارا ٹھکانا ہے یہاں تك کہ قیامت قائم ہو۔ (ت)
فرعون اور فرعونیوں کو ڈوبے ہوئے کتی ہزار برس ہوئے ہر روز صبح وشام دو وقت اگ پر پیش کیے جاتے ہیں جہنم جھنکا کر ان سے کہا جاتا ہے یہ تمھارا ٹھکانا ہے یہاں تك کہ قیامت آئے۔ اور ایك انھیں پرکیا موقوف ہر مومن و کافر کو یونہی صبح وشام جنت ونار دکھاتے اور یہی کلام سناتے ہیں صحیح بخاری صحیح مسلم وموطائے امام مالك و جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذامات احدکم عرض علیہ مقعدہ بالغداۃ والعشی ان کان من اھل الجنۃ فمن اھل الجنۃ وان کان من اھل النار فمن اھل النار یقال لہ ھذا مقعدك حتی یبعثك اﷲ الی یوم القیامۃ ۔
جب تم میں سے کوئی مرتا ہے اس پر اس کا ٹھکانا صبح وشام پیش کیا جاتا ہے اگر اہل جنت سے تھا تو اہل جنت کا مقام اور اہل نار سے تھا تو اہل نار کا مقام دکھا یا جاتا ہے اس سے کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تك کہ خدا تجھ کو روز قیامت اس کی طرف بھیجے۔ (ت)
یو نہی اموات کی باہم ملاقات آپس کی گفتگو قبر کا ان سے باتیں کرنا ان کی حد نگاہ تك کشادہ ہونا احیاء کے اعمال انھیں سنائے جانا اپنے حسنات وسیئات اور گاؤماہی کا تماشا دیکھنا وغیرہ وغیرہ امور کثیر جن کی نظر صدر مفصد دوم میں اشارہ گزرا جن کے بیان میں دس بیس نہیں صدہا حدیثیں وارد ہوئیں ان مطالب پر شاہد ہیں جس طریقے سے ہو ان چیزوں اور آوازوں کو دیکھتے سنتے ہیں اور قیامت تك جس کے گلنے خاك میں ملنے کے بعد بھی دیکھیں سنیں گے یونہی زائروں قبروں کے سامنے گزرنے والوں اور ان کے کلام کو۔ طرفہ یہ کہ مولوی اسحاق صاحب نے بھی جواب وسوال میں تسلیم کیا مردے زندوں کا سلام سنتے ہیں۔ حضرت! جن کانوں سے سلام سنتے ہیں انہی سے کلام ۔ یہ تو ہماری طرف سے کلام تھا اب جانب منکرین نظر کیجئے ان کا انکار بھی قطعا عام ہے صرف آلات جسمانیہ سے خاص نہیں کاش وہ ایمان لے آئیں کہ اموات اصوات کا ادراك تام کرتے ہیں مگر نہ گوش بدن
مؤطا امام مالك جامع الجنائز میر محمد کتب خانہ کراچی ١ / ٢٢١
الحمدﷲ المھیمن المتعال وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ خیر صحب وال ۔
تمام تعریف خدائے نگہبان برتر کے لئے ہے۔ اور اﷲ تعالی ہمارے آقا حضرت محمد اور ان کی آل واصحاب پر جو بہترین آل واصحاب ہیں درود نازل فرمائے۔ (ت)
بحمد ﷲ تقریر مقدمات سے فراغ پایا۔ تحریر جوابات کا وقت آیا جو امر جس مقدمے میں ثالث کیا گیا جواب میں اس پر علامت (مقہ ) لکھ کر شمار مقدمہ کا ہندسہ بغرض یاد دہانی ثبت ہوگا کہ ہرجگہ بحکم مقدمہ فلاں یا دیکھوں مقدمہ فلاں لکھنے کی حاجت نہ ہو۔
فاقول : وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق (اﷲ تعالی کی توفیق ومدد سے ذرویہ تحقیق تك پہنچا جاسکتا ہے۔ ت)
جواب اول : ائمہ اہل سنت رضی اللہ تعالی عنہم کا اجماعی عقیدہ کہ مردے سنتے ہیں قطعا حق ہے اور کیوں نہ حق ہو کہ وہ اہل سنت ہیں حق انھیں میں منحصر ہے۔ اور اس کے معنی یہ کہ مردگان (کہ ان پربھی اطلاق مردہ ومیت کیا جاتا ہے اور خود وہ اور ان کے ادراکات باقی ومستمر وبحال ونامتغیر ہیں) بعد فراق بھی بدستور ادراك اصوات وکلام کرتے ہیں اور ان مشائخ وشراح اہلسنت وفلاح رحمہم اللہ تعالی کا بیان کہ “ مردے نہیں سنتے “ بے شك صحیح ہے اور کیوں نہ صحیح ہو کہ وہ اہل فقاہت ہیں ان کا فضل وکمال ظاہر و باہر ہے۔ اور اس کے معنی یہ کہ جو چیز مرگئی یعنی بدن کہ حقیقۃ وہ مردہ ہے مردہ ہے سمع سے معزول ہے آلیت وتوسط وتادیہ صور کے لائق نہیں یہ دونوں کلام صراحۃ سچ ہیں اور آپس میں اصلا متخالف نہ کوئی حرف مفید مخالفن بحمدﷲ تعالی اس معنی نفیس کا بروجہ احتمال ہی بیان کرنا ہمیں بس تھا مخالفان عبارات علماء سے مستدل اور ان کے منکر سماع ہونے کومدعی ہے اور احتمال قاطع استدلال پھر سند کے لئے نظرا نصاف میں متعدد دلیلیں موجود عــــہ مثلا : ۔
دلیل۱ : جب ائمہ دین وعلمائے معتمدین سے ہزار در ہزار قاہر تصریحیں سماع موتی کے باب میں موجود اور بتصریح
عــــہ : کہ بقالوں مناظرہ شواہد نقض تفصیلی ہیں ۱۲ منہ (م)
دلیل ۲ : خلاف وتطبیق درکنار ثقات علماء اثبات سماع موتی پر اجماع اہلسنت نقل فرماچکے کیا معاذا ﷲ انھیں جزاف وکذب کی طرف نسبت کرسکتے ہیں یا اکثر مشائخ حنفیہ عیاذا با ﷲ ایسے بے مقدار و ناقابل شمار کہ ان کے خلاف کو لاشیئ ٹھہرا کرعلماء ادعائے اجماع رکھتے ہیں لاجرم سبیل یہی ہے کہ باہم خلاف ہی نہیں اجماع نسبت ارواح اور قول مشائخ نسبت اشباح۔
دلیل : جب احادیث کثیرہ وافرہ صریحہ متوافرہ سماع موتی پر بے تخصیص و تقیید قوت ایسی نا طق جن میں ذی انصاف ودین کو مجال تاویل وتبدیل نہیں تو کیا مقتضائے حق شناسی حضرات مشائخ ہے کہ اپنی بات بنانے کے لیے خواہ مخواہ ان کا کلام مخالف احادیث سید الانام علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والسلام ٹھہرائے اور وہ بھی کسی جرأت کے ساتھ کہ خاص اخبار متعلقہ بغیب وبرزخ کا مقام اور خود اراشادات صریحہ نبی لاریب امین الغیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے خلاف کلام وان ھذا الابلاء لا یحتمل وعنأ لایرم (یہ ایسی بلاء ہے جو اٹھنے والی نہیں اور ایسی تکلیف جو ٹلنے والی نہیں۔ ت)رہا وہابی قنوج رفو خواہ مائۃ مسائل صاحب تفہیم المسائل کا تعصب کہ :
آنچہ از ملا علی قاری و شیخ عبدالحق آوردہ ہمہ ہا از شرح صدور نقل می کنند و مایہ تصانیف شیخ جلال ا لدین سیوطی کتب احادیث طبقہ رابعہ است وایں احادیث قابل اعتماد نیستند ۔
جو کچھ ملا علی اور شیخ عبدالحق سے نقل کیا ہے سب شرح الصدور سے ناقل ہیں اور شیخ جلا ل الدین سیوطی کی کتابوں کا سرمایہ طبقہ رابعہ کی احادیث ہیں اور یہ حدیثیں قابل اعتماد نہیں۔ (ت)
اقول اولا : شدت تعصب نے صحیح بخاری وصحیح مسلم کی احادیث جلیلہ کو شاید دیکھنے نہ دیا۔ ان پر بھی طبقہ رابعہ کا حکم ہوگیا۔ کیا علی قاری و شیخ محقق نے ان سے استناد نہ کیا یا آپ نے ان کے کلاموں کا جواب دے لیا شرم شرم شرم ! ہا ں مجھی کو سہو ہوا جواب کیوں نہ دیا وہ دیا کہ عقل وحیا دیانت سب کو جواب دیا۔ اخر کلام میں اسے بھی سن لیجئے۔
ثانیا : یہاں ان کے علاوہ اور حدیثیں بھی تھیں کہ ائمہ فن نے جن کی تصحیحیں کیں زیادہ علم نہ تھا تو
ھذہ المسائل کلھا ذکرھا السیوطی فی کتابہ شرح الصدور فی احوال القبور بالاخبار الصحیحۃ والاثار الـصریحۃ ۔
یعنی یہ سب مسائل امام سیوطی نے شرح الصدور میں صحیح حدیثوں صریح روایتوں سے بیان کئے ۔
شیخ محقق کی عبارت منقول تھی :
بالجملہ کتاب و سنت مملو ومشحون اند باخبار و احادیث کہ دلالت مے کند بروجود علم مرموتی رابد نیا و اہل آں پس منکر نہ شود آں رامگر جاہل باخبار ومنکر دین
بالجملہ کتا ب وسنت ایسی اخبار واحادیث سے لبریز ہیں جن میں دلیل ہے کہ مردوں کو دنیا و اہل دنیا سے متعلق علم ہوتا ہے توا س کا منکر وہی ہوگا جو احادیث سے جاہل اور دین کا منکر ہو۔ (ت)
ثالثا : کیا مولانا قاری وشیخ محقق نے احادیث سلام و حدیث ترمذی عن ام المومنین دربارہ خطاب بہ میت وغیرہا سے استدلال نہ کیا تھا۔ یا یہ سب بھی طبقہ رابعہ میں داخل اور ان پر اعتماد مردود وباطل۔
رابعا : کتب سیوطی میں جو کچھ ہے کیا سب طبقہ رابعہ سے ہوتا ہے یا یہاں خاص ایسا ہے اور جب دونوں باتیں بداہۃ باطل تو طبقہ رابعہ کا ذکر مہمل ولاطائل۔
خامسا : احادیث طبقہ رابعہ جس طرح تصانیف امام ممدوح میں مذکور ہوئیں یو نہی عامہ ائمہ کی تالیف میں اورخود یہ بلکہ ان سے نازل ترکی احادیث و روایات حجۃ اﷲ البالغہ وقرۃ العینین وازالۃ الخفاء وتفسیر عزیزی وتحفہ اثنا عشریہ وغیرہا تصانیف ہر دو شاہ صاحب میں کہ یہی ا س تقسیم طبقات کے موجد و قائل ہیں تو وہ تو دہ بھری ہیں ۔
سادسا : لطف یہ کہ خود انہی شاہ عبدالعزیز صاحب نے خودا سی مسئلہ سماع موتی میں خود انہی احادیث سے استناد کیا۔ اسی طرح شرح الصدور شریف کا حوالہ دیا کہ :
تفصیل آں دفتر طویل مے خواہد درکتا ب شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور کہ تصنیف شیخ جلال الدین سیوطی است ودیگر کتب حدیث باید دید ۔
اس کی تفصیل ایك طویل دفتر کی طالب ہے شیخ جلال الدین سیوطی کی تصنیف شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور اور دوسری کتب حدیث دیکھنا چاہئے۔ (ت)
فتاوٰی عزیزی مکتوب درحال ہمراہیان حضرت امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٨٨
علاوہ ازیں تفسیر ابن عباس کہ شیخ جلال الدین سیوطی ذکر آں در درمنثور کردہ صریح عدم سماع موتی مستفاد است ۔
علاوہ ازیں تفسیر ابن عباس سے ___ جس کا ذکر شیخ جلال الدین سیوطی نے درمنثور میں کیا ہے : مردوں کا نہ سننا صاف طور پر مستفاد ہے۔ (ت)
پھر وہ تفسیر بحوالہ ابوجہل سدی بن سہل الجنید النیشا پوری عــــہ بطریق عبدالقادر عن ابی صالح عن ابن عباس یہ نقل کی کہ جب سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قلیب بدر پر ان کافروں کی لاشوں سے کلام کیا اور فرمایا : تم کچھ ان سے زیادہ نہیں سنتے فانزل اﷲ تعالی انك لا تسمع الموتى و ما انت بمسمع من فی القبور(۲۲) ۔ اس پر اﷲ تعالی نے یہ آیتیں اتاریں پھر خود اس روایت کی نسبت کہا نص است برآنکہ موتی راسماع نیست (یہ اس پر نص ہے کہ مردے نہیں سنتے۔ ت)
اقول اولا : صحاح جلیلہ مشہورہ بخاری ومسلم کے مقابل ایسی شواذ غریبہ ونوادر مجہولہ اجزائے خاملہ ذکر کرتے شرم نہ آئی او ر ایك کتاب میں رطب ویابس مقبول ومردود جو ملے محض جمع کردینا مقصود ہو دوسری جگہ استدلال وتفریع وتحقیق وتنقیح موجود ہو ان میں فرق کی تمیز بنائی۔
ثانیا : محمدر سول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تو مؤکد بقسم کرکے والذی نفس محمد بیدہ ما انتم باسمع لما اقول منھم
قسم ہے اس کی جس کے دست قدرت میں محمدکی جان پاك ہے میں جو فرمارہا ہوں اسے تم سے کچھ زیادہ نہیں سنتے اور تو ان آیتوں کی اس کے خلاف پر
عــــہ : درنسخہ مطبوعہ تفہیم المسائل ہمچنیں است و صحیح الجنید نیشاپوری است فلیتنبہ ۱۲منہ (م)
تفہیم المسائل کے مطبوعہ نسخوں میں اس طرح ہے اور صحیح “ الجنید نیشاپور “ ہے اسے یاد رکھنا چاہئے ۱۲منہ (م)
تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص ٧٣
صحیح البخاری باب قتل ابی جہل قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٥٦٦
ثالثا : لطف یہ کہ یہ آیتیں تین سورتوں میں واقع ہوئیں نمل ملائکہ روم تینوں مکیہ ہیں کہ قبل ہجرت نازل ہوئیں اور واقعہ بدر ہجرت کے بعد ہے۔ کیا آیتیں پیشگی اتر آئی تھیں علماء نے ان آیات کو نہ مستثنیات من الملکیات میں شمار فرمایا نہ مستثنیات فی النزول میں۔
رابعا : دیکھئے سباق و سیاق آیات صراحۃ کلام کفار احیاء میں ہے کہ سخن حق میں نہیں سنتے نہیں مانتے نہ کافروں کی لاشوں میں۔
سورۃ روم میں فرماتا ہے :
و لىن ارسلنا ریحا فراوه مصفرا لظلوا من بعده یكفرون(۵۱) فانك لا تسمع الموتى و لا تسمع الصم الدعآء اذا ولوا مدبرین(۵۲) و ما انت بهد العمی عن ضللتهم-ان تسمع الا من یؤمن بایتنا فهم مسلمون(۵۳)
اگرہم ہوا بھیجیں جس سے وہ کھیتی کو زرد یکھیں تو ضرور اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں بیشك تم مردوں کو نہ سناؤ گے اور نہ بہروں کو پکار سناؤں گے جب وہ پیٹھ دے کر پھریں اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لانے والے ہو تم ان ہی کو سناؤ گے جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں پھر وہ فرمانبردار ہوں۔ (ت)
بعینہ اسی طرح انك لا تسمع الموتی سے آخر تك سورہ نمل میں ہے۔ سورہ فاطر میں ہے :
بالغیب و اقاموا الصلوة-و من تزكى فانما یتزكى لنفسه-و الى الله المصیر(۱۸)و ما یستوی الاعمى و البصیر(۱۹) و لا الظلمت و لا النور(۲۰) و لا الظل و لا الحرور(۲۱) و ما یستوی الاحیآء و لا الاموات-ان الله یسمع من یشآء-و ما انت بمسمع من فی القبور(۲۲) ان انت الا نذیر(۲۳) و ما یستوی الاعمى و البصیر(۱۹) و لا الظلمت و لا النور(۲۰) و لا الظل و لا الحرور(۲۱) و ما یستوی الاحیآء و لا الاموات-ان الله یسمع من یشآء-و ما انت بمسمع من فی القبور(۲۲) ان انت الا نذیر(۲۳) ۔
بیشك تمھارا ڈرسنانا ان ہی کا کام دیتا ہے جو اپنے رب سے بے دیکھے ڈریں اور نماز قائم کریں اور جو ستھرا بنے وہ اپنے نفع ہی کے لئے ستھرا ہوگا اور اﷲ ہی کی طرف پلٹنا ہے۔ اور برابر نہیں نابینا اور بینا نہ ہی تاریکیاں اور روشنی نہ ہی سایہ اور تیز دھوپ اور برابرنہیں زندے اور مردے بیشك اﷲ جسے چاہتا ہے سناتا ہے اور تم انھیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں پڑے ہیں تم تو صرف ڈرسنانے والے ہو۔ (ت) ایمان سے کہنا ان آیتوں میں یہی بیان ہے کہ کافروں کی لاشوں پرکیوں پکار رہے ہو وہ مرنے کے بعد کیا سنیں گے۔
القرآن ٣٥ / ١٨ تا ٢٣
سادسا : ظاہر حس وعقل بالبداہۃ جسم میت کے معطل وبے حس ہونے پر شاہد ہے اگر کسی وقت اس کا مدرك ہونا ثابت ہوتو یہ قطعا امور غیبیہ سے ہے اب سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا قسم کھا کر اس غیب پر حکم فرمانا پھر قرآن عظیم کا معاذ اﷲ اس کے خلاف پر آنا دوصورتوں کے سوا ممکن نہیں یا تواولا عیاذاﷲ حضور پر نور صلوات اﷲ وسلامہ علیہ نے رجما بالغیب کلام فرمادیا یا اپنی طرف سے غیب پر حکم لگادیا یا یوں کہ اول اسی طرف سے خبر غیب معاذا ﷲ خلاف واقع آئی پھر اس کا رد اترا تمھارا ایمان ان دونوں میں سے جسے قبول کرے مانو ۔
سا بعا : اگر بفرض غلط یہ روایت غریبہ خاملہ صحیح بھی ہو تو قطعا یقینا حتما جزما آیات مذکورہ آیت کریمہ فلم تقتلوهم و لكن الله قتلهم۪-و ما رمیت اذ رمیت و لكن الله رمى- (تو انھیں تم نے قتل نہ کی بلکہ اﷲ نے ان کو قتل کیا۔ اور تم نے کنکریاں نہ پھینکیں جب پھینکیں لیکن اﷲ نے پھینکیں۔ ت)کے باب سے ہیں جن میں معاذاﷲ ہر گز اپنے نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی قسم پر وہ انکار نہیں بلکہ یوں ارشاد ہوتا ہے کہ یہ جوا جسام مردہ تمھارا کلام سن رہے ہیں یہ تم نے انھیں نہ سنایا بلکہ خدا نے سنایا ان اﷲ یسمع من شیاء و ما انت بمسمع من فی القبور یہ اسی کی قدرت سے ہوا کہ ان خالی بدنوں میں روح نے عود کیا جس کے آتے ہی گئے ہوئے ہوش وحواس بدن کے پھر درست ہوگئے اب یہ روایت بھی ہماری دلیل ہے اور تفہیمی ملا کے فہم خوار وذلیل والحمد ﷲ الھادی الی سواء السبیل (اور خدا ہی راہ راست کی ہدایت دینے والا ہے۔ ت) خیر بات دور پہنچی اور اب صاحب تفہیم داخل من فی القبور تو سماع قبول سے قطعا مہجور لہذا اصل سخن کی طرف عنان گردانی کیجئے کلام مشائخ دوبارہ اجسام موتی ہونے پر شواہد وا سانید میں یہ تین امور بالائی کافی و
دلیل : بحث دیکھئے کاہے کی ہے ایمان کی۔ اور باجماع حنفیہ وتصریحات علمائے مذکورین وغیرہم ان کا مبنی عرف اور عرف میں انسان وزید و آن وتوسب کامورد بدن تو قسم اسی پر صادق اور یہ داوری و چالشگری اس سے متعلق۔
دلیل : پر ظاہر کہ اول تا اخر ان کا کلام موت میں ہے اور میت نہیں مگر بدن خود اسی کا فی شرح وافی میں اسی بحث ایمان میں فرمایا :
الروح لایموت لکنہ زال عن قالب فلان واﷲ تعالی قادر علی اعادتہ ۔
یعنی روح میت نہیں وہ تو صرف بدن سے جدا ہوگئی ہے اور اﷲ تعالی قادر ہے کہ اسے دوبارہ بدن میں لے آئے۔
دلیل : ساتھ ہی دلائل میں صاف تحریر فرماتے ہیں کہ جس میت میں ان کا کلام ہے وہ وہی ہے جسے ادراك نہیں جسے فہم نہیں جسے درد نہیں پہنچتا جو بے حس ہے۔ کتب خمسہ مستند مائتہ مسائل میں ہے :
واللفظ للرمز الکلام للافھام فلا یتحقق فی المیت ۔
اور الفاظ رمز الحقائق شرح کنز الدقائق للعینی کے ہیں : کلام سمجھانے کے لئے ہوتا ہے تو میت کے حق میں ثابت نہ ہوگا۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے : والموت ینا فیہ (اور موت اس کے منافی ہے۔ ت)اسی مستخلص الحقائق میں بہ تبعت ہدایہ ہے :
من قال ان ضربتك فعبدی حر فھو علی الضرب فی الحیاۃ فلو مات ثم ضرب لا یحنث لان الضرب اسم لفعل مؤلم یتصل بالبدن والایلام لایتحقق فی المیت ۔
کسی نے کہا اگر میں نے تجھے مارا تو میرا غلام آزاد ہے۔ یہ قسم زندگی کے اندر مارنے پر محمول ہوگی اگر اسی کے مرجانے کے بعد مارا تو حانث نہ ہوگا اس لیے کہ مارنا بدن سے متعلق الم رساں کام کا نام ہے اور الم رسانی میت کے حق میں متحقق نہیں۔ (ت)
رمز الحقائق شرح کنز الدقائق باب الیمین فی الضرب والقتل الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٢٢٠
فح القدیر باب الیمین فی الضرب والقتل وغیر ذلك مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٤ / ٤٦١
مستخلص الحقائق باب الیمین فی الضرب والقتل وغیر ذلك فضل احمد تاجر کتب پشاور ٢ / ٣٨٨
لا یتحقق فی المیت لانہ لایحس ۔
میت کے حق میں متحقق نہیں اس لیے کہ وہ احساس نہیں رکھتا۔ (ت)
اسی مائۃ مسائل میں عینی شرح کنز میں ہے :
الضرب ایقا ع الا لم وبعد الموت لایتصور ۔
ضرب کا معنی تکلیف پہنچانا اور بعد موت یہ متصور نہیں۔ (ت)
تو قطعا ثابت وہ بدن ہی میں کلام کر رہے ہیں کہ وہی ایسا میت ہے جسے نہ حس رہتا ہے نہ ادراک بخلاف روح کہ اس کے ادراك قطعا باقی ہے خود یہی امام نسفی عمدۃ الکلام میں فرماچکے : الروح لا یتغیر بالموت (روح موت سے متغیر نہیں ہوتی۔ ت)
دلیل : پھر جب اس تقریر پر شبہہ وارد ہوا کہ جب حس نہیں تالم نہیں تو عذاب قبر کیسا ! تو ان حضرات نے یہی جواب دیا کہ معاذ اﷲ جس پر عذاب قبر ہوتا ہے اسے قبر میں یك گونہ حیات دی جاتی ہے جس سے الم پہنچنے کے قابل ہو جاتا ہے
اسی مائۃ مسائل میں عینی سے بعد عبارت مذکورہ ہے :
ومن یعذب فی القبر یو ضع فیہ الحیاۃ علی الصحیح ۔
جسے قبر میں عذاب دیا جاتا ہے صحیح قول یہ ہے کہ اس میں زندگی پیدا کردی جاتی ہے۔ (ت)
اسی میں کافی عــــہ سے ہے :
عند العامۃ یوضع فیہ الحیاۃ بقدر مایتألم
جمہور کے نزدیك اس میں اس قدر زندگی رکھ دی جاتی ہے
عــــہ : لطیفہ : مائۃ مسائل میں یہ کافی کی عبارت اسی طرح نقل کی جس سے وہم ہو کہ جمہور علماء کے نزدیك قبر میں بدن کی طرف عود حیات صرف ایك خفیف طور پر ہوتا ہے حیات کامل ملنا قول بعض ومرجوح ہے کہ اسے عامہ کی(باقی اگلے صفحہ پر)
مائۃ مسائل مسئلہ ٢٦ مکتبہ توحید وسنّہ قصہ خوانی پشاور ص٥٦
عمدۃ الکلام لامام نسفی
مائۃ مسائل مسئلہ ٢٦ مکتبہ توحید وسنّہ قصہ خوانی پشاور ص٥٢
کہ اسے الم کا احساس ہو حیات مطلقہ نہیں رکھی جاتی اور کہا گیا کہ اس میں پورے طور پر زندگی رکھ دی جا تی ہے۔ (ت)
مستخلص میں بعد عبارت مسطورہ ہے :
وعذاب القبر یوضع حیاۃ جدیدۃ فیہ وھو قول عامۃ العلماء خلافا لابی الحسن الصالحی عــــہ فان عندہ ویعذب المیت من غیر حیاتہ ۔
عذاب قبر بدن میں ایك نئی زندگی رکھنے سے ہوتاہے اسی پر عامہ علماہیں بخلاف ابوالحسن صالحی کے اس کے نزدیك بغیر زندگی کے میت کو عذاب قبر ہوتا ہے۔ (ت)
اور بالیقین یہ شان بدن ہی کی ہے کہ اسے موت عارض ہوتی اور اس کا حس وادراك باطل کرتی پھر معاذاﷲ تعذیب کے لیے الگ گونہ حیات دی جاتی ہے اور وہ بھی کاملہ نہیں ہوتی بخلاف روح کہ اس کی حیات مستمرہ ہے۔ امام ابن الہمام نے ا س مضمون کو خوب صاف فرمادیا بعد عبارت مزبورہ لکھتے ہیں :
لانہ لایحس ولذا کان الحق ان المیت المعذب فی قبرہ توضع فیہ الحیاۃ بقدر مایحس بالالم حتی لو کان متفرق الاجزاء بحیث لایتمیز الاجزاء بل ھی مختلطۃ بالتراب فعذب
اس لیے کہ اس میں احساس نہیں۔ اس لیے حق یہ ہے کہ جس مردے کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے اس کے اندراتنی زندگی رکھ دی جاتی ہے کہ وہ الم کا احساس کرے یہاں تك کہ اگراس کے اجزا اس طرح بکھر گئے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)طرف نسبت کرکے اس بلفظ قیل نقل کیا حالاناکہ فقیر کافی میں جمہور کے نزدیك اعادہ حیات اور اس کی دلیل لکھ کر انھیں سے وہ دونوں قول حیات خفیفہ وحیات کاملہ کے یکساں طور پر نقل کیے کہ :
ثم اختلفوا فقیل توضع فیہ الحیاۃ بقدر مایتألم لاالحیاۃ المطلقۃ وقیل توضع فیہ الحیاۃ من کل وجہ اھ
پھر علماء مختلف ہوئے بعض نے کہا اس میں اس قدر زندگی رکھ دی جاتی ہے کہ اسے الم کا احساس ہو حیات مطلقہ نہیں رکھی جاتی اور بعض نے کہا کہ اس میں پورے طور پر زندگی رکھ دی جاتی ہے اھ (ت)
اسی طرح علامہ عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں فرمایا فلیتنبہ ۱۲ منہ (م)
رجل من المعتزلہ الیہ تنسب الفرقۃ الصالحیۃ ۱۲منہ (م)
یہ معتزلہ میں سے ایك شخص ہے جس کی طرف فرقہ صالحیہ منسوب ہے۔ (ت)
کافی شرح وافی
مستخلص الحقائق باب الیمین فی الضرب والقتل دلی پرنٹنگ ورکس دہلی انڈیا ٢ / ٣٨٨
باہم امتیاز نہ رہا بلکہ مٹی سے خلط ملط ہوگئے پھر اسے عذاب دیا گیا تو ان ہی اجزاء میں زندگی رکھ دی جاتی ہے جو نظر نہیں آتے اور بلا شبہ اﷲ تعالی اس پر ضرور قادر ہے الخ یہ عبارت مقدمہ سوم میں مکمل گزری۔ (ت)
اب ذرا انکھ کھول کر دیکھئے وہ کسے میت کہہ رہے تھے۔ کس کی طرف اعادہ حیات بقدر احساس الم مانا کس کے اجزاء متفرق ہوگئے۔ کس کے اجزاء اتنے باریك ہوئے کہ نظرکام نہیں کرتی۔ ہاں وہ کیا ہے جس کے اجزاء مٹی میں مل گئے۔ کیا وہ روح پاك ہے۔ حاشا یہی بدن تو وہ خاك ہے۔ تو آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ اس مردہ حقیقی میں علماء کا کلام ہے۔ اسی کی نسبت انکار سماع وافہام ہے۔ وﷲ الحجۃ السامیۃ (اور اﷲ ہی کے لئے بلند حجت ہے۔ ت)
دلیل : انھیں کتب میں کریمہ وما انت بمسمع من فی القبور سے استدلال کیا اور پر ظاہر کہ من فی القبر نہیں مگر بدن خود صاحب تفہیم المسائل نے اسی بحث میں براہ بدقسمتی خود انھیں امام عینی شارح کنز کی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری سے نقل کیا :
فان قلت بعد فراغ الملکیئن من السوال مایکون المیت قلت ان کان سعیدا کان روحہ فی الجنۃ وان کان شقیا ففی سجین علی صخرۃ فی الارض السابعۃ ۔
یعنی بعد سوال نکیرین سعید کی روح جنت میں رہتی ہے اور شقی کی سجین میں ساتویں زمین کی ایك چٹان پر۔
تو قبر میں نہیں مگر بدن اسی سے آیت نفی اسماع فرماتی ہے اور اسی سے یہ علماء نفی سماع۔
دلیل : نیز یہ سب علماء قول ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دلیل لائے۔ اور ان شاء اﷲ القریب المجیب عنقریب روشن ہوتا ہے کہ ام المومنین صرف سماع جسمانی کی منکر ہیں اور ادراك روحانی کی مثبت ومقر۔
دلیل : انھیں کتب میں اسی میت میں مسائل دو قسم کے ذکر فرمائے : ایك متقید بحیات دوسرے شامل حیات وممات۔ فرماتے ہیں اگر قسم کھائی کہ اگر تجھے ماروں یاتجھ سے بولوں یاعورت سے کہا اگر تجھ سے
عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری باب المیّت یسمع خفق النعان ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ٨ / ١٤٧
بخلاف ان غسلتك اوحملتك اومسستك او البستك فانھا لا تنقید بالحیاۃ لان الغسل یرادبہ التنظیف وتطھیر وذایتحقق فی المیت الاتری انہ یجب غسل المیت تطھیرالہ فکیف ینا فیہ ولوصلی علی المیت قبل الغسل لم یجز ولوکان غسیلا جاز والحمل یتحقق بعد الموت قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من حمل میتا فلیتوضا والمس للتعظیم وللشفقۃ فیتحقق بعد الموت والالباس للتعظیمۃ والمیت محل لہا ۔
اس کے برخلاف اگر کہا : اگر میں نے تجھے نہلایا یا اٹھایا یا مس کیا یا پہنایا تو یہ قسمیں حالت حیات سے مقید نہ رہیں گی اس لیے کہ نہلانے سے پاك صاف کرنا مقصود ہوتا ہے اور وہ میت کے حق میں بھی ثابت ہے۔ دیکھو کہ میت کو پاك کرنے کے لیے اسے غسل دینا واجب ہے تو وہ قسم اس کے منافی کیسے ہوگی __ اور اگر غسل سے پہلے میت کا جنازہ پڑھ لیا تو جائز نہیں اور بعد غسل جائز ہے۔ اور جس نے ایسے مردے کو لیے ہوئے نماز پڑھی جسے غسل نہ دیا گیا تھا تو جائز نہیں اور اگر غسل دیا ہوا تھا تو جائز ہے۔ اور اٹھانا بعد موت بھی متحقق ہے۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے : “ جس نے کسی میت کو اٹھایا تو چاہئے کہ وضو کرے۔ “ مس کرنا تعظیم یا شفقت کے لئے ہوتا ہے تو وہ بعد موت بھی متحقق ہوگا۔ پہنانا تعظیم کے لئے ہوتا ہے اور میت اسی کا محل ہے۔ (ت)
دیکھئے وہی کان ہے وہی خطاب ہے۔ اور اگر اس سے بدن مراد نہ ہوتا تو ان حلفوں میں واجب تھا کہ کبھی حانث نہ ہو کہ مسائل قسم ثانی مطلقا وہی ہوں گے جنھیں محض بدن سے تعلق ہے۔ جب بدن مقصود نہیں تو اسے نہلانا اٹھانا چھونا پہنانا کیوں موجب حنث ہونے لگا اور ایك اسی قسم پر کیا ہے قسم اول میں ضرب و جماع وبوسہ کیا غیر بدن سے متعلق ہیں۔ نسق واحد کے ذکر کیے ہوئے تمام مسائل میں بدن مراد لینا اور صرف ایك کو اس سے الگ کردینا کس قدر دو ر از کار ہے کاف خطاب سے جو ان سب میں مراد ہے وہ ہی کلمتك میں تو لا جرم یقینا قطعا یہ سب خطاب محاورہ عرف حلف سب متعلق بدن ہی ہیں اور فاروق وہی جلیل وجمیل جو
دلیل ۱۱ : ان ائمہ کرام وعلمائے اعلام کا یہ کلام ارواح موتی پر حمل کرنا صراحۃ باطل وتوجیہ القول بما لا یرضی بہ القائل ہے ان کے کلمات عالیات بہزار زبان اس سے تحاشی فرما رہے ہیں شواہد سنئے :
شاہد : امام اجل ابو البرکات نسفی قدس سرہ کا ارشاد اسی کافی شرح وافی سے ابھی گزرا کہ روحیں نہیں مرتیں۔
شاہد : خود عقائد کی کتاب میں ارشاد فرمایا کہ روح میں مرگ سے کچھ تغیر نہیں آتا کیا وہ اسی روح کو کہیں گے کہ مرگئی فہم وادراك کے قائل نہ رہی یہ کچھ ہوا ا ور تغیر نہ آیا وائے جہالت!
شاہد : یہی امام ابن الہمام اور ایك یہی کیا تمام علمائے اعلام زیارت قبور میں اموات پر سلام اور ان سے خطاب وکلام تسلیم فرماتے ہیں اور اسے سنت بتاتے ہیں فتح القدیر میں ہے :
یکرہ النوم عندالقبر وقضاء الحاجۃ بل اولی وکل مالم یعھد من السنۃ والمعھود منھا لیس الازیارتھا والدعاء عندھا قائما کما کان یفعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الخروج الی البقیع ویقول السلام علیکم دار قوم مومنین وانا ان شاء اﷲ بکم لا حقون اسئل اﷲ لی ولکم العافیۃ ۔
قبرکے پاس سونا مکروہ ہے اور قضائے حاجت بھی بلکہ بدرجہ اولی مکروہ ہے۔ اورہر وہ کام جو سنت سے معہود نہ ہو اور سنت سے معہود یہی زیارت اور وہاں اکھڑے ہو کر دعا ہے جیسا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بقیع تشریف ارزانی میں کیا کرتے تھے اور کہتے تم پر سلام ہوا ے اہل ایمان لوگو! اور ہم بلاشبہ تم سے ملنے والے ہیں اگر اﷲ نے چاہا۔ میں اپنے لیے اور تمھارے لئے عافیت مانگتا ہوں ۔ (ت)
فصل یاز دہم میں گزرا کہ یہ سلام وکلام ضرور دلیل سماع وافہام ہیں مگر یہ اکابر اعلام معاذا ﷲ اتنی تمیز نہ رکھتے تھے کہ اینٹوں پتھروں سے سلام وکلام کیا معنی
شاہد : یو ں ہی جس نے زیارت حضرات شیخین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما ذکر کی بالاتفاق ان سے علاوہ سلام و کلام بھی تعلیم کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ موجہہ اقدس حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اتنا ہٹے کہ صدیق ( رضی اللہ تعالی عنہ ) کے مواجہے میں آجائے اس وقت ان سے یوں عرض کرے۔ پھر ان کے مواجہہ سے
ثم یتاخر عن یمینہ قدر ذراع فیسلم علی ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ فان راسہ حیال منکب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیقول السلام علیك یاخلیفۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وثانیہ فی الغار ابی بکر الصدیق جزاك اﷲ عن امۃ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خیر ا ثم یتاخرکذلك قدر ذراع فیسلم علی عمر رضی اﷲ تعالی عنہ لان راسہ من الصدیق کرأس الصدیق من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیقول السلام علیك یا امیر المومنین عمر الفاروق والذی اعز اﷲ بہ الاسلام جزاك اﷲ من امۃ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خیرا ۔
پھر اپنے داہنے ہاتھ بھر ہٹ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر سلام عرض کرے اس لئے کہ ان کا سر مبارك نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دوش انور کے مقابل ہے۔ تو عرض کرے آپ پر سلام اے اﷲ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے خلیفہ اور غار میں ان کے ثانی ابو بکر صدیق! خدا آپ کو امت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی جانب سے جزائے خیر دے۔ پھر اسی طرح ہاتھ بھر ہٹ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر سلام عرض کرے اس لیے کہ ان کا سر مبارك حضرت صدیق سے اسی طرح ہے جیسے حضر ت ابوبکر صدیق کا سر مبارك حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے۔ تو عرض کرے آپ پر سلام ہو اے امیر المومنین عمر فاروق وہ جس سے اﷲ نے اسلام کو عزت وقوت دی اﷲ آپ کو امت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف سے نیك جزا عطا فرمائیے۔ (ت)
شاہد : چلے کہا کو انھیں امام ابن الہمام کا وہ ارشاد ہدایت بنیاد جگر شگاف توا ہب والحاد سنئے کہ سارے انکاری مذہب پر مردنی چھا جائے اموات کوپتھر سمجھنے پر حجارۃ من سجیل کا پتھر اؤ آئے۔ اسی فتح القدیر کے آخر کتاب الحج میں فرماتے ہیں :
یاتی القبر الشریف ویستقبل جدارہ
یعنی مزار انور حضور سید اطہر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی
زیارت کو حاضر ہو روضہ اقدس کی طرف منہ اور قبلے کو پیٹھ کرے۔ اور وہ جو فقیہ ابواللیث سے نقل کیا گیا کہ قبلہ رو کھڑا ہو مردود ہے اس حدیث سے کہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی مسند میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ سنت یوں ہے کہ مزار اقدس کے حضور قبلہ کی طرف سے آئے قبلے کو پشت اور قبر انور کی طرف منہ کرے پھر عرض رساں ہو سلام حضور پر اے نبی! اور اﷲ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ایك گونہ قبلے کی طرف ہونا مراد لیں اس لئے کہ حضو ر اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قبر انور میں دہنی کروٹ پر قبلہ رو تشریف فرما ہیں اور علمائے کرام نے عام قبروں کی زیارت میں حکم دیا ہے کہ زائر کو چاہئے میت کی پائنتی کی طرف سے آئے نہ کہ سرہانے کی جانب سے کہ اس میں مردے کی نگاہ کو تکلیف ہوتی ہے بخلاف پہلی صورت کے کہ یوں آنے والا میت کی نگاہ کے سامنے ہوگا اس لیے کہ میت جب کروٹ سے ہو تو اس کی نظر اپنے پاؤں کی طرف ہے تو ا س تقدیر پر جب حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاؤں کی طرف سے حاضر ہوگا قبلہ اس کے بائیں ہاتھ کو ہوگا زیادہ رخ جانب قبر ہوگا اور ایك گوشہ جانب قبلہ ہوگا تو پشت بقبلہ بھی ہوا اور ایك گونہ قبلہ کی طرف جھکا ہونا بھی صادق آیا۔ الخ
اﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد ایمان سے کہنا یہی وہ علماء ہیں جو میت کو پتھر بے حس بے ادراک
شاہد : یہی امام عینی شارح کنز عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری کتاب مواقیت الصلوۃ باب الاذان بعد ذھاب الوقت میں فرماتے ہیں :
الروح جوھر لطیف نورانی مدرك للجزئیات والکلیات غنی عن الاغتذاء بری عن التحلل والنماء ولھذا یبقی بعد فناء البدن اذ لیست لہ حاجۃ الی البدن ومثل ھذا الجوھر لایکون من عالم العنصر بل من عالم الملکوت فمن شانہ ان لا یضرہ خلل البدن وتلتذ بمایلائمہ ویتألم بما ینافیہ والدلیل علی ذلك قولہ تعالی ولاتحسبن الذیین قتلوا فی سبیل اﷲ امواتا بل احیاء عند ربھم الایۃ وقول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا وضع المیت علی نعشہ رفرف روحہ فوق نعشہ ویقول یا اھلی ویاولدی ۔
روح ایك جوہر لطیف نورانی ہے کہ علم سمع وبصر وغیرہا تمام ادراکات رکھتی ہے کھانے پینے سے بے نیاز گھلنے بڑھنے سے بری ہے۔ اسی لئے فنائے بدن کے بعد باقی رہتی ہے کہ اسے بدن کی طرف اصلا احتیاج نہی ایسا جوہر عالم آب وگل سے نہیں ہوتا بلکہ عالم ملکوت سے توا س کی شان یہ ہے کہ بدن کا خلل پذیر ہونا اسے کچھ نقصان نہ پہنچائے جو بات موافق ہو اس سے لذت پائے جو مخالف ہو اس سے درد پہنچے اور اس پر دلیل اﷲ عزوجل کا ارشاد ہے کہ جو راہ خدا میں مارے گئے ہر گز انھیں مردہ نہ جانیوں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس (الآیۃ) اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حدیث کہ جب مردہ نعش پر رکھا جاتاہے اس کی روح بالائے نعش پر افشاں رہتی ہے اور کہتی ہے کہ اے میرے گھر والو اے میرے بچو!
ﷲ انصاف! اگر روح بعد موت معطل اور اس کا فہم وادراك مختل ہو تویہ کیونکر صحیح ہوتا کہ اسے بدن کی حاجت نہیں خلل بدن سے کچھ مضرت نہیں بھلا روح تو بیکار وجما د ہوئی یہ رب کے پاس زندہ کون ہے یہ نعش پر جلوہ افگن ونوازن کون ہے
شاہد ۷ : یہی امام محمود اسی عمدہ میں اس حدیث کے نیچے کہ میت کو اپنے اہل کے رونے سے عذاب
حکی عن طائفۃ ان معناہ انہ یعذب بسماع بکاء اھلہ علیہ ویرق لھم وقال والی ھذا ذھب محمد بن جرید الطبری وغیرہ قال القاضی عیاض وھو اولی الاقول واحتجوا بحدیث فیہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم زجر ا مرأۃ من البکاء علی ابنھا وقال ان احدکم اذابکی استعبرلہ صویحبہ فیاعباداﷲ لاتعذ بوا اخوانکم ۔
یعنی امام ممدوح نے ایك جماعت علماء سے نقل فرمایا کہ معنی حدیث یہ ہیں کہ لوگ مردے پر جو روتے ہیں مردے کو ا ن کا رونا سن کر صدمہ ہوتا ہے اور ان کے لئے اس کا دل کڑھتاہے امام محمد نے فرمایا محمد بن جرید طبری وغیرہا اسی طرف گئے امام قاضی عیاض نے فرمایا یہ سب قولوں سے بہتر ہے اور اس پر ایك حدیث سے دلیل لائے کہ ایك بی بی اپنے بیٹے پر رو رہی تھیں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انھیں منع کیا اور فرمایا : “ جب تم میں کوئی روتا ہے تو اس کے رونے پر مردے کے بھی آنسو نکل آتے ہیں تو ا ے خدا کے بندو! اپنے بھائیوں کو تکلیف نہ دو۔ “
یہ تو ان ائمہ سے نقل تھی اور اس سے پہلے خود امام عینی فرماچکے ہیں :
اما تصور البکاء من المیت فقد ورد نی حدیث ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ان احد کم اذ ابکی استعبرلہ صویحبہ والمراد والمراد بصویحبہ المیت ۔
یعنی میت کا رونا متصور ہے کہ ایك حدیث میں آیا ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں کوئی روتا ہے تواس کا ساتھی وہ مردہ بھی رونے لگتا ہے (صویحیب سے مراد میت ہے)
ﷲ انصاف! یہی علماء میں جوارح موتی کے سماع وفہم سے انکار رکھتے ہیں ۔
فائدہ : یہ بی بی حضرت قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ تعالی عنہما ہیں اور یہ حدیث ابوبکر بن ابی شیبہ وطبرانی نے ان سے روایت کی وہ خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں حاضر تھیں اپنے ایك بیٹے کو یاد کرکے روئیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : یہ کیا طریقہ ہے کہ دنیا میں زندگی تك کو اپنے ساتھی سے اچھا سلوك اور مرے پیچھے ایذا دو
فوالذی نفس محمد بیدہ ان احد اکن
قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ تعالی
عمدۃ القاری شرح البخاری مایرخص من البکاء فی غیر نوح ادارۃ المنیریۃ بیروت ٨ / ٧٩
علیہ والہ وسلم کی جان پاك ہے کہ تمھارے رونے پر تمھارا مردہ رونے لگتا ہے تو اے خدا کے بندو! اپنی اموات کو عذاب نہ کرو
شاہد : علامہ شربنلالی نے غنیہ ذوی الاحکام میں قول درر :
الایلام لایتحقق فی المیت وکذا الکلام لان المقصود بھذالافہام والموت ینا فیہ ۔
الم رسانی میت کے اندر متحقق نہیں اسی طرح گفتگو بھی کیونکہ اس کا مقصود افہام اور سمجھانا ہوتا ہے موت اس کے منافی ہے۔ (ت)
پر تقریر کی اور خود فر مایا :
الاصل فیہ ان کل فعل یلذو یولم ویغم ویسر یقع علی الحیات دون الممات ۔
اس بارے میں اصل یہ ہے کہ ہر وہ فعل جس سے لذت والم اور غم وسرور ہو وہ حیات ہی پر واقع ہوگا موت پر نہیں۔ (ت)
اور قول میں ان کا ارشاد بحوالہ حضرت استاذ سن چکے کہ مردوں کو جوتوں کی پہچل سے اذیت ہوتی ہے۔
شاہد : قول دیکھو کہ گھاس اور پیڑ کی تسبیح سے مردہ کا جی بہلتا ہے۔
تنبیہ : فتاوی قاضی خاں وامداد الفتاح ومراقی الفلاح علامہ شرنبلالی وغیرہا میں مقبروں سے درخت و گیاہ سبز کاٹنے کی کراہت پر دلیل مذکور قائم فرمائی اور جس غافل غیر ماؤف الدماغ کے سامنے ان الفاظ کو بیان کیجئے کہ فلاں کی تسبیح سے فلاں کا جی بہلا اس کا ذہن قطعا اس طرف جائے گا کہ اس نے اس کی تسبیح سنی اور اس سے انس ملا بداہت عقل شاہد ہے کہ کسی شے سے انس پانے کو اس پر اطلاع ضرور اور تسبیح جنس کلام سے ہے جس پر اطلاع بطور سماع تویہ کلام علماء صراحۃ سماع موتی کی دلیل صاف ہے بلکہ اس درجہ قوت قویہ سمع کی جو عامہ احیاء کو حاص نہیں کما نبھنا علیہ سالفا (جیسا کہ پیچھے ہم نے اس پر تنبیہ کی۔ ت) تو صاحب تفہیم المسائل کا خبط کہ اس کلام کو ہر گز مطلب سے اشنائی نہیں پھر کہا :
بایددید کہ ایں عبارت را از سماعت موتی چہ مناسبت
دیکھنا چاہئے کہ اس عبارت کو مردوں کے سننے سے کیا مناسبت ہے (ت)
الدرر الاحکام لملاخسرو باب حلف الفعل مطبعہ کاملیہ مصر ۲ / ۵۳
غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ علی الدرر الاحکام باب حلف الفعل مطبعہ کاملیہ مصر ۲ / ۵۳
تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص٨٤
شاہد تا : یونہی سید عالم ابوا لسعود ازہری صاحب فتح اﷲ المعین وسید علامہ طحطاوی وسید علامہ شامی محشیان در نے دربارہ یمین وہی تقریرات ذکر کیں اور سب حضرات نے تسبیح گیاہ سے میت کو انس ملنا ذکر فرمایا کما تقدم (جیسا کہ گزرچکا۔ ت)
شاہد و : سیدین اخیرین نے تصریح فرمائی کہ انسان جو قبر کے پاس ذکر الہی کرے اس سے میت کا جی بہلتا ہے دیکھو قول و ۔
شاہد و : یونہی دونوں حضرات نے فرمایا کہ مقابر میں پیشاب کرنے سے زندوں کی طرح مردے کو بھی ایذا ہوتی ہے۔ دیکھو قول و ۔
شاہد : علامہ طحطاوی نے تقریر فرمائی کہ اموات کو جوتوں کی پہچل سے اذیت ہوتی ہے دیکھو قول
شاہد تا : علامہ حلبی محشی در ر بھی اس تقریر یمین میں شریك ہیں اور احراق حیوانات بعد ذبح پر وہ شبہ فرمایا کہ میت کو ایذا ئے خارج سے درد پہنچنا ثابت ہے سیدین اخیرین نے جواب دیا کہ یہ بنی آدم میں ہے دیکھو تذییل زیر قول ۔
شاہد : قول میں علامہ شامی کا امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ سے وہ نقل فرمانا دیکھو کہ قبر حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے حضور نماز میں بسم اﷲ شریف آواز سے نہ پڑھی۔
شاہد : قول میت کے سرہانے سے نہ آئے کہ اس کی نگاہ کو تکلیف ہوگی پائنتی سے آئے کہ میت کے پیش نظر ہوگا۔
شاہد : تکمیل جمیل میں علامہ زیادی و داؤدی واجہوری سے علامہ شامی کا وہ نقل کرنا دیکھو کہ کسی چیز کے ملنے کے لیے بلندی پر جاکر حضرت سیدی احمد بن علوان کو ندا کرے۔
شاہد : علامہ طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں قبور پر سلام ذکر کرکے فرمایا : حدیث صحیح سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شناسا قبر پر گزرتا اور سلام کرتا ہے مردہ اسے پہچانتا ہے اور جواب دیتاہے۔
حیث قال واخرج ابن عبدالبر فی الاستذ کار والتمہید بسند صحیح عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی
ان کی عبارت یہ ہے : ابن عبدالبر نے استذکار اور تمہید میں بسند صحیح حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے
فرمایا : جو شخص بھی اپنے کسی ایسے مومن بھائی کی قبر سے گزرتا ہے جو اسے دنیا میں پہچانتا تھا اور اسے سلام کرتا ہے تو صاحب قبر اسے پہچانتا ہے اور اس کے سلا م کا جواب دیتا ہے۔
شاہد : انھیں کا قول دیکھو کہ اموات زائروں کا سلام سنتے جواب دیتے ان سے انس پاتے ہیں پھر فرمایا : اس میں نہ شہیدوں کی خصوصیت نہ کسی وقت کی قید خدا را انصاف! یہ علماء سماع روح کے منکر ہونگے حاش ﷲ حاش للہ ولکن الوھابیۃ قوم یعتدون (مگر وہابیہ ایسے لوگ ہیں جو حد سے تجاوز کرتے ہیں ت) پچیس شاہد ہیں اور پچیس سو ممکن مگر علماء اپنا لکھا خود نہ سمجھتے تھے لاجرم قطعا یقینا وہ ارواح موتی کے لیے سمع وبصر وعلم وفہم مانتے اور بدن مردہ کو جب تك مردہ رہے ان صفات سے معزول جانتے ہیں یہی بعینہ ہمارا مذہب اور یہی عبارات علماء کا مطلب والحمدﷲ رب العلمین۔
دلیل : اگر یہ کلام مشائخ کرام روح پر محمول ہوتو وہ اعتراضات قاہرہ وارد ہوں جن سے رہائی ناممکن الحصول ہو مثلا :
اولا حدیث سے تك انھیں بارہ احادیث عظیمہ صحیحہ خفق نعال وقلیب بدر سے ایرا دجلیل اور ادعائے تخصیص وقت سوال قبر یا خصوصیت کفا رمقتولین بدر باطل وبے دلیل کما سمعت (جیسا کہ سن چکے۔ ت)مرقات شرح مشکوۃ میں فرمایا
یردہ ان الاختصاص لایصح الابدلیل وھو مفقود ھھنا بل السوال والجواب ینا فیانہ ۔
اس کی تردید اس سے ہوتی ہے کہ خصوصیت بغیر کسی دلیل کے صحیح نہیں اور دلیل یہاں مفقود ہے بلکہ سوال و جواب تو اس کے منافی ہیں۔ (ت)
ثانیا یہاں خصوصیت سہی اور جو ا حادیث کثیرہ عموما ومطلقا اموات کے علم وسمع وبصر وادراك ومعرفت میں وارد ہیں ان سے کیا جواب ہوگا مرقاۃ میں ہے :
مع ان ماورد من السلام علی الموتی یرد علی التخصیص باول احوال الدفن ۔
باوجود یکہ مردوں پر سلام کے بارے میں جوا حادیث وارد ہیں وہ اول وقت دفن سے تخصیص کی تردید کرتی ہیں۔ (ت)
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ با ب حکم الاسراء مکتبہ امدادیہ ملتان ٨ / ١١
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ با ب حکم الاسراء مکتبہ امدادیہ ملتان ٨ / ١١
الاانہ علی ھذا ینبغی التلقین بعد الموت لانہ یکون حین ارجاع الروح ۔
مگر اس بنیاد پر تو بعد موت تلقین ہونی چاہئے اس لیے کہ وہ اعادہ روح کے وقت ہوتی ہے۔ (ت)
یہ اعتراضات اس تقدیر باطل یعنی انکار سماع ارواح پر اصل سے اس کلام مشائخ کو باطل وازبیخ کندہ کرتے ہیں بخلاف اس تقدیر حق کے کہ صرف سماع جسم سے انکار مرادہے اب ان میں اصلا کچھ وارد نہیں ہوتا۔
فاقول : وباللہ التوفیق (میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ ت) تقریر کلام مشائخ اعلام یہ ہے کہ مبنائے ایمان عرف پر ہے اور خطابات عرفیہ متعلق بدن مگر کلام بے سمع وفہم نامتصور لاجرم یہ قسم حالت حیات پر مقصور اور جسم خالی معزول ومہجور کہ بعد فراق روح بدن مردہ ہے اور اس کے حواس ومشاعر باطل وافسردہ عذاب قبر اگرچہ روح وبدن دونوں پر ہے مگر اس کے لیے بدن کو ایك نوع حیات تازہ بقدر الم دی جاتی ہے مگر موت تواس قدر احساس وادراك کے منافی ہے پھر اس حیات کا استمرار بھی ضرور نہیں احادیث کثیرہ کہ سمع وبصرہ فہم وادراك ومعرفت اموات پر ناطق ہے ضرور صادق ہیں۔ ان میں مراد ارواح موتی ہیں کہ ادراك حقیقتا روح ہی کا کام ہے اور اسے موت نہیں نہ موت بدن سے میں تغیر آئے البتہ احادیث خفق نعال ضرور سمع جسمانی بتاتی ہیں قطع نظر اس سے کہ لفظ میت بدن میں حقیقت ان میں صراحۃ اذا وضع فی قبرہ (جب وہ قبر میں رکھا جاتا ہے۔ ت) ار شاد ہوا اورقبر میں رکھا جانا بدن ہی کی شان ہے مگر یہ بھی بوجہ مذکور ہم پر وارد نہیں نسخہ میں تحریر نہیں کہ اس وقت بغرض سوال بدن کی طرف اعادہ حیات ہوتاہے تو سماع حی کے لیے ثابت ہوا نہ کہ میت کے لیے اور احادیث قلیب اگر چہ حیات معادہ للسوال سے جدا ہیں کہ اول تو کافر مجاہر سے سوال ہونے میں کلام ہے۔ امام ابو عمر ابن عبدالبر نے فرمایا : سوال یامومن سے ہوگا یا منافق سے کہ بظاہر مسلمان بنتا تھابخلاف کافر ظاہر کہ اس سے سوال نہیں امام جلیل جلال سیوطی نے فرمایا : ھو الارجح ولا اقول سواہ نقلہ فی ردالمحتار (یہی ارجح ہے اور میں اس کے سوا کا قائل نہیں اھ اسے ردالمحتارمیں نقل کیا۔ ت) شرح الصدور میں اس کی تائید کرکے
فتح القدیر باب الجنائز مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٦٩
ردالمحتار صلٰوۃ الجنائز مصطفی البابی مصر ١ / ٦٢٩
وفی حدیث ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عند الطبرانی من قول حماد وابی عمر الضریر مایصرح بذلك ۔
طبرانی کے یہاں بالفاظ حماد وابوعمر ضریر جو حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ہے اس میں اس کی تصریح ہے۔ (ت)
اور اگر سوال مانئے بھی تواس کا وقت ابتدائے وضع ودفن ہے یہاں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان ناپاك لاشوں سے وہ گندہ کنواں پٹ جانے کے تین دن بعد وہاں تشریف لے جاکر مخاطب ہوئے تھے صحیح مسلم کی روایت حدیث میں گزری اور صحیح بخاری شریف میں ہے :
عن ابی طلحۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امر یوم بدر باربعۃ وعشرین رجلا من صنادید قریش فقذ فوافی طوی من اطواء بدر خبیث مخبث وکان اذا ظھر علی قوم اقام بالعرصۃ ثلث لیال فلما کان ببد رالیوم الثالث امر براحلتہ فشد علیھا رحلھا ثم مشی وتبعہ اصحابہ وقالوا مانری ینطلق الا لبعض حاجتہ حتی قام علی شفۃ الرکی فجعل ینادیھم باسمائھم واسماء ابائھم یا فلاں بن فلاں ویا فلان بن فلان ایسرکم انکم اطعتم اﷲ ورسولہ فانا قد وجد نا ماوعدنا ربناحقافھل وجدتم ماوعد ربکم حقا قال فقال عمر رضی اﷲ تعالی عنہ یا رسول اﷲماتکلم من اجسادا لاارواح لھا فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے روز بدر قریش کے چوبیس سربرآوردہ اشخاص کو بدر کے کنووں میں ایك گندے پلید کنویں میں پھنکوادیا حضور کاطریقہ یہ تھا کہ جب کسی قوم پر فتحیاب ہوتے تو میدان میں تین دن قیام فرماتے جب بدرکا تیسرا دن تھا تو سواری مبارك پر کجاوہ کسوایا پھر چلے صحابہ نے ہمر کابی کی اور کہا ہمارا یہی خیال ہے کہ اپنے کسی کام سے تشریف لے جارہے ہیں یہاں تك کہ کنویں کے سرے پر ٹھہر کران کا اور ان کے آباء کانام لے لے کر اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں کہہ کر پکارنے لگے فرمایا “ کیا اس سے تمھیں خوشی ہوتی کہ اﷲ اور اس کے رسول کا حکم تم نے مانا ہوتا ہم نے تو حق پایا وہ جس کا ہمارے رب نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا کیا تم نے اس کو ثابت پایا جو تمھارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا “ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا : یار سول اﷲ ! کیا آپ ان جسموں سے
کلام فرمارہے ہیں جن میں جان نہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے میری بات تم ان سے زیادہ نہیں سنتے حضرت قتادہ فرماتے ہیں : اﷲ تعالی نے ان کی توبیخ تذلیل کلفت حسرت اور ندامت کے لیے انھیں حیات دے کر حضور کا کلام سنوایا۔ (ت)
اور حدیث مذکور نص صریح ہے کہ ان کافروں نے گوش بدن ہی سے سنا کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی : حضور کیا کلام فرماتے ہیں ان بدنوں سے جن میں روح نہیں اسی کے جواب میں ارشاد ہوا کہ خدا کی قسم تم ان سے زیادہ نہیں سنتے توصاف ثابت ہوا کہ سماع جسمانی ہی واقع ہوا مگر جبکہ روح کا جسم سے فراق یقینا معلوم اور بے عود حیات سماع جسم خالی قطعا معدوم تو ان کافروں کے لیے تین دن بعد پھر عود زندگی ماننے سے چارہ نہیں اور پر ظاہر کہ یہ امر عموما نہیں ہوتا ناچار بالخصوص حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اعجاز سے ان ملا عنہ کو زیادت حسرت وندامت وعذاب واذیت ہونے کے لیے واقع ہوا کہ روح وبدن دونوں کا اشتراك تنہا روح کے ادراك سے اشد وسخت تر ہے لہذا قتادہ نے کہا : اﷲ تعالی نے ان کی حسرت وتوبیخ وتذلیل کے لیے اعادہ حیات فرماکر سنوایا بالجملہ جو ا حادیث سماع جسمانی میں نص ہیں ان میں تخصیص وقت یا بعض اموات خود سبیل واضح ہے اور جوایسی نہیں وہ راسا غیر وارد کہ سماع روح تو آپ ہی خود ثابت ولائح ہے۔ بحمدﷲ یہاں سے روشن ہوا کہ صاحب تفہیم المسائل کا خبط بے ربط کہ :
ہر چند مبنی ایمان برعرف است مگر مقصود فقہاء از نفی سماع دریں مقام نفی سماع عرفی وحقیقی ہر دوست زیرا کہ فقہا نفی سماع مطلق کردہ اند نہ بتقید عرف واگر نفی صرف سماع عرفی نہ حقیقی مقصود مے بود حاجت جواب دادن از مسئلہ عذاب قبروتوجیہ کردن دیگر وقائع کہ برسماع موتی دال ست نبود ۔
ہر چند کہ قسم کی بنیاد عرف پر ہے مگر یہاں سماع کی نفی سے فقہا کا مقصود عرفی وحقیقی دونوں سماع کی نفی ہے اس لیے کہ فقہا نے سماع کی نفی مطلق کی ہے عرف کی قید لگا کر نہیں اگر حقیقی نہیں صرف عرف سماع کی نفی مقصود ہوتی تومسئلہ عذاب قبر کا جواب دینے اور سماع موتی پر دلالت کرنے والے دوسرے حالات و واقعات کی توجیہ کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ (ت)
تفہیم المسائل عدمِ سماع موتٰی از کتبِ حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص٨٣
فاقول : (میں کہتا ہوں۔ ت) اولایہاں عرفی وحقیقی متغائر نہیں ہے۔ اوپر واضح ہوچکا کہ یہی ادراك اصوات بآلات جسمانیہ ہی حقیقت لغویہ اور یہی متعارف ہے اور وہ معنی جو وقت اضافت سمع بروح مجر د یا بحضرت عزت مراد ہوتے ہیں محل یمین میں ان کا احتمال ہی کیا تھا کہ اطلاق نفی انھیں میں شامل ہو۔
ثانیا : مشائخ کرام نے جن وقائع کی توجیہ فرمائی وہ سماع جسمانی پر دال تھے ان کی توجیہ کی ضرور حاجت تھی اس سے سماع روح کا انکار سمجھ لینا تمھاری خوش فہمی ہے۔
ثالثا : توجیہ عذاب قبر کی بھی ایك ہی کہی ذی ہوش کو نافع ومضر میں تمیز تك کی لیاقت نہیں مگر تصحیح المسائل کے مقابل آنا ضروری
ماذاخاضك یا مغرور فی الخطر
حتی ھلکت فلیت النمل لم نظر
( اے فریب خوردہ! کس چیزنے تجھے خطر ے میں ڈالا کہ تو ہلاکت کو پہنچا کاش! چیونٹی پرواز ہی نہ کرتی۔ ت)
عقلمند یہ بھی دیکھا کہ وہ توجیہ کیا کی ہے اور اس سے روح میں کلام نکلتا ہے یاصاف بدن میں گفتگو ہونا منجلی ہے۔ دلیل ہفتم کو گزرے ابھی دیر نہ ہوئی اسے ملاحظہ کیجئے اور صاحب تفہیم کی فہم سقیم کی داد دیجئے۔
رابعا : کاش اس بطور خویش جماد شوندہ نابینا وناشنوندہ یعنی اس تحریر سے پہلے مرجانے والے تفہیم نگارندہ کو زمانہ مہلت دیتا کہ ہمارے کلام میں دلیل یازدہم اور اس کے پچیس شواہد کو آنکھوں دیکھا کانوں سنتا اس وقت کھلتا کہ تو جیہ القول بما لایرضی بہ قائلہ (کلام قائل کی ایسی توجیہ جس سے قائل راضی نہیں۔ ت) کا ارتکاب کس نے کیا۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا اب رہا یہ کہ جب ابتدائے دفن میں سماع مسلم تو اس وقت حنث کیوں نہیں اقول ہاں یوں نہیں کہ یہ یمین مقتضی حیات مخاطب ہے اور نفس روح سے متعلق نہ تھی اگر اس سے تعلق ہوتا تو اس کی حیات ادراکات تو مستمرہ ہیں ضرور حنث ہوتا۔
فلان العرض وان کان لایبقی زمانین لکنہ مادام مستمرا بتجدد الامثال یعد شیئا واحدا باطباق اللغۃ والعرف والشرع۔
کیونکہ عرض اگر چہ دو زمانوں تك باقی نہ رہے لیکن وہ تجدد امثال کی وجہ سے مستمر ہوتو باتفاق لغت وعرف وشرح شی واحد ہی شمار ہوتا ہے۔ (ت)
بخلاف بدن کہ اس کی حیات زائل حیات جدیدہ اس وقت ملی ہے اور وہ حیات اولی کی غیر ہے تو جس حیات
الحیاۃ المعادۃ غیر الحیاۃ المحلوف علی اذنہ فیھا وقدومہ وھی الحیاۃ القائمۃ حالۃ الحلف لان تلك عرض تلاشی لایمکن اعادتھا بعینھا وان اعیدت الروح فان الحیاۃ غیرالروح لانہ امر لازم للروح فیمالہ روح ۔
دوبارہ دی جانے والی زندگی اس زندگی کے علاوہ ہے جس کے اندر اجازت اور آمد کی قسم کھائی تھی اور وہ زندگی وہ ہے جو قسم کھانے کے وقت اس شخص کے ساتھ قائم تھی کیونکہ وہ توا یك عرض ہے جو ختم ہوگیا بعینہ اس کا اعادہ ممکن نہیں اگر چہ روح کا اعادہ ہو اس لیے کہ حیات روح کے علاوہ ایك شی ہے وہ ایك ایسا امر ہے جو روح کے لیے لازم ہے اس شی میں جس کے لیے روح ہوتی ہے۔ (ت)
تنبیہ جلیل : الحمد ﷲ جس طرح اس تقریر سے یہ واضح ہو اکہ ہمارے مشائخ کرام باتباع احادیث صحیحہ ان عامیانہ اوہام حجاب وحائل خشت وگل قبر کو مہمل وناقابل التفات جانتے ہیں کہ میت مدفون کے لیے وقت اعادہ روح ایسی خفی آواز ہائے بیرونی کا سماع ثابت مانتے ہیں یو نہی یہ بھی لائح ہو ا کہ یہاں سماع جسمانی سے مانع یہی موت تھی ولہذا جس وقت جسم کوایك نوع حیات ملی سماع اصوات کی راہ کھلی توظاہر کہ روح کہ بالاجماع ہمیشہ زندہ ومستمر بحال ونامتغیر ہے اس کا سماع عادۃ دائم ہے کہ مصحح موجود اور مانع مفقود اب کھلا کہ مشائخ کرا م کی یہ بحث وکلام فقط مذ ہب منکرین سے بیگانہ ہی نہ تھی بلکہ بحمدﷲ تعالی صراحۃ ان کا رد ہیں اس تحقیق انیق کے بعد صاحب تفہیم المسائل کا مزاج پوچھئے کہ آپ کی اس خوش فہمی وقوت وہمی نے کہ :
درفتح القدیر نوشتہ کہ بنائے منع تلقین نزد اکثر مشائخ نابرعدم سماع موتی است ودر آخر گفتہ کہ طائفہ مشائخ درحدیث تلقین قائل بحقیقت بدیں وجہ شدہ اند کہ وقت تلقین مقام ارجاع روح است برائے سوال وجواب وایں وقت موتی رابجہت عود روح سماع حاصل است پس ایں طائفہ ہم منکر سماع موتی است و در وقت سوال وجواب ہمہ قائل سماع از دریں صورت از عبارت فتح القدیرمعلوم مے شود کہ مذہب ہمہ فقہا انکار فتح القدیر میں مرقوم ہے کہ ہمارے اکثر مشائخ کے نزدیك منع تلقین کی بنیاد عدم سماع موتی پر ہے اور آخر میں کہا کہ ایك جماعت مشائخ حدیث تلقین میں حقیقت کی قائل اس وجہ سے ہوئی کہ وقت تلقین سوال وجواب کے لیے روح لوٹائے جانے کاموقع ہے اور اس وقت روح کے عود کرنے کے باعث مردوں کو سماع حاصل ہے تویہ جماعت بھی سماع موتی کی منکر ہے اور سوال وجواب کے وقت سبھی سماع کے قائل ہیں اس طرح یہ فتح القدیر کی
عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ سماع موتی سے انکار تمام فقہاء کا مذہب ہے۔ (ت)
کیسا حکم تیر بازگشت پیدا کیا یہ تو اسی عقلمند کے کلام سے واضح ہوا کہ وہ میت جس کے لیے فقہاء سماع نہیں مانتے بدن ہی ہے۔ ذرا ہوش میں آکر بتانا کہ عود روح کس میں ہوتا ہے پھر یہ پوچھے کہ اے ذی ہوش! وہ روح جس کے ادنی عود سے یہ مشت خاك اتنے حجابوں حائلوں میں بالاتفاق سمیع ہوجاتا ہے وہ خود کہ حجاب وحائل سے منزہ اور ہمیشہ زندہ ہے کیوں نہ بالاتفاق دائما شنوا وبینا ہوگی! اب یاد کیجئے کہ امام ابن الحاج کا ارشاد مذکور قول کہ اولیائے احیاء نور خدا سے دیکھتے ہیں اور نور خدا کو کچھ جب نہیں۔ پھر اموات کا کیاکہنا اور شاہ عبدالعزیز صاحب کا مقال کہ روح کے آگے مکان دور ونزدیك یکساں ہے جس طرح نظر کنویں میں آسمان برین کے ستارے دیکھتی ہے وغیر ذلك اقوال کثیرہ مذکورہ۔ نسخہ میں الف تحریر نہیں دیکھ ظالم! حجت الہی یوں قائم ہوتی ہے ہاں یہ باقی رہا کہ ادراك روح کے لیے جسم شرط مانئے یہ اوپر واضح ہوچکا کہ اس کے کون قائل ہیں معتزلہ وغیر ہم لیام آگے تم جانوں اور تمھار اکام یہی بحمدﷲ تقریر وتفسیر وتنویر اس کلام حضرات مشائخ کی جسے مخالف اپنا کمال موافق جان کر اہل حق سے الجھتے اور موافق بگمان تخالف مشکل و معضل سمجھتے اہل بدعت اپنی سپرپناہ ٹھہرا کر آسمان ناز پر اپنی ٹوپیاں اچھالتے اور اصحاب سنت بظاہرمخالف عقیدہ صادقہ پاکر سلاح معارضہ ومنافقہ سنبھالتے اب بعون عزیز مقتدر عزجلالہ روشن ہوگیاکہ امربالکل بالعکس ہے۔ وہ کلام ہدایت نظام سراپا اہل سنت کے مطابق اور مذہب مخالف کا رد ونکس ہے۔ بحمدﷲ تعالی اب مخالف دیکھے کہ اس کے شو شے قعر عدم کے گوشے میں گئے موافق نہ صرف موافق ہرذی عقل منصف دیکھے کہ بفضلہ تعالی اس تقریر منیر سے کیا کیا فائدے حاصل ہوئے۔
فائدہ : کلام مشائخ بحمدﷲ تعالی ہر گز عقیدہ اہلسنت کے مخالف نہیں۔
فائدہ : نہ عیاذ ا باﷲ کسی حدیث مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے خلاف۔
فائدہ : نہ تصریحات ائمہ میں اصلا تعارض۔
فائدہ : نہ خود ان علماء کے کلام میں کہیں بوئے تناقص۔
فائدہ : نہ وہ اس مسئلہ ویمین میں اپنی ہی اصل مقرر یعنی بنا علی العرف سے جدا چلے بلکہ اسی جڑے یہ پودے کھلے۔
فائدہ : نہ وہ ہرگز کسی تخصیص بے دلیل کے مرتکب ہوئے نہ ان کی اس دلیل پر زنہار کوئی نقض وارد نہ تفریع وتاصیل پر کچھ الزام عائد غرض یہ سب اور دیگر مقامات میں ان کے کلمات اور باقی ائمہ کے نصوص وتصریحات اور
ذلك من فضل الله علینا و على الناس و لكن اكثر الناس لا یشكرون(۳۸) رب اوزعنی ان اشكر نعمتك التی انعمت علی و على والدی و ان اعمل صالحا ترضىه و اصلح لی فی ذریتی ﱂانی تبت الیك و انی من المسلمین(۱۵) والحمدﷲ رب العلمین۔
وہ اﷲ کا فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے اے میرے رب! مجھے یہ عطا کر کہ میں شکر ادا کروں اس احسان کا جو تم نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا اور یہ کہ میں نیك کام کروں جس سے تو راضی ہو اور میری اولاد کو میرے فائدے کے لیے نیك بنادے بیشك میں تیری طرف رجوع لایا اور یقینا میں اسلام والوں سے ہوں اور سب خوبیاں اﷲ کے لیے جو سارے جہانوں کا پرودگار ہے۔ (ت)
الحمد ﷲ اس جواب جلیل وجمیل کے بعد اصلا حاجت نہیں کہ اور جوابوں کی طرف توجہ کروں دلائل نے بفضلہ تعالی یقین قطعی دے دیا ہے کہ بلاشبہ مراد مشائخ کرام یہی ہے تو اب کیا ضرورت ہے کہ تنزلات کیجئے ارخائے عنان سے مہلتیں دیجئے مگر مخالف کو شکایت وحسرت نہ رہے لہذا چالشکری کو کچھ اور بھی امتداد سہی اسی جواب کے متعلق بعض تنبیہات مفیدہ لکھرکر دیگر اجوبہ کی طرف عطف عنان کروں وباﷲ التوفیق۔
تنبیہ اول : ا قول بعض مسائل میں اہل بدعت اور بعض یا کل اہلسنت متفق ہوتے ہیں اور ان کے
ہر کہ تلقین نمی کند ونمی گویدبآں اور بر مذہب اعتزال است کہ گویند میت جماد محض است ۔
جو تلقین کا عامل وہ قائل نہیں وہ مذہب معتزلہ پرہے جو کہتے ہیں کہ میت جماد محض ہے۔ (ت)
ولہذا امام ابن ہمام نے اپنا عندیہ بیان فرمایا کہ میرے گمان میں منع تلقین انکار سماع پر مبنی ہے یہ ان جمہور مانعین کے لحاظ سے ضرور صحیح ہے مگر بعض علمائے اہل سنت کہ منع میں شریك ہوئے ان کا ماخذ یہ ہر گز نہیں بلکہ بعض کے نزدیك بدعت ہونا کما مرعن سلطان العلماء (جیسا کہ سلطان العلماء سے گزرا۔ ت) یا ان کے خیال میں بے فائدہ ٹھہرنا کہ ایمان پر گیا تو کیا حاجت ورنہ کیا منفعت ولہذا اما م نسفی نے مسئلہ یمین میں وہ تصریحات فرمائیں مگر انکار تلقین میں ہر گز اس کا نام نہ لیا بلکہ اسے عدم فائدہ سے استناد کیا جیسا کہ قول او نکتہ جلیلہ میں گزرا ولہذا ملك العلماء بحرا لعلوم عبدالعلی محمد نے جب انکار تلقین اختیار کیا اس پر اسی انعدام نفع سے استظہاراور ساتھ ہی بربنائے انکار سماع انکار ماننے پر تصریح انکار کیا ارکان اربعہ میں فرما تے ہیں :
لان المیت لافائدۃ من تلقینہ اصلا لانہ ان مات مسلما فھو ثابت علی الشھادۃ بالتوحید والرسالۃ فالتلقین لغو وان مات کافرا فلا یفید التلقین لانہ لاینفعہ الایمان بعد الموت وماقیل ان التلقین لغو لان المیت
تلقین میت میں اصلا کوئی فائدہ نہیں اس لیے کہ اگر وہ اسلام پر مرا ہے تو خود توحید ورسالت پر قائم ہے پھر تلقین بیکار ہے۔ اور اگر کفر پر مراہے تو تلقین سود مند نہ ہوگی اس لیے کہ موت کے بعد ایمان لانا اسے نفع بخش نہ ہوگا اور یہ جو کہا گیا کہ تلقین اس لیے لغو ہے کہ میت
کشف الغطاء فصل احکام دفن مطبع احمدی دہلی ص٥٧
سنتانہیں تو یہ باطل ہے۔ (ت)
فائدہ : امام علامہ شیخ الاسلام نسفی نے جس طرح کافی میں منع تلقین پر صرف نفی نفع بروجہ مذکور سے استدلال کیا جس سے صاف مترشح کہ وہ اصل سماع کے منکر نہیں ورنہ سرے سے یہی فرمانا تھا کہ تلقین کسے کی جائے اینٹوں پتھروں کو یوں ہی آیات کریمہ کی تفسیر میں نفی انتفاع ونفی قبول ذکر فرمائی زیر کریمہ ملائکہ فرمایا شبہ الکفار بالموتی حیث لاینفعون بمسموعھم (کفار کو مردوں سے تشبیہ دی اس لحاظ سے کہ وہ سنتے ہیں اس سے نفع یاب نہیں ہوتے ۔ ت) زیر کریمہ نمل لما کانوا لایعون مایسمعون لابھم ینتفعون شبھوا بالموتی (چونکہ کفار سنتے ہیں اس کو سمجھتے نہیں اور اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اس لیے انھیں مردوں سے تشبیہ دی گئی ۔ ت)زیر کریمہ روم وھو لاء فی حکم الموتی فلا تطمع ان یقبلوا منك (اور یہ مردوں کے حکم میں ہیں تو اس کی طمع نہ رکھوں کو وہ تمھاری بات قبول کریں گے۔ ت) مگر صاحب تفہیم المسائل تواختراع وافتراء کے ماہر کا مل صاف لکھ دیا :
صم بکم می نویسد المعنی انھم فی حال کفر ھم وتکذیبھم کمن لا یسمع ولا یتکلم فلھذا شبہ الکفار بالموتی لان المیت لایسمع ولایتکلم کذا قال ابن الخازن العراقی الشافعی فی تفسیرہ لباب التاویل فی معنی التنزیل انتہی اھ۔
تفسیر مدارك میں آیت کریمہ “ جنھوں نے ہماری آیتوں کو جٹھلایا بہرے گونگے ہیں “ کے تحت لکھتے ہیں : معنی یہ ہے کہ وہ اپنے کفر وتکذیب کی حالت میں ان کی طرح ہیں جو سنتے بولتے نہیں اسی لیے کفار کو مردوں سے تشبیہ دی گئی اس لیے کہ مردہ سنتا بولتا نہیں ایسے ہی ابن خازن عراقی شافعی نے اپنی تفسیر لباب التاویل فی معنی التنزیل میں فرمایا۔ انتہی یعنی عبارت مدارك ختم ۔ اھ (ت)
مدارك شریف میں اس عبارت کا نشان نہیں لطف یہ کہ اس میں تفسیر لباب تاویل کا حوالہ نقل کرکے انتہی کردی یعنی یہاں تك کہ عبارت مدارك تھی حالانکہ صاحب مدارك کی وفات ھ یا ھ میں علی اختلاف القولین ہے اور لباب التاویل کی تالیف ھ میں ختم ہوئی۔ نہ امام اجل نسفی ایسے حوالے کے عادی اور وہ بھی اپنے کسی
تفسیر النسفی (مدارك التنزیل) وماانت بمسمع من فی القبور دارالکتاب العربی بیروت ٣ / ٣٣٩
تفسیر النسفی سورہ نمل زیر آیت انك لا تسمع الموتی دارالکتاب العربی بیروت ٣ / ٢٢٢
تفسیر النسفی روم زیر آیت فانك لاتسمع الموتی دارالکتاب العربی بیروت ٣ / ٢٧٦
تفہیم المسائل عدم سماع موتی از کتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص٨٨
تنبیہ دوم : اقول : بحمدﷲ تعالی واضح ہوچکا کہ ہمیں بقائے حیات بدن وسماع جسمانی سے کچھ کلام نہ وہ عام لوگ میں ہمارا دعوی نہ ہمارا کوئی مسئلہ اس پر موقوف توا گر بالفرض بدن کے لیے موت مطلق دائم رہتی ہمارا کچھ حرج نہ تھا ورود نصوص کے سبب ہم نے تنعیم وتعذیب قبر روح وبدن دونوں کے لیے مانی اور شبہات عقل و نقل بدن کے واسطے بھی ایك نوع حیات اس تلذم وتنعم وتالم کے لےے لازم جانی ہاں یہ ضرور ہمارا مدعا ہے اور بحمدﷲ تعالی دلائل قاہرہ اس پر قائم ہوچکے کہ روح باقی مستقر بحال ونامتغیر وسمیع ومبصر اور بدن کے ساتھ اس کا ایك تعلق ہمیشہ مستمر تو جو کچھ بعد فراق بھی بدن کے ساتھ کیا جائے ضرور دیکھے گی مطلع ہوگی اگر وہ فعل تعظیم ہے پسند کرے گی یا اہانت ہے نا خوش ہوگی اذیت پائے گی فصول سابقہ اس بیان کی متکفل ہوچکیں تو خارج سے بھی جو ضرب یا صدمہ بدن میت پر واقع ہو اگر بطور استہانت وتحقیر ہے قطعا روح کا ایذا روحانی ہوگی رہا یہ کہ اس سے اس اذیت ودرد جسمانی بھی لاحق ہوگا یا نہیں یعنی جس طرح عالم حیات میں بدن پرجو صدمہ آتا ہے بدن اسے روح تك پہنچانے کا آلہ وواسطہ بنتا کہ ا س کے تفرق اتصال سے روح کو درد پہنچتا آیا بعد فراق بھی مثل عذاب الہی والعیاذباﷲ تعالی تعذیب بشری سے بھی الم ہوتا ہے یا اس میں درد منتقی اور صرف وہی توہین کے باعث ناخوشی باقی ظاہر کلام مشائخ کرام جانب ودوم ہے ۱ ولہذا کافی میں فرمایا :
المیت لا یتالم بضرب بنی آدم وانما ذلك مما یتفرد بہ اﷲ تعالی ۔
میت کو بنی آدم کے مارنے سے دکھ نہیں ہوتا یہ ایسا امر ہے جو خداے تعالی کے ساتھ خاص ہے۔ (ت)
اور ۲یہی مقتضائے اثر حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ ہے :
اخرج ابن سعد عن خلف معد ان قال لما انھز مت الروم یوم اجنادین انتھوا الی موضع لا یعبرہ الا انسان وجعلت الروم تقاتل علیہ وقد تقدموہ وعبروہ فتقدم ھشام بن العاص رضی اﷲ تعالی عنہ فقاتل علیھم حتی قتل ووقع علی تلك الثلمۃ فسدھا فلما انتھی المسلمون الیھا ھابوا ان یوطؤھا الخیل
ابن سعد نے خلف بن معدان سے روایت کی وہ فرماتے ہیں جب روز اجنادین رومی شکست خوردہ ہونے لگے ایك ایسی تنگ جگہ پہنچ گئے جسے بس ایك ایك آدمی پار کرسکتا تھا اسی جگہ رومی جنگ کرنے لگے ہشام بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ آگے بڑھے لڑتے رہے یہاں تك کہ شہید ہوکر اسی تنگ جگہ آرہے۔ ان کے جسم سے وہ حصہ بھرگیا جب مسلمان وہاں پہنچے تو ان کے اوپر گھوڑے
چلانے سے خوف کیا حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا : اے لوگو! اﷲ تعالی نے انھیں شہادت دی اور اس کی روح کو اٹھالیا اب یہ صرف جثہ ہے تو اس پر سے گھوڑے گزادو پھر انھوں نے پہل کی اور لوگوں نے آپ کی اتباع کی یہاں تك کہ وہ جسم پارہ پارہ ہوگیا (ت)
امام جلیل جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں :
ھذہ الاثار لا تدل علی ان الارواح لا تتصل بالا بدان بعد الموت اناما تدل علی ان الاجسام لاتتضر ربما ینالھا من عذاب الناس لھا ومن اکل التراب لھا فان عذاب القبر لیس من جنس عذاب الدنیا وانما ھو نوع اخر یصلی الی المیت بمشیۃ اﷲ تعالی وقد رتہ ۔
ان کا آثار میں اس پر دلیل نہیں کہ موت کے بعد بدن سے روح کا تعلق نہیں ہوتا ان کی دلالت صرف اس پر ہے کہ جسم کو تکلیف سے ضرر نہیں ہوتا جو انسانوں کو جانب سے اسے پہنچائی جاتی ہے اسی طرح مٹی کے کھالینے سے اسے تکلیف نہیں ہوتی اس لیے کہ عذاب قبر عذاب دنیا کی جنس سے نہیں وہ ایك دوسری قسم کی چیز ہے جو اﷲ تعالی کی مشیت وقدرت سے میت کو پہنچتی ہے۔ (ت)
اور ظواہر حدیث ودیگر آثار واخبار واقوال اخیار جانب اول ہیں حدیث۱ میں روایت دارقطنی سے زیادت لفظ فی الالم گزری یعنی مردہ وزندہ کی ہڈی توڑنی درر میں برابر ہے ۲علامہ طیبی شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں :
جم غفیر ذھبوا الی ان المراد ان کسر عظم المیت ککسر عظمہ حیافی التالم والتاذی ۔
جماعت عظیم علماء اس طرف گئی کہ مراد حدیث یہ ہے کہ مردے کی ہڈی توڑنی درد وایذا میں ایسے ہی ہے جیسے زندہ کی۔
۳امام ابو عمر ابن عبدالبر ۴شیخ محقق کا اس باب میں ارشاد قول و میں گزرا اور تینوں ۵سید علامہ ابراہیم حلبی و ۶احمد مصری و۷محمد شامی محشیان در کے اقوال اسی کے بعد مذکور ہوئے ۸حدیث میں بروایت صحیح مسلم شریف انہی عمر وبن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے گزرا :
اذا دفنتمونی فشنوا علی التراب شنا ۔
جب مجھے دفن کرو تو مٹی مجھ پر
شرح الصدور باب احوال الموتٰی فی قبورہم خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص٨٣
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ بحوالہ طیبی فصل ثالث من باب دفن المیّت مکتبہ امدادیہ ملتان ٤ / ٧٩
صحیح مسلم باب کون الاسلام یہدم ماقبلہ نور محمد اصح المطابع کراچی ١ / ٧٦
ایں قول اشارت است باآنکہ میت احساس می کند ودردناك می شود بآنچہ دردناك م شود بآں زندہ ۔
اس قول میں اس جانب اشارہ ہے کہ میت کو احساس ہوتا ہے اور اسے بھی اس چیز سے درد پہنچتا ہے جس سے زندہ کو درد پہنچتا ہے (ت)
۱۱حدیث میں امام سفیان کا ارشاد گزرا کہ :
انہ لینا شد باﷲ غاسلہ الا خففت غسلی ۔
مردہ اپنے نہلانے والے کو خدا کی قسم دیتا ہے کہ مجھ پر آسانی کرنا۔
۱۲ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ایك عورت کی میت کو دیکھا کہ اس کے سر میں زور زور سے کنگھی کی جاتی ہے۔ فرمایا :
علام تنصون میتکم ۔ الامام محمد فی الاثار اخبرنا ابو حنیفۃ ح وعبدالرزاق فی مصنفہ واللفظ لہ قال اخبرنا سفین عن الثو ری کلاھما عن حماد بن ابی سلیمان عن ابراہیم النخعی عن عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا انھا رأت امرأۃ یکدون رأسھا بمشط فقالت علام تنصو میتکم ورواہ کمحمد ابو عبید القاسم بن سلام وابراھیم الحربی فی کتابیھما فی غریب الحدیث عن ابراہیم عن عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا انھا سئلت عن المیت یسرح رأسہ فقالت علام
کس جرم میں اپنے مردے کی پیشانی کے بال کھینچتے ہو۔ (اسے امام محمد نے کتاب الآثار میں روایت کیا فرمایا ہمیں ابوحنیفہ نے خبر دی__ اور عبدالرزاق نے مصنف میں روایت کیا__ الفاظ اسی کے ہیں : کہا ہمیں خبردی سفیان نے وہ ثوری سے راوی ہیں۔ امام ابو حنیفہ اور سفیان ثوری دونوں حماد بن ابی سلیمان سے وہ ابراہیم نخعی سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی ہیں انھوں نے دیکھا کہ ایك عورت کے بالوں میں کنگھا کررہے ہیں فرمایا : “ کیوں اپنی میت کی پیشانی کے بال کھینچتے ہو “ اور اسے امام محمد کی طرح ابوعبیدقاسم بن سلام اور ابراہیم حربی نے اپنی کتاب غریب الحدیث
شرح الصدور عن سفیان باب معرفۃ المیّت من یغسلہ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص٤٠
کتاب الآثار امام محمد باب الجنائز وغسل المیّت ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ص٤٦
مصنف عبدالرزاق با ب شعر المیّت واظفارہ حدیث ٦٢٣١ المکتبۃ الاسلامی بیروت ٣ / ٤٣٧
میں ابراہیم نخعی سے انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راویت کیا ان سے میت کے سر میں کنگھا کرنے سے متعلق سوال ہوا فرمایا : کیوں اپنی میت کاموئے پیشانی کھینچتے ہو۔ (ت)
بالجملہ رجحان اسی جانب ہے اور بہر حال اگر الم مانیے تو مسئلہ یمین فی الضرب پر کچھ نقض نہیں کہ الم پہنچے گا حیات معادہ سے اور حلف تھا حیات موجودہ عندالحلف پر کما قدمنا تحقیقہ عن الفتح (جیسا فتح القدیر سے اس کی تحقیق ہم پئش کر چکے۔ ت) اور نہ مانیے تو سماع میں کچھ نقض نہیں کہ ہمارا کلام روح سے ہے الیت بدن ہونا نہ ہونا یکساں۔ ولہذاامام اجل سیوطی نے بآں کہ اثبات سماع موتی میں ہو تحقیقات باہرہ وقاہرہ رکھتے ہیں اس تقریر پر تقریر فرمائی :
ھکذا ینبغی ان یفھم ھذا المقام واﷲ سبحانہ ولی الانعام وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی سیدنا محمد اکرم الکرام والہ وصحبہ الی یوم القیام۔
اسی طرح اس مقام کو سمجھنا چاہئے اور خداے پاك ہی انعام کا مالك ہے اور بہتر درود کامل تر سلام ہمارے آقا حضرت محمد پر جو کریموں میں سب سے زیادہ کریم ہیں اورا ن کی آل واصحاب پر روز قیامت تک۔ (ت)
جواب دوم : مانا کہ روح ہی میں کلام ہے مگر کہاں سے کہ سمع منفی بمعنی ادراك بتوسط آلات جسمانیہ نہیں یوں بھی مطلب حاصل اور تنافی زائل کہ منفی یہ ہے اور مثبت بمعنی انکشاف تام اصوات بروجہ جزئی اس جواب کے قریب قریب کلام تنزل سے حضرت شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مرور فرمایا : شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں :
دریں جاسخن دیگر است فرضا اگر از ثبوت سماع تنزل کنیم باعتبار آنکہ سماع بحاسہ سمع می باشد وسمع بخرابی بدن خراب شد بگویم از نفی سماع نفی علم لازم نمی آید وعلم بہ روح بود کہ باقی است پس علم بہ مبصرات ومسموعات حاصل باشد نہ بروجہ ابصار وسمع چنانچہ بعض متکلمان وسمع بصر الہی تعالی رابعلم مسموعات اومبصرات تاویل کردہ اند الخ
یہاں ایك اور گفتگو ہے کہ بالفرض اگر ہم ثبوت سماع سے تنزل کریں اس لحاظ سے کہ سننا کان سے ہوتا ہے اور کان فساد بدن کی وجہ سے فاسد ہوچکا تو ہم کہیں گے نفی سماع سے نفی علم لازم نہیں آتی اور علم روح سے ہوتا ہے جو باقی ہے تو دیکھتی سنی جانیوالی چیزوں کا علم حاصل ہوگا اگر چہ دیکھنے اور سننے کے طور پر نہ ہوگا جیسا کہ بعض متکلمین نے خدائے تعالی کے سمع وبصر کی تاویل مسموعات اور مرئیات کے علم سے کی ہے الخ (ت)
اشعۃ اللمعات باب حکم الاسراء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۳ / ۴۰۰ و ۴۰۱
اکثر واعلی من الصلوۃ فیہ فان صلوتکم معروضۃ علی۔
اس دن مجھ پر درود بہت بھیجو کہ تمھارا درود مجھ پر عرض کیا جائے گا۔ (ت)
صحابہ نے گزارش کی :
یا رسول اﷲ وکیف تعرض صلاتنا علیك وقد ارمت۔
یا رسول اللہ! یہ کیونکر ہوگا حالانکہ بعد وصال جسم باقی نہیں رہتے۔ (ت)
فرمایا :
ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء۔ رواہ الامام احمد والدارمی وابواداؤد والنسائی ابن ماجۃ وابن خزیمۃ وابن حبان والداقطنی و الحاکم والبیہقی فی الدعوات الکبیر وابو نعیم وصححہ
بے شك اﷲ تعالی نے زمین پر انبیاء کا جسم کھانا حرام کیا ہے۔ (ت) اسے امام احمد دارمی ابوداؤد نسائی ابن ماجہ ابن خزیمہ ابن حبان دارقطنی حاکم دعوات کبیر میں بہیقی اور ابو نعیم نے روایت کیا۔ اور ابن خزیمہ
ابن حبان دارقطنی حاکم اور ابن دحیہ وغیر ہم نے اسے صحیح کہااور عبدالغنی اور منذری نے حسن کہا۔ (ت)
اسی طرح دوسری حدیث میں ہے : حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
اکثروا الصلوۃ علی یوم الجمعۃ فانہ مشھود تشھدہ الملئکۃ وان احدا لم یصلی علی الاعرضت علی صلوتہ حتی یفرغ منھا۔
جمعہ کے دن مجھ پر درود زیادہ بھیجا کرو کہ وہ دن حضور ملائك کا ہے رحمت کے فرشتے اس دن حاضر ہوتے ہیں اور جو مجھ تك درود بھیجتا رہے اس کی درود مجھ پر پیش کی جاتی ہے۔
ابود رداء رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : قلت وبعد الموت میں نے عرض کی اور بعد انتقال اقدس! فرمایا : ان اﷲ تعالی حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء بے شك اﷲ تعالی نے زمین پر انبیاء کا جسم کھانا حرام کیا ہے۔ تتمہ حدیث عــــہ ہے۔ فنبی اﷲ حی یرزق اﷲ کے نبی زندہ ہیں روزی دئے جاتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
رواہ احمد وابوداؤد وابن ماجۃ عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اسے امام احمد ابوداؤدا ور ابن ماجہ نے حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
پر ظاہر کہ پیش ہونے کے معنی نہ تھے مگر اطلاع دی جاتی اس سے صحابہ کرام کے ذہن ادراك واطلاع بذریعہ آلات جسمانی ہی کی طرف گئے لہذا و ہ سوال عرض کئے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حیات بدن ہی سے جواب دیے صاحب تفہیم المسائل کی جہالت کہ یہ حدیثیں ذکر کرکے لکھا :
عــــہ : ھکذا لان ھذہ القطعۃ محتملۃ الادراج فاثبتھا علی وجہ یحتمل الوجھین وھذا من دقائق حسن التعبیر فلیتنبہ وﷲ الحمد ۱۲۔
میں نے اسے اس طرح ذکرکیا ا س لیے کہ اس حصہ حدیث میں یہ احتمال ہے کہ راوی نے اپنے طور پر کہا ہو اور یہ بھی کہ حضور کا کلام نقل کیا ہو تو میں نے اس طور پر اسے لکھا کہ دونوں صورتیں بن سکیں یہ حسن تعبیر کی باریکی ہے جس پرتنبہ چاہئے اور حمد خداہی کے لیے ہے۔ (ت)
ان دونوں حدیثوں میں اس پر دلیل ہے کہ مردوں کو سماع حاصل نہیں اور اس پر کہ یہ امر صحابہ کے نزدیك قراریافتہ تھا اس لیے کہ ان حضرات نے بعد موت درود پیش ہونے اور سننے پر تعجب کرکے سوال کیا۔ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جواب دیا کہ جب انبیاء کو حیات دنیاوی حاصل ہے اور ان کا جسم بھی باقی ہے تو سننے اور پیش ہونے کو بعید سمجھنے کا موقع نہیں۔ (ت)
اقول : اولا اگر یہ مراد کہ ان سے عام لوگوں کے لیے بعد موت ادراك جسمانی نہ رہنا مستفاد تو ہمیں مسلم اور تمھیں کیا مفاد اور ادراك روح کا انکار ماننا اور اسی کو اذہان صحابہ میں مستقر جاننا معاذاﷲ انھیں بدمذہب ٹھہرانا اور حضورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اس پر سکوت تقریر وتسلیم بتانا ہے۔ ذی ہوش نے اتنا نہ دیکھا کہ صحابہ کرام نے فنائے جسدو بقائے ادراك میں تنافی ظاہر کی اور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نفی تنافی سے جواب نہ دیا بلکہ نفی منافی سے کہ انبیاء کے اجسام بھی زندہ ہیں اب یہاں ادراك روح میں کلام ہو تو دو ہی صورتیں ہیں یا تو صحابہ موت جسد سے روح کو بھی مردہ مانتے یا ادراك روح کے لیے بقائے بدن شرط جانتے فصول سابقہ نیزمباحث قریبہ میں بار بار تکرار واضح ہوچکا کہ یہ دونوں قول اہل بدعت وضالین معتزلہ وغیرہم مخذ ولین کے ہیں۔ قول میں مقاصد وشرح مقاصد سے گزرا کہ بدن کو شرط ادراك جاننا اہلسنت کے خلاف معتزلہ کا اعتساف ہے۔ اسی طرح عامہ کتب عقائد وتفسیر کبیر وغیرہا میں تصریح منیر افسوس کہ اپنی بد مذہبی بنانے کے لیے معاذاﷲ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو عقائد فاسدہ کا معتقد ومظہر اور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ان پر ساکت ومقربتاؤ اور دل میں خوف خدا نہ لاؤ۔
ثانیا کیا خواب میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نسبت صرف سکوت بتانا کہہ رہاہوں وہ صراحۃ کلام اقدس کے معنی بتا چکا کہ از آنجا کہ انبیاء کے اجسام باقی ہیں لہذا سننے میں استعباد نہیں کیا ظلم ہے کہ صاف صاف رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ادراك روح کے لیے بقائے جسم کا شرط ماننے والا بتاؤ خدا بدمذہبی کی بلا سے بچائے۔
ثالثا طرفہ یہ کہ یہاں پیشی درود بذیعہ ملائکہ مقصود حدیث دوم میں شہود ملائك کی تصریح موجود اور خود اس کے
عــــہ : اقول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ
گفت ابودرداء گفتم بطریق استفہام واستبعاد کہ پس از موت نیز عرض می کنند ۔
ابودرداء فرماتے ہیں : میں نے بطریق استفہام واستبعاد عرض کی کہ کیا بعد انتقال اقدس بھی وہ درود پیش کریں گے۔ (ت)
ذرا اس “ می کنند “ کا مرجع تو بولئے مگر اذہان صحابہ میں فنا وخرابی بدن کے بعد روح کی بے ادراکی تمھاری مقررہ بے ادراکی سے بھی فزوں ترتھی کہ ملائکہ کی بات سننے سمجھنے پر بھی تعجب واستعباد فرماتے مگر امثال آیہ کریمہ النار یعروضون علیھا سے کہ مکیہ ہے اور اظہار فضل جمعہ وتنزیل فرض درود سے بہت پہلے نازل ہوئی ان کے کان بے خبر تھے ہاں بدن کی یہ حالت ضرور ہے کہ اس کو وہ موت عارض ہوتی ہے جو مطلقا منافی شعور ہے تن مردہ جب تك مردہ ہے نہ ملك کی بات سن سکتا ہے نہ بشر کی اور وقت سوال وغیرہ عود سماع بعود حیات ہے۔ اس کا یہ بھی استمرار ضرور نہیں تو برقیاس عامہ ناس کہ اس وقت تك خاصہ اجسام طیبہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا علم نہ تھا بحال فنائے بدن بقائے ادراك جسمانی میں اشکال ہوا جس پر وہ سوال اور اس کا وہ جواب کا شف حقیقۃ الحال ہوا الحمد ﷲ تعالی اتنی حقیقت تھی آپ کے اس نئے ناز کی جس پر بڑی دھوم سے دکان فخر بازی کی کہ :
چوں از جواب مغالطات معترض فراغت دست داد لہذا تحقیق این مسئلہ بطور دیگر ضرور افتاد ۔
چونکہ معترض کے مغالطات سے فراغت دستیاب ہوئی اس لیے اس مسئلہ کی تحقیق دوسرے طورپر ضروری ہوئی (ت)
ماشاء اﷲ اس شرط وجزا کے ربط کو دیکھیے یہی بتارہا ہے کہ سخت گھبرائے ہوئے اور اعتراضات علامہ معترض قدس سرہ کا لا حل سمجھ رہے ہو اگر واقعی اعتراض اٹھ جاتے تو اگلی ہی تحقیق کی جان بچ جاتی آپ کے اس فراغت دست کے بعد پچھلی ضرورت پر ضرور افتاد کی افتاد کیوں آتی ع
نطق کا حوصلہ معلوم ہے بس جانے دو
فائدہ جلیلہ : جب محاورات باہمی میں مطلق سمع سے یہ تبادر تو حدیث قلیب کا ذکر ہی کیا ہے کہ اس کا تو سماع جسمانی میں نص صریح ہونا اوپر مبین ہوچکا اور ام المومنین محبوبہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وعلیہا اجمعین حاضر واقعہ نہ تھیں نیز اوپر ظاہر کیاکہ آیات کریمہ متعلق باجسام ہیں خصوصا وماانت بمسمع من فی القبور اگر چہ نفی سماع نہیں فرماتے مگرنفی سماع ظاہر ہے اور اس واقعہ سے صراحۃ اسماع اجسا م مفہوم لہذا ام المومنین نے اسے منافی آیات خیال فرما کر وہم وسہو کا حکم دیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یعلمون فرمایا یعنی ان کی روحیں جانتی ہیں راوی کو یسمعون یاد رہا کہ ان کے جسم سنتے ہیں پر ظاہر کہ علم صفت خاصہ روح ہے جس میں وہ بدن کی محتاج
تفہیم المسائل سماع موتٰی از کتب حنفیہ مطبع محمدی لاہوری ص٨٤
حدثنا الحسین بن حریث (ثقۃ من رجال الشیخین) ناعیسی بن یونس (ثقۃ مامون رجال الستۃ کسائر السند) عن ابن جریج
ہم سے حدیث بیان کی حسین بن حریث نے (یہ ثقہ رجال بخاری ومسلم سے ہیں) انھوں نے کہا ہم سے حدیث بیان کی عیسی بن یونس نے (ثقہ مامون او ر باقی رجال سندکی طرح صحاح ستہ کے رجال سے ہیں)
وکنا کند ما نی جذیمۃ حقبۃ
من الدھر حتی قیل لن یتصدعا
فلما تفرقنا کانی ومالکا
لطول اجتماع لم نبت لیلۃ معا
ثم قالت واﷲ لوحفر تك مادفنت الا حیث مت ولو شھد تك مازرتك ۔
وہ راوی ہیں ابن جریج سے وہ عبداﷲ بن ابی ملیکہ سے انھوں نے فرمایا۔ ت) یعنی حضرت سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ برادر حقیقی ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے مکہ معظمہ کے قریب موضع حبشی میں انتقال فرمایا ان کی نعش مبارك مکہ معظمہ لائے جنت المعلی میں دفن ہوئے جب ام المومنین مکہ معظمہ آئیں تو ان کے مزار مبارك پر گئیں دو شعر (کہ تمیم بن نویرہ نے اپنے بھائی مالك بن نویرہ کے مرثیہ میں کہے تھے) پڑھے کہ ایك مدت دراز تك جذیمہ (بادشاہ عرب وعراق وجزیرہ مقتول ملك جزیرہ زبا) کے دونوں مصاحبوں کی طرح (کہ چالیس سال تك صحبت بادشاہ میں یکجا رہے تھے) ساتھ رہے یہاں تك کہ لوگوں نے کہا کہ یہ ہرگز جدا نہ ہوں گے اب کہ جدا ہوئے گویا اس قدر طول یکجائی پر کسی شب ایك جگہ نہ رہے تھے ____ پھر اپنے برادر مکرم رضی اللہ تعالی عنہ سے مخاطب ہوکر یہ باتیں کیں خدا کی قسم! اور اگر میں آپ کے انتقال کے وقت موجود ہوتی تو آپ وہیں دفن ہوتے جہاں آپ کا انتقال ہوا تھا اور اگر میں اس وقت اپ کے پاس ہوتی توا ب آپ کی زیارت کو نہ آتی۔
وہیں دفن ہونااسی لیے کہ یہی سنت ہے نعش کو دور لے جانا نہ چاہئے اور زیارت کو نہ آنا یوں کہ زیارت قبور میں عورات کا حصہ کم ہے۔ ام المومنین اگر معاذاﷲ ادراك سماع ارواح کی منکر ہوتیں تو اس کلام وخطاب کے کیا معنی تھے کیا کوئی عاقل اینٹوں پتھروں سے باتیں کرتا ہے او رکیونکر منکرہوتیں حالانکہ دیکھتی سنتی جانتی تھی کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اموات سے سلام وکلام وخطاب فرمایا کرتے تھے خودروایت فرماتی ہیں کہ میری ہر شب نوبت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم آخرشب مقبرہ بقیع تشریف لے جاتے اور فرماتے :
السلام علیکم دار قوم مومنین واتاکم ماتوعدون غدا مؤجلون وانا ان شاء اﷲ بکم
سلام تم پر اے ان گھروں والے مسلمانو! اب تم کو ملا چاہتا ہے جس کا تم سے وعدہ ہے تمھاری معیاد کل کے دن ہے۔ اور خدا چاہے تو ہم تم سے ملنے والے ہیں
اسے مسلم نے روایت کیا۔ اور نسائی میں اتاکم سے مؤجلون تك کی جگہ یہ الفاظ ہیں ہم اور تم آپس میں کل کے وعدے پر ہیں اور اسی پربھروسہ کیے ہوئے ہیں اور ابن ماجہ کے الفاظ دوسرے ہیں نسائی نے بھی لفظ “ سلام “ کے بعد اسی طرف اشارہ کیا ہے تم ہم سے پہلے پہنچ گئے اور خداچاہے تو ہم تم سے ملنے والے ہیں۔ (ت)
کیونکر منکرہوتیں حالانکہ خود دریافت کرچکی تھیں کہ یا رسول اﷲ ! کہ جب میں مدفونان بقیع کی زیارتوں کو جاؤں توا ن سے کیا کہوں حکم ہوا تھا سلام کرکے یوں کہوں کہ ان شاء اﷲ ہم تم سے ملنے والے ہیں۔
مسلم ونسائی وغیرھما عنہا فی حدیث طویل قالت قلت کیف اقول لھم یا رسول اﷲ قال قولی السلام علیکم اھل الدیار من المومنین المسلمین ویرحم اﷲ المستقدمین منا والمستاخرین وانا ان شاء اﷲ بکم لا حقون ۔
مسلم ونسائی وغیرہما نے حضرت صدیقہ سے ایك حدیث طویل میں روایت کیا انھوں نے عرض کیا : میں ان سے کیا کہوں یا رسول اللہ فرمایا : یوں کہو تم پر سلام اے قبر ستان والو مومنین مسلمین سے! خدا ہمارے اگلوں اور پچھلوں پر رحم فرمائے بیشك ہم تم سے ملنے والے ہیں اگر اﷲ نے چاہا۔ (ت)
بالجملہ ام المومنین صرف سماع جسمانی کا انکار فرماتی ہیں مگر از انجا کہ احادیث ثقات عدول شاہد ہیں ان واقعہ کے رد کی طرف سبیل نہیں جمہور علماء نے اس مسئلہ میں ان کا انکار قبول نہ کیا اور یہی مانا کہ اگر چہ تین دن گزر گئے ان خبیثوں کے ناپاك جسم پھول پھٹ گئے تھے اور شك نہیں کہ جسم مردہ ہرگز سننے کے قابل نہیں مگر پھر بھی انھوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ ارشاد اسی گوش سر سے سنا کہ اﷲ عزوجل نے ان کی زیادت حسرت کے لیے ان خالی جسموں کو اس وقت پھر زندہ فرمایا تھا اور اس میں آیات کی کچھ مخالفت نہ ہوئی کہ سنا اﷲ عزوجل کی طرف سے ہوا نہ وہ جلاتا نہ یہ ان کانوں سے سنتے وصف موتی آیت میں ملحوظ ہے یعنی میت جب تك میت ہے اسے سنا نہیں سکتے اور بعدہ اعادہ روح اب وہ میت ہی نہیں تو آیات کا اصلا محل ورود نہ رہا۔
اقول : یہ تقریر کلام جانبین بحمدﷲ تعالی سب تکلفات سے مجانب ومنزہ ہے۔ اور اب ام المومنین پر
سنن نسائی الامر بالا ستغفار للمومنین نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ١ / ٢٨٧
سنن نسائی الامر بالا ستغفار للمومنین نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ١ / ٢٨٧
فان قلت ماوجہ ذکر حدیث ابن عمر وحدیث عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہم وھما یعنی بخاری نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان
عــــہ : امام عینی کا بھی ایك کلام اس مسلك کی طرف ناظر : فان ام المومنین لما وھمت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنھم فی حدیث تعذیب المیت ببکاء اھلہ وشبھت وھمہ فیہ یوھمہ فی حدیث القلیب قال العینی وجہ المشابھۃ بینھما حمل ا بن عمر علی الظاھر المراد منہما ای من الحدیث غیر الظاھر الخ بیدان الاظھر من کلامھا رضی اﷲ تعالی عنہا ھو المسلك الاول واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ (م)
تو ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا نے جب حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی میت کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دینے۔ “ والی حدیث کے بارے رائے کو وہم قرارد یا اور ان کی اس رائے کو قلیب والی حدیث میں ان کے وہم کی طرح قرار دیا اس پر علامہ عینی نے فرمایا دونوں حدیثوں میں وجہ مشاہت یہ ہے کہ عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے دونوں حدیثوں کا ظاہری مفہوم مراد لیا جبکہ ان دونوں کا ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے الخ مگر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا کے کلام سے پہلا مسلك ہی زیادہ واضح ہے واﷲ تعالی اعلم (ت)
لاشوں سے خطاب کیا اور فرمایا سنتے ہیں ا ور حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث کہ بلکہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ فرمایا کہ جانتے ہیں د ونوں اس عذاب قبر میں اس لیے ذکر کیں کہ جب انھوں نے حس گوش سے کلام سن لیا تو باقی حواس سے عذاب کا الم بھی ادراك کرلیں گے اور ان حدیثوں میں موافقت یوں ہے کہ ابن عمر کی حدیث خطاب وقت سوال نکیرین پر محمول ہے اس وقت بدن میں روح آجاتی ہے اور ام المومنین کی حدیث او روقت پر محمول ہے جب بدن خالی رہ جاتا ہے یوں دونوں حدیثں متفق ہوجائیں گی۔ (ت)
دیکھو کیسی تصریح ہے کہ سارا کلام ونقض وابرام سماع جسمانی کے بارہ میں ہے۔ اسی میں ہے :
قلت ھذا من عائشہ یدل علی انھا ردت روایۃ ابن عمر المذکو رۃ ولکن الجمہو ر خالفوھا فی ذلك وقبلوا حدیث ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ الموافقۃ من رواہ وغیرہ ۔
یعنی میں کہتا ہوں یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ ام المومنین نے روایت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کا رد فرمایا مگر جمہور علماء نے اس بات میں ام المومنین کا خلاف کیا اور حدیث ابن عمر مقبول رکھی کہ اور صحابہ نے بھی اس کے موافق روایت کی۔
اسی میں ہے :
سامعین ایاما کان باذان رؤسھم کما ھو قول الجمہور ۔
یعنی ان لاشوں نے وہ ارشاد اقدس جسے جسمانی کا ن سے سنا جمہور کا قول یہی ہے۔ (ت)
جواب سوم : جامع الجوابین۔
اقول : قول مشائخ کہ میت یا زید بعد موت نہیں سنتا چار معنی کو محتمل کہ میت حقیقی بدن مق۱ ہے اور روح پر بھی اطلاق کرتے اور زید عرفی بدن ہےمق ۵ اور روح متعلق بالبدن بھی اس کے معنی بہر حال موضوع میں بدن و روح دو احتمال ہوئے یونہی سماع عرفی سمع آلات بدن ہے اور اس کے دوسرے معنی ادراك تام اصوات
عمدۃ القاری شرح بخاری باب ماجاء فی عذاب القبر ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ٨ / ٢٠٢
عمدۃ القاری شرح بخاری باب ماجاء فی عذاب القبر ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ٨ / ٢٠٢
() بدن مردہ کو سمع آلات نہیں۔
() بدن مردہ کو ادراك اصوات نہیں۔
() روح مردہ کو سمع آلات نہیں۔
() روح مردہ کو ادراك اصوات نہیں۔
پہلے تینوں معنی حق ہیں اور ہمارےکچھ مخالف نہیں نہ مخالف کواصلا مفید۔ کلام کے اگردو ہی معنی ہوتے ایك موافق ایك مخالف تو مخالف کو اس سے سند لانے کاکوئی محل نہ تھا نہ احتمالی بات پر مشائخ کرام کو منکر سماع متنازع فیہ کہنا صحیح ہوسکتا ہے نہ کہ تین احتمالات صحیحہ کو چھوڑ کر از پیش خویش چوتھا احتمال جمالینا اور کلام کو بزور زبان خواہی نخواہی اپنی سند بتادینا کیسی جہالت واضحہ ہے!
جواب چہارم : مذہب حنفیہ میں معتزلہ بکثرت پیرے ہوئے ہیں یہ مشائخ کہ برخلاف عقیدہ اہلسنت منکر سماع ہیں وہی معتزلہ ہیں یہ جواب سیف اﷲ المسلول مولنا المحقق معین الحق فضل الرسول قدس سرہ نے تصحیح المسائل میں افادہ فرمایا۔
اقول : کلام مشائخ سے استناد مخالف دو مقدموں پر مبنی تھا صغری یہ کہ امتناع سماع متنازع فیہ قول اکثر مشائخ حنفیہ ہے جس کے ثبوت میں وہ عبارات خمسہ پیش کیں اور کبری مطویہ مستورہ یہ کہ جو قول اکثر مشائخ حنفیہ ہے فی نفسہ حق ہے یا ہم پر اس کی تسلیم واجب ہے تقدیر اول پر دلیل تحقیقی ہوگی اور دوسرے پر الزامی بہر حال اس کا ثبوت کچھ نہیں اگلے تین جواب ان کے صغری کی ناز برداری میں تھے یعنی کلام مشائخ میں سماع متنازع فیہ کا انکار ہر گز نہیں اب یہ جواب اور باقی اجوبہ کبری مستورہ کی خدمت گزاری کو ہیں کہ اگر مکابرہ واصرار وعناد واستکبار سے کسی طرح باز نہ آؤ اور خواہی نخواہی معانی صادقہ صحیحہ موافقہ احادیث صحیحہ عقیدہ اہلسنت وکلمات ائمہ کرام وخود اقوال مشائخ اعلام کو چھوڑ کر بے دلیل بلکہ خلاف دلائل واضحہ معنی کلام مشائخ یہی گھڑ و کہ ارواح موتی کو کسی طرح ادراك کلام نہیں ہوتا تواب ہم ہر گز نہیں مانتے کہ اس قول کے قائل مشائخ اہلسنت ہوں جن کے ارشاد ہم پر حجت ہوں کیا مشائخ مذہب میں معتزلہ نہیں درمختار کتاب النکاح فصل محرمات میں ایك مسئلہ کشاف زمخشری معتزلی سے نقل کیا اس پر علامہ شامی نے ردالمحتار میں فرمایا :
نقل ذلك عنہ لان الزمخشری من مشائخ المذہب وھوحجۃ فی النقل ۔
یہ مسئلہ اس سے اس لیے نقل کیا کہ زمخشری مشائخ مذہب سے ہے اور اس کی نقل پر اعتماد ہے۔ (ت)
نسب الی اھل السنۃ والجماعہ وخلافہ الی المعتزلۃ ۔
اس تلقین کامطلوب ہونا اہلسنت وجماعت کی طرف منسوب ہے اور اس کا انکار معتزلہ کی طرف ۔
اورکلام امام صفار سے صاف صریح تصریح گزری کہ منع تلقین مذہب معتزلہ ہے۔ کشف الغطاء کا قول گزرا کہ جو تلقین نہیں مانتا معتزلی ہے جوہرہ و درمختار کی عبارت گزری کہ اہلسنت کے نزدیك تلقین امرشرعی ہے تو صاف ظاہر ہو اکہ یہ مشائخ منکران سماع وہی منکران تلقین معتزلی ہیں یہ سند واضح بہ تفصیل تام تصحیح المسائل میں مذکور تھی با اینہمہ صاحب تفہیم المسائل نے منہ زوری سے کہا :
از اکثر مشائخنا کہ ایں ہمام مشائخ رانسبت بخود کردہ معتزلہ مراد گرفتن از بس مستعبد ست و درکلام کدامی اہلسنت چنیں واقع نہ شدہ وابن ہمام رامعتزلی قرار دادن کار معترض است وآں مسئلہ کہ خلاف عقیدہ حنفیہ اہلسنت باشد دراں ہرگز علی الاطلاق نخواہند گفت کہ ایں قول علمائے حنفیہ است کما لا یخفی علی من لہ ادنی رجوع الی الکتب پس مادامیکہ وقوع لفظ اکثر مشائخنا درکلام اہلسنت ومراد بودن از اں معتزلہ ثابت نہ کنند چگونہ ایں توضیح بمعرض تسلیم درآید ۔
آکثر مشائخنا سے کہ ابن ہمام نے مشائخ کو اپنی طرف نسبت کیا معتزلہ مراد لینابہت مستعبد ہے اور کسی سنی کے کلام میں ایسا واقع نہ ہوا ابن ہمام کو معتزلی ٹھہرانا معترض کا کام ہے جو مسئلہ حنفیہ اہلسنت کے عقیدے کے خلاف ہو ا س میں علی الاطلاق ہر گز نہ کہیں گے کہ یہ علمائے حنفیہ کا قول ہے۔ جیسا کہ کتابوں کی طرف ادنی رجوع رکھنے والے پر مخفی نہیں تو جب تك کلام اہلسنت میں اکثر مشائخنا آنا اور اس سے معتزلہ کا مراد ہونا ثابت نہ کریں یہ توضیح کیسے تسلیم کی جاسکتی ہے (ت)
اقول : ا س ساری تطویل لاطائل کا صرف ا س قدر حاصل بے حاصل کہ کلام اہلسنت میں اکثر مشائخنا سے معتزلہ کا ارادہ مستعبدہ خلاف ظاہر ہے یہ کہنا اس وقت اچھا معلوم ہوتا کہ یا تو علامہ معترض نے یوں ہی بے سند فرمادیا ہو تا کہ یہاں معتزلہ مراد ہیں یا آپ جواب سند سے عہدہ برآہولیتے اور جب کچھ نہیں تو منع مؤید بسند واضح صرف
تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی مطبع محمدی لاہور ص٨١
وانکار تلقین رانسبت بہ معتزلہ بعض علمائے شافعہ زعم کردہ اند نہ حنفیہ چنانچہ د ربرجندی نوشتہ ولایلقن بعد الدفن عندنا وعندالشافعی یلقن و زعم بعض اصحابہ انہ مذہب اھل السنۃ والاول مذہب المعتزلۃ وایشا انکار تلقین را مطلقا نسبت بمعتزلہ کردہ اند نہ انکار بخصوصیت این وجہ کہ سماع موتی رانیست کما زعم المعترض ۔
بعض علمائے شافعیہ نے انکار تلقین کو معتزلہ کی طرف منسوب کیا ہے نہ کہ حنفیہ نے جیسا کہ برجندی میں لکھا ہے۔ ہمارے نزدیك بعد دفن تقلین نہ ہوگی اور امام شافعی کے نزدیك تلقین ہوگی ان کے بعض اصحاب نے فرمایا کہ یہ اہلسنت کا مذہب ہے اور اول معتزلہ کا مذہب ہے ۔ اور انھوں نے مطلقا انکار تلقین کو معتزلہ کی طرف منسوب کیاہے نہ خاص اس وجہ سے انکار کہ مردہ کو سماع نہیں جیسا کہ معترض نے گمان کیا ۔ (ت)
اقول اولا اس نابینائی کی کچھ حد ہے بھلا یہ جوہرہ ودرمختار وکشف الغطا وغیرہا تصانیف حنفیہ کو ملاجی کہہ سکتے ہیں کہ میرے پیش نظر نہ تھیں تلخیص الادلہ کی عبارت تو خود ہی اپنے خصم کے کلام سے نقل کہ امام زاہد صفار کہ درطبقہ ثانیہ از مجہتدین فی المذہب ست درکتاب تلخیص الادلہ نو شتہ وینبغی ان یلقن المیت علی مذہب الامام اعظم والمقتدی المکرم ومن لم یلقن فھو علی مذہب الاعتزال یعنی امام اعظم وپیشوائے مکرم رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب پرمیت کو تلقین کرنا چاہئے جوتلقین نہ مانے معتزلی ہے۔ اور انکھیں بند کرکے کہہ دیا کہ “ بعض شافعیہ زعم کردہ اند نہ حنفیہ “ مگر امام اجل مجہتدفی المذہب زاہد صفار کہ صرف دو۲ واسطے سے امام ابویوسف وامام محمد کے تلمیذ رشید ہیں سرکار کے نزدیك علمائے حنفیہ سے نہیں۔
ثانیا شافعیہ کا نسبت کرنا حنفیہ کے نسبت کرنے کا کیا نافی ومنافی ہے کہ عبارت برجندی سے نہ “ حنفیہ “ بھی نکال لیا خود سرکار اسی تفہیم کے صفحہ پر فرماتے ہیں :
از تخصیص شیئ بد کر نفی عماد عداہ لازم نیاید ور توضیح کسی خاص چیز کو ذکر کرنے سے اس کے ماسوا کی نفی
تفہیم المسائل عدم موتٰی ا زکتب حنفیہ مطبع محمدی لاہو ر ص٨٠
لازم نہیں آتی توضیح میں ہے کسی خاص چیزکا نام لینا یہ نہیں بتاتا کہ اس کے ماسوا سے حکم نفی ہے۔ (ت)
انھوں نے کلام شافعیہ میں دیکھ کر ان کی طرف نسبت کیا اس سے کیا لازم کہ حنفیہ نے نسبت نہ کیا اور بالفرض ان کا لازم سخن یہ ہوبھی تو جب صراحۃ انکھوں کے سامنے اجلہ حنفیہ کی تصریحات موجود تو کیا بعض علماء کے کلام سے نفی مفہوم ہونا محسوسات کو مٹادے گا قاعدہ اجماعیہ عقل ونقل میں تو مثبت کو نافی پر مقدم رکھتے ہیں دو علمائے معتمدین سے ایك فرماتا کہ حنفیہ نے ایسا نہ لکھا دوسرا فرماتا لکھا تولکھتا ہی ثابت ہو تا کہ اس نے نہ دیکھا لہذا انکار کیااور نہ دیکھنا کوئی حجت نہیں ومن علم حجۃ علی من لم یعلم (علم والاحجت ہے اس پر جسے علم نہیں۔ ت) نہ کہ ثبوت عیانی کو نفی بیانی سے دیدہ نادیدہ کردیں یعنی اگر چہ ہم انکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اکابر علمائے حنفیہ نے لکھا مگر فاضل برجندی جو لکھ چکے ہیں کہ شافعیہ نے کہا لہذا مجبوری ہے اب حس ومشاہدہ کی تکذیب ضروری ہے۔ سچ ہے آدمی وہابی ہو کر جماد لایسمع ولایفہم ہوجاتا ہے۔
ثالثا طرفہ جہالت یہ کہ مطلق انکار کی جانب معتزلہ منسوب ہے نہ اس خصو صیت سے تصحیح المسائل میں کب فرمایا تھا کہ انکار باین خصوص منسوب بہ معتزلہ ہے۔ اسے ذی ہوش!حاصل کلام تویہی تھا کہ انکار تلقین مذہب معتزلہ ہے اور امام ابن ہمام اس کا مبنی بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ منکر سماع تھے لہذا تلقین سے منکر ہوئے تو ظاہر ہوا کہ منکرین سماع معتزلہ ہیں اگرسرے سے بخصوص انکار سماع جانب معتزلہ نسبت ہوتی توا س توسیط کی کیا حاجت تھی ویسے ہی کہہ دیاجاتاکہ دیکھو انکار سماع قول معتزلہ بتایا گیا ہاں اس پرایك شبہ ہوتا تھا کہ بعض اہلسنت عــــہ بھی تو منع تلقین کی طرف گئے اور جب اس کا مبنی وہ ہے تو یہ بھی اس کے قائل ٹھہریں گے تصحیح میں اس وہم کے دفع کو توجیہ فرمادی کہ ان کا انکار انکار سماع پر مبنی نہیں بلکہ ان کے نزدیك تلقین کا بیکار یا ثابت ہونا ذی ہوش نے اسے نسبت بایں خصوص کا دعوی سمجھ لیا یہ فہم
عــــہ : اقول : سابقا مذکور ہو اکہ ظاہر الروایۃ سے منع ثابت نہیں اور امام صفا ر خود امام اعظم پر تلقین مانتے اور منکر کو معتزلی جانتے ہیں اور شك نہیں کہ معتزلہ قدیم سے شامل اہل مذہب ہیں اورا نھیں بر بنائے جمادیت موتی انکار تلقین لازم ابتداء وہی لوگ اپنے مذہب فاسد کی بنا پر منکر تھے لہذا امام صفار اس حصہ پر حاکم بعد مرور زمان بعض متاخرین اہلسنت نے کلمات مشائخ مذکورین میں انکار اور ظاہر الروایۃ میں عدم ثبوت دیکھ کر انکار کیا اور عدم فائدہ یا عدم ثبوت سے رنگ توجیہ دیا لہذا اب انکار دوطرفہ منقسم ہوگیا بوجہ جمادیت خاص بمعتزلہ اور بعض اہلسنت کا بوجوہ دیگر جیسا کہ کلام امام نسفی سے گزرا فاعملہ فعسی ان لا یتجاوز الواقع عنہ ۱۲ منہ (اسے اچھی طرح جان لے ہوسکتا ہے واقعہ ا س سے متجاوز نہ ہو ۱۲منہ ۔ ت)
ھذا وانا اقول : وباﷲ التوفیق سب این وآن سے درگزرے تواب دلائل ساطعہ قاطعہ حاکم ہیں کہ یہ قطعا مذہب معتزلہ ہے مثلا حجت اولی کلام کا ہے میں مفروض ہوا روح میں سماع سے کیا مراد لیا ادراك مطلق اگر چہ بے ذریعہ آلات اور یہ مشائخ دلیل کیا لا رہے ہیں کہ وہ مردہ ہے بے حس ہے فہم وادراك کے قابل نہیں یہ کہ ہزار بار سن چکے ہو کہ روح کی نسبت ان اعتقاد ات سے اہل سنت پاك ومنزہ ہیں یہ معتزلہ وغیرہم ضالین ہی کے خیالات بد مزہ ہیں خود آپ ہی اسی تفہیم میں فرماتے ہیں :
مذہب بعض معتزلہ آن است کہ اگر میت جماد ست دران حیات وادراك نیست ۔
بعض معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ میت جماد ہے اس میں حیات ادراك نہیں۔ (ت)
اور اس میں فرمایا :
بعض معتزلہ کہ آیہ کریمہ وماانت بمسمع من فی القبور درانکار تعذیب استدلال می کردند عینی درہمیں شرح بہ جواب ایشاں نوشتہ کہ عدم اسماع مستلزم عدم ادراك نیست ۔
آیت کریمہ “ تم انھیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں ہیں “ سے بعض معتزلہ کا انکار تعذیب پراستدلال تھا عینی نے اسی شرح میں ان کا جواب لکھا کہ نہ سنانا عدم ادراك کو مستلزم نہیں۔ (ت)
افسوس صاحب تفہیم المسائل کی بیہوشی ص ۶۳پر یہ انکہی بھی بلواگئی :
ہر چند بعضے گویند کہ شہداراہم حیات مثل انبیا بجسد است مگر ایں قول مختار اہل تحقیق نیست انچہ تحقیق است این ست کہ حیات انبیاء بسلامت جسد وروح ہر دوست وحیات شہداء صرف بقائے روح است بلکہ تخصیص شہدا نیز بایں معنی لغوست زیراکہ ارواح رامطلقا خواہ روح شہید باشد یاروح عامہ مومنین یا روح کافرو فاسق باین معنی مردہ نتواں مردگی صفت بدن است کہ شعور ادراك وحرکات وتصرفات بہ سبب تعلق روح
بعض کہتے ہیں کہ انبیاء کی طرح شہید کے لیے بھی جسم کے ساتھ زندگی ہے۔ مگر یہ قول اہل تحقیق کا مختار نہیں تحقیق یہ ہے کہ انبیاء کی زندگی جسم وروح دونو ں کی سلامتی کے ساتھ ہےاور شہدا کی زندگی صرف بقائے روح کے ساتھ ہے بلکہ اس معنی میں شہداء کی تخصیص لغو ہے اس لیے کہ ارواح کو مطلقا خواہ شہید کی روح ہو یا عام مومنین کی روح یا کافر وفاسق کی روح کسی کو اس معنی میں مردہ نہیں کہہ سکتے موت بدن کی صفت ہے
تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی مطبع محمدی لاہور ص٨٣
کہ شعور وادراك اور حرکات وتصرفات روح کے تعلق کی وجہ سے اس سے ظاہر ہوتے تھے اور اب نہیں ہوتے ایسا ہی تفسیرعزیزی میں ہے : اور بعض کہتے ہیں کہ تحقیق یہی ہے کہ شہداء کے لیے بھی انبیاء کی طرح جسم کے ساتھ زندگی ہے جیساکہ آیہ کریمہ “ اﷲ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں “ کے تحت تفسیر روض الجنان میں لکھتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر اور شہداء کے احوال میں علماء کا اختلاف ہے۔ عبداﷲ بن عباس اور حسن بصری فرماتے ہیں شہداء جسم وروح کے ساتھ زندہ ہیں صبح وشام انھیں رزق ملتا ہے اور یہ اس پر خوش ہیں جو خدا انھیں دیتا ہے جیساکہ دوسری آیت میں باری تعالی کاارشاد ہے انھیں رزق دیا جاتا ہے وہ اس پر خوش ہیں جو اﷲ نے اپنا فضل انھیں عطا کیا بعض دیگر کہتے ہیں ان کی روحیں زندہ ہوتی ہیں او ر ا ن ہی پر صبح وشام رزق پیش کرتے ہیں۔ جیسے فرعونیوں کی روحوں پر آگ پیش کرتے ہیں ارشادباری تعالی ہے : وہ صبح وشام آگ پر پیش ہوتے ہیں اور اکثر علما ئے محققین پہلے قول پر ہیں۔ ختم (ت)
کیو ں ملاجی! اب نسبت کی خبریں کہیے جب اہل سنت کے نزدیك ہر فاسق وکافر کی روح زندہ ہے موت صرف بدن کے لیے ہے اسی کے ادراکات زائل ہوتے ہیں تو اب سماع موتی میں کیا مجال مقال رہی جوابات سابقہ کی تقریر کیسی روشن طورپر ثابت ہوگئی تفہیم المسائل کی ساری عرق ریزی کیسی خاك میں ملی اب یہ کلام مشائخ جس میں موت وبےفہمی وبے حسی کی تصریحیں ہیں روح پر محمول ہو مشائخ اہلسنت کا کلام نہ ہونا کیسا واضح و منجلی والحمد ﷲ العظیم العلی اور عجیب لطیفہ یہ کہ ساتھ ہی خوش وقتی میں آکر تفسیر روض الجنان کی عبارت بھی نقل فرماگئے جس نے رہی سہی ڈھول سے کھال بھی کھوئی اس میں صرف تصریح ہے کہ سید نا عبداﷲ ابن عباس
شربت بنماید وچشیدن نگزارند
( یہ یوں ہی ہے کہ شربت پی لیا ہے اور چکھا نہیں)
اب خدارا اپنے اانکاری دھرم کی ایك ٹانگ توڑئے شہداء ہی کے لیے سماعت مانیے انھیں سے استمداد جائز جانئے کہ یہاں تو جسم روح سب کچھ زندہ ہیں کسی جھوٹے حیلے کی بھی گنجائش نہیں جس طرح کہ تم خود اس تفہیم کے صفحہ پر لکھ چکے ہو :
درسماع انبیاء علیہم السلام کلامے نیست کہ ایشاں راحیات حاصل است ۔
انبیا ء علیہم السلام کے سننے میں کوئی کلام نہیں ان حضرات کوحیات حاصل ہے۔ (ت)
نیز ص پر :
(آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) جواب دادند کہ چوں انبیاء راحیات دنیاوی حاصل وجسد ایشاں نیز باقی است لہذا محل استبعاد سماع وعرض نیست ۔
آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جواب دیا کہ جب انبیاء کو حیات دنیاوی حاصل ہے اور ان کا جسم بھی باقی ہے تو سماعت اور پیشی کو بعید سمجھنے کاموقع نہیں۔ (ت)
طرفہ بکف چراغ دیکھیے عبارت نقل کی اور دعوی وہ نقل کیا کہ بعض گویند تحقیق ہمیں است (بعض کہتے ہیں تحقیق یہی ہے۔ ت) خیر وہ بعض ہی سہی اب اس اجماع کی خیر نہ رہی جو بکمال وقاحت ص پر فرمایا :
باجملہ از کتاب وسنت واجماع امت ثابت کہ موتی راسماع حاصل نیست ۔
بالجملہ کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ مردوں کو سماعت حاصل نہیں ہے۔ (ت)
مگر تم کیا شرماؤ ہر رنگ کی کہہ دینے کے قدیم دھنی ہو ص پر یہی جولکھ گئے :
وآنکہ از عبارت مرقات سماع سائر کہ اموات سلام مردوں پر بعض ایام میں اہل قرابت کے اعمال پیش
تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی از صاحب قبر مطبع محمدی لاہور ص٨٥
تفہیم المسائل عدم سماع مطبع محمدی لاہور ص٨٨
ہونے کے تحت مرقات کی عبارت سے تمام مردوں کے لیے سلام ونقل سننا نقل کرتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ سلام وکلام سے مراد زیارت کرنے والوں کا سلام وکلام ہے دوسروں کا نہیں۔ (ت)
سچ ہے بوکھلائے ہوؤں کا کیاکہنا
وہ شرمائی ہوئی نظریں وہ گھبرائی ہوئی باتیں
نکل کر گھر سے وہ گھر نا ترا امیدواروں میں
حجت ثانیہ : پھر مشائخ نے جب وقت سوال سماع مانا تو اس کی وجہ یہ بتائی کہ اب روح جسم میں دوبارہ آئی جب کلام روح کی طرف آئے تو اس جواب کا صاف یہ حاصل کہ روح جب تك بدن سے جدا تھی بے حس وبے ادراك تھی جسم میں آنے کے باعث اس وقت پھر مدرك ہوگئی۔ یہ صراحۃ بدن کو شرط ادراك ماننا ہے کہ سو بار سن چکے کہ یہ مذہب نامہذب معتزلہ ہے اب یہ یا تو اکثر مشائخنا کی طرف نسبت غلط مانیے تو اپنی ہی سند بگاڑئے۔ اپنے ہی پاؤں پرتیشہ ماریے ورنہ یقینا قطعا ان سے وہی معتزلہ مراد ہیں بعد قیام حجج قاطعہ کے حیلوں حوالوں ٹالے بالوں کی کیا گنجائش ہے نہ اب اس سوال کا موقع کہ پھر یہ شراح اسے کیوں بے اظہار خلاف عقل کرلائے
اقول : ویسے ہی نقل کر لائے جس طرح امام عبدالرشید بن ابی حنیفہ ولوالجی وامام طاہر بن احمد وغیرہما اجلہ کرام نے بشیر مریسی معتزلی کا قول یوں ہی نقل کیا گویا یہی اصل مذہب ہے جس طرح علامہ محقق زین العابدین بن ابراہیم وفہامہ مدقق علاء الدین محمد دمشقی نے ابو علی جبائی معتزلی کا قول یوں نقل کیا گویا یہی مذہب مشائخ ہے جس کا بیان فائدہ جمیلہ فصل سیزدہم میں گزرا خود انھیں امام ابن ہمام نے فتح القدیرباب نکاح الرقیق میں ایك مسئلہ محیط سے نقل کیا پھر فرمایا : ھکذا تواردھا الشارحون شارحین یکے بعد دیگرے یو نہی لکھتے چلے آئے پھر فرمایا : یہاں مقتضائے نظراس کے خلاف ہے۔ پھر اسے بیان کرکے فرمایا : فھذا وھو الوجہ وکثیرا مایقلد الساھون الساھین سخن موجہ یہی ہے اور اکثر ہوتاہے کہ بھولنے والے بھولنے والوں کی پیروی کرلیتے ہیں علامہ بحرنے بحرالرائق آخر کتاب البیوع باب المتفرقات میں ایك مسئلہ پر اعتراض کیاکہ اس میں مصنفین
فتح القدیر با ب نکاح الرقیق مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٢٧٠
فتح القدیر با ب نکاح الرقیق مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٢٧٠
وانا متعجب لکونھم تدا ولوا ھذہ العبارات متونا والشروحا وفتاوی ولم ینتہوالما اشتملت علیہ من الخطاء بتغیر الاحکام واﷲ الموفق للصواب وقد یقع کثیرا ان مؤلفا یذکر شیئا خطافی کتاب فیأتی من بعدہ من المشائخ فینقلون تکل العبارۃ من غیر تغییر ولاتنبیہ فیکثر الناقلون لھاد اصلھا الواحد مخطی کما وقع فی ھذا الموضع ولاعیب بھذا علی المذھب لان مولنا محمد بن الحسن ضابط المذھب لو یذکر علی ھذا الوجہ قد بنھنا علی امثل ذلك فی الفوائد الفقیہ فی قول قاضی خاں وغیرہم ثم نبھت علی ان اصل ھذہ العبارۃ للناطفی اخطأ فیہ ثم تداولوھا (ملخصا)
یعنی مجھے تعجب ہے کیونکہ ان عبارتوں کو متون وشروح و فتاوی سب میں ایك دوسرے سے لیتے نقل کرتے چلے آئے اور اس میں خطا پر متنبہ نہ ہوئے کہ احکام بدلے جاتے ہیں اور اﷲ ہی صواب کی توفیق دینے والا ہے اور کھبی بکثرت واقع ہوتاہے کہ ایك مصنف براہ خطا ایك بات اپنی کتاب میں ذکر فرماتاہے پھر بعد کے آنے والے مشائخ اسے ویسے ہی بلا تنبیہ نقل کرتے چلے جاتے ہیں توا س کےناقل بکثرت ہوجاتے ہیں حالانکہ اصل میں ایك شخص کی غلطی تھی جیسا یہاں واقع ہوا اور اس سے مذہب پر کوئی طعن نہیں آتا کہ ہمارے سردار امام محمد محرر مذہب نے اس طورپر ذکر نہ کیا اور اسی طرح ایك واقعے پرہم نے فوائد فقہیہ میں تنبیہ کی کہ امام قاضی خاں وغیرہ یعنی صاحب خلاصہ وصاحب ولوالجیہ وغیرہم نے ایك حصر فرمایا اور وہ غلط تھا پھر میں نے آگاہ کردیا کہ یہ اصل خطا ناطفی سے واقع ہوئی ان کے بعد مشائخ اسے یونہی نقل کرتے رہے۔
فقیرکہتا ہے غفراﷲ تعالی کہ اس قسم کا ایك واقعہ عظیمہ امام اجل ابوجعفر طحاوی کی طرف ایك ترجیح و افتا کی نسبت واقع ہوا جس میں تداول وتوارد نقول آج تك چلا آیا اور ہمارے زمانے تك کسی نے اس پر متنبہ نہ فرمایا یہاں تك کہ سب میں متاخر محقق مبصر علامہ شامی کوبھی وہی راستہ بھایا مگر فقیر غفراﷲ المولی القدیر نے بدلائل ساطعہ قاطعہ امام طحاوی کا فتوی نہ اس پر بلکہ قطعا اس کے برعکس ہونا خود کلام امام ممدوح کے اٹھارہ نصوص ودلائل سے ثابت کردکھا یا اور اس بارے میں محض بغرض ا ظہار حق وحفظ مذہب ودفع تشنیع مخالفین ایك خاص رسالہ الزھر الباسم فی حرمۃ الزکوۃ علی بنی ھاشم(ھ) معرض تصنیف میں لایا وﷲ الحمد حمد اکثیراعلی ماوھب من جزیل العطا یا مانحن فیہ (اور اﷲ ہی کے لیے حمد ہے کثیر حمد اس پر جو اس نے جزیل
کیوں ملا تفہیمی صاحب! اب اپنے اعذار باردہ واستعبادات کا سدہ دیکھیے کدھر گئے وباﷲ التوفیق اور حقیقۃ یہ سب تمھاری خوبیاں ہیں نہ تم معانی حقہ صحیحہ صادقہ چھوڑ کر بزور زبان وزور وبہتان یہ معنی باطل گھڑو نہ اس جوا ب کی حاجت ہو انصافا اپنے استعبادوں کو آپ ہی بیٹھ کر رؤو۔ ہمارے نزدیك نہ مشائخ کرام نے خطا کی نہ ان کا کلام حاشاکسی عقیدہ اہلسنت نہ اپنے کسی کلام دیگر کے معارض نہ یہاں باہم متعارض ومتناقض جس کی تحقیق قاہر اوپر سن چکے وﷲ الحمد۔
جلیلہ عظیمہ : رہی ملاجی کی پچھلی نزاکت کہ :
انکار سماع موتی بطور یکہ مامی کنیم مذہب معتزلہ فہیمدن محض غلط است زیرا کہ مذہب بعض معتزلہ آن ست کہ میت جمادا ست درحیات وادراك نیست پس تعذیب آن محال واہلسنت گویند کہ ہر چند کہ درمیت حیات نیست مگر جائز است کہ خدا تعالی دران نوعے از حیات بقدر ادراك الم عذاب ولذت وتنعم عندالایلام والتعذیب پیداکند وآں مستلزم سماع نیست ۔
جس طرح ہم سماع موتی کا انکار کرتے ہیں اسے معتزلہ کا مذہب سمجھنا محض غلط ہے۔ اس لیے کہ معتزلہ کا مذہب یہ کہ میت جماد ہے اس میں حیات وادراك نہیں تو اس کی تعذیب محال ہے۔ ا ور اہل سنت کہتے ہیں کہ ہر چند کہ میت میں حیات نہیں مگر ہوسکتا ہے کہ خدا تعالی اس میں ایك نوع حیات پیدا کردے اس قدر کہ الم پہنچانے اور عذاب دینے کے وقت عذاب کی تکلیف اور آسائش کی لذت کا ادراك کرے اور یہ سماع کو مستلزم نہیں۔ (ت)
ہمارے کلمات سابقہ کے ناظر پراس عذر بد تراز گناہ کی حقیقت خوب منکشف ہے پھر بھی ملا جی کی خاطر کیجئے کلام کو چند
فاقول : و بحول اﷲ اصول :
عائدہ اولی : نجدی صاحبو! ناحق اہلسنت کا دامن پکڑتے اور اپنے مذہب کی جان زار کے پیچھے پڑتے ہو اہلسنت کے یہاں تمھاری گزر نہیں وہ کہ وقت تنعیم وتعذیب اعادہ حیات کا مالہ خواہ ناقصہ بدن کے لیے مانتے ہیں نہ کہ روح کے لیے کہ وہ تو ان کے نزدیك مرتی ہی نہیں اگر تم لوگ صرف سماع جسم باسماع جسمانی بذریعہ آلات جسم کے منکراور سماع روح بے توسط بدن کے معترف ومقرر ہوتے تو ضرور اہلسنت سے موافق اور ان کے اس مسئلہ سے انتفاع کے مستحق ہوتے مگر یوں ہی خلاف کب باقی رہتاہے تو خاص ہمارا مذہب وعین مراد چشم ماروشن دل ماشا تھا مگر حاشا تم ہر گز اس کے قائل نہیں اس میں تمھارا مطلب کہ اولیائے مدفونین سے طلب دعا پتھر کو ندا ہے کب برآتا کیوں ملاجی! ذرا نگاہ روبرو کیا آپ ہی وہی نہیں ہیں جو اسی تفہیم کی اسی بحث میں بکمال وقاحت وشوخ چشمی اپنا مذہب نامہذہب بزور زبان بنانے کے لیے ایك گھڑی ہوئی فرضی کتاب خیال تصنیف غرائب فی تحقیق المذاہب سے سند لائے اور اس کی وساطت سے سیدنا امام اعظم وہمام اقدام رضی اللہ تعالی عنہ پر جیتے افترا اٹھائے۔ آپ اگر چہ خیال عــــہ۱ علماء گھڑلینے فرضی کتابوں عــــہ۲ کی ساختہ عبارتیں پیش کردینے کی پختہ ماہر کارہیں جن کے حال صواعق وتفہیم وغایۃ الکلام کے مطالعہ سے آشکار ہیں بعض احباب فقیر نے خاص آپ حضرات کی ایسی ہی دیانتوں کے بیان میں رسالہ سیف المصطفی علی ادیان الافترالکھا اور اس میں ایك سو ساٹھ دیانات کبرائے طائفہ کو جلوہ دیا مگر اس گھڑت کی ابتدا شاید سرکار سے نہ ہو تفہیم سے پہلے ایك سہسوانی وہابی صاحب رسالہ سراج الایمان میں اس کے بادی ہوئے ہیں بہر حال یہ گندی بوکا عطر فتنہ سہسوان کی گھانی سے ہو یا قنوج کی ذرا ایمان سے بتائے کہ آپ حضرات کی اس خانگی ساخت پر دنیا میں کوئی اور بھی مطلع ہے کہیں اس کتا ب کا نام ونشان بھی ہے کسی اورنے بھی اس سے استناد کیا یا کہیں اس کا نام لیا ہے اﷲ اﷲ صدہا سال سے مسئلہ سماع ومسئلہ استمداد زیر بحث ہے صدہا کتابوں میں ان کے بیان آئے آج تك کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ خود امام مذہب رضی اللہ تعالی عنہ سے ان میں نص صریح موجود ہے اب
عــــہ۱ : مثل ناصر کہانی جس کے مطالبہ پر بکمال حیاداری صاف کہہ دیا گو نا صر فاکہانی بناشد کلام درکلام است ۱۲منہ (گو ناصرفا کہانی نہیں ہے کلام درکلام ہے ۱۲منہ۔ ت)
عــــہ۲ : مثل القول المعتمد فے الکلام مع عمل المولد جس میں تك بھی ٹھیك ملانی نہ آئی معتمد بفتح میم اور مولد بکسرلام اور پھر عمل مولد پر یا اس میں کلام کی جگہ عمل مولد کے ساتھ گفتگو وکلام ع
بے حیا باش ہر چہ خواہی کن ۱۲منہ (م)
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے
مقدس متدینوں کو عبارت بھی گھڑنی نہ آئی سہل سہل محاورہ وقواعدکی مطابقت نہ پائی اس کے الفاظ وبندش کی رکاکت خود ہی کافی شہادت ہے کہ بے علم ہندیوں کی اوندھی گھڑت ہے عبارت حاشیہ عــــہ پر ہے ہر صاحب ذوق سلیم
عــــہ : درغرائب فی تحقیق المذاہب راوی الامام ابو حنیفۃ من یأتی القبور باھل الصلاح فیسلم ویخاطب ویتکلم ویقول یا اھل القبور ھل لکم من خبر وھل عند کم من اثرالی ان اتیتکم و نادیتکم من شھور ولیس سوا لی منکم الا الدعاء فھل د ریتم ام غفلتم فسمع ابو حنیفۃ یقول مخاطبۃ لہم فقال ھل اجابوالك فقال لافقال لہ ستحقالك وتربت یداك کیف تکلم اجساد الا یستطیعون جوابا ولایملکون شیأ ولایسمعون صوتا وقرأ وما انت بمسمع من فی القبور انتھی۱۲
غرائب فی تحقیق المذاہب میں ہے : امام ابو حنیفہ نے ایك شخص کو دیکھا جو اہل صلاح کی قبروں کے پاس آتا ہے تا کہ سلام کرے اور خطاب کرے اور کہے اے اہل قبور! کیا تمھیں کچھ خبر ہے اور کیا تمھارے پاس کچھ اثر ہے یہاں تك کہ میں تمھارے پاس آیا اور مہینوں سے تم کو پکارا اور میرا سوال تم سے صرف دعا کا ہے تو کیا تمھیں پتا چلا یا تم غافل رہے تو ابو حنیفہ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے کہنے والے کو سنا تو فرمایا کیا انھوں نے تجھے جواب دیا اس نے کہا نہیں تو اس سے فرمایا : تیری بربادی ہو اور تیرے ہاتھ خاك آلود ہوں تو کیسے کلام کرتا ہے ایسے جسموں سے جو جواب نہیں دے سکتے اور کچھ اختیار نہیں رکھتے اور کوئی آواز نہیں سنتے اور یہ پڑھا : تم انھیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں ہیں۔ ختم (ت)
تفہیم المسائل ص جو لفظ سرخی سے لکھے ہیں تفہیم میں یونہی ہیں انھیں کوئی غلطی نا سخ نہ سمجھے(باقی برصفحہ ایندہ)
حیث قال بعد نقلتم حدثنا بذلك المعدوم بن مسلوب العد می ثنا ابوالفقدان الخیالی ثنا موھوم بن مفروض اللیسی ح ثنا الکذاب بن المفتری ناالوضاع الذو ری انا من عــــہ لا یثق بہ الانجدی کلاھما عن ابی التلبیس الضلالی
تمھاری منقولہ عبارت کے بعد ہے : ہم سے بیان کیا معدوم بن مسلوب عدمی نے ___ کہا ہم سے بیان کی ابوالفقدان خیالی نے ___ کہا ہم سے بیان کیا موہوم بن مفروض لیسی نے ___ دوسری سند : ہم سے بیان کیا کذاب بن مفتری نے _ کہا ہم سے بیان کیا وضاع زوری نے ___ کہا ہمیں خبردی اس نے جس پر کوئی نجدی ہی اعتماد کرے دونوں (موہوم اور یہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
نہ وہ ناسخ تفہیم کی خطاء ہیں بلکہ خود مصنف تفہیم وضاع اول کی اس لیے کہ غلط نامہ تفہیم میں بھی ان کی تصحیح نہ کی اور تفہیم صفحہ ۶۸ میں ہے :
احتمال غلطی کاتب ہم مرتفعہ درصحیح نامہ غلطنامہ کتاب مطبوعہ ہم بغلطی این لفظ تعرض نہ کردہ اھ
کا تب کی غلطی کا احتمال بھی مرتفع ہے کہ مطبوعہ کتاب کے غلط نامہ اور صحیح نامہ میں اس لفظ کے غلط ہونے پر توجہ نہیں کی گئی اھ (ت)
بھلے مانس کو ینطق ویتفوہ ویذکر ویحدث ویشافہ ویحاور وغیرہا یاد نہ تھے ورنہ انھیں بھی یخاطب ویتکلم ویقول کا ساتھی نتھی کردیتا ۱۲منہ (م)
عــــہ : ھذا وان کان مبھما لکن لا یضر لانہ فی المتابعات فقد رواہ من الضلال موھوم بن مفروض کما سمعت منفی بن المفقود اخرون خرائب فی شرح الغرائب ۱۲منہ (م)
یہ راوی اگر چہ مبہم ہے مگر کوئی ضرر نہیں اس لیے کہ وہ متابعات میں ہے کیونکہ ضلالی سے اس کو موہوم بن مفروض نے روایت کیا ہے جیساکہ آپ نے سنا نیز منفی بن مفقود اور کچھ دوسرے لوگوں نے بھی روایت کیا ہے ۱۲ خرائب شرح غرائب۔ (ت)
مجہول) راوی ہیں ابوالتلبیس ضلالی سے۔ جوبنی مختلق کے ایك قبیلہ بنی ضلال سے ہے ___ اس نے کہا ___ میں نے ہوا سے ایك ہاتف کو یہ پکارتے سنا تومجھے پتانہیں کہ مجھے یا د ہے یا میں بھول گیا لیکن اس پر گواہ رہو کہ تم سے جو شخص یہ بیان کررہا ہے کھلا ہو اکذاب ہے۔ (ت)
ہم کہتے ہیں الکذوب قدیصدق (بڑا جھوٹا بھی کبھی سچ بول دیتا ہے۔ ت) بیشك یہ پچھلا اس نے سچ کہا ولاحول ولاقوۃ الابا اﷲ العلی العظیم اھ کلام سلمہ ربہاچھا یہ سب جانے دو اگرسچے ہو تو لکھ دو ہاں مردے احیاء کا کلام ضرور سنتے ہیں مگر نہ وگوش بدن بلکہ قوت روح سے کیا اسے تم کہہ سکتے ہو ہر گز نہ کہو گے اب پردہ کھل گیا اور صاف ادراك روح کا انکار ظاہر ہوا اور اپنے اسی دعوی پر کلام مشائخ ڈھالا اور وہ موت وبے ادراکی وبے حسی کاسارا نزلہ روح پر ڈالا تو اب کیا محل انکار ہے کہ یہ قطعا مذہب معتزلہ فجار ہے۔ رہایہ کہ وہ منکر عذاب ہیں تم قائل عذاب اس تفرقے سے تمھارا ان کا وہ اتفاق زائل نہیں ہوتا مثلا عــــہ کوئی پورا وہابی اپنی نیچرت کے زور میں دعوی کربیٹھے کہ سیدنا عیسی نبی اﷲ صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ ضرور سولی دئے گئے یہود عنود نے انھیں قتل کیا توا س سے یہی کہا جائے گا کہ تیرا یہ قول مذہب نصاری ہے۔ کیا وہ اس کے جواب میں کہہ سکتاہے کہ سولی دیاجانا جس طرح وہ مانتا ہے مذہب نصاری سمجھنا محض غلط ہے اس لیے کہ مذہب نصاری یہ ہے کہ وہ کفارہ ہونے کے لیے سولی دئے گئے معاذاﷲ تین دن جہنم میں رہ کر خدا کے ہاتھ پر جا بیٹھے اور وہ شخص کہتا ہے کہ ہر چند سولی دئے گئے مگر کفارہ وغیرہ خرافات ہیں کیا اس فرقہ کے سبب اس کا وہ قول مذہب نصاری ہونے سے خارج ہوجائے گا!
عائدہ ثانیہ : وکانھا الاولی بعبارۃ اخصر (گویا یہ زیادہ مختصر عبارت میں پہلا ہی ہے۔ ت) میت میں حیات نہیں اس سے مراد روح ہے یا بدن اگر بدن تو بحث محض بیگانہ اور اگر روح تو تم یہی مان کر اہلسنت سے خارج وبری اورا ن کی طرف ان کی طرف نسبت کرکے کذاب ومفتری ہوئے اہلسنت ہر گز روح کے بے حیات نہیں مانتے اگر کہیے موت مجازی تو مانتے ہیں۔
عــــہ : وہابیت کا کمال وہی نیچریت ہے ۱۲منہ (م)
اقول : اولا یہ تخصیص محض بے دلیل وباطل ہے موت بھی مانو منافی ادراك بھی جانو جیسا کہ کلام مشائخ میں مصرح ہے پھر اسے ادراك بعض دون بعض سے خاص کرو یہ جہل اقبح ہے موت کہ منافی ادراك سے ہر ادراك کے منافی ہے اور نہیں تو کسی کے نہیں خود اسی تفہیم المسائل میں براہ جہالت اپنی سند سمجھ کر نقل کیا۔
درمدارك نوشتہ توفیھا اماتتھا وھوان یسلب ماھی بہ عــــہ۱ حیۃ حساسۃ دراکۃ ۔
مدارك میں لکھا ہے : توفی کا معنی انھیں موت دینا وہ یہ کہ جس امر کی وجہ سے یہ زندہ حساس با ادراك ہیں اسے سلب کرلیا جائے۔ (ت)
پھر لکھا :
امام راغب درمفردات گفتہ کہ الموت زوال القوۃ الحساسۃ ۔
امام راغب نے مفردات میں فرمایا : موت قوت احساس کے زوال کا نام ہے۔ (ت)
کیوں حضرات! جب راسا حس وادراك کی قوت زائل ہوگئی مدرکہ ہی چل دی تو اب ادراك بعض کا ہے سے ہوگا یارب! یہ موت کون سی کہ آدھی کو شنوا آدھی سے بہری آدھی سے اندھی ایك فرد ادراك بھی باقی ہے توحیات ثابت ہے اور موت منتقی کہ حیات باجماع عــــہ۲ عقلا شرط ادراك ہے اور موت منافی مشروط نہ بے شرط متحقق ہوگا نہ منافی
عــــہ۱ : صحیح ہم چناں است ودرتفہیم المسائل ایں را ماھی جثۃ ساختہ ودرغلط نامہ ہم بہ تصحیحش نہ پرداختہ پر غلط است ۱۲منہ (م)
عــــہ۲ : ای ومن خالف فقدخرج من المعقول فکان لم یبق من اھل العقول وھم الشرذمۃ الذلیلۃ الصالحیۃ ۱۲ منہ (م)
صحیح بھی اسی طرح ہے (ماھی بہ حیۃ) تفہیم المسائل میں اسے ماھی جثۃ بنادیا اور غلط نامہ میں بھی اس کی تصحیح نہ کی جبکہ یہ بلکل غلط ہے۔ (ت)
یعنی جو بات ہو اوہ معقول سے خارج ہوا توا ہل عقول سے نہ رہا اوریہ فرقہ ذلیلہ صالحیہ والے چند افراد ہیں۔ (ت)
تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی از کتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص٨٢
ثانیا یوں بھی اعتزال سے مفر کہاں جب باوصف موت ادراکات امور برزخ علم وسمع وبصر باقی مانے تو اور معتزلہ کا مذہب نہ سہی طوائف معتزلہ سے فرقہ صالحیہ کا مشرب سہی جس کا ذکر آپ نے اسی تفہیم المسائل میں بہ شدت سفاہت مقابل اہلسنت کیاتھا کہ :
درشرح مواقف نو شتہ کہ تجویز قیام علم وقد رت وارادہ وسمع وبصر میت مذہب فرقہ صالحیہ از معتزلہ لہ است ۔
شرح مواقف میں لکھا ہے کہ میت کے ساتھ علم قدرت ارادہ اور سمع وبصرہ قائم ماننا معتزلہ کے فرقہ صالحیہ کا مذہب ہے۔ (ت)
ذی ہوش کو اتنی نہ سوجھی کہ اہل سنت نے کس دن موصوف بالموت کو بحال موصوفی بالموت موصوف بالادراك مانا تھا وہ تو جس کے لیے ادراکات مانتے ہیں اسے ہرگز میت نہیں کہتے ہمیشہ زندہ جانتے ہیں مگر ہاں اب آپ نے روح کو میت بھی مانا اور عذاب قبر ٹھیك کرنے کے لیے ادراکات برزخیہ بھی ثابت کیے یہ عین مذہب صالحیہ سے وہ بھی اسی طور پر قائل عذاب ہوئے ہیں اسی مستخلص الحقائق مستند مائۃمسائل کی عبارت جواب اول کی دلیل ہفتم میں گزری کہ صالحی کے نزدیك میت باوصف موت معذب ہوتا ہے نیز اسی کفایۃکی اسی بحث میں ہے :
عن ابی الحسن الصالحی یعذب المیت من غیر حیاۃ اذالحیاۃ عندہ لیست بشرط لثبوت الالم ۔
ابوالحسن صالحی سے منقول ہے کہ میت کو بغیرحیات کے عذاب ہوتاہے اس لیے کہ اسی کے نزدیك ثبوت الم کے لیے حیات شرط نہیں۔ (ت)
نیز وہی امام عینی عمدۃ القاری میں بعد ذکر مذہب صالحی فر ماتے ہیں :
وھذا خروج عن العقول لان الجماد لاحس لہ فکیف یتصور تعذیبہ ۔
اوریہ معقول سے خروج ہے اس لیے کہ جماد کے پاس حس نہیں ہوتی توا س کی تعذیب کیونکر متصور ہوگی۔ (ت)
اگرکہیے ہم یہ ادراکات بعود حیات مانتے ہیں بخلاف صالحی اقول ذرا ہوش میں آکر بھلا اس عود حیات پہلے بھی روح کو ادراك امور برزخیہ تھا یا نہیں اگر نہیں تو حجاب منکشف اور عذر منکسف ثابت ہواکہ تم نے روح کو وہی موت مانی جو منافی مطلق ادراك ہے۔ اب عام معتزلہ میں جا ملے اور اگر ہاں تو عود حیات کا حیلہ اٹھ گیا۔
کفایۃ مع فتح القدیر باب الیمین فی الضرب الخ نوریہ رضویہ سکھر ٤ / ٤٦١
عمدۃ القاری شرح بخاری باب المیّت یسمع خفق النعال بیروت ٨ / ١٤٧
ثالثا صریح جھوٹے ہو کلام مشائخ میں نشان تخصیص مفقود بلکہ ان کے بطلان پر تنصیص موجود کیا انھوں نے موت کو منافی ادراك بتاکر شبہ عذاب قبر وارد نہ کیا کیا عود حیات سے اس کا جواب نہ دیا کیا خود ملا تفہیمی نے اپنی پاؤں میں تیشہ زنی کو نہ کہا کہ :
مقصود فقہاء ازنفی سماع دریں مقام نفی سماع عرفی و حقیقی ہر دو ست زیرا کہ فقہا نفی سماع مطلق کردہ اند نہ بتقیید عرف واگر نفی صرف سماع عرفی نہ حقیقی مقصود می بود حاجت جواب دادن از مسئلہ عذاب قبر نبود وتوجیہ کردن دیگر وقائع کہ برسماع موتی دال است فھل ھذا الا توجیہ بما لایرضی بہ قائلہ ۔ اس مقام پر نفی سماع سے فقہاء کا مقصود سماع عرفی وحقیقی دونوں کی نفی ہے اس لیے کہ فقہا نے سماع کی نفی مطلق کی ہے نہ کہ عرف کی جگہ قید لگا کر۔ اگر حقیقی نہیں ـ صرف عرفی سماع کی نفی مقصود ہوتی تو مسئلہ عذاب قبرکا جواب دینے کی ضرورت نہ تھی اور وسرے وقائع جو سماع موتی پر دلالت کرتے ہیں نہ ان کی توجیہ کی ضرورت تھی یہ ایسی توجیہ ہے جس پر اس کا قائل راضی نہ ہو (ت)
توقطعا ثابت کہ وہ اس موت کو منافی مطلق ادراك مانتے اور اس کے ہوتے امور برزخ کا ادراك بھی منتفی جانتے ہیں تو جب کلام روح پر محمول ہوا قطعا آفت اعتزال سے نامعزول ہوا۔
عائدہ ثالثہ : بحمد ﷲ تعالی یہاں سے واضح ہواکہ عدم ادراك امور دینویہ میں عذر باطل حجاب وحائل خشت و گل اور ملا تفہیمی صاحب کا عذر طمطراق اشتغال واستغراق کہ صفحہ و میں لکھا :
ارواح طیبہ مجردہ ازابدان بہ جہت اشتغال عبادت رب حقیقی واستغراق بہ کیفیت آں التفات باکوان و حوادث این عالم ندارند ۔
اجسا م سے مجرد ارواح طیبہ رب حقیقی کی عبادت میں اشتغال اور اس کی کیفیت میں استغراق کے باعث اس دنیا کے موجودات وحوادث کی جانب التفات نہیں رکھتیں۔ (ت)
تفہیم المسائل استمداد از صاحب قبر مطبع محمدی لاہور ص ۵۸
اقول : جب تم لو گ کلام مشائخ سے مستدل اور اس کے اس معنی محال پر حامل ہو تو تمھیں ان اعذار باردہ کی کیاگنجائش!
اولا مشائخ تو نفس موت کو منافی ادراك اور اس کی وجہ اتنفائے اصل قوت حساس وادراك مان رہے ہیں اور ان اعذار کا یہ حاصل کہ قوت مدرکہ توموجود وکامل مگر حجاب حائل یا التفات زائل۔
ثانیا وہ اس موت کو منافی مطلق ادراك بے تخصیص امور دنیویہ جان رہے ہیں اور تمھارے اعذار انہی امور خارجہ سے خاص___ ثالثا حائل وحجاب بدن پر ہے اور کلام روح میں
رابعا پر دہ وحیلولت صرف مدفون کے لیے ہے صرف بعد دفن تاعدم انکشاف اور کلام عام بلاخلاف ۔
خامسا تمھارے حاجب وحائل کا پردہ تواسی دن چاك ہوچکا جس دن مشائخ نے وقت سوال سماع آواز نعال تسلیم کیا اورملا تفہیمی نے در وقت سوال وجواب ہمہ قائل سماع اند سوال وجواب کے وقت سب سماع کے قائل ہیں۔ ت) کا مژدہ سنایا۔
سادسا عبادت سے اشتغال اور اسی کیفیت میں استغراق تو سب اموات کو عام نہ مانئے گا یوں کہئے کہ منعم ہے تو لذت نعمت یا معاذاﷲ معذب ہے تو عذاب کی شدت میں مستغرق ہونا مانع سماع ہے۔ میں کہتا ہوں عــــہ اس لذت یا الم کی حالت میں سوال محال ہے یا ممکن برتقدیر اول دلیل استحالہ ارشاد ہو اور زیادہ تفصیل چاہئے تو مقصد اول نوع اول سوال اول کی تقریر یاد ہو برتقدیر ثانی ممکن کی جانبین وجود وعدم یکساں اور برزخ غیب اور
عــــہ : تنبیہ : اقول : بقائے روح وادراکات روح بعد فراق میں اگر استصحاب ناکافی سمجھ کر ہمیں مدعی بھی ہونا مانیے تو یہ دعوی ایسے نصوص قواطع واجماع ساطع سے ثابت جس میں موافق مخالف کسی کو مجال تامل نہیں اخر مخالفین بھی تنعیم و تعذیب وادراکات امور برزخیہ مانتے ہیں اس کے بعد مسئلہ نزاعیہ میں بداہۃ ظاہر ہمارے ساتھ ہے کہ جب مدر ك باقی ادراك باقی پھر جو نفی بعض مانے مدعی تخصیص وہ ہے دلیل پیش کرے اور اگر بالفرض بنظر ظاہر الفاظ عکس ہی مانے تو ہمارا دعوی سماع ہے اور دلیل سمع جس کا وجوب تسلیم واجب التسلیم اور ورود مقصد دوم وسوم میں روشن ہوگیا تو کسی مقدمہ پر منع کی گنجائش نہیں اور دعوی پرتو منع کے منع ہی نہیں خصوصا بعد اقامت دلیل لاجرم یہ اعذار بغصب منصب استدلال ہیں اور اب یہ قانون منا ظرہ وظائف منعکس فاحفظ تحفظ ۱۲منہ (م)
لا یتقدر الحکم بثبوت الجائز ثبوتہ فیما غاب عناالا بسمع ۔
جو چیز یں ہم سے غائب ہیں ان میں کسی ممکن الثبوت امر کے ثابت ہو جانے کا حکم دلیل سمعی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ (ت)
شرح عقائد نسفی میں ہے :
القضا یامنھا ماھی ممکنات فلاطریق الی الجزم باحدجانبیھا فکان من فضل اﷲ ورحمتہ ارسال الرسل لبیان ذلك ۔
قضایامیں سے ممکنات بھی ہیں ان کی دوجانبوں میں سے کسی ایك کے جزم کی کوئی سبیل نہیں تو اﷲ تعالی اس کے بیان کے لیے اپنے فضل و رحمت سے رسولوں کو مبعوث فرمایا۔ (ت)
تفسیر کبیرمیں ہے :
کل ماجاز وجودہ عدمہ عقلا لم یجز المصیر الی الاثبات اوالی النفی الابدلیل ۔
عقلاجس کا وجود اور عدم دونوں ممکن ہو اس میں دلیل سمعی کے بغیر اثبات یانفی کی طرف جانے کا جواز نہیں(ت)
لاجرم اشتغال کے سبب عدم سماع کا شگوفہ مہمل وبیکار ہو کر رہ گیا اور شرع مطہر سے جداگانا دلیل کی حاجت رہی کہ یہ تلذذ وتالم مانع سماع ہیں اگر دلیل نہیں اور بیشك نہیں تو آپ کا خذلان وخسران ظاہر وعیان ورنہ وہ دلیل ہی نہ دکھائے عبث وناتمام باتوں میں کیوں وقت گنوائیے۔ سابعا اگر یہ اشتغال مانع سماع ہوتا خواہ تمھاری ہو سات عاطلہ خواہ جہاں فلاسفہ کے مقدمہ باطلہ سے جس کی دھجیاں امام فخرالدین رازی وغیرعلماء اڑا چکے کہ نفس آن واحد میں دو چیزوں کی طرف توجہ نہیں کر سکتا تو واجب کہ اہل برزخ کو کلام ملائك کا بھی سماع نہ ہوتا کہ استغراق مانع کے آگے سماع سماع سب ایك سے حالانکہ تالی قطعا باطل ہے تو یوں ہی مقدم غرض استغراق کو امور برزخیہ ودنیویہ میں فارق بنانا چاہا تھا وہ خود محتاج فارق ہے۔ ثامنا العظمۃ ﷲ والضراعۃ الی ا ﷲ (عظمت وبزرگی اﷲ کے لیے ہے اور ضعف وذلالت اﷲ تعالی کی طرف سے ہے۔ ت) وہ موت کا تازہ صدمہ اٹھائے ہوئے روح جس کا ادنی عــــہ جٹھکا سو ضرب شمشیر کے برابر
عــــہ : ابن ابی الدنیا عن الضحاك بن حمزۃ مرسلا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۱۲
اسے ابن ابی الدنیا نے ضحاك بن حمزہ سے مرسلا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا۔ (ت)
شرح عقائد نسفی بحث فی ارسال الرسل دارالاشاعۃ العربیۃ شوکت لاسلام قندھار ص٩٨
تفسیر کبیر
عــــہ۱ : الخطیب فی التاریخ عن انس ابن مالك عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والحارث ابن ابی اسامہ بسند جید عن عطاء بن یسارمرسلا ۱۲۔
عــــہ۲ : ابو نعیم فی الحلیۃ عن واثلۃ بن الاسقع عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۱۲
عــــہ۳ : حدیث عن الترمذی وحسنہ وابن ابی الدنیا والاجری فی الشریعۃ وابن ابی عاصم فی السنۃ والبیھقی عن ابی ھریرہ عن النبی صـلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
عــــہ۴ : حدیث اول و ابن المبارك فی الزھد وابن ابی شیبۃ والاجری والبیہقی عن ابی الدرداء من قولہ۱۲
عــــہ۵ : حدیث الطبرانی فی الاوسط وابن مردویۃ عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۱۲
عــــہ۶ : حدیث و ابویعلی وابن ابی الدنیا عن النعیم حدیث ابوداؤد فی البعث والحاکم
اسے خطیب نے تاریخ میں حضرت انس بن مالك سے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا اور حارث بن ابی اسامہ نے بسند جید عطاء بن یسار سے مرسلا روایت کیا۔ (ت)
اسے ابو نعیم نے حلیہ میں واثلہ بن اسقع سے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا۔ (ت)(۱) اسے ترمذی نے بافادہ تحسین روایت کیا اورابن ابی الدنیا نے اور شریعہ میں آجری نے اور سنہ میں ابن ابی عاصم نے اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا۔ (۲) البیھقی فی عذاب القبر عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ اور بیہقی نے عذاب قبر میں حضرت ابن عباس سے انھوں نے بنی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا۔ (ت)حدیث اول و ابن المبارك نے زہد میں اور ابن ابی شیبہ آجری اور بہیقی نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کے کلام میں (موقوفا) روایت کیا (ت)حدیث ۴ طبرانی نے معجم اوسط میں ا ور ابن مردویہ نے حضرت ابوہریرہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کی۔ (ت) حدیث و۵ کو ابویعلی و ابن ابی الدنیا نے نعیم سے روایت کیا حدیث ابوداؤد نے بعث میں حاکم(باقی اگلے صفحہ پر)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فی التاریخ والبیھقی فی عذاب القبر عن امیر المومنین عمر حدیث وابن ابی الدنیا عن ابی ہریرۃ حدیث وھو وابوالنعیم و الاجری والبیھقی عن عطاء ابن الیسار مرسلا کلھم عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۱۲
نے تاریخ میں اور بیہقی نے عذاب قبر میں امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی حدیث ابن ابی الدنیا نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی حدیث ابن ابی الدنیا ابو نعیم آجری اور بیہقی سب نے عطاء بن یسار سے مرسلا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کی۔ (ت)
عــــہ۱ : حدیث پنجم ۱۲ عــــہ۲ : حدیث چہارم و پنجم ۱۲ عــــہ ۳ : دوم و ششم وہفتم ۱۲
عــــہ۴ : حدیث سوم۱۲ عــــہ۵ : حدیث پنجم۱۲ عــــہ۶ : حدیث ششم و ہفتم ۱۲
عــــہ۷ : حدیث پنجم ۱۲ عــــہ۸ : حدیث دوم چہارم پنجم ششم ہفتم ہشتم ۱۲
عــــہ۹ : حدیث دوم ششم ہفتم ۱۲
عــــہ۱۰ : حدیث دوم و ہشتم وحدیث ۹ احمد والطبرانی فی الاوسط والبیھقی وابن ابی الدنیا عن جابر۔ حدیث وابن ابی عاصم و ابن مردویۃ و البیہقی بوجہ اخرعنہ حدیث ۱۱ والاجری فی الشریعۃ عن ابن مسعود کلاھما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین ۱۲ ۔
حدیث و و امام احمد نے اور معجم اوسط میں طبرانی نے اور بیہقی وابن ابی الدنیا نے حضرت جابر سے روایت کی۔ حدیث ابن ابی عاصم ابن مردویہ اور بہیقی نے ان ہی سے ا یك دوسرے طریق سے روایت کی۔ حدیث ۱۱ آجری نے شریعہ میں حضرت ابن مسعود سے دونوں حضرات نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔ (ت) ۱۲
فیہ ذھول عماورد فی بعض الاحادیث ان صاحب القبر کان یسأل فلما سمع صریر السبتتین اصغی الیہ فکاد یھلك لعدم جواب الملکین فقال لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم القھما لئلا توذی صاحب القبر ذکرہ ابوعبداﷲ الترمذی ۔
یعنی اس قائل کو یادنہ رہاوہ جو ایك حدیث میں ایا ہے کہ قبر والے سے سوال ہورہا تھا اتنے میں جوتوں کی پہچل اس نے سنی ادھر کان لگائے جواب میں دیر ہوئی قریب تھا کہ ہلاك ہوجائے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس جوتا پہن کر چلنے والے سے فرمایا انھیں اتارڈال کر مردے کوایذا نہ پہنچے۔ یہ حدیث ابوعبداﷲ محمد ترمذی نے ذکر فرمائی۔ (ت)
جس کا ادراك بہ نسبت ادراك روح بہت قاصر ومقصود تو بداہۃ ثابت کہ احوال برزخ آپ کے اوہام عادیہ سے منزلوں دور اور عادات معہودہ دار دنیا پر ان کا قیاس باطل و مہجور۔
عائدہ رابعہ : ادراك روح مشروط بجسم ہیں یا نہیں توضیح مقام یہ کہ وہ جو ملا تفہیمی نے اہل سنت سے نقل کیا کہ ادراك الم ولذت کے لیے وقت تنیعم وتعذیب ( جسے وقت ایلام وتعذیب کہا اور ان کے نصیبوں لذت کے حصے کا بھی الم ہی رہا) ایك نوع حیات میت آجاتی ہے اور اس سے سماع لازم نہیں (قطع نظر اس سے کہ فقرہ آن مستلزم سماع نیست عبارات مستندہ میں نہیں) یہ قول اہلسنت بھی قطعا بدن ہی کے حق میں ہے کہ قبر میں عود حیات اسی کےلیے ہوتا ہے اور اگر حدوث زیادت تعلق بالبدن وقت انعام وایلام وسوال کو روح کے لیے عود حیات سے تعبیربھی کیجئے توا س سے اگر فرق پڑے گا توا دراکات جسمانیہ میں جس کا حاصل تفاوت آلیت بدن کی طرف ائل مگر اہلسنت کے نزدیك ادراکات روح بدن پر موقوف نہیں تو وہ ان تعلقات حادثہ سے پہلے بھی ویسے ہی مدرکہ عالمہ مبصرہ سامعہ تھی جیسی ان کے بعد یہ تفاوت کہ ایك نوع حیات ملتی ہے جس سے ادراك لذت والم تو ہو اور سماع نہ وہ وہاں ماشی نہیں آخر یہاں گھٹا بڑھا کیا یہی بدن سے تعلق پھر اس سے ادراکات روح کو کیا علاقہ تھا کہ اس کے تفاوت سے وہ متفاوت ہوں بخلاف بدن کہ اس کے ادراکات بنفسہ نہیں بلکہ تعلق روح ہی کے باعث ہیں اور تعلقات متفات
بے چارہ (قنوجی) عیارہ پختہ جنون خام کارہ کہ ازروی کیش خویش کو روکربل خشت وحجر بلکہ از انہم بترشدہ است بتصور اینکہ من ہر چہ خواہم نگاشت عامہ مومنین بران اعتماد خواہند ساخت ہر چہ درشکم داشت از دہان برآورد افسوس کہ مردمان رعایت این بیچارہ کہ شبہادریں باب محنت کشیدہ نہ کردہ تغلیط وے ظاہر کردیم پس ایں معاملہ طشت از بام شد۔
والحمد ﷲ رب العلمین وقیل بعدا للقوم الظالمین۔
بے چارہ (قنوجی) عیار پختہ جنون خام کار جو اپنے مذ ہب کی رو سے اندھا بہرا بلکہ اینٹ پتھر بلکہ ان سے بھی بدتر ہوچکا ہے اس خیال سے کہ میں جو کچھ لکھ دوں گا عام مسلمان اس پر اعتماد کرلیں گے جو کچھ شکم میں رکھتا تھا زبان پر لایا افسوس کہ یہ بے چارہ جس نے اس باب میں کئی رات مشقت جھیلی ہم لوگوں نے اس کی رعایت نہ کرکے اس کی تغلیظ ظاہر کردی تو یہ معاملہ طشت ازبام ہوگیا (ت)
اور ساری تعریف اﷲ کے لیے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اور کہا گیا ہلاکت ہو ظالموں کے لیے۔ (ت)
عــــہ : ارقام نجومیہ میں۱۳۸ کو قلح لکہتے ہیں جس کا عکس حلق ۱۲منہ (م)
سماعت موتی کلام احیاء در شرح جائز است یا گناہ کدام گناہ
مردوں کا زندوں کا کلام سننا شریعت میں جائز ہے یا گناہ کون ساگناہ (ت)
آپ اس کے جواب میں اظہار علم فرماتے ہیں کہ :
عادت وتکیہ کلام سائل آنست کہ درہر جامی پرسدجائز است یاگناہ کدام گناہ درین مقام پرسیدن باین عبارت نمی سز دزیرا کہ جواز وگناہ درافعال واعمال مے شود واین متعلق باخبار است کہ این امر ثابت است یا نہ ملخصا۔
سائل کی عادت اور تکیہ کلام یہ ہے کہ ہرجگہ پوچھتا ہے جائز ہے یا گناہ کون سا گناہ یہاں ان الفاظ سے سوال مناسب نہیں اس لیے جواز اور گناہ افعال واعمال میں ہوتاہے۔ اور یہ اخبار سے متعلق ہے کہ یہ امر ثابت ہے یا نہیں ملخصا (ت)
اور جب مسئلہ علم فقہ سے ہی نہیں تو حنفیت وشافعیت کی تخصیص یا تقلید بعض یا اکثر مشائخ سے اسے تعلق یعنی چہ۔ متعلق باخبار ہے اخبار واحادیث کے خلاف غیر ماخذ سے اخذ کیا معنی عرض تمہید یہ اٹھا کر بخلاف نصوص صریحہ احادیث صحیحہ جواب یوں دینا :
پس جواب این ست کہ نزد اکثر حنفیہ سماعت موتی ثابت نیست ۔
پس جواب یہ ہے کہ اکثر حنفیہ کے نزدیك سماع موتی ثابت نہیں۔ (ت)
اور پھر اس میں بھی تصریحات جلیلہ اصل ماخذ کے مقابل یہ توسع کہ “ چنانکہ از کافی وفتح القدیر حاشیہ ہدایہ صراحۃ واشارۃ کہ قریب بتصریح است معلوم می شود “ (ملخصا) (جیسا کہ کافی فتح القدیر حاشیہ ہدایہ سے صراحۃ اوراشارۃ جو تصریح کے قریب ہے۔ معلوم ہوتا ہے۔ ملخصا۔ ت)محض بیجا و بے محل واقع ہوا اس جواب کی طرف بھی تصحیح المسائل میں ارشارہ فرمایا :
حیث قال ودرحقیقت این مسئلہ از علم فقہ ہم نیست چنانچہ مجیب نیز دریں جا اقرار نمودہ ۔
فرمایا : درحقیقت یہ مسئلہ علم فقہ سے بھی نہیں جیسا کہ مجیب نے اسی مقام پراقرار کیا۔ (ت)
تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی ا زکتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص٧٣
تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی ا زکتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص٧٣
تفہیم المسائل عدم سماع موتٰی ا زکتب حنفیہ مطبع محمدی لاہور ص۷۷
علینا اتباع مارجحوہ وصححوہ کما لوافتونا فی حیاتھم ۔
ہمارے ذمہ اسی کا اتباع ہے جسے ان حضرات نے راجح وصحیح قرار دیا جیسے وہ اپنی زندگی میں ہمیں فتوی دیتے توہماری ذمہ داری یہی ہوتی۔ (ت)
مگر
ہر سخن نکتہ وہر نکتہ مکانے دارد
(ہر بات میں کوئی نکتہ اور ہرنکتہ کا کوئی موقع ہوتا ہے۔ ت)
موافق مخالف سب اہل عقول کا قدیمی معمولی کہ ہر فن کی بات اس کی حدتك محدود مقبول تحقیق حلال وحرام میں فقہ کی طرف رجوع ہوگی اور صحت وضعف حدیث میں تحقیقات فن حدیث کی طرف طبی مسئلہ نحو سے نہ لیں گے نہ نحو ی طب سے علماء فرماتے ہیں شروح حدیث میں جو مسائل فقہیہ کتب فقہ کے خلاف ہوں مستند نہیں بلکہ تصریح فرمائی کہ خود اصول فقہ کی کتابوں میں جو مسئلہ خلاف کتب فروع ہومعتمد نہیں بلکہ فرمایا جو مسئلہ کتب فقہ ہی میں غیر باب میں مذکور ہو مسئلہ مذکور فی الباب کا مقادم نہ ہوگا کہ غیر باب میں کبھی تساہل راہ پاتا ہے۔
وقد بینناکل ذلك فی رسالتنا المبارکۃ ان شاء اﷲ تعالی فصل القضاء فی رسم الافتاء۔
یہ سب ہم نے اپنے رسالہ فصل القضاء فی رسم الافتاء میں میں کیا ہے جو بابرکت ہے اگر اﷲ تعالی نے چاہا (ت)
جو فرق مراتب گماکر خلط مبحث کر ےجاہل ہے یا غافل ذاہل برزخ ومعاد امور غیبیہ ہیں جن میں قیاس و اجتہاد کو دخل نہیں ان کاپتا تو نبی امین الغیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہی کے ارشاد سے چل سکتا ہے نہ مشائخ کی رائے سے۔ بلکہ علمائے کرام کو اس میں اختلاف ہے کہ عقائد میں تقلید مقبول ہے یا نہیں۔ اﷲ تعالی کو ایک رسول کو سچا جنت ونار کو موجود سوال و عذاب ونعیم قبرکو حق جاننے میں اس کا کوئی محل نہیں کہ فلاں فلاں مشائخ ایسا فرماتے تھے محض ان کے اعتبار پر مان لیا ہے ۔ ہاں عقائد میں کتاب وسنت واجماع امت و سواد اعظم اہل سنت کا اتباع ہے۔ اس لیے کہ خدا رسول نے ہمیں بتا دیا کہ اجماع ضلالت پر ناممکن اور سواد اعظم کا خلاف ا بتداع ہے۔ اب کتاب مجید دیکھئے تو بلاشبہ ثابت فرمارہی ہے کہ روح میت نہیں روح بے ادراك نہیں روح کے ادراك بدن پر موقوف نہیں روح فناے بدن کے بعد باقی ومدرك رہتی ہے برخلاف
الفاظہ تعرف فی الفتاوی بل افردت بالتالیف مع انہ لا یفتی بالکفر بشیئ منھا الا فیما اتفق المشائخ علیہ کما سیجیئ قال فی البحر وقد الزمت نفیس ان لا افتی بشیئ منھا ۔
یعنی الفاظ کفر کتب فتاوی میں معروف ہیں بلکہ ان کے بیان میں مستقل کتابیں تصنیف ہوئیں اس کے ساتھ ہی یہ کہ ان میں سے کسی کی بناء پر فتوی کفر نہ دیاجائیگا مگر جہاں مشائخ کا اتفاق ثابت ہو جیسا کہ عنقریب کلام مصنف میں آتا ہے۔ بحرالرائق میں فرمایا : میں نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ ان میں سے کسی پر فتوی نہ دوں۔
تنویر الابصارمیں ہے :
لایفتی بتکفیر مسلم امکن حمل کلامہ علی محمل حسن اوکان فی کفرہ خلاف ولوروایۃ ضعیفۃ ۔
کسی مسلمان کے کفر پر فتوی نہ دیا جائے جبکہ اس کا کلام اچھے پہلو پر اتار سکیں یا کفر میں خلاف ہو اگر چہ ضعیف ہی روایت سے۔
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٣٥٥
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٣٥٦
قال الخیرالرملی اقول ولوکانت الروایۃ لغیراھل مذھبنا ویدل علی ذلك اشتراط کون مایوجب الکفر مجمعا علیہ ۔
یعنی علامہ خیرالدین رملی استادصاحب درمختار نے فرمایا اگرچہ وہ روایت دوسرے مذھب مثلا شافعیہ یامالکیہ کی ہو اس لیے کہ تکفیر کے لیے اس بات کے کفرہونے پر اجماع شرط ہے۔
یہ علامہ بحر صاحب البحر و علامہ خیررملی و مدقق علائی دربارہ تقلید جیسا تصلب شدید حق وسدید رکھنے والے ہیں ان کی تصانیف جلیلہ بحر واشباہ و رسائل زینبہ ودر و فتاوی خیریہ وغیرہا کے مطالعہ سے واضح مگریہاں ان کے کلمات دیکھئے کہ جب تك اجماع نہ ہو فتوی مشائخ پرعمل نہ کریں گے ہم نے التزام کیاہے کہ اس پرفتوی نہ دیں گے تو وجہ کیاوہی کہ یہ بحث اگرچہ افعال مکلفین سے متعلق ہے مگر فقہ کادائرہ تو حیثیت حلال وحرام تك منتہی ہوگیا آگے کفرواسلام اگرچہ یہ اعظم فرض وہ اخبث حرام مگراصالۃ اس مسئلہ کافن علم عقائدوکلام وہاں تحقیق ہوچکاہے کہ جب تك ضروریات دین سے کسی شئے کاانکارنہ ہو کفرنہیں تو ان کے غیرمیں اجماع ہرگز نہ ہوگا اور معاذاﷲ ان میں سے کسی کاانکارہوتو اجماع رك نہیں سکتا لہذا تمام فتاوی ونقول سے قطع نظر کرکے مسائل اجماعیہ میں حصر فرمادیا۔ جب یہاں یہ حال ہے توہمارامسئلہ جس میں نہ فعل مکلف نہ حلت وحرمت بلکہ ایك امربرزخ کے ثبوت وعدم ثبوت کی بحث ہے کیوں کتاب وسنت واجماع امت وسواداعظم سادات ملت سے منقطع ہوکر مرہون نقول بعض کتب فقہیہ ہونے لگا وھذاھو حق التحقیق والحق احق بالتصدیق (یہی حق تحقیق ہے اور حق اس کازیادہ حقدارہے کہ اس کی تصدیق کی جائے۔ ت)
جواب ششم : اقول : سب جانے دو یہ بھی مانا کہ یہ قول مشائخ یہاں حجت اور فی نفسہ قابل قبول ومتابعت ہے اب اس سے زیادہ تنزل کاکوئی درجہ نہیں تاہم ہم پر اس سے احتجاج اصلا موجہ نہیں کسی دلیل کافی نفسہ کافی وصالح تعویل ہونا اور بات اور اس سے ثبوت اور اتمام حجت ہونا اور مثلا قیاس دلیل شرعی ہے مگرنص کے آگے نامقبول حدیث صحیح احاد حجت شرعیہ ہے مگر اجماع کے سامنے غیرمعمول وعلی ہذا القیاس ولہذا حدیث کی صحت حدیثی وصحت فقہی میں زمین وآسمان کافرق ہے جس کی تحقیق انیق فقیر کے رسالہ الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھومذھبیعــــہ میں ہے ان مشائخ کے اگریہ قول ہیں تو صدہا اکابراعلام کے ارشادات جلیلہ
عــــہ : اس کاسوال شہرارکاٹ سے آیاتھا لہذا تاریخی لقب “ اعزالنکات بہ جواب سوال ارکات “ ہے یہ رسالہ غیرمقلدوں کے اس مشہور مغالطہ کے رد بلیغ میں ہے کہ امام اعظم نے خود فرمادیاہے جب حدیث صحیح ہوجائے تو وہی میرامذہب ہے ایك غیرمقلد نے یہ اعتراض بہت طمطراق سے چھاپا اور حنفیہ سے طلب جواب ہوایہاں بھی وہ پرچہ بھیجا جس کے جواب میں بفضلہ تعالی یہ مختصرونافع رسالہ تحریرہوا ۱۲منہ(م)
اولا ہماری طرف احادیث کثیرہ ہیں تمہاری طرف ایك بھی نہیں کتنی حدیثوں میں سن چکے کہ ان المیت لیسمع بیشك مردہ سنتاہے۔ یہ بھی کسی حدیث میں آیا کہ المیت لایسمع مردہ نہیں سنتا۔ اور یہی علماء تصریح فرماتے ہیں کہ :
لایعدل عن درایۃ ما وافقتھا روایۃ کما فی الغنیۃ وردالمحتار۔
درایت سے عدول نہ ہوگا جب کوئی روایت بھی اس کے موافق ہو جیسا کہ غنیہ و ردالمحتار میں ہے(ت)
ثانیا روح کی موت وبے ادراکی اور اس کے ادراکات کاجسم پرتوقف کہ تمہارے طورپرمفاد کلام مشائخ ہے کتاب اﷲ کے خلاف ومعارض ہے۔
ثالثا اجماع اہلسنت کے مناقض ہے۔
رابعا خود ان کاکلام مضطرب ومتناقض ہے۔
خامسا بوجوہ قاہرہ مجروح ومرجوح ہے۔
سادسا حمل علی البدن نہ مانومحتمل تو ہے اور محتمل صالح معارضہ نہیں۔
سابعا اگرکوئی حدیث اثبات سماع میں نہ ہوتی توسلام خود منصوص ومجمع علیہ ہے اور کلام کاظاہرسے صرف وعدول باجماع علماء مردودومخذول۔
ثامنا تم خود مان چکے کہ مردے زائروں کاسلام سنتے ہیں(مائۃ مسائل جواب سوال ) پھر ثبوت سماع موتی میں کیا محل کلام رہا جب قوت سماع حاصل اور خود خارج کی آوازسنناسمجھنا ثابت تو آوازسب ایك سی اور
تاسعا بحث ایك امر کے وجودوعدم ونفس الامری میں ہے وہ مشائخ نافی اور یہ ائمہ مثبت ہیں مثبت مقدم
عاشرا اگربالفرض دونوں پلے ہرطرح برابرہوں توامرمستوی رہا اور سماع ماننے میں نفع بے ضرر ہے کہ جب مردوں کو مدرك جانیں گے قبور کے پاس کلام بیجا سے باز رہیں گے افعال منکرہ سے حیاکریں گے۔ اور پتھرجانا توبیباك ہوں گے یوں بھی انکار سماع میں ضرر واندیشہ ضیرہے اور اثبات سماع محض نفع وخیرہے۔
ختم اﷲ تعالی لنا علی محض نفع وخیروحفظنا من کل ضروضیر والحمدﷲ رب العالمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین امین۔
اﷲ تعالی ہمارا خاتمہ محض نفع وخیرپرکرے اورہرضرر ونقصان سے ہمیں بچائے۔ اور سب خوبیاں اﷲ کے لیے جو سارے جہانوں کارب ہے اور اﷲ تعالی ہمارے آقاحضرت محمد اور ان کے تمام آل واصحاب پردرودنازل فرمائے الہی قبول فرما!(ت)
وہ تین جواب ان کے صغری پرعائد تھے یہ تین ان کے کبری پروارد۔ او راوپر گزارش ہوچکا کہ یہ ارخائے عنان ہے حق تحقیق وحقیقت حق جواب اول سے عیاں ہے والحمدﷲ رب العلمین۔ فقیر نے اس مسئلہ یمین وکلام ام المومنین کے متعلق کو زیرحدیث وحدیث ۵۱ بشرط جواب مولوی مجیب صاحب دورآئندہ پرمحول رکھاتھا مگراﷲ عزوجل دارین میں جزائے خیروافی و وافر عطافرمائے۔ مولینا المکرم ذی الفضل والکرم ناصرسنن کاسرفتن محب دین متین صدیقنا مولوی محمدعمرالدین سنی حنفی قادری مجیدی نزیل بمبئی سلمہ اﷲ تعالی کو کہ اس بحث نفیس وجلیل ومہم کی تحریر وتحبیر پرمصرہوئے جس کے باعث ہنگام طبع کتاب دونوں مقام مذکورمیں ان مباحث کی طرف عود کے وعدے بڑھائے گئے خیال تھا کہ ایك آدھ جزلکھ دیاجائے جومقصد سوم کی کسی فصل میں بطورفائدہ اندراج پائے گا۔ طبیعت علیل ذہن کلیل مدت معالجات طویل جس کے سبب قوت ضعف معاذاﷲ تاحدتعطیل۔ بااینہمہ نام فرصت معدوم وقلیل روزانہ امصارواقطار سے ورودفتاوائے کثیروجزیل مگرجب لکھنا آغازہوا بارگاہ واہب الفیض عزجلالہ سے درفیوض بازہوا بحمداﷲ تعالی وہ جواہرعالیہ وزواہرغالیہ عطافرمائے کہ فقیرحقیر کی حیثیت ولیاقت سے بد رجہا وراتھے لہذا اس تذییل جلیل کو رسالہ مستقلہ کیا اور بلحاظ تاریخ الوفاق المتین بین سماع الدفین وجوب الیمین()لقب دیا جوبانصاف بے اعتساف اسے دیکھے گا ان شاءاﷲ تعالی بدل صاف شہادت دے گا کہ مسئلہ یمین آج حل ہوا جسے مخالف موافق موافق مخالف سمجھاکرتے تھے اس کا عقدہ اب منحل ہوا جن کلمات کو مخالفین اپنی دلیل بنایاکرتے اب وہ کلمے خود انہی کوذلیل بنائیں گے جن اقوال کو موافقین محتاج جواب سمجھے اب انہی کو اپنی
الحمدﷲ! آج اس رسالہ سے تصانیف فقیر کاعددایك سواسیہوا۔ اکرم الاکرمین جل جلالہ قبول فرمائے اور فقیر حقیرو اہلسنت کے لیے دارین میں حجت نجات بنائے آمین! حسن اتفاق یہ کہ یہ رسالہ سمع ارواح کے باب میں ہے اور شمار تصانیف میں ایك سواسی اور اسمائے الہیہ میں صفت سمع پردال اسم پاك سمیع ہے اس کے عددبھی یہی۔
نسئل السمیع ان یسمع دعواتنا ویسترعوراتنا ویومن روعاتنا ویقضی حاجاتنا ویغفرسیآتنا رب سمیع سے سوال ہے کہ ہماری دعائیں سن لے ہمارے عیوب چھپائے ہمارے خوف کی چیزوں کوامن دے ہماری حاجتیں پوری فرمائے ہمارے گناہ مٹائے
اور ہمارے کریم آقا بزرگ نبی حضرت محمد اور ان کی سب آل واصحاب پردرودوسلام اور برکت نازل فرمائے یہ امیدوں کے عطافرمانے والے آرزؤوں کے مولا حضرت سید المرسلین کی ہجرت کے ہزارہ دوم کی چوتھی صدی کے دوسرے عشرے میں سے نصف آخر کے اول () میں سے نصف اول کے ماہ آخر(جمادی الآخرہ) کے نصف آخر کے روز اول() کوہوا۔ اﷲ تعالی ان پردرودوسلام اور برکت نازل فرمائے اور ان کی آل اصحاب اولاد جماعت اور عیال پربھی ان کے حسن وجمال اور جودونوال کے بقدرقبول فرما۔ اور تمام تعریف اﷲ کے لیے جوسارے جہانوں کا رب ہے۔ اے اﷲ! تیری حمد کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتاہوں اور شہادت دیتاہوں کہ تیرے سواکوئی معبودنہیں تیری بارگاہ میں توبہ واستغفار کرتاہوں۔ پاکی ہے تیرے رب کے لیے جو عزت کامالك ہے ان باتوں سے جو وہ بناتے ہیں اور سلام ہورسولوں پر اور تمام حمد اﷲ کے لیے جوسارے جہانوں کا پروردگارہے۔ (ت)
_____________________
(۳۵) ملا قاری نے جو اس حدیث میں علی کو معنی حقیقی پر لیا زید صاحب اس کی توجیہ یہ فرماتے ہیں کہ وجہ ممانعت یعنی مشابہت یہود ونصاری معنی مجازی یعنی قریب قبر میں نہیں رہتی اس بنیاد پر معنی حقیقی لیے یعنی معنی حقیقی ہی لینا محتاج وجہ خارجی ہے اگر خارج سے کوئی وجہ اس کی نہ ملے تو معنی حقیقی نہ لیں گے اس الٹی سمجھ کا کیا ٹھکانا ہے ! علامہ ملا قاری کی عبارت دیکھئے :
قیدعلیھا یفید اتخاذ المساجد بجنبھا لابأس بہ ۔ “ علیھا “
( قبروں پر) کی قید یہ افادہ کررہی ہے کہ ان کے پہلو میں مسجد بنائیں توکوئی حرج نہیں (ت)
ملاحظہ ہو لفظ “ علی “ سے یہ ثابت کیا کہ برابر تو حرج نہیں یا برابر میں حرج نہ ہونے سے علی کو اپنے معنی حقیقی پرلیا۔
(۳۶) علی قار ی جب یہاں دربارہ مسجد علی کو معنی حقیقی پر لے چکے جو آپ کو بھی مسلم ہے۔ اور یہاں ایك ہی لفظ علی ہے جس سے مساجد و سرج کا یکساں علاقہ ہے کہ والمتخذین علیھا المساجد والسرج ( قبروں پر مسجدیں اور چراغ بنانے والے ۔ ت) اب اگر دربارہ قبورعلی کو معنی مجازی پرلیجئے تو کھلا ہو ا جمع بین الحقیقۃ والمجاز اور وہ باطل ہے۔ لاجرم دربارہ قبور بھی علی کو معنی حقیقی پر رکھیں گے تو جس نے ان کی طرف اسے نسبت کیا ان کے لازم کلام سے استدلال کیا یہ ان پر اتہام کدھر سے ہوجائے گا۔
(۳۷) علی قاری نے دربارہ سرج جو تین وجہ ممانعت نقل کرکے لکھا : کذا قال وبعض علمائنا (ایسا ہی ہمارے بعض علماء نے فرمایا ۔ ت) قطع نظر اس کے کہ یہ نقل عن المجہول ہے او رہمارے فقہاء نے اسی وجہ اول پر اقتصار فرمایا ہے کہ اسراف واتلاف مال ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا اور یہی وجہ خود آپ کی مستند بزازیہ میں
جامع الترمذی باب ماجاء فی کراھیۃ ان یتخذ علی القبر مسجدًا امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۴۳
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب المساجد ومواضع الصلٰوۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۴۴۴
Fatawa Ridawiyyah Volume 27 فتاویٰ رضویہ جلد
Books by Other Sunni Scholars
امام احمد رضا کی طبی بصیرت
حکیم محمد سعید دہلوی بانی ہمدرد Imam Ahmad Raza Ki Tibbi Basirat Hakeem Muhammad Saeed…
امام احمد رضا کے تعلیمی افکار۔ ایم۔ایڈ مقالہ پر تبصرہ
اعلیٰ حضرت کے تعلیمی افکار پر ایم ایڈ کے مقالہ پر ایک تبصرہ مصنف: سلیم…
Tafseer e Nabavi Volume 11 Punjabi Manzoom By Allama Nabi Bakhsh Halwai Naqshbandi
تفسیر ِ نبوی پنجابی منظوم جلد11 از: مولانا علامہ نبی بخش حلوائی علیہ الرحمہ مولانا…
Global Academic Research & Thesis
مولانا حسن رضا بریلوی کی ادبی خدمات
مولانا نقی علی خان ۔حیات اور علمی و ادبی کارنامے
تحریک پاکستان میں خلفائے امام احمد رضا کا کردار۔1920 سے 1947 تک
Biographies & Analytical Studies on Alahazrat
بہار عقیدت
سید محمد مرغوب اختر الحامدی تضمین بر سلام اعلیٰ حضرت۔ مصطفےٰ جان…
امام احمد رضا کی انشاء پردازی کی خصوصیات ملفوظات کے آئینے میں
Imam Ahmad Raza Ki Insha Pardaza Ki Khusosiyat Malfoozat Kay Aainay Main…
50 Volumes of Books of Alahazrat پچاس جلدوں میں 248 کتبِ اعلیٰ حضرت کا مجموعہ
اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ…
Scholarly Articles & Insights
اولیاتِ رضا
ڈاکٹر عبدالنعیم عزیزی Awwaliyyat-e-Raza Uniqueness of Raza Dr. Abdul Naeem Azizi
